Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سپریم کورٹ، حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ ہٹانےپر پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ ہٹانےپر پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ کے سامنے حمزہ شہباز کو وزیر اعلی سے ہٹانے کا معاملے پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز نظر ثانی پر پرویز الہی کو نوٹس جاری کردیا،آئینی بینچ نے ایڈیںشنل اٹارنی جنرل و دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کردیا،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے نظر ثانی پر سماعت کی

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آڈیوز لیک کمیشن پر وفاقی حکومت کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو حکومت سے ہدایت لے کر آگاہ کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس امین الدین ک سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے آڈیوز لیک کمیشن کیس کی سماعت کی۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس میں کہا کہ کیا آڈیو لیک کمیشن لائیو ایشو ہے، کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ ہو چکے ہیں جبکہ کمیشن کے ایک اور رکن سپریم کورٹ کے جج بن چکے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے حکومت سے ہدایات کے لیے مہلت دے دیں، معلوم کرنے دیں کیا حکومت نیا کمیشن بنانا چاہتی ہے، آڈیو لیک کے معاملے پر قانونی نقطہ تو موجود ہے۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر نیا کمیشن بنتا ہے تو یہ مقدمہ تو غیر مؤثر ہو جائے گا۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کوئٹہ میں بچے کے اغواء کا نوٹس لے لیا۔عدالت نے کوئٹہ سے اغواء بچے کی بازیابی پر بھی رپورٹ طلب کرلی۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کوئٹہ میں چھ دن سے ایک اغوا بچہ نہیں ڈھونڈا جا رہا۔ایک بچہ کے اغوا پر پورا صوبہ بند ہے حکومت کو فکر نہیں۔یہ ملک میں ہو کیا رہا ہے ؟

    سپریم کورٹ،مراد علی شاہ کیخلاف نا اہلی کی درخواست خارج
    مراد علی شاہ نا اہلی کیس،سپریم کورٹ نے مراد علی شاہ کیخلاف نا اہلی کی درخواست خارج کر دی ،عدالت نے عدم پیروی پر نا اہلی کی درخواست خارج کی،محمود اختر نقوی نے نا اہلی کی درخواست دائر کی تھی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی

    ٹریفک حادثات میں اموات کے خلاف درخواست،سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر دیا
    سپریم کورٹ،ملک کی مرکزی شاہراوں پر ہیوی ٹریفک کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی، درخواست گزار عباس آفریدی نے کہا کہ روزانہ 70 لوگ ٹریفک حادثات میں مرتے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ لوگ لٹک لٹک کر کیوں سفر کرتے ہیں، عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواست منظور کر لی، عدالت نے اٹارنی جنرل اور چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیے،عدالت نے این ایچ اے کو بھی نوٹس جاری کردیا،کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی گئی،جی ٹی روڈز پر اوور لوڈڈ ٹرکس کو روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی

    ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے صوابدیدی اختیارات کیخلاف آئینی درخواست قابل سماعت قرار
    سپریم کورٹ کے 6 رکنی آئینی بنچ نے میاں دائود ایڈووکیٹ کی آئینی درخواست پر اعتراض ختم کر دیا،عدالت نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ سمیت تمام ہائیکورٹس کے رجسٹرارز کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا،چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی جوابات جمع کرانے کا حکم دے دیا گیا،جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بنچ نے میاں دائود ایڈووکیٹ کی آئینی درخواست پر سماعت کی ،میاں دائود ایڈووکیٹ ویڈیو لنک پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری سے پیش ہوئے، جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ مفاد عامہ کا اہم معاملہ ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ صرف لاہور ہائیکورٹ کی بات کر رہے ہیں، باقی ہائیکورٹس میں شاید ایسا نہ ہوا ہو، میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں نے بطور حوالہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے اختیارات کے ناجائز استعمال کے تمام نوٹیفکشنز ساتھ لگائے ہیں،اعلی عدلیہ کے چیف جسٹس نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے عدلیہ کی ساکھ مجروح کر دی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ چلیں اس مسئلے کو دیکھتے ہیں، میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ اب ہم اس مسئلے کو دیکھیں اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو اس مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،

    میاں دائود ایڈووکیٹ نے مفاد عامہ کے تحت سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر رکھی تھی،درخواست میں پانچ ہائیکورٹس کے رجسٹرارز، چاروں صوبوں او روفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں کہا گیاکہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان صوابدیدای اختیارات کا غیرآئینی استعمال کر تے ہیں،ہائیکورٹس کے اکثر چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے قبل سرکاری خزانہ بادشاہوں کی طرح لٹا تے ہیں، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی نے ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ قبل اختیارات کے ناجائز استعمال بدترین مثالیں قائم کیں، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بہترین کارکردگی کے نام پر سینکڑوں ملازمین کو غیرقانونی ایڈوانس انکریمنٹس دیئے،سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے افسروں اور اہلکاروں میں 6 جولائی2021 سے دو ایڈوانس انکریمنٹس دیئے گئے،عدالتی تاریخ میں آج تک کسی چیف جسٹس کے سٹاف کو اڑھائی برس کی مدت پر مشتمل ایڈوانس انکریمنٹ دینے کی مثال نہیں ملتی، سابق چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل دیگر سینکڑوں ملازمین کو غیرقانونی طور پر ایڈوانس انکریمنٹ دیئے گئے،ایڈوانس انکریمنٹ تبادلہ شدہ رجسٹرار ہائیکورٹ اور دو ماہ قبل تعینات ہونیوالے رجسٹرار ہائیکورٹ کو بھی دیئے گئےسابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ریڈر اور انکی اہلیہ سینئر سول جج کو 4 سال کی تعلیمی چھٹی بمعہ تنخواہ دینے کی منظوری دی گئی،سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے دیگر متعدد ملازمین کو بھی بغیر کسی قانونی جواز اور اختیار کے چھ چھ ماہ، ایک ایک سال کی چھٹیوں کی منظوری دی،ریڈر اور انکی اہلیہ کی تعلیمی چھٹی کیلئے کسی یونیورسٹی کا ریکارڈ اور قانون تقاضہ فائل کے ریکارڈ پر موجود نہیں ہے،لاہور ہائیکورٹ کے 50 سے زائد ملازمین کی سزائیں ایک دستخط سے ختم کرنے کے درجنوں نوٹیفکیشنز ایک ہی دن جاری کئے گئے، صوابدیدی اختیارات کے تحت سزائیں ختم کرنا قانون تحت قائم سروس ٹربیونلز کو غیرفعال کرنے کے مترادف ہے، لاہور ہائیکورٹ کے دو ڈپٹی رجسٹرار شہباز انور اور شہباز اشرف کی سزائیں ختم کے انہیں بھی ایڈوانس انکریمنٹس دیئے گئے،دونوں ڈپٹی رجسٹرارز کو سزائیں ختم کرانے کیلئے خود ہی اپنا نیا انکوائری افسر مقرر کرنے کی اجازت دی گئی، ایڈوانس انکریمنٹس کے علاوہ دونوں ڈپٹی رجسٹرارز کی سزائیں ختم کر کےانہیں ترقیاں بھی دیدی گئیں،اب لاہور ہائیکورٹ کا کوئی نیا افسر دونوں ڈپٹی رجسٹرار کی فائلوں کی انکوائری کا ذمہ اٹھانے کو تیار نہیں ،دونوں ڈپٹی رجسٹرارز کی فائلیں ایک برانچ سے دوسری برانچ گھوم رہی ہیں، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے زیادہ تر نوٹیفکیشنز ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل 6مارچ کو جاری کئے گئے، ہائیکورٹس کے ملازمین کے ساتھ اقربا پروری کا سلوک کرکے عدلیہ کو بدنام کیا گیا، ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے صوبائی اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کا حکم دیا جائے، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی ریٹائرمنٹ سے 1 ماہ قبل جاری کئے گئے تمام نوٹیفکشنز کا عدالتی جائزہ لیا جائے،لاہور ہائیکورٹس کے افسران کو دی گئی ایڈوانس انکریمنٹس غیرقانونی قرار دے کر واپس سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے،

  • اسلام آباد میں رینجرز اور ایف سی تعینات

    اسلام آباد میں رینجرز اور ایف سی تعینات

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رینجرز اور ایف سی تعینات کردی گئی،وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: وزارت داخلہ نے چیف کمشنر اسلام آباد کی سمری کی منظوری دی،رینجرز اور ایف سی شہر میں امن وعامہ برقرار رکھنے کیلئےپولیس کی معاونت کرے گی۔

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے شہر میں امن و امان کے حوالے سے واک کی،واک میں سینئر افسران سمیت ٹریفک پولیس، ڈولفن سکواڈاور ضلع بھر کے افسران و جوانوں نے شرکت کی، واک کا مقصد امن و امان کے قیام اور اتحاد و یگانگت کے فروغ کے لیے کے عزم کا اظہار ہے،واک ڈی چوک سے شروع ہوکر چائنا چوک اختتام پذیر ہوئی۔

    روس کے بڑے حملے کا خطرہ،امریکا کا یوکرین میں سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان

    اس موقع پرآئی جی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے امن پسند شہریوں سے امید کرتے ہیں کہ امن و امان کو یقینی بنانے میں پولیس سے مکمل تعاون کریں گے،علاوہ ازیں اسلام آباد کی مختلف شاہراہوں کو بند کرنے کےلئے کنٹینرز پہنچانے کا عمل جاری ہے،زیرو پوائنٹ انٹرچینج پر اسلام آباد ہائی وے کے دونوں اطراف کنٹینرز پہنچا دیئے گئے،کنٹینرز کو سڑک کنارے رکھ دیا گیا۔

    واضح رہے کہ چیف کمشنر نے رینجرز اور ایف سی کی تعیناتی کیلئے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا رینجرز اور ایف سی کو انسداددہشتگردی ایکٹ کے تحت اختیارات حاصل ہوں گے اور وفاقی پولیس کی امن وامان کے معاملے پرمعاونت کریں گی۔

    وزیر اعلیٰ سندھ کا بچوں کےلیے سندھ بھر میں مخلوط تعلیم کی ضرورت پر …

    خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے 24 نومبر کو احتجاج کی فائنل کال دے رکھی ہے، اس کے علاوہ احتجاج کی تیاریوں کے حوالے سے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی پشاور میں متحرک ہیں۔

  • ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    پی ٹی آئی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان کو ضمانت ملنے پر اتنی جلدی خوشیاں منانے کی ضرورت نہیں

    آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ ٹو میں بانی پی ٹی آئی کو ضمانت دے دی – یہ ایک روٹین کا فیصلہ ہے کیونکہ اس سے پہلے بشری بی بی کو بھی عدالت ریلیف دے چکی ہے، اس لیے ابھی خوشیاں منانے میں جلدی نا کی جائے ،عمران خان جیل سے باہر نہیں آ پائیں گے کیونکہ ابھی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کی بریَت کی درخواست ہائی کورٹ نے مسترد کر دی ہوئی ہے اور ٹرائل کورٹ میں کیس چل رہا ہے اور اس کیس میں سزا لازمی نظر آ رہی ہے

    اِسی طرح ۹ مئی کے پانچ مقدمات میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں اور 27 نومبر کو اس کیس پر سماعت بھی ہے اور انکے ضمانتی مچلکے بھی جمع نہیں اس لیے پنجاب پولیس ان مقدمات پر بھی گرفتاری ڈال دے گی، یاسمین راشد اور شاہ محمود قریشی کی تاریخیں ڈلتی جا رہی ہیں اور ضمانت کی درخواست پر فیصلے ہوتے نظر نہیں آتے اِسی طرح قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس بھی اُسی طرح نپٹایا جائے گا

    دوسری بات یہ کہ یہ محض اتفاق نہیں کہ آج عمران نیازی کو اچانک ضمانت مل گئی ہے – کچھ عرصہ پہلے بشریٰ بی بی کو بھی رہا کر دیا گیا تھا – جیل میں ملاقاتیں بھی اِسی سلسلے کی کڑی ہے – پہلے ہی واضح تھا کہ پی ٹی آئی نورا کشتی کھیل رہی ہے اور 24 نومبر کو احتجاج کا اعلان صرف ڈرامہ رچایا جا رہا ہے آج یہ بھی ثابت ہو گیا،

    پی ٹی آئی والے جن عدالتوں کو یہ دن رات گالیاں دیتے ہیں وہی ان کو ہر مقدمے اور اپیل میں ریلیف دیتی جا رہی ہے کس منہ سے یہ لوگ عدلیہ پر تنقید کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کے ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا یہ ٹوپی ڈرامہ بھی عوام اچھی طرح سمجھ چکے ہیں

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

  • ٹک ٹاک  پر مختلف سکلز ،مقامی زبانوں میں تعلیم دی جا سکتی ہے،شزہ فاطمہ

    ٹک ٹاک پر مختلف سکلز ،مقامی زبانوں میں تعلیم دی جا سکتی ہے،شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ سے ٹک ٹاک کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور سوشل میڈیا پر معیاری مواد کے حوالے سے گفتگو کی گئی، وفد نے وزیر مملکت کو ٹک ٹاک کے پاکستان میں اقدام اور مستقبل کے پروگرامز پربریفنگ دی، ٹک ٹاک کے وفد نے ڈائریکٹر پبلک پالیسی مسٹر ایمر گیلن کی قیادت میں ملاقات کی.

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹک ٹاک کے بہت زیادہ صارفین ہیں.سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر معیاری مواد کا ہونا بہت اہم ہے.ٹک ٹاک پلیٹ فارم کا تعلیمی مقاصد کیلئے بھی استعمال چاہتے ہیں.ٹک ٹاک پلیٹ فارم پر مختلف سکلز ،مقامی زبانوں میں تعلیم دی جا سکتی ہے.وزارت آئی ٹی ٹک ٹاک کو مکمل سپورٹ فراہم کرے گی.وفد نے وزیر مملکت کو یقین دہانی کروائی کہ ٹک ٹاک پر معیاری اور سود مند مواد یقینی بنایا جائے گا، ٹک ٹاک وفد نے وزارت آئی ٹی کے ذیلی اداروں کے ساتھ ملکرکام کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا.

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • قائمہ کمیٹی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر بریفنگ طلب کر لی

    قائمہ کمیٹی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر بریفنگ طلب کر لی

    اسلام آباد (محمد اویس) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر بریفنگ طلب کرلی،چیئرمین پی سی ایس آئی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ الیکشن میں استعمال ہونے والی سیاہی ہم نے بنائی ہے بھنگ کی 36 پروڈکٹ بنالی ہیں ۔ ادویات اور پراڈکٹس بنانا آسان انہیں کمرشلائز کرنا مشکل ہے۔

    بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا چئیرمین خواجہ شیراز محمود کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔
    ممبر کمیٹی میاں غوث محمد نے کہاکہ کاٹن پر ریسرچ نہیں ہو رہی، پچاس فیصد ایکسپورٹ انڈسٹری کے حوالے سے تحقیق ہونا چاہیے، سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ساجد بلوچ نے جواب دیا کہ حکومت پاکستان نے گزشتہ سال سیڈ اتھارٹی قائم کی ہے، سیڈ اتھارٹی کابینہ ڈویژن کے زیر انتظام کر رہی ہے، ممبر کمیٹی معظم علی خان نے کہاکہ نیا ادارہ بنانے کی بجائے اٹھارویں ترمیم سے پہلے والا ادارہ بحال کر دینا چاہئے تھا، چیئرمین پی سی ایس آئی آر ڈاکٹر حسین عابدی کی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ جعلی رپورٹس پکڑی ہیں، ان ملازمین کو نوکریوں سے برخاست کیا ہےڈیجیٹلایزیشن ضروری ہے، مخالف قوتیں روک رہی ہیں، پی سی ایس آئی آر کی سولرایزیشن سے 120 ملین کی بچت ہوئی ہے گزشتہ تین سالوں میں 2500 ملین کی ایکسپورٹ ہوئی ہیں18 ملین ٹن زرعی کچرہ پیدا کرتے ہیں مگر جلا دیتے ہیں اس حوالے سے لیب تیار ہو چکی ہیں، ہم کمرشل شوگر بنا سکتے ہیں ہمارے منصوبے جاری ہیں بھنگ کی 36 پروڈکٹس تیار کر لی ہیں ،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ممبران کا سوال ہے کہ گندم چاول کی طرح کاشت کر سکتے ہیں؟ چیئرمین پی سی ایس آئی آر نے کہاکہ یہ کنٹرول کاشت ہو رہی ہے، چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ بہت اچھے منصوبے ہیں، فنڈنگ کے لیے دہائیاں انتظار کرنا پڑتا ہے، ایسے منصوبے بروقت مکمل ہونا چاہیں، لائف لائن ہے اور چار پانچ سالوں میں سولہ ارب نہیں دیتے جبکہ بی آئی ایس پی ساڑھے پانچ ارب ایک سال میں استعمال کرتی ہے ، فارما سیوٹیکل انڈسٹری کو بڑھانے کے لیے پی سی ایس آئی آر کا کردار زیادہ ہونے جا رہا ہے،فارما سیوٹیکل انڈسٹری کے لیے پراجیکٹ لے کر آئیں دوائیں مہنگی ہوتی جا رہی ہیں پانچ سال کا موازنہ کریں تو پہنچ سے دور ہو رہی ہیں پی سی ایس آئی آر کو اس حوالے سے ریسرچ کرنا چاہیے،

    بھنگ سے 20 سے 25 پراڈکٹس بنا لی گئی ہیں، خدشہ ہے آنیوالے سالوں میں یہ مصنوعات مارکیٹ نہیں ہو نگیچیئرمین پی سی ایس آئی آر
    چیئرمین پی سی ایس آئی آر نے کہاکہ پی سی ایس آئی آر کے تین لیبارٹری پراسس ہیں، ادویات اور پراڈکٹس بنانا آسان انہیں کمرشلائز کرنا مشکل ہے، بھنگ سے 20 سے 25 پراڈکٹس بنا لی گئی ہیں، خدشہ ہے آنیوالے سالوں میں یہ مصنوعات مارکیٹ نہیں ہو نگی، پی سی ایس آئی آر نے الیکشن میں استعمال ہونے والی سیاہی بنا لی، سرجیکل آلات کی برآمدات بڑھانے کیلئے حکومت سے فنڈنگ ملی ہے، چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا منصوبہ تھا اس کا کیا بنا؟ چئیرمین پی سی ایس آئی آر نے بتایا کہ وہ نسٹ کا منصوبہ تھا، چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کیا آپ بنا سکتے ہیں ؟ جس پر چیئرمین پی سی ایس آئی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ جی نہیں ہم صرف سیاہی بنانے پر کام کر رہے ہیں، جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ آئندہ اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر تفصیلی بریفنگ دیں

    10 کلو بھنگ،9 کلو گانجہ چوہے کھا گئے

    وفاقی کابینہ کااجلاس ،کابینہ نےقومی بھنگ پالیسی کی منظوری مؤخر کردی

    بھنگ پالیسی وزیراعظم ہاؤس میں زیرالتوا کیوں؟ قائمہ کمیٹی کا اظہار ناراضگی

    بھنگ اورافیوم سے ادویات بنانےاورکاشت سےمتعلق کام شروع 

    بھنگ برائے علاج : بھنگ برائے فروخت:حکومت نے استعمال کے لیے طریقہ کار کی منظوری دے دی

    لاہور کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی کیا صورتحال؟ تشویشناک خبر آ گئی

    پاکستان اسٹیل کا پلانٹ شاید ایمرجنسی میں نہ چلایا جا سکے،وفاقی وزیر سائنس

    بھنگ سے ادویات بنائیں گے،اطلاعات سے ہٹنے پر اللہ کا شکر ادا کیا، وزیر سائنس شبلی فراز

    سپریم کورٹ میں ججز بھی "بھنگ” کے فائدے بتانے لگے

  • سپریم کورٹ،ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس،اپیل منظور

    سپریم کورٹ،ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس،اپیل منظور

    اسلام آباد کے سیکٹر ایف 14 اور 15 میں ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کی اپیل منظور کرلی،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو دوبارہ معاملہ دیکھنے کی ہدایت کر دی،اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اسکیم کو غیر آئینی قرار دیا تھا،جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 21 مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

    جسٹس عائشہ ملک نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا
    ججز پلاٹس کیس: جسٹس عائشہ ملک نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا لکھا کہ پلاٹس کی اُس الاٹمنٹ کو بھی ہائیکورٹ نے معطل کیا، جو اُس کے سامنے تھا ہی نہیں، عدالتوں کا اپنا دائرہ اختیار بڑھانا قبول نہیں.
    ایف 14 اور ایف 15 میں بیوروکریٹس اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے پلاٹس کا معاملہ،سپریم کورٹ نے جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیدیا،جسٹس عائشہ ملک کا تحریر کردہ 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا،فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پلاٹس سے متعلق اس نظرثانی شدہ پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا جو ہائیکورٹ میں چیلنج ہی نہیں تھی،22 نومبر 2022 کو پلاٹس کی نظرثانی شدہ پالیسی اس دن عدالت کے سامنے آئی جس دن فیصلہ محفوظ کیا گیا،پلاٹس کی نظرثانی شدہ پالیسی پر نہ دلائل دیے گئے نہ ہی وفاقی حکومت کو سنا گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں اشرافیہ کے وسائل پر قبضے اور ججز پلاٹس کا زکر کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو کہا وہ کیس اس کے سامنے تھا ہی نہیںججز کے پلاٹس کی اس الاٹمنٹ کو بھی ہائی کورٹ نے معطل کیا جو اس کے سامنے تھا ہی نہیں، یہ آئینی طور پر ناقابل قبول ہے کہ عدالتیں اپنے دائرۂ اختیار کو وسعت دیں، نہ تو آئین اور نہ ہی قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔توفیق آصف کیس میں اس عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائی کورٹ ایسی ریلیف نہیں دے سکتی جو درخواست میں مانگی ہی نہ گئی ہو، ہائی کورٹ خود سے کسی پالیسی کو غیر آئینی یا غیر قانونی قرار نہیں دے سکتی، اسلام ہائی کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے نظرثانی شدہ پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا ،آرٹیکل 10 اے کے تحت ہر شخص کو شنوائی کا حق دینا آئینی تقاضا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ کو ایسا فیصلہ دینے سے قبل تمام فریقین کو سننا چاہیے تھا،ہائی کورٹ کسی معاملے کو اس وقت سن سکتی جب اس سامنے کوئی فریق ہو،

    جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا گیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی گئی، عدنان سید کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا اپیل بحال کی جاتی ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ اپیل پر فیصلے کی مصدقہ نقل کے بعد 90 دن میں فیصلہ کرے، پلاٹس سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا رٹ پٹیشن بھی بحال کی جاتی ہے،سپریم کورٹ میں آئے وہ فریقین جو اسلام آباد میں فریق نہیں تھے وہ بھی عدالت عالیہ میں فریق بن سکتے ہیں،ہماری عدالتی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیر اسلام آباد ہائی کورٹ کیس کا فیصلہ کرے

    واضح رہے کہ 2021 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے گریڈ 22 کے افسران ، ججز اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ غیرقانونی قرار دے دی تھی ججز، افسران اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کے حوالے سے دائردرخواست پر 20 اگست کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ کے ججوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل کردی تھی، ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سنایا تھا،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی ایف 14 ،ایف 15 کے مختلف کیٹگریز کے4700 پلاٹس کی قرعہ اندازی کی گئی تھی، جس میں سابق چیف جسٹس گلزار احمد، سابق چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی اور پانامہ کیس کا فیصلہ تحریر کرنے والے اعجاز افضل خان سمیت معروف ججز اور بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے بھی پلاٹ نکلے تھے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا تھا کہ ایف 12، جی 12، ایف 14 اور 15 کی اسکیم غیرقانونی اورمفاد عامہ کیخلاف ہے، ریاست کی زمین اشرافیہ کیلیے نہیں، صرف عوامی مفاد کیلئے ہے، جج، بیورکریٹس، پبلک آفس ہولڈرز مفاد عامہ کیخلاف ذاتی فائدے کی پالیسی نہیں بنا سکتے جج اور بیوروکریٹس اصل اسٹیک ہولڈر یعنی عوام کی خدمت کیلئے ہیں،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی آئین کیخلاف کوئی اسکیم نہیں بنا سکتی،

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

  • ہماری طرف سے بھی سخت ردعمل آیا تو مایوسی پھیلے گی،جسٹس مسرت ہلالی

    ہماری طرف سے بھی سخت ردعمل آیا تو مایوسی پھیلے گی،جسٹس مسرت ہلالی

    لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی سینیارٹی کے حوالے سے جسٹس فرخ عرفان خان کی نظر ثانی درخواست غیر موثر ہونے کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے نمٹا دی،

    لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی سینیارٹی کے حوالے سے جسٹس فرخ عرفان خان کی درخواست پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے کی، جسٹس عائشہ ملک نے درخواست گزار کے وکیل حامد خان سے دریافت کیا کہ آیا وہ یہ کیس چلانا چاہتے ہیں کہ نہیں، 4 ججز کے حوالے سے ایشو تھا یہاں تو ججز ریٹائر بھی ہوچکے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 5 لوگوں نے ایک ساتھ حلف اٹھایا تو عمر کے حساب سے سینیارٹی طے ہوگی،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو اکیڈمک ایکسرسائز کرنے کا کہہ رہے ہیں۔دوران سماعت وکیل حامد خان نے موقف اپنایا کہ تھا کہ ججز کا نوٹیفکیشن ساتھ ہونے کے بعد اگر حلف ایک دن تاخیر سے بھی لیں تو سینیارٹی برابر ہی ہوگی،جسٹس فرخ عرفان نے امریکا میں ہونے کی وجہ سے چیف جسٹس کو آگاہ کر کے حلف ایک دن بعد اٹھایا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج جب تک حلف نہیں اٹھاتا تب تک وہ جج نہیں ہوسکتا ،جسٹس جمال مندوخیل نے حامد خان سے استفسار کیا کہ انہوں نے نظرثانی کی درخواست دی ہے، فیصلے میں غلطی کیا ہے وہ بتائیں، اگر کوئی شخص نوٹیفکیشن کے ایک ماہ تک حلف نہیں لیتا اور بعد میں وہ انکار کر دے تو کیا ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بہتر ہے اس معاملے کو اوپن رکھیں کسی اور کیس میں طے کر لیں گے۔عدالت نے نظر ثانی درخواست غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹاتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مستقبل میں کسی اور مقدمے میں سینیارٹی کے اصول کا معاملہ طے کریں گے۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے درخواست پر سماعت کی،مولوی اقبال حیدر نے کہا کہ میری جانب سے درخواست بروقت دائر کی گئی تھی، اب نظر ثانی کیس زیر التواء ہے، چاہتا ہوں کہ کسی مقدمے میں اس معاملے کو دیکھا جائے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ ہم سے غیر آئینی کام کیوں کروانا چاہتے ہیں، امیدواران کی مرضی ہے سیاسی جماعت میں شامل ہوں یا نہ ہوں،سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ مولوی اقبال صاحب آپ پھر اسی طرف جا رہے ہیں جس وجہ سے پابندی لگی تھی،عدالت نے درخواست پر رجسڑار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔

    اعلیٰ عدالتی فورمز پر ٹرائل مکمل کرنے کے لیے ٹائم فریم طے کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ فوجداری قانون سمیت کئی قوانین میں ٹائم لائن موجود ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ٹائم لائن کے لیے پارلیمنٹ سے جاکر قانون سازی کروا لیں،درخواست گزار حسن رضا نے کہا کہ ٹرائل مکمل ہوتے ہوتے 20 سے 40 سال لگ جاتے ہیں،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ایسی عمومی باتیں نہ کریں اور الزام نہ لگائیں، سسٹم پرفیکٹ نہیں ہے لیکن پیش رفت ہو رہی ہے، آپ کی درخواست نیشنل جوڈیشل پالیسی سے متعلق ہے، آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت درخواست پر کسی کو ہدایت نہیں جاری کریں گے، جہاں اصلاحات ہو رہی ہیں وہاں جاکر شمولیت اختیار کریں، یہ ہمارا کام نہیں ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہم آئین اور قانون کے تابع ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ اگر ہماری طرف سے بھی سخت ردعمل آیا تو مایوسی پھیلے گی،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ عدالتی ریفارمز کے لیے لاء اینڈ جسٹس کمیشن موجود ہے، وہاں رجوع کریں۔ عدالت نے دلائل کے بعد درخواست خارج کر دی۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • وزیرداخلہ کی اسلام آباد اور ریاض کو جڑواں شہر قرار دینے کی تجویز

    وزیرداخلہ کی اسلام آباد اور ریاض کو جڑواں شہر قرار دینے کی تجویز

    سعودی عرب میں چارسوانیس پاکستانی قیدیوں کی وطن واپسی کےلئے قانونی کارروائی جلد مکمل کی جائے گی۔

    وزیرداخلہ محسن نقوی سے سعودی عرب کے نائب وزیر داخلہ ڈاکٹر ناصر بن عبدالعزیز الداؤد سے ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کا قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عملدرآمد پراتفاق ہوگیا۔وزیرداخلہ نے اسلام آباد اور ریاض کو جڑواں شہر قرار دینے کی تجویز بھی دے دی۔ملاقات میں دوطرفہ تعلقات،باہمی دلچسپی کے امور،پیرا ملٹری فورسز اور پولیس کے باہمی تبادلوں اور مشترکہ ٹریننگ کے امور پرتبادلہ کیا گیا۔پاکستان سے بھکاریوں کو سعودی عرب بھجوانے والے مافیا کی سرکوبی پر بھی بات کی گئی۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ تینتالیس سو بھکاریوں کے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے ہیں۔سعودی عرب جانے والے بھکاریوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی ہے۔ایسے بھکاری مافیا کے خلاف ملک بھر میں موثر کریک ڈائون کیا جا رہا ہے۔سعودی شہریوں کے لئے پاکستان آنے پر کوئی ویزا نہیں۔جب چاہیں آئیں۔سعودی عرب ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔ دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لئے ہر ممکن تعاون کریں گے۔سعودی نائب وزیرداخلہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔پیرا ملٹری فورسز اور پولیس کے باہمی تبادلوں اور مشترکہ ٹریننگ کے لیے تیار ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی نائب وزیر داخلہ کی ملاقات

    ویڈیو:امریکی اداکارہ جینیفر لوپیز کی سعودی عرب میں بولڈ پرفارمنس،جلوے

    سعودی عرب بھیک مانگنے جانے والا 9 رکنی گروہ گرفتار

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ملاقات

    سعودی عرب اور قطر دورہ انتہائی مفید رہا،وزیراعظم

    وزیراعظم سے سعودی وزیر سرمایہ کاری،شاہی دیوان کے مشیر کی ملاقات

    پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت کے درمیان دو طرفہ اقتصادی تعاون میں اضافے پر اتفاق

    سعودی عرب، عمران خان کی تصویر لہرانے پر شیرافضل مروت کا اسٹاف آفیسر گرفتار

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ ،بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ

    حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ ،بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ

    موجودہ حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے معاشی اور تجارتی ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

    وزارتِ تجارت کے ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارت معطل ہونے کے باوجود، بھارت سے درآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اکتوبر 2024 میں بھارت سے درآمدات کا حجم 3 کروڑ 58 لاکھ ڈالرز تک پہنچ گیا، جو کہ اکتوبر 2023 کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہے۔ پچھلے سال اکتوبر میں یہ حجم 2 کروڑ 45 لاکھ ڈالرز تھا۔اس سے قبل ستمبر 2024 میں بھارت سے درآمدات میں 45 فیصد اور اگست میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کسی نہ کسی شکل میں برقرار ہیں، چاہے سیاسی سطح پر اختلافات کیوں نہ ہوں۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر دیے تھے۔ اس کے باوجود، دونوں ممالک نے زندگی بچانے والی ادویات کی تجارت کی اجازت دی، اور وقت کے ساتھ ان پابندیوں میں نرمی ہوتی دکھائی دی۔

    یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی اور علاقائی دباؤ کے تحت حکومتوں کو بعض اوقات سخت فیصلے نرم کرنے پڑتے ہیں۔ بھارت سے درآمدات میں اضافہ اس بات کا مظہر ہے کہ معیشت اور عوامی ضروریات سیاسی کشیدگی پر فوقیت حاصل کر سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق، اگرچہ تجارت محدود پیمانے پر ہو رہی ہے، لیکن اس کا معاشی اثر دونوں ممالک کے تعلقات میں پیچیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا آنے والے مہینوں میں یہ رجحان برقرار رہتا ہے یا سیاسی حالات میں کوئی بڑی تبدیلی آتی ہے۔

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • میڈیا اگر سنسنی نہیں پھیلائے گا تو ان کا کاروبار کیسے ہوگا، جسٹس میاں گل حسن اونگزیب

    میڈیا اگر سنسنی نہیں پھیلائے گا تو ان کا کاروبار کیسے ہوگا، جسٹس میاں گل حسن اونگزیب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی،گزشتہ سماعت پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر عمیر مجید ملک پیش نہ ہو سکے تھے ، وکیل سلمان صفدر اور پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے، عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی عدالت پہنچ گئیں،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ توشہ خانہ ٹو ضمانت کیس،عدالت جو بھی فیصلہ کرے لیکن میڈیا میں پہلے سے ہے کہ ضمانت منظور ہو جائے گی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو چھوڑ دیں، اُن سے خود کو مستثنیٰ کر لیں،میڈیا میں کہا جاتا ہے کہ جان کر بیمار ہو گیا، جان کر نہیں آیا، میڈیا اگر سنسنی نہیں پھیلائے گا تو ان کا کاروبار کیسے ہوگا، جسٹس میاں گل حسن اونگزیب نے صحافیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب میں ان کا کیا کروں انکو کمرہ عدالت سے نکال دوں آپ چاہتے کیا ہیں،پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ہمیں بہت کالیں آئی ہیں کہ یہ کیا چل رہا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ میڈیا سے دور رہیں مجھے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جان بوجھ کر بیمار ہوئے،

    اسلام آباد کی تمام پراسیکوشن ایجنسیز نے توشہ خانہ کیس پر ہاتھ سیدھا کیا ،وکیل عمران خان
    عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی تمام پراسیکوشن ایجنسیز نے اس توشہ خانہ کیس پر ہاتھ سیدھا کیا ہے نیب ، ایف آئی اے ، پولیس ، الیکشن کمیشن نے بھی توشہ خانہ کیس کیا ہے پولیس نے بھی توشہ خانہ جعلی رسید کا کیس بنایا ہوا ہے ،اب ایف آئی اے یہ کیس چلا رہی ہے، میری خواہش ہے کہ عدالت کو کسی فیصلے میں Political Victimization سے متعلق آبزرویشنز دینی چاہئیں، الزام ہے بانی پی ٹی آئی نے ذاتی مفاد کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا ، اس چالان میں یہ واضح نہیں مرکزی ملزم کون ہے؟ دو ملزمان ہیں اس میں دفعہ 109 میں کس کا کردار ہے کوئی واضح نہیں ، توشہ خانہ نیب کیس میں بانی پی ٹی آئی کو 14 سال سزا ہوئی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اسلام آباد پولیس نے کیا مقدمہ بنایا ہے؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ تھانہ کوہسار پولیس نے جعلی رسیدوں کا مقدمہ بنایا ہے، توشہ خانہ پالیسی کے مطابق تحائف لئے گئے ہیں، اس وقت ان تحائف کی جو مالیت تھی پالیسی کے مطابق ادا کرکے لیا ہے،اس مقدمے کا اندراج ساڑھے تین برس سے زائد تاخیر سے کیا گیا، کوئی جرم نہیں ہوا،جس کیس میں جرم واضح نہ ہو تو کیس مزید انکوائری اور ضمانت کا ہے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہو گئے، سلمان صفدر نے کہا کہ میں کچھ چیزوں کو تحریری جمع کروادونگا ، دوران سماعت سلمان صفدر نے اپنے دلائل میں کہا کہ صہیب عباسی کہتا ہے مجھے بانی پی ٹی آئی نے تھریٹ کیا ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی تو ملاقات ہی صہیب عباسی سے کبھی نہیں ہوئی ،انعام اللہ جس کو گواہ ایف آئی اے نے بنایا ہے اس سے متعلق صہیب عباسی کہہ رہا ہے اس کی ملاقات ہوئی ،کسٹم کے تینوں افسران نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم پر پریشر نہیں تھا،اگر پریشر نہیں تھا تو انہوں نے پھر صحیح قیمت کیوں نہیں لگائی ،صہیب عباسی ایک شخص آتا ہے وہ اپنا بیان بھی قسطوں میں دیتا ہے ،گراف جیولری لسٹ پر الگ اب بلغاری سیٹ پر الگ بیان دیا ہے ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے پی ٹی آئی حکومت کی توشہ تفصیلات خفیہ رکھنے کی پالیسی پراہم ریمارکس سامنے آئے ہیں،دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومت توشہ خانہ کی تفصیلات نہیں بتاتی تھی، ہم پوچھتے تھے تو توشہ خانہ کی تفصیلات چھپائی جاتی تھیں، ہائیکورٹ میں گزشتہ حکومت آرہی تھی کہ توشہ خانہ کا کسی کو پتہ نہیں ہونا چاہیے

    ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکوٹر عمیر مجید ملک نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا، ایف آئی اے پراسکییوٹر نے کیس سے متعلق دستاویزات عدالت میں پڑھے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے گواہوں کے بیانات پڑھے ہیں ؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ 18 ستمبر کو گواھوں کو نوٹس کیا تھا ، گواہ آئے تھے انہوں نے (پہلے سے نیب کو دئیے)بیانات کی تصدیق کی ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے خود گواھوں کے بیانات پڑھے ہیں ؟ ایف آئی اے تفتیشی افسر نے کہا کہ جی 19 ستمبر کو میں نے پڑھے تھے ،بلغاری سیٹ توشہ خانہ میں جمع ہی نہیں کرایا گیا، ریاست کے تحفے کی کم قیمت لگوا کر ریاست کو نقصان پہنچایا گیا، عمران خان اور اُنکی بیوی دونوں نے فائدہ اٹھایا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو کیسے فائدہ ہوا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ جب بیوی کو فائدہ ملا تو شوہر کا بھی فائدہ ہوا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ او پلیز، میری بیوی کی چیزیں میری نہیں ہیں،ہم پتہ نہیں کس دنیا میں ہیں ،

    توشہ خانہ ٹو کیس بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت میں وقفہ کر دیا گیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ڈویژن بنچ کی سماعت کے بعد کیس رکھ لیتے ہیں ،

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان