Baaghi TV

Tag: اسلام

  • اسلام اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں — نعمان سلطان

    اسلام اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں — نعمان سلطان

    اللہ پاک اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب بھی ذکر آیا ہے رب العالمین اور رحمت العالمین آیا ہے. یعنی رب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کے لئے ہیں.

    کسی جگہ بھی صرف مسلمانوں کا رب یا صرف مسلمانوں کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذکر نہیں آیا لیکن ہم لوگ اسلام کے خودساختہ ٹھیکیدار بن گئے.

    اگر اللہ پاک اپنی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود لوگوں کو بشمول مسلمان رزق دے رہا ہے ان پر اپنی عنایات کی بارش کر رہا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں کسی پر تنقید کرنے والے اور اس کے ایمان کا فیصلہ کرنے والے.

    لیکن اس کے برعکس ہم نے لوگوں کے افعال کی بنیاد پر ان کے ایمان کا فیصلہ کر کے موقع پر ان کے ساتھ فوری انصاف کر کے دنیا میں اسلام کے بارے میں منفی تاثر کو اجاگر کیا.

    جب بھی کہیں بھی شدت پسندی کا ذکر آتا ہے تو توجہ بےاختیار مسلمانوں کی طرف چلی جاتی ہے اس کی وجہ دنیا بھر میں بننے والا ہمارا تنگ نظری اور شدت پسندی کا امیج ہے.

    دین اسلام میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کو وضاحت سے بیان کیا گیا.. ساتھ ہی حقوق اللہ پر یہ کہہ کر حقوق العباد کو فوقیت دی گئی کہ روزمحشر اللہ پاک حقوق اللہ کی ادائیگی میں کوتاہی کو تو اپنی رحمت سے درگزر کر دے گا.

    لیکن اگر کسی نے حقوق العباد کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی کی تو جب تک وہ شخص جس کا مذکورہ شخص نے حق غضب کیا اسے معاف نہیں کرے گا اللہ پاک بھی اس شخص کو معاف نہیں کرے گا.

    یہ بات تمام مسلمانوں کی تربیت کے لئے اللہ پاک نے تاکید سے بیان کی کیونکہ دنیا میں دین پھیلانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے قول و فعل سے دوسرے لوگوں کو متاثر کریں.

    لوگ آپ کی شخصیت دیکھ کر سوچیں کہ اگر یہ شخص اتنا اچھا ہے تو اس شخص کا دین کتنا اچھا ہو گا اور اس تجسس کی بنیاد پر وہ شخص دین کا مطالعہ شروع کرے اور آخرکار اسلام کی حقانیت کا قائل ہو جائے.

    لیکن ہم لوگوں نے اس کے بالکل برعکس طرزِ عمل شروع کر دیا.. ہماری ابتدا فرقہ ورانہ اختلافات سے شروع ہو کر اب اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ ہم کسی دوسرے شخص کا اپنے سے معمولی اختلاف رائے بھی برداشت نہیں کر سکتے.

    وہ دین جو ہمیں عفو درگزر کی تعلیم دیتا تھا اب ہم اس کے برعکس فوری بدلہ لینے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور کچھ وقت گزرنے کے بعد اپنے طرز عمل پر پچھتاتے ہیں کہ ہم نے جذبات میں آکر غلط قدم اٹھا لیا.

    جذبات میں آکر فوری ردعمل دے کر ہم اپنا اور دوسروں کا گھر خراب کرتے ہیں.. پہلے چند مخصوص موضوعات یا افعال ایسے ہوتے تھے جن پر لوگ فوری ردعمل دیتے تھے اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے تھے لیکن اب تو لوگوں کو عدم برداشت اور ردعمل دینے کے لئے بہانہ درکار ہوتا ہے.

    ہم میں عدم برداشت پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے موقف کو سنتے، سمجھتے اور برداشت نہیں کرتے ہیں.ہم لوگوں کے بارے میں ایک مخصوص سوچ قائم کر لیتے ہیں اور ان کے ہر عمل کو اسی سوچ کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور اس پر ردعمل دیتے ہیں.

    ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اگر کوئی بندہ دس باتیں غلط یا اختلافی کرتا ہے تو وہ ایک بات یا عمل ایسا کر دیتا ہے جو اس کے گزشتہ اعمال یا باتوں کا مداوا ہوتا ہے. ہم اس شخص سے اس کی دس غلط باتوں پر تنقید کے لئے نہیں ملتے بلکہ اس سے ایک صحیح بات حاصل کرنے کے لئے ملتے ہیں.

    ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہمارے عدم برداشت کے رویے کی وجہ سے دنیا میں ہمارا منفی امیج بن گیا ہے اور ہمیں خود میں برداشت پیدا کر کے اپنا امیج منفی سے مثبت کرنا ہے.

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بات پر ردعمل دینا ضروری نہیں ہوتا اگر آپ کو کوئی بات ناگوار یا اپنے عقائد کے خلاف محسوس ہوتی ہے تو آپ ایسی محفلوں میں جانے سے اجتناب کریں.

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے نظریے یا عقائد کے خلاف کوئی بات نہ ہو تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے ہم خیال لوگوں کی محفل اختیار کریں اور مزے کریں.

    اگر آپ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے ہم خیال لوگوں کی محفل سے باہر نکلنا پڑے گا اور خود میں تنقید سننے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا پڑے گا کیونکہ علم دنیا میں موتیوں کی طرح بکھرا ہوا ہے اور اسے ہر جگہ گھوم پھر کے حاصل کرنا پڑتا ہے.

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے نظریے کی ترویج ہو تو اس کے لئے ہمیں پہلے خود کو دنیا کے لئے قابل قبول بنانا پڑے گا اور اس کے بعد اپنے طرزِ عمل سے دوسروں کو متاثر کر کے انہیں اپنے نظریے کی طرف راغب کرنا پڑے گا اور یہ سب اس وقت ممکن ہو گا جب ہم میں برداشت پیدا ہو گی. نہیں تو لوگ یہ کہہ کر ہمارے نظریے سے دور ہوتے جائیں گے کہ اسلام تو اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں.

  • اسلام محنت کشوں کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے: سراج الحق

    اسلام محنت کشوں کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے: سراج الحق

    سراج الحق نے کہا ہے کہ اسلام محنت کشوں کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے۔عالمی یومِ مزدور کے موقع پر امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ محنت کش اللّٰہ تعالیٰ کا دوست ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر محنت کش کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا حکومت کا فرض ہے۔

    سراج الحق نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں 2 کروڑ سے زائد صنعتی و تجارتی ورکرز بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام محنت کشوں کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے، لاکھوں دیہاڑی دار مزدوروں کو آج تک کسی ادارے نے رجسٹرڈ نہیں کیا۔

    امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ گوادر کے ماہی گیروں کے مسائل اور مطالبات منظور کیے جائیں، مزدوروں کو ان کی محنت کا جائز معاوضہ ملنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج مزدوروں کا عالمی یوم مزدور منایا جارہا ہے، اس سلسلے میں تمام بڑے شہروں میں ریلیوں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔

    ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کا دن محنت کی حرمت عظمت کی علامت ہے، جبکہ یہ دن ہمیں شکاگو کے شہداء اور ان کی جبرو استبداد کے خلاف جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔

    عالمی یوم مزدور شکاگو میں مزدوروں کی جانب سے کئے جانے والے احتجاج پر امریکی حکومت کی جانب سے تشدد کے نتیجے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے مزدوروں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

    یکم مئی اٹھارہ سو چھیاسی میں چند مزدور رہنماؤں کی اپیل پر شکاگو کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے چار لاکھ مزدوروں کی جانب سے ہڑتال کی گئی، ہڑتال اس قدر کامیاب تھی کہ ایک امریکی اخبار نے لکھا کہ کسی ایک بھی فیکٹری کی چمنی سے دھواں اٹھتا دکھائی نہیں دیا۔

    مزدوروں کا مطالبہ تھا کہ ان کے کام کے اوقات 14 گھنٹے سے کم کر کے آٹھ گھنٹے کیے جائیں اور اس مطالبے میں مقامی، غیر مقامی، ہنر مند اور مزدور سب ہی شامل تھے مگر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی مزدور مارے گئے اور ان کی تعداد کے بارے میں اب تک درست معلومات نہیں۔

  • بھارت کی معروف سماجی کارکن وموٹیویشنل اسپیکرسبری مالا نے اسلام قبول کرلیا

    بھارت کی معروف سماجی کارکن وموٹیویشنل اسپیکرسبری مالا نے اسلام قبول کرلیا

    مکہ المکرمہ: تامل ناڈو کی معروف سماجی کارکن و ہندو موٹی ویشنل اسپیکر سبری مالا نے اسلام قبول کرلیا جس کا اعلان انہوں نے مکۃ المکرمہ پہنچ کر کیا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر سبری مالا ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں انہیں مسجد الحرام میں کعبہ کے سامنے کھڑے دیکھا جاسکتا ہے اور ویڈیو میں انہوں نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔

    یشما گل نے عمرے کی سعادت حاصل کرلی،غلاف کعبہ بھی تحفے میں مل گیا

    سبری مالا نے اپنا اسلامی نام فاطمہ سبری مالا رکھا ہے اور اسلام قبول کرنے کے بعد اُنہوں نے عمرے کی سعادت حاصل کی مکہ مکرمہ میں فاطمہ سبری مالا کو غلاف کعبہ پر کڑھائی کا موقع بھی ملا۔

    فاطمہ سبری مالا کا کہنا ہےکہ میں نے خود سے سوال کیا کہ میں مسلمانوں سے اتنی دشمنی کیوں کرتی ہوں اور اس طرح میں نے غیر جانبدار ذہن کے ساتھ قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا تو حقیقت کا علم ہوا، اور اب میں اسلام سے بہت زیادہ پیار کرتی ہوں

    دائرہ اسلام میں داخل ہونے والےسابق جنوبی کورین پاپ گلوکار کی عمرے کی تصاویر سوشل…

    فاطمہ سبری مالا نے کہا کہ مسلمان ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہے اور مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ تمام مسلمان خود بھی قرآن سے جڑیں اور دوسروں تک بھی اس کا پیغام پہنچائیں آپ کے ہاتھ میں ایک حیرت انگیز کتاب ہے یہ گھر میں کیوں چھپی ہوی ہے؟ دنیا کو اسے پڑھنا چاہیے-

  • بھارت: حجاب پرپابندی : چار سو سے زائد مسلم طالبات نے پڑھائی چھوڑ دی

    بھارت: حجاب پرپابندی : چار سو سے زائد مسلم طالبات نے پڑھائی چھوڑ دی

    ممبئی: بھارت: حجاب معاملہ ،مسلمانوں‌ کے لیے مزید مشکلات آنے لگیں ، ہرطرف خوف وہراس کی کیفیت ہے ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب پر پابندی کے خلاف بطور احتجاج اب تک 4سو مسلم طالبات نے پڑھائی چھوڑ دی دی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حجاب کی عظمت کی برقرار رکھنے کیلئے اپنی پڑھائی ترک کرنے والی ان طالبات کاکہناہے کہ ہم اپنا مستقبل داﺅ پر لگا سکتی ہیں لیکن حجاب معاملے میں سود نہیں کرسکیں۔ سینئر بھارتی سیاسی رہنما اور وی کے انگلش سکول کے چیئرمین وکیل خان نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ ایسی طالبات کی ہمت افرائی ضروری ہے اور ایمان و عقیدہ کی نگہبان لڑکیوں کے روشن مستقبل کیلئے جنگی بنیادوں پر تعلیمی اداروںکا قیام عمل میں لایا جانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم لڑکوں نے گزشتہ کچھ عرصے سے تعلیمی محاذپر جو نمایاںکامیابی حاصل کی ہے اس سے بوکھلا کر آر ایس ایس کی حکومت بے تکے اور اوچھے ہتھکنڈے آزما رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم کے باضمیر اور امیر طبقے کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمان طالبات کے لیے تعلیمی ادارے قائم کریں کیونکہ اندیشہ ہے کہ حجاب کا معاملہ اب پورے بھارت میں پھیلے گا۔ وکیل خان نے کہا کہ اگر ہم نے بروقت زخم کا علاج نہیں کیا تو یہ ناسور کی شکل اختیار کر جائے گا۔

    ادھر ذرائع کے کے مطابق ریاست کے ساحلی شہر منگلورو کے دو مندروں کے میلوں میں مسلم تاجروں کا بائیکاٹ کیا جا جا رہا ہے ۔ منگلا دیوی مندر اور بپاناڈو درگاہ پر میشوری مندر کے سالانہ میلوں میں مسلمان تاجروں کو دکانین لگانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس سلسلے میں مندروں کے باہر بینر لگائے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ غیر ہندوﺅں کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیںہوگی۔ ایک بینر میں یہ بھی لکھا ہے کہ ملک کے دستور کی مخالف اور گاﺅ کشی کرنے والوں کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ مسلمان تاجروں کا بائیکاٹ کرنے کے حوالے سے ہندو تنظیمیں مندروں کی انتظامیہ پر دباﺅ ڈال رہی ہے ۔

    کرناٹک کے ایک اور شہر شیموگہ میں بھی اس طرح کا ایک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ماری کنمبا مندر کے میلے میں ہر سال دکانوں کا ٹینڈر ایک غیر ہندو کے نام ہوتا تھا لیکن ہندو انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل کے ایک رہنما نے غیر ہندوﺅں کو ٹینڈر دینے کی مخالف کرتے ہوئے خود نو لاکھ سے زائد رقم دیکر ٹینڈر اپنے نام کر لیا ہے ۔

  • کپتان کا اسلام آباد میں جلسہ: کراچی سے پشاورتک کارکنان پہنچنےلگے:ٹرینوں کی بکنگ جاری

    کپتان کا اسلام آباد میں جلسہ: کراچی سے پشاورتک کارکنان پہنچنےلگے:ٹرینوں کی بکنگ جاری

    اسلام آباد(محمداویس)کپتان کا اسلام آباد میں جلسہ: کراچی سے پشاورتک کارکنان پہنچنےلگے:ٹرینوں کی بکنگ جاری ،اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے 27مارچ جلسے کے لیے پہلی بار ٹرینوںکی بکنگ کرالی گئی ،ریلوے خصوصی ٹرینیں چلائی جائیں گی جو تحریک انصاف کے کارکنان کو کراچی اور لاہور سے اسلام آبادمارگلہ ریلوے سٹیشن لا ئیں گی اور جلسہ ختم ہونے کے بعد کارکنان کوواپس کراچی او رلاہور لے کرجائیں گی، ریلوے اسٹیشن سے کارکنان کوبسوں کے ذریعے پنڈال میں پہنچایاجائے گا۔

    خبررساں ادارے کودستیاب دستاویزت کے مطابق تحریک انصاف حکومت نے 27مارچ کے اپنے جلسے جوکہ امربالمعروف کے عنوان سے کیاجارہاہے اس کے لیے پہلی بار ٹرینوں کے ذریعے کارکنان کولانے کافیصلہ کرلیاگیا ہے اس حوالے سے ایک ٹرین کراچی سے براستہ لاہور اسلام آباد مارگلہ ریلوے اسٹیشن پہنچے گی جبکہ دوسری ٹرین لاہور سے کارکنان کومارگلہ ریلوے اسٹیشن پہنچائے گی ۔

    کراچی سے پہلی ٹرین 26مارچ کوصیح9بج کر30منٹ پر نکلے گی اور حیدرآباد ،روہڑی اورخانیوال سٹاپ کرکے لاہور اگلے دن 27مارچ کوصبح 3بج کر30منٹ پر پہنچے گی جہاں پرآدھا گھنٹہ سٹاپ کرنے کے بعد صبح 4بجے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگی اوصبح 9بج کر 30منٹ پر مارگلہ ریلوے اسٹیشن پہنچے گی جبکہ دوسری ٹرین لاہور سے ٹرین صبح 4بج کر 30منٹ پر نکلے گی اورصبح 10بجے مارگلہ ریلوے اسٹیشن پہنچے گی جہاں سے کارکنان کوبسوں کے ذریعے پنڈال میں پہنچایاجائے گا۔

    27مارچ کو جلسہ ختم ہونے کے بعد رات کو ان دو ٹرینوں کے ذریعے کارکنان کوواپس لاہور اور کراچی پہنچایاجائے گا۔دونوں ٹرینیں کل 19مسافر کوچز پر مشتمل ہوں گی

  • بھارتی سپریم کورٹ بھی ہندوتوا نظریےکا دفاع کرنےلگی

    بھارتی سپریم کورٹ بھی ہندوتوا نظریےکا دفاع کرنےلگی

    نئی دلی:بھارتی سپریم کورٹ بھی ہندوتوا نظریے کا دفاع کرنے لگی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ انصاف کرنے سے قاصر نظرآرہی ہے یہی وجہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے جمعرات کو تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کے حجاب پر پابندی سے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر عرضداشتوں کی سماعت کیلئے تاریخ مقرر کرنے سے ایک بار پھر انکار کر دیا۔

    مسلم طالبات کے وکیل ایڈووکیٹ دیو دت کامت نے چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں قائم بنچ سے درخواست کی کہ امتحانات قریب آرہے ہیں لہذاعدالت کو اس معاملے پر فوری سماعت کرنی چاہیے۔ تاہم چیف جسٹس نے کہاکہ اس معاملہ کا امتحان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور معاملہ کو سنسنی خیز نہ بنائیں۔ تاہم وکیل نے دلیل دی کہ مسلم طالبات کو تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں دیا جا رہا ہے اور ان کا ایک سال ضائع ہو نے کا خدشہ ہے ۔

    چیف جسٹس نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت کیلئے فوری کوئی تاریخ مقرر کرنے سے انکار کر دیا ۔ اس سے قبل 16مارچ کو بھی سپریم کورٹ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف مسلم طالبات کی عرضداشت پر فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت ہولی کی چھٹیوں کے بعد کرنے کا عندیہ دیا تھا ۔

    واضح رہے کہ کرناٹک ہائی کوٹ نے 15مارچ کو مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کے ہندوتوا ایجنڈے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ریاست کے تعلیمی اداروں میں مسلم طالبا ت کے حجاب پر پابندی کے خلاف دائر عرضداشتوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھاکہ مسلم خواتین کا حجاب پہننا اسلام کا لازمی جز ونہیں ہے۔

  • ہائے یہ آئین شکنی۔:حق سچ (علی عمران شاھین)

    ہائے یہ آئین شکنی۔:حق سچ (علی عمران شاھین)

    پاکستان کے قانون کے تحت آئین شکنی یا آئین کی خلاف ورزی کی سزا موت ہے اور آج کل ہماری اپوزیشن یہی آئین شکنی کا الزام لے کر عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ )چلی گئی ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر آئین کے مطابق اجلاس نہیں بلایا گیا ۔۔۔۔۔۔

    لیکن دوسری طرف

    اسی اپوزیشن اور تمام حکومتی و حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کو اسی آئین میں لکھی یہ شق کبھی نظر نہیں آئی کہ پاکستان میں کوئی قانون خلاف شریعت نہیں بن سکتا ،اس کے باوجود انہی اسمبلیوں میں کتنے غیر شرعی قوانین بن جاتے ہیں اور کوئی نہیں بولتا بلکہ لگ بھگ سبھی اس میں حصہ دار ہوتے ہیں۔۔

    اسی 1973آئین میں لکھا گیا تھا کہ اردو کو بطور واحد سرکاری و قومی زبان 15 سال میں مکمل لاگو اور رائج کیاجائے گا، اس پر آئین سے ہٹ کر قائد اعظم اور سپریم کورٹ کے صریح فیصلے اور حکم بھی موجود ہیں لیکن کوئی رکن پارلیمان یا سیاست دان اس آئین و قانون شکنی پر کبھی نہیں بولتا۔

    ملک سے سود کا فوری خاتمہ شریعت ،آئین اور ہمارے آئینی ادارے وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ ہے لیکن یہی سیاست دان اس پر بھی نہیں بولتے جو کہ قرآن کے الہی الفاظ میں اللہ اور رسول ص سے جنگ کے مترادف ہے۔

    حق سچ یہ ہے کہ ہمارے سب لوگوں اور سب اداروں کو صرف اپنی مرضی کے مطابق آئین شکنی یا قانون شکنی نظر آتی اور اس حمام میں سب ننگے ہیں

  • واجب الاحترام والاکرام میری قوم تمہیں مبارک:اسلامو فوبیا      کیخلاف آٔپکی دعائیں رنگ لےآئیں:وزیراعظم کا  پیغآم

    واجب الاحترام والاکرام میری قوم تمہیں مبارک:اسلامو فوبیا کیخلاف آٔپکی دعائیں رنگ لےآئیں:وزیراعظم کا پیغآم

    نیویارک:واجب الاحترام والاکرام میری قوم کو مبارک ہو:اسلامو فوبیا کے خلاف آٔپکی دعائیں رنگ لے آئیں:وزیراعظم کا قوم کے نام پیغآم ،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور او آئی سی کی اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن منانے کی قرارداد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کرلی ہے جس پر وزیراعظم عمران خان نے امت مسلمہ کو مبارکباد دی ہے۔

    عالمی میڈیا اس بات کوبیان کرتے ہوئے کہہ رہا ہےکہ اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی کوششیں رنگ لے آئیں ، عالمی میڈیا نے وزیراعظم پاکستان کوعالم اسلام کا ایک حقیقی رہنما قراردیا ہے

    تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن منانے کے لیے قرارداد پیش کی گئی۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیراکرم نے اسلاموفوبیا کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اسلاموفوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں آوازاٹھائی، نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات بڑھے، مذہبی آزادی ہرشخص کا بنیادی حق ہے۔

     

     

    انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ملکوں میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اسلاموفوبیا کوہوا دی جاتی ہے، اسلاموفوبیا کے خلاف آگاہی اور تدارک کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے، اس سے مسلمانوں کے خلاف تشدد اورمنافرت بڑھتی ہے۔

    منیر اکرم کا کہنا تھا کہ اسلام اورمسلمانوں کے خلاف نفرت کوروکنا ہوگا، اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے مذہبی رواداری کا فروغ وقت کا تقاضا ہے۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسلاموفوبیا کے خلاف منظور کردہ قرارداد کے بعد وزیراعظم عمران خان کی جانب سےخوشی کا اظہار کیا گیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے عمران خان نے لکھا کہ میں آج امت مسلمہ کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں، اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئے لہر کے خلاف ہماری آواز سنی گئی ہے، اقوام متحدہ نے او آئی سی کی جانب سے پاکستان کی طرف سے متعارف کرائی گئی ایک تاریخی قرارداد منظور کی ہے، قرارداد میں 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن قرار دیا گیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے قوم کے نام اپنے پیغآم میں‌کہا ہےکہ یہ سب اللہ کی رحمت سے اور میری قوم کی دعاوں سے ممکن ہوا ہے آج اہل پاکستان اپنے رب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے

    وزیراعظم نے مزید لکھا کہ آج اقوام متحدہ نے بالاخر دنیا کو درپیش سنگین چیلنج کو تسلیم کر لیا ہے، اگلا چیلنج اس تاریخی قرارداد پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

  • مودی اورمودی نوازوں نےاقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں

    مودی اورمودی نوازوں نےاقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں

    یوپی :مودی اورمودی نوازوں نےاقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں،اطلاعات کےمطابق اتر پردیش میں الیکشن جیتتے ہی بی جے پی رہنما نند کشور گوجر نے افسران کو متنبہ کیا ہے کہ علاقے میں ایک بھی گوشت کی دکان نہیں ہونی چاہیے۔

    اترپردیش کے علاقے غازی آباد لونی سے دوبارہ منتخب ہونے والے بی جے پی کے رکن اسمبلی نند کشور گوجر نے منتخب ہوتے ہی مسلم کش متعصبانہ حکم دے کر اپنی مسلم دشمنی کا اظہار کردیا ہے۔

    کشور نے لونی کے افسروں کو متنبہ کیا ہے کہ علاقے میں ایک بھی گوشت کی دکان دکھائی نہیں دینی چاہیے، ان کے اس بیان سے وہاں کی اقلیت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نند کشور گوجر نے افسران کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ ’لونی کے افسران سمجھ لیں، انیہں ایک بھی گوشت کی دکان علاقے میں دکھائی نہیں دینی چاہیے، لونی میں صرف رام راج چاہیے اس لیے دودھ، گھی کھاؤ اور ونڈ بیٹھک کرو‘‘۔

    نند کشور اس سے قبل بھی اپنے متنازع بیان کی وجہ سے شہ سرخیوں میں آچکے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں انہوں نے لونی کے بہیتا حاجی پور گاؤں میں انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ جو لوگ علی کا نام لیتے ہیں انہیں پاکستان چلے جانا چاہیے۔ بی جے پی رکن اسمبلی نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ ’’علی کا نام لینے والوں کو لونی چھوڑنا ہوگا، اس انتخاب کے بعد لونی میں مکمل رام راج ہوگا‘‘۔

    واضح رہے کہ بی جے پی کی مسلم دشمنی کا اظہار وقتاْ فوقتاْ ہوتا رہتا ہے کبھی مودی حکومت کے کسی اقدام سے تو کبھی خود مودی یا انکے رہنماؤں کے بیانات سے۔

    بی جے پی حکومت کے اقدامات کیخلاف صرف عام مسلمان نہیں بلکہ خود بھارت میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔گزشتہ دنوں بی جے پی حکومت کے مسلمانوں پر مظالم کیخلاف معروف شاعر منور رانا نے اترپردیش چھوڑنے کا اعلان کردیا تھا۔

    عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا نے اعلان کیا تھا کہ اگر یوگی ادتیہ اترپردیش کا دوبارہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو وہ نقل مکانی کرلیں گے۔

  • مقبوضہ کشمیر:خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار:نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی

    مقبوضہ کشمیر:خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار:نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار:نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی ،اطلاعات کے مطابق آج دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے تاہم بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروں کی طرف سے کشمیر ی خواتین پرڈھائے جانیوالے مظالم اور انہیں درپیش مشکلات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اوروہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوری 1989ء سے اب تک بھارتی فوجیوں نے ہزاروں خواتین سمیت 95ہزار981شہریوں کو شہید کیا ۔بھارتی فوجیوں نے جنوری 2001سے اب تک کم سے کم681خواتین کو شہید کیا۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بھارت کی جاری ریاستی دہشت گردی کے دووران 22ہزار 943 خواتین بیوہ ہوئی ہیں جبکہ بھارتی فوجیوں نے11ہزار 250خواتین کی بے حرمتی کی جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی آبروریزی اور شوپیاں کی سترہ سالہ آسیہ جان اور اس کی بھابھی نیلو فر بھی شامل ہیں جنہیں بے حرمتی کے بعد قتل کردیاگیا تھا۔بھارتی پولیس کے اہلکارنے جنوری 2018میں کٹھوعہ میں ایک آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو کو اغواء اور بے حرمتی کرنے کے بعد قتل کردیا تھا ۔

    بھارتی فوجیوں نے 10 فروری2021 کو ضلع بانڈی پورہ کے علاقے چیو اجس میں ایک بچی کے ساتھ بدسلوکی کی اور اسے گھسیٹ کر اپنی گاڑی میں ڈالا جب وہ اپنی بہن کے ساتھ اپنے باغ میں کام کررہی تھی ۔ اس کی بہن کی چیخ و پکار پرمقامی لوگوں نے موقع پر پہنچ کر بچی کو بچایا ۔ متاثرہ خاندان نے اجس پولیس اسٹیشن میں مقدمہ در ج کرایا تھاتاہم بھارتی فوجیوںنے مقدمہ واپس لینے کیلئے مذکورہ خاندان کو حراساں کیا۔

    رپورٹ کے مطابق مقبوضہ علاقے میںبھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروںنے ہزاروں خواتین کے بیٹوں، شوہروں اوربھائیوںکو حراست کے دوران لاپتہ اورقتل کر دیا ہے ۔دوران حراست لاپتہ کشمیریوں کے والدین کی تنظیم کے مطابق گزشتہ34برس کے دوران 8ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کیاگیا ہے ۔

    رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ ہزاروں کشمیری نوجوان ، طلبہ اور طالبات بھارتی فورسز کی طرف سے پر امن مظاہرین پر گولیوں اورپیلٹ گنوں کے وحشیانہ استعمال سے زخمی ہو چکے ہیں ۔ ان زخمیوں میں سے 19ماہ کی شیر خوار بچی حبہ نثار، دو سالہ نصرت جان ، سترہ سالہ الفت حمید ، انشا مشتاق،افرہ شکور ، شکیلہ بانو،تمنا،شبروزہ میر،شکیلہ بیگم اور رافعہ بانو سمیت سینکڑوں بچے اور بچیاں اپنی آنکھوں کی بینائی کھو چکے ہیں ۔ گزشتہ سال جولائی میں بھارتی پولیس کے ایک کانسٹیبل اور ایس اپی او نے جموں کے علاقے ڈنسل میں ایک دلت بچی کی اجتماعی آبروریزی کی

    بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی اور ہراسانی کو جنگی ہتھیار کے بطور استعمال کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی درندگی اور بربریت سے بیواوں اور آدھ بیواوں کی بڑی تعداد موجود ہے،بھارتی سفاکوںنے اپنی وحشیانہ کاروائیوں میں معصوم اور بیگناہ کشمیریوں کا خون بیدردی کے ساتھ بہا نے کے علاوہ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتاریوں کے بعد لاپتہ بھی کیا،جس کے باعث جہاں ہزاروں خواتین بیوہ ہوئیں وہیں ہزاروں کی تعداد میںایسی خواتین بھی ہیں جو آدھ بیوہ کہلاتی ہیں، خواتین کا عالمی دن اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کشمیری خواتین کے خلاف بھارتی افواج کے جرائم کو بے نقاب کیا جائے۔

    کشمیری خواتین کی مشکلات کی بنیادی وجہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی،جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ ہے۔ جہاں تک خواتین کی آبروریزی اور دیگر جرائم کا تعلق ہے، بھارت خواتین کے حوالے سے دنیا کا ایک بدترین ملک ہے۔ خواتین کے حقوق کی عالمی تنظیموں کو پورے بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں خواتین کی حالت زار پر خاموش تماشائی نہیں بلکہ بھارت کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔بھارت اور پورے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے خلاف بھارتی تشدد پر قابو پانے کے لیے عالمی برادری کو بیدار ہونا چاہیے۔

    عالمی یوم خواتین کے موقع پر دنیا کو اس صدمے کو نہیں بھولنا چاہیے کہ کشمیری بیوائیں اور آدھ بیوائیں بھارتی مظالم اور سفاکیت گزشتہ تین دہائیوں سے برداشت کر رہی ہیں، یہ وقت ہے کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں خواتین کے خلاف ہونے والے بڑے پیمانے پر جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ خواتین کا عالمی دن دنیا کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ وہ کشمیری خواتین کو سفاک بھارتی فوجیوں کے مظالم اور درندگی سے بچانے کے لیے آگے آئے۔