Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • غیر ملکی مہمانوں کی آمد،سخت سیکیورٹی انتظامات

    غیر ملکی مہمانوں کی آمد،سخت سیکیورٹی انتظامات

    اسلام آباد: ابوظہبی کے ولی عہد کی آمد کی وجہ سے دن بارہ بجے سے دن دو بجے تک مختلف اوقات میں روٹ لگے گا۔

    باغی ٹی وی : ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے، کورال چوک، ایکسپریس ہائی وے، کھنہ پل اور فیض آباد میں سخت سیکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں،کلب روڈ، مری روڈ، فیصل ایونیو اور سری نگر ہائی وے پر بھی سیکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔

    ٹریفک پولیس کے مطابق ایکسپریس ہائی وے اور سری نگر ہائی وے پر ٹریفک کچھ دیرکے لئے معطل رہے گی،شہری ایکسپریس ہائی وے اور سری نگر ہائی وے سے منسلک سروس روڈ کا استعمال کریں، بلیو ایریا کی جانب سفر کے لیے نائتھ ایونیو اور ایچ ایٹ انڈر پاس کا استعمال کیا جائے۔

    امام مسجد سے اسلحہ کے زور پر واردات ،نوٹس کی اپیل

    ریڈ زون جانے والی ٹریفک مارگلہ روڈ، ایکسپریس چوک، ایوب چوک اور نادرا چوک کا استعمال کرے، شہری ریڈ زون سے فیض آباد جانے کے لیے کنونشن سینٹر اورکلب روڈ کا استعمال کریں، شہریوں کی رہنمائی کیلئے اسلام آباد ٹریفک پولیس مختلف مقامات پر موجود رہے گی۔

    شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کے بڑے صاحبزادے ہیں،دوہ پاکستان کے دوران شہزادہ شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان کو نشان پاکستان سے نوازا جائے گا جس کے لیے اسلام آباد میں خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی۔

    وفاقی کابینہ میں توسیع، آج 10 سے 12 وزرا کےحلف اٹھانے کا امکان

    ایک روزہ دورے میں شہزادہ شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی متوقع ہے، ملاقات میں پاکستان میں سرمایہ کاری، معاشی و تجارتی تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوگی، دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں 4 سے 5 معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط ہوں گے، اس کے علاوہ پرنس شیخ خالد بن محمد النیہان صدر مملکت آصف زرداری سے بھی ملاقات کریں گے۔

    واٹس ایپ پر وائس نوٹ کو تحریر میں تبدیل کرنے کا طریقہ جانیے

  • وفاقی کابینہ میں 4 نئے وزرا کو شامل کیے جانے کا امکان

    وفاقی کابینہ میں 4 نئے وزرا کو شامل کیے جانے کا امکان

    اسلام آباد: وفاقی کابینہ میں توسیع کا فیصلہ ،4 نئے وزرا کو شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے حنیف عباسی اور طارق فضل چوہدری، بلوچستان عوامی پارٹی کے خالد مگسی اور متحدہ قومی موومنٹ کے مصطفیٰ کمال کو وفاقی کابینہ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےنئے وزرا کی تقریب حلف برداری 27 فروری کو ہونے کا امکان ہے۔

    ذرائع نے بتایاکہ حنیف عباسی کو وزارت ریلوے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو وزارت قومی صحت کا قلمدان دینے کا امکان ہے، خالد مگسی کو وزارت مواصلات اور مصطفیٰ کمال کو سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت دی جاسکتی ہے سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت اِس وقت خالد مقبول صدیقی کے پاس ہے جبکہ ان کے پاس وزارت وفاقی تعلیم کا بھی قلمدان ہے،وزارت وفاقی تعلیم خالد مقبول صدیقی کے پاس ہی رہے گی۔

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کی منصورہ میں حافظ نعیم سے ملاقات

    پی آئی اے کی نجکاری کیلئے پچھلی بار لگائی گئی بولی قابل قبول نہیں تھی

    وزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ دورے پر ازبکستان پہنچ گئے

  • اسلام آباد میں مقیم غیرقانونی افغانیوں کو نکالنے فیصلہ

    اسلام آباد میں مقیم غیرقانونی افغانیوں کو نکالنے فیصلہ

    وفاقی حکومت نے دارالحکومت میں مقیم غیرقانونی افغان شہریوں سمیت دیگر غیرملکیوں کو ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی کو موصول رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں مقیم افغانوں سمیت تمام غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو نکالنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔اب تک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 781 افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کیا جاچکا ہے، ان افغانوں کو طورخم بارڈر کے ذریعے ڈی پورٹ کیا گیا۔حکام کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ وہ افغان جن کو یورپی ممالک اسپانسر کر رہے ہیں انہیں نہیں نکالا جائے گا اور یورپی ممالک کو پاکستان میں مقیم افغانوں کا ویزا پراسیس تیز کرنے کا کہہ دیا گیا ہے۔

    زمیندار کے بیٹے نے محنت کش کی بیٹی کی عزت لوٹ لی

    شرجیل میمن اور خالد مقبول کا پرنس کریم آغا خان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار

    سی آئی اے سب انسپکٹر پر فائرنگ میں پولیس ٹیم ہی ملوث نکلی

    سونا مہنگا، فی تولہ قیمت 3 لاکھ روپے کے قریب پہنچ گئی

    گھوٹکی: آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا دورہ، امن و امان کے سخت احکامات

  • فوج روزانہ قربانیاں دے رہی ، قوم فوج کے ساتھ کھڑی رہے،عمران خان کا خط

    فوج روزانہ قربانیاں دے رہی ، قوم فوج کے ساتھ کھڑی رہے،عمران خان کا خط

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِاعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ایک اہم خط بھیجا ہے، خط کے بارے میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے تفصیل بتائی ہے

    فیصل چوہدری نے بتایا کہ خط میں عمران خان نے کئی اہم مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔ خط کے پہلے نکتے میں فراڈ الیکشن اور منی لانڈرز کو جتوانے کا ذکر کیا گیا ہے، جسے عمران خان نے ملک کے جمہوری نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔دوسرا نکتہ 26 ویں آئینی ترمیم، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کے اثرات سے متعلق ہے، جہاں بانی پی ٹی آئی نے یہ کہا کہ عدلیہ پر دباؤ اور قانونی اصولوں کی پامالی سے ملک کا آئینی ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے۔ عمران خان نے اس حوالے سے القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کا بھی تذکرہ کیا۔تیسرا نکتہ پی ٹی آئی کے خلاف دہشتگردی کے الزامات، چھاپوں اور گولیوں کے استعمال سے متعلق ہے، جس پر عمران خان نے تشویش کا اظہار کیا اور ان اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دیا۔

    فیصل چوہدری نے عمران خان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فوج سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے خط میں کہا کہ فوج روزانہ قربانیاں دے رہی ہے، پوری قوم فوج کے ساتھ کھڑی رہے، سوشل میڈیا پرکریک ڈاؤن کرنے کے لیے پیکا قانون لایا گیا، پیکا قانون کو کرمنلائز کیا گیا، تنقید کا گلا گھونٹا گیا، صحافیوں کو دھمکیاں دینے سے سارا نزلہ فوج پر گررہا ہے، ملکی معیشت گھٹنوں پر ہے، حکومت نے روپے کی قدر روک کر معیشت کو متاثر کیا ہے، عمران خان نے خط میں سرمایہ کاری سب سے کم ہونے، انٹرنیٹ بند، جوڈیشل کمیشن بنانے اور پالیسیاں تبدیل کرنے کی درخواست بھی کی۔

    توشہ خانہ ٹو کیس،استغاثہ کے مزید دو گواہوں پر جرح مکمل

    ججزتبادلےاچھا قدم،وقت لگے گا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔چیف جسٹس

    مریم کی محنت سے پنجاب میں بہتری نظر آ رہی ،نواز شریف

  • توشہ خانہ ٹو کیس،استغاثہ کے مزید دو گواہوں پر جرح مکمل

    توشہ خانہ ٹو کیس،استغاثہ کے مزید دو گواہوں پر جرح مکمل

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت ہوئی۔

    کیس کی سماعت سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی۔ سماعت کے دوران دونوں ملزمان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔عمران خان کے وکیل قوسین مفتی نے استغاثہ کے دو گواہوں، محمد فہیم اور عمر صدیق، پر جرح مکمل کی۔ ان گواہوں کے بیانات پر وکیل صفائی نے سوالات کیے اور ان کی باتوں کو چیلنج کیا۔توشہ خانہ ٹو کیس میں اب تک مجموعی طور پر 8 گواہان کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔ ملزمان کے وکلاء نے مجموعی طور پر 7 گواہان پر جرح مکمل کی ہے۔ آئندہ سماعت پر عمران خان کے وکیل 8 ویں گواہ پر جرح کریں گے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 10 فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے، جب کہ کیس کی مزید پیش رفت اور گواہان کے بیانات پر سماعت کا عمل جاری رہے گا۔اس کیس کا فیصلہ آنے سے قبل سیاسی حلقوں میں کافی بحث جاری ہے اور یہ کیس ملک کی سیاست پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

    مہنگائی میں مزید کمی آئے گی، وزیراعظم

    سرائیکی صوبہ کیوں ضروری ہے؟

  • سپریم کورٹ،سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ پر جرمانے کا حکم واپس

    سپریم کورٹ،سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ پر جرمانے کا حکم واپس

    سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نےسابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس (ر)جواد ایس خواجہ پر عائد 20ہزار روپے جرمانے کا حکمنامہ واپس لے لیا، سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کی نظرثانی درخواست واپس لینے پر جرمانہ ختم کیا گیا۔

    سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل فیصلے کیخلاف اپیلوں پر ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی بنچ سماعت کررہا ہے،وکیل خواجہ احمد حسین نے کہاکہ عدالت کے سامنے ایک مسئلہ بنیادی حقوق اوردوسراقومی سلامتی ہے،عدالت نے دونوں میں توازن پیدا کرنا ہو تو بنیادی حقوق کاتحفظ کیا جاتا ہے،عدالتی فیصلہ برقرا رہا تو کسی ملزم یا دہشتگرد کو فائدہ نہیں پہنچے گا، انسداددہشتگردی کاقانون موجود ہے جس میں گواہان کے تحفظ سمیت تمام شقیں ہیں،عدالت کسی بھی صورت شہریوں کو شفاف ٹرائل سے متصادم نظام کے سپرد نہیں کر سکتی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ سندھ میں گواہان کے تحفظ کا اہلگ سے قانون بھی موجود ہے۔ آئینی بنچ نے جسٹس (ر)جواد ایس خواجہ پر عائد 20ہزار روپے جرمانے کا حکمنامہ واپس لے لیا، سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کی نظرثانی درخواست واپس لینے پر جرمانہ ختم کیا گیا۔

    دوران سماعت وکیل خواجہ احمد حسین نے کہاکہ فرخ بخت علی پر ملک مخالف جنگ کرنے اور فوج کو بغاوت پر اکسانے کا الزام تھا،فرخ بخت علی کا کورٹ مارشل میجر جنرل ضیا الحق نے 1974میں کیا، فرخ بخت علی نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی،کورٹ مارشل کرنے والے ضیا الحق ترقی پا کر آرمی چیف بن گئے،ضیا الحق کے آرمی چیف بننے کے بعد جو ہوا وہ اس ملک کی تاریخ ہے، جسٹس حسن اظہر نے کہاکہ اس دور میں تو کمانڈنٹ ان چیف اور ایئرچیف کو بھی اغوا کرلیاگیا تھا،اغوا کار نے اپنے کتاب میں وجوہات بھی تحریر کی ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے جسٹس حسن اظہر رضوی سے سوال کیا کہ ویسے وجوہات کیا تھیں؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے جواب کیا کہ اس کیلئے آپ کو کتاب پڑھنا پڑے گی،جسٹس حسن اظہر رضوی کے جواب پر عدالت میں قہقہے لگ گئے،سپریم کورٹ میں سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔

  • صدر مملکت کا چین کا سرکاری دورہ طے

    صدر مملکت کا چین کا سرکاری دورہ طے

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری 4 سے 8 فروری تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے، جس کی دعوت چین کے صدر نے دی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس دورے کے دوران صدر زرداری چین کی اعلیٰ قیادت بشمول چینی صدر، وزیر اعظم اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ان ملاقاتوں میں پاک چین تعلقات، تجارتی اور اقتصادی امور پر تفصیل سے بات چیت کی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی، سیکیورٹی تعاون اور سی پیک جیسے اہم منصوبوں پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور چینی قیادت اس بات پر زور دیں گے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے اور مشترکہ دلچسپی کے مختلف معاملات پر تعاون کو بڑھایا جائے۔

    صدر مملکت اس دورے کے دوران نویں ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے، جو چین کے شہر ہانگژو میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ملاقاتوں میں علاقائی اور جغرافیائی امور پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا جائے گا، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ اور کثیر الجہتی تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

    یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا، جس سے نہ صرف اقتصادی تعلقات کو تقویت ملے گی بلکہ سیکیورٹی اور ترقیاتی منصوبوں میں بھی نئی جہتیں ملیں گی۔

    امریکی صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کی خواہش

    کیپٹن ر صفدر نے لندن جانے پر پابندی لگنے کا انکشاف کر دیا

  • ملک ریاض کو دھمکی،مقدمہ درج

    ملک ریاض کو دھمکی،مقدمہ درج

    اسلام آباد: بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض کو دھمکی دینے کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج کر لیا گیا ہے۔

    یہ مقدمہ بحریہ ٹاؤن کے ملازم اور وائس چیف ایگزیکٹو کرنل ریٹائرڈ خلیل الرحمان کی مدعیت میں درج کیا گیا۔مقدمے کے مطابق، ملک ریاض کو ایک ای میل کے ذریعے دھمکی دی گئی، جس میں ایک ارب 42 کروڑ روپے کا بھتہ 50 بِٹ کوائن کی شکل میں مانگا گیا۔ ای میل میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر یہ رقم ادا نہ کی گئی تو ملک ریاض، ان کے بیٹے اور خاندان کے دیگر افراد کی زندگیوں کو نقصان پہنچایا جائے گا۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ ابھی تک اس دھمکی دینے والے افراد کا پتہ نہیں چل سکا، تاہم حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    ملک ریاض کی جانب سے اس دھمکی کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور اس حوالے سے قانونی کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ ملوث افراد کو گرفتار کیا جا سکے، ملک ریاض اس وقت دبئی میں ہیں اور پاکستانی حکومت ان کی پاکستان واپسی کے لئے کوشاں ہے.

    القادر ٹرسٹ کیس، ملک ریاض، علی ریاض، شہزاد اکبر اور فرح گوگی کے پاسپورٹ بلاک

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    پاکستان کے معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کی خورد برد کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) سے باضابطہ طور پر رابطہ کر لیا ہے، جس کے بعد انٹرپول کے ذریعے انہیں پاکستان لانے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔نیب ذرائع کے مطابق، ملک ریاض پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر 190 ملین پاؤنڈ کی رقم حاصل کی اور اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ یہ رقم مختلف کاروباری اور پراپرٹی معاہدوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے طور پر چھپائی گئی تھی۔ایف آئی اے نے اس کیس کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ملک ریاض کے خلاف موجود تمام شواہد کو انٹرپول کے حوالے کیا ہے تاکہ وہ انہیں عالمی سطح پر مطلوب قرار دلوائیں اور پاکستان واپس لایا جا سکے۔

    ملک ریاض کا نام اس وقت مختلف قانونی تنازعات میں گھرا ہوا ہے اور اس پیشرفت کو اہمیت دی جارہی ہے۔ نیب کی جانب سے ان کی حوالگی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا مقصد انہیں پاکستانی عدالتوں میں پیش کرکے کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کرانا ہے۔

    ملک ریاض، جو پاکستان کے امیر ترین اور بااثر کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، پر القادر ٹرسٹ کیس میں مبینہ بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی شریک ملزم ہیں اور ان دونوں کو اس کیس میں سزا ہو چکی ہے، نیب (قومی احتساب بیورو) کے ترجمان نے عرب نیوز کو بتایا کہ نیب نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو خط لکھا ہے، اور نیب کی منظوری کے بعد ایف آئی اے اس کیس کو بین الاقوامی سطح پر، بشمول انٹرپول کے ذریعے آگے بڑھائے گی۔

    ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ نیب ملک ریاض کی حوالگی کا مطالبہ القادر ٹرسٹ کیس کے سلسلے میں کر رہا ہے، جس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ شریک ملزم ہیں۔ اس سے پہلے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی یہ تصدیق کی تھی کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ مجرموں کی حوالگی کے معاہدے کے تحت ملک ریاض کو واپس لانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

    رواں ماہ کے آغاز میں نیب نے عوام کو خبردار کیا تھا کہ وہ دبئی میں ملک ریاض کے نئے لگژری اپارٹمنٹ منصوبے میں سرمایہ کاری نہ کریں، کیونکہ یہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ نیب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر عوام اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو وہ مجرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    ملک ریاض نے نیب کے اس اقدام پر ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’جعلی مقدمات، بلیک میلنگ اور افسران کی لالچ نے مجھے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا کیونکہ میں سیاسی مہرہ بننے کے لیے تیار نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرا فیصلہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ چاہے جتنا بھی دباؤ ڈالا جائے، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا! پاکستان میں کاروبار کرنا آسان نہیں، ہر قدم پر رکاوٹوں کے باوجود، 40 سال کی محنت اور اللہ کے فضل سے پہلا عالمی معیار کا ہاؤسنگ پروجیکٹ پروان چڑھا۔‘‘

    القادر ٹرسٹ کیس کا پس منظر
    القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 سے 2022 کے دوران اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ملک ریاض سے رشوت کے طور پر زمین حاصل کی اور اس کے بدلے میں غیر قانونی فوائد حاصل کیے۔ اس مقدمے میں عمران خان کا موقف ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ صرف اس زمین کے ٹرسٹی تھے اور انہیں اس لین دین سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہوا۔

    ملک ریاض نے اس مقدمے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی سے انکار کیا ہے۔ اس کیس کے حوالے سے مزید اہم تفصیلات یہ ہیں کہ 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے اعلان کیا تھا کہ ملک ریاض نے 190 ملین پاؤنڈ حکومت پاکستان کو واپس کرنے پر اتفاق کیا تھا، جو برطانیہ میں منجمد کیے گئے تھے اور یہ رقم غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی تھی۔ پاکستان میں ملک ریاض اور عمران خان کے درمیان اس کیس کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کو پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ملک ریاض پر عائد غیر قانونی جرمانے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا۔ ان جرمانوں کا تعلق کراچی میں زمینوں کی خریداری سے تھا، جو کم قیمتوں پر حاصل کی گئی تھیں۔اس کیس میں ملک ریاض اور عمران خان دونوں ہی اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی نہیں ہوئی۔ تاہم، نیب اور دیگر اداروں کی تحقیقات جاری ہیں اور ملک ریاض کی حوالگی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کیس میں عمران، بشریٰ کو سزا ہو چکی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں ہیں، دونوں نےسزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل بھی دائر کر رکھی ہے

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • وزیراعظم  کی انسانی سمگلنگ کےمجرمان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی انسانی سمگلنگ کےمجرمان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسانی سمگلنگ کے سدباب کے لیے تشکیل کردہ ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس ہوا،

    اجلاس میں انسانی سمگلنگ کے سد باب کے لیے قانونی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی گئی، اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قانونی فریم ورک کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وزارت داخلہ وزارتِ قانون و انصاف سے تعاون کرے۔ فیڈرل پراسیکیوشن ایکٹ 2023 پر عمل درآمد تیز کیا جائے۔ انسانی سمگلنگ کا مکمل سد باب تمام اداروں کی مشترکہ کوشش اور تعاون سے ممکن ہے۔ انسانی سمگلروں کی گرفتاری اور استغاثہ کے لیے درکار افرادی قوت کا حصول تیز کیا جائے۔

    اجلاس میں دوران بریفنگ بتایا گیا کہ مراکش سے تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے واقعے میں 27 انسانی سمگلروں کی شناخت کی جا چکی ہے اور 5 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایف آئی اے کو بیرون ملک انسانی سمگلروں کی جلد از جلد حوالگی کے لیے دفتر خارجہ کو انسانی سمگلروں کے خلاف تحقیقات میں جمع کردہ معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی،وزیراعظم نے انسانی سمگلنگ کے قصوروار اشتہاری مجرمان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت کی،

    اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے

    عمران ،بشریٰ کی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل

    وزیراعظم کی ریلویز کے پرانے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت