Baaghi TV

Tag: اسٹیٹ بینک

  • نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں اضافہ

    نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں اضافہ

    کراچی: حکومت نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں اضافہ کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ا سٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالے سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستانی کرنسی میں تین ماہ کی مدت کیلئے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پرمنافع کی شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 21 فیصد، 6 ماہ کی مدت کیلئے 15.25 فیصد سے بڑھا کر 21.25 فیصدکر دی گئی 12 ماہ کی مدت کے سرٹیفکیٹس پر 15.50 فیصد سے بڑھا کر 21.50 فیصد، تین سالہ مدت کے سرٹیفکیٹس پر 14 فیصد سے بڑھا کر 17.50 فیصد اور پانچ سالہ مدت کے سرٹیفکیٹس پر 13.50 فیصد سے بڑھا کر 15فیصد کر دی گئی ہے۔

    اسی طرح امریکی ڈالر میں تین ماہ کی مدت کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 7 فیصد سے بڑھا کر 8.25 فیصد، 6 ماہ کی مدت کے لئے سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 7.20 فیصد سے بڑھا کر 8.50 فیصد، 12 ماہ 7.50فیصد سے بڑھا کر 9 فیصد، تین اور پانچ سالہ مدت کے سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 8فیصد کی سطح پر برقرار رکھی گئی ہے۔

    دنیا کے5 ممالک کا نجرقتل کیس میں کینیڈا کیجانب سے بھارت کیخلاف تحقیقات کامطالبہ

    برطانوی پاؤنڈ میں نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پرتین ماہ کی مدت کے لئے سرٹیفکیٹس پرمنافع کی شرح 5.50 فیصد سے بڑھاکر 7.25 فیصد، 6 ماہ کی مدت کے سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 6فیصد سے بڑھاکر 7.50 فیصد، 12ماہ کے سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 7 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد جبکہ تین اور پانچ سالہ مدت کے سرٹیفکیٹس پر منافع کی موجودہ شرح 7.50 فیصد برقرار رکھی گئی ہے۔

    یورو میں تین ماہ کی مدت کے سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 4فیصد سے بڑھا کر 6.25فیصد، 6 ماہ کی مدت کے سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 4.50فیصد سے بڑھا کر 6.50فیصد، ایک سالہ مدت کے سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 5 فیصد سیبڑھاکر 7 فیصد کر دی گئی ہے جبکہ تین اور پانچ سالہ مدت کے سرٹیفکیٹس پر منافع کی موجودہ شرح 6.50 فیصد برقرار رکھی گئی ہے۔

    غیر شرعی نکاح کیس: چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی نوٹس جاری

    دوسری جانب پاکستان میں ایکسچینج کمپنیوں کی ایسوسی ایشن (ای سی اے پی) کے چیئرمین ملک بوستان نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت کی جانب سے ڈالر کے ذخیرہ اندوزوں، بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد اور اسمگلرز کیخلاف کارروائی کے بعد ملکی ترسیلات زر میں 10 سے20 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔

    دی نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کریک ڈاؤن سے قبل ایکسچینج کمپنیوں کو روزانہ 5 ملین ڈالرز ملتے تھے لیکن اب انہیں 15 ملین ڈالرز مل رہے ہیں یعنی اس میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ کے ریٹس میں نمایاں کمی آئی ہے اور فی ڈالر 295 روپے کا ہوگیا ہےانہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کارروائی جاری رہی تو ڈالر 250 روپے سے نیچے آجائے گا۔

    رواں مالی سال الیکشن کے انعقاد سے پاکستان کی معیشت سنبھل سکتی ہے،ایشیائی ترقیاتی بینک

    ڈالر کے ذخیرہ اندوزوں، بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد اور اسمگلرز کےخلاف حالیہ کارروائی کے نتیجے میں بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد اور بینکوں کے درمیان گٹھ جوڑ بے نقاب ہوا ہے ڈالرزکی بڑی تعداد مختلف بینکوں کے لاکرز میں رکھی گئی تھی اور بینکوں کا عملہ بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد کے ساتھ مل کر یہ ڈالرز حوالہ اور ہُنڈی میں استعمال کرتے تھےان لاکرز کی چابیاں بینک کے کرپٹ عملے کے پاس ہوتی تھیں اور جیسے ہی انہیں بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد کی طرف سے میسیج (پیغام) ملتا تھا تو یہ کرپٹ بینک عملہ امریکی ڈالرز کی غیر قانونی تجارت شروع کر دیتا تھا۔

    چیئرمین ای سی اے پی نے دعویٰ کیا کہ اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث بینک ملازمین کیخلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈالر کے اس غیر قانونی کاروبار نے کئی درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو بگاڑ دیا ہے۔

    یو اے ای نے پاکستانی تازہ گوشت کی سمندری راستے سے امپورٹ بند کردی

  • مانیٹری پالیسی کااعلان آج کیا جائےگا،شرح سود میں ایک سے دو فیصد تک اضافے کا امکان

    مانیٹری پالیسی کااعلان آج کیا جائےگا،شرح سود میں ایک سے دو فیصد تک اضافے کا امکان

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) آج مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا۔

    باغی ٹی وی: گورنراسٹیٹ بینک کی سربراہی میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور شرح سود میں ردوبدل کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس اسٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی میں منعقد ہوگا، بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس کے بعد شرح سود میں ردوبدل کا اعلان کرے گی، اس وقت بنیادی شرح سود 22 فی صد ہے-

    ترجمان اسٹیٹ بینک نے بتایا تھا کہ اجلاس کے بعد پریس ریلیز کے ذریعے مانیٹری نئی پالیسی کا اعلان کیا جائے گامانیٹری پالیسی کمیٹی شرح سود کا فیصلہ کرنے کا قانونی ادارہ ہے اور مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 14 ستمبر کو ہے جس میں شرح سود پر فیصلہ ہوگا۔

    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا

    خیال رہے کہ رواں سال 31 جولائی کو گورنر اسٹیٹ بینک نے شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھاماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ شرح سود میں ایک سے دو فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 26 جون کو شرح سود 100 بیسس پوائنٹس یعنی 1 فیصد بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد بنیادی شرح سود 22 فیصد ہوگئی تھی۔

    بجلی چوروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن،درجنوں گرفتاریاں، ٹرانسفارمرزبھی اُتارلیے گئے

  • بینکوں کو ایکسچینج کمپنیز قائم کرنے کی اجازت

    بینکوں کو ایکسچینج کمپنیز قائم کرنے کی اجازت

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے عوامی ضرورت پوری کرنے کیلئے بینکوں کو ایکسچینج کمپنیز قائم کرنے کی اجازت دے دی جبکہ اسٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق ایکسچینج کمپنیز کا کم ازکم سرمایہ 20 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ کیا جا رہا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایکسچینج کمپنیوں کیلئے بنیادی اصلاحات متعارف کرادیں، بی ایکسچینج کمپنیوں کو 3 ماہ میں ضوابطی تقاضے پورے کرنے ہونگے۔

    جبکہ اعلامیے کے مطابق ایکسچینج کمپنیز کے زمرے میں منتقل نہ ہونے والی بی کمپنیز کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    سعودی مملکت اور ایران کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنائیں گے. عبداللہ بن سعود
    امریکی ڈالر مزید سستا ہوگیا
    ایشیا کپ،بنگلہ دیش نے پاکستان کو 194 کا ہدف دے دیا
    نیب نے بشریٰ بی بی کو طلب کر لیا
    سندھ کے 31 ایس ایس پیز کے تبادلوں کے احکامات جاری

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ فرنچائز 3 ماہ میں ضوابطی تقاضے پورے کرکے دوسری کمپنیز میں ضم ہوسکتی ہیں، بی ایکسچینج کمپنیز، فرنچائز ایک مہینے میں منصوبہ جمع کرکے اسٹیٹ بینک سے این او سی لیں علاوہ ازیں اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عوام کوبہترخدمات فراہم کرنا اور ایکسچینج کمپنیوں میں مسابقت،شفافیت لاناہے۔

  • متحدہ عرب امارات نے اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں 1 ارب ڈالرز بھیج دیئے

    متحدہ عرب امارات نے اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں 1 ارب ڈالرز بھیج دیئے

    متحدہ عرب امارات سے بھی ایک ارب ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اکاؤنٹ میں موصول ہوگئے ہیں جبکہ اس بارے میں وزیر خزانہ نے ٹوئیٹ میں تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم، آرمی چیف اور پاکستان کے عوام کی طرف سے یو اے ای قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ایک ارب ڈالر موصول ہونے سے زرمبادلہ کے ذخائر کی پوزیشن بہتری کی طرف جارہی ہے. اس سے قبل گزشتہ روز دو ارب ڈالرز سعودی عرب کی طرف سے بھیجے گئے تھے.
    https://twitter.com/MIshaqDar50/status/1679132466668290050
    ادھر ویڈیو کانفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ کچھ مہینے قبل متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایک ارب ڈالرز قرض دینے کا اعلان کیا گیا تھا، اس بات کی یقین دہانی وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ یو اے میں حکام کی جانب سے کی گئی تھی علاوہ ازیں چند روز قبل حکام نے آرمی چیف جنرل سیّد عاصم منیر کو بھی یقین دہانی کروائی تھی۔
    https://twitter.com/MIshaqDar50/status/1679132461035409408

    علاوہ ازیں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اپریل 22 میں جب سے حکومت سنبھالی ہے ایک منٹ بھی ادائیگیاں تاخیر سے نہیں کی گئیں اور یہ ڈیفالٹ کی افواہیں قدرتی موت مر گئیں ہیں، اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہے، ہر دن پاکستان کیلیے بہتر ہوگا۔ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہوگا، پاکستان دنیا میں اپنا کھویا ہوا وہ مقام حاصل کرے گا جس کا خواب قائد اعظم نے دیکھا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سیاسی جماعت پر پابندی،ایاز صادق نے اعلان کر دیا
    یوکرینی وزیر خارجہ رواں ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے
    کوئی بتا دے ریاست پر حملہ کرنا جرم ہے یا نہیں؟ جاوید لطیف
    جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد رکن پارلیمنٹ کی ایک اور ویڈیو سامنے آ گئی
    پاکستان اور سری لنکن بورڈ الیون کا دو روزہ میچ ڈرا

  • بیرونی امداد کی بجائے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے،عبدالعلیم خان

    بیرونی امداد کی بجائے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے،عبدالعلیم خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو دو ارب ڈالر کی امداد ملنے پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سعودی عرب کا شکریہ ادا کرنے کا سلسلہ جاری ہے

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ "ایک مرتبہ پھر پاکستان کا ساتھ دینے پر شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ” پاکستان کو 2 ارب ڈالر موصول ہونے پر پوری قوم سعودی حکومت کی شکر گزار ہے۔ ایک دوست کے ناطے سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ اس پیکج کے حصول میں آرمی چیف کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔ اب پاکستان کو بیرونی امداد کی بجائے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ بیرونی امداد مسائل کا حل نہیں۔ماضی کی حکومتوں کی نااہلی اور بد انتظامی کی وجہ سے آج پاکستان مشکلات سے دوچار ہوا۔ اب ہمیں مالیاتی ڈسپلن یقینی بنانا ہوگا۔

    سابق حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ کرانے کی بھرپور کوشش کی،شیری رحمان
    وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری اور سعودی عرب کی جانب سے اسٹیٹ بینک میں 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کرانے کے بعد معاشی استحکام کی توقع ہے۔ تحریک انصاف کی سابق حکومت نے پاکستان کیلئے جو معاشی دلدل پیدا کی تھی اس سے ہم آہستہ آہستہ نکل رہے ہیں۔ سابق حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ کرانے کی بھرپور کوشش کی، یہ نئی حکومت کیلئے ورثے میں ریکارڈ قرضاجات اور عوام کیلئے شدید معاشی بحران چھوڑ کر گئے تھے۔ تحریک انصاف نے حکومت میں رہتے ہوئے آئی ایم ایف کے معاہدے کی خلافورزی کی تاکہ اتحادی حکومت کو معاشی عدم استحکام کا سامنہ کرنا پڑے۔ انہوں نے آئی ایم ایف معاہدے کو سبوتاژ کرنے کیلئے ہر ممکن پروپیگنڈا کیا اور خط لکھے۔ تحریک انصاف کی نااہل حکومت نے ملکی معیشت کو جس نہج پر پہنچایا تھا اس سے نکلے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔

    سینیٹر عبدالکریم کا کہنا تھا کہ شکریہ سعودیہ شکریہ سعودیہ ،آج سعودی حکومت نے پہلے کی طرح پاکستان کی دو ارب ڈالر امداد کر کے دوستی کا حق ادا کر دیا ،جس طرح آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور پی ٹی آئی کی ناکام پالیسیوں کے سبب پاکستان کو ڈیفالٹ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا اس سے ہمیں نکالنے کے لیے سعودی حکومت نے بہت بڑا کردار ادا کیا

    واضح رہے کہ سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں 2 ارب ڈالر جمع کروا دیئے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کو سعودی عرب سے یہ رقم موصول ہو گئی ہے سعودی عرب سے امداد ملنے کے بعد زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گیا یے

    سعودی عرب نے اسٹیٹ آف پاکستان میں 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کردیئے،اسحاق ڈار
    سرکاری ملازمین کا دوسرے روز بھی مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج
    پیپلز پارٹی کی حکومت نے شہر میں امن و امان بحال کیا،وزیراعلیٰ سندھ
    چیئرمین پی ٹی آئی جیسا ڈکٹیٹر ملکی تاریخ میں پیدا نہیں ہوا، شرجیل میمن
    موسم گرما میں حاملہ خواتین کے لئے قدرتی مشروبات
    سویڈن میں اسلام دشمن سرگرمی پر جنرل ہسپتال میں ہیلتھ پروفیشنلز کی احتجاجی ریلی
    کویت کا سویڈش زبان میں قرآن کریم کے ایک لاکھ نسخے شائع کرنے کا اعلان

  • پاکستان کے مقامی قرضوں کے حجم میں مزید اضافہ ریکارڈ

    پاکستان کے مقامی قرضوں کے حجم میں مزید اضافہ ریکارڈ

    پاکستان کے مقامی قرضوں کے حجم میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ،گزشتہ سال کے مقابلہ میں رواں سال 8 ہزار ارب روپے کے قرضے بڑھے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق مئی 2023 میں مقامی قرضوں کا حجم 37 ہزار ارب تک پہنچ گیا، گزشتہ سال کے مقابلے میں قرضوں کے حجم میں 28 فیصد کا اضافہ ریکارڈ ہوا ہے مقامی قرضے میں 1.4فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مئی میں مقامی قرضوں کا حجم 371 کھرب روپے ہو گیا جب کہ گزشتہ ماہ قرضوں کی مالیت 365 کھرب روپے تھی۔

    دوسری جانب اسٹیٹ بنک کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک پر بیرونی قرضوں میں اعشاریہ 6 فیصد کمی ہوئی ہے بیرونی قرضے مئی میں 219 کھرب روپے ہوگئے اپریل میں بیرونی قرضوں کا حجم 220 کھرب روپے تھا۔

    فیس بک نےٹوئٹر کی متبادل ایپ تیار کرلی

    قبل ازیں وزارت خزانہ نے 2023 سے 2026 تک درمیانی مدت کے لیے قرض اسٹریٹیجی رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق 2026 تک جی ڈی پی گروتھ 5.5 فیصد مقرر کی گئی ہے، اس کے علاوہ مالی سال 2026 تک مہنگائی کی شرح 6.5 فیصد کی سطح پر کنٹرول کرنے اور مالی سال 2025 میں مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد تک محدود کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے آئندہ مالی سال جی ڈی پی گروتھ 5.0 فیصد اور آئندہ مالی سال تک مالیاتی خسارہ 5.1 فیصد تک محدود کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

    ملک بھر میں آج آندھی طوفان کے ساتھ بارش کا امکان

    وزارت خزانہ کے مطابق رواں مالی سال 5.7 ٹریلین روپے قرض کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی، مالی سال 2025 میں 5.5 ٹریلین روپے قرض کی ادائیگیاں کرنی ہیں، مالی سال 2026 اور مالی سال 2027 کے دوران قرض ادائیگیوں کا بوجھ کم ہو گا، قرض حاصل کرنے کے لیے بانڈز کا اجرا اور طویل مدتی پالیسی پر قرض لینا ترجیح ہو گی فکسڈ شرح سود کی نسبت فلوٹنگ ریٹ پر قرض حاصل کیا جائے گا، بیرونی قرض ملکی مجموعی قرض کا 40 فیصد تک لیا جا سکے گا۔

    ہیلمٹ کے بغیرموٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول نہ دینے کے احکامات

  • زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

    زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

    پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں 47 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا بڑا اضافہ ہو گیا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 23 جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں زرمبادلہ ذخائر47 کروڑ70 لاکھ ڈالر بڑھے۔ جبکہ مرکزی بینک کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 23 جون تک 9.34 ارب ڈالر رہے۔

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 53 کروڑ 30 لاکھ ڈالر اضافے سے 4.06 ارب ڈالر رہے جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 5.6 کروڑ ڈالر کم ہو کر 5.27 ارب ڈالر ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انسانی اسمگلرز کے بینک اکاؤنٹس منجمد
    معروف پروفیسر بلقیس ملک سپردخاک

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے نو ماہ میں 3 ارب ڈالر ملیں گے. وزیر اعظم
    امریکا کے شہر ہیوسٹن میں پہلی عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد
    کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پشاور پولیس کا موک ایکسر سائز جاری


    ادھر 75 ویں تقریب پر 75 کا نوٹ جاری کیا جائے اور یہ تقریب 4 جولائی کو ہوگی. علاوہ ازیں خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے باعث آج کاروباری روز کے پہلے ہی روز ناصرف اسٹاک ایکسچینج میں 2400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا بلکہ اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں بھی 5 روپے کی بڑی کمی ہوئی۔

  • اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 1 فیصد اضافہ کردیا

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 1 فیصد اضافہ کردیا

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 1 فیصد اضافہ کردیا، جس کے بعد پاکستان میں بنیادی شرح سود 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لئے زری پالیسی کی منظوری دی گئی، اجلاس میں شرح سود 100 بیسس پوائنٹس یعنی 1 فیصد بڑھا کر 22 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق شرح سود میں 1 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے، اور بنیادی شرح سود 22 فیصد ہوگئی ہے۔

    صنعتکار رہنماچیئرمین ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن لاہو میاں خرم الیاس نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے پالیسی ریٹ (شرح سود) میں مزید ایک فیصد اضافہ کے بعد 22فیصد مقرر کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی بزنس کمیونیٹی شرح سود میں مسلسل اضافوں سے پریشان ہے۔موجودہ بلند ترین شرح سود میں نئی صنعتیں نہیں لگ سکتیں

    انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔میثاق معیشت وقت کی اہم ضرورت ہے۔حکومت کو معاشی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔موجودہ شرح سود22فیصد میں کاروبار کرنا مشکل ترین ہوگیا ہے۔ امریکہ میں پچھلے دنوں شرح سود 0.25فیصد اضافہ کے بعد5فیصد ہوئی ہے،برطانیہ میں بھی شرح سود5فیصد ہے جبکہ ملک میں 22فیصد اور بینکوں کے چارجز میں اضافہ کے ساتھ بلند ترین شرح سود میں کاروبارکرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین سہیل اکبر،احسن منیر چاولہ وائس چیئرمین کے ہمراہ صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

    میاں خرم الیاس نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں اضافہ سے صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوگی، شرح سود میں مزید اضافہ سے مقامی سطح پر کاروبار کرنے کیلئے سرمائے کی قلت پیدا ہوجائے گی۔ اسٹیٹ بینک کی طرف سے شرح سود کا تعین کرنے کے بعد کمرشل مالیاتی ادارے اپنے اخراجات ڈال کر اس میں مزید اضافہ کردیتے ہیں اور کوئی بھی کاروباری ادارہ اتنی بلند سطح پر قرض لیکر سرمایہ کاری کا رسک نہیں لے سکتا۔ پاکستان میں بلند شرح سود صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔ کیونکہ شرح سود میں اضافہ سے نئی انویسٹمنٹ متاثر ہوگی اور سرمایہ تجارتی سرگرمیوں کی بجائے محفوظ منافع کیلئے بینکوں میں رکھنے کو ترجیح دی جا ئے گی،

    انہوں نے کہا کہ ہ شرح سود بڑھنے سے بے شمار کاروباربند،بنک نادہندگی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔پاکستان میں بلند شرح سود اور عالمی معاشی حالات میں ابتری کے باعث پاکستانی درآمدات اور برآمدات بھی متاثر ہورہی ہیں اس لیے اسٹیٹ بنک شرح سود میں فوری کمی کرے کیونکہ خطہ میں پاکستان میں شرح سود سب سے زیادہ ہے

  • اسٹیٹ بینک کا عیدلاضحیٰ کی چھٹیوں میں  بینکس  کھولنے کا اعلان

    اسٹیٹ بینک کا عیدلاضحیٰ کی چھٹیوں میں بینکس کھولنے کا اعلان

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی درخواست پر ٹیکس دہندگان کو سہولت دینے کے لیے عید تعطیلات میں بینک کھولنے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اسٹیٹ بینک نے 27، 28، اور 30 جون 2023 کو وصول شدہ ٹیکسوں کی کلیئرنگ کی غرض سے تمام بینکس کے نئے اوقات کار جاری کردیئے ہیں اسٹیٹ بینک کے مطابق منگل 27 جون 2023 کو تمام بینک اور ایس بی پی، بی ایس سی کے فیلڈ دفاتر صبح 9 بجے سے رات 8 بجے تک اسی روز کلیئرنگ کے لیے کھلے رہیں گے جبکہ بینکوں کی وہ تمام برانچیں جو ہفتے کو کھلی رہتی ہیں بدھ 28جون 2023 کو اسی روز کی کلیئرنگ کے لیے صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک کھلی رہیں گی۔

    پاکستان کےخودکار چیک کلیئرنگ سسٹم نِفٹ پر سائبر حملہ

    نیشنل بینک کی کسٹم ہاؤس برانچ جمعہ 30 جون 2023 کو صبح 9 بجے سے شام 5:30 بجے تک کھلی رہے گی تاکہ 3 جولائی 2023 کو صبح 9 بجے (برائے مورخہ30 جون 2023) ہونے والی خصوصی کلیئرنگ کی جا سکے مالی سال 23-2022 کی کلوزنگ کے لیے، جو 3 جولائی 2023 کو منعقد ہوگی، اسٹیٹ بینک کی بنیادی بینکاری اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ریئل ٹائم انٹربینک سیٹلمنٹ میکنزم (پرزم) 30 جون 2023 کی موثر تاریخ کو کام کرے گا۔
    Pr-24-Jun-2023
    اِسی طرح بینک اور میسرز نفٹ اپنے سسٹمز میں 30 جون 2023 کو یومِ کار شمار کریں گے تاکہ 30جون 2023ء کی تاریخ کے لیے 3 جولائی 2023 کو ہونے والی خصوصی کلیئرنگ کے تصفیے میں مدد مل سکے۔

    سائبر حملہ،اسٹیٹ بینک نے نفٹ سے جواب طلب کر لیا

    واضح رہے کہ نیشنل انسٹیٹیوشنل فیسیلیٹیشن ٹیکنالوجیز (نفٹ) پر سائبر حملے کے بعد اسٹیٹ بینک نے نیفٹ سے جواب طلب کر لیا ہے کہ مستقبل میں ایسے سائبر حملوں کو روکنے کے لیے نفٹ کیا اقدامات کر رہا ہے نیشنل انسٹیٹیوشنل فیسلیٹیشن ٹیکنالوجی کے سسٹم میں کیا کمزوریاں تھیں اس پر جواب طلب کیا گیا ہے اسٹیٹ بینک کی ٹیم نیفٹ کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے۔

    ملک بھر میں نفٹ سسٹم پر سائبر حملے کو ایک ہفتہ گزر گیا ہےنفٹ سسٹم مکمل بحال نہ ہونے کے سبب بینکوں میں چیکس کی کلیئرنگ میں مشکلات کا سامنا ہے سسٹم مکمل بحال نہ ہونے سے ہمارے پاس کام کا دباوٴ بڑھ گیا ہے آن لائن چیک کلیئیرنس نہ ہونے کی وجہ سے مینیول طریقے سے کلئیرنس میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    سلمان خان کو انتہائی درد ناک دھوکے ملے،اب انہیں گھریلو خاتون کی ضرورت ہے،ماہر علم …

  • سائبر حملہ،اسٹیٹ بینک نے نفٹ سے جواب طلب کر لیا

    سائبر حملہ،اسٹیٹ بینک نے نفٹ سے جواب طلب کر لیا

    نیشنل انسٹیٹیوشنل فیسیلیٹیشن ٹیکنالوجیز (نفٹ) پر سائبر حملے کے بعد اسٹیٹ بینک نے نیفٹ سے جواب طلب کر لیا-

    باغی ٹی وی: ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق مستقبل میں ایسے سائبر حملوں کو روکنے کے لیے نفٹ کیا اقدامات کر رہا ہے نیشنل انسٹیٹیوشنل فیسلیٹیشن ٹیکنالوجی کے سسٹم میں کیا کمزوریاں تھیں اس پر جواب طلب کیا گیا ہے اسٹیٹ بینک کی ٹیم نیفٹ کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے۔

    ملک بھر میں نفٹ سسٹم پر سائبر حملے کو ایک ہفتہ گزر گیا ہے، نیفٹ سسٹم مکمل بحال نہ ہونے کے سبب بینکوں میں چیکس کی کلیئرنگ میں مشکلات کا سامنا ہے سسٹم مکمل بحال نہ ہونے سے ہمارے پاس کام کا دباوٴ بڑھ گیا ہے آن لائن چیک کلیئیرنس نہ ہونے کی وجہ سے مینیول طریقے سے کلئیرنس میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    پاکستان کےخودکار چیک کلیئرنگ سسٹم نِفٹ پر سائبر حملہ

    حملے میں کتنے صارفین کا ڈیٹا لیک ہوا ہے تاہم نفٹ حکام جواب دینے سے گریزاں ہیں –

    واضح رہے کہ نیشنل انسٹیٹیوشنل فیسیلیٹیشن ٹیکنالوجیز ‘نِفٹ’ کے مطابق 16 جون بروز جمعہ کو ‘نفٹ’ کے سسٹمز کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی۔ اطلاع ملتے ہی حفاظتی اقدامات کے ذریعے فوری طور پر صورتحال پر قابو پالیا گیا جس سے ڈیٹا اور سسٹمز کسی بڑے نقصان سے بچ گئے-

    پشاور: پولیس کی بروقت کارروائی،دہشتگردی کا بڑامنصوبہ ناکام بنا دیا

    نِفٹ نے بتایا تھا کہ ہماری ٹیمیں اس حملے کی نوعیت اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو سمجھنے کیلئے سائبر حملے کی کوشش کی مکمل چھان بین کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے یہ یقینی بنایا جارہا ہے کہ سروسز مکمل طور پر دوبارہ شروع کرنے سے پہلے سسٹمز محفوظ رہیں “ہم نے سائبر حملے کی کوشش سے منسلک کسی بھی خطرے کو کم کرنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔ ہمارے ڈیٹا، سسٹمز، کلائنٹس اور اسٹیک ہولڈرز کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔”-

    ‘نِفٹ’ کے مطابق 19 جون 2023 بروز پیر کو کلیئرنگ سروسز کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے کام جاری ہے تاہم سسٹم تاحام بحال نہیں ہو سکا ہے-

    خیال رہے کہ ‘نِفٹ’ پاکستان کے 43 بینکوں کا چیک کلیئرنگ ہاؤس ہے جہاں ‘امیج بیسڈ کلیئرنگ سروسز’ کے ذریعے سالانہ 46 کھرب روپے کی انٹر بینک چیک ادائیگیاں کلیئر کی جاتی ہیں۔

    سلمان خان کو انتہائی درد ناک دھوکے ملے،اب انہیں گھریلو خاتون کی ضرورت ہے،ماہر علم …