Baaghi TV

Tag: اسلام

  • نزول قرآن،شب قدر آج  انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی

    نزول قرآن،شب قدر آج انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی

    لاہور:شب قدر آج پیر منگل کی درمیانی رات (27 رمضان المبارک) انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی۔

    باغی ٹی وی: شب قدر کے موقع پر آج شہر بھر کی مساجد میں نماز تراویح میں ختم قرآ ن کے اجتماعات منعقد ہوں گے مساجد کو برقی قمقوں سے سجا دیا گیا، خواتین گھروں میں مرد حضرات مساجد میں رات عبادت میں گزاریں گے،،علما،آئمہ خطباء شب قدر کے فضائل بیان کریں گے، بخشش و مغفر ت، عالم اسلام اور پاکستان کی سلامتی کیلئے خصوصی دعائیں کی جا ئیں گی۔

    نماز تراویح میں قرآن سنانے والے حفاظ اورسامعین کو انعام و اکرام سے نوازا جائے گا، مٹھائیاں بانٹی جائیں گی، مساجد میں عبادت گزاروں کیلئے سحری کے بھی انتظامات کئے گئے ہیں۔

    لیلۃ القدر رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک نہایت ہی بابرکت رات ہے جسے شب قدر اور برکت والی رات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیلۃ القدر میں عبادت کا ثواب ہزار مہنیوں سے بہتر ہے اس رات میں عبادت کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے۔

    لیلۃ القدر کے حوالے سے قرآن کریم میں آیا ہے کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس عظیم الشان رات کی عظمت و فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا “جب شب قدر آتی ہے تو حضرت جبرائیل امین فرشتوں کی جماعت کے ساتھ زمین پر آتے ہیں، ملائکہ کا یہ گروہ ہر اس بندے کے لیے دعائے مغفرت اور التجائے رحمت کرتا ہے جو ذکر الہیٰ اور عبادات میں مشغول ہوتا ہے۔

    لاکھوں مسلمان اس رات اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو کر نوافل کی ادائیگی اور قرآن پاک کی تلاوت و دیگر عبادات میں مصروف رہتے ہیں اور رب العزت سے اپنے گناہوں کی معافی کے ساتھ ساتھ ملکی سلامتی و استحکام کی دعائیں مانگتے ہیں ، 75 سال قبل پاکستان کا قیام بمطابق قمری مہینہ 27 رمضان المباک ( 14 اگست 1947)کو عمل میں آیا تھا۔

    واضح رہے کہ طاق راتوں کی تعداد 5 ہے جن میں سے کوئی بھی رات لیلة القدر ہوسکتی ہے اور اس شب کو تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہےرمضان المبارک کے آخری عشرے میں عبادت کے ذوق و شوق کو بام کمال تک پہنچانے کے لئے لیلتہ القدر کو مخفی رکھا گیا۔ اگرچہ یہ رات عوام الناس کی نظروں سے پوشیدہ ہے تاہم خواص اس رات سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔

  • حضرت علیؓ کا یوم ولادت آج عقیدت واحترام سے منایا جا رہا ہے

    خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا یوم ولادت آج عقیدت واحترام سے منایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: خلیفہ چہارم مولود کعبہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کایوم ولادت (آج) اتوار13رجب المرجب کو نہایت عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔

    اس سلسلے میں مساجد، امام بارگاہوں سمیت مختلف مقامات پر خصوصی محافل و تقاریب کا اہتمام کیا گیا جن میں علما و خطیب حضرات خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کے فضائل بیان کرتے ہوئے دین ا سلام کی آبیاری کیلیے پیش کی گئی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں گے، سرکاری و نجی ٹی وی چینلز سے خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں گے۔

    آپ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے اورامت مسلمہ کےخلیفہ راشد چہارم تھے۔حضرت علی ؓ 13 رجب کو ہجرت سے 24 سال قبل مکہ میں پیدا ہوئے آپ کی پیدائش سے متعلق تواریخ میں لکھا گیا ہے کہ آپ بیت اللہ کے اندر پیدا ہوئے، آپ کا شماراسلام قبول کرنے والے اولین افراد میں ہوتا ہے۔

    آ پ بارے میں عام روایت ہے کہ آپ نے 13 سال کے سن میں اسلام قبول کیا، حضرت علی ؓ کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول کریم ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔ جتنے مناقب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں احادیث نبوی میں موجود ہیں، کسی اور صحابی رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔

    19حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر 19 رمضان 40 ہجری میں شام سے آئے ایک شقی القلب شخص عبد الرحمن بن ملجم نامی شخص نے قطامہ نامی خارجی عورت کی مدد سے مسجد کوفہ میں حالتِ سجدہ میں پشت سے سر پر زہر بجھی تلوار سے وار کرکے زخمی کردیا، زخمی ہونے پر آپ کے لبوں پر جو پہلی صدا آئی وہ تھی کہ ’’ربِ کعبہ کی قسم آج علی کامیاب ہوگیا۔

    دو روز تک حضرت علیؓ بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخرکار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔

  • سعودی ائیر لائن کی پرواز منسوخ، درجنوں عمرہ زائرین جدہ ائیرپورٹ پر پھنس گئے

    سعودی ائیر لائن کی پرواز منسوخ، درجنوں عمرہ زائرین جدہ ائیرپورٹ پر پھنس گئے

     

    اسلام آباد:سعودی ائیر لائن کی پرواز کے منسوخ ہونے سے جدہ ائیرپورٹ پر درجنوں کی تعداد میں پاکستانی عمرہ زائرین پھنس گئے۔ائیر لائن ایس وی 738 نے 350 عمرہ زائرین کو 3 جنوری کو پاکستان لیکر آنا تھا لیکن سعودی حکام کی جانب سے پاکستان میں خراب موسم کے باعث پرواز کو منسوخ کر دیا گیا۔

     

    عمرہ زائرین نے بتایا کہ دو دن سے جدہ ائیر پورٹ پر پھنسے ہوئے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں، بیشتر مسافروں کے پاس کھانے پینے کو بھی کچھ نہیں، حکام نے تاحال نہیں بتایا کہ پرواز کب روانہ ہوگی۔

     

    مسافروں نے مزید بتایا کہ بچوں اور بوڑھوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، انہوں نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری واپسی کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ اپنے گھروں کو پہنچ سکیں۔

     

    پرواز پر 330 مسافر سوار تھے، جو کئی گھنٹوں سے ایئرپورٹ پر پریشان بیٹھے تھے،اطلاعات کے مطابق کراچی ایئر پورٹ پر پی آئی اے کے طیارے کے فیول پمپ میں فنی خرابی کے باعث جدہ جانے والی عمرہ پرواز میں 19 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی، جس کے بعد بالآخر مسافروں کو سعودی عرب روانہ کردیا گیا۔

    کراچی:لائنز ایریا میں 2دن سے بجلی کی فراہمی معطل:علاقہ مکین رُل گئے:احتجاج بھی کام…

    کراچی سے پی آئی اے کی پرواز پی کے 731 کو منگل کی رات 2 بجے 300 سے زائد مسافروں کو جدہ لے جانا تھا۔رپورٹ کے مطابق پرواز سے کچھ وقت پہلے معمول کی جانچ پڑتال کے دوران طیارے کے فیول پمپ میں خرابی کی نشاندہی ہوئی، جس کی وجہ سے پرواز تاخیر کا شکار ہوئی۔

    برطانوی خواتین پرحملے:قتل کے واقعات سےہرطرف خوف وہراس

    متاثرہ پرواز کے اکانومی اور بزنس کلاس کے 330 مسافروں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جن میں اکثریت نے احرام باندھ رکھا تھا۔

    آسٹریلیا میں دو ہیلی کاپٹروں کا فضا میں تصادم،4 افراد ہلاک 3 کی حالت تشویشناک

    بزرگ اور خواتین سمیت دیگر مسافر رات سے ایئرپورٹ کے بین الاقوامی لاؤنج میں موجود رہے،جبکہ پرواز کی روانگی میں مسلسل تاخیر کے باعث مسافروں کی عملے سے تلخ کلامی بھی ہوئی ہے۔بالآخر پی آئی اے کی پرواز 19 گھنٹے کی تاخیر کے بعد عمرہ زائرین کو لے کر جدہ روانہ ہوگئی۔

    پرواز میں تاخیر کے حوالے سے ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ متاثرہ طیارے کے مسافروں کو رات میں کھانا اور صبح میں ناشتہ پیش کیا گیا، ہوٹل منتقل کرنے کی پیشکش مسافروں نے قبول نہیں کی۔

  • سابق باکسر اور بااثر شخصیت اینڈریو ٹیٹ نے اسلام قبول کرلیا

    سابق باکسر اور بااثر شخصیت اینڈریو ٹیٹ نے اسلام قبول کرلیا

    نیویارک :سابق باکسر اور بااثر شخصیت اینڈریو ٹیٹ نے اسلام قبول کرلیا،سابق کک باکسر اینڈریو ٹیٹ نے اسلام قبول کرلیا۔ پہلے انہوں نے اسلام کو دنیا کا آخری سچا مذہب قرار دیا تھا اور اب خود اپنے مسلمان ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    اینڈریو ٹیٹ کی سوشل میڈیا پر سابق ایم ایم اے فائٹر تام خان کے ساتھ نماز سیکھتے ہوئے ویڈیو وائرل ہورہی ہے۔حال ہی میں ٹیٹ کو مبینہ طور پر دبئی میں سابق ایم ایم اے فائٹر ٹیم خان کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔

     

    https://twitter.com/CobraTateKING/status/1584549763231322112?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1584549763231322112%7Ctwgr%5Ee9a75ceba360cdfa5061c8980ded4adcc2b3f1eb%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.samaa.tv%2Fnews%2F40009767

    اس ویڈیو میں ٹیم خان، اینڈریو ٹیٹ کو نماز سکھاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔اینڈریو ٹیٹ نے سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ کے ذریعے اسلام قبول کرنے کی تصدیق کی۔

     

    ٹیٹ نے اسلام قبول کرنے کی وجہ بھی بتادی، ساتھ ہی قرآن کی ایک آیت بھی شیئر کی، جس کا مفہوم ہے ’’صبر رکھو، یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے‘‘۔

    اینڈریو ٹیٹ کو فی الحال تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کا سامنا ہے، چنانچہ انہوں نے بندش سے باقی رہ جانیوالے ایک اکاؤنٹ پر اعلان کیا کہ وہ مسلمان ہوچکے ہیں۔

  • عمران خان کی زیرِصدارت اہم اجلاس،  اہم امور پر تبادلہ خیال

    عمران خان کی زیرِصدارت اہم اجلاس، اہم امور پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد:چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی زیرِصدارت اہم ترین اجلاس ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی زیرِصدارت اہم ترین اجلاس منعقد ہوا جس میں آج شام منعقد ہونے والی مرکزی تقریب کے حوالے سے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اجلاس میں سابق وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری، سینیٹر فیصل جاوید، افتخار درانی، سلمان احمد اور نجم شیراز شریک ہوئے۔

    خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا یوم ولادت آج انتہائی مذہبی عقیدت سے منایا جائے گا

    اسکے علاوہ ایف نائن پارک میں منعقد ہونے والی تقریب کے پروگرام پر بھی بات چیت کی گئی اور چیئرمین تحریک انصاف کے خطاب کے خدوخال پر بھی مشاورت ہوئی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف آج شام ایف نائن پارک میں رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس کا انعقاد کررہی ہے جس میں چیئرمین تحریک انصاف کانفرنس سے خصوصی خطاب کریں گے۔

    عالمی بینک کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے 2 ارب ڈالر دینے کا اعلان

    یاد رہے کہ اس سے پہلے عید میلادالنبیﷺ کے موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پیغام جاری کردیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق عید میلادالنبیﷺ کے موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ میں اپنی ساری قوم کو عید میلادالنبیﷺکی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

    عمران خان نے کہا کہ آج ایف نائن پارک میں ایک پروگرام منعقد ہوگا جبکہ پروگرام میں نبی اکرمﷺ کی سیرت پر گفتگو ہوگی۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ آج شام 4بجے ایف نائن پارک اسلام آباد میں عوام کو دعوت دیتا ہوں۔

  • بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا ادارہ”دعوۃ اکیڈمی“ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

    بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا ادارہ”دعوۃ اکیڈمی“ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

    اسلام آباد:بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا ادارہ”دعوۃ اکیڈمی“ تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا۔ گزشتہ دنوں ایک حکم نامے کے ذریعے دعوۃ اکیڈمی کے 16 اساتذہ میں سے 10 اساتذہ کا یونیورسٹی کی مختلف فیکلٹیوں اور شعبہ جات میں تبادلہ کردیا گیا۔ جب کہ 6 اساتذہ کو”کورس لوڈ “ یونیورسٹی کی دیگر فیکلٹیوں میں دے دیا گیا۔اس طرح دعوۃ اکیڈمی اپنے ڈائریکٹر جنرل کے دفتر تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اور اس کی تربیتی و اصلاحی سرگرمیاں بھی ماند پڑگئیں۔

    واضح رہے دعوۃ اکیڈمی کا قیام 1985ء میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کے قیام کے اغراض و مقاصد میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے تربیتی ورکشاپ کا انعقاداور اصلاحی و دعوتی نقطہ نظر سے دینی لٹریچر کی اشاعت و تقسیم شامل ہیں۔ اسلام آباد کی شاہ فیصل مسجد کا انتظام بھی دعوۃ اکیڈمی کے پاس ہے۔ یہ ادارہ 10 زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم شائع کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ 24 ملکی و غیر ملکی زبانوں میں 1300 سے زائد دینی و دعوتی کتب اور کتابچے شائع کرچکا ہے۔

    دعوۃ اکیڈمی آئمہ مساجد ،دعوتی تنظیموں ،سول و فوجی افسران، اساتذہ، صحافی، ادیب، وکلا،ڈاکٹر، خواتین اور طلبہ کی تربیت کے لیے ورکشاپ کا انعقاد کرتی ہے۔اسی طرح خط و کتابت کے ذریعے بھی دینی و تربیتی کورسز کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ اب تک ان کورسز سے 50 ہزار سے زائد مرد و خواتین نے استفادہ کیا۔اس ادارے کے تحت خواتین اور نوجوانوں کے لیے علیحدہ شعبہ جات کے علاوہ کراچی میں سندھ کی سطح پر ریجنل دعوۃ سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔

    ریجنل دعوۃ سینٹرسندھ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2002ء میں اس کے قیام سے لے کر اب تک سندھ اور بلوچستان کے دور دراز اضلاع میں 252تربیتی پروگرام منعقد کیے جاچکے ہیں، جن میں 14 ہزار سے زائد افراد کی تربیت کی گئی۔دعوۃ اکیڈمی کا اپنا ایف ایم ریڈیو چینل بھی ہے اور اردو و انگریزی زبانوں میں ماہنامہ دعوۃ اور Insights کے ناموں سے دو علیحدہ دعوتی و تحقیقی جریدے بھی شائع ہوتے ہیں۔ان سرگرمیوں کے باوجود بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے دعوۃ اکیڈمی سے اساتذہ و محققین کے تبادلے کرکے اس ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

    بین الاقوامی اسلامی یونیوسٹی نے اس سلسلے میں اپنی ویب سائٹ پر وضاحت کی ہے کہ یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر ہتھل حمود علطیبی کا کہنا ہے کہ بہت سے شعبہ جات کو اپنے مینڈیٹ کے ساتھ صحیح طریقے سے جوڑ دیا گیا ہے اور دعوۃ اکیڈمی ان میں سے ایک ہے۔انہوں نے اس عمل کو”اسٹریٹجک پلان“ کا حصہ قرار دیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دعوۃ اکیڈمی کے کردار کو صرف تربیتی ادارے سے لے کر تحقیق اور اعلیٰ تعلیم تک زیادہ سے زیادہ کیا جا رہا ہے۔ اکیڈمی تربیت کے علاوہ اعلیٰ سطح کے پروگرام بھی پیش کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ دعوۃ اکیڈمی اور دیگر متعلقہ یونٹس سمیت ہر شعبہ اور انسٹی ٹیوٹ میں اضافی عملے کو کام کی مقدار اور دائرہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے معقول بنایا جا رہا ہے۔

     

    اس بیان پر شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد مشتاق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس نام نہاد”اسٹریٹجک پلان“ کا ذکر ہورہا ہے، اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، کیونکہ اسے صرف بورڈ آف گورنرز کے سامنے پیش کیا گیا ہے، جب کہ بورڈ آف گورنرز کو یونیورسٹی کے قوانین (Statutes) میں تبدیلی کی اجازت نہیں ہے، نہ ہی اس کے پاس یہ اختیار ہے۔ یہ اختیار صرف بورڈ آف ٹرسٹیز کے پاس ہے اور بورڈ آف ٹرسٹیز کا اجلاس کئی سال سے ہوا ہی نہیں ہے۔ مزید یہ کہ یونیورسٹی جس قانون کے تحت بنی ہے، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی آرڈی نینس 1985ء، اس میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہے، یا صدر آرڈی نینس جاری کرکے عارضی طور پر ترمیم کرسکتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ جب تک آرڈی نینس میں تبدیلی کرکے اسلامی یونیورسٹی کا اسلامی تشخص ختم نہ کیا جائے، تب تک اسٹریٹجک پلان کے نام پر یہ کھیل کیسے کھیلا جاسکتا ہے؟ دعوۃ اکیڈمی سے 10 اساتذہ کو ٹرانسفر کردیا گیا اور باقی 6 کو بھی دعوۃاکیڈمی سے باہر تدریسی ذمہ داریاں دے دی گئیں، تو دعوۃ اکیڈمی تو عملاً ختم ہوگئی ہے۔

     

    اب یہ کہنا کہ آپ دعوۃ اکیڈمی کو بامِ عروج پر پہنچائیں گے، محض ایک بھونڈا مذاق نہیں تو کیا ہے؟ڈاکٹر مشتاق کا مزید کہنا ہے کہ اس”اسٹریٹجک پلان“ کی یہ خوبی تو یونیورسٹی سے باہر بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ پہلے ایک ڈیپارٹمنٹ کا ایک چیئرمین ہوتا تھا اور ایک فیکلٹی کا ایک ڈین۔ اب ایک ڈیپارٹمنٹ میں تین سربراہ ہوتے ہیں اور ان تین کے اوپر ایک اور سربراہ۔ پھر ایک فیکلٹی میں جتنے ڈیپارٹمنٹس ہیں، ان کے چار چار سربراہان کے اوپر ایک اور سربراہ اور پھر اس کے اوپر ڈین۔ یہ تماشا نہیں تواور کیا ہے؟دعوۃ اکیڈمی کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر محمد شاہد رفیع کا کہنا ہے کہ کئی سالوں سے دعوة اکیڈمی کی دعوتی و تربیتی سرگرمیوں کے لیے ملنے والی گرانٹ غلط طور پر انتظامی امور پر خرچ کی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب اساتذہ اور تحقیقی و تربیتی عملے کے ہر منصوبے کو یہ کہہ کر رد کیا جاتا رہا کہ پیسے نہیں ہیں۔ تربیتی، تدریسی عملہ نے کئی ایسے منصوبے پیش کیے جس میں کوئی خرچہ نہیں ہونا تھا بلکہ ایسی تجاویز بھی دی گئیں جن سے آمدن ہونی تھی، وہ بھی ڈی جی صاحب کی طرف سے منظور نہیں کیے گئے۔ اب یہ کہہ کر کہ دعوة اکیڈمی میں کوئی کام نہیں ہو رہا، 16 میں سے 10 اساتذہ کو اکیڈمی سے تبدیل کر دیا گیا ہے اور ان کا کوئی متبادل بھی نہیں دیا گیا۔دعوۃ اکیڈمی کے دیگر اساتذہ اور محققین میں بھی یونیورسٹی کے اس اقدام کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے اور دعوۃ اکیڈمی کی دعوتی و تربیتی سرگرمیوں کے ماند پڑنے پر افسوس کیا جا رہا ہے۔ اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ اس اقدام کو واپس لیا جائے اور دعوۃ اکیڈمی کا ڈائریکٹر جنرل کسی اہل شخص کو بنایا جائے۔

  • نبوی نظام تعلیم کا موجودہ تعلیم سے تقابل — عمر یوسف

    نبوی نظام تعلیم کا موجودہ تعلیم سے تقابل — عمر یوسف

    نبی کریم ص کی نبوی زندگی مبارکہ کے دو حصے ہیں ایک مکی اور دوسرا مدنی دور ۔۔۔

    مکی زندگی میں نظام تعلیم اتنے موثر انداز میں نہیں تھا تاہم درسگاہ ابی بکر ، درس گاہ فاطمہ ، درسگاہ دار ارقم اور شعب ابی طالب میں آپ ص نے اپنے اصحاب اور دیگر لوگوں کی تربیت کا خوب اہتمام فرمایا ۔ ہجرت کے بعد آپ ص نے جب مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی تو ایک حصہ ایسے لوگوں کے لیے مختص کیا گیا جو بے گھر مسلمان تھے ۔ یہی وہ مقام تھا جہاں نہ صرف بے گھروں کو گھر میسر آیا بلکہ اصحاب صفہ کی تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا ۔

    چنانچہ اصحاب صفہ کی تعمیر کے ساتھ ہی منظم تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا ۔اور یہ وہ تربیت تھی جس کے ایسے شاندار اثرات نمایاں ہوئے کہ لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب آگیا ۔

    ایسے عظیم لوگوں کی جماعت قائم ہوئی جن کی نظیر زمانے میں ملنا مشکل ہے ۔ ان کے دور کو سنہرا دور کہا جاتا ہے اور آج کا عقل و شعور رکھنے والا انسان دنگ رہ جاتا یے کہ ایسے زمانے اور حالات میں اس طرح کی قوم کا منصہ شہود پر آنا کسی معجزے سے کم نہیں ۔
    اور یہ حیرت انگیز کام نبوی نظام تعلیم کی بدولت ممکن ہوا ۔

    یہ وہی تربیت ہے جس نے کہیں عمر رض جیسے عادل کہیں ابو طلحہ انصاری جیسے ایثار پسند کہیں مال و دولت کو راہ خدا میں لٹانے والے عثمان غنی کہیں بہادری و شجاعت کے علمبردار حضرت علی اور جری و مجاہد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنھم پیدا کیے ۔

    اس کے برعکس موجودہ نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو کھوکھلی عمارت نظر آتی ہے ۔ کہیں الحاد کے شاخسانے کہیں بے حیائی کے فسانے کہیں لبرل ازم کے افکار کہیں سیکولرازم کے انظار کہیں احساس کمتری کے شکار اور کہیں بے دینی کے مینار نظر آئیں گے ۔

    دن بدن بڑھتی ہوئی نشہ آوری کہیں چوٹی پر چڑھتی ہوئی بے حیائی اور کہیں خودکشیوں کے گھناونے ارتکاب کرتے ہوئے طلباء موجودہ نظام تعلیم کے کھوکھلے پن کو ثابت کرتے ہوئے دکھائی دیں گے ۔

    ڈگریوں کو لیے دربدر تلاش نوکری کے ستائے لوگ مایوسیوں کی وادی میں نظر آئیں گے ۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علم علم نہیں بلکہ معلومات ہے یہ تربیت نہیں بلکہ پیسے کمانے کے بہانے ہیں ۔

    جب نظام تعلیم نبوی اصولوں پر مبنی نہیں ہوگا تو اس معاشرہ فلاح و بہبود کی طرف جانے کی بجائے ہلاکت و تباہی کے طرف جائے گا۔

    موجودہ معاشرے میں نظام تعلیم اسی صورت موثر ہوسکتا ہے جب نسل کے اذہان و قلوب میں ایمان کے چراغ اللہ کا خوف و تقوی اور اسلام کی بالادستی کو راسخ کیا جائے گا ۔

  • شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد — بلال شوکت آزاد

    شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد — بلال شوکت آزاد

    شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد جانتے ہیں کیا ہے؟

    اس کا ہماری خواہشات و توقعات کے تابع نہ ہونا اور ہماری فطرت اور جبلت کے عین مطابق ہونا ہے۔

    لچک اور حجت اس دین کا خاصہ ہے جبکہ چمک اور شدت کا اس سے دور کا بھی رشتہ نہیں۔

    اب ذرا غور کریں کہ ہم اس وقت جس اسلام (کہنا تو مسلک, فرقہ اور جماعت چاہیے پر چلو۔ ۔) پر کاربند ہیں کیا وہ ہماری فطرت اور جبلت کے مطابق ہے اور اس پر ہماری خواہشات اور توقعات اثر انداز نہیں؟

    کیا اس میں لچک اور حجت غالب ہے یا چمک اور شدت سے لبریز اسلام ہے ہمارے پاس؟

    اسلام کوئی راکٹ سائنس نہیں یہ بات ازحد ضروری ہے سمجھنے اور ماننے کے لیے لیکن ایسا تب تک ممکن نہیں جب تک ہمارا اسلام (درحقیقت مسالک وغیرہ یا مبینہ اسلام) اس کسوٹی پر پورا نہ اترے کہ فطرت اور جبلت کے مطابق ہے اور ہماری خواہشات و توقعات کے تابع نہیں بلکہ ہماری خواہشات و توقعات اس کے تابع ہیں۔

    اسلام جذبات کی نمائش کا دین نہیں تھا لیکن ہماری صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ یہ ایک جذباتی دین ہے جو کہ سراسر غلط اور تعمیر شدہ تصویر ہے۔

    ہمارے متشدد جذبات و احساسات کا غلبہ ہمارے دین اور امت کی حالت زار کا اصل ذمہ دار ہے۔

    اسلام نے کسی عمل کو شدت سے جوڑنے اور اس پر فخر کا حکم یا مشورہ نہیں دیا لیکن ہم ہیں کہ ہماری ہر بات ہی کاٹنے پیٹنے اور مار ڈالنے سے شروع ہوتی ہے تو اختتام کیسے اچھا اور خوشنما ہو؟

    بہرحال موحودہ دور میں اسلام سے اسلام کے نام پر مخصوص طبقے کا کھلواڑ جاری ہے جو اسلام کو بطور اوزار اور ہتھیار ذاتی مفادات کی جنگ جیتنے کا ذریعہ بنا کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم نہ ہوئے تو اسلام عنقاء ہوجائے گا جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

    اسلام کے تابع ہونا تھا نا کہ اس کو اپنے تابع کرنا تھا, یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ہم جان بوجھ کر سمجھنا اور ماننا نہیں چاہ رہے۔

  • جنرل ضیاءالحق شہیدکون تھا..؟تحریر:-علی عمران شاہین

    جنرل ضیاءالحق شہیدکون تھا..؟تحریر:-علی عمران شاہین

    شہید جنرل ضیاء الحق رحمہ اللہ وہ تھا

    *۔۔۔۔۔۔جس نے1977میں ملک کو انتہائی نازک مرحلے جب پر طرف افراتفری و خونریزی جاری تھی بروقت ایکشن کرکے ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچایا تھا،
    *۔۔۔۔۔۔جس نے ملک سے تمام علیحدگی پسند باغی گروپوں کو انتہائی اعلیٰ حکمت عملی سے دوبارہ قومی دھارے میں لا کر محب وطن بنا تھا۔تب نسیم ولی خان مٹھائی کےٹوکرے لے کر اسلام آباد ایوان صدر پہنچی تھی۔
    *۔۔۔۔۔۔اتنا شریف و ملنسار تھا کہ جی ایم سید کو اس کے آبائی علاقے سن سندھ میں گھر جا کر ملا اور ذوالفقار علی بھٹو کے جبر سے نجات کے لئے جاری سندھ علیحدگی کی سب سے بڑی اور منظم ترین تحریک” سندھو دیش” کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔
    *۔۔۔۔۔۔ذوالفقار علی بھٹو کے ظلم سے ستائے اور علیحدگی و دہشت گردی پر آمادہ و پیادہ افغانستان مفرور بلوچ اور پشتون طبقات کو واپس ملک لایا تھا،ظالمانہ حیدر آباد ٹریبونل ختم کیا،ہزاروں شہریوں کی قاتل ایف ایس ایف ختم کی۔
    *۔۔۔۔۔۔ذوالفقار علی بھٹو کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے جیلوں میں پڑے دسیوں ہزار بےگناہ سیاسی کارکنوں اور شہریوں کو رہائی عطا کی۔
    *۔۔۔۔۔۔۔جس نے پہلی بار صوم و صلوۃ و زکوۃ کا سرکاری اہتمام و حکم جاری کیا،صلا ۃ کمیٹیاں محلے کی سطح تک بنیں ،نماز کا سرکاری سطح پر باقاعدہ حکم جاری کرکے ادائیگی شروع کروائی، زکوٰۃ و عشر کمیٹیاں بنیں، زکوٰۃ کی حقداروں تک تقسیم کا نظام تشکیل دیا۔
    *…..قومی مجلس شوریٰ تشکیل پائی جو جید علمائے کرام و اسکالرز پر مشتمل تھی کہ کوئی کام غیر اسلامی نہ ہو اور اگر ہو تو اسے روکا جاسکے۔
    *…..توہین مذہب و توہین اسلام ، توہین نبی مکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،انبیائے کرام علیھم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرباقاعدہ سزا کے قوانین متعارف کروائے جو آج تک موجود اور دشمنوں کے لیے سردردی کا باعث ہیں۔
    *۔۔۔۔۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کرکےقادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی،ملک میں حدود آرڈیننس سمیت بےشماراسلامی قوانین بنوائے اور رائج کئے۔
    ،سرکاری افسران کے رویے پر احتساب کا نظام بنایا
    *۔۔۔۔۔۔۔ہر تقریب کے آغاز میں تلاوت اور نعت کا اہتمام شروع کروایا، جو آج بھی ہر جگہ رائج ہے۔
    *۔۔۔۔۔۔۔فوج کو ایمان تقویٰ جہاد فی سبیل للہ کا ماٹو دیا،فوج کو پاکستانی رنگ میں رنگا،قرآنی جہادی آیات و احادیث ہر طرف عام کیں ،فوجی کاشن تک اردو میں جاری کروائے،
    *۔۔۔۔۔۔نئی اسلامی صدی کے آغاز پر اقوام متحدہ میں تقریر کی تووہاں پہلی اور تاحال آخری بار تلاوت قرآن کا اہتمام کروایا
    *۔۔۔۔۔۔ ملک کا وقار اتنا بلند کیا کہ پندرویں صدی ہجری کے آغاز پر اقوام متحدہ میں خصوصی عالمی اجلاس ہوا تو سارے عالم اسلام نے انہیں متفقہ طور پر اپنا لیڈر تسلیم کرتے ہوئے بطور نمائندہ عالم اسلام وہاں خطاب کے لیے چنا اور انہوں نے اس کا حق ادا کیا۔
    *۔۔۔۔۔۔انتہائی خفیہ مہارت سے تیزی کے ساتھ ایٹمی پروگرام مکمل کیا اور ملک کو ایٹمی قوت بنا دیا، جس کا اظہار ڈاکٹر عبد القدیر خان سمیت سبھی ایٹمی سائنسدان برملا کرتے رہے ۔
    *۔۔۔۔۔روس کے خلاف جہاد لڑ کر6 مسلم ریاستیں آزاد کروائیں،جہاں اسلام کو جڑ سےاکھاڑ دیا گیا تھا وہاں دوبارہ اسلام زندہ کردیا۔دنیا میں ناہید ہوچکا نظریہ جہاد زندہ کیا، وسط ایشیا کی مسلم ریاستیں آج بھی انہیں اپنا محسن اعظم سمجھتی ہیں۔
    *۔۔۔۔۔۔کیمونزم کا دنیا سے خاتمہ کردیا،اسی سے یوگو سلوایہ ٹوٹا اور بوسنیا و کوسووا کی شکل میں دو نئے مسلمان ملک یورپ میں بن گئے۔
    *….. ملک کے آئین میں اسلامی حدود آرڈینینس سمیت بہت سے اسلامی قوانین متعارف و داخل کئے، وفاقی اسلامی شرعی عدالت اس کے سپریم کورٹ و ہائیکورٹ بینچز بنائے اور اسلامی نظریاتی کونسل تشکیل دے کر انہیں آئینی حیثیت دی۔
    *۔۔۔۔۔۔دینی طبقات کو بلا تفریق مسلک مضبوط کیا ۔
    مدارس کو بڑے پیمانے پر زمینیں مالی تعاون فراہم کیا،
    بے شمار نئے مدارس بنائے،
    مدارس کی سند کو ڈبل ایم اے تسلیم کیا اور دسیوں ہزار علمائے کرام سرکاری استاد و پروفیسر بنے۔
    (یہ سب اب ختم ہوچکا)
    *۔۔۔۔۔ معاشی استحکام اتنا رہا کہ 11سال میں کوئی چیز معمولی مہنگی نہ ہوئی، بھٹو نے جو زمانہ جنگ کا نظام خوراک بذریعہ راشن سسٹم لاگو کر رکھا تھا اسے مکمل ختم کر دیا۔ہر چیز ہر شخص کو عام خریدنےکی آزادی ملی جو پہلے نہ تھی۔
    *۔۔۔۔۔۔امریکا سے مالی و معاشی تعاون بھی لیا اور کبھی امریکا کو مداخلت کی اجازت بھی نہ دی
    *۔۔۔۔۔۔کشمیر اور خالصتان کی آزادی کی تحریکوں کا آغاز کرکے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا، جو آج بھی بھارت کے گلے کی ہڈی ہیں اور ان کی وجہ سے بھارت اس کے بعد پاکستان ہر کھلی جارحیت کبھی نہ کر سکا۔
    سارک تنظیم تشکیل دے کر بھارت کو ایک نئے جال میں پھنسا دیا جس میں آج تک ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔
    *۔۔۔۔۔۔سرکاری مال سے خود اور اپنے خاندان کو اس قدر دور اور صاف رکھا کہ شہادت کے وقت نہ اپنا ذاتی گھر تھا نہ پلاٹ نہ کوئی جائیداد، پینشن کے پیسوں سے نیا گھر بنا، اولاد وہاں منتقل ہوئی اور تب تک چودھری شجاعت کے گھر اہل خانہ مقیم رہے کہ بے نظیر نے اقتدار میں آتے ہی سرکار گھر خالی کروا لیا تھا۔
    *انہی جرائم پر بالآخر جام شہادت نوش کیا..
    حق مغفرت فرمائے عجب آزاد مرد تھا

    جنرل ضیاء الحق شہید کون تھا……. ؟؟
    #حق #سچ۔۔۔۔۔(علی عمران شاہین)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • سراپا عدل رضی اللہ عنہ (حیات، فضائل اور شہادت) — حافظ گلزارعالم

    سراپا عدل رضی اللہ عنہ (حیات، فضائل اور شہادت) — حافظ گلزارعالم

    کیا آپ کو معلوم ہے؟

    وہ کون شخصیت ہیں جو انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں۔ جن کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا۔ جنھیں سروردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے مانگا تھا۔ جو اپنی رائے دیتے اور اللہ اسی رائے کے موافق قرآن کی آیات نازل فرماتے۔ جو محبوب رب العالمین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سسر ہیں ، جو ہجری تقویم کے بانی ہیں۔جن کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔ جن کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔ جنھوں نےاپنی مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کمال خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا، جو خلیفہ وقت ہونے کے باوجود روکھی سوکھی کھایا کرتے، کپڑوں پر پیوند لگے ہوتے، زمین پر استراحت فرماتے مگر رعب و دبدبہ اتنا کہ قیصر و کسری پر آپ کا نام سن کر ہی کپکپی طاری ہوجاتی، جو جس راستے سے جاتے شیطان اس رستے کے قریب بھی نہ پھٹکتا ۔ جن کے بارے میں خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرے بعد اگر کوئ نبی ہوتا تو یہ ہوہوتے۔ یہ ہیں سیدنا ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی رضی اللہ عنہ۔

    آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں، عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، آپ کا شمار علماء و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ آپ کا عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔

    آپ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ آپکی ہر صفت بے مثال تھی۔ اسلام لانے سے قبل پڑھے لکھے عظیم سرداروں میں اور بہادر ترین افراد میں آپکا شمار ہوتا تھا۔ اور اسلام لانے کے بعد اپنی ساری سرداری، بہادری، عدالت، ذکاوت ، سخاوت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قدموں پر قرباں کردی۔

    نام و نسب
    سلسلہ نسب یہ ہے: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن زراع بن عدی بن کعب بن لوی بن فہر بن مالک آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے

    پیدائش
    امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ آپ کی ولادت شریف عام الفیل کے تیرہ سال بعد ہوئی ۔ (تاریخ الخلفاء :ج1،ص43)
    مشہور روایت کے مطابق آپ ہجرت سے چالیس برس قبل پیدا ہوئے۔ آپ کے بچپن کے حالات نا معلوم ہیں۔ کسے معلوم تھا کہ آج کا یہ بچہ کل بائیس لاکھ مربع میل پر حاکم ہوگا، اور شرق و غرب میں اسکے نام کا ڈنکا بجے گا۔

    تعلیم
    عرب میں نسب دانی،سپہ گری،پہلوانی اور مقرری کا نہ صرف رواج تھا بلکہ یہ امور باعث شرافت سمجھےجاتے تھے۔ چنانچہ آپ کے باپ دادا نامور نساب تھے، آپ نے اپنے والد سے نسب دانی سیکھی۔ پہلوانی اور کشتی میں بھی کمال حاصل کیا، یہانتک کہ عکاظ کے دنگل میں آپ اپنی پہلوانی کے جوہر دکھاتے۔ عکاظ جبل عرفات کے قریب ایک مقام تھا جہاں ہر سال اہل فن اپنے کمالات کا اظہار کرتے تھے۔ آپ بہترین مقرر اور اعلی شاعر بھی تھے۔ اور آپ کا شمار ان سترہ افراد میں ہوتا ہے جو بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔

    قبول اسلام
    ابتداء اسلام میں آپ اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید ترین مخالفین میں سے تھے۔ یہانتک کہ اپنی کنیز لبینہ کے اسلام لانے پر انکو سخت ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ مگر

    اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
    اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤگے

    مشرکین مکہ نے اسلام کو روکنے کی جتنی تدبیریں اختیار کیں، اسلام اتنا ہی پھیلنے لگا ۔ یہ صورتحال دیکھ کر مکہ کے مشرک سرداروں نے فیصلہ کیا کہ کہ معاذاللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا جائے،جسکے لئے کوئ تیار نہ ہوا۔ مگر عمر رضی اللہ عنہ اس پر آمادہ ہوئے، اور تلوار لے کر نکل پڑے۔ رستے میں آپ کے بدلے تیور دیکھ کر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہاں جارہے ہیں، آپ نے کہا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قتل کرنے( معاذاللہ)،یہ سن کر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لیجئے آپکی بہن فاطمہ اور بہنوئ سعید بن زید رضی اللہ عنھما بھی اسلام قبول کرچکے ہیں۔ یہ سن کر آپ کے غصے کی انتہا نہ رہی، شدید غصے کی حالت میں گھر گئے، دیکھا کہ آپکی بہن قرآن کریم کے اجزاء لیکر تلاوت کرہی ہیں۔ انہوں نے آپکو دیکھتے ہی وہ اجزاء چھپائے،مگر آپ نے آواز سن لی تھی، آپ نے کہا مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم دونوں مرتد ہوگئے ہو، یہ کہہ کر اپنے بہنوئ سعید سے دست وگریباں ہوئے،بہن فاطمہ رضی اللہ عنھا بچانے آئ تو انہیں بھی اتنا مارا کہ لہولہان کردیا۔ بہن نے کہا جو کرسکتے ہو کرلو،ہم دین اسلام نہیں چھوڑ سکتے۔ ان الفاظ نے آپ کے دل پر گہرا اثر کیا۔ اور بہن کا خون آلود بدن دیکھ کر مزید دل نرم ہوا۔ فرمایا: لاؤ، مجھے دکھاؤ تم کیا پڑھ رہے تھے۔ فاطمہ رضی اللہ عنھا نے قرآن کریم کے اجزاء سامنے رکھے، جن پر یہ آیات تھیں:

    سبح لله ما فی السموت والأرض وھو العزیز الحکیم
    ( جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے)
    ایک ایک لفظ پر ان کا دل اسلام کی طرف مائل ہوتا گیا۔ اور جب اس آیت پر پہنچے:
    آمنوا باللہ ورسولہ
    ( اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ)
    تو بے اختیار زبان پر کلمہ جاری ہوا:
    اشھد أن لا الہ الا اللہ وأشھد أن محمداً رسول اللہ
    آپ کے اسلام کا سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نعرۂ تکبیر بلند کیا، آپ کے ساتھ سب صحابہ نے بھی خوشی سے اللہ اکبر کہا۔
    آپ کے اسلام لانے سے تاریخ اسلام کا نیا دور شروع ہوا،مسلمانوں کو حوصلہ ملا، اسلام کو قوت ملی۔ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں
    "فلما أسلم عمر قاتل قریشا حتی صلی عند الکعبۃ وصلینا معہ”
    ” جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لاۓ تو قریش کا مقابلہ کیا یہانتک کہ ببانگ دہل کعبۃ اللہ میں نماز پڑھی، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔

    سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام لا نے کے بعد6 نبوی میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کیا ،اس وقت آپ کی عمر مبارک ستائیس 27 سال تھی ۔ (تاریخ الخلفاء :ج1،ص:43۔ الاکمال فی اسماء الرجال)

    فضائل
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر آپکے وہ فضائل بیان فرماۓ،جو آپ ہی کا خاصہ ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

    1-میرے بعد جو دو(خلفاء )ہیں، ان کی اقتداء کرو یعنی ابوبکر اورعمر رضی اللہ عنہما ۔ (جامع الترمذی)
    2-بے شک اللہ تعالی نے عمررضی اللہ عنہ کی زبان اور قلب پر حق کو جاری فرمادیا ہے ۔ (جامع الترمذی)
    3-عمر! شیطان تم کو دیکھتے ہی راستہ کاٹ جاتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح المسلم)
    4-میری امت میں اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر ہیں۔( جامع الترمذی )
    5-حضرت علی رضی الللہ عنہ سے روایت ہے ، فرمایا:” بے شک عمر فاروق جب کوئی بات کہتے یں تو قرآن اُن کی بات کی تصدیق کے لیے نازل ہوتا ہے ۔”
    6-حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ’’ یا رب ! اسلام کو خاص عمر بن خطاب ؓ کے ذریعے غلبہ وقوت عطا فرما۔‘‘ (المستدرک حاکم)

    شہادت
    مدینہ منورہ میں ایک پارسی غلام تھا،جس کا نام ابو لؤلؤ فیروز تھا۔ اس نے آپ سے شکایت کی کہ میرے آقا مغیرہ بن شعبہ نے مجھ پر بڑا بھاری محصول مقرر کیا ہے۔ آپ نے پوچھا کتنا؟ اس نے کہا روزانہ دو درہم۔ آپ نے کہا کیا کام کرتے ہو؟ اس نے کہا بڑھئ، رنگسازی اور لوہار کا کام۔ آپ نے کہا تین پیشوں کے حساب سے یہ محصول تو مناسب ہے۔ وہ غلام آپکے اس فیصلے پر سخت ناراض ہوا۔

    ایک دن فجر کی نماز کی امامت کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑھے، جونہی نماز شروع کی۔ فیروزنے اچانک گھات سے نکل کر آپ پر چھ وار کئے، ایک وار آپکےناف کے نیچے لگا۔ حضرت عمر نے فورا حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کو ہاتھ سے پکڑ کر آگے کیا، انہوں نے نماز مکمل کی۔ اور آپ اس دوران لہولہان حالت میں تڑپتے رہے۔

    فیروز کو اس دوران پکڑنے کی کوشش کی، مگر اس نےاس خنجر سے اور افراد کو بھی زخمی کیا، اور جب پکڑا گیا تو اس نے خودکشی کی اور جہنم واصل ہوا۔
    سب سے پہلے آپنے پوچھا کہ میرا قاتل کون ہے؟ آپکو بتایا گیا کہ فیروز نظامی پارسی غلام۔ آپ نے الحمدللہ کہا، کہ شکر ہے کوئ اسلام کا دعویدار میرا قاتل نہیں۔

    ایک طبیب بلایا گیا جس نے آپکو نبیذ اور دودھ دیا، دونوں چیزیں زخم کی راہ سے باہر نکل آئیں۔ آپ کو یقین ہوگیا کہ اب آپ جانبر نہیں ہوسکتے، لہذاحضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے اجازت چاہی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جگہ عنایت کردیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے روتے ہوۓ کہا کہ یہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی تھی۔ مگر میں آج آپکو خود پر ترجیح دیتی ہوں۔

    آپ نے فرمایا: "یہی میری سب سے بڑی آرزو تھی”

    تین دن بعد آپکا انتقال ہوا۔
    انا لله وانا الیہ راجعون

    مشہور تاریخی روایات سے یہی بات ثابت ہے کہ 23 ہجری 26 یا27 ذوالحجہ کو نماز فجر میں سیدنا فاروق اعظمؓ پر ابولؤلؤ فیرزو مجوسی ملعون نے حملہ کیا اور تین دن کے بعد یکم محرم الحرام کو امیرالمومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا۔صحیح قول کے مطابق بوقت شھادت انکی عمر مبارک 63 سال تھی ۔ آپؓ کی مدتِ خلافت دس سال،چھ ماہ تین دن پر محیط ہےیکم محرم الحرام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کئے گئے۔

    حضرت علی رضی اللہ عنہ آپکے جنازے پر آئے اور فرمایا: دنیا میں مجھے سب سے محبوب وہ شخص تھا جو اس کپڑے میں لپٹا ہوا ہے۔

    حضرت ام ایمن رضی اللہ عنھا نے کہا: اب اسلام کمزور ہوگیا۔

    سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اب میں اسلام پرروتا ہوں۔ آپکی موت سے اسلام میں وہ دراڑ آئ جو کبھی بھری نہیں جاسکتی۔
    اللہ ہمیں آپکے نقش قدم پر چلائے۔ آمین

    آپ کی مرقد پر بے شمار رحمتیں ہوں ۔ آمین