Baaghi TV

Tag: اسٹیٹ بینک

  • سعودی عرب اسٹیٹ بینک پاکستان میں 2 ارب ڈالر جمع کرنے پر راضی

    سعودی عرب اسٹیٹ بینک پاکستان میں 2 ارب ڈالر جمع کرنے پر راضی

    آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کے لیے سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ایک سال کے لیے 4 فیصد سالانہ منافع کی شرح پر 2 ارب ڈالر جمع کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    باغی ٹی وی :بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اس 2ارب ڈالر کی رقم پر سعودی عرب کو سالانہ 4 فیصد منافع ادا کرے گا “سعودی عرب نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک پیشگی شرط کو پورا کرنے کے لیے 2 ارب ڈالر جمع کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جس میں پاکستان سے مبینہ طور پر6 ارب ڈالر تک بیرونی فنڈنگ ​​کا بندوبست کرنے کو کہا گیا تھا۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان روڈ ٹو مکہ کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    10مئی 2023ء کو خزانہ ڈویژن کی طرف سے اضافی ایجنڈا آئٹم کے ذریعے وفاقی کابینہ کو مطلع کیا گیا تھا کہ سعودی عرب سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ایک سال کے لیے 2ارب ڈالر کی رقم چار فیصد سالانہ منافع پر دینے پر رضامند ہو گیا ہے۔

    خزانہ ڈویژن کی طرف سے رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سعودی حکومت کی طرف سے شیئر کیا گیا مجوزہ ڈیپازٹ اگریمنٹ وزارت قانون و انصاف اور اٹارنی جنرل آفس کو کلیئرنس کے لیے بھجوایا گیا تھااگر وفاقی کابینہ اس معاہدے کی منظوری دے دیتی ہے تو سٹیٹ بینک آف پاکستان کو خزانہ ڈویژن کی طرف سے اس معاہدے پر عملدرآمد کا اختیار دے دیا جائے گا۔

    بدقسمتی سے پی ٹی آئی دوسری ایم کیو ایم بننے جا رہی ہے،فیصل واوڈا

    وزارت قانون و انصاف نے تمام ضابطہ اخلاق کی تکمیل سے مشروط معاہدے کے مسودے کو کلیئر کر دیا تھا جبکہ ایف بی آر نے ٹیکس چھوٹ کے لیے رضامندی دی تھی۔

    واضح رہے کہ عرب کے بعد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بھی "آئی ایم ایف سے تصدیق کی” کہ وہ اسٹیٹ بینک میں 1 بلین ڈالر جمع کرے گا۔

    عمران خان گرہیں جو تمھیں دانتوں سے کھولنی پڑ رہی ہیں تم نے خود لگائیں …

  • کرپٹو کرنسی کی روک تھام: حکومت کا انٹرنیٹ پرسروس بند کرنےکا فیصلہ

    کرپٹو کرنسی کی روک تھام: حکومت کا انٹرنیٹ پرسروس بند کرنےکا فیصلہ

    حکومت پاکستان نے کرپٹوکرنسی کی روک تھام کے لیے انٹرنیٹ پر کرپٹوکرنسی سروس بند کرنےکا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت قائمہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کرپٹو کرنسی کی روک تھام کے لیے انٹرنیٹ سے کرپٹو کرنسی سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا-

    ibaad-farooq

    پی ٹی آئی کا ٹکٹ واپس، کورکمانڈر ہاؤس پرحملہ لیڈر شپ نے کرایا، میاں عباد …

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں حکام نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک اور وزارت آئی ٹی نے کرپٹو کرنسی بندکرنے پرکام بھی شروع کردیا ہے کرپٹو کرنسی سے متعلق سافٹ ویئر کے استعمال پر پابندی ہوگی۔

    وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کبھی بھی لیگل نہیں کیا جائےگا فیٹف نے بھی شرائط لگائی ہیں،کرپٹوکرنسی کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

    اسٹیٹ بینک حکام کا کہنا تھا کہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ 2.8 ٹریلین ڈالر سے کم ہوکر 1.2 ٹریلین ڈالررہ گئی ہے،کرپٹو کرنسی ہائی رسک ہے جو صرف ہوائی کرنسی ہے، کرپٹو کرنسی میں فراڈ ہے، پاکستان میں کبھی اجازت نہیں دی جائےگی اکرپٹو ہے کیا اس کا کسی کو کچھ نہیں پتا، کرپٹو کرنسی میں پاکستانی انویسٹمنٹ پر ایف آئی اے اور ایف ایم یو کارروائی کر رہا ہے، کرپٹو کرنسی کی 16 ہزار سے زائد کرنسی بن چکی ہیں جن کو کوئی استعمال نہیں کرتا۔

    گوگل کا غیر متحرک اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک حکام نے کہا کہ 2018 میں بینکوں کو کہا گیا تھا کہ کوئی اس کرنسی میں لین دین نہ کرے، اس جیسی کرنسیوں کا نشانہ ہمارے جیسے ملک ہیں، اس کرنسی کو ریگولیٹ اور مانیٹر نہیں کیا جا سکتا، چین نے بھی انٹرنیٹ پر جا کر اس کرنسی کو بند کیا۔

    چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پاکستان کے اربوں ڈالر کرپٹو کرنسی میں انویسٹ ہوئے ہیں، میں کئی لوگوں کو جانتا ہوں جو کرپٹو کرنسی میں کاروبار کر رہے ہیں، ہمارے روکنے سے وہ نہیں رکیں گے-

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جو پاکستانی اس میں کام کر رہے ہیں ان کو سزا ہونی چاہیے، اس سے متعلق قانون سازی ہونی چاہیے اور کسی ادارے کی ذمہ داری لگائی جائے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نےسیارچے میں پانی دریافت کرلیا

  • اسٹیٹ بینک کے ذخائر کم ہوکر 4 ارب 38 کروڑ ڈالر رہ گئے

    اسٹیٹ بینک کے ذخائر کم ہوکر 4 ارب 38 کروڑ ڈالر رہ گئے

    اسٹیٹ بینک کے ذخائر کم ہوکر 4 ارب 38 کروڑ ڈالر رہ گئے

    اسٹیٹ بینک نے ملکی زرمبادلہ ذخائر کے اعداد و شمار جاری کردیئے گئے ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک کی ہفتہ وار زرمبادلہ کے ذخائر کی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں بیرونی قرض کی مد میں 7 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی گئی جس سے مرکزی بینک کے ذخائر کم ہوکر 4 ارب 38 کروڑ ڈالر رہ گئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران کمرشل بینکوں کے ذخائر 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر اضافے سے 5 ارب 60 کروڑ ڈالر ہوگئے۔ مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق ملکی مجموعی ذخائر 5 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کمی سے 9 ارب 99 کروڑ ڈالر پر آگئے ہیں۔ دوسری جانب ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں کمی ہوگئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    جبکہ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت 2700 روپے کم ہو کر 2 لاکھ 37 ہزار 300 روپے ہوگئی
    10 گرام سونے کی قیمت 2314 روپے کم ہوکر 2 لاکھ تین ہزار 447 روپے ہے جبکہ عالمی صرافہ میں سونے کی قیمت 7 ڈالر بڑھ کر 2038 ڈالر فی اونس ہے۔

  • سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات کیلئے 21 ارب مختص کر دیے ہیں ،قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک

    سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات کیلئے 21 ارب مختص کر دیے ہیں ،قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک

    اسلام آباد: قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ انتخابات کیلئے سپریم کورٹ کے حکم پر 21 ارب مختص کر دیے ہیں-

    باغی ٹی وی :سپریم کورٹ کی جانب سے گورنر اسٹیٹ بینک کو فنڈز کے اجرا کے حکم کے تناظر میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ، معاون خصوصی برائے خزانہ، وزارت خزانہ کے حکام شریک ہوئے۔

    نزول قرآن،شب قدر آج انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی صدارت میں ہونے والی مشاورتی بیٹھک میں قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک، اسپیشل سیکرٹری خزانہ، چیئرمین خزانہ کمیٹی قیصر شیخ ، وزیر تجارت نوید قمر، وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا،اٹارنی جنرل، آڈیٹرجنرل آف پاکستان اکاؤنٹنٹ جنرل حکام شریک تھے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے خصوصی اجلاس سے قبل ہونے والی مشاورت میں الیکشن کے لیے فنڈز کا اجرا روکنے کے حوالے سے قانونی نکات کا جائزہ لیا گیا اور مشاورت کی گئی کہ اسٹیٹ بینک کو فنڈز اجرا سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ معاملہ دوبارہ قومی اسمبلی کے پاس بھیجا جائےآئین پاکستان کہتا ہے کہ سپلیمنٹری گرانٹ کی ضرورت پڑے تو وفاقی حکومت اس کو پارلیمنٹ میں لے کر جائے آئین ہی سپریم ہے ،سپریم کورٹ ،وزیر اعظم ،کابینہ اور ہم سب نے آئین پر عمل کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے موجودہ بجٹ میں الیکشن کے پیسے نہیں رکھے گئے تھے-

    آزاد کشمیرمیں عمران خان کے خلاف بغاوت،فارورڈ بلاک قائم ،بیرسٹر سلطان محمود کے ن لیگ …

    اجلاس میں قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ کے حکم پر 21 ارب مختص کر دیے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف مختص کیے ہیں ،ابھی جاری نہیں کیے-

    چیئرمین کمیٹی قیصر شیخ نے کہا کہ خزانہ کمیٹی نے سپریم کورٹ کے حکم کی خبروں پر سوموٹو لیا ہےآج فیصلہ کرنا ہو گا کہ آئین پاکستان کو پس پشت ڈال کر 21 ارب دیا جا سکتا ہے ؟اگر یہ بیوروکریٹس پیسے دے دیتے ہیں تو کیا کل کو یہ پیسہ ان بیوروکریٹس کی تنخواہوں سے ریکور کیا جائے گا ؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیسہ خرچ کرنے میں ریسک ہے ، اگر خرچ کرنے کے بعد قومی اسمبلی نے منظوری نہ دی تو یہ خلا کیسے پر ہوگا ؟ جب ایک قرار داد پہلے پاس ہو چکی ہے تو اس لیے بہتر ہے کہ بعد ازاں خرچ کرنے کے بجائے پہلے منظوری لی جائے-

    جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس: پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں توسیع

    رکن پارلیمنٹ برجیس طاہر نے کہا کہ 13 اپریل کو ہم نے دو گھنٹے بحث کے بعد متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ پنجاب میں الگ الیکشن کرانا ملک کے لیےتباہ کن ہوگا ،ہم نے 13 اپریل کو جو فیصلہ کیا تھا ،اس کی نفی نہیں کر سکتے ،جب فیصلہ کر چکے ہیں تو اب آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں ؟سپریم کورٹ نے پہلے ہی 63 اے کا فیصلہ دے کر تباہی کی-

    برجیس طاہر نے کہا کہ سپریم کورٹ براہ راست اسٹیٹ بینک سے پیسے نہیں لے سکتی ،یہ کوئی مذاق ہے ؟یہ میٹنگ بلانے سے پہلے ہم سے مشاورت کی جانی چاہیے تھی ،جب ہم فیصلہ دے چکے تھے کہ پیسے نہیں دینے تو پھر پیسے دینے کا معاملہ ایجنڈے پر کیوں رکھا گیا ؟میں احتجاج کرتا ہوں-

    اپریل کی وہ رات جسے ماہرین فلکیات بہت زیادہ پسند کرتےہیں

    وزیر تجارت نوید قمر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وزارت خزانہ اورسٹیٹ بینک حکام کو توہین عدالت سے نہ ڈرائیں، پارلیمنٹ کو بھی اپنی توہین پر ایکشن کا اختیار ہے،پارلیمنٹ کو توہین کے ارتکاب پر کارروائی کا پورا اختیار ہے،ان کاکہناتھاکہ پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے۔وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشانے کہاکہ قومی اسمبلی نے منظوری دی تو فنڈز جاری ہو جائیں گے،خزانہ ڈویژن بھی منظوری کے بغیر فنڈز استعمال نہیں کر سکتی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کیے جانے والے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ اسٹیٹ بینک پنجاب میں انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کو براہ راست رقم جاری کرے، وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ 17 اپریل تک 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو دیےجائیں گے۔

    عدالت نے اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو 18 اپریل تک فنڈز جاری کرنے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید کہا تھا کہ الیکشن کمیشن بھی 18 اپریل کو 21 ارب روپے فنڈز وصولی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔

  • پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا

    پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا

    کراچی: ملک کے ذرمبادلہ کے ذخائر میں حالیہ ایک ہفتے کے دوران 25 کروڑ80 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ملک کے مجموعی ذرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر دس ارب 44 کروڑ36 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے کے بعد اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ذرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کرچار ارب60 کروڑ 12لاکھ ڈالر ہوگئے ہیں۔


    اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ درآمدات روکنے سے زرمبادلہ ذخائر کی گراوٹ رکی ہے، 13 جنوری تک ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب 44 کروڑ ڈالر رہے،جنوری کے دوسرے ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر 25 کروڑ 58 لاکھ ڈالر بڑھے ہیں۔

    ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب84کروڑ 24لاکھ ڈالر ہیں۔

  • ایک ہفتے میں زرمبادلہ کےذخائر32 کروڑ 70 لاکھ ڈالرزمزید کم ہوگئے

    ایک ہفتے میں زرمبادلہ کےذخائر32 کروڑ 70 لاکھ ڈالرزمزید کم ہوگئے

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری ہونے والی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں 32 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کی مزید کمی ہوئی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 25 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران غیرملکی قرضوں کی ادائیگی سے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 32 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کم ہوکر 7 ارب 49 کروڑ اور 87 لاکھ ڈالرز کی سطح پر آگئے۔

     

     

    اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 87 کروڑ 95 لاکھ ڈالرز کے ذخائر ہیں۔ جس کے بعد زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 13 ارب 37 کروڑ 82 لاکھ ڈالرز کی سطح پر آگئے۔

     

     

    ادھر اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی ہے کہ تیل، ایل این جی اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے لیے ایل سیز کھولنے پر قطعی کوئی پابندی نہیں لگائی۔ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر کوئی پابندی عائد نہیں کی، خام تیل، ایل این جی اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے یا کنٹریکٹس پر بھی کوئی پابندی (زبانی یا کسی اور طرح) عائد نہیں کی گئی ہے۔

     

    اسٹیٹ بینک کے ترجمان نے کہا کہ اس طرح کی غلط اطلاعات منفی مقاصد کےتحت مارکیٹ میں غیریقینی کی صورت حال پیدا کرنےکےلیے پھیلائی جارہی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک تیل اور گیس (بشمول ایل این جی) کی مصنوعات کی درآمد کے حوالے سے بینکوں کے ذریعے زرمبادلہ کی ادائیگیوں کی پروسیسنگ کو تجارتی دستاویزات کی کنٹریکٹ میں درج میعاد کے مطابق بروقت یقینی بناتا ہے۔

     

     

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ تیل کی درآمد کےلیےتمام ایل سیز،کنٹریکٹس کسی تاخیرکےبغیر انٹربینک فارن ایکسچینج مارکیٹ کے ذریعے اپنی مقررہ تاریخ پر پورے کیے جارہے ہیں، اسی وجہ سے ملک میں تیل کی درآمد ستمبر 2022ء اور اکتوبر 2022ء میں بالترتیب 1.48 ارب ڈالر اور 1.48 ارب ڈالر رہی۔

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

  • نئی مانیٹری پالیسی جاری،شرح سود میں ایک فیصد اضافہ

    نئی مانیٹری پالیسی جاری،شرح سود میں ایک فیصد اضافہ

    اسلام آباد:اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لئے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اسٹیٹ بینک کے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لئے زری پالیسی کی منظوری دی، اجلاس میں شرح سود 100 بیسس پوائنٹس یعنی ایک فیصد بڑھا کر 16 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

     

    سرکاری املاک و دستاویزات پر سیاستدانوں اور عہدیداروں کی تصاویر لگانے پر پابندی

    واضح رہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی تعیناتی اور نیے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے آنے کے بعد یہ دوسری مانیٹری پالیسی ہے۔

     

    اس سے قبل بڑھتی مہنگائی کے پیش نطر مانیٹری پالیسی مسلسل سخت کی جارہی تھی اور اس پالیسی کے تحت رواں سال اب تک شرح سود میں 625 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔

    حکومت کا عوام کو آسان اقساط پر سمارٹ فونزدینے کا اعلان

    تاہم ایک جانب جہاں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی آئی ہے عالمی مارکیٹ میں تیل وگیس کے نرخ کے نرخ کم ہورہے ہیں، لیکن دوسری جانب مہنگائی کے خدشات ابھی تک موجود ہے جس کی وجہ سے ہونے شرح سود بڑھنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

     

    قومی مرکزی بینک نے امید ظاہر کی کہ شرح سود میں اضافے سے پائیدار بنیادوں پر معیشت ترقی کی راہ پر ہموار ہوجائے گی۔

  • ڈالرکو200 سے نیچے لائیں ورنہ سخت سزا کے لیے تیاررہیں:اسٹیٹ بینک کی8 بڑے بینکوں کووارننگ

    ڈالرکو200 سے نیچے لائیں ورنہ سخت سزا کے لیے تیاررہیں:اسٹیٹ بینک کی8 بڑے بینکوں کووارننگ

    اسلام آباد:اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پاکستان کے 8 بڑے بینکوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہاہے کہ مذکورہ بینکس امریکی ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر کو 200 سے نیچے لائیں ، کیوں کہ اس سارے کرتے دھرتے کا ذمہ دار یہ بینکس ہیں، اسٹیٹ بینک کی طرف سے خبردار کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ اگران بینکوں نے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا نہ کیا تو سزا کےلیے تیار رہیں ،

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر نے انکشاف کیا ہے کہ آٹھ بینکوں نے ڈالر کی قیمت میں ہیر پھیر کرکے ناجائز پیسہ کمایا، پاکستان کے بیرونی قرض میں اضافہ کیا اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا. انہوں نے یہ انکشاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کیا.

     

     

    کمیٹی اراکین نے سوال اٹھایا کہ ڈالر 245 سے بھی اوپر کیسے چلا گیا، اسٹیٹ بینک نے بطور ریگولیٹر بینکوں کیخلاف کاروائی کیوں نہیں کی جبکہ انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر ریٹ میں 10 روپے کا فرق بھی دیکھا گیا ہے۔

    ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ کرنسی کی قدر میں ہیر پھیر میں آٹھ بینک ملوث ہیں. ان بینکوں نے ناجائز پیسہ کمانے کی خاطر ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا اور پاکستان کے بیرونی قرض کو بڑھایا جس میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈالر کی ہیر پھیر میں نیشنل بینک، میزان بینک، بینک الحبیب، حبیب میٹرو، سٹینڈرڈ چارٹرڈ، ایچ بی ایل، یو بی ایل اور الائیڈ بینک ملوث ہیں۔. ہیں.

  • جوں جوں دوا کی پاکستان کا قرض بڑھتا گیا:50 ہزار503ارب روپے کی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گیا

    جوں جوں دوا کی پاکستان کا قرض بڑھتا گیا:50 ہزار503ارب روپے کی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گیا

    اسلام آباد:وفاقی حکومت کے قرضے 50 ہزار 503 ارب روپے پر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح سے تجاوز کر گیا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق اتحادی حکومت کے پہلے چار ماہ کے دوران مرکزی حکومت کے قرضوں میں 7 ہزار 490 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

    دستاویزات کے مطابق جولائی 2022 تک وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ بڑھ کر ریکارڈ 50 ہزار 503 ارب روپے سے تجاوز کر گیا تھا-

    جولائی 2022 تک وفاقی حکومت کا مقامی قرض 31 ہزار12 ارب اور غیر ملکی قرض 19ہزار 375 ارب روپے پر پہنچ گیا تھا، گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 9 مہینوں جولائی تا مارچ کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے دور میں مرکزی حکومت کے قرضے 4 ہزار307 ارب جبکہ نئی حکومت کے چار ماہ میں7 ہزار 490 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

    اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 9 مہینوں میں ماہانہ اوسط 500 ارب روپے سے کم قرضہ لیا جبکہ موجودہ حکومت نے ابتدائی چار ماہ میں قرضوں میں ماہانہ اوسط تقریبا 1871 ارب روپے کا اضافہ کیا-

    اسٹیٹ بینک کی دستاویز کے مطابق جون 2022 تک ملک پر قرضے اور واجبات ریکارڈ 59 ہزار697 ارب روپے پر پہنچ گئے تھے۔قبل ازیں اسٹیٹ بینک کی دستاویز میں بتایا گیا تھا کہ مارچ 2022 تک ملک پر قرضے اور واجبات ریکارڈ 535 کھرب 44 ارب روپے سے تجاوز کرگئے تھے۔

    ملکی قرض اور واجبات میں تحریک انصاف حکومت کے دور میں ریکارڈ 236 کھرب 65 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔دستاویز کے مطابق جون 2018 تک ملک پر 298 کھرب 79 ارب روپے کے قرضے اور واجبات تھے۔

    اس سے قبل سال 2013 میں ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 143کھرب 18ارب روپے تھا، یوں مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ 2013 تا 2018 حکومت کے دوران ملکی قرضوں کے بوجھ میں 155 کھرب 61 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔

    جبکہ سابق صدر پرویز مشرف کے 9 سالہ دور 1999 سے 2008 کے دوران قرضوں میں 32 کھرب روپے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے 5 سالہ دور 2008 تا 2013 کے دوران ملکی قرض 82 کھرب روپے بڑھا تھا۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • بیرون ملک پاکستانیوں کوپنجاب اورکے پی حکومتوں کوسیلاب فنڈزدینےسےنہیں روکا جارہا:اسٹیٹ بینک

    بیرون ملک پاکستانیوں کوپنجاب اورکے پی حکومتوں کوسیلاب فنڈزدینےسےنہیں روکا جارہا:اسٹیٹ بینک

    اسلام آباد:اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے بدھ کے روز پی ٹی آئی کےان دعووں کوحقیقت کے برعکس قرار دیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے وزیراعلیٰ ریلیف فنڈ کے لیے عطیات قبول کرنے میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔

    مرکزی بینک کی جانب سے یہ وضاحت پارٹی کے ترجمان کے اس دعوے کے بعد سامنے آئی ہے کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کے کھاتوں میں لین دین نہیں ہو رہا۔

    پارٹی کے ترجمان مزمل اسلم اسی سلسلے میں اس معاملے پر کہتے ہیں کہ "جیسا کہ موصول ہوا: گزشتہ شام بیرون ملک کچھ دوستوں نے اطلاع دی ہے کہ ان کے کریڈٹ کارڈ کے عطیات کی لین دین نہیں ہو رہی تھی۔ متعلقہ کریڈٹ کارڈ کمپنیوں کے ساتھ معاملہ اٹھانے پر معلوم ہوا کہ حکومت پاکستان نے ان کا آپریشن بلاک کر دیا ہے،”

     

     

    اس کے جواب میں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے واضح کیا کہ ان اکاؤنٹس کے لیے چندہ قبول کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی ہے۔

    مرکزی بینک نے ایک بیان میں کہا، "یہ دیکھا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کے پی اور پنجاب کے ‘سی ایم فلڈ ریلیف فنڈ’ میں عام لوگوں کی جانب سے عطیات کی عدم قبولیت کے حوالے سے کچھ شکایات گردش کر رہی ہیں،” اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اس نے ایک انکوائری کی اور متعلقہ بینکوں نے اسے بتایا کہ ایسی شکایات "بے بنیاد” ہیں کیونکہ وہ قائم شدہ فنڈز میں عطیات قبول کر رہے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ متعلقہ بینکوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کھاتوں میں روزانہ کی بنیاد پر لین دین ہو رہا ہے۔ "بینکوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے نیک مقصد میں اپنا کردار ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔”