Baaghi TV

Tag: اسلام

  • اسلام میں مزدور کے حقوق اور حیثیت، تحریر:حیدرعلی صدیقی

    اسلام میں مزدور کے حقوق اور حیثیت، تحریر:حیدرعلی صدیقی

    @HWriter27672

    زندگی مختلف شعبوں کا مجموعہ ہے، اور یہ شعبے ایک دوسرے سے باہم یوں جڑے ہوئے ہیں کہ ہر شعبہ جتنا بھی ترقی کا سفر طے کرے لیکن کسی نہ کسی موڑ پر وہ دوسرے شعبہ کا محتاج ضرور رہتا ہے۔ ایسے ہی ایک شعبہ مزدور طبقے کا بھی ہے، ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ مزدور کے بغیر اسکی زندگی کیسے گزر سکتی ہے! مزدور کی ضرورت اور اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ہم کتنے ہی کامیاب اور کروڑ پتی کیوں نہ ہوجائے لیکن ہمارا کوئی بھی کام مزدور کے بغیر چل نہیں سکتا۔ ایک متوسط فرد سے لے کر بڑے سے بڑے افسر اور بیوروکریسی تک زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ فرد مزدور کا محتاج ہے۔ اب بنیادی بات یہ ہے کہ مزدور طبقہ کی اس ضرورت اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں خود سے پوچھنا ہے کہ کیا ہم مزدوروں کے ساتھ وہ سلوک اور رویہ اختیار کرچکے ہیں جو مذہب اور انسانیت کا تقاضا ہے؟ اگر جواب نہیں میں آئے تو لامحالہ ہمیں مزدور کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    مزدور طبقہ عام انسانوں پر مشتمل ہے، انکی تخلیق میں کوئی جسمانی اور ذہنی کمی نہیں ہے سوائے اسکے کہ مزدور لگژری زندگی سے بہت دور ہیں اور انکے بعض افراد تو خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جدید دنیا اور انسانی حقوق کے اداروں کے ہوتے ہوئے بھی مزدوروں کے ساتھ جو سلوک اپنایا گیا ہے، اس سے بعض اوقات گمان ہوتا ہے کہ شاید یہ انسان بھی نہیں اور نہ انھیں راحت و آرام کی زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ مزدور کو کمتر سمجھنے اور اسکا معاشی استحصال کرنے میں ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہم میں سے ہر کوئی مزدور سے زیادہ سے زیادہ کام حاصل کرنے کا خواہش مند ہے لیکن معاوضہ بھی ہم اپنی پسند کا دیتے ہیں جس سے مزدور زندگی کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کرسکتا۔

    ہم انکی عام اجرت میں زائد وقت کا کام بھی لیتے ہوئے اسے مجبور کرتے ہیں اور انکار کی صورت میں اسے کام سے فارغ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ مزدور سے اسکی طاقت سے زیادہ کام لینا گویا ہمارے لیے فخر کی بات ہے، لیکن اجرت دیتے وقت ہمارا انداز یہ ہوتا ہے جیسے ہم اس پر احسان کررہے ہیں۔

    آج دنیا میں یوم مزدور منایا جاتا ہے، سارے سرمایہ دار چھٹی انجوائی کرتے ہیں لیکن کسی نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس دن مزدور بھی چھٹی کرلیتے ہیں یا کام کرتے ہیں؟ مزدور کے ساتھ یکجہتی کےلیے چھٹی منانا اچھی بات ہے لیکن یہ جاننے کےلیے ہم نے کبھی کوشش کی کہ مزدور کو اسکے حقوق میسر ہیں بھی کہ نہیں؟
    اسلام نے مزدور و مالکان دونوں کے فرائض کو واضح طور بیان کردیا ہے اور ہر ایک کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائی میں کوتاہی نہ کریں۔ اسلام نے مزدوروں کو ان کا جائز حق دیا اور مالکان کو پابند کیا کہ مزدوروں کو کم تر نہ سمجھیں، اگر مزدور سے کام لیا جائے تو اسکو اس کا حق فوراً دے دے۔

    اسلام نے مزدور کا جو تصور دیا ہے وہ اقوام عالم کےلیے مشعل راہ ہے۔ مزدور کے بابت اسلام نے جو رہنمائی کی ہے اگر اسکو عملی کیا جائے تو مزدور کا حق ضائع نہ ہوگا اور اسی طرح وہ اپنے کام کو خوب محنت اور ایمانداری سے پورا کرے گا، یوں مزدور اور مالک دونوں مطمئن رہیں گے۔ اسلام کا نقطۂ نظر یہی ہے کہ مزدور افراد تمہارے ہی ہم شکل، ہم جنس اور تمہارے بھائی ہیں، بات اتنی ہے کہ اللہﷻ نے انھیں آپ کا ماتحت بنادیا ہے، سو جو آپ کھاتے ہیں وہ انکو بھی کھلائیں! اور جو آپ پہنتے ہیں وہ انکو بھی پہنائیں! اور اس سے اسکے وقت اور طاقت سے زیادہ کام نہ لیں! اگر لینا ہے تو اسکی مدد کریں! اور زائد وقت کی مزدوری بھی دیں!

    اسلام کا مندرجہ بالا اصول کتنا زبردست اور واضح ہے! مگر کیا ہم اس کو عملی کرنے کی کوشش کریں گے؟اسلام کا حکم ہے کہ مزدور کو اسکی مزدوری اسکا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کیا جائے لیکن ہماری صورتحال کیا ہے؟ اسکا ہم سب کو بخوبی اندازہ ہے۔ حضور اکرمﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن جن تین افراد کے خلاف میں مدعی بنوں گا ان میں ایک وہ شخص ہے جو مزدور سے کام تو پورا لے لیکن اسکی مزدوری پوری نہ دے یا کم دے یا بغیر کسی عذر کے اس میں تاخیر کرے۔
    مزدور کے ذمہ کچھ فرائض مذہبی بھی ہیں جن کو ادا کرنا اس پر لازم ہے، اسلام کے رو سے جس طرح مزدور کو اس کی اجرت کا وقت پر دینا لازم ہے اسی طرح مالکان پر یہ بھی لازم کیا گیا ہے کہ کام کے دوران فرائض و واجبات مثلاً نماز وغیرہ کا وقت آجائے، تو مزدوروں کو اس کی ادائیگی کےلیے وقت اور جگہ فراہم کی جائے۔
    غلطی سے کوئی بھی انسان مبرا نہیں ہے! مزدور سے بھی غلطی سرزد ہوسکتی ہے لیکن اسکو معاف کرنا چاہیے! حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر مزدور ستر مرتبہ غلطی کرے تو بھی اسے معاف کریں۔

    مزدور کے متعلق اسلام نے جس طرح مالکان کےلیے ہدایات بیان کی ہے بالکل اسی طرح مزدور کےلیے بھی ہدایات بیان کی ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے مزدور اس امر کا ذمہ دار ہے کہ:
    * وہ اپنا کام معاہدے کے مطابق بروقت ایمانداری اور اخلاق کے ساتھ پورا کرے۔
    * مزدور مالک کے کام کا امانت دار ہے، سو وہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ کام اور اسکے متعلق اشیاء کا ایمانداری سے حفاظت کرے، اور اسے کام کے بعد مالک کے حوالے کرے۔ اگر کوئی چیز اتفاقاً خراب ہوجائے تو مزدور پر کوئی تاوان نہیں ہے لیکن اگر مزدور نے اسے قصداً خراب کیا تو اس چیز کا تاوان دے گا۔
    • اگر مزدور مالک کے ہدایت کے خلاف کام کرے اور اس میں کوئی نقصان پیش آئے تو مزدور اسکا تاوان ادا کرے گا۔
    * جتنے دن کےلیے کام کا معاہدہ ہوا ہے تو مزدور کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کام پورا کیے بغیر اس کو چھوڑ دے۔

    اسلام کے یہ رہنمائی کتنی واضح ہے! اس جامع اور رہنما اصولوں کو اپنائے بغیر معاشرے میں مساوات اور خوشحالی کا قیام ناممکن ہے، ان اصول کو اپنانے سے ہی مزدور کا استحصال ختم ہوگا اور مالکان کو ان کا کام پورا ملے گا۔ اب ہماری ذمہ داری یہی ہے کہ مزدور کی روایتی چھٹی منانے کے بجائے زیادہ توجہ اپنے اور مزدوروں کے حقوق اور ذمہ داریوں کو پہچاننے پر دیں اور ان حقوق اور ذمہ داریوں کے مطابق اپنے کاموں کو آگے بڑھائے۔

  • تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ایک بہترین معاشرے کی تکمیل بغیر بہترین تعلیمی نظام کے بغیر ناممکن ہے ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور جتنا زور اسلام میں تعلیم حاصل کرنے اور تحقیق کرنے پہ دیا گیا ہے اتنا کسی اور مذہب میں نہیں

    نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ جب پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ بھی ان الفاظ سے تھی

    اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ1 خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ2 اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ3 الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ4 عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ5 (العلق)

    (اے پیغمبر) پڑھ اپنے رب کے نام سے ( آغاز کرتے ہوئے) پڑھ جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایا جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی ،پڑھ اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا،انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا

    آپ دنیا میں نظر دوڑائیں تو آپکو وہی قوم ترقی یافتہ ملے گی جس کا تعلیمی نظام اچھا ہے وگرنہ بغیر تعلیمی ترقی کے قومیں ترقی پذیر ہی رہی ہیں جب تعلیمی نظام اچھا ہو گا تو صحت مند معاشرہ تکمیل پائے گا اوردیگر شعبہ زندگی میں خدمات سرانجام دینے والے لوگ باعمل اور محنتی ہونگے

    اس وقت دنیا بھر کے تمام ممالک میں سے خواندگی کے لحاظ سے برطانیہ پہلے امریکہ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان اس وقت 79 ویں نمبر پہ ہے

    پاکستان میں شرع خواندگی 62 فیصد ہے جو کہ انتہائی کم درجہ پہ ہے مذید ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے جی ڈی پی کا محض 1.7 فیصد تعلیم پہ خرچ کرتے ہیں جو کہ بہت ہی کم تر ہے

    پاکستان میں اس وقت خواندگی کی شرح 62.8 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جس میں مردوں کی شرح 73.4 فیصد جبکہ خواتین کی 51.9 فیصد ہے
    ہمارے ہاں سکول نہ جانے والے بچے 32 فیصد ہیں جن میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیاں زیادہ تعداد میں تعلیم سے محروم ہیں جو کہ سب سے بڑا المیہ ہے
    جبکہ سکول نا جانے والے بچوں کی شرح بلوچستان میں 47 فیصد ،سندھ میں 44 فیصد، خیبرپختونخوا میں 32 فیصد اور پنجاب میں 24 فیصد ہے
    ہمارے ہاں جہاں غربت و مہنگائی،بیروزگاری تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہیں وہیں ہمارا پرانا فرسودہ نظام تعلیم بھی ہے
    ہمارے ہاں کلاس اول کا بچہ صبح اٹھتے ہی سپارہ پڑھنے پھر 8 بجے سکول اور سکول سے واپس آتے ہی ٹیوشن میں مگن رہتا ہے جسے کھیلنے کودنے کا موقع بلکل نہیں ملتا اور اسے اپنی جسمانی و دماغی صحت کو اچھا کرنے کا موقع نہیں ملتا جس کے باعث بیشتر بچے بیمار رہتے ہیں اور تعلیم سے بھاگتے ہیں
    ہونا تو یہ چائیے کہ بطور مسلمان ملک جسطرح سکول و کالجز میں بچوں کی پڑھائی لازم ہے ایسے ہی صبح فجر کے بعد بچے کو مسجد میں ایک مستند قاری قرآن سے سپارہ پڑھنے کیساتھ نماز پڑھنے کا بھی پابند کیا جائے اور پھر سکول وقت میں اسی بچے کو لازمی طور پہ کم سے کم 30 سے 45 منٹ تک جسمانی کھیل کود کا موقع دیا جائے تاکہ اس کی جسمانی و دماغی صحت اچھی رہے اور وہ تعلیم کو تفریح سمجھ کر حاصل کرے
    مگر افسوس کہ ہمارے ہاں سب الٹ سسٹم چل رہا ہے بچوں کو رٹا لگوا لگوا کر پڑھایا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ اتنے نمبر لازمی لینے ہیں چاہے جو مرضی کرو

    ہم ساری زندگی میٹرک تک بچوں کو وہ مضامین پڑھاتے ہیں کہ میٹرک کرنے کے بعد جن سے ہمارا پوری زندگی واسطہ ہی نہیں پڑتا
    جیسے کہ ریاضی کی جمع تفریق نفی کے علاوہ جو کچھ سکھلایا جاتا ہے میرا نہیں خیال کے زیادہ تر وہ ہماری زندگی کا حصہ بنا ہو
    مطلب بےمقصد پڑھائی پہ ہم اپنا سارا ٹائم لگا دیتے ہیں

    پاکستان میں تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی خاطر میٹرک تک یکساں تعلیمی نظام ہونا چائیے جس میں میٹرک تک تعلیم کا سارا خرچ گورنمنٹ برداشت کرے
    جنرل سائنس ( آرٹسٹ) گروپ ختم کرکے میٹرک تک سائنس لازمی قرار دی جائے جس میں بچے کو اول کلاس سے میٹرک تک دین اسلام کیساتھ اپنی صحت بارے زیادہ سے زیادہ تعلیم دی جائے
    کلاس اول سے میٹرک تک کے نصاب میں فرسٹ ایڈ،تیراکی،نشانہ بازی،سیلف ڈیفنس،زراعت،الیکٹرک و آٹو مکینک جیسے مضامین شامل کئے جائیں تاکہ ایک بچہ اپنے بچپن سے نوجوانی تک میٹرک کا طالب علم پہنچتے ہوئے اپنی روزمرہ زندگی میں اپنے استعمال کی ہر چیز کی ابتدائی مہارت رکھتا ہو
    اس کے بعد اگر اس بچے کا دل آگے پڑھنے کو کرے تو اس کو اپنی مرضی کا شعبہ چننے کا مکمل اختیار دیا جائے بلکہ ماہر نفیسات سے اس کا سیشن کروا کر اس کا ذہن پڑھ کر اسے اس کے پسندیدہ شعبے میں تعلیم کا پورا موقع دیا جائے کیونکہ ہمارے ہاں بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو باپ اسے وکیل بنانا چاہتا ہے مگر ماں اسے پائلٹ بننے کا عندیہ دیتی ہے تو اس ساری صورتحال اور ماں باپ کی خواہشات میں وہ بچہ ذہنی کشیدگی کا شکار ہو کر تعلیم سے دور ہو جاتا ہے بجائے کچھ بننے کے وہ اس معاشرے پہ بوجھ بن جاتا ہے
    ہمارے ہاں سب سے بڑی خرابی بچوں کو سکولوں میں سہولیات نا دینا ہے جیسے کہ گرمی میں بچے بغیر پنکھے کے پڑھتی ہیں اور سردی میں سرد ہوا کا مقابلہ کرتے ان کا ذہن پڑھائی کی بجائے موسم سے زور آزمائی میں ہوتا ہے اگر سکولوں میں زیادہ چھٹیوں کی بجائے موسم کے مطابق سہولیات جیسے اے سی و پنکھے وغیرہ دی جائیں تو بچے پڑھائی میں زیادہ توجہ دیں گے
    ہمارے ہاں اشرافیہ کیلئے آئے روز نئی سے نئی ٹیکنالوجی بیرون ممالک سے لا کر دی جاتی ہے حتی کہ ایک آفیسر کیلئے اس کی چھتری پکڑنے والا الگ ملازم دیا جاتا ہے مگر سکولوں میں سہولیات نہیں جس کے باعث اس پرانے فرسودہ نظام تعلیم سے کافی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل رہا
    اگر ملک کو شاہراہِ ترقی پہ ڈالنا ہے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو اپ گریڈ کرنا ہو گا

  • ملک بھر میں آج شبِ برات مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے

    ملک بھر میں آج شبِ برات مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے

    لاہور: ملک بھر میں آج شبِ برات عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی: ماہ شعبان کی پندرھویں رات، رحمتوں اور برکتوں والی رات آ گئی، اس رات کو لیلۃ المبارکۃ یعنی برکتوں والی رات، لیلۃ الصک یعنی تقسیم امور کی رات اور لیلۃ الرحمۃ یعنی رحمت نازل ہونے کی رات بھی کہا جاتا ہے۔

    شب قدر کی رات مساجد اور گھروں پر نفلی عبادات اور شب بیداری کا خصوصی اہتمام کیا جائے گا اہل ایمان نوافل ادا کریں گے اور گڑگڑا کر اپنے رب سے گناہوں اور خطاؤں کی معافی طلب کریں گے،علماء اس شب کو رزق، صحت، زندگی، موت اور خیر و شر کے فیصلوں کی رات بھی کہتے ہیں، اس لیے اہل ایمان اس رات مغفرت اور بخشش مانگتے ہیں اور اللہ تعالی سے رحمت اور فضل کی التجائیں بھی کرتے ہیں، اس رات ملک بھر کی مساجد میں خصوصی عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے،فرزندان اسلام روزہ بھی رکھتے ہیں-

    شب برأت کی مناسبت سے نذر و نیاز کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ قبرستانوں کا رُخ کر کے اپنے پیاروں کی قبروں پر پھول چڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی مغفرت کے لیے فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔

  • ہماری بربادی کے اسباب

    ہماری بربادی کے اسباب

    ہماری بربادی کے اسباب
    از قلم غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے ہمیں اشرف المخلوقات تو پیدا فرمایا ہی ہے مگر اس کیساتھ ہمیں اشرف الاخلاق،اشرف الجذبات بھی بنایا ہے تاکہ ہم پورے کے پورے دین اسلام کے پیروکار بنیں دیکھا جائے تو آج ہمارے پاس دنیا کی ہر نعمت موجود ہے حتی کہ آپ گاؤں دیہات میں نظر دوڑائیں تو دنیا کی تمام نعمتیں گاؤں دیہات تک پہنچی ہوئی ہے اگر آپ برگر پیزہ بھی گاؤں دیہات سے کھانا چاہے تو مشکل نہیں بہت سے گاؤں دیہات میں وہ بھی ملے گا اگر آپ مہنگی گاڑیاں اور مہنگے ترین مکانات بھی دیکھیں تو بھی یہ سب گاؤں دیہات میں موجود ہے جبکہ اس برعکس شہروں کی عکاسی آپ خود بخوبی کر سکتے ہیں-

    آج پیسہ اور علم عام ہے مگر اس کے باوجود ہر انسان پریشان ہے باجود پیسے کے برکت کم ہے اور باوجود علم کے عمل کم ہے اس بارے کبھی ہم نے سوچا کہ آخر ایسا کیوں ہے ہمارے ساتھ ؟اس کی سب سے بڑی وجہ ناشکری اور ناقدری ہے آج جہاں ہمارے ہاں ناشکری ہے وہاں نعمتوں کی ناقدری بھی بہت ہے خاص کر علماء کرام کی ناقدری اور ان کی ناشکری ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا
    لَايَشْكُرُ اللہَ مَنْ لَايَشْكُرُ النَّاس
    جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا

    واضح رہے کہ اسلام میں فرقہ پرستی نہیں ہے اس لئے ہمیں فرقہ پرستی سے بچ کر قرآن و حدیث کا ہی پیروکار بننا چائیے اور ہر مسلک کے علماء کرام کی عزت و تکریم کرنی چائیےچاہے عالم دین کسی بھی مسلک سے ہو اس کی بات اچھی لگے یاں بری اس کی عزت و تکریم عام انسان سے بڑھ کر ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق کسی کو کسی پہ فوقیت حاصل نہیں ماسوائے تقوی کے جس کا تقوی اور رب سے تعلق زیادہ ہو گا اس کی عزت و تکریم بھی زیادہ ہو گی

    علمائے کرام کی تضحیک کرنا بہت بڑا گناہ ہے مُسند احمد و طبرانی کی کتب احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے، ہمارے بچوں پر رحم نہ کرے اور آگے الفاظ ہیں کہ وَیَعْرِفُ لِعَالِمِنَا حَقَّہ یعنی جو ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری اُمت میں سے نہیں ہےحدیث پہ غور کریں تو احساس ہو گا آج ہم کس قدر اہل علم لوگوں بےقدری کر رہے ہیں خاص کر اپنے محلے کی مسجد کے امام صاحب کو ہر دکھ اذیت دینا ہم اپنا حق سمجھتے ہیں-

    ہمارے معاشرے میں اپنی ذاتی خوشیوں کی خاطر ایک متوسط اور غریب شحض بھی ہزاروں روپیہ خرچ کر دیتا ہے مگر خوشنودی اسلام اور محبت دین میں علماء پہ چند سو روپیہ بھی لگانے سے کتراتا ہےمیں نے اپنی ان گناہگار آنکھوں سے دیکھا کہ چند دن قبل گاؤں کی مسجد کا ایک امام صاحب مسجد کے صدر کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا تھا کہ حضور مجھے مت نکالئے مسجد سے میرے بچے بھوکے مر جائیں گے مہنگائی بہت ہے میں کہاں جاؤں گا انہیں لے کر لہٰذہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں آج سے نماز سے پہلے مسجد میں آ جایا کرونگا اور چھٹی نہیں کرونگا-

    جی ہاں قسم رب کی یہ منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھااس امام صاحب کی ایک چھوٹی سی غلطی پہ مسجد کے صدر صاحب چیخ رہے تھے کہ جو اس جیسی سینکڑوں غلطیاں اس میں اور اس کی اولاد میں موجود ہیں مگر یہ کہ یہ امام مسجد اس کا محتاج بنا بیٹھا اور اس امام مسجد کے پاس اپنی طاقت نہیں کہ وہ اچھا سا کام کاروبار کرتا اور پھر اپنی مرضی سے مسجد میں آتا جاتا تاکہ نمازی اس کے انتظار میں رہتے-

    ہمارے ہاں امام مساجد کی تخواہیں بہت کم ہیں شہروں میں پھر بھی 25 سے 40 ہزار تک ماہوار امام صاحبان کو ملتا ہے تاہم اس دور جدید میں بھی گاؤں دیہات میں امام مسجد صاحبان کو 15 سے 25 ہزار ماہوار دیا جاتا ہے اور اسے پابند بنایا جاتا ہے کہ آپ نے مسجد کی صفائی ستھرائی کیساتھ پانچ وقت کی اذان اور امامت کرنے کیساتھ خطبہ جمعہ و خطبات عیدین بھی فرمانے ہیں اس مہنگائی کی صورتحال میں یہ پیسے بہت کم ہیں اوپر سے ستم ضریفی یہ کہ گاؤں دیہات کے امام صاحبان کو فصلوں کے پکنے پہ فصل یاں پیسے دیئے جاتے ہیں باقی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی کہ باقی دنوں وہ بیچارہ کہاں سے کھائے گا اوپر سے جس شحض کا کہیں بس نہیں چلتا اس کا رعب مسجد کے مولوی پہ چلتا ہے-

    صاحبان اللہ کے نبی کی حدیث کی حدیث ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور یہ علماء وہ ہیں کہ اللہ کے بعد جن کے وعظ و نصیحت سے نمازی،حاجی،مجاھد، مبلغ پروان چڑھتے ہیں سو اللہ کی رضا کی خاطر ان پہ رحم کریں ان کے کھانے پینے اور ان کی رہائش کا خاص اہتمام کریں کیونکہ نبیوں کے ان وارثان سے محبت کرکے ہم رب کی زیادہ خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں-

    ہمارے ہاں کچھ علماء کرام بڑے صاحب حیثیت بھی ہوتے ہیں خدارا ان کو دیکھ کر مالی طور پہ کمزور علماءکو نظر انداز نا کیجئے کیونکہ معاشرے کا یہ واحد طبقہ ہے جو اپنے ساتھ ہوتی ناانصافی پہ احتجاج نہیں کرتا اور نا ہی اپنے فرائض سے بائیکاٹ کرتا ہے وگرنہ دیکھ لیجئے ہر شعبہ زندگی کے چھوٹے سے بڑے لوگوں نے اپنی یونین بنائی ہوئی ہے اور اپنے مطالبے کی خاطر اپنے شعبے کا بائیکاٹ کرکے اپنی بات منوا لیتے ہیں مگر شاید ہی آپ نے کبھی سنا ہو گا کہ کسی عالم دین نے احتجاج کرتے ہوئے نماز پڑھانے سے انکار کر دیا ہے

  • جبری نکاح اسلام کی روشنی میں

    جبری نکاح اسلام کی روشنی میں

    جبری نکاح اسلام کی روشنی میں

    ازقلم غنی محمود قصوری

    کچھ دن سے سوشل میڈیا پہ ایک ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک باشرع شحض ایک لڑکی سے زور زبردستی سے نکاح نامے پہ دستخط کروا رہا ہےاس کے ساتھ دیگر گھر والے بھی موقعہ پہ موجود اور شامل نکاح ہیں جس کے باعث کچھ لوگ اسلام پہ تنقید کرتے ہوئے اسے جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں اس معاملے میں اسلام کا نا تو کوئی قصور ہے بلکہ یہ سارا معاملہ ہی اسلام کے خلاف ہے کیونکہ اگر اسلام کی رو سے دیکھا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ آیا ایسا نکاح جائز ہے ؟-

    کیا دین میں جبر جائز ہے؟

    ہرگز نہیں نا تو دین اسلام میں جبر جائز ہے اور نا ہی جبری نکاح ،جہاں اسلام نے مرد کو پسند نا پسند کا حق دیا ہے وہیں عورت کو بھی نکاح میں پسند نا پسند کا پورا حق دیا ہے ،اسلام کی رو سے لڑکی کی شادی کے لئے ولی کا ہونا لازم شرط ہے،کئی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ باکرہ عورت کی اجازت خاموشی ہے یعنی عورت اگر ولی کے سامنے مزاحمت نا کرے خاموش رہے تو نکاح جائز ہے-

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے

    الثَّيِّبُ أحقُّ بنفسِها من وليِّها والبِكرُ تستأمرُ وإذنُها سُكوتُه
    (صحيح مسلم 1421)
    ترجمہ: ثیبہ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے

    جبکہ ایک اور جگہ ارشاد ہے

    لا تُنكَحُ الأيِّمُ حتى تُستأمَرَ، ولا تُنكَحُ البكرُ حتى تُستأذَن. قالوا: يا رسولَ الله، وكيف إذنُها؟ قال: أن تسكُتَ
    (صحيح البخاري:5136)
    ترجمہ:بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے،صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ کنواری عورت ازن کیونکر دے گی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے یہ خاموشی اس کا اذن سمجھی جائے گی-

    عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں

    أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ قالَ ليسَ للوليِّ معَ الثَّيِّبِ أمرٌ واليتيمةُ تستأمرُ وصمتُها إقرارُها
    (صحيح أبي داود:2100)
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ولی کا ثیبہ عورت پر کچھ اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے پوچھا جائے گا اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے، اسلام میں جبر نہیں کسی بھی امور پہ جبری نہیں ماسوائے چند ایک امور کے وہ بھی صرف مسلمان پہ خاص طور پہ جبری نکاح میں بلکل بھی جبر جائز نہیں جہاں ولی کا راضی ہونا لازم ہے وہیں عورت کا راضی ہونا بھی لازم ہے-

    اس بارے ارشاد باری تعالیٰ ہے

    فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْاْ بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ. (البقرہ : 232)

    ’تو اے عورتوں کے والیو، انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جبکہ آپس میں شریعت کے موافق رضا مند ہوں،

    درج بالا آیت قرآن سے ثابت ہونا جہاں ولی کی رضا مندی لازم ہے وہیں عورت کی رضامندی بھی لازم و ملزوم ہے لہذہ عورت پہ زبردستی کرکے نکاح نہیں کروایا کا سکتا ایسا نکاح، نکاح نہیں بلکہ زنا ہو گا اور اس کا سارا وبال اس ولی و گواہان پہ ہو گا اور ایسے کسی واقعے پہ اسلام پہ وار کرنا جائز نہیں کیونکہ اسلام نے ایسے عمل کو گناہ قرار دیا ہے اور دین اسلام وہ واحد دین ہے جس نے مرد کیساتھ عورت کو بھی یکساں حقوق دیئے ہیں وگرنہ دیگر دینوں میں دیکھ لیجئے ساری ساری زندگی عورتیں کنواری گزار دیتی ہیں اور جن کا شوہر مر جائے ان کو دوسری شادی کی اجازت نہیں ہوتی بلکہ پہلے تو ان کو خاوند کے ساتھ زندہ دفن کر دیا جاتا تھا مگر اس سب کو اسلام نے روکا حتی کہ اسلام نے ناپسندی کی صورت میں عورت کو خلع لینے کا اختیار دیا-

  • مفت مشورے باعث عذاب ہیں جناب

    مفت مشورے باعث عذاب ہیں جناب

    مفت مشورے باعث عذاب ہیں جناب

    ازقلم غنی محمود قصوری

    آج کل جہاں مہنگائی بے روزگاری نے لوگوں کا جینا دو بھر کر رکھا ہے وہاں مفت مشورے بھی زندگیاں مشکل بنا رہے ہیں خاص طور پہ طبی معاملات میں مفت مشورے ہمارے معاشرے میں بہت سا بگاڑ پیدا کر رہے ہیں اور صحت پہ برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں آج کل حالات یہ ہیں کہ ڈاکٹر،طبیب کے پاس خود دوائی لینے آیا بندہ دوسرے سے پوچھ رہا ہوتا ہے کہ بھئی آپ کو کیا مسئلہ ہے، اگلا اپنا مسئلہ بتاتا ہے تو فوری اس کو اپنی طرف سے دیسی ٹوٹکہ یا کوئی دوائی بتا دی جاتی ہے کہ تم یہ کر لو تم ٹھیک ہو جاؤ گےسوچنے کی بات ہے اگر تم اتنے ہی صاحب علم ہو تو خود ڈاکٹر طبیب کے پاس کیوں آئے ؟

    میں بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ایسے مشوروں کو اسلام کی رو سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا،جس شخص نے علم کے بغیر فتویٰ دیا تو اس کا گناہ اس فتویٰ دینے والے پر ہے، اور جس شخص نے اپنے (مسلمان) بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دیا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ بھلائی و بہتری اس کے علاوہ کسی دوسری صورت میں ہے، تو اس نے اس سے خیانت کی۔
    (ابو داؤد)

    ایسے مشوروں کے نفع اور نقصان بارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی ایک اور حدیث پیش خدمت ہےحضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نکلے تو ہمارے ایک ساتھی کو پتھر لگ گیا جس کی وجہ سے اس کے سر میں زخم آ گیااتفاق سے اسے احتلام ہوا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ آیا میرے لئے کوئی گنجائش ہے کہ میں غسل کرنے کے بجائے تیمم کر لوں؟

    انہوں نے جواب دیا، ہم تیرے لیے کوئی رخصت نہیں پاتے ( یعنی غسل کرنا پڑے گا) جبکہ تجھے پانی کے استعمال پر قدرت حاصل ہے، چنانچہ اس نے غسل کر لیا پھر وہ فوت ہو گیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس واقعہ کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایاانہوں نے( مشورہ دینے والے ساتھیوں نے) اسے قتل کر ڈالا، اللہ انہیں ہلاک کرے، انہوں نے اس مسئلہ کے متعلق پوچھ کیوں نہ لیا جبکہ انہیں علم نہیں تھا، بلاشبہ عاجز او ردرماندہ انسان کی شفا؟؟ کر لینے میں ہے-

    خود ہی اندازہ کر لیں کہ علم کے بغیر کسی کو دینی و دنیاوی اور خاص کر کسی کی صحت بارے مشورہ دینا کتنا بڑا فریضہ ہے اور بغیر علم کے بہت بڑا گناہ بھی ہے اسی لئے اگر آپ کو خالصتاً علم ہے تو کسی کو کوئی مشورہ دیں وگرنہ خاموش رہیں کیونکہ خاموشی بھی ایک عبادت ہے

    آج کل نوجوان نسل بچے بچیاں ان مشوروں کا شکار ہو کر اپنی جوانیاں برباد کر رہے ہیں مثال کے طور پہ نئے جوان ہونے والوں کو جسم پہ دانے نکلتے ہیں تو ان کو بغیر علم کے گرمی تاثیر کی چیزوں سے روک دیا جاتا ہے کہ آپ نے انڈہ نہیں کھانا حالانکہ دانے نکلنا اتنا مسئلہ نہیں جتنا انڈے سے حاصل ہونے والے وٹامن دی سے محروم رہنا ہے نیز انڈے کیساتھ کچھ اور گرم تاثیر چیزوں سے بہت دور کر دیا جاتا ہے جیسے کہ مچھلی،مرغی کا گوشت،السی کے بیج،خشک میوہ جات،پالک وغیرہ-

    یہ چیزیں کم گرم ضرور ہیں مگر ان کی کمی سے الزائیمر،مالیخولیا،ڈپریشن،ڈیمنیشیا کی بیماریاں جنم لیتی ہیں جو کہ جان لیوا ہیں اسی طرح کسی کو بلغ آتی ہے یا پھر ہلکی سی سردی شروع ہو گئی ہے تو سرد مزاج چیزوں سے روک دیا جاتا ہے جیسے کہ لیموں، مالٹا، کینو، مسمی ،آلو بخارے کا پانی وغیرہ ان چیزوں سے وٹامن سی ملتا ہے اور وٹامن سی کی کمی سے جلد کی بیماریاں،دل کی بیماریاں،پھپھڑوں کی بیماریاں معدے میں خشک اور قبض جیسی پیچیدہ بیماریاں جنم لیتی ہیں-

    اس لئے خداراہ کبھی بھی کسی کو اس وقت تک کوئی بھی مشورہ نا دیں تب تک کہ آپکو اس پہ عبور حاصل نا ہو وگرنہ یاد رکھیں آپ کے مشورے سے کسی کی صحت خراب ہوئی تو قصور وار اور گناہگار آپ بھی ہیں اس کی مثال اوپر رقم حدیث سے ثابت ہے-

  • معاشرے سے مایوسی کو ختم کرنا ہے. نگران وفاقی  وزیر مذہبی

    معاشرے سے مایوسی کو ختم کرنا ہے. نگران وفاقی وزیر مذہبی

    نگران وفاقی وزیر مذہبی امور انیق احمد نے کہا ہے معاشرے سے مایوسی کو ختم کرنا ہے کیونکہ مایوسی کفر ہے جبکہ نگران وزیر انیق احمد نے مزید کہا ہے کہ مدارس اہم کام کررہے ہیں، ہمیں ان پر ناز ہے، انہی مدارس نے دینی علم کو محفوظ کررکھا ہے،علما اور طلبہ کو قوم کو مایوسی سے نکالنا ہے۔

    تاہم انہوں نے کہا کہ آج ملک میں معاشی مسائل ہیں، جن کے پاس علم ہوتا ہے وہ ان مسائل سے نکل جاتے ہیں، ہمیں بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے، ہمیں ثقافتی مسائل بھی درپیش ہیں، ہمیں کچھ خارجی چیلنجز کا بھی سامنا ہے ، نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ذمہ داری ہم سب پر ہے، دنیا کو بتائیں ہم پرامن ملک ہیں، دہشت گردی سے نفرت کرتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چینی کی قیمت 200 تک پہنچ گئی
    شادی جلدی یا لیٹ کبھی بھی ہو سکتی ہے ایشو والی بات نہیں‌عثمان مختار
    میں آج تک اقربا پروری کا شکار نہیں‌ہوئی غنا علی
    انڈر 23 ایشین کپ 2024 کوالیفائرز کیلئے 23 رکنی سکواڈ کا اعلان
    حلیم عادل شیخ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج
    قمری پرندے کے شکار پر پابندی
    شادی جلدی یا لیٹ کبھی بھی ہو سکتی ہے ایشو والی بات نہیں‌عثمان مختار

    کچھ لوگ پاکستان کا خوبصورت چہرہ تباہ کرنا چاہتے ہیں، اس خوبصورت ریاست کو مودی کا ہندوستان نہیں بننے دیں گے جبکہ نگران وفاقی وزیر کا کہنا تھا سختیاں اور منافقت سب کو ختم ہونا چاہیے، اگلا الیکشن ساز گار ماحول میں ہونا چاہیے۔ قوم کو مایوسی سے نکالنا ہے مایوسی کفرہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ جنت کے ٹھیکیدار ہم نہیں یہ اللہ کا معاملہ ہے، روڈ ٹو مکہ منصوبے پر کام ہو رہا ہے، ہم حجاج کی بہترین خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

  • اگلے سال کیلئے 1 لاکھ 79 ہزار حاجیوں کا کوٹہ جبکہ حج ڈالرز میں ہوگا

    اگلے سال کیلئے 1 لاکھ 79 ہزار حاجیوں کا کوٹہ جبکہ حج ڈالرز میں ہوگا

    وفاقی وزیر مذہبی امور طلحہ محمود نے حجاج کو لوٹنے والے نجی ٹوور آپریٹرز کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان کردیا، اگلے سال کے لیے 1 لاکھ 79 ہزار 210 حاجیوں کا کوٹہ لانے کی خوشخبری بھی سنائی جبکہ وفاقی وزیر مذہبی امور طلحہ محمود بھی پہلی حج فلائٹ سے اسلام آباد پہنچے اور اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ رواں برس ایک لاکھ 60 ہزار پاکستانیوں نے حج مکمل کیا ہے اور شکر ہے کہ کوئی بڑا حادثہ رونما نہیں ہوا، اکثریت نے انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ بطور وزیر اپنے حج کے اخراجات جمع کروائے، پاکستانی حاجیوں کے ساتھ ہی رہا اور حج ادا کیا، مجموعی طور پرحاجیوں نے اطمینان کا اظہار کیا، رواں برس 30 لاکھ کے قریب افراد نے دنیا بھر سے حج کیا، یہ سعودی تاریخ کا سب سے بڑا حج تھا، منی میں 30 لاکھ حاجی موجود تھے، اس وجہ سے مشکلات آتی ہیں، منی، مزدلفہ اورعرفات میں پاکستانیوں کی شکایات سعودی وزیر کو پہنچائیں اور احتجاج کیا۔ وزیرمذہبی امورنے انکشاف کیا کہ کچھ نجی ٹوورآپریٹرز نے حجاج سے 19 لاکھ لیے اور حاجیوں کو حرم میں لیٹنا پڑا، پرائیویٹ ٹوور آپریٹرز کی فہرستیں طلب کرلی ہیں، جنہیں بلیک لسٹ کریں گے، اس حوالے سے باقاعدہ پالیسی بنائی جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سویٹزرلینڈ کے اعلی سطح وفد اگلے ہفتے پاکستان دورے کا امکان
    سعودی شہزادہ طلال بن عبدالعزیز آل سعود سپردخاک
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا
    طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ میں پاکستانی حاجیوں کے ساتھ مسلسل ملاقاتیں کرتا رہا، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور جدہ میں حج مشن بھی تھا اور کام کرتے رہے، مزدلفہ، منی، جمرات اور عرفات کے مقامات پرحج معاونین کو کھل کر کام کرنے کی اجازت نہیں تھی، حاجیوں کو پانی، لوڈ شیڈنگ سمیت دیگر سہولیات میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا، میں نے ہجوم والے لوگوں کو وہاں سے نکالا اور ان کو گرفتار نہیں ہونے دیا، سعودی حکومت نے ہجوم اکھٹا ہونے پر مجھے حراست میں لیا اور تحقیقات کے بعد چھوڑ دیا۔ طلحہ محمود نے کہا کہ اگلے سال کے لیے ایک لاکھ 79 ہزار 210 حاجیوں کا کوٹہ لے کر آیا ہوں، پہلے آؤ پہلے پاؤ کے طریقے پر چلیں گے، جنوری 2024 سے حاجیوں کوبھیجنے کی تیاری مکمل کرنی ہے، اب پاکستانی روپے نہیں بلکہ ڈالرز میں حج ہوگا۔

  • البانیہ میں قرآن کا معجزہ جسےدیکھ کرمسیحی خاندان نے اسلام قبول کیا تھا

    البانیہ میں قرآن کا معجزہ جسےدیکھ کرمسیحی خاندان نے اسلام قبول کیا تھا

    البانیہ کے ایک مسیحی خاندان نے ملک میں ماضی میں ہونے والے انتشار اور جنگوں کے دوران زمین سے ملنے والی دفن لاش اور چھوٹے قرآن کریم کو دیکھ کر ماضی میں اسلام قبول کیا تھا تب سے آج تک یہ خاندان اس نایاب قرآن کریم کے نسخے کی نسل در نسل حفاظت کرتا آ رہا ہے۔

    باغی ٹی وی :دی ایکسپریس ٹریبون کے مطابق اس خاندان کے 45 سالہ فرد ماریو بروشی نے اے ایف پی کو بتایا کہ میرے پڑ پڑ دادا کوسووو کے شہر جا کو ویکا میں ایک نئے گھر کے لیے زمین کھود رہے تھے جب انہیں وہاں دفن ایک شخص کی بالکل سالم لاش اور ایک انتہائی چھوٹا قرآن اُس کے دل کی جگہ پر رکھا ہوا ملا قرآن پاک اور لاش کو یوں بالکل محفوظ حالت میں ملنا ہمارے خاندان کے لیے خدا کا ایک معجزہ تھا جس سے پورا خاندان ہی متاثر ہوا اور اس نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا-

    کینیڈا: البرٹا میں کئی مقامات پر لگی جنگلات کی آگ بے قابو ہوگئی ،ایمرجنسی نافذ

    ماریو بروشی نے مزید بتایا کہ ان کے دادا جو 1930 کی دہائی میں البانیہ کے بادشاہ زوگ کی فوج میں ایک افسر تھے، عربی جانتے تھے اور ہر رات دوستوں کو اس قرآن کی تلاوت کے لیے اپنے گھر بلاتے تھے تاہم کچھ عرصے بعد اینور ہوجا کی کمیونسٹ حکمرانی میں تمام مذاہب پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی اور ان کے ماننے والوں کو قید کرنا شروع کردیا گیا لیکن یہ قرآن بچ گیا کیونکہ اسے آسانی سے چھپایا جا سکتا تھا۔

    ماریو بروشی نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بار کسی نے خفیہ طور پر پولیس کو اطلاع دے دی تھی کہ ہمارے گھر میں قرآن موجود ہے مگر چونکہ یہ قرآن کافی چھوٹا ہے اس لیے میرے والد اسے چھپانے میں کامیاب ہو گئے پولیس والوں نے پورا گھر تہس نہس کر دیا مگر قرآن کو ڈھونڈنے میں ناکام رہے، جس کے بعد آج تک ہم اس قرآن کی حفاظت کا اہتمام نسل در نسل پوری لگن سے کرتے آ رہے ہیں-

    شمسی توانائی سے چلنے والے ماحول دوست ”شمسی چولہے“

    ماریو بروشی نے یہ بھی بتایا کہ ’اس چھوٹے سے قرآن کریم کے نسخے میں بہت سی کہانیاں، برکات اور معجزات ہیں ماریو کی اہلیہ قرآنِ کریم کے حوالے سے کہتی ہیں کہ ’جب بھی میں اسے چھوتی ہوں، میں خود کو محفوظ سمجھتی ہوں قرآن ہمارے لیے خوش قسمتی لایا ہے، جب بھی میری بیٹیاں بیمار ہوتی ہیں یا کچھ بھی برا ہوتا ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں ہوتی کیونکہ ہمیں یہ یقین ہے کہ قرآن ہماری حفاظت کرے گا-

    ماریو ہر روز قرآن کو بوسہ دینے سے پہلے اپنے ہاتھ اور منہ کو دھوتے ہیں اور بوسہ دینےکے بعد اُسے اپنی پیشانی سے لگاتے ہیں یہ صرف دو سینٹی میٹر (0.7 انچ) کا ہےسائنسی تجزیےکی عدم موجودگی میں قرآن کو تاریخ میں لانا مشکل ہےلیکن ترانہ کی بیڈر یونیورسٹی میں قرآنی علوم کے محقق ایلٹن کاراج کے مطابق – 900 صفحات پر مشتمل یہ نسخہ کم از کم 19ویں صدی سے موجود ہے اس کی اشاعت 19ویں صدی کے آخر تک کی گئی ہے اور اب تک کے ریکارڈ میں موجود دنیا کے سب سے چھوٹے ترین قرآن میں سے ایک ہے۔

    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات …

    کاراج نے کہا کہ یہ قرآن ایک بہت ہی چھوٹی شکل میں چھاپا گیا تھا، جو دنیا کی سب سے چھوٹی کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کی ظاہری شکل سے، اس کی اشاعت 19ویں صدی کے آخر تک کی گئی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی کام ہے، بہت قیمتی ہے۔ یہ خوش قسمتی ہے کہ یہ نسخہ البانیہ میں ہے-

    ماریو بروشی نے بتایا کہ اس چھوٹے قرآن کریم کے حصول کے لیے ہمیں اب تک کئی پیشکشیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے کچھ عجائب گھروں سے آئیں لیکن اس خاندان نے تمام آفرز کو ٹھکرا دیا۔

    ساس نے حاملہ بہو کو زندہ جلا دیا

  • مولانا وحیدالدین خاں کا یوم وفات

    مولانا وحیدالدین خاں کا یوم وفات

    مولانا وحیدالدین خاں: یکم جنوری، 1925ء کو بڈھریا اعظم گڑھ، اتر پردیش بھارت میں ولادت ہوئی۔ مدرسۃ الاصلاح اعظم گڑھ کے فارغ التحصیل عالم دین، مصنف، مقرر اورمفکر جو اسلامی مرکز نئی دہلی کے چیرمین، ماہ نامہ الرسالہ کے مدیر ہیں اور1967ء سے 1974ء تک الجمعیۃ ویکلی(دہلی) کے مدیر رہ چکے ہیں۔


    آپ کی تحریریں بلا تفریق مذہب و نسل مطالعہ کی جاتی ہیں۔ خان صاحب، پانچ زبانیں جانتے ہیں، (اردو، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی) ان زبانوں میں لکھتے اور بیان بھی دیتے ہیں، ٹی وی چینلوں میں آپ کے پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ مولانا وحیدالدین خاں، عام طور پر دانشور طبقہ میں امن پسند مانے جاتے ہیں۔ ان کا مشن ہے مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا۔ اسلام کے متعلق غیر مسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کرنا۔ مسلمانوں میں مدعو قوم (غیر مسلموں) کی ایذا وتکلیف پر یک طرفہ طور پرصبر اور اعراض کی تعلیم کو عام کرنا ہے جو ان کی رائے میں دعوت دین کے لیے ضروری ہے۔
    ماہ نامہ الرسالہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    الرسالہ نامی ایک ماہ نامہ جو اردو اور انگریزی زبان میں شائع کیا جاتا ہے۔ الرسالہ (اردو) کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح اور ذہنی تعمیر ہے اور الرسالہ (انگریزی) کا خاص مقصد اسلام کی دعوت کو عام انسانوں تک پہنچانا ہے، دور جدید میں الرسالہ کی تحریک، ایک ایسی اسلامی تحریک ہے جو مسلمانوں کو منفی کاروائیوں سے بچ کر مثبت راہ پر ڈالنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہے۔ مولانا لکھتے ہیں کہ
    1976ء میں الرسالہ کے اجراء کے بعد سے جو کام میں کررہاہوں،اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ میں مسلمانوں کو یہ سبق دے رہاہوں،کہ وہ منفی سوچ سے اوپر اٹھیں اور مثبت سوچ کا طریقہ اختیار کریں۔
    الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن مولانا کی دختر محترمہ ڈاکٹر فریدہ خانم کی تنہا کوششوں سے 1984ء میں جاری ہوا اور اب تک جاری ہے،مولانا کی اردو کتب کے جو انگریزی ترجمے شائع ہوئے ہیں وہ تمام تر ڈاکٹر فریدہ خانم کی تنہا کوششوں کا نتیجہ ہے۔ جس کا اعتراف مولانا نے اپنی ڈائری (1990ء – 1989ء) کے صفحہ 85 میں کیاہے۔
    سفرنامے
    ۔۔۔۔۔
    آپ کے سفر نامے کافی مشہور ہیں۔ جیسے سفرنامہ غیر ملکی اسفار جلد اول ودوم، سفرنامہ اسپین وفلسطین، اسفار ہند وغیرہ۔
    افکار ونظریات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    خان صاحب لکھتے ہیں کہ:(میری پوری زندگی پڑھنے،سوچنے اور مشاہدہ کرنے میں گزری ہے۔ فطرت کا بھی اور انسانی تاریخ کا بھی۔ مجھے کوئی شخص تفکیری حیوان کہہ سکتاہے۔ میری اس تفکیری زندگی کا ایک حصہ وہ ہے جو الرسالہ یا کتب میں شائع ہوتا رہاہے۔ اس کا دوسرا،نسبتاً غیر منظم حصہ ڈائریوں کے صفحات میں اکھٹا ہوتا رہاہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ میری تمام تحریریں حقیقتاً میری ڈائری کے صفحات ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ لمبی تحریروں نے مضمون یا کتاب کی صورت اختیار کرلی۔ اور چھوٹی تحریریں ڈائریوں کا جزء بن گئیں۔)
    ان سب کے باوجود مولانا کی کچھ تحریریں اور ونظریات ایسے ہیں جن کی وجہ سے اہل علم ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔ اختلاف معمولی نہیں ہے بہت سی باتوں میں یہ جمہور علما اسلام سے الگ رائے رکھتے ہیں۔ جیسے انسان کامل، جہاد، دجال، مہدی، ختم نبوت کا مفہوم، ظلم کو برداشت کرنا اور جوابی کارروائی سے گریز کی تلقین، تقلید شخصی، وغیرہ
    اوراق حیات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    خود نوشت سوانح حیات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مولانا وحید الدین خاں کی خودنوشت تحریروں پر مبنی سوانح عمری "اوراق حیات” شائع ہوگئ ہے، جو ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے. اس کتاب کو اردو زبان معروف سوانح نگار شاہ عمران حسن نے دس سال کی طویل محنت کے بعد مرتب کیا ہے . اس جاں گسل کام پر تبصرہ کرتے ہویے مولانا وحید الدین خاں نے ایک بار کہا کہ جو کام میں پوری زندگی نہ کر سکا اسے شاہ عمران حسن صاحب نے کیا ہے۔
    کتب و رساہل
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کتب
    ۔۔۔۔۔
    خاں صاحب نے عصری اسلوب میں 200 سے زائد اسلامی کتب تصنیف کی ہیں۔ جو آپ کی علمی قابلیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ ان میں سے چند قابل ذکر تصانیف مندرجہ ذیل ہیں۔
    تذکیر القرآن
    اللہ اکبر
    الاسلام
    الرّبانیہ
    حقیقت حج (اردو اورعربی)
    پیغمبر انقلاب
    رازِ حیات
    مذہب اور سائنس
    مذہب اور جدید چیلنج
    ہند۔ پاک ڈائری (2006)
    اسلام دور جدید کا خالق
    عقلیات اسلام
    علما اور دور جدید
    تجدید دین
    سفرنامہ غیر ملکی اسفار جلد اول
    سفرنامہ غیر ملکی اسفار،جلد دوم
    سفرنامہ اسپین وفلسطین
    اسفار ہند
    خلیج ڈائری
    ڈائری جلد اول(1983-1984)
    ڈائری( 1989- 1990)
    ڈائری(1991-1992)
    فسادات کا مسئلہ
    سوشلزم اور اسلام
    مطالعہ قرآن
    تعبیر کی غلطی
    دین کی سیاسی تعبیر
    اظہارِ دین
    عربی کتب و تراجم[ترمیم]
    القضیۃ الکبری
    قضیۃ البعث الإسلامۃ
    واقعنا ومستقبلنا فۃ ضوء الإسلام
    الإسلام يتحدی
    من نحن
    عليکم بسنتی
    إمکانات جديدۃ للدعوۃ الإسلاميۃ
    التفسير السياسی للدين
    تاريخ الدعوۃ إلي الإسلام
    خطأ في التفسير
    مأساۃکربلاء الحسن والحسين
    نوٹ:الاسلام یتحدی:(مذہب اور جدید چیلنج) پانچ عرب ملکوں:(قطر، قاہرہ ،طرابلس، خرطوم اورتیونس) کی جامعات میں داخل نصاب ہے۔