Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سپریم کورٹ،ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس،اپیل منظور

    سپریم کورٹ،ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس،اپیل منظور

    اسلام آباد کے سیکٹر ایف 14 اور 15 میں ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کی اپیل منظور کرلی،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو دوبارہ معاملہ دیکھنے کی ہدایت کر دی،اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اسکیم کو غیر آئینی قرار دیا تھا،جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 21 مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

    جسٹس عائشہ ملک نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا
    ججز پلاٹس کیس: جسٹس عائشہ ملک نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا لکھا کہ پلاٹس کی اُس الاٹمنٹ کو بھی ہائیکورٹ نے معطل کیا، جو اُس کے سامنے تھا ہی نہیں، عدالتوں کا اپنا دائرہ اختیار بڑھانا قبول نہیں.
    ایف 14 اور ایف 15 میں بیوروکریٹس اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے پلاٹس کا معاملہ،سپریم کورٹ نے جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیدیا،جسٹس عائشہ ملک کا تحریر کردہ 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا،فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پلاٹس سے متعلق اس نظرثانی شدہ پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا جو ہائیکورٹ میں چیلنج ہی نہیں تھی،22 نومبر 2022 کو پلاٹس کی نظرثانی شدہ پالیسی اس دن عدالت کے سامنے آئی جس دن فیصلہ محفوظ کیا گیا،پلاٹس کی نظرثانی شدہ پالیسی پر نہ دلائل دیے گئے نہ ہی وفاقی حکومت کو سنا گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں اشرافیہ کے وسائل پر قبضے اور ججز پلاٹس کا زکر کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو کہا وہ کیس اس کے سامنے تھا ہی نہیںججز کے پلاٹس کی اس الاٹمنٹ کو بھی ہائی کورٹ نے معطل کیا جو اس کے سامنے تھا ہی نہیں، یہ آئینی طور پر ناقابل قبول ہے کہ عدالتیں اپنے دائرۂ اختیار کو وسعت دیں، نہ تو آئین اور نہ ہی قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔توفیق آصف کیس میں اس عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائی کورٹ ایسی ریلیف نہیں دے سکتی جو درخواست میں مانگی ہی نہ گئی ہو، ہائی کورٹ خود سے کسی پالیسی کو غیر آئینی یا غیر قانونی قرار نہیں دے سکتی، اسلام ہائی کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے نظرثانی شدہ پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا ،آرٹیکل 10 اے کے تحت ہر شخص کو شنوائی کا حق دینا آئینی تقاضا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ کو ایسا فیصلہ دینے سے قبل تمام فریقین کو سننا چاہیے تھا،ہائی کورٹ کسی معاملے کو اس وقت سن سکتی جب اس سامنے کوئی فریق ہو،

    جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا گیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی گئی، عدنان سید کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا اپیل بحال کی جاتی ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ اپیل پر فیصلے کی مصدقہ نقل کے بعد 90 دن میں فیصلہ کرے، پلاٹس سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا رٹ پٹیشن بھی بحال کی جاتی ہے،سپریم کورٹ میں آئے وہ فریقین جو اسلام آباد میں فریق نہیں تھے وہ بھی عدالت عالیہ میں فریق بن سکتے ہیں،ہماری عدالتی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیر اسلام آباد ہائی کورٹ کیس کا فیصلہ کرے

    واضح رہے کہ 2021 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے گریڈ 22 کے افسران ، ججز اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ غیرقانونی قرار دے دی تھی ججز، افسران اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کے حوالے سے دائردرخواست پر 20 اگست کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ کے ججوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل کردی تھی، ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سنایا تھا،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی ایف 14 ،ایف 15 کے مختلف کیٹگریز کے4700 پلاٹس کی قرعہ اندازی کی گئی تھی، جس میں سابق چیف جسٹس گلزار احمد، سابق چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی اور پانامہ کیس کا فیصلہ تحریر کرنے والے اعجاز افضل خان سمیت معروف ججز اور بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے بھی پلاٹ نکلے تھے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا تھا کہ ایف 12، جی 12، ایف 14 اور 15 کی اسکیم غیرقانونی اورمفاد عامہ کیخلاف ہے، ریاست کی زمین اشرافیہ کیلیے نہیں، صرف عوامی مفاد کیلئے ہے، جج، بیورکریٹس، پبلک آفس ہولڈرز مفاد عامہ کیخلاف ذاتی فائدے کی پالیسی نہیں بنا سکتے جج اور بیوروکریٹس اصل اسٹیک ہولڈر یعنی عوام کی خدمت کیلئے ہیں،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی آئین کیخلاف کوئی اسکیم نہیں بنا سکتی،

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

  • ہماری طرف سے بھی سخت ردعمل آیا تو مایوسی پھیلے گی،جسٹس مسرت ہلالی

    ہماری طرف سے بھی سخت ردعمل آیا تو مایوسی پھیلے گی،جسٹس مسرت ہلالی

    لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی سینیارٹی کے حوالے سے جسٹس فرخ عرفان خان کی نظر ثانی درخواست غیر موثر ہونے کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے نمٹا دی،

    لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی سینیارٹی کے حوالے سے جسٹس فرخ عرفان خان کی درخواست پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے کی، جسٹس عائشہ ملک نے درخواست گزار کے وکیل حامد خان سے دریافت کیا کہ آیا وہ یہ کیس چلانا چاہتے ہیں کہ نہیں، 4 ججز کے حوالے سے ایشو تھا یہاں تو ججز ریٹائر بھی ہوچکے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 5 لوگوں نے ایک ساتھ حلف اٹھایا تو عمر کے حساب سے سینیارٹی طے ہوگی،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو اکیڈمک ایکسرسائز کرنے کا کہہ رہے ہیں۔دوران سماعت وکیل حامد خان نے موقف اپنایا کہ تھا کہ ججز کا نوٹیفکیشن ساتھ ہونے کے بعد اگر حلف ایک دن تاخیر سے بھی لیں تو سینیارٹی برابر ہی ہوگی،جسٹس فرخ عرفان نے امریکا میں ہونے کی وجہ سے چیف جسٹس کو آگاہ کر کے حلف ایک دن بعد اٹھایا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج جب تک حلف نہیں اٹھاتا تب تک وہ جج نہیں ہوسکتا ،جسٹس جمال مندوخیل نے حامد خان سے استفسار کیا کہ انہوں نے نظرثانی کی درخواست دی ہے، فیصلے میں غلطی کیا ہے وہ بتائیں، اگر کوئی شخص نوٹیفکیشن کے ایک ماہ تک حلف نہیں لیتا اور بعد میں وہ انکار کر دے تو کیا ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بہتر ہے اس معاملے کو اوپن رکھیں کسی اور کیس میں طے کر لیں گے۔عدالت نے نظر ثانی درخواست غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹاتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مستقبل میں کسی اور مقدمے میں سینیارٹی کے اصول کا معاملہ طے کریں گے۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے درخواست پر سماعت کی،مولوی اقبال حیدر نے کہا کہ میری جانب سے درخواست بروقت دائر کی گئی تھی، اب نظر ثانی کیس زیر التواء ہے، چاہتا ہوں کہ کسی مقدمے میں اس معاملے کو دیکھا جائے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ ہم سے غیر آئینی کام کیوں کروانا چاہتے ہیں، امیدواران کی مرضی ہے سیاسی جماعت میں شامل ہوں یا نہ ہوں،سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ مولوی اقبال صاحب آپ پھر اسی طرف جا رہے ہیں جس وجہ سے پابندی لگی تھی،عدالت نے درخواست پر رجسڑار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔

    اعلیٰ عدالتی فورمز پر ٹرائل مکمل کرنے کے لیے ٹائم فریم طے کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ فوجداری قانون سمیت کئی قوانین میں ٹائم لائن موجود ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ٹائم لائن کے لیے پارلیمنٹ سے جاکر قانون سازی کروا لیں،درخواست گزار حسن رضا نے کہا کہ ٹرائل مکمل ہوتے ہوتے 20 سے 40 سال لگ جاتے ہیں،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ایسی عمومی باتیں نہ کریں اور الزام نہ لگائیں، سسٹم پرفیکٹ نہیں ہے لیکن پیش رفت ہو رہی ہے، آپ کی درخواست نیشنل جوڈیشل پالیسی سے متعلق ہے، آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت درخواست پر کسی کو ہدایت نہیں جاری کریں گے، جہاں اصلاحات ہو رہی ہیں وہاں جاکر شمولیت اختیار کریں، یہ ہمارا کام نہیں ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہم آئین اور قانون کے تابع ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ اگر ہماری طرف سے بھی سخت ردعمل آیا تو مایوسی پھیلے گی،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ عدالتی ریفارمز کے لیے لاء اینڈ جسٹس کمیشن موجود ہے، وہاں رجوع کریں۔ عدالت نے دلائل کے بعد درخواست خارج کر دی۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • وزیرداخلہ کی اسلام آباد اور ریاض کو جڑواں شہر قرار دینے کی تجویز

    وزیرداخلہ کی اسلام آباد اور ریاض کو جڑواں شہر قرار دینے کی تجویز

    سعودی عرب میں چارسوانیس پاکستانی قیدیوں کی وطن واپسی کےلئے قانونی کارروائی جلد مکمل کی جائے گی۔

    وزیرداخلہ محسن نقوی سے سعودی عرب کے نائب وزیر داخلہ ڈاکٹر ناصر بن عبدالعزیز الداؤد سے ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کا قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عملدرآمد پراتفاق ہوگیا۔وزیرداخلہ نے اسلام آباد اور ریاض کو جڑواں شہر قرار دینے کی تجویز بھی دے دی۔ملاقات میں دوطرفہ تعلقات،باہمی دلچسپی کے امور،پیرا ملٹری فورسز اور پولیس کے باہمی تبادلوں اور مشترکہ ٹریننگ کے امور پرتبادلہ کیا گیا۔پاکستان سے بھکاریوں کو سعودی عرب بھجوانے والے مافیا کی سرکوبی پر بھی بات کی گئی۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ تینتالیس سو بھکاریوں کے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے ہیں۔سعودی عرب جانے والے بھکاریوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی ہے۔ایسے بھکاری مافیا کے خلاف ملک بھر میں موثر کریک ڈائون کیا جا رہا ہے۔سعودی شہریوں کے لئے پاکستان آنے پر کوئی ویزا نہیں۔جب چاہیں آئیں۔سعودی عرب ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔ دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لئے ہر ممکن تعاون کریں گے۔سعودی نائب وزیرداخلہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔پیرا ملٹری فورسز اور پولیس کے باہمی تبادلوں اور مشترکہ ٹریننگ کے لیے تیار ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی نائب وزیر داخلہ کی ملاقات

    ویڈیو:امریکی اداکارہ جینیفر لوپیز کی سعودی عرب میں بولڈ پرفارمنس،جلوے

    سعودی عرب بھیک مانگنے جانے والا 9 رکنی گروہ گرفتار

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ملاقات

    سعودی عرب اور قطر دورہ انتہائی مفید رہا،وزیراعظم

    وزیراعظم سے سعودی وزیر سرمایہ کاری،شاہی دیوان کے مشیر کی ملاقات

    پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت کے درمیان دو طرفہ اقتصادی تعاون میں اضافے پر اتفاق

    سعودی عرب، عمران خان کی تصویر لہرانے پر شیرافضل مروت کا اسٹاف آفیسر گرفتار

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ ،بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ

    حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ ،بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ

    موجودہ حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے معاشی اور تجارتی ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

    وزارتِ تجارت کے ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارت معطل ہونے کے باوجود، بھارت سے درآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اکتوبر 2024 میں بھارت سے درآمدات کا حجم 3 کروڑ 58 لاکھ ڈالرز تک پہنچ گیا، جو کہ اکتوبر 2023 کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہے۔ پچھلے سال اکتوبر میں یہ حجم 2 کروڑ 45 لاکھ ڈالرز تھا۔اس سے قبل ستمبر 2024 میں بھارت سے درآمدات میں 45 فیصد اور اگست میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کسی نہ کسی شکل میں برقرار ہیں، چاہے سیاسی سطح پر اختلافات کیوں نہ ہوں۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر دیے تھے۔ اس کے باوجود، دونوں ممالک نے زندگی بچانے والی ادویات کی تجارت کی اجازت دی، اور وقت کے ساتھ ان پابندیوں میں نرمی ہوتی دکھائی دی۔

    یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی اور علاقائی دباؤ کے تحت حکومتوں کو بعض اوقات سخت فیصلے نرم کرنے پڑتے ہیں۔ بھارت سے درآمدات میں اضافہ اس بات کا مظہر ہے کہ معیشت اور عوامی ضروریات سیاسی کشیدگی پر فوقیت حاصل کر سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق، اگرچہ تجارت محدود پیمانے پر ہو رہی ہے، لیکن اس کا معاشی اثر دونوں ممالک کے تعلقات میں پیچیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا آنے والے مہینوں میں یہ رجحان برقرار رہتا ہے یا سیاسی حالات میں کوئی بڑی تبدیلی آتی ہے۔

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • میڈیا اگر سنسنی نہیں پھیلائے گا تو ان کا کاروبار کیسے ہوگا، جسٹس میاں گل حسن اونگزیب

    میڈیا اگر سنسنی نہیں پھیلائے گا تو ان کا کاروبار کیسے ہوگا، جسٹس میاں گل حسن اونگزیب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی،گزشتہ سماعت پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر عمیر مجید ملک پیش نہ ہو سکے تھے ، وکیل سلمان صفدر اور پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے، عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی عدالت پہنچ گئیں،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ توشہ خانہ ٹو ضمانت کیس،عدالت جو بھی فیصلہ کرے لیکن میڈیا میں پہلے سے ہے کہ ضمانت منظور ہو جائے گی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو چھوڑ دیں، اُن سے خود کو مستثنیٰ کر لیں،میڈیا میں کہا جاتا ہے کہ جان کر بیمار ہو گیا، جان کر نہیں آیا، میڈیا اگر سنسنی نہیں پھیلائے گا تو ان کا کاروبار کیسے ہوگا، جسٹس میاں گل حسن اونگزیب نے صحافیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب میں ان کا کیا کروں انکو کمرہ عدالت سے نکال دوں آپ چاہتے کیا ہیں،پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ہمیں بہت کالیں آئی ہیں کہ یہ کیا چل رہا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ میڈیا سے دور رہیں مجھے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جان بوجھ کر بیمار ہوئے،

    اسلام آباد کی تمام پراسیکوشن ایجنسیز نے توشہ خانہ کیس پر ہاتھ سیدھا کیا ،وکیل عمران خان
    عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی تمام پراسیکوشن ایجنسیز نے اس توشہ خانہ کیس پر ہاتھ سیدھا کیا ہے نیب ، ایف آئی اے ، پولیس ، الیکشن کمیشن نے بھی توشہ خانہ کیس کیا ہے پولیس نے بھی توشہ خانہ جعلی رسید کا کیس بنایا ہوا ہے ،اب ایف آئی اے یہ کیس چلا رہی ہے، میری خواہش ہے کہ عدالت کو کسی فیصلے میں Political Victimization سے متعلق آبزرویشنز دینی چاہئیں، الزام ہے بانی پی ٹی آئی نے ذاتی مفاد کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا ، اس چالان میں یہ واضح نہیں مرکزی ملزم کون ہے؟ دو ملزمان ہیں اس میں دفعہ 109 میں کس کا کردار ہے کوئی واضح نہیں ، توشہ خانہ نیب کیس میں بانی پی ٹی آئی کو 14 سال سزا ہوئی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اسلام آباد پولیس نے کیا مقدمہ بنایا ہے؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ تھانہ کوہسار پولیس نے جعلی رسیدوں کا مقدمہ بنایا ہے، توشہ خانہ پالیسی کے مطابق تحائف لئے گئے ہیں، اس وقت ان تحائف کی جو مالیت تھی پالیسی کے مطابق ادا کرکے لیا ہے،اس مقدمے کا اندراج ساڑھے تین برس سے زائد تاخیر سے کیا گیا، کوئی جرم نہیں ہوا،جس کیس میں جرم واضح نہ ہو تو کیس مزید انکوائری اور ضمانت کا ہے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہو گئے، سلمان صفدر نے کہا کہ میں کچھ چیزوں کو تحریری جمع کروادونگا ، دوران سماعت سلمان صفدر نے اپنے دلائل میں کہا کہ صہیب عباسی کہتا ہے مجھے بانی پی ٹی آئی نے تھریٹ کیا ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی تو ملاقات ہی صہیب عباسی سے کبھی نہیں ہوئی ،انعام اللہ جس کو گواہ ایف آئی اے نے بنایا ہے اس سے متعلق صہیب عباسی کہہ رہا ہے اس کی ملاقات ہوئی ،کسٹم کے تینوں افسران نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم پر پریشر نہیں تھا،اگر پریشر نہیں تھا تو انہوں نے پھر صحیح قیمت کیوں نہیں لگائی ،صہیب عباسی ایک شخص آتا ہے وہ اپنا بیان بھی قسطوں میں دیتا ہے ،گراف جیولری لسٹ پر الگ اب بلغاری سیٹ پر الگ بیان دیا ہے ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے پی ٹی آئی حکومت کی توشہ تفصیلات خفیہ رکھنے کی پالیسی پراہم ریمارکس سامنے آئے ہیں،دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومت توشہ خانہ کی تفصیلات نہیں بتاتی تھی، ہم پوچھتے تھے تو توشہ خانہ کی تفصیلات چھپائی جاتی تھیں، ہائیکورٹ میں گزشتہ حکومت آرہی تھی کہ توشہ خانہ کا کسی کو پتہ نہیں ہونا چاہیے

    ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکوٹر عمیر مجید ملک نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا، ایف آئی اے پراسکییوٹر نے کیس سے متعلق دستاویزات عدالت میں پڑھے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے گواہوں کے بیانات پڑھے ہیں ؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ 18 ستمبر کو گواھوں کو نوٹس کیا تھا ، گواہ آئے تھے انہوں نے (پہلے سے نیب کو دئیے)بیانات کی تصدیق کی ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے خود گواھوں کے بیانات پڑھے ہیں ؟ ایف آئی اے تفتیشی افسر نے کہا کہ جی 19 ستمبر کو میں نے پڑھے تھے ،بلغاری سیٹ توشہ خانہ میں جمع ہی نہیں کرایا گیا، ریاست کے تحفے کی کم قیمت لگوا کر ریاست کو نقصان پہنچایا گیا، عمران خان اور اُنکی بیوی دونوں نے فائدہ اٹھایا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو کیسے فائدہ ہوا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ جب بیوی کو فائدہ ملا تو شوہر کا بھی فائدہ ہوا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ او پلیز، میری بیوی کی چیزیں میری نہیں ہیں،ہم پتہ نہیں کس دنیا میں ہیں ،

    توشہ خانہ ٹو کیس بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت میں وقفہ کر دیا گیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ڈویژن بنچ کی سماعت کے بعد کیس رکھ لیتے ہیں ،

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

  • بچوں کے حقوق، فلاح و بہبود، اور ترقی کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہوں،وزیراعظم

    بچوں کے حقوق، فلاح و بہبود، اور ترقی کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہوں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نےعالمی یومِ اطفال کے موقع پر پیغام میں کہا ہے کہ آج، عالمی یومِ اطفال کے موقع پر، میں پاکستان کے بچوں کے حقوق، فلاح و بہبود، اور ترقی کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔ یہ بچے ہمارے مستقبل کے معمار ہیں اور ہماری قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ دن ہمیں اس اجتماعی ذمہ داری کی یاد دلاتا ہے کہ ہم بلا تفریق ہر بچے کے حقوق کے تحفظ اور تکمیل کو یقینی بنائیں۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر بچے کو معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات، اور ایک محفوظ اور پرورش کرنے والا ماحول فراہم کریں، تاکہ وہ اپنی مکمل صلاحیتوں کو حاصل کر سکیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔پاکستان کی حکومت نے بچوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں، جیسے دانش اسکولز کا قیام، جو دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں کم وسیلہ بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ ان اسکولز نے بے شمار بچوں کی زندگیاں بدل دی ہیں اور انہیں ایک روشن مستقبل کی راہ دکھائی ہے۔ ہم نے تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت وسائل کو متحرک کرکے خواندگی کی شرح میں اضافہ، اسکولوں کی تعمیر نو، اور بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کمیونٹی آؤٹ ریچ اور خاندانوں کو بچوں کو اسکول بھیجنے کی ترغیب دینے کے لئے خصوصی مہمات کے ذریعے اسکول نہ جانے والے لاکھوں بچوں کے داخلے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ غذائی قلت کو دور کرنے اور تعلیمی نتائج کو بہتر بنانے کے لئے، حکومت نے سرکاری اسکولوں میں غذائیت کا پروگرام متعارف کیا ہے تاکہ بچوں کو صحت مند کھانا ملے جو ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما میں معاون ہوں۔یہ تمام تر اقدامات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہم اپنے نوجوان نسل کی نشوونما اور خوشحالی کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔میں والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی، اور پالیسی سازوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہر بچے کی اہمیت ہو اور وہ خود کو محفوظ اور قیمتی محسوس کرے۔ عالمی یومِ اطفال کے موقع پر، آئیں ہم عہد کریں کہ اپنے بچوں کو قومی ترجیحات میں اولیت دیں گے، اور ایک ایسا مستقبل یقینی بنائیں گے جہاں وہ عزت، برابری، اور امید کے ساتھ پروان چڑھ سکیں۔

  • 24 نومبر احتجاج، پی ٹی آئی نے جڑوں شہروں کیلئے کمیٹی بنا دی

    24 نومبر احتجاج، پی ٹی آئی نے جڑوں شہروں کیلئے کمیٹی بنا دی

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جڑواں شہروں کے لیے کوآرڈینیشن کمیٹی قائم کردی گئی

    اسلام آباد اور راولپنڈی کے لیے 12 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے،اسلام آباد سے عامر مغل، شیر افضل مروت ، شعیب شاہین ، سید علی بخاری ، قاضی تنویر اور ملک عامر کمیٹی میں شامل ہیں،راولپنڈی کی کوارڈینیشن کمیٹی میں سیمابیہ طاہر ، شہریار ریاض ، امیر افضل ، عقیل خان ، راجہ بشارت اور چوہدری اجمل صابر شامل ہیں،ایڈیشنل سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف فردوس شمیم نقوی کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے،کمیٹی 24 نومبر کے احتجاج کے لئے قائم کی گئی ہے جو جڑواں شہروں میں احتجاج کے معاملات کو دیکھے گی

    دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کا احتجاج روکنے کیلئے تیاریاں شروع کردیں،پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور چھٹی پرگئے اہلکار واپس بلا لیے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد انتظامیہ نے 8 ہزار پولیس اہلکار پنجاب، کشمیر اور سندھ سے مانگ لیے، پولیس کو آنسو گیس شیل، ربڑ کی گولیاں اور اینٹی رائٹ کٹس مہیا کر دی گئیں۔

    دوسرے صوبوں کے پولیس اہلکار 21 نومبر کی رات اسلام آباد رپورٹ کریں گے، وفاقی دارالحکومت میں رینجرز اور ایف سی اہلکار پہلے ہی تعینات ہیں، اسلام آباد کے گردونواح میں کنٹینرز پہنچانے کا کام شروع ہوگیا ہے-

    24 نومبراحتجاج: جو باہر نہ نکلا وہ پارٹی سے باہر ہو جائےگا،عمران خان

    24 نومبر کی احتجاجی کال، وزارت داخلہ کا سخت ترین اقدامات کا فیصلہ

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

  • زائرین کو سہولیات  ،وفاقی وزیر کی عراقی حکومت کے ساتھ ایم او یو  کی ہدایت

    زائرین کو سہولیات ،وفاقی وزیر کی عراقی حکومت کے ساتھ ایم او یو کی ہدایت

    وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آنگی چوہدری سالک حسین سے عراق میں پاکستانی سفیر محمد ذیشان احمد نے ملاقات کی،

    ملاقات میں عراق جانے والے زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے مختلف اقدامات کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا،وفاقی وزیر مذہبی امور چوہدری سالک حسین نے کہا کہ زائرین مینجمنٹ پالیسی وفاقی کابینہ نے اپریل 2021 میں منظور کی گئی، پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستانی زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے، وزارت مذہبی امور اور عراق کی وزارت مذہبی امور کے مابین ایم او یو کا ڈرافٹ وزارت خارجہ کو بھجوایا گیا ہے، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی زائرین کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے جلد از جلد عراقی حکومت کے ساتھ ایم او یو کرنے کی ہدایت، ایم او یو کے تحت پاکستانی زائرین کو عراق میں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جاسکیں گی،

    چوہدری سالک حسین نے کربلا میں پاکستان ہائوس اور وزارت مذہبی امور کے ڈائریکٹوریٹ کا قیام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے پر عزم ہے، محرم، سفر اور اربعین کے موقع پر ذائرین کو ذیادہ سے ذیادہ سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں، پاکستانی سفیر کی عراق میں پاکستانی ویلفیئر اتاشیوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز دی۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

  • 24 نومبر کی احتجاجی کال، وزارت داخلہ کا سخت ترین اقدامات کا فیصلہ

    24 نومبر کی احتجاجی کال، وزارت داخلہ کا سخت ترین اقدامات کا فیصلہ

    24 نومبر کی احتجاجی کال، وزارت داخلہ نےسخت ترین اقدامات کا فیصلہ کر لیا ہے

    وفاقی دارالحکومت میں ڈپٹی کمشنر نے احتجاج کے پیش نظر 2 ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے متعلقہ سکیورٹی اداروں کو مکمل تیاری کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، شر پسندی میں ملوث افراد کیخلاف سخت ترین قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ وفاقی دارالحکومت میں تمام سرکاری اور اہم عمارتوں کی سکیورٹی کیلئے سخت ترین حفاظتی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے وزارت داخلہ نے جڑواں شہروں میں سکیورٹی کیلئے بھاری نفری تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے

    وفاقی دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں افغان مہاجرین کیمپوں کی جیو فنسنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے احتجاج کے دوران شر پسندی کرنے والے طالب علموں کی تعلیمی اسناد اور داخلے منسوخ کرنے کے فیصلے پر غورکیاگیا،احتجاج میں شامل شر پسند افراد کے پاسپورٹ ، شناختی کارڈ منسوخ اور سم بلاک کرنے کا بھی فیصلہ زیر غورآیا، دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے نمنٹے کیلئے مشکوک مقامات کی نگرانی شروع کر دی گئی ہے،

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

  • پی سی بی کوئی مقدس گائے نہیں،قائمہ کمیٹی نے محسن نقوی کو کیا طلب

    پی سی بی کوئی مقدس گائے نہیں،قائمہ کمیٹی نے محسن نقوی کو کیا طلب

    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ نے چیٸرمین پی سی بی کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا

    قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا چیئرمین ثناء اللہ دستی خیل کی زیر صدارت اجلاس ہوا،قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ نے چیٸرمین پی سی بی کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا,ثناء اللہ مستی خیل کا کہنا تھا کہ پی سی بی کوئی مقدس گائے نہیں، کیا پی سی بی عہدےداران کوئی آسمانی مخلوق ہے؟ محسن نقوی وزیرداخلہ ہونگے تو اپنی جگہ ہونگے،لیکن کمیٹی کےسامنےمحسن نقوی کو جواب دیناپڑےگا۔

    پی سی بی کی جانب سے جواب نہ ملنے پر قائمہ کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا اور محسن نقوی کو طلب کر لیا، اجلاس میں پاکستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے دستاویزات فراہم نہ کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا،تین دن میں متعلقہ دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، قائمہ کمیٹی نے پی سی بی کوکابینہ ڈویژن کے ماتحت کرنے کا فیصلہ مسترد کردیا۔

    قائمہ کمیٹی اجلاس میں ثناء اللّٰہ مستی خیل کا کہنا تھا کہ چیمپئنز ٹرافی کھیلنے کے لیے پاکستان آتے ہوئے بھارت کی ہندوتوا سوچ آڑے آ گئی،بھارت کے رویے کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان پُرامن ملک ہے، کھیلوں میں سیاست کو نہیں لانا چاہیے، حکومتوں کی پالیسی کو چھوڑ کر کھیلوں کو کھیلوں کی حد تک رہنا چاہیے، ضرورت پڑی تو فٹبال فیڈریشن کے انتخابات کی مانیٹرنگ کے لیے کمیٹی تشکیل دیں گے،نگراں حکومت نے کیسے فیصلہ کرلیا کہ پی سی بی کو قائمہ کمیٹی سے نکالا جائے، نگراں سسٹم پالیسی کو تبدیل نہیں کرسکتا۔

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا