Baaghi TV

Tag: اسلام

  • فٹ بال کے عالمی کھلاڑی نے دین اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا

    فٹ بال کے عالمی کھلاڑی نے دین اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا

    دبئی : فٹ بال کے عالمی کھلاڑی نے دین اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا ،اطلاعات کے مطانق ڈچ فٹ بال لیجنڈ کلیرنس اسیڈورف نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسلام قبول کر لیا ہے، یہ بات 45 سالہ نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ سے جمعہ کو کہی۔

    اسیڈورف نے کہاکہ”میرے ’مسلم خاندان ’میں شامل ہونے کی خوشی میں تمام اچھے پیغامات کا خصوصی شکریہ۔ میں دنیا بھر کے تمام بھائیوں اور بہنوں، خاص طور پر میری پیاری اہلیہ صوفیہ کا ہم مذہب ہونے پر بہت خوش ہوں، جنہوں نے مجھے اسلام کا مفہوم مزید گہرائی سے سکھایا ہے۔ میں نے اپنا نام تبدیل نہیں کیا اور اپنے والدین کے ذریعہ اپنا نام برقرار رکھوں گا، کلیرنس اسیڈورف! میں اپنی ساری محبت دنیا میں ہر کسی کو بھیج رہا ہوں۔

    کلیرنس اسیڈورف نے اپنے شاندار کیریئر کے دوران ایجیکس، ریئل میڈرڈ، انٹر میلان اور اے سی میلان سمیت کئی بڑے کلبوں کے لیے کھیلا تھا۔

    سابق ڈچ مڈفیلڈر نے چار یو ای ایف اے چیمپئنز لیگ ٹائٹل (1995 میں ایجیکس کے ساتھ، 1998 میں ریئل میڈرڈ کے ساتھ، 2003 اور 2007 میں اے سی میلان کے ساتھ)، 1997 میں ریئل میڈرڈ کے ساتھ ایک لا لیگا ٹائٹل اور 2004 اور 2011میں اے سی میلان کے ساتھ دو سیری اے ٹائٹل جیتے۔

    وہ محنتی اور ورسٹائل مڈفیلڈر تھا جو کم از کم چھ زبانیں بولتا ہے – ڈچ قومی ٹیم میں 87 بار کھیلا اور تین یو ای ایف اے یورپی فٹ بال چیمپئن شپ اور 1998 فیفا ورلڈ کپ میں کھیلا، بعد کے تین ٹورنامنٹس کے سیمی فائنل تک پہنچے۔

    ریٹائر ہونے کے بعد، وہ اے سی میلان اور کیمرون کی قومی ٹیم سمیت متعدد ٹیموں کے مینیجر بن گئے۔

  • اسلام میں حجاب مرضی نہیں فرض ہے: سابق بھارتی اداکارہ حق سچ بیان کرکے سب کوحیران کردیا

    اسلام میں حجاب مرضی نہیں فرض ہے: سابق بھارتی اداکارہ حق سچ بیان کرکے سب کوحیران کردیا

    نئی دہلی :اسلام میں حجاب مرضی نہیں فرض ہے: سابق بھارتی اداکارہ حق سچ بیان کرکے سب کوحیران کردیا،اطلاعات کے مطابق بالی وڈ کی سابق اداکارہ زائرہ وسیم نے حال ہی میں بھارت میں ہونے والے حجاب تنازع پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    زائرہ وسیم نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تحریری پیغام جاری کیا اور کہا کہ اسلام میں حجاب پہنا یا نہ پہننا اپنے ذاتی انتخاب پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ ایک فرض ہے، جب ایک عورت حجاب کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے احکامات بجا لارہی ہے اور اس نے خود کو اللہ کے سپرد کیا ہے۔

    سابقہ اداکارہ نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں بحیثیت ایک عورت کے جو شکرگزاری اور عاجزی کے ساتھ حجاب پہنتی ہوں، اس پورے نظام کی مخالفت کرتی ہوں جہاں خواتین کو صرف ایک مذہبی وابستگی کی وجہ سے حجاب کی وجہ سے ہراساں اور اسے پہننے سے روکا جا رہا ہے۔

    زائرہ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ مسلم خواتین کے خلاف تعصب کو فروغ دینا اور ایسا نظام قائم کرنا جہاں انہیں تعلیم اور حجاب میں سے ایک کو منتخب کرنا اور دوسرے سے دستبردار ہونا ہو، سراسر ناانصافی ہے۔

    انہوں نے ہندو انتہا پسندوں کے لیے کہا کہ آپ مسلم خواتین کو ایک بہت ہی محدود انتخاب کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ آپ کے ایجنڈے کو فروغ دیتا ہے اور جب وہ آپ کے بنائے گئے اصولوں کی پابند ہو جاتی ہیں تو آپ ان ہی پر تنقید کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابقہ اداکارہ زائرہ وسیم نے 2015 میں سپر ہٹ فلم دنگل سے کیرئیر کا آغاز کیا تھا لیکن بعدازاں انہوں نے 2019 میں مذہب کی خاطر فلمی دنیا کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

  • مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :فواد چوہدری

    مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :فواد چوہدری

    اسلام آباد: مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت کا معاشرہ غیر مستحکم قیادت میں تیزی کے ساتھ زوال کی طرف جا رہا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھارتی ریاست کرناٹک میں مسلمان طالبات کے حجاب پہننے پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

     

     

     

    فواد چوہدری نے مودی کی انتہا پسندانہ سوچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کے بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خوفناک ہے، حجاب پہننا کسی بھی دوسرے لباس کی طرح ذاتی پسند ہے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو حجاب کے انتخاب میں آزادی ہونی چاہیے۔

    فواد چوہدری نے بھارتی حکومت کو خبردار کرتےہوئے کہا ہےکہ مسلمان خواتین کے خلاف نفرت پھیلانے کو اس قسم کی گھٹیا حرکتوں سے باز رہنا چاہیے پاکستان اپنے مسلمان بہن بھائیوں‌ پرہونے والے مظالم کی مذمت کرتا ہے اور اس قسم کی انتہا پسندی کو کبھی بھی قبول نہیں کرے گا

    یاد رہے کہ آج بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں نے باحجاب طالبات پر زندگی تنگ کردی ۔

    کرناٹک میں سڑک سے گزرتی اکیلی طالبہ کو زعفرانی رنگ کے مفلر پہنے انتہا پسندوں کی جانب سے تنگ کرنے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہورہی ہے۔

     

     

    کالج جانے والی طالبہ کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا۔

    نہتی مسلمان لڑکی ہندو انتہا پسندوں کے سامنے ڈٹ گئی، ویڈیو میں کالج میں ایک لڑکی کو جے شری رام کا نعرہ لگانے والے ہجوم کی طرف سے ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ہجوم میں شامل لوگ آگے بڑھے اور لڑکی کے سامنے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے، لڑکی نے اس دوران مشتل ہجوم سے ڈرنے کے بجائے ان کا بھرپور مقابلہ کیا اور اونچی آواز میں ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا۔

  • اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ہمارے ہاں اکثر یہ بات عام ہے کہ جو کام ہم کر رہے ہوتے ہیں وہ ہمیں اچھا لگتا ہے مگر وہی کام جب کوئی اور کرے تو وہ ہمارا نا پسندیدہ ہو جاتا ہے3 دہائیاں قبل پاکستان میں ایک مذہبی جماعت معرض وجود میں آئی جس نے دنیا بھر کے انسانوں بلخصوص مسلمانوں کے لئے ہر سماجی،خدمتی کام کیا ان کے اس کام کی بدولت ان پر پابندیاں لگیں اور ان کے کام بند ہوتے گئے اور وہ نئے ناموں سے پھر آتے گئے-

    یہ ایک کھیل سا بن گیا پابندیاں لگنا اور پھر ان کا نئے ناموں سے آنا خیر انہوں نے اپنے دعوتی،سماجی خدمتی کام نا بدلے اور کٹھن حالات کا مقابلہ کیا وقت گزرتا گیا اور ان کے کاموں میں جدت آتی گئی اور پوری دنیا میں ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے عالمی اداروں نے ان پر پابندیاں عائد کروا دیں-

    ماضی میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ یہ لوگ ٹیلی ویژن،تصویر کشی اور جمہوریت کے سخت خلاف تھے اور جمہوری نظام کو کفریہ نظام کہا کرتے تھے اور اپنے سٹیج سے اعلان کیا کرتے تھے کہ ہم کبھی اس نظام کا حصہ نہیں بنیں گے پھر رفتہ رفتہ ٹیلی ویژن کے نقصانات کے ساتھ افادیت کو دیکھتے ہوئے خود انہوں نے ٹیلی ویژن پر آنا شروع کر دیا جس سے دعوتی و خدماتی کاموں میں تیزی آئی اور لوگوں میں ایک جذبہ نمایاں ہوا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ کچھ لوگ تو ان رفاعی،فلاحی،دینی کاموں کی لگن میں ان سے جڑ گئے تو کچھ لوگوں نے اپنی جماعتیں بنا کر انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے کام شروع کر دیا-

    اسی طرح بطور ایک مذہبی جماعت اپنے اوپر لگی پابندیوں کے باعث دعوتی،سماجی خدماتی کاموں کی رکاوٹ کے باعث ان کو احساس ہوا کہ اس دور نظام جمہوریت ( جو کہ دراصل غیر شرعی ہے) کا حصہ بنے بنا اپنا وجود رکھنا ناممکن ہےسو ماضی کے واضع اعلانات کے باوجود انہوں نے بھی الیکشن میں حصہ لیا جس پر انہی کے بعض اپنوں نے سخت اعتراض کیا کہ آپ نے کم و بیش 3 دہائیوں تک جمہوریت کو کفریہ نظام کہا اور اس سے دوری اپنائی اور اب خود ہی سیاست میں آکر اس نظام کا حصہ بن گئے ہیں اس صورتحال کا راقم نے خود عملی مشاہدہ کیا اور دونوں فریقین کیلئے کچھ اصلاح کرنے کی کوشش کی-

    اس جماعت کے قائدین و کارکنان کے نام یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ اتنی جلدی فیصلہ کرنا اچھا نہیں ہوتا جیسا کہ آپ لوگوں نے لوگوں کے ٹی وی تڑوا دیئے اور پھر رفتہ رفتہ ٹی وی کے نقصانات کی طرح فوائد دیکھتے ہوئے خود ہی ٹی وی پر آکر دور حاضر کے ڈیجیٹل فوائد سے مثبت کام لیا اور اپنے دعوتی کاموں کو زیادہ لوگوں تک پہنچایا اس سے قبل جب آپ لوگ ٹی وی مخالف تھے تو بہت کم ہی لوگ آپ کے کاموں سے واقف تھے یہ مخالفت آپکی غلطی تھی-

    اسی طرح جب آپکو احساس ہوا کہ اس جمہوری نظام کا حصہ بنا بنے اس دور میں اپنا وجود قائم رکھنا ناممکن ہے تو آپ نے اپنی بقاء اور اپنے خدماتی کاموں کے تسلسل کیلئے اور خدمت انسانیت کیلئے جمہوریت کو اختیار کیا جو کہ دور حاضر کی ایک بہت بڑی ضرورت ہےخیر اس میں اللہ رب العزت کی بھی رضا مندی شامل ہے کیونکہ شاید آپ اسی وقت ٹی وی پر آتے اور فوری سیاست شروع کرتے تو شاید آج حالات مختلف ہوتے اور آپ بھی کچھ معاشرتی برائیوں کے مرتکب ہوئے ہوتےسو جو بھی کرتا ہے اللہ ہی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر ہی کرتا ہے-

    اب دوسری اصلاح ان لوگوں کیلئے جو اس جماعت کے سیاست میں آنے کے مخالف ہیں اور خود بھی اسی سیاسی جمہوری ( درحقیقت کفریہ) نظام کا حصہ ہیں وہ لوگ سب سے پہلے سیاست،جمہوریت کی تشریح سن لیں کہ اسلام میں جمہوریت کوئی چیز نہیں کہ جدھر زیادہ ووٹ ہوجائیں ادھر ہی ہو جاؤ بلکہ اسلام کا کمال یہ ہے کہ ساری دنیا ایک طرف ہو جائے لیکن مسلمان اللہ ہی کا رہتا ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا کی پہاڑی پر نبوت کا اعلان کیا تھا تو الیکشن اور ووٹوں کےاعتبار سے کوئی بھی نبی کریم کے ساتھ نہیں تھا-

    نبی کریم کے پاس صرف اپنا ووٹ تھا لیکن کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغام کے اعلان سے باز آ گئے کہ جمہوریت( لوگوں کی) چونکہ میرے خلاف ہے اور اکثریت کی ووٹنگ میرے خلاف ہے اس لیےمیں اعلانِ نبوت سے باز رہتا ہوں؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ میرے نبی نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ایک نظام ترتیب دیا جو کہ اسلامی نظام کہلاتا ہے مگر افسوس کہ اس نظام میں وہ اسکامی نبوی نظام دب چکا ہے اور آج ہم اس نظام میں اس قدر دبے ہوئے ہیں کہ ہمیں زندہ رہنے کیلئے پل پل جمہوری نظام کو گلے سے لگانا پڑتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے اس نظام کی کبھی نفی نہیں کی بلکہ آپ نے بھی بہت پہلے سے اس نظام کو گلے سے لگایا ہوا ہے حالانکہ چاہئیے تو یہ تھا کہ آپ اس نظام کا رد کرتے-

    آج ہم اس نظام کی طرف دیکھیں تو یہ ہم پر جبری مسلط ہے اور اپنی بقاء کی خاطر ایک عام مسلمان سے لے کر بڑے سے بڑا عالم دین بھی اسی جمہوری نظام کے تابع ہے نہیں یقین تو اس کے زیر استعمال ہر چیز پر ادا ہونے والا ٹیکس دیکھ لیجئےکوئی کرے ہمت کہ میں تو ٹیکس نہیں دیتا اور اپنی زندگی بغیر ٹیکس کے گزاروں گا کیونکہ ٹیکس حرام ہے مگر ہم ہر چیز پر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں حتی کہ ہماری مساجد بھی ٹیکس دیئے بنا نہیں بنتیں نہیں یقین تو جس بھٹہ خشت سے آپ اپنی مسجد کیلئے اینٹیں خریدتے ہیں ان سے ذرا پوچھئے بھئی اینٹ کی اصل قیمت کیا ہے اور اس پر گورنمنٹ کا ٹیکس کتنا ہے ؟نیز سیمنٹ،ریت ،بجری وغیرہ-

    اسی طرح مسجد میں استعمال ہونے والی بجلی کی اصل قیمت بل میں دیکھئے اور ساتھ میں لگا ٹیکس بھی دیکھئے ہونا تو یہ چائیے تھا کہ دور ماضی کی طرح مساجد کو حاکم وقت چلاتا مگر یہاں تو حاکم وقت مساجد سے ٹیکس وصول کرتا ہے ٹیکس حرام ہونے بارے نبی کریم کا واضع فرمان ہے کہ

    إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَی الْیَھُودِ وَالنَّصَارَی وَلَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ عُشُورٌ
    ’دسواں حصہ(مال تجارت کا ٹیکس) صرف یہود و نصارٰی پر ہے مسلمانوں پر نہیں
    (سنن ابی داود،ج:۸،ص:۲۶۷)
    یہاں تو جناب عام مسلمان کی بجائے مساجد سے بھی ٹیکس لیا جاتا ہے اور ہم اپنی مساجد کا ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہیں بصورت دیگر مسجد کا میٹر کٹ جائے گا اور ہماری مسجد کا اے سی،پنکھے،گیزر بند ہو جائے گا اور نمازی مسجد کا رخ نا کرینگے تو جناب جب ہم اپنی بنائی گئی مسجد پر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں اور اسی ٹیکس دینے والی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں تو جناب کیا اب ہم اس کفریہ نظام کے اندر چلنے والی مسجد اللہ کے گھر میں نماز پڑھنا چھوڑ دیں ؟نہیں ہرگز نہیں ہمیں مسجد کو آباد رکھنا ہے مگر جو جبر گورنمنٹ جمہوریت کے ذریعہ کر رہی ہے اس کی جوابدہ روز قیامت وہی ہو گی ناکہ ہم-

    اسی طرح اسلام میں ویزہ،پاسپورٹ،بارڈر سسٹم کا کوئی وجود نہیں کیونکہ ساری زمین اللہ کی ہے مگر اس نظام کے تحت ہمیں ٹیکس دے کر ویزہ لینا پڑتا ہے پھر اسی ویزے کے ذریعہ ہم حج و عمرہ کرتے ہیں تو کیا اب ہم اپنا مقدس فریضہ حج و عمرہ بھی چھوڑ دیں ؟اب سب جانتے ہیں کہ تصویر کشی حرام ہے مگر بالغ ہوتے ہی ہمارا شناختی بنوانا لازم ہے اور اس پر تصویر لگوانا بھی لازم تو کیا کوئی اس دور میں بغیر شناختی کارڈ کے رہ سکتا ہے ؟ تو حضور والا سیاست میں اپنی بقاء رکھنے والے ان مجبور لوگوں کا سیاست میں آنا ناجائز کیسے ہے بھلا؟یاں تو خود اس نظام سے نکل کر دکھلائیں یاں پھر غیبت اور طعن و تشنیع سے باز آجائیں کیونکہ کسی کی غلطیوں پر طعن و تشنیع کی بہت بڑی ممانعت ہے اور اس بارے فرمان الہی ہے کہ :

    اے ایمان والو !مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں ،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں ۔ ۔۔الحجرات 1

    اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے

    ہر غیبت کرنے والے طعنہ دینے والے کے لیے ہلاکت ہے ۔ الھمزہ 1

    تو جناب یاں تو اپنے گھر ،اپنے کاروبار اپنی آل اولاد کو اس کفریہ سیاسی ،جمہوری نظام سے دور لیجائیں یاں پھر اللہ رب العزت سے ڈرتے ہوئے کسی کی غلطیوں پر طعن و تشنیع نا کریں اور اپنی آخرت سنواریں کچھ انہی کی جماعت کے افراد بھی سابقہ جماعتی بیانات پر بد دل ہو کر اس نظام کا حصہ بننے پر دل برداشتہ ہیں تو ان کی خدمت میں ایک حدیث نبوی کی مثال پیش خدمت ہے

    جس نے امیر کی خوش دلی سے اطاعت کا شرف حاصل کیا گویا کہ اس (خوش نصیب) نے میری(یعنی سید الاولین والآخرینﷺ) کی اطاعت کا شرف عظیم حاصل کیا اور جس (بدنصیب) نے (مدینۃ الرسول ﷺ) کی نسبت سے متعین امیر کی نافرمانی کے جرم عظیم کا ارتکاب کیا گویا اس نے براہ راست سید الاولین والآخرین ﷺ کی نافرمانی کے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ( صحیح بخاری ،کتاب الجہاد، 2957)

    اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آپ کے امیر نے تو اس نظام کو حصہ بننے کا اعلان کیا ہے جو کہ پہلے سے ہی چل رہا ہے جس نظام میں آپ اپنا شناختی کارڈ بنواتے ہیں اور ٹیکس دیتے ہیں اور کوئی آپ کو عشر و زکوٰۃ بارے پوچھنے والا نہیں اور یہی لوگ کچھ ہمت کرکے آپکو عشر و زکوٰۃ ،حج و جہاد ،نماز و صدقات کی تلقین کرتے ہیں تو پھر برات کیسی بھئی امیر نے کوئی نیا نظام تو متعارف کروا نہیں دیا اپنی طرف سے ؟سوچئے اگر اس پہلے سے اپنائے نظام کے ذریعہ سے آپ اپنے دعوتی،خدماتی کام جاری رکھ سکتے ہیں تو مضائقہ ہی کیا ہے ؟-

    ایک اور اہم مثال پیش خدمت ہے کہ نبی کریم کا فرمان ہے کہ دائیں جانب نا تھوکا جائے اور پھر دوسری حدیث ہے کہ قبلہ رخ نا تھوکا جائے ایک اور حدیث ہے کہ بائیں جانب تھوکا جائےاب میں اس پوزیشن میں کھڑا ہوں کہ میری بائیں جانب قبلہ رخ ہے تو حدیث تو مجھے بائیں جانب تھوکنے کی اجازت دے رہی ہے مگر جب دوسری حدیث دیکھوں تو قبلہ رخ بھی تھوکنا منع ہے اور دائیں جانب تھوکنے سے بھی حدیث نے منع فرمایا ہے تو کیا اب میں نا تھوکوں؟سوچنے کی بات ہے نا ؟-

    تو جناب اب مجھے تمام احادیث کا بھی احترام کرنا ہوگا اور اپنی تھوک کو بھی تھوکنا ہوگا تو اس لئے میرا حدیثوں کا رود و بدل تو جائز نہیں مگر میرا محض رخ کرنا بنتا ہے لہذہ ماضی کی باتوں کو رخ تصور کریں اور یہ ذہن نشیں کرلیں کہ اس نظام کے ذریعہ ہی اگر اسلامی نظام کی طرف جایا جا سکتا ہے تو کیا مضائقہ ہے ؟؟-

  • صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے اُمیدیں‌ وابستہ

    صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے اُمیدیں‌ وابستہ

    مقبوضہ بیت المقدس:صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے اُمیدیں‌ وابستہ،اطلاعات کے مطابق صیہونی فوجیوں کے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے غزہ پٹی پر بمباری کی ہے۔اس بمباری پرعالمی برادری خاموش ہے اور اس خاموشی کے عالم میں فلسطینیوں نے وزیراعظم پاکستان سے اپنی اُمیدیں وابستہ کرلی ہیں‌

    المیادین کی رپورٹ کے مطابق قدس کی غاصب اور جابر صیہونی فوجیوں نے غزہ کی پٹی کے علاقے الغول میں توپوں کے گولے داغے۔ اس رپورٹ کے مطابق غزہ پر اسرائیل کے ہوائی حملے جاری ہیں۔المیادین کی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں نے خان یونس کے القادسیہ چھاونی پر 5 مرتبہ بمباری کی۔

    اس رپورٹ کے مطابق اس سے قبل غزہ کی پٹی میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

    فلسطینی عوام نئی صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں۔ صیہونی حکومت عالمی برادری کے مطالبات پر توجہ دیئے بغیر امریکہ کی حمایت سے صیہونی کالونیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تمام صیہونی کالونیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیرقانونی ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تیئس دسمبر دوہزار سولہ میں قرار داد تیئس چونتیس منظور کر کے صیہونی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مقبوضہ فلسطین میں تمام صیہونی کالونیوں کی تعمیر فورا روکی جائے۔ صیہونی حکومت صیہونی کالونیاں تعمیر کر کے فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی ڈھانچہ تبدیل اور صیہونیت کا رنگ دینا چاہتی ہے تاکہ فلسطینی علاقوں میں اپنا قبضہ مضبوط بنا سکے ۔

    صیہونی فوجیوں کے دشمنانہ اقدامات ایسے عالم میں جاری ہیں کہ اس سے قبل فلسطینی استقامتی گروہ، غرب اردن اور بیت المقدس میں صیہونیوں کے جارحانہ اقدامات کے بارے میں خبردار کر چکے تھے۔

  • ہنود و یہود کا اقرار فرامین رب العالمین و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ،ازقلم :غنی محمود قصوری

    ہنود و یہود کا اقرار فرامین رب العالمین و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ،ازقلم :غنی محمود قصوری

    ہنود و یہود کا اقرار فرامین رب العالمین و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بطور مسلمان ہمارا اس بات پر یقین ہونا چائیے جو کوئی بات قرآن و حدیث کے ذریعہ سے مستند طریقہ سے ہم تک پہنچتی ہے وہ ہو کر رہنی ہے ہم اسے قبول کریں یاں نا کریں اللہ تعالی اس بات کو پورا کرکے چھوڑیں گے ان شاءاللہ-

    مگر افسوس کہ آج ہم تاویلوں سے کام لیتے ہیں حالانکہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زبان سے اللہ رب العزت نے بذریعہ وحی کلام الہی میں ارشاد فرما دیا تھا-

    یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ،اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں ۔ سورہ البقرہ

    افسوس مسلمان ہوتے ہوئے آج ہمارا اعتراض ہوتا ہے تو قرآن پر اعتراض ہوتا ہے تو حدیث رسول پر جبکہ ہنود و یہود و دیگر کفار کو نبی ذیشان کی ہر بات سے اتفاق ہے وہ الگ بات ہے کہ ان کو کلمہ پڑھنے کی توفیق نہیں یہ بھی میرے رب کی مرضی ہے –

    چودہ سو سال پہلے نبی ذیشان فرما کر گئے تھے کہ غرقد یہودویں کا درخت ہے اور یہودیوں کو قرب قیامت مجاھدین سے بچائے گا-

    حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں اور مسلمان انہیں قتل کر دیں گے یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان اے اللہ کے بندے یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کر دو
    سوائے درخت غرقد کے کیونکہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے-

    مفسرین کے مطابق غرقد دراصل شجر یہود ہے جو گونگا درخت یا یہود کا پاسباں درخت کہلاتا ہے یہ خاردار جھاڑی کی صورت میں ہوتا ہے جنت البقیع کا اصل نام بھی بقیع الغرقد اسی لئے ہے کہ جس جگہ یہ قبرستان ہے پہلے وہ غرقد کی جھاڑیوں کا خطہ تھا،( صحیح مسلم)

    یہودیوں کا آج اس حدیث پر اتنا یقین ہے کہ انہوں نے اپنا سرکاری درخت غرقد کو بنا لیا آج ہر یہودی کے گھر،ان کے پارک،ان کی ہر بلڈنگ کے آس پاس غرقد نامی درخت لازمی لگا ہے اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ غرقد کے درخت اسرائیل میں ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ فرمان نبی ذیشان جھوٹا نہیں حالانکہ وہ یہودی ہیں-

    دنیا کی کل آبادی پونے 8 ارب ہے جس میں سے عیسائی 31.5 فیصد مسلمان 23.2 فیصد اور ہندو 15 فیصد ہیں باقی دیگر مذاہب کے لوگ ہیں یعنی کہ اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اس کے باوجود آج ہم مسلمان کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں فلسطین ہو یا افغانستان کشمیر ہو یا عراق ہر جگہ مسلمانوں پر ہی ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور خاص کر فلسطین و کشمیر میں ہر ظلم کی حد کراس کی جا چکی ہے-

    کچھ دن قبل ایک ہندو پنڈت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ اپنے ہندوؤں سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے کہ کم ازکم 6 بچے ہر ہندو کے ہونے چائیے اور ہر ہندو کے گھر اسلحہ لازمی ہونا چائیے یعنی اس ہندو کو نبی کریم کی اس حدیث پر یقین ہے-

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمت میں سے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے جہنم کی آگ سے محفوظ کر رکھا ہے ایک وہ گروہ جو ہند پر حملہ کرے گا اور دوسرا گروہ جو حضرت عیسیٰ ابنِ مریمؑ کے ساتھ ہوگا- (السنن الکبری۔ نسائی)

    اس حدیث کی رو سے ہندو ڈرے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے مقابلے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں غزوہ ہند پر اور بھی بہت سی احادیث ہیں جن سے قرب قیامت عیسی علیہ السلام کے آنے تک غزوہ ہند ہونے کی بشارتیں ملتی ہیں مگر میں نے محض اس ایک حدیث کو بیان کیا ہے مگر افسوس کہ اس صیحیح سند کی حدیث سے انکاری ہمارے ہی کچھ بھائی بھی موجود ہیں جوکہ کہتے ہیں کہ غزوہ ہند تو ہو چکا جب ان سے پوچھا جائے کہ بھئی کب ہو چکا تو وہ کہتے ہیں کہ جب محمد بن قاسم نے ہند پر یلغار کی تھی مگر اب تو ہند تقسیم ہو کر پاکستان اور کئی علاقوں میں بٹ چکا ہے اس لئے غزوہ ہند کا نام نا لو-

    ایسے دوستوں کے ہاں میری گزارش ہے کہ غزوہ ہند سے متعلق اور بھی بہت سے روایات موجود ہیں جن پر ضعیف ہونے کا لیبل لگا دیا جاتا ہے میں ان پر بحث نہیں کرتا مگر ایک سوال کرتا ہوں کہ کیا لفظ ہندوستان مٹ چکا ؟کیا ہند کے مسلمانوں پر ظلم کا بازار رک گیا ؟کیا ہندو کی بدمعاشیاں ابھی بھی جاری نہیں ہیں؟کیا اللہ کے نبی کا فرمان کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا تم نے پڑھا نہیں؟ کیا کتاب اللہ اور کتب احادیث جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ کے احکامات سے بھری ہوئی نہیں ہیں ؟

    کیا ہند میں موجود تیس کروڑ مسلمان امن و سکون سے زندگیاں گزار رہے ہیں اور کیا وہاں ان کو مذہبی آزادی مکمل حاصل ہے ؟ کیا ابھی محض بیس سال قبل ہی انڈین گجرات میں مسلمانوں کو زندہ نہیں جلایا گیا ؟کیا ہند کی مساجد کو گرا کر مندر نہیں بنائے جا رہے ؟ کیا قرآن کی یہ آیت معاذاللہ منسوخ ہو گئی ؟
    آیت یہ ہے باترجمہ

    وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَاۚ-وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا ﳐ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ(۷۵)

    اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کے راستے میں نہ لڑو اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر (نہ لڑو جو) یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس شہرسے نکال دے جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لئے اپنی بارگاہ سے کوئی مددگار بنا دے-

    کیا آج بھی ہند و کشمیر کی بہن بیٹیاں ہمیں پکارتی نہیں کہ ہماری مدد کرو ؟ بھئی جب یہ ساری نشانیاں بموجب جہاد ابھی باقی ہیں تو پھر غزوہ ہند کیسے ہو چکا ؟

    وہ تو محمد بن قاسم نے ابتداء کی تھی ہند پر یلغار کی اس سے آگے محمود غزنوی و دیگر اس غزوہ ہند کو نے آگے بڑھایا مجاھدین کشمیر و پاک فوج اس وقت غزوہ ہند کا دستہ ہے جبکہ ہندوستان کی مکمل بربادی اور قرب قیامت تک یہ سلسلہ چلتا ہی رہنا ہے

    ہاں وہ الگ بات ہے کہ کل کو ماضی میں آج کے کچھ آزاد ممالک بھی ہند کا حصہ تھے مگر ہند کا لفظ ابھی باقی ہے اور بہت سارا علاقہ ابھی باقی ہے اور کچھ بعید نہیں قرب قیامت یہ ہند بلکل چھوٹا سا زمین کا ٹکرا رہ جائے یا ہو سکتا ہے ہندو نجس پلید اپنے آگے والے چھوٹے چھوٹے ممالک پر قبضہ کرکے اس ہند کا حصہ بناتا رہے یہ سب آنے والے وقت کی باتیں ہیں مگر خدارا ہوش کیجئے احادیث نبویہ و فرمان الہٰی پر عمل کیجئے اور اپنے کشمیری و ہندوستانی بھائیوں کی مدد کیجئے جو کہ قرآن و حدیث سے تین صورتوں میں ثابت ہے –

    جہاد بالنفس، جہاد مال یعنی اپنے مال سے جہاد ،جہاد پر ابھارنا یعنی جہاد کیلئے ترغیب دینا چاہے و زبان سے دی جائے یا قلم سے یا کسی اور طریقے سے یہ اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ کونسا جہاد کر سکتے ہیں لازم نہیں کہ آپ ہتھیار پکڑ کر ٹکرا جائیں کیونکہ جہاد بھی بغیر جماعت کے ہوتا نہیں-

  • قرآن مجید کا کورین زبان میں بھی ترجمہ مکمل:اسلام کی روشنی کی کرنیں مزید پھلینے لگیں

    قرآن مجید کا کورین زبان میں بھی ترجمہ مکمل:اسلام کی روشنی کی کرنیں مزید پھلینے لگیں

    سیول: قرآن مجید کا کورین زبان میں بھی ترجمہ مکمل:اسلام کی روشنی کی کرنیں مزید پھلینے لگیں ،اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر حامد یونگ نے قرآن مجید کا کوریائی زبان میں ترجمہ کرکے تاریخ رقم کردی، وہ دنیا کے پہلے کورین مسلمان ہیں جنہوں نے یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے۔

    اس ترجمے میں انہیں 7 برس لگے اور اب بالآخر کوریائی مسلمان اپنی زبان میں قرآن پاک پڑھ سکیں گے۔یہ بہت ضروری کام تھا تاکہ کوریا میں رہنے والے غیرمسلم افراد اور مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات سیکھنے میں آسانی ہو۔

     

     

    ڈاکٹر چوئی نے مدینہ کی اسلامک یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ وہ جنوبی کوریا کی ایک یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز اور عربی کے لیکچرار ہیں۔

    یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب جنوبی کوریا میں مسلمانوں کی تعداد آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے، گو کہ مسلمان اقلیت میں ہیں لیکن پچھلی ایک دہائی میں ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

    کورین مسلم فیڈریشن کے اندازے کے مطابق اس وقت جنوبی کوریا میں 2 لاکھ مسلمان ہیں جو کہ کُل آبادی کا صرف 0.38 فیصد ہیں۔ان میں زیادہ تر مسلمان وہ طالبعلم اور ملازمین ہیں جو کہ ترکی، پاکستان اور ازبکستان سے آئے اور اب جنوبی کوریا کی شہریت اختیار کرلی۔

  • اہمیت جمعتہ المبارک اسلام کی روشنی میں   ازقلم :غنی محمود قصوری

    اہمیت جمعتہ المبارک اسلام کی روشنی میں ازقلم :غنی محمود قصوری

    اہمیت جمعتہ المبارک اسلام کی روشنی میں

    ازقلم غنی محمود قصوری

    تمام دن اللہ رب العزت نے بنائے ہیں مگر اللہ تعالی نے جمعتہ المبارک کو ایک خاص اہمیت دی ہے جس کیلئے ہم دیکھتے ہیں نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’جمعہ کا دن دوسرے دنوں کا سردار ہے، اللہ کے نزدیک بڑا دن ہے اور یہ اللہ کے نزدیک عید الأضحی اور عید الفطر سے بھی بڑا ہے-

    اس میں پانچ باتیں ہیں

    1 اس میں اللہ تعالیٰ نے سیّدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا

    2 اس میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا

    3 اس دن سیدنا آدم علیہ السلام فوت ہوئے

    4 اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں جو بھی بندہ اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے کوئی سوال کرتا ہے اللہ تعالی وہ اس کو دے دیتا ہے مگر حرام چیز کا سوال نہ ہو تو

    5 اس دن قیامت قائم ہو گی کوئی مقرب فرشتہ نہ آسمان میں، نہ زمین میں، نہ ہوا میں، نہ پہاڑ میں اور نہ دریا میں مگر وہ جمعہ سے ڈرتے ہیں

    (ابن ماجہ: إقامۃ الصلاۃ، باب, فی فضل الجمعۃ)

    اس دن کی فضیلت قرآن میں ایسے بیان کی گئی ہے

    یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا إِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ

    اے اہل ایمان جب جمعہ کے دن نماز (جمعہ) کے لیے اذان دی جائے تواللہ کے ذکر (خطبہ اور نماز) کی طرف دوڑو اور (اس وقت) کاروبار چھوڑ دو
    اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے
    (سورہ الجمعۃ )

    یقیناً یہ دن جمعہ بہت اہمیت کا حامل ہے اسے لئے اس کو باقی دیگر دنوں کا سردار کہا گیا ہے
    اس دن ہمارے کچھ کام دوسرے دنوں سے زیادہ کرنے کے ہوتے ہیں تاکہ ہم اس دن اللہ رب العزت سے زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کر سکیں

    اس دن کا آغاز روزانہ کی طرح نماز فجر سے کریں اور تلاوت قرآن میں خاص کر سورہ الکہف لازمی پڑھنے کی کوشش کریں اس کے بعد اس دن کثرت سے درود شریف پڑھیں کیونکہ ارشاد ربانی ہے

    بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں اس پیغمبر پر
    اے ایمان والوں تم بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر رحمت بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو۔ ( سورہ الاحزاب)

    اس دن وقت نکال کر اپنے فوت شدگان کی قبر پر حاضری دیں اس بارے حدیث رقم ہے

    کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور ألا فزوروہا فانہا ترق القلب، وتدمع العین وتذکر الآخرۃ
    (مستدرک الحاکم 376/1)

    (نبی کریم نے فرمایا) میں نے تمہیں زیارت قبور سے روکا تھا ( شروع اسلام) لیکن اب تم ان کی زیارت کیا کرو کہ اس سے رقت قلب پیدا ہوتی ہےاور آنکھیں پرنم ہوتی ہیں اور آخرت کی یاد آتی ہے
    جمعہ کے دن کے علاوہ بھی قبروں پر جانا چائیے اور مردوں کے علاوہ عورتوں کو بھی مکمل شرعی پردہ کرکے قبرستان میں جانا چائیے اور قبرستان میں جا کر دعا پڑھنی چائیے جو کہ حدیث میں ایسے رقم ہے

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم سے دریافت کیا کہ قبروں کے پاس کیا کہنا چاہیے تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات سکھلائے

    السَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَھْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ، وَیَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِیْنَ، وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْنَ. (مسلم 974)

    طہارت یعنی صفائی ایمان کا حصہ ہے اس لئے اس دن ہو سکے تو اپنے بال کٹوائیں، ناخن تراشیں، غسل کریں ،عمدہ کپڑے پہنیں اور اگر میسر ہو تو خوشبو لگائیں، مسواک کریں کیونکہ ارشاد مصطفی ہے

    سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ہر مسلمان پر حق ہے کہ ہفتے میں ایک دن (جمعہ کو) غسل کرے اس میں اپنا سر دھوئے اور اپنا بدن دھوئے
    (بخاری)

    جمعہ کے دن اگر کوئی مجبوری بن جائے تو غسل کے بغیر مگر پاک صاف ہوتے ہوئے بھی جمعہ کی نماز ادا کی جا سکتی ہے کیونکہ ارشاد مصطفی ہے

    سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    جمعہ کے دن جس نے وضو کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے
    (ابو داؤد)

    نیز اس دن تجارت و دیگر کاروبار زندگی کئے جا سکتے ہیں مگر اذان جمعہ ہوتے ہی کاروبار کو روک دینا چائیے اور اول وقت میں جا کر خطبہ جمعہ سن کر نماز جمعہ ادا کرنی چائیے جیسا کہ اوپر آیت مبارکہ میں جمعہ کی اذان کے ہوتے ہی کاروبار بند کرنے کا حکم ہے نیز مذید ارشاد مصطفی ہے

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے جس شخص نے جمعہ کے دن نہایت اہتمام کے ساتھ غسل کیا جس طرح پاکی حاصل کرنے کے لیے غسل کیا جاتا ہے، پھر اول وقت مسجد میں جا پہنچا تو اس نے گویا ایک اونٹ کی قربانی کی اور جو اس کے بعد دوسری ساعت میں پہنچا تو اس نے گویا گائے یا بھینس کی قربانی کی اور اس کے بعد تیسری ساعت میں پہنچا تو اس نے گویا سینگ والا مینڈھا قربان کیا اور اس کے بعد چوتھی ساعت میں پہنچا تو گویا خدا کی راہ میں انڈا صدقہ کیا پھر جب خطیب خطبہ دینے کے لیے نکل آتا ہے تو فرشتے مسجد کا دروازہ چھوڑ دیتے ہیں اور خطبہ سننے اور نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آبیٹھتے ہیں (بخاری)

    چونکہ عورت پر نماز مسجد میں جاکر پڑھنا فرض نہیں مگر مسجد میں جا کر نماز عورت پڑھ بھی سکتی ہے اسی طرح عورت پر جمعہ کی نماز فرض نہیں مگر زیادہ ثواب کیلئے وہ مسجد میں جاکر نماز جمعہ پڑھ سکتی ہے-

    اس بارے پڑھتے ہیں امی عائشہ رضی اللہ سے مروی یہ حدیث :

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو، اور انھیں بغیر خوشبو کے سادہ کپڑوں میں نکلنا چاہئے سیدہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے فرمایا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آج کل کی عورتوں کا حال دیکھتے تو انھیں منع کر دیتے (مسند احمد 6/69، 70 وسندہ حسن)

    یقیناً چھوٹے چھوٹے کام کرنے سے اس دن ہم اللہ رب العزت کا بہت زیادہ تقرب پا سکتے ہیں کیونکہ یہ سارے کام ہم دیگر دونوں میں بھی کرتے ہیں اور کرسکتے ہیں مگر جمعہ کے دن خاص فضیلت ہونے کے باعث ان کی اہمیت اور ثواب بھی خاص ہے-

    اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • اسلام سے لبرل ازم اورپھرلبرل ازم سے ہندوازم:بھارتی فلم ساز نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرلیا

    اسلام سے لبرل ازم اورپھرلبرل ازم سے ہندوازم:بھارتی فلم ساز نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرلیا

    نئی دہلی :اسلام سے لبرل ازم اورپھرلبرل ازم سے ہندوازم:بھارتی فلم ساز نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرلیا،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ کے معروف فلم ساز علی اکبر نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرلیا۔

    انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق علی اکبر نے سوشل میڈیا پر بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) بپن راوت کے خلاف نفرت انگیز پوسٹ دیکھ کر اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز علی اکبر نے مذہب تبدیل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔

    علی اکبر نے بتایا کہ مذہب تبدیل کرنے کے بعد اس کا نیا نام ’راماسمہن‘ ہوگا کیوں کہ راما سمہن ایک ایسا شخص تھا جو اپنی ثقافت کے حق میں کھڑا ہوا تھا اور مار دیا گیا تھا۔

    راما سمہن (سابق نام علی اکبر) نے مذہب بدلنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اُس کا مذہب سے اعتماد اُٹھ گیا ہے اسی لیے وہ اپنی اہلیہ لوسیما سمیت ہندو ہوگیا۔

    فلم ساز کے مطابق وہ اپنی بیٹیوں پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے کسی قسم کی زبردستی نہیں کرے گا، اس کی بیٹیاں خود فیصلہ کرسکتی ہیں کہ وہ کس مذہب کے تحت اپنی زندگی گزاریں گی۔

    تاہم اس سے قبل بپن راوت کی موت کے بعد راما سمہن نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ جنرل کی موت کی خبر پر سوشل میڈیا صارفین نے جس ردعمل کا اظہار کیا وہ توہین آمیز تھا۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں متنازع شخصیت وسیم رضوی جسے توہین مذہب اور گستاخی کا مرتکب ہونے پر دائرہ اسلام سے خارج کردیا گیا تھا، اب ہندو مذہب اپنا ۔

     

     

    اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی نے غازی آباد کے ایک مندر میں اپنے ہندو دوست نار سنگھ آنند سروسوتی کے ہاتھوں ہندو مذہب اختیار کیا اور اس کا نیا نام جتندر نارائن سنگھ تیاگی ہوگا۔

  • اسلام دین امن ہے، عمران محمدی

    اسلام دین امن ہے، عمران محمدی

    اسلام،سبھی مخلوقات حتی کہ کفار، معاھدین، اھل ذمہ اور اقلیت کے لیے دین امن ہے

    بقلم : عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ
    وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي
    وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
    آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا
    مائدہ 3

    اسلام کا مادہ س ل م ہے جس کا مطلب ہے سر تسلیم خم کردینا، امن و آشتی کی طرف رہنمائی کرنا اور تحفظ اور صلح کو قائم کرنا۔
    اسی سے السلامۃ تحفظ، سلامتی ہے
    اور اسی سے السَلم صلح امن ہے
    اسلام تحفظ، بچاؤ اور امن کا مذہب ہے

    (وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي) سے معلوم ہوا کہ اسلام اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے
    نعمت کیا ہوتی ہے ❓
    جو خوشیاں لائے
    فرحت کا سبب بنے
    آنکھوں کو ٹھنڈا کرے
    اور
    امن و محبت فراہم کرے

    *معاشرتی امن کے لئے اسلام کی تعلیمات*

    اسلام فساد فی الارض کی مذمت کرتا ہے
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا
    اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت پھیلاؤ
    الأعراف : 56

    اور فرمایا
    وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ
    اور زمین میں فساد مت ڈھونڈ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
    القصص : 77

    *اسلام ظلم کی مذمت کرتا ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم وتنگ نظری سے بچنے کی تاکیدکرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
    اتقوا الظلم فان الظلم ظلمات یوم القیامة
    ظلم سے بچو اس لئے کہ ظلم قیامت کی بدترین تاریکیوں کا ایک حصہ ہے،
    (مسلم: حدیث نمبر۲۵۷۸)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کو یمن کا حاکم مقرر کیا تو فرمایا اے معاذ آپ اہل کتاب قوم کے پاس جا رہے ہیں
    اور فرمایا
    فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ
    لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے کھانے سے بچو اور مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان پردہ نہیں ہوتا
    بخاري 1425

    *اسلام رحم کی ترغیب دیتا ہے*

    حضرت جریر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
    لَا يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ
    (بخاری: حدیث نمبر 6941)
    ”اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔“

    بقول شاعر
    کرو مہربانی تم اہل زمین پر
    خدامہرباں ہوگاعرش بریں پر

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ
    مسلم 1828
    اے اللہ جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا نگران بنے پھر وہ ان پر مشقت کرے تو تو بھی اس پر مشقت کر اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا نگران بنے پھر وہ ان پر نرمی کرے تو تو بھی اس پر نرمی کر

    *اسلام کا غریبوں پر رحم*

    *اسلام نے اپنی انکم کا آٹھواں حصہ فقراء و مساکین کے لیے وقف کر دیا*

    زکوۃ کے مصارف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا
    إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
    صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
    التوبة : 60

    * اسلام میں خوش اخلاقی کی ترغیب*

    ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    لَا تَحْقِرَنَّ مِنْ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ
    مسلم 2626
    کسی بھی نیکی کو حقیر نہیں سمجھو اگرچہ آپ اپنے بھائی کو کھلے چہرے کے ساتھ کیوں نہ ملو

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    اکثر ما یدخل الجنۃ تقوی اللہ وحسن الخلق
    لوگوں کو جنت میں سب سے زیادہ اللہ کا تقوی اور اچھا اخلاق داخل کرے گا

    عبداللہ بن عمر بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا
    يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ
    اے اللہ کے رسول سے افضل اسلام کون سا ہے
    تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
    جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں
    مسند احمد 6714

    *اسلام لوگوں کی دل آزاری کا کس قدر مخالف ہے*

    * اگر دو آدمیوں کی سرگوشی سے تیسرے آدمی کی دل آزاری کا خدشہ ہے تو اسلام ایسی سرگوشی پر پابندی لگاتا ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
    ” إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَى رَجُلَانِ دُونَ الْآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ ؛ أَجْلَ أَنْ يُحْزِنَهُ ”
    (صحيح البخاري | كِتَابٌ : الِاسْتِئْذَانُ | بَابٌ : إِذَا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةٍ، فَلَا بَأْسَ بِالْمُسَارَّةِ وَالْمُنَاجَاةِ)
    جب تم تین آدمی ہو تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر باہم سرگوشی نہ کریں یہاں تک کہ تم لوگوں کے ساتھ گھل مل جاؤ اس لئے کہ یہ بات اس کو غم میں ڈالے گی

    *لوگوں کی تکلیف دور کرنے کے لیے پیاز کھا کر مسجد آنا ممنوع قرار دیا*

    جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

    مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ
    مسلم 564
    جو اس بدبو دار درخت سے کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے تکلیف محسوس کرتے ہیں اس چیز سے جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں

    *راستے کے حقوق*

    *راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ایمان کا حصہ ہے*

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَلإِْيْمَانُ بِضْعٌ وَ سَبْعُوْنَ أَوْ بِضْعٌ وَ سِتُّوْنَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِيْقِ ]
    [ مسلم، الإیمان، باب بیان عدد شعب الإیمان… : ۳۵ ]
    ’’ایمان کی ستر(۷۰) یا (فرمایا) ساٹھ (۶۰) سے زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کہنا ہے اور سب سے کم راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنا ہے۔‘‘

    *اسلام راستوں اور گزرگاہوں کی حفاظت کرتا ہے*

    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الطُّرُقَاتِ فَقَالُوا مَا لَنَا بُدٌّ إِنَّمَا هِيَ مَجَالِسُنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجَالِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهَا قَالُوا وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيٌ عَنْ الْمُنْكَرِ
    (بخاري ،كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ،بابُ أَفْنِيَةِ الدُّورِ وَالجُلُوسِ فِيهَا، وَالجُلُوسِ عَلَى الصُّعُدَاتِ2465)
    راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم تو وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ وہی ہمارے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے کہ جہاں ہم باتیں کرتے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر وہاں بیٹھنے کی مجبور ہی ہے تو راستے کا حق بھی ادا کرو۔ صحابہ نے پوچھا اور راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاءدینے سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا۔

    *راستے میں پیشاپ کرنا منع ہے*

    سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
    اتَّقُوا اللَّاعِنَيْنِ قَالُوا وَمَا اللَّاعِنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ ظِلِّهِمْ

    (ابوداؤد، كِتَابُ الطَّهَارَةِ،بابُ الْمَوَاضِعِ الَّتِي نَهَى النَّبِيُّ ﷺ عَنْ الْبَوْلِ فِيهَا،25)
    ” لعنت کے دو کاموں سے بچو ۔ “ صحابہ کرام ؓم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! لعنت کے وہ کون سے دو کام ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” جو لوگوں کے راستے میں یا ان کے سائے میں پاخانہ کرتا ہے ۔ “

    *راستہ تنگ کرنے والے کا جہاد نہیں*

    سیدنا معاذ بن انس جہنی ؓ روایت کرتے ہیں کہ فلاں فلاں غزوے میں ، میں اللہ کے نبی ﷺ کے ہمرکاب تھا تو لوگوں نے منزلوں پر پڑاؤ کرنے اور خیمے وغیرہ لگانے میں بہت تنگی کا مظاہرہ کیا کہ راستہ بھی نہ چھوڑا ۔ تو نبی کریم ﷺ نے اپنا ایک منادی بھیجا جس نے لوگوں میں اعلان کیا :
    أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ
    (ابو داؤد، كِتَابُ الْجِهَادِ، بابُ مَا يُؤْمَرُ مِنْ انْضِمَامِ الْعَسْكَرِ وَسَعَتِهِ،2629)
    ” جو شخص خیمہ لگانے میں تنگی کرے یا راستہ کاٹے تو اس کا جہاد نہیں ۔ “

    *اسلام قتل کی مذمت کرتا ہے*

    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ
    رواه البخاري ومسلم (1678)
    لوگوں کے درمیان قیامت کے دن سب سے پہلے خون (قتل) کا حساب ہوگا

    *اسلام میں کسی ایک انسان کا قتل سب انسانوں کے قتل کے برابر ہے*

    فرمایا
    مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا
    جس نے ایک جان کو کسی جان کے (بدلے کے) بغیر، یا زمین میں فساد کے بغیر قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے اسے زندگی بخشی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی
    المائدة : 32

    *اسلام بچوں کے قتل سے منع کرتا ہے*

    اسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ بچوں کا قتل بہت بڑا گناہ ہے اور یہ کہ قیامت کے دن چائلڈ کرائمز پر سپیشل عدالت لگے کی تاکہ بچوں کے قتل کی روک تھام کی جائے

    فرمایا
    وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ
    اور جب زندہ دفن کی گئی (لڑکی) سے پوچھا جائے گا۔
    التكوير : 8
    بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
    کہ وہ کس گناہ کے بدلے قتل کی گئی؟
    التكوير : 9

    اور فرمایا
    وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا
    اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی انھیں رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی۔ بے شک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔
    الإسراء : 31

    *ایک بچی کے قتل پر پیغمبرِاسلام کی بے چینی*

    سیدنا انس (رض) فرماتے
    أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ قِيلَ مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ
    (مسلم۔ کتاب القسامہ۔ باب ثبوت القصاص فی القتل بالحجر)
    (بخاری۔ 2282،کتاب الدیات۔ باب سوال القاتل حتی یقرو الاقرار فی الحد۔ باب اقاد بحجر)

    ایک یہودی نے ایک مسلمان لڑکی کا جو زیور پہنے ہوئے تھی۔ محض زیور حاصل کرنے کے لیے سر کچل دیا۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ کس نے اس کا سر کچلا ؟ فلاں نے یا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ جب قاتل یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارے سے بتایا ہاں وہ یہودی نبی اکرم کے پاس لایا گیا۔ اس نے جرم کا اقرار کرلیا تو آپ نے بھی دو پتھروں کے درمیان اس کا سر رکھ کر کچلوا دیا۔

    *اسلام نے تعلیم دی ہے کہ محض ارادءِ قتل ہی جہنم میں جانے کے لیے کافی ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ
    مسلم 2564
    آدمی کے برا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیرخیال کرے

    سیدنا ابوبکر (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا
    إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ
    (بخاری،(6481) کتاب الدیات۔ باب قول اللہ و من احیاھا )
    جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل تھا، مقتول کا کیا قصور ؟ فرمایا اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل کے درپے تھا۔

    سیدنا ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا
    أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلَاثَةٌ
    مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ
    وَمُبْتَغٍ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ
    وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ
    (بخاری، (6488)کتاب الدیات۔ باب من طلب دم امری بغیر حق)

    تین آدمیوں پر اللہ (قیامت کے دن) سب سے زیادہ غضب ناک ہوگا۔
    (1) حرم میں الحاد کرنے والا
    (2) اسلام میں طریقہ جاہلیت کا متلاشی
    (3) ناحق کسی کا خون بہانے کا طالب۔

    *مسلمان بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ کرنا بھی منع ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    مَنْ أَشَارَ إِلَى أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّى يَدَعَهُ وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ
    مسلم 2616
    جس نے اپنے بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ کیا تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں یہاں تک وہ اس اشارے سے رک جائے اگرچہ جس کی طرف اشارہ کررہا ہے وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو

    *مختلف حکومتوں نے معاشرتی امن قائم رکھنے اور قتل و غارت سے بچنے کے لیے اسلحہ کی نمائش پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس کے لیے لائسنس سسٹم لاگو کر رکھا ہےحالانکہ کئی ایسے آلات لفظ اسلحہ کے دائرے سے باہر ہیں کہ جن سے ایک انسان کو قتل کیا جا سکتا ہے کیونکہ انسان کو قتل کرنے کے لیے ایک دو انچ کا لوہا بھی کافی ہوتا ہےجبکہ اسلام نے اسلحہ کے ساتھ ساتھ لفظ حدید( یعنی لوہے) کا لفظ بول کر کسی بھی قسم کی گنجائش نہیں چھوڑی اور مستزاد یہ کہ ارادہءِ قتل پر بھی جہنم کی وعید سنا دی*

    فرمایا
    لَا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنْ النَّارِ
    تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ نہ کرے کیونکہ اسے نہیں معلوم ممکن ہے کہ شیطان اس کا ہاتھ پھسلا دے تو وہ اس کی وجہ سے جہنم کے گھڑے میں جا گرے
    بخاري 6661

    مزید فرمایا
    مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا
    جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا تو وہ ہم میں سے نہیں
    بخاري 6480

    *اسلام جانوروں پر شفقت کی تعلیم دیتا ہے*

    *انسان تو پھر انسان ھے کسی جانور کو ناحق قتل کرنے پر بھی جہنم کی ہولناکی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے*

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا سَقَتْهَا إِذْ حَبَسَتْهَا وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ
    ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا جس نے بلی کو باندھ کر رکھا یہاں تک کہ وہ بھوکی پیاسی مر گئی تو وہ عورت اسی وجہ سے جہنم میں داخل ہو گئی کیونکہ نہ اس نے اسے کھانہ کھلایا نہ پانی پلایا اور نہ ہی آزاد چھوڑا کہ وہ زمین کےجانوروں میں سے کچھ کھا پی لے
    بخاری 3295

    فتح الباری میں لکھا ہے
    ثبت النهي عن قتل البهيمة بغير حق والوعيد في ذلك ، فكيف بقتل الآدمي ، فكيف بالتقي الصالح
    جب کسی جانور کو ناجائز قتل کرنے سے منع کر دیا گیا ہے اور اس پر جہنم کی وعید سنائی گئی ہے تو کسی عام آدمی کے قتل کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے اور کسی نیک آدمی کے قتل کی سنگینی کتنی زیادہ ہو گی
    فتح الباری

    *جانور کے سامنے چھری تیز کرنے سے منع فرمایا*

    صحابہ فرماتے ہیں
    أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِحَدِّ الشِّفَارِ وَأَنْ تُوَارَى عَنْ الْبَهَائِمِ
    مسند احمد 5830
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری تیز کرنے کا حکم دیا اور یہ کہ اسے جانوروں سے چھپایا جائے

    *جانور ذبح کرنے میں نرمی اور احسان کا حکم*

    شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو باتیں یاد کی ہیں، آپ نے فرمایا:
    إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ.

    (سنن نسائی،کتاب: قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ، باب: چاقو چھری تیز کرنے سے متعلق، حدیث نمبر: 4410)

    اللہ تعالیٰ نے تم پر ہر چیز میں احسان (اچھا سلوک کرنا) فرض کیا ہے، تو جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کرلے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے

    *اسلام نے جانور کے چہرے پر داغنے اور مثلہ کرنے سے منع کیا*

    جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
    أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ الَّذِي وَسَمَهُ
    مسلم 2117
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے کے پاس سے گزرے جس کے چہرے پر داغا گیا تھا
    تو آپ نے فرمایا اللہ تعالی لعنت کرے اس شخص پر جس نے اسے داغا ہے

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں
    لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ
    بخاري 5196
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی جو کسی حیوان کا مثلہ کرے

    *اسلام نے جانور کو نشانہ بازی کیلئے ٹارگٹ بنانے سے منع کیا*

    سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
    كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَمَرُّوا بِفِتْيَةٍ أَوْ بِنَفَرٍ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَنْ فَعَلَ هَذَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هَذَا
    بخاري 5196
    میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا وہ چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی کو باندھ رکھا تھا وہ اس پر تیر اندازی کر رہے تھے جب انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو اسے چھوڑ کر بھاگ نکلے تو عمر ابن عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کام کس نے کیا ہے
    بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نے ایسا کرنے والے پر لعنت کی ہے

    *پیاسے کتے کو پانی پلانے پر بخشش*

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «أَنَّ رَجُلًا رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ العَطَشِ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ، فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَرْوَاهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَأَدْخَلَهُ الجَنَّةَ»
    (بخاري، كتَابُ الوُضُوءِ، بَابٌ إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا،173)
    کہ ایک شخص نے ایک کتے کو دیکھا، جو پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا تھا۔ تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس سے پانی بھر کر پلانے لگا، حتیٰ کہ اس کو خوب سیراب کر دیا۔ اللہ نے اس شخص کے اس کام کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انھوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :
    «أَنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ، قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنَ الْعَطَشِ، فَنَزَعَتْ لَهُ بِمُوقِهَا فَغُفِرَ لَهَا»
    (مسلم كِتَابُ السَّلَام، باب فَضْلِ سَقْيِ الْبَهَائِمِ الْمُحْتَرَمَةِ وَإِطْعَامِهَا،5860)

    ” ایک فاحشہ عورت نے ایک سخت گرم دن میں ایک کتا دیکھا جو ایک کنویں کے گردچکر لگا رہا تھا ۔پیاس کی وجہ سے اس نے زبان باہر نکا لی ہو ئی تھی اس عورت نے اس کی خاطر اپنا موزہ اتارہ(اور اس کے ذریعے پانی نکا ل کر اس کتے کو پلایا ) تو اس کو بخش دیا گیا ۔”

    *اسلام اور آداب جنگ*

    آج مغربی میڈیا کی چکاچوند میں کھوئے ہوئے اور اسلام مخالف پروپیگنڈے کا شکار بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک دہشت گرد، جنونی اور جنگجو مذہب ہے جب کہ اگر اسلام کی جنگی تعلیمات اور جنگی آداب پر غور کیا جائے تو معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے

    *لشکر اسامہ کو روانہ کرتے ہوئے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نصیحتیں*

    ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ لشکر اسامہ کو روانہ کرتے ہوئے لشکر کو اور اس کے امیر کو نصیحت کی
    فرمایا
    وَإِنِّي مُوصِيكَ بِعَشْرٍ
    میں آپ کو دس چیزوں کی نصیحت کرتا ہوں
    لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً
    کسی عورت کو قتل نہیں کرنا
    وَلَا صَبِيًّا
    نہ ہی کسی بچے کو
    وَلَا كَبِيرًا هَرِمًا
    نہ ہی کسی بوڑھے کو
    وَلَا تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا
    کوئی پھل دار درخت نہیں کاٹنا
    وَلَا تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا
    کسی آباد علاقے کو ویران نہیں کرنا
    وَلَا تَعْقِرَنَّ شَاةً وَلَا بَعِيرًا إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ
    کھانے کی ضرورت کے علاوہ کسی اونٹ یا بکری کو ذبح نہیں کرنا
    وَلَا تَحْرِقَنَّ نَحْلًا
    کھجور کا کوئی درخت نہیں جلانا
    وَلَا تُغَرِّقَنَّهُ
    کسی کو پانی میں نہیں ڈبونا
    وَلَا تَغْلُلْ
    خیانت نہیں کرنا
    وَلَا تَجْبُنْ
    بزدلی نہیں دکھانا
    موطا امام مالک

    *عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو*

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں
    وُجِدَتْ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ
    بخاری 2852
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی جنگ میں ایک مقتول عورت پائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کردیا

    *مزدوروں کو قتل کرنے کی ممانعت*

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگ کے موقع پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا
    لَا يَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا
    ابوداؤد 2669
    کسی عورت یا مزدور کو قتل نہ کرو

    *اسلام فریق مخالف کے مقتولین کا مثلہ کرنے سے منع کرتا ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَمْثُلُوا
    مسلم 1731
    خیانت نہ کرو دھوکا نہ دو اور مثلہ نہ کرو

    بدر کے ایک قیدی سہیل بن عمرو کے متعلق عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ اس کے اگلے دو دانت توڑ دیے جائیں کیونکہ وہ کفار کا بہت بڑا خطیب تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا
    الرحیق المختوم

    *اسلام میں اسیران جنگ سے حسن سلوک*

    جنگی قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں اسلام اپنی مثال آپ ہے جنگی قیدیوں کے متعلق جو سنہری اصول اسلام نے وضع کیے ہیں آج کی مہذب دنیا بھی ایسے قوانین بنانے سے قاصر ہے

    بدر کی جنگ میں 70 کفار گرفتار ہوئے تھے
    فتح مکہ میں پورا مکہ شہر گردنیں جھکائے کھڑا تھا
    اور حنین کی جنگ میں 6000 قیدی ہاتھ لگے تھے

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے ان قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ دنیا اس کی مثال پیش نہیں کرسکتی

    یمامہ کے حاکم ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کا واقعہ صحیح بخاري میں موجود ہیں دنیا حیران رہ گئی کہ کیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کے دشمن کو پکڑنے کے تین دن بعد بغیر کسی عہد و پیماں اور شرط کے آزاد کر دیا

    اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غورث بن حارث کو معاف کر دیا، جس نے آپ کو اچانک قتل کرنے کا ارادہ کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے تو اس نے آپ کی تلوار میان سے نکال لی، آپ بیدار ہوئے تو وہ ننگی اس کے ہاتھ میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑکا تو اس نے نیچے رکھ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو بلا کر ساری بات بتائی اور اسے معاف کر دیا۔
    بخاري 2753

    *جنگی قیدی اگر آپس میں رشتہ دار ہیں تو اسلام انہیں جدا جدا کرنے سے منع کرتا ہے*

    ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا
    مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
    ترمذي 1566
    جس نے ماں اور اس کی اولاد کے درمیان جدائی ڈالی تو اللہ تعالی اس کے اور اس کے اقربہ کے درمیان قیامت کے دن جدائی ڈالیں گے

    *فتح مکہ کا منظر نامہ اسلام کی صلح جوئی کا عظیم کردار*

    یہ کسی علاقے کی نہیں بلکہ دلوں کی فتح تھی

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ان لوگوں سے فرمایا جنھوں نے آپ سے دشمنی کی انتہا کر دی تھی اور جن کی گردنیں آپ کے ایک اشارے سے تن سے جدا ہو سکتی تھیں

    ان میں فرعونِ وقت کا بیٹا عکرمہ بن ابی جہل بھی تھا
    زینب کا قاتل ہبار بن اسود بھی تھا
    کعبہ کی چابی نہ دینے والے عثمان بن طلحہ بھی تھے
    پیارے چچا امیر حمزہ کے قاتل وحشی بن حرب بھی تھے

    [ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ]
    [ السنن الکبرٰی للنسائي : ۱۱۲۹۸ ]
    آج تم پر کوئی گرفت نہیں ہوگی

    *نرمی ہی نرمی*
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ
    جو ابوسفیان کے گھر داخل ہو جائے گا اسے امن دیا جائے گا
    وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ
    جو اسلحہ پھینک دے گا اسے بھی امن دیا جائے گا
    وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ
    جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر دے گا اسے بھی امن دیا جائے گا
    مسلم 1780

    سنن ابی داؤد میں ہے دکھانے کے لئے
    مَنْ دَخَلَ دَارًا فَهُوَ آمِنٌ
    ابو داؤد 3024
    جو کسی بھی گھر میں داخل ہو جائے گا اسے امن دیا جائے گا

    اور ابوداؤد ہی کی ایک روایت میں ہے
    وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَهُوَ آمِنٌ
    ابو داؤد 3022
    جو مسجد میں داخل ہوگا اسے بھی امن دیا جائے گا

    اسی طرح جو حکیم بن حزام کے گھر داخل ہو گا اسے امن دیا جائےگا

    جسے کوئی مسلم پناہ دے اسے بھی امن دیا جائے گا

    *پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم کے درگزر کی مثالیں*

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اسی (۸۰) آدمیوں کو معاف کر دیا جو کوہِ تنعیم سے آپ پر حملہ آور ہونے کے لیے اترے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر قابو پا لیا تو قدرت کے باوجود ان پر احسان فرما دیا۔

    اسی طرح لبید بن اعصم کو معاف کر دیا جس نے آپ پر جادو کیا تھا، اس سے باز پرس بھی نہیں فرمائی۔ (دیکھیے بخاری : ۵۷۶۵)

    اسی طرح اس یہودی عورت زینب کو معاف فرما دیا جو خیبر کے یہودی مرحب کی بہن تھی، جسے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا، جس نے خیبر کے موقع پر بکری کے بازو میں زہر ملا دیا تھا، بکری کے اس بازو نے آپ کو اس کی اطلاع دے دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلایا تو اس نے اعتراف کر لیا۔
    آپ نے اس سے کہا کہ تمھیں اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا؟
    اس نے کہا، میرا ارادہ یہ تھا کہ اگر آپ نبی ہوئے تو یہ آپ کو نقصان نہیں دے گی اور اگر نبی نہ ہوئے تو ہماری جان چھوٹ جائے گی۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، مگر جب اس زہر کی وجہ سے بشر بن براء رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قصاص میں اسے قتل کر دیا۔ (دیکھیے بخاری : ۳۱۶۹۔ ابو داود : ۴۵۰۹، ۴۵۱۱)

    *اسلام جبر نہیں کرتا*

    اسلام ایسا مذہب ہے جو ہر ایک کو جینے کا حق دیتا ہے نہ کسی کو زبردستی اسلام میں داخل کرتا ہے اور نہ ہی یہ کہ جو اسلام قبول نہیں کرتا اسے قتل کر دیا جائے

    فرمایا
    لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ
    دین میں کوئی زبردستی نہیں
    البقرة 256

    ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ’’(جاہلیت میں) اگر کسی عورت کے بچے زندہ نہ رہتے تو وہ یہ نذر مان لیتی تھی کہ اگر بچہ زندہ رہا تو وہ اسے یہودی بنا دے گی، پھر جب بنونضیر کو جلاوطن کیا گیا تو ان میں انصار کے کئی لڑکے تھے
    انصار نے کہا : ’’ہم انھیں نہیں چھوڑیں گے ‘‘
    تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔‘‘
    [أبوداوٗد، الجہاد، باب فی الأسیر یکرہ علی الإسلام : ۲۶۸۲، وصححہ الألبانی ]

    *اسلام میں ذمیوں (اقلیتوں) کے حقوق*

    *ذمی کو قتل کرنے والا جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا
    رواه البخاري (3166) والنسائي
    ”جس نے کسی ذمی کو ( ناحق ) قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا۔ حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے سونگھی جا سکتی ہے۔“

    ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    *” مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ*
    رواه أبو داود (2760)وصححه الألباني
    جو کسی ایسے ذمی کو قتل کرے جو شرعاً واجب القتل نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی ہے

    *اسلام برداشت کا دین ہے*

    اسلام برداشت کا درس دیتا ہے یہ نہیں کہ اگر کسی کے ساتھ دشمنی ہے تو اس دشمنی کی بنیاد پر تم عدل و انصاف سے ہٹ کر فیصلہ کرنا شروع کردو
    فرمایا
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر خوب قائم رہنے والے، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جائو اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں ہرگز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ اس سے پوری طرح با خبر ہے جو تم کرتے ہو۔
    المائدة : 8

    یعنی اگرچہ ان مشرکین نے تمھیں 6 ہجری میں اور اس سے پہلے مسجد حرام میں جانے سے روک دیا تھا لیکن تم ان کے اس روکنے کی وجہ سے ان کی دشمنی کی بنا پر حد سے مت بڑھو

    *اسلام نے بین الاقوامی امن قائم رکھنے کے لیے غیر مسلم اقوام کے معبودوں کو برا کہنے سے منع کیا ہے*

    فرمایا
    وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ
    اور انھیں گالی نہ دو جنھیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، پس وہ زیادتی کرتے ہوئے کچھ جانے بغیر اللہ کو گالی دیں گے
    الأنعام 108

    حتی کہ اسلام کی کتاب قرآن میں موسی علیہ السلام کا تذکرہ انتہائی ادب و احترام کے ساتھ 124 مرتبہ کیا گیا

    عیسی علیہ السلام کا تذکرہ 16 مرتبہ کیا گیا

    مریم علیہ السلام کا تذکرہ 30 مرتبہ کیا گیا

    بنی اسرائیل کا تذکرہ 40 مرتبہ کیا گیا

    بلکہ اسلام کی کتاب میں مریم و بنی اسرائیل کے نام کی تو صورتیں موجود ہیں

    حتی کہ تورات و انجیل کا بھی تذکرہ موجود ہے اور ان کتابوں کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق ہے

    *اسلام بین المذاہب ہم آہنگی کا درس دیتا ہے*

    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلم حکام کی طرف خطوط لکھے اور انہیں نقطہ اشتراک پر جمع ہونے کی دعوت دی

    قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
    کہہ دے اے اہل کتاب! آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان برابر ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے، پھر اگر وہ پھر جائیں تو کہہ دو گواہ رہو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں۔
    آل عمران : 64

    اس آیت میں اہل کتاب کو تین مشترکہ باتوں کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا ہے
    (1) اللہ تعالیٰ کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں۔
    (2) اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
    (3) اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے

    *پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا سے الوداعی خطبہ انسانی امن کا دستور اعظم*

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَلاَ إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَ إِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلاَ لاَ فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلٰی أَعْجَمِيٍّ، وَلاَ لِعَجَمِيٍّ عَلٰی عَرَبِيٍّ، وَلاَ لِأَحْمَرَ عَلٰی أَسْوَدَ، وَلاَ أَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ، إِلاَّ بِالتَّقْوٰی ]
    [مسند أحمد : 411/5، ح : ۲۳۴۸۹، قال شعیب الأرنؤوط إسنادہ صحیح ]
    ’’اے لوگو! سن لو! تمھارا رب ایک ہے اور تمھارا باپ ایک ہے۔ سن لو! نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری حاصل ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی سرخ کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی سرخ پر، مگر تقویٰ کی بنا پر۔‘‘

    يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
    اے لوگو! بے شک ہم نے تمھیں ایک نر اور ایک مادہ سے پیدا کیا اور ہم نے تمھیں قومیں اور قبیلے بنا دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک تم میں سب سے عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
    الحجرات : 13

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ وَ إِنَّ اللّٰهَ أَوْحٰی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوْا حَتّٰی لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ وَلَا يَبْغِيْ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ ]
    [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب الصفات التي یعرف بہا… : ۶۴؍۲۸۶۵ ]
    ’’اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ آپس میں تواضع اختیار کرو، حتیٰ کہ نہ کوئی کسی پر فخر کرے اور نہ کوئی کسی پر زیادتی کرے۔‘‘