Baaghi TV

Tag: اسلام

  • شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد — بلال شوکت آزاد

    شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد — بلال شوکت آزاد

    شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد جانتے ہیں کیا ہے؟

    اس کا ہماری خواہشات و توقعات کے تابع نہ ہونا اور ہماری فطرت اور جبلت کے عین مطابق ہونا ہے۔

    لچک اور حجت اس دین کا خاصہ ہے جبکہ چمک اور شدت کا اس سے دور کا بھی رشتہ نہیں۔

    اب ذرا غور کریں کہ ہم اس وقت جس اسلام (کہنا تو مسلک, فرقہ اور جماعت چاہیے پر چلو۔ ۔) پر کاربند ہیں کیا وہ ہماری فطرت اور جبلت کے مطابق ہے اور اس پر ہماری خواہشات اور توقعات اثر انداز نہیں؟

    کیا اس میں لچک اور حجت غالب ہے یا چمک اور شدت سے لبریز اسلام ہے ہمارے پاس؟

    اسلام کوئی راکٹ سائنس نہیں یہ بات ازحد ضروری ہے سمجھنے اور ماننے کے لیے لیکن ایسا تب تک ممکن نہیں جب تک ہمارا اسلام (درحقیقت مسالک وغیرہ یا مبینہ اسلام) اس کسوٹی پر پورا نہ اترے کہ فطرت اور جبلت کے مطابق ہے اور ہماری خواہشات و توقعات کے تابع نہیں بلکہ ہماری خواہشات و توقعات اس کے تابع ہیں۔

    اسلام جذبات کی نمائش کا دین نہیں تھا لیکن ہماری صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ یہ ایک جذباتی دین ہے جو کہ سراسر غلط اور تعمیر شدہ تصویر ہے۔

    ہمارے متشدد جذبات و احساسات کا غلبہ ہمارے دین اور امت کی حالت زار کا اصل ذمہ دار ہے۔

    اسلام نے کسی عمل کو شدت سے جوڑنے اور اس پر فخر کا حکم یا مشورہ نہیں دیا لیکن ہم ہیں کہ ہماری ہر بات ہی کاٹنے پیٹنے اور مار ڈالنے سے شروع ہوتی ہے تو اختتام کیسے اچھا اور خوشنما ہو؟

    بہرحال موحودہ دور میں اسلام سے اسلام کے نام پر مخصوص طبقے کا کھلواڑ جاری ہے جو اسلام کو بطور اوزار اور ہتھیار ذاتی مفادات کی جنگ جیتنے کا ذریعہ بنا کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم نہ ہوئے تو اسلام عنقاء ہوجائے گا جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

    اسلام کے تابع ہونا تھا نا کہ اس کو اپنے تابع کرنا تھا, یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ہم جان بوجھ کر سمجھنا اور ماننا نہیں چاہ رہے۔

  • جنرل ضیاءالحق شہیدکون تھا..؟تحریر:-علی عمران شاہین

    جنرل ضیاءالحق شہیدکون تھا..؟تحریر:-علی عمران شاہین

    شہید جنرل ضیاء الحق رحمہ اللہ وہ تھا

    *۔۔۔۔۔۔جس نے1977میں ملک کو انتہائی نازک مرحلے جب پر طرف افراتفری و خونریزی جاری تھی بروقت ایکشن کرکے ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچایا تھا،
    *۔۔۔۔۔۔جس نے ملک سے تمام علیحدگی پسند باغی گروپوں کو انتہائی اعلیٰ حکمت عملی سے دوبارہ قومی دھارے میں لا کر محب وطن بنا تھا۔تب نسیم ولی خان مٹھائی کےٹوکرے لے کر اسلام آباد ایوان صدر پہنچی تھی۔
    *۔۔۔۔۔۔اتنا شریف و ملنسار تھا کہ جی ایم سید کو اس کے آبائی علاقے سن سندھ میں گھر جا کر ملا اور ذوالفقار علی بھٹو کے جبر سے نجات کے لئے جاری سندھ علیحدگی کی سب سے بڑی اور منظم ترین تحریک” سندھو دیش” کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔
    *۔۔۔۔۔۔ذوالفقار علی بھٹو کے ظلم سے ستائے اور علیحدگی و دہشت گردی پر آمادہ و پیادہ افغانستان مفرور بلوچ اور پشتون طبقات کو واپس ملک لایا تھا،ظالمانہ حیدر آباد ٹریبونل ختم کیا،ہزاروں شہریوں کی قاتل ایف ایس ایف ختم کی۔
    *۔۔۔۔۔۔ذوالفقار علی بھٹو کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے جیلوں میں پڑے دسیوں ہزار بےگناہ سیاسی کارکنوں اور شہریوں کو رہائی عطا کی۔
    *۔۔۔۔۔۔۔جس نے پہلی بار صوم و صلوۃ و زکوۃ کا سرکاری اہتمام و حکم جاری کیا،صلا ۃ کمیٹیاں محلے کی سطح تک بنیں ،نماز کا سرکاری سطح پر باقاعدہ حکم جاری کرکے ادائیگی شروع کروائی، زکوٰۃ و عشر کمیٹیاں بنیں، زکوٰۃ کی حقداروں تک تقسیم کا نظام تشکیل دیا۔
    *…..قومی مجلس شوریٰ تشکیل پائی جو جید علمائے کرام و اسکالرز پر مشتمل تھی کہ کوئی کام غیر اسلامی نہ ہو اور اگر ہو تو اسے روکا جاسکے۔
    *…..توہین مذہب و توہین اسلام ، توہین نبی مکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،انبیائے کرام علیھم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرباقاعدہ سزا کے قوانین متعارف کروائے جو آج تک موجود اور دشمنوں کے لیے سردردی کا باعث ہیں۔
    *۔۔۔۔۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کرکےقادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی،ملک میں حدود آرڈیننس سمیت بےشماراسلامی قوانین بنوائے اور رائج کئے۔
    ،سرکاری افسران کے رویے پر احتساب کا نظام بنایا
    *۔۔۔۔۔۔۔ہر تقریب کے آغاز میں تلاوت اور نعت کا اہتمام شروع کروایا، جو آج بھی ہر جگہ رائج ہے۔
    *۔۔۔۔۔۔۔فوج کو ایمان تقویٰ جہاد فی سبیل للہ کا ماٹو دیا،فوج کو پاکستانی رنگ میں رنگا،قرآنی جہادی آیات و احادیث ہر طرف عام کیں ،فوجی کاشن تک اردو میں جاری کروائے،
    *۔۔۔۔۔۔نئی اسلامی صدی کے آغاز پر اقوام متحدہ میں تقریر کی تووہاں پہلی اور تاحال آخری بار تلاوت قرآن کا اہتمام کروایا
    *۔۔۔۔۔۔ ملک کا وقار اتنا بلند کیا کہ پندرویں صدی ہجری کے آغاز پر اقوام متحدہ میں خصوصی عالمی اجلاس ہوا تو سارے عالم اسلام نے انہیں متفقہ طور پر اپنا لیڈر تسلیم کرتے ہوئے بطور نمائندہ عالم اسلام وہاں خطاب کے لیے چنا اور انہوں نے اس کا حق ادا کیا۔
    *۔۔۔۔۔۔انتہائی خفیہ مہارت سے تیزی کے ساتھ ایٹمی پروگرام مکمل کیا اور ملک کو ایٹمی قوت بنا دیا، جس کا اظہار ڈاکٹر عبد القدیر خان سمیت سبھی ایٹمی سائنسدان برملا کرتے رہے ۔
    *۔۔۔۔۔روس کے خلاف جہاد لڑ کر6 مسلم ریاستیں آزاد کروائیں،جہاں اسلام کو جڑ سےاکھاڑ دیا گیا تھا وہاں دوبارہ اسلام زندہ کردیا۔دنیا میں ناہید ہوچکا نظریہ جہاد زندہ کیا، وسط ایشیا کی مسلم ریاستیں آج بھی انہیں اپنا محسن اعظم سمجھتی ہیں۔
    *۔۔۔۔۔۔کیمونزم کا دنیا سے خاتمہ کردیا،اسی سے یوگو سلوایہ ٹوٹا اور بوسنیا و کوسووا کی شکل میں دو نئے مسلمان ملک یورپ میں بن گئے۔
    *….. ملک کے آئین میں اسلامی حدود آرڈینینس سمیت بہت سے اسلامی قوانین متعارف و داخل کئے، وفاقی اسلامی شرعی عدالت اس کے سپریم کورٹ و ہائیکورٹ بینچز بنائے اور اسلامی نظریاتی کونسل تشکیل دے کر انہیں آئینی حیثیت دی۔
    *۔۔۔۔۔۔دینی طبقات کو بلا تفریق مسلک مضبوط کیا ۔
    مدارس کو بڑے پیمانے پر زمینیں مالی تعاون فراہم کیا،
    بے شمار نئے مدارس بنائے،
    مدارس کی سند کو ڈبل ایم اے تسلیم کیا اور دسیوں ہزار علمائے کرام سرکاری استاد و پروفیسر بنے۔
    (یہ سب اب ختم ہوچکا)
    *۔۔۔۔۔ معاشی استحکام اتنا رہا کہ 11سال میں کوئی چیز معمولی مہنگی نہ ہوئی، بھٹو نے جو زمانہ جنگ کا نظام خوراک بذریعہ راشن سسٹم لاگو کر رکھا تھا اسے مکمل ختم کر دیا۔ہر چیز ہر شخص کو عام خریدنےکی آزادی ملی جو پہلے نہ تھی۔
    *۔۔۔۔۔۔امریکا سے مالی و معاشی تعاون بھی لیا اور کبھی امریکا کو مداخلت کی اجازت بھی نہ دی
    *۔۔۔۔۔۔کشمیر اور خالصتان کی آزادی کی تحریکوں کا آغاز کرکے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا، جو آج بھی بھارت کے گلے کی ہڈی ہیں اور ان کی وجہ سے بھارت اس کے بعد پاکستان ہر کھلی جارحیت کبھی نہ کر سکا۔
    سارک تنظیم تشکیل دے کر بھارت کو ایک نئے جال میں پھنسا دیا جس میں آج تک ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔
    *۔۔۔۔۔۔سرکاری مال سے خود اور اپنے خاندان کو اس قدر دور اور صاف رکھا کہ شہادت کے وقت نہ اپنا ذاتی گھر تھا نہ پلاٹ نہ کوئی جائیداد، پینشن کے پیسوں سے نیا گھر بنا، اولاد وہاں منتقل ہوئی اور تب تک چودھری شجاعت کے گھر اہل خانہ مقیم رہے کہ بے نظیر نے اقتدار میں آتے ہی سرکار گھر خالی کروا لیا تھا۔
    *انہی جرائم پر بالآخر جام شہادت نوش کیا..
    حق مغفرت فرمائے عجب آزاد مرد تھا

    جنرل ضیاء الحق شہید کون تھا……. ؟؟
    #حق #سچ۔۔۔۔۔(علی عمران شاہین)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • سراپا عدل رضی اللہ عنہ (حیات، فضائل اور شہادت) — حافظ گلزارعالم

    سراپا عدل رضی اللہ عنہ (حیات، فضائل اور شہادت) — حافظ گلزارعالم

    کیا آپ کو معلوم ہے؟

    وہ کون شخصیت ہیں جو انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں۔ جن کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا۔ جنھیں سروردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے مانگا تھا۔ جو اپنی رائے دیتے اور اللہ اسی رائے کے موافق قرآن کی آیات نازل فرماتے۔ جو محبوب رب العالمین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سسر ہیں ، جو ہجری تقویم کے بانی ہیں۔جن کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔ جن کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔ جنھوں نےاپنی مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کمال خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا، جو خلیفہ وقت ہونے کے باوجود روکھی سوکھی کھایا کرتے، کپڑوں پر پیوند لگے ہوتے، زمین پر استراحت فرماتے مگر رعب و دبدبہ اتنا کہ قیصر و کسری پر آپ کا نام سن کر ہی کپکپی طاری ہوجاتی، جو جس راستے سے جاتے شیطان اس رستے کے قریب بھی نہ پھٹکتا ۔ جن کے بارے میں خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرے بعد اگر کوئ نبی ہوتا تو یہ ہوہوتے۔ یہ ہیں سیدنا ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی رضی اللہ عنہ۔

    آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں، عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، آپ کا شمار علماء و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ آپ کا عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔

    آپ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ آپکی ہر صفت بے مثال تھی۔ اسلام لانے سے قبل پڑھے لکھے عظیم سرداروں میں اور بہادر ترین افراد میں آپکا شمار ہوتا تھا۔ اور اسلام لانے کے بعد اپنی ساری سرداری، بہادری، عدالت، ذکاوت ، سخاوت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قدموں پر قرباں کردی۔

    نام و نسب
    سلسلہ نسب یہ ہے: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن زراع بن عدی بن کعب بن لوی بن فہر بن مالک آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے

    پیدائش
    امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ آپ کی ولادت شریف عام الفیل کے تیرہ سال بعد ہوئی ۔ (تاریخ الخلفاء :ج1،ص43)
    مشہور روایت کے مطابق آپ ہجرت سے چالیس برس قبل پیدا ہوئے۔ آپ کے بچپن کے حالات نا معلوم ہیں۔ کسے معلوم تھا کہ آج کا یہ بچہ کل بائیس لاکھ مربع میل پر حاکم ہوگا، اور شرق و غرب میں اسکے نام کا ڈنکا بجے گا۔

    تعلیم
    عرب میں نسب دانی،سپہ گری،پہلوانی اور مقرری کا نہ صرف رواج تھا بلکہ یہ امور باعث شرافت سمجھےجاتے تھے۔ چنانچہ آپ کے باپ دادا نامور نساب تھے، آپ نے اپنے والد سے نسب دانی سیکھی۔ پہلوانی اور کشتی میں بھی کمال حاصل کیا، یہانتک کہ عکاظ کے دنگل میں آپ اپنی پہلوانی کے جوہر دکھاتے۔ عکاظ جبل عرفات کے قریب ایک مقام تھا جہاں ہر سال اہل فن اپنے کمالات کا اظہار کرتے تھے۔ آپ بہترین مقرر اور اعلی شاعر بھی تھے۔ اور آپ کا شمار ان سترہ افراد میں ہوتا ہے جو بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔

    قبول اسلام
    ابتداء اسلام میں آپ اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید ترین مخالفین میں سے تھے۔ یہانتک کہ اپنی کنیز لبینہ کے اسلام لانے پر انکو سخت ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ مگر

    اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
    اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤگے

    مشرکین مکہ نے اسلام کو روکنے کی جتنی تدبیریں اختیار کیں، اسلام اتنا ہی پھیلنے لگا ۔ یہ صورتحال دیکھ کر مکہ کے مشرک سرداروں نے فیصلہ کیا کہ کہ معاذاللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا جائے،جسکے لئے کوئ تیار نہ ہوا۔ مگر عمر رضی اللہ عنہ اس پر آمادہ ہوئے، اور تلوار لے کر نکل پڑے۔ رستے میں آپ کے بدلے تیور دیکھ کر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہاں جارہے ہیں، آپ نے کہا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قتل کرنے( معاذاللہ)،یہ سن کر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لیجئے آپکی بہن فاطمہ اور بہنوئ سعید بن زید رضی اللہ عنھما بھی اسلام قبول کرچکے ہیں۔ یہ سن کر آپ کے غصے کی انتہا نہ رہی، شدید غصے کی حالت میں گھر گئے، دیکھا کہ آپکی بہن قرآن کریم کے اجزاء لیکر تلاوت کرہی ہیں۔ انہوں نے آپکو دیکھتے ہی وہ اجزاء چھپائے،مگر آپ نے آواز سن لی تھی، آپ نے کہا مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم دونوں مرتد ہوگئے ہو، یہ کہہ کر اپنے بہنوئ سعید سے دست وگریباں ہوئے،بہن فاطمہ رضی اللہ عنھا بچانے آئ تو انہیں بھی اتنا مارا کہ لہولہان کردیا۔ بہن نے کہا جو کرسکتے ہو کرلو،ہم دین اسلام نہیں چھوڑ سکتے۔ ان الفاظ نے آپ کے دل پر گہرا اثر کیا۔ اور بہن کا خون آلود بدن دیکھ کر مزید دل نرم ہوا۔ فرمایا: لاؤ، مجھے دکھاؤ تم کیا پڑھ رہے تھے۔ فاطمہ رضی اللہ عنھا نے قرآن کریم کے اجزاء سامنے رکھے، جن پر یہ آیات تھیں:

    سبح لله ما فی السموت والأرض وھو العزیز الحکیم
    ( جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے)
    ایک ایک لفظ پر ان کا دل اسلام کی طرف مائل ہوتا گیا۔ اور جب اس آیت پر پہنچے:
    آمنوا باللہ ورسولہ
    ( اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ)
    تو بے اختیار زبان پر کلمہ جاری ہوا:
    اشھد أن لا الہ الا اللہ وأشھد أن محمداً رسول اللہ
    آپ کے اسلام کا سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نعرۂ تکبیر بلند کیا، آپ کے ساتھ سب صحابہ نے بھی خوشی سے اللہ اکبر کہا۔
    آپ کے اسلام لانے سے تاریخ اسلام کا نیا دور شروع ہوا،مسلمانوں کو حوصلہ ملا، اسلام کو قوت ملی۔ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں
    "فلما أسلم عمر قاتل قریشا حتی صلی عند الکعبۃ وصلینا معہ”
    ” جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لاۓ تو قریش کا مقابلہ کیا یہانتک کہ ببانگ دہل کعبۃ اللہ میں نماز پڑھی، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔

    سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام لا نے کے بعد6 نبوی میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کیا ،اس وقت آپ کی عمر مبارک ستائیس 27 سال تھی ۔ (تاریخ الخلفاء :ج1،ص:43۔ الاکمال فی اسماء الرجال)

    فضائل
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر آپکے وہ فضائل بیان فرماۓ،جو آپ ہی کا خاصہ ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

    1-میرے بعد جو دو(خلفاء )ہیں، ان کی اقتداء کرو یعنی ابوبکر اورعمر رضی اللہ عنہما ۔ (جامع الترمذی)
    2-بے شک اللہ تعالی نے عمررضی اللہ عنہ کی زبان اور قلب پر حق کو جاری فرمادیا ہے ۔ (جامع الترمذی)
    3-عمر! شیطان تم کو دیکھتے ہی راستہ کاٹ جاتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح المسلم)
    4-میری امت میں اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر ہیں۔( جامع الترمذی )
    5-حضرت علی رضی الللہ عنہ سے روایت ہے ، فرمایا:” بے شک عمر فاروق جب کوئی بات کہتے یں تو قرآن اُن کی بات کی تصدیق کے لیے نازل ہوتا ہے ۔”
    6-حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ’’ یا رب ! اسلام کو خاص عمر بن خطاب ؓ کے ذریعے غلبہ وقوت عطا فرما۔‘‘ (المستدرک حاکم)

    شہادت
    مدینہ منورہ میں ایک پارسی غلام تھا،جس کا نام ابو لؤلؤ فیروز تھا۔ اس نے آپ سے شکایت کی کہ میرے آقا مغیرہ بن شعبہ نے مجھ پر بڑا بھاری محصول مقرر کیا ہے۔ آپ نے پوچھا کتنا؟ اس نے کہا روزانہ دو درہم۔ آپ نے کہا کیا کام کرتے ہو؟ اس نے کہا بڑھئ، رنگسازی اور لوہار کا کام۔ آپ نے کہا تین پیشوں کے حساب سے یہ محصول تو مناسب ہے۔ وہ غلام آپکے اس فیصلے پر سخت ناراض ہوا۔

    ایک دن فجر کی نماز کی امامت کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑھے، جونہی نماز شروع کی۔ فیروزنے اچانک گھات سے نکل کر آپ پر چھ وار کئے، ایک وار آپکےناف کے نیچے لگا۔ حضرت عمر نے فورا حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کو ہاتھ سے پکڑ کر آگے کیا، انہوں نے نماز مکمل کی۔ اور آپ اس دوران لہولہان حالت میں تڑپتے رہے۔

    فیروز کو اس دوران پکڑنے کی کوشش کی، مگر اس نےاس خنجر سے اور افراد کو بھی زخمی کیا، اور جب پکڑا گیا تو اس نے خودکشی کی اور جہنم واصل ہوا۔
    سب سے پہلے آپنے پوچھا کہ میرا قاتل کون ہے؟ آپکو بتایا گیا کہ فیروز نظامی پارسی غلام۔ آپ نے الحمدللہ کہا، کہ شکر ہے کوئ اسلام کا دعویدار میرا قاتل نہیں۔

    ایک طبیب بلایا گیا جس نے آپکو نبیذ اور دودھ دیا، دونوں چیزیں زخم کی راہ سے باہر نکل آئیں۔ آپ کو یقین ہوگیا کہ اب آپ جانبر نہیں ہوسکتے، لہذاحضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے اجازت چاہی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جگہ عنایت کردیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے روتے ہوۓ کہا کہ یہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی تھی۔ مگر میں آج آپکو خود پر ترجیح دیتی ہوں۔

    آپ نے فرمایا: "یہی میری سب سے بڑی آرزو تھی”

    تین دن بعد آپکا انتقال ہوا۔
    انا لله وانا الیہ راجعون

    مشہور تاریخی روایات سے یہی بات ثابت ہے کہ 23 ہجری 26 یا27 ذوالحجہ کو نماز فجر میں سیدنا فاروق اعظمؓ پر ابولؤلؤ فیرزو مجوسی ملعون نے حملہ کیا اور تین دن کے بعد یکم محرم الحرام کو امیرالمومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا۔صحیح قول کے مطابق بوقت شھادت انکی عمر مبارک 63 سال تھی ۔ آپؓ کی مدتِ خلافت دس سال،چھ ماہ تین دن پر محیط ہےیکم محرم الحرام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کئے گئے۔

    حضرت علی رضی اللہ عنہ آپکے جنازے پر آئے اور فرمایا: دنیا میں مجھے سب سے محبوب وہ شخص تھا جو اس کپڑے میں لپٹا ہوا ہے۔

    حضرت ام ایمن رضی اللہ عنھا نے کہا: اب اسلام کمزور ہوگیا۔

    سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اب میں اسلام پرروتا ہوں۔ آپکی موت سے اسلام میں وہ دراڑ آئ جو کبھی بھری نہیں جاسکتی۔
    اللہ ہمیں آپکے نقش قدم پر چلائے۔ آمین

    آپ کی مرقد پر بے شمار رحمتیں ہوں ۔ آمین

  • اسلام اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں — نعمان سلطان

    اسلام اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں — نعمان سلطان

    اللہ پاک اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب بھی ذکر آیا ہے رب العالمین اور رحمت العالمین آیا ہے. یعنی رب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کے لئے ہیں.

    کسی جگہ بھی صرف مسلمانوں کا رب یا صرف مسلمانوں کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذکر نہیں آیا لیکن ہم لوگ اسلام کے خودساختہ ٹھیکیدار بن گئے.

    اگر اللہ پاک اپنی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود لوگوں کو بشمول مسلمان رزق دے رہا ہے ان پر اپنی عنایات کی بارش کر رہا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں کسی پر تنقید کرنے والے اور اس کے ایمان کا فیصلہ کرنے والے.

    لیکن اس کے برعکس ہم نے لوگوں کے افعال کی بنیاد پر ان کے ایمان کا فیصلہ کر کے موقع پر ان کے ساتھ فوری انصاف کر کے دنیا میں اسلام کے بارے میں منفی تاثر کو اجاگر کیا.

    جب بھی کہیں بھی شدت پسندی کا ذکر آتا ہے تو توجہ بےاختیار مسلمانوں کی طرف چلی جاتی ہے اس کی وجہ دنیا بھر میں بننے والا ہمارا تنگ نظری اور شدت پسندی کا امیج ہے.

    دین اسلام میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کو وضاحت سے بیان کیا گیا.. ساتھ ہی حقوق اللہ پر یہ کہہ کر حقوق العباد کو فوقیت دی گئی کہ روزمحشر اللہ پاک حقوق اللہ کی ادائیگی میں کوتاہی کو تو اپنی رحمت سے درگزر کر دے گا.

    لیکن اگر کسی نے حقوق العباد کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی کی تو جب تک وہ شخص جس کا مذکورہ شخص نے حق غضب کیا اسے معاف نہیں کرے گا اللہ پاک بھی اس شخص کو معاف نہیں کرے گا.

    یہ بات تمام مسلمانوں کی تربیت کے لئے اللہ پاک نے تاکید سے بیان کی کیونکہ دنیا میں دین پھیلانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے قول و فعل سے دوسرے لوگوں کو متاثر کریں.

    لوگ آپ کی شخصیت دیکھ کر سوچیں کہ اگر یہ شخص اتنا اچھا ہے تو اس شخص کا دین کتنا اچھا ہو گا اور اس تجسس کی بنیاد پر وہ شخص دین کا مطالعہ شروع کرے اور آخرکار اسلام کی حقانیت کا قائل ہو جائے.

    لیکن ہم لوگوں نے اس کے بالکل برعکس طرزِ عمل شروع کر دیا.. ہماری ابتدا فرقہ ورانہ اختلافات سے شروع ہو کر اب اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ ہم کسی دوسرے شخص کا اپنے سے معمولی اختلاف رائے بھی برداشت نہیں کر سکتے.

    وہ دین جو ہمیں عفو درگزر کی تعلیم دیتا تھا اب ہم اس کے برعکس فوری بدلہ لینے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور کچھ وقت گزرنے کے بعد اپنے طرز عمل پر پچھتاتے ہیں کہ ہم نے جذبات میں آکر غلط قدم اٹھا لیا.

    جذبات میں آکر فوری ردعمل دے کر ہم اپنا اور دوسروں کا گھر خراب کرتے ہیں.. پہلے چند مخصوص موضوعات یا افعال ایسے ہوتے تھے جن پر لوگ فوری ردعمل دیتے تھے اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے تھے لیکن اب تو لوگوں کو عدم برداشت اور ردعمل دینے کے لئے بہانہ درکار ہوتا ہے.

    ہم میں عدم برداشت پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے موقف کو سنتے، سمجھتے اور برداشت نہیں کرتے ہیں.ہم لوگوں کے بارے میں ایک مخصوص سوچ قائم کر لیتے ہیں اور ان کے ہر عمل کو اسی سوچ کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور اس پر ردعمل دیتے ہیں.

    ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اگر کوئی بندہ دس باتیں غلط یا اختلافی کرتا ہے تو وہ ایک بات یا عمل ایسا کر دیتا ہے جو اس کے گزشتہ اعمال یا باتوں کا مداوا ہوتا ہے. ہم اس شخص سے اس کی دس غلط باتوں پر تنقید کے لئے نہیں ملتے بلکہ اس سے ایک صحیح بات حاصل کرنے کے لئے ملتے ہیں.

    ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہمارے عدم برداشت کے رویے کی وجہ سے دنیا میں ہمارا منفی امیج بن گیا ہے اور ہمیں خود میں برداشت پیدا کر کے اپنا امیج منفی سے مثبت کرنا ہے.

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بات پر ردعمل دینا ضروری نہیں ہوتا اگر آپ کو کوئی بات ناگوار یا اپنے عقائد کے خلاف محسوس ہوتی ہے تو آپ ایسی محفلوں میں جانے سے اجتناب کریں.

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے نظریے یا عقائد کے خلاف کوئی بات نہ ہو تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے ہم خیال لوگوں کی محفل اختیار کریں اور مزے کریں.

    اگر آپ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے ہم خیال لوگوں کی محفل سے باہر نکلنا پڑے گا اور خود میں تنقید سننے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا پڑے گا کیونکہ علم دنیا میں موتیوں کی طرح بکھرا ہوا ہے اور اسے ہر جگہ گھوم پھر کے حاصل کرنا پڑتا ہے.

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے نظریے کی ترویج ہو تو اس کے لئے ہمیں پہلے خود کو دنیا کے لئے قابل قبول بنانا پڑے گا اور اس کے بعد اپنے طرزِ عمل سے دوسروں کو متاثر کر کے انہیں اپنے نظریے کی طرف راغب کرنا پڑے گا اور یہ سب اس وقت ممکن ہو گا جب ہم میں برداشت پیدا ہو گی. نہیں تو لوگ یہ کہہ کر ہمارے نظریے سے دور ہوتے جائیں گے کہ اسلام تو اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں.

  • اسلام محنت کشوں کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے: سراج الحق

    اسلام محنت کشوں کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے: سراج الحق

    سراج الحق نے کہا ہے کہ اسلام محنت کشوں کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے۔عالمی یومِ مزدور کے موقع پر امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ محنت کش اللّٰہ تعالیٰ کا دوست ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر محنت کش کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا حکومت کا فرض ہے۔

    سراج الحق نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں 2 کروڑ سے زائد صنعتی و تجارتی ورکرز بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام محنت کشوں کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے، لاکھوں دیہاڑی دار مزدوروں کو آج تک کسی ادارے نے رجسٹرڈ نہیں کیا۔

    امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ گوادر کے ماہی گیروں کے مسائل اور مطالبات منظور کیے جائیں، مزدوروں کو ان کی محنت کا جائز معاوضہ ملنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج مزدوروں کا عالمی یوم مزدور منایا جارہا ہے، اس سلسلے میں تمام بڑے شہروں میں ریلیوں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔

    ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کا دن محنت کی حرمت عظمت کی علامت ہے، جبکہ یہ دن ہمیں شکاگو کے شہداء اور ان کی جبرو استبداد کے خلاف جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔

    عالمی یوم مزدور شکاگو میں مزدوروں کی جانب سے کئے جانے والے احتجاج پر امریکی حکومت کی جانب سے تشدد کے نتیجے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے مزدوروں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

    یکم مئی اٹھارہ سو چھیاسی میں چند مزدور رہنماؤں کی اپیل پر شکاگو کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے چار لاکھ مزدوروں کی جانب سے ہڑتال کی گئی، ہڑتال اس قدر کامیاب تھی کہ ایک امریکی اخبار نے لکھا کہ کسی ایک بھی فیکٹری کی چمنی سے دھواں اٹھتا دکھائی نہیں دیا۔

    مزدوروں کا مطالبہ تھا کہ ان کے کام کے اوقات 14 گھنٹے سے کم کر کے آٹھ گھنٹے کیے جائیں اور اس مطالبے میں مقامی، غیر مقامی، ہنر مند اور مزدور سب ہی شامل تھے مگر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی مزدور مارے گئے اور ان کی تعداد کے بارے میں اب تک درست معلومات نہیں۔

  • بھارت کی معروف سماجی کارکن وموٹیویشنل اسپیکرسبری مالا نے اسلام قبول کرلیا

    بھارت کی معروف سماجی کارکن وموٹیویشنل اسپیکرسبری مالا نے اسلام قبول کرلیا

    مکہ المکرمہ: تامل ناڈو کی معروف سماجی کارکن و ہندو موٹی ویشنل اسپیکر سبری مالا نے اسلام قبول کرلیا جس کا اعلان انہوں نے مکۃ المکرمہ پہنچ کر کیا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر سبری مالا ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں انہیں مسجد الحرام میں کعبہ کے سامنے کھڑے دیکھا جاسکتا ہے اور ویڈیو میں انہوں نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔

    یشما گل نے عمرے کی سعادت حاصل کرلی،غلاف کعبہ بھی تحفے میں مل گیا

    سبری مالا نے اپنا اسلامی نام فاطمہ سبری مالا رکھا ہے اور اسلام قبول کرنے کے بعد اُنہوں نے عمرے کی سعادت حاصل کی مکہ مکرمہ میں فاطمہ سبری مالا کو غلاف کعبہ پر کڑھائی کا موقع بھی ملا۔

    فاطمہ سبری مالا کا کہنا ہےکہ میں نے خود سے سوال کیا کہ میں مسلمانوں سے اتنی دشمنی کیوں کرتی ہوں اور اس طرح میں نے غیر جانبدار ذہن کے ساتھ قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا تو حقیقت کا علم ہوا، اور اب میں اسلام سے بہت زیادہ پیار کرتی ہوں

    دائرہ اسلام میں داخل ہونے والےسابق جنوبی کورین پاپ گلوکار کی عمرے کی تصاویر سوشل…

    فاطمہ سبری مالا نے کہا کہ مسلمان ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہے اور مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ تمام مسلمان خود بھی قرآن سے جڑیں اور دوسروں تک بھی اس کا پیغام پہنچائیں آپ کے ہاتھ میں ایک حیرت انگیز کتاب ہے یہ گھر میں کیوں چھپی ہوی ہے؟ دنیا کو اسے پڑھنا چاہیے-

  • بھارت: حجاب پرپابندی : چار سو سے زائد مسلم طالبات نے پڑھائی چھوڑ دی

    بھارت: حجاب پرپابندی : چار سو سے زائد مسلم طالبات نے پڑھائی چھوڑ دی

    ممبئی: بھارت: حجاب معاملہ ،مسلمانوں‌ کے لیے مزید مشکلات آنے لگیں ، ہرطرف خوف وہراس کی کیفیت ہے ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب پر پابندی کے خلاف بطور احتجاج اب تک 4سو مسلم طالبات نے پڑھائی چھوڑ دی دی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حجاب کی عظمت کی برقرار رکھنے کیلئے اپنی پڑھائی ترک کرنے والی ان طالبات کاکہناہے کہ ہم اپنا مستقبل داﺅ پر لگا سکتی ہیں لیکن حجاب معاملے میں سود نہیں کرسکیں۔ سینئر بھارتی سیاسی رہنما اور وی کے انگلش سکول کے چیئرمین وکیل خان نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ ایسی طالبات کی ہمت افرائی ضروری ہے اور ایمان و عقیدہ کی نگہبان لڑکیوں کے روشن مستقبل کیلئے جنگی بنیادوں پر تعلیمی اداروںکا قیام عمل میں لایا جانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم لڑکوں نے گزشتہ کچھ عرصے سے تعلیمی محاذپر جو نمایاںکامیابی حاصل کی ہے اس سے بوکھلا کر آر ایس ایس کی حکومت بے تکے اور اوچھے ہتھکنڈے آزما رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم کے باضمیر اور امیر طبقے کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمان طالبات کے لیے تعلیمی ادارے قائم کریں کیونکہ اندیشہ ہے کہ حجاب کا معاملہ اب پورے بھارت میں پھیلے گا۔ وکیل خان نے کہا کہ اگر ہم نے بروقت زخم کا علاج نہیں کیا تو یہ ناسور کی شکل اختیار کر جائے گا۔

    ادھر ذرائع کے کے مطابق ریاست کے ساحلی شہر منگلورو کے دو مندروں کے میلوں میں مسلم تاجروں کا بائیکاٹ کیا جا جا رہا ہے ۔ منگلا دیوی مندر اور بپاناڈو درگاہ پر میشوری مندر کے سالانہ میلوں میں مسلمان تاجروں کو دکانین لگانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس سلسلے میں مندروں کے باہر بینر لگائے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ غیر ہندوﺅں کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیںہوگی۔ ایک بینر میں یہ بھی لکھا ہے کہ ملک کے دستور کی مخالف اور گاﺅ کشی کرنے والوں کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ مسلمان تاجروں کا بائیکاٹ کرنے کے حوالے سے ہندو تنظیمیں مندروں کی انتظامیہ پر دباﺅ ڈال رہی ہے ۔

    کرناٹک کے ایک اور شہر شیموگہ میں بھی اس طرح کا ایک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ماری کنمبا مندر کے میلے میں ہر سال دکانوں کا ٹینڈر ایک غیر ہندو کے نام ہوتا تھا لیکن ہندو انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل کے ایک رہنما نے غیر ہندوﺅں کو ٹینڈر دینے کی مخالف کرتے ہوئے خود نو لاکھ سے زائد رقم دیکر ٹینڈر اپنے نام کر لیا ہے ۔

  • کپتان کا اسلام آباد میں جلسہ: کراچی سے پشاورتک کارکنان پہنچنےلگے:ٹرینوں کی بکنگ جاری

    کپتان کا اسلام آباد میں جلسہ: کراچی سے پشاورتک کارکنان پہنچنےلگے:ٹرینوں کی بکنگ جاری

    اسلام آباد(محمداویس)کپتان کا اسلام آباد میں جلسہ: کراچی سے پشاورتک کارکنان پہنچنےلگے:ٹرینوں کی بکنگ جاری ،اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے 27مارچ جلسے کے لیے پہلی بار ٹرینوںکی بکنگ کرالی گئی ،ریلوے خصوصی ٹرینیں چلائی جائیں گی جو تحریک انصاف کے کارکنان کو کراچی اور لاہور سے اسلام آبادمارگلہ ریلوے سٹیشن لا ئیں گی اور جلسہ ختم ہونے کے بعد کارکنان کوواپس کراچی او رلاہور لے کرجائیں گی، ریلوے اسٹیشن سے کارکنان کوبسوں کے ذریعے پنڈال میں پہنچایاجائے گا۔

    خبررساں ادارے کودستیاب دستاویزت کے مطابق تحریک انصاف حکومت نے 27مارچ کے اپنے جلسے جوکہ امربالمعروف کے عنوان سے کیاجارہاہے اس کے لیے پہلی بار ٹرینوں کے ذریعے کارکنان کولانے کافیصلہ کرلیاگیا ہے اس حوالے سے ایک ٹرین کراچی سے براستہ لاہور اسلام آباد مارگلہ ریلوے اسٹیشن پہنچے گی جبکہ دوسری ٹرین لاہور سے کارکنان کومارگلہ ریلوے اسٹیشن پہنچائے گی ۔

    کراچی سے پہلی ٹرین 26مارچ کوصیح9بج کر30منٹ پر نکلے گی اور حیدرآباد ،روہڑی اورخانیوال سٹاپ کرکے لاہور اگلے دن 27مارچ کوصبح 3بج کر30منٹ پر پہنچے گی جہاں پرآدھا گھنٹہ سٹاپ کرنے کے بعد صبح 4بجے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگی اوصبح 9بج کر 30منٹ پر مارگلہ ریلوے اسٹیشن پہنچے گی جبکہ دوسری ٹرین لاہور سے ٹرین صبح 4بج کر 30منٹ پر نکلے گی اورصبح 10بجے مارگلہ ریلوے اسٹیشن پہنچے گی جہاں سے کارکنان کوبسوں کے ذریعے پنڈال میں پہنچایاجائے گا۔

    27مارچ کو جلسہ ختم ہونے کے بعد رات کو ان دو ٹرینوں کے ذریعے کارکنان کوواپس لاہور اور کراچی پہنچایاجائے گا۔دونوں ٹرینیں کل 19مسافر کوچز پر مشتمل ہوں گی

  • بھارتی سپریم کورٹ بھی ہندوتوا نظریےکا دفاع کرنےلگی

    بھارتی سپریم کورٹ بھی ہندوتوا نظریےکا دفاع کرنےلگی

    نئی دلی:بھارتی سپریم کورٹ بھی ہندوتوا نظریے کا دفاع کرنے لگی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ انصاف کرنے سے قاصر نظرآرہی ہے یہی وجہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے جمعرات کو تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کے حجاب پر پابندی سے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر عرضداشتوں کی سماعت کیلئے تاریخ مقرر کرنے سے ایک بار پھر انکار کر دیا۔

    مسلم طالبات کے وکیل ایڈووکیٹ دیو دت کامت نے چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں قائم بنچ سے درخواست کی کہ امتحانات قریب آرہے ہیں لہذاعدالت کو اس معاملے پر فوری سماعت کرنی چاہیے۔ تاہم چیف جسٹس نے کہاکہ اس معاملہ کا امتحان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور معاملہ کو سنسنی خیز نہ بنائیں۔ تاہم وکیل نے دلیل دی کہ مسلم طالبات کو تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں دیا جا رہا ہے اور ان کا ایک سال ضائع ہو نے کا خدشہ ہے ۔

    چیف جسٹس نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت کیلئے فوری کوئی تاریخ مقرر کرنے سے انکار کر دیا ۔ اس سے قبل 16مارچ کو بھی سپریم کورٹ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف مسلم طالبات کی عرضداشت پر فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت ہولی کی چھٹیوں کے بعد کرنے کا عندیہ دیا تھا ۔

    واضح رہے کہ کرناٹک ہائی کوٹ نے 15مارچ کو مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کے ہندوتوا ایجنڈے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ریاست کے تعلیمی اداروں میں مسلم طالبا ت کے حجاب پر پابندی کے خلاف دائر عرضداشتوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھاکہ مسلم خواتین کا حجاب پہننا اسلام کا لازمی جز ونہیں ہے۔

  • ہائے یہ آئین شکنی۔:حق سچ (علی عمران شاھین)

    ہائے یہ آئین شکنی۔:حق سچ (علی عمران شاھین)

    پاکستان کے قانون کے تحت آئین شکنی یا آئین کی خلاف ورزی کی سزا موت ہے اور آج کل ہماری اپوزیشن یہی آئین شکنی کا الزام لے کر عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ )چلی گئی ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر آئین کے مطابق اجلاس نہیں بلایا گیا ۔۔۔۔۔۔

    لیکن دوسری طرف

    اسی اپوزیشن اور تمام حکومتی و حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کو اسی آئین میں لکھی یہ شق کبھی نظر نہیں آئی کہ پاکستان میں کوئی قانون خلاف شریعت نہیں بن سکتا ،اس کے باوجود انہی اسمبلیوں میں کتنے غیر شرعی قوانین بن جاتے ہیں اور کوئی نہیں بولتا بلکہ لگ بھگ سبھی اس میں حصہ دار ہوتے ہیں۔۔

    اسی 1973آئین میں لکھا گیا تھا کہ اردو کو بطور واحد سرکاری و قومی زبان 15 سال میں مکمل لاگو اور رائج کیاجائے گا، اس پر آئین سے ہٹ کر قائد اعظم اور سپریم کورٹ کے صریح فیصلے اور حکم بھی موجود ہیں لیکن کوئی رکن پارلیمان یا سیاست دان اس آئین و قانون شکنی پر کبھی نہیں بولتا۔

    ملک سے سود کا فوری خاتمہ شریعت ،آئین اور ہمارے آئینی ادارے وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ ہے لیکن یہی سیاست دان اس پر بھی نہیں بولتے جو کہ قرآن کے الہی الفاظ میں اللہ اور رسول ص سے جنگ کے مترادف ہے۔

    حق سچ یہ ہے کہ ہمارے سب لوگوں اور سب اداروں کو صرف اپنی مرضی کے مطابق آئین شکنی یا قانون شکنی نظر آتی اور اس حمام میں سب ننگے ہیں