Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے کہا ہے کہ سیاسی تناؤ کم کرنے اور حالات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔

    نجی ٹی وی پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے سحر کامران کا کہنا تھا کہ بانی تحریک انصاف کا مقصد ملک میں عدم استحکام اور انتشار کی کیفیت رکھنا ہے، اس میں کوئی شک نہیں، 2014 کا دھرنا ہو، اسمبلیوں سے استعفے ہوں،اسلام آباد کی گرین بیلٹ کو آگ لگانے کے واقعات ہوں، سایفر کا ایشو ہو، ماڈل ٹاؤن سے پیٹرول بم پھینکنے ہوں یا 9 مئی کے افسوسناک حملے، ایسا لگتا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت اشتعال انگیزی کی فضا بنائی جا رہی ہے۔ ایک بلو پرنٹ بنا ہوا ہے، جس کے مطابق مختلف حربے اپنائے جا رہے ہیں۔ بشریٰ بی بی کا بیان ملک کے سفارتی تعلقات خراب کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے کی ایک سازش ہے۔ نفرت اور تقسیم کا بیانیہ نہ ملک کے مفاد میں ہے، نہ ہی عوام کے مفاد میں ہے، اس کے بجائے مفاہمت کی راہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے، سیاسی تناؤ کم کرنے اور حالات بہتر کرنے کا واحد راستہ مزاکرت اور مفاہمت ہے۔

    سحر کامران کا مزید کہنا تھا کہ جب یہ حکومت میں تھے تو ایسے لگتا تھا کہ حکومت کی جانب اپوزیشن میں تھے، اس میں گورننس نہیں تھی، انتقام تھا، پارلیمنٹ کی تضحیک کی گئی، 9 مئی کا واقعہ ہوا، یہ ایک سیریز ہے،کفن باندھنا یہ کیا ہے، احتجاج ،جلسے جلوس جمہوری حق ہے بات الجہاد کے نعروں، رویوں،کفن باندھنے دھمکیوں سے ہے،کبھی کوئی بیان آتا ہے ،سائفر، رجیم چینج، پھر امریکہ میں ہی لابنگ ،یہ کتنا تضاد ہے، سعودی عرب پاکستان کا دوست ملک ہے،جہاں وہ جوش و خروش سے جاتے تھے، ایک دوست ملک ہے،وہ انویسمنٹ کرنا چاہ رہا ہے،ا سکے وفود آ رہے ہیں، وزیراعظم کے دو دورے ہوئے، آرمی چیف کا دورہ ہوا ،اب یہ بیان دے کر پاکستان میں کیا چاہتے ہیں یہ سب منصوبہ بندی سے کر رہے ہیں پہلے بھی ایک لیڈر نے بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ذاتی رائے ہے، اب کس کی رائے ہے، عمران خان کے بارے میں جمائما کی ٹویٹ آتی ہے،لابنگ کہاں سے ہوتی ہے، لابنگ فرم کہاں سے ہائر ہوتی ہیں، پاکستان کی اتنی پرواہ ہے کہ غزہ کی لاشیں نظر نہیں آتیں،

    سحر کامران کا مزید کہنا تھا کہ اشتعال انگیری جو اس وقت کی جا رہی ہے اس پر کور نہیں ڈالا جا سکتا، ہم لہجے، لفظوں کا چناؤ، پیغام اس کو دیکھنا ہو گا، لہجے عوام کو کہاں لے جاتے ہیں، کتنے لوگ ابھی بھی اشتعال انگیزی کی وجہ سے مقدمے بھگت رہے ہیں لیڈر شپ تو نکلتی ہی نہیں، وزیراعلیٰ جلوس چھوڑ کر واپس چلے جاتے ہیں،یہ کس طرح کے پیغامات دے رہے ہیں، اب الجہاد،کے نعرے، سیاسی جدوجہد کی جا سکتی ہے، یہ الجہاد کہاں سے اور کن معنوں میں استعمال ہو رہا ہے،

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • پاکستان کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کا خطرہ

    پاکستان کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کا خطرہ

    فتنہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کے منصوبہ بندی کا انکشاف سامنے آیا ہے

    مختلف ذرائع کی جانب سے فتنہ الخوارج کی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی تصدیق ہوئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق فتنہ الخوارج سے منسلک کئی دہشت گرد پاک افغان بارڈر کراس پار کر کے پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں ،19 اور 20 نومبر کی درمیانی رات فتنہ خوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے پاک افغان بارڈر پار کرنے کی اطلاعات ملی ہیں، فتنہ الخوارج کے پاکستان میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کی مختلف بڑے شہروں میں موجودگی کی اطلاع ہے،نیکٹا نے فتنہ الخوارج کے خطرے کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایات کر دی ہے،

    دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کو گھروں سے باہر نکلتے ہوئے خیال کرنا چاہئے، پولیس اور سیکورٹی اداروں کی جانب سے الرٹ کے بعد سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے،حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ سیکیورٹی فورسز کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور اہم مقامات پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے باعث شہریوں کو مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، حکومتی سطح پر سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اضافی وسائل مختص کیے جا رہے ہیں۔

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

  • کوئی بات نہیں،اب جو آئے گا وہ گرفتار ہوگا،عطا تارڑ

    کوئی بات نہیں،اب جو آئے گا وہ گرفتار ہوگا،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ کیا وجہ ہے ترقی ہوتے ہی احتجاج شروع کردیا جاتا ہے؟

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر بیرسٹر گوہر سے رابطہ ہوچکا،اب کسی نے احتجاج کیا تو گرفتاریاں بھی ہوں گی ،اب جو آئے گا وہ گرفتار ہوگا ،املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ،جن افسران نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا ان سے سختی سے نمٹا جائیگا ،اسلام آباد میں کسی ریلی، جلسے کی اجازت نہیں ، سخت قانونی کارروائی ہوگی ،وضاحت سے کہہ رہا ہوں تحریک انصاف سے کسی لیول پر بات چیت نہیں ہو رہی،وزیر اعلی خیبر پختونخواہ علی امین گنڈا پور کو اپنے صوبے میں دھیان دینا چائیے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کے منصوبے نہیں بنانے چائیں ،خیبر پختونخوا میں آگ لگی ہوئی، کرم میں لاشیں اٹھائین، وہ بھی قوم کے بچے تھے،و زیراعلیٰ اڈیالہ ایسے پہنچتے جیسے ننھیال ہے، آپکی دھرتی پر خون گرا وہاں جائیں لوگوں کے سروں پر ہاتھ رکھیں، کرم میں امن و امان کی میٹنگ کریں، لوگوں کو تسلی دیں، لیکن ایسا کچھ نہیں، خیبر پختونخوا میں فوج کے جوان قربانیاں دے رہے ہیں، جو فوجی جوان شہید ہوئے انکے بچے شہید ہوئے، آپ کے بچوں کی خاطر انہوں نے جان دی اور آپ یہاں لشکر کشی کر رہے ہیں، اسی ادارے کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں، پولیس کا کام ہے کہ امن و امان یقینی بنائے لیکن وہاں فوج دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہی ہے،

    عطا تارڑ کا مزید کہناتھا کہ ملک دشمنی اب نہیں چلے گی،کسی کو امن وامان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

  • امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے اپنے رہائش گاہ پر پاکستان-امریکہ پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے اراکین کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا۔

    اس موقع پر پاکستان کی پارلیمنٹ کی رکن،پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران بھی موجود تھیں۔ امریکی سفیر کی جانب سے دیئے گئے استقبالیہ میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے اور پارلیمانی روابط کو مضبوط بنانے پر گفتگو ہوئی۔تقریب میں دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کی اہمیت اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر سحر کامران نے کہا کہ ایسے مواقع دونوں قوموں کو قریب لانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

    تقریب میں موجود دیگر مہمانوں میں پارلیمنٹ کے معزز اراکین، سفارتی اہلکار، اور دونوں ممالک کے دیگر اہم نمائندے شامل تھے۔ اس موقع پر پاکستانی سفارت خانہ واشنگٹن کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

    یہ استقبالیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پارلیمانی ڈائیلاگ کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس تقریب میں پاکستانی اور امریکی جھنڈے کی موجودگی نے دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی کی علامت کو اجاگر کیا۔امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اس تقریب کو کامیاب قرار دیا۔ تقریب کا اختتام دوطرفہ تعاون کی امید اور خیرسگالی کے پیغام کے ساتھ ہوا۔

    سحر کامران کی پاکستان اور روس کے مابین تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر بات چیت
    دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے ‘سی ای او ٹوڈے میگزین’ کے اجرا کی تقریب میں شرکت کی ہے اور اسے ایک اعزاز قرار دیا، یہ تقریب روسی فیڈریشن کے سفیر ایچ ای البرٹ پی خوریو کے حوالے سے ایک خصوصی کیس اسٹڈی پر مبنی تھی۔اس موقع پر پاکستان اور روس کے مابین تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر گفتگو ہوئی، جس میں تجارت، توانائی، دفاع، اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ تقریب میں 50 سے زائد سی ای اوز، کاروباری رہنماؤں، سفارت کاروں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے دونوں ممالک کے مابین شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے اس طرح کے مواقع کی اہمیت پر زور دیا اور اسے خوش آئند قدم قرار دیا۔

    پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کا ملائیشیاکے ہائی کمیشن کا دورہ
    علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے اسلام آباد میں ملائیشیا کے ہائی کمیشن کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہائی کمشنر عزت مآب محمد اظہر مزلان سے ملاقات کی۔سحر کامران نے اس ملاقات کو ایک اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ملائیشیا کے ہائی کمیشن کا دورہ اور ہائی کمشنر سے ملاقات کرنا میرے لیے بہت خوشی کا باعث تھا۔ عزت مآب محمد اظہر مزلان کی مہمان نوازی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر بصیرت افروز گفتگو پر شکرگزار ہوں۔”

    یہ ملاقات پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کے لیے اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔ سحر کامران نے ملائیشیا کے دفتر خارجہ اور اسلام آباد میں ہائی کمیشن کا شکریہ ادا کیا۔

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • ایسا علاج ہو گا کہ دوبارہ اسلام آباد کا نام نہیں لیں گے،حنا پرویز بٹ

    ایسا علاج ہو گا کہ دوبارہ اسلام آباد کا نام نہیں لیں گے،حنا پرویز بٹ

    مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ نے پی ٹی آئی کے حوالے سے ایک سخت بیان دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اس بار پی ٹی آئی کا ایسا علاج کیا جائے گا کہ وہ دوبارہ کبھی اسلام آباد کا رخ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکے گی۔

    اپنے بیان میں حنا پرویز بٹ نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، "یہ جماعت ہر بار جب کوئی غیر ملکی سربراہ پاکستان آنے والا ہوتا ہے، اپنے سیاسی تھیٹر کا آغاز کر دیتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف پاکستان کے وقار کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ ملکی ترقی اور خوشحالی میں بھی رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔” پی ٹی آئی کا طرزِ سیاست ملکی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے اور یہ جماعت صرف افراتفری اور انتشار پیدا کرنے کی سیاست کرتی ہے۔ حنا پرویز بٹ کے مطابق، پی ٹی آئی کی موجودہ حکمت عملی اور رویے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ جماعت پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہے۔

    حنا پرویزبٹ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور دیگر حکومتی جماعتیں پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں کو ایک "غیر ذمہ دارانہ” عمل قرار دے رہی ہیں۔حنا پرویز بٹ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے خلاف سخت حکمت عملی اپنانے کے لیے تیار ہے تاکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

  • امن و امان  خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ،وزیر داخلہ کا پولیس کو حکم

    امن و امان خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ،وزیر داخلہ کا پولیس کو حکم

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اس بار اسلام آباد میں قانون ہاتھ میں لینے والےکسی شخص کو واپس نہیں جانے دینا۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے علی الصبح پولیس لائنز اسلام آباد کا دورہ کیا اور قیام امن کے لیے اسلام آباد پولیس کی جانفشانی کی تعریف کی،اس موقع پر آئی جی اسلام آباد پولیس، چیف کمشنر، ڈی آئی جی اور پولیس افسران کی بڑی تعداد بھی پولیس لائنز میں موجود تھی،پولیس لائنز میں خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کل بیلاروس کا وفد اور 25 نومبر کو بیلاروس کے صدر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، دورے کے پیش نظر اسلام آباد کو ہر صورت محفوظ رکھنا ہے، پولیس فورس نے ایک ٹیم کی طرح مل کر کام کرنا ہے اور امن کو یقینی بنانا ہے، اسلام آباد کے امن و امان کو خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ہے، اس بار اسلام آباد میں قانون ہاتھ میں لینے والے کسی شخص کو واپس نہیں جانے دینا،ہمیں آپ اور آپ کی زندگیاں بہت عزیز ہیں، دوران ڈیوٹی تمام حفاظتی سامان پہننا ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں، پولیس فورس نے ہیلمٹ اور حفاظتی جیکٹس پہن کر فرائض سرانجام دینے ہیں، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کسی کو اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے، امن و امان کو قائم رکھنے اور شہریوں کی جان و املاک کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پلان پارٹی کے بانی کے وکلا اور بہنوں کے مشورے کے بعد طے کیا گیا۔منصوبے کے تحت ملک بھر سے پی ٹی آئی کے قافلے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے میں 2 سے 3 دن لگیں گے، اور 26 نومبر کو اسلام آباد میں داخلے کی تیاری کی گئی ہے۔ تمام کارکنان اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنے کا پروگرام بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگا۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما سحر کامران نے انسانی حقوق کمیشن پاکستان اور فریڈرش نومن فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقدہ ایک اہم کانفرنس میں شرکت کی۔ یہ کانفرنس پاکستان میں پسماندہ طبقات کی سیاسی بااختیاری اور انتخابی عمل میں شمولیت کو فروغ دینے کے موضوع پر مرکوز تھی۔

    سحر کامران نے اپنی شرکت کو ایک اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس اہم مسئلے پر بات کرنے اور مختلف طبقوں کے لیے مساوی مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کانفرنس کے منتظمین، خصوصاً انسانی حقوق کمیشن اور فریڈرش نومن فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کیا۔کانفرنس میں پسماندہ طبقات، بشمول خواتین، اقلیتوں، اور معذور افراد کی انتخابی عمل میں شرکت کو بڑھانے کے طریقوں پر بات کی گئی۔ کانفرنس میں مختلف موضوعات پر پینل ڈسکشنز  کا انعقاد کیا گیا، جن میں نمایاں ماہرین اور کارکنوں نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس پاکستانی سماج میں ایک مثبت تبدیلی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے، جہاں پسماندہ طبقات کے حقوق اور ان کے انتخابی عمل میں کردار کو اہمیت دی جائے،

    کانفرنس کا اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) اور فریڈرک نومن فاؤنڈیشن فار فریڈم (ایف این ایف) کے اشتراک سے منعقدہ ایک کانفرنس میں خواتین، ٹرانس جینڈر افراد، مذہبی اقلیتوں اور معذوری کا شکار افراد سمیت پسماندہ طبقات کے سیاسی اختیار اور انتخابی عمل میں شرکت میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے ایچ آر سی پی کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق نے کہا کہ جمہوریت اسی وقت پھل پھول سکتی ہے جب ہر شہری کو سیاسی عمل میں مساوی شرکت کا موقع ملے۔ ایف این ایف کی سربراہ بیرگٹ لام نے کہا کہ شہری ووٹ ڈالنے کی اہمیت سے آگاہ ہیں اور ووٹ ڈالنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    وکیل اور محقق ماورا غزنوی نے کہا کہ سب سے اہم مسئلہ دور دراز علاقوں میں خواتین اور معذوری کا شکار افراد کی پولنگ اسٹیشنز تک رسائی ہے۔ معذوری کا شکار افراد کے حقوق کے کارکن زاہد عبداللہ نے کہا کہ معذوری کا شکار خواتین کی بطور ووٹر کم نمائندگی ہونا باعث تشویش ہے۔ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کی کارکن نایاب علی نے نشاندہی کی کہ ٹرانس جینڈر ووٹروں کی صنفی شناخت اور صنفی اظہار سے جڑے کلنک کے باعث ان کے خلاف امتیازی سلوک اب بھی عام ہے۔ ماہر تعلیم اور سماجی کارکن فرزانہ باری نے سیاست میں خواتین، مزدور طبقے، معذوری کا شکار افراد اور ٹرانس جینڈر افراد کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی نشاندہی کی۔

    وکیل محمود افتخار احمد نے کہا کہ احمدی کمیونٹی کے لیے علیحدہ انتخابی فہرستوں نے انہیں مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے کیونکہ ان کا ذاتی ڈیٹا قابل رسائی ہے جسے احمدیوں کے گھروں اور کاروبار کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے تجویز دی کہ عام شہریوں کے لیے انتخابی فہرست میں اپنا نام تلاش کرنے کے عمل کو آسان بنایا جانا چاہئے۔ تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شندانہ گلزار اور جے یو آئی (ف) کی رہنما آسیہ ناصر نے الزام لگایا کہ خواتین ووٹرز اور مذہبی اقلیتوں کے ووٹرز کو پولنگ کے دن تشدد کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔انتخابی امور کے ماہر طاہر مہدی نے کہا کہ جب تک جمہوری نظام اشرافیہ کے زیر تسلط رہے گا، معذور افراد کے لیے ریمپ یا خواتین کے لیے مخصوص نشستوں جیسے علامتی اقدامات کمزور طبقات کے مسائل کا دیرپا حل ثابت نہیں ہوں گے۔ انسانی حقوق کی کارکن رومانہ بشیر نے تجویز دی کہ سیاسی جماعتوں کو مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لیے مختص کوٹہ پر عملدرآمد کرنا چاہیے، لیکن اہم بات یہ کہ انہیں اس حد تک بااختیار بنانا چاہیے کہ یہ کوٹے بالآخر غیر ضروری ہو جائیں۔

    ایم کیو ایم (پاکستان) کی رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ نے کہا کہ وہ ہمیشہ معذوری کا شکار افراد کے لیے مخصوص نشستوں کے خیال کی حامی رہی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ بیشتر خواتین قانون سازوں کا اعلیٰ سطح کے فیصلوں میں کردار اب بھی انتہائی محدود ہے۔نادرا کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالحسیب نے شرکاء کو یقین دلایا کہ وہ ووٹرز کے قومی شناختی کارڈز تک رسائی بڑھانے کے طریقوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر (جینڈر) آمنہ سردار نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ووٹرز کے پولنگ اسٹیشنز کو بغیر کسی وجہ کے تبدیل نہ کیا جائے۔ایچ آر سی پی کے کونسل ممبر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ووٹروں کو رجسٹریشن کی ضرورت کے بارے میں آگاہ کرنا ایک ثانوی مسئلہ ہے۔ اس کے بجائے، الیکشن کمیشن، نادرا اور سیاسی جماعتوں کو پسماندہ ووٹروں اور امیدواروں سے متعلق ڈھانچہ جاتی مسائل کے حل کے لیےکام کرنا چاہیے۔ کانفرنس کے اختتام پر ایچ آر سی پی کی وائس چیئر اسلام آباد نسرین اظہر نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • پی ٹی آئی احتجاج،وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیرسٹر گوہر سے رابطہ

    پی ٹی آئی احتجاج،وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیرسٹر گوہر سے رابطہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا ہے

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین پہلا رابطہ ہوا ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے موجودہ صورتحال پر گفتگو کی،محسن نقوی نے کہا، کسی جلوس،دھرنے یا ریلی کی اجازت نہیں دے سکتے۔بیلا روس کا وفد آ رہا ہے،محسن نقوی کے رابطہ کرنے پر بیرسٹر گوہر خان نے جواب دیا کہ پارٹی مشاورت کے بعد آپ کو حتمی رائے سے آگاہ کروں گا۔باخبر ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے تحریک انصاف کل ڈی چوک میں احتجاج پر بضد ہے،حکومت نےایف نائن، سنگجانی میں احتجاج اور دھرنے کی پیشکش کی ہے،تاہم پی ٹی آئی نے انکار کر دیا ہے.

    پی ٹی آئی احتجاج، اسلام آباد کب داخل ہونا؟ پروگرام طے ہو گیا
    پاکستان تحریک انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پلان پارٹی کے بانی کے وکلا اور بہنوں کے مشورے کے بعد طے کیا گیا۔منصوبے کے تحت ملک بھر سے پی ٹی آئی کے قافلے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے میں 2 سے 3 دن لگیں گے، اور 26 نومبر کو اسلام آباد میں داخلے کی تیاری کی گئی ہے۔ تمام کارکنان اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنے کا پروگرام بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگا۔ قیادت کے ساتھ علیمہ خان، عظمیٰ خان، اور رانی خان بھی موجود ہوں گی۔

    تمام رکاوٹیں پار کرکے منزل پر پہنچیں گے، اس بار واپسی نہیں ہوگی،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ ہاؤس میں پی ٹی آئی کا اہم اجلاس ہوا، جس کی علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر نے صدارت کی،اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ احتجاج ہر صورت ہوگا، ڈی چوک پر دھرنا ہوگا، تمام رکاوٹیں پار کرکے منزل پر پہنچیں گے، اس بار واپسی نہیں ہوگی، اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کا ہنگامی اجلاس 22اور 23 نومبر کی درمیانی رات کو منعقد ہوا، اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت کے مطابق ہماری پُرامن احتجاجی تحریک کا آغاز مورخہ 24 نومبر کو پاکستان بھر کے ہر شہر سے ہو گا،قافلے اسلام آباد کی طرف اپنے سفر کا آغاز کرینگے۔ اجلاس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کے اہداف حاصل نہیں کر لئے جاتے۔ جو مندرجہ ذیل ہیں ۔ پاکستان بھر میں بے گناہ قید پارٹی کے لیڈران، کارکنان اور عمران خان کی رہائی ، 26 ویں آئینی ترمیم کی تنسیخ، 8 فروری کے الیکشن کے حقیقی مینڈیٹ کی بحالی،پولیٹیکل کمیٹی نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اوردہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا نوٹس بھی لیا اور معاملات کے فوری حل کے زمرے میں حکومتی بے حسی اور بے بسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ،پولیٹیکل کمیٹی نے پارٹی کے کارکنان اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے عوام سے اپیل کی کہ وہ پر امن احتجاج میں جوق در جوق شرکت کر کے اسے کامیاب بنائیں۔ تاکہ پاکستان میں آئین اور قانون کے مطابق جمہوری دور کا آغاز ہو سکے۔ ریاست کے عوام کا اعتماد بحال ہو اور ایک بہتر مستقبل کی نوید سنائی دے۔

    موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے احکامات
    پی ٹی آئی کا 24 نومبر کو اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج ،وزارت داخلہ نے موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے احکامات پی ٹی اے کو صادر کر دیئے،میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ شب ہی وزارت داخلہ سے خط موصول ہوگیا تھا،آج موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق ہے،فی الحال صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اتوار کو موبائل، انٹرنیٹ سروسز معطل کرنے کا احکامات دیئے جائینگے، ذرائع پی ٹی اے

    سابق صدر عارف علوی کی تقریر
    پشاور میں سابق صدر عارف علوی نے پی ٹی آئی کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کی رہائی تک احتجاج جاری رکھنے کا حلف لیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ہر پاکستانی کے دل میں ایک امید کی طرح دھڑک رہے ہیں، اور ان کی محبت عوام کے دل سے ختم کرنا ناممکن ہے۔ عارف علوی نے کہا کہ عمران خان کی جدوجہد آئین، قانون، اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے ہے اور وہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔

    موٹرویز اور ٹرانسپورٹ کی بندش
    ملک کی مختلف موٹرویز بشمول پشاور-اسلام آباد اور لاہور-اسلام آباد کو مرمت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ موٹروے پولیس کے مطابق یہ بندش 23 نومبر کی رات 8 بجے سے نافذ ہوگی۔ لاہور کی رنگ روڈ کو بھی 2 دن کے لیے احتجاج کے پیش نظر صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    عوامی مشکلات
    ٹرانسپورٹ اڈوں اور موٹرویز کی بندش کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق روزانہ ایک لاکھ 30 ہزار افراد اسلام آباد آتے جاتے ہیں، اور بندش کے سبب مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو نقصان ہوگا۔ اسپتالوں میں آنے والے مریضوں اور گڈز ٹرانسپورٹ کا کاروبار بھی متاثر ہوگا، جس سے یومیہ 4 سے 5 کروڑ روپے کا نقصان متوقع ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی ایک کال سے حکومت کے اوسان خطاہوگئے ،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک بند کر کے ہمارا احتجاج پہلے ہی کامیاب بنادیا ہے، وفاق اور پنجاب حکومت نے بوکھلاہٹ میں موٹروے اور شاہراہیں بند کردیں، پنجاب بھر میں دفعہ 144کا نفاذ، ہوٹلوں اور لاری اڈوں کی بندش ثبوت ہے کہ حکومت کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔ ہم ابھی 24 نومبر کے احتجاج کی تیاریوں کےمراحل میں ہیں، حکومت نے ملک بند کرکے ہمارااحتجاج خود ہی کامیاب بنادیا۔ ہمارا احتجاج پرامن ہوگا، حکومت ملک بند کرکے عوام کو تکلیف دے رہی ہے۔بانی پی ٹی آئی کی ایک کال سے حکومت کے اوسان خطاہوگئے ہیں، جیل میں قید ایک شخص نے احتجاج سے قبل ہی حکمرانوں کو تگنی کا ناچ نچا دیا ہے۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    24 نومبر کو ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں میٹرو سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال کے پیش نظر 23 نومبر کو میٹروبس سروس آئی جے پی تا پاک سیکرٹریٹ مکمل بند رہے گی تاہم راولپنڈی میں میٹروبس سروس بحال رہے گی،راولپنڈی صدر اسٹیشن تا فیض آباد تک میٹروبس سروس چلے گی البتہ 24 نومبر کو جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس مکمل طور پر بند رہے گی

    پی ٹی آئی احتجاج، لاہور،اسلام آباد،اہم شاہراہیں بند،کاروبار بند،شہریوں کو مشکلات
    پی ٹی آئی کا اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج، موٹرویز سمیت کئی اہم شاہراہیں بند کردی گئیں،راولپنڈی اور اسلام آباد کو 33 مقامات سے بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ لاہور اور فیصل آباد سے وفاقی دارالحکومت کو آنے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں،اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر جڑواں شہروں میں داخل ہونے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے،فیض آباد سمیت 6 مقامات کو کنٹینرز رکھ کر بند کر دیا گیا ہے، فیض آباد، آئی جے پی روڈ، روات ٹی چوک، کیرج فیکٹری، مندرہ اور ٹیکسلا روڈ کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ کچہری چوک کو یکطرفہ ٹریفک کے طور پر چلایا جائے گا،

    لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز کھڑے کرکے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ ٹھوکر نیاز بیگ ، بابو صابو انٹر چینج ، سگیاں پل ، شاہدرہ چوک بھی بند کر دی گئی ہے جبکہ رنگ روڈ کو بھی دو روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے،فیصل آباد شہر کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں، موٹروے ایم 5، سکھر سے رحیم یار خان تک بند کر دی گئی ہے،اسلام آباد میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے رینجرز اور ایف سی تعینات کر دی گئی ہے جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنےکی ہدایت کر دی ہے،اسلام آباد کے تمام تھانوں میں گرفتار افراد کو رکھنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ قیدی وینزبھی اسلام آباد پہنچا دی گئی ہیں،پنجاب بھر میں آج سے 25 نومبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت ہر قسم کے احتجاج، جلسے جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد رہے گی۔

    صدر، اے ٹی ڈبلیو اے بلو ایریا راجہ حسن اختر کا کہنا ہے کہ تمام بزنس کمیونٹی کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بلو ایریا میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے حکم کے مطابق، تمام دکانیں، دفاتر، ریسٹورینٹس اور کاروبار مکمل طور پر بند رہیں گے۔دفعہ 144 نافذ ہے،صرف میڈیکل اسٹورز اور اسپتالوں کو کھولنے کی اجازت ہوگی۔تمام کاروباری افراد سے گزارش ہے کہ اپنے کاروبار بند رکھیں اور گھروں میں آرام کریں۔

    پی ٹی آئی نے احتجاج کے لیے اپوزیشن اتحاد سے کوئی رابطہ یا مشاورت نہیں کی،پی ٹی آئی کے کسی بھی رہنما نے اپوزیشن کی کسی بھی جماعت سے کوئی بات چیت نہیں کی،اپوزیشن کے ذرائع کے مطابق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اسلام آباد سے واپس کوئٹہ روانہ ہو گئے،بی این پی سربراہ اختر مینگل دبئی میں ہیں، ان سے بھی پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج پر کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، علامہ ناصر عباس بیرون ملک دورے کی وجہ سے احتجاج کا حصہ نہیں ہوں گے

    اپوزیشن لیڈر پنجاب ملک احمد خان احتجاج کے لیے پرعزم ،تیاریاں مکمل ہونے کا عندیہ دے دیا ،ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ ہماری مکمل تیاری ہے ہر صورت میں اسلام آباد پہنچیں گے،میں اپنے حلقے میانوالی سے قافلے کی صورت میں اسلام آباد پہنچوں گا، ٹک ٹاکر حکومت نے ہمیشہ ہمارے پرامن احتجاج کو روکنے کی کوشش کی ہے، پانی پی ٹی ائی کی فائنل کال ہے کل پورا پاکستان اسلام آباد جائے گا ، میانوالی کی عوام تیار ہے ہمارے کچھ لوگ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں کچھ کل قافلوں کی صورت میں جائیں گے،حکومت جتنی مرضی رکاوٹیں کھڑی کر دے ہم رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام اباد پہنچیں گے،بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے،

    عارف علوی کی کارکنان سے پرامن رہنے کی اپیل،بولے،تشدد ہمیشہ پولیس کرتی
    پی ٹی آئی رہنما ،سابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ 24 نومبر کے احتجاج کے اعلان اور تیاری کے حوالہ سے میری درخواست پوری قوم سے یہ ہے کہ پر امن رہیئے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے جلسے جلوسوں میں پر امن رہی ہے۔ تشدد ہمیشہ پولیس نے کیا۔ دنیا کی پچھلی صدی کی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ پر امن عوام پر جب پولس آنسو گیس یا لاٹھی سے حملہ کرتی ہے تو پھر عوام ایسے ظالمانہ مار پیٹ کے بعد سنگ و خشت کا سہارا لیتے ہیں۔ تشدد کے بہانے “پرچم دروغ” کا استعمال ہم نے 9مئی کے دن دیکھا جس کے زہریلے انڈے اور بچے آج بھی نمودار ہو رہے ہیں۔پر امن رہیئے اور اللہ پر بھروسہ کریئے۔ وہی خدا ہے جو اس ملک کے محکوم و مظلوم عوام کو آزادی سے ہمکنار کرے گا۔ انشاللہ

  • 9 مئی: 4 افغان سمیت 10 ملزمان کو 6 سال قید، جرمانے

    9 مئی: 4 افغان سمیت 10 ملزمان کو 6 سال قید، جرمانے

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی سے متعلق مقدمے میں 10 ملزمان کو 6 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی، جس میں 4 افغان شہری بھی شامل ہیں۔

    ذرائع نے بتایا کہ جن افراد کو سزا سنائی گئی ہے ان میں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے تین ملزمان عابد محمود، احسن ایاز، شوکت، راولپنڈی کے مطیع اللہ، جبکہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے نعیم اللہ اور ذاکر اللہ شامل ہیں۔ سزا یافتہ 10 افراد میں 4 افغان شہری ہیں، جو پاکستان کے مختلف علاقوں میں مقیم تھے، جن میں داؤد خان ولد حاجو خان ، یونس خان ولد خان محمد، احسان اللہ ولد ضیا الحق، لال آغا ولد خان آغا شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ملزمان کو 6 سال تک قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ کل 17 ملزمان کے خلاف 10 مئی کو فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) 626/24 اسلام آباد کے تھانے آئی-9 میں درج کی گئی تھی، نامزد ملزمان میں سے ایک بعد از تفتیش بری کر دیا گیا اور 6 روپوش ہیں جبکہ 10 کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق روپوش مجرمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں اور گرفتار ہوتے ہی عدالت میں پیشی کا حکم دیا گیا ہے۔احتجاج کی آڑ میں ریاست مخالف سرگرمیوں میں شامل مجرمان بشمول ماسٹر مائنڈز اور سہولت کاروں سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا، جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

    ‏حکومت کی پیپلز پارٹی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل

    پرتھ ٹیسٹ:بھارت کے بعدآسٹریلیا مشکلات سے دوچار

    اوچ شریف: حضرت سید جلال الدین بخاری کے 755ویں عرس کی تقریبات اختتام پذیر

    افغانستان: بغلان میں مزار پر فائرنگ سے 10 افراد جاں بحق

  • سانحہ 9 مئی، اسلام آباد میں پہلا بڑا فیصلہ،10 ملزمان کو تین تین برس کی سزا

    سانحہ 9 مئی، اسلام آباد میں پہلا بڑا فیصلہ،10 ملزمان کو تین تین برس کی سزا

    9 مئی احتجاج ،اسلام آباد میں درج مقدمات میں سے پہلا بڑا فیصلہ آگیا ۔ 10 مظاہرین کے خلاف پہلا بڑا فیصلہ،ضمانت پر رہا ہونے والے دس ملزمان گرفتار،تین تین سال قید کی سزا سنا دی گئی،ملزمان کے خلاف نو مئی 2023 پی ٹی آئی احتجاج کے دوران مقدمہ درج کیا گیا تھا.

    نو مئی احتجاج پر درج اسلام آباد کے مقدمات میں سے پہلے مقدمے کا فیصلہ آگیا۔پی ٹی آئی کارکنان میں دس ملزمان کو تین تین سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ملزمان کے خلاف 10 مئی 2023 کو پی ٹی آئی احتجاج کے دوران مقدمہ درج کیا گیا تھا۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ملزمان کو دہشت گردی کی دفعہ میں بری کر دیا گیا، کار سرکار میں مداخلت و دیگر دفعات میں سزائیں سنا دی گئیں۔ملزمان کے خلاف تھانہ آئی نائن پولیس نے 2023 میں فیض آباد کے مقام پر احتجاج کے دوران مقدمہ درج کیا تھا۔مقدمہ میں دس پولیس کے گواہان نے شہادتیں قلمبند کرائیں تھیں۔ملزمان کے خلاف دہشت گردی، توڑ پھوڑ، دھاوا بولنا، پولیس کے ساتھ لڑائی جھگڑا و دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    پاکستان آرمی کسی بھی خطرے کا موثر جواب دینے کیلئے ہمیشہ تیار ہے، آرمی چیف

    پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں، آرمی چیف

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    قبل ازیں رواں برس ماہ مارچ میں نو مئی جلاؤ گھیراؤ کیس کا پہلا فیصلہ آ یا تھا جس میں 51 ملزمان کو سزا سنائی گئی تھی،سزا پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کی عدالت نے سنائی، گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو گوجرانوالہ کینٹ میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں ملزمان کو سزا سنادی،عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 51 ملزمان کو پانچ پانچ برس قید کی سزا سنائی، انسداد دہشت گردی عدالت کی جج نتاشا نسیم سپرا نے مقدمے کا فیصلہ سنایا،