Baaghi TV

Tag: اسٹیٹ بینک

  • پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا

    پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا

    کراچی: ملک کے ذرمبادلہ کے ذخائر میں حالیہ ایک ہفتے کے دوران 25 کروڑ80 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ملک کے مجموعی ذرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر دس ارب 44 کروڑ36 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے کے بعد اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ذرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کرچار ارب60 کروڑ 12لاکھ ڈالر ہوگئے ہیں۔


    اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ درآمدات روکنے سے زرمبادلہ ذخائر کی گراوٹ رکی ہے، 13 جنوری تک ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب 44 کروڑ ڈالر رہے،جنوری کے دوسرے ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر 25 کروڑ 58 لاکھ ڈالر بڑھے ہیں۔

    ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب84کروڑ 24لاکھ ڈالر ہیں۔

  • ایک ہفتے میں زرمبادلہ کےذخائر32 کروڑ 70 لاکھ ڈالرزمزید کم ہوگئے

    ایک ہفتے میں زرمبادلہ کےذخائر32 کروڑ 70 لاکھ ڈالرزمزید کم ہوگئے

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری ہونے والی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں 32 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کی مزید کمی ہوئی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 25 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران غیرملکی قرضوں کی ادائیگی سے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 32 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کم ہوکر 7 ارب 49 کروڑ اور 87 لاکھ ڈالرز کی سطح پر آگئے۔

     

     

    اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 87 کروڑ 95 لاکھ ڈالرز کے ذخائر ہیں۔ جس کے بعد زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 13 ارب 37 کروڑ 82 لاکھ ڈالرز کی سطح پر آگئے۔

     

     

    ادھر اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی ہے کہ تیل، ایل این جی اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے لیے ایل سیز کھولنے پر قطعی کوئی پابندی نہیں لگائی۔ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر کوئی پابندی عائد نہیں کی، خام تیل، ایل این جی اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے یا کنٹریکٹس پر بھی کوئی پابندی (زبانی یا کسی اور طرح) عائد نہیں کی گئی ہے۔

     

    اسٹیٹ بینک کے ترجمان نے کہا کہ اس طرح کی غلط اطلاعات منفی مقاصد کےتحت مارکیٹ میں غیریقینی کی صورت حال پیدا کرنےکےلیے پھیلائی جارہی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک تیل اور گیس (بشمول ایل این جی) کی مصنوعات کی درآمد کے حوالے سے بینکوں کے ذریعے زرمبادلہ کی ادائیگیوں کی پروسیسنگ کو تجارتی دستاویزات کی کنٹریکٹ میں درج میعاد کے مطابق بروقت یقینی بناتا ہے۔

     

     

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ تیل کی درآمد کےلیےتمام ایل سیز،کنٹریکٹس کسی تاخیرکےبغیر انٹربینک فارن ایکسچینج مارکیٹ کے ذریعے اپنی مقررہ تاریخ پر پورے کیے جارہے ہیں، اسی وجہ سے ملک میں تیل کی درآمد ستمبر 2022ء اور اکتوبر 2022ء میں بالترتیب 1.48 ارب ڈالر اور 1.48 ارب ڈالر رہی۔

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

  • نئی مانیٹری پالیسی جاری،شرح سود میں ایک فیصد اضافہ

    نئی مانیٹری پالیسی جاری،شرح سود میں ایک فیصد اضافہ

    اسلام آباد:اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لئے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اسٹیٹ بینک کے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لئے زری پالیسی کی منظوری دی، اجلاس میں شرح سود 100 بیسس پوائنٹس یعنی ایک فیصد بڑھا کر 16 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

     

    سرکاری املاک و دستاویزات پر سیاستدانوں اور عہدیداروں کی تصاویر لگانے پر پابندی

    واضح رہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی تعیناتی اور نیے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے آنے کے بعد یہ دوسری مانیٹری پالیسی ہے۔

     

    اس سے قبل بڑھتی مہنگائی کے پیش نطر مانیٹری پالیسی مسلسل سخت کی جارہی تھی اور اس پالیسی کے تحت رواں سال اب تک شرح سود میں 625 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔

    حکومت کا عوام کو آسان اقساط پر سمارٹ فونزدینے کا اعلان

    تاہم ایک جانب جہاں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی آئی ہے عالمی مارکیٹ میں تیل وگیس کے نرخ کے نرخ کم ہورہے ہیں، لیکن دوسری جانب مہنگائی کے خدشات ابھی تک موجود ہے جس کی وجہ سے ہونے شرح سود بڑھنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

     

    قومی مرکزی بینک نے امید ظاہر کی کہ شرح سود میں اضافے سے پائیدار بنیادوں پر معیشت ترقی کی راہ پر ہموار ہوجائے گی۔

  • ڈالرکو200 سے نیچے لائیں ورنہ سخت سزا کے لیے تیاررہیں:اسٹیٹ بینک کی8 بڑے بینکوں کووارننگ

    ڈالرکو200 سے نیچے لائیں ورنہ سخت سزا کے لیے تیاررہیں:اسٹیٹ بینک کی8 بڑے بینکوں کووارننگ

    اسلام آباد:اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پاکستان کے 8 بڑے بینکوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہاہے کہ مذکورہ بینکس امریکی ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر کو 200 سے نیچے لائیں ، کیوں کہ اس سارے کرتے دھرتے کا ذمہ دار یہ بینکس ہیں، اسٹیٹ بینک کی طرف سے خبردار کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ اگران بینکوں نے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا نہ کیا تو سزا کےلیے تیار رہیں ،

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر نے انکشاف کیا ہے کہ آٹھ بینکوں نے ڈالر کی قیمت میں ہیر پھیر کرکے ناجائز پیسہ کمایا، پاکستان کے بیرونی قرض میں اضافہ کیا اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا. انہوں نے یہ انکشاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کیا.

     

     

    کمیٹی اراکین نے سوال اٹھایا کہ ڈالر 245 سے بھی اوپر کیسے چلا گیا، اسٹیٹ بینک نے بطور ریگولیٹر بینکوں کیخلاف کاروائی کیوں نہیں کی جبکہ انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر ریٹ میں 10 روپے کا فرق بھی دیکھا گیا ہے۔

    ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ کرنسی کی قدر میں ہیر پھیر میں آٹھ بینک ملوث ہیں. ان بینکوں نے ناجائز پیسہ کمانے کی خاطر ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا اور پاکستان کے بیرونی قرض کو بڑھایا جس میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈالر کی ہیر پھیر میں نیشنل بینک، میزان بینک، بینک الحبیب، حبیب میٹرو، سٹینڈرڈ چارٹرڈ، ایچ بی ایل، یو بی ایل اور الائیڈ بینک ملوث ہیں۔. ہیں.

  • جوں جوں دوا کی پاکستان کا قرض بڑھتا گیا:50 ہزار503ارب روپے کی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گیا

    جوں جوں دوا کی پاکستان کا قرض بڑھتا گیا:50 ہزار503ارب روپے کی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گیا

    اسلام آباد:وفاقی حکومت کے قرضے 50 ہزار 503 ارب روپے پر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح سے تجاوز کر گیا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق اتحادی حکومت کے پہلے چار ماہ کے دوران مرکزی حکومت کے قرضوں میں 7 ہزار 490 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

    دستاویزات کے مطابق جولائی 2022 تک وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ بڑھ کر ریکارڈ 50 ہزار 503 ارب روپے سے تجاوز کر گیا تھا-

    جولائی 2022 تک وفاقی حکومت کا مقامی قرض 31 ہزار12 ارب اور غیر ملکی قرض 19ہزار 375 ارب روپے پر پہنچ گیا تھا، گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 9 مہینوں جولائی تا مارچ کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے دور میں مرکزی حکومت کے قرضے 4 ہزار307 ارب جبکہ نئی حکومت کے چار ماہ میں7 ہزار 490 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

    اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 9 مہینوں میں ماہانہ اوسط 500 ارب روپے سے کم قرضہ لیا جبکہ موجودہ حکومت نے ابتدائی چار ماہ میں قرضوں میں ماہانہ اوسط تقریبا 1871 ارب روپے کا اضافہ کیا-

    اسٹیٹ بینک کی دستاویز کے مطابق جون 2022 تک ملک پر قرضے اور واجبات ریکارڈ 59 ہزار697 ارب روپے پر پہنچ گئے تھے۔قبل ازیں اسٹیٹ بینک کی دستاویز میں بتایا گیا تھا کہ مارچ 2022 تک ملک پر قرضے اور واجبات ریکارڈ 535 کھرب 44 ارب روپے سے تجاوز کرگئے تھے۔

    ملکی قرض اور واجبات میں تحریک انصاف حکومت کے دور میں ریکارڈ 236 کھرب 65 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔دستاویز کے مطابق جون 2018 تک ملک پر 298 کھرب 79 ارب روپے کے قرضے اور واجبات تھے۔

    اس سے قبل سال 2013 میں ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 143کھرب 18ارب روپے تھا، یوں مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ 2013 تا 2018 حکومت کے دوران ملکی قرضوں کے بوجھ میں 155 کھرب 61 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔

    جبکہ سابق صدر پرویز مشرف کے 9 سالہ دور 1999 سے 2008 کے دوران قرضوں میں 32 کھرب روپے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے 5 سالہ دور 2008 تا 2013 کے دوران ملکی قرض 82 کھرب روپے بڑھا تھا۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • بیرون ملک پاکستانیوں کوپنجاب اورکے پی حکومتوں کوسیلاب فنڈزدینےسےنہیں روکا جارہا:اسٹیٹ بینک

    بیرون ملک پاکستانیوں کوپنجاب اورکے پی حکومتوں کوسیلاب فنڈزدینےسےنہیں روکا جارہا:اسٹیٹ بینک

    اسلام آباد:اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے بدھ کے روز پی ٹی آئی کےان دعووں کوحقیقت کے برعکس قرار دیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے وزیراعلیٰ ریلیف فنڈ کے لیے عطیات قبول کرنے میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔

    مرکزی بینک کی جانب سے یہ وضاحت پارٹی کے ترجمان کے اس دعوے کے بعد سامنے آئی ہے کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کے کھاتوں میں لین دین نہیں ہو رہا۔

    پارٹی کے ترجمان مزمل اسلم اسی سلسلے میں اس معاملے پر کہتے ہیں کہ "جیسا کہ موصول ہوا: گزشتہ شام بیرون ملک کچھ دوستوں نے اطلاع دی ہے کہ ان کے کریڈٹ کارڈ کے عطیات کی لین دین نہیں ہو رہی تھی۔ متعلقہ کریڈٹ کارڈ کمپنیوں کے ساتھ معاملہ اٹھانے پر معلوم ہوا کہ حکومت پاکستان نے ان کا آپریشن بلاک کر دیا ہے،”

     

     

    اس کے جواب میں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے واضح کیا کہ ان اکاؤنٹس کے لیے چندہ قبول کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی ہے۔

    مرکزی بینک نے ایک بیان میں کہا، "یہ دیکھا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کے پی اور پنجاب کے ‘سی ایم فلڈ ریلیف فنڈ’ میں عام لوگوں کی جانب سے عطیات کی عدم قبولیت کے حوالے سے کچھ شکایات گردش کر رہی ہیں،” اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اس نے ایک انکوائری کی اور متعلقہ بینکوں نے اسے بتایا کہ ایسی شکایات "بے بنیاد” ہیں کیونکہ وہ قائم شدہ فنڈز میں عطیات قبول کر رہے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ متعلقہ بینکوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کھاتوں میں روزانہ کی بنیاد پر لین دین ہو رہا ہے۔ "بینکوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے نیک مقصد میں اپنا کردار ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔”

  • ایکسچینج کمپنیوں اور بینکوں کے فارن ایکسچینج آپریشنز کی نگرانی سخت کردی گئی:اسٹیٹ بینک

    ایکسچینج کمپنیوں اور بینکوں کے فارن ایکسچینج آپریشنز کی نگرانی سخت کردی گئی:اسٹیٹ بینک

    اسلام آباد۔:ایکسچینج ریٹ میں حالیہ اتار چڑھاؤ نیز بین البینک شرح اور ایکسچینج کمپنیوں و بینکوں کی جانب سے صارفین کو پیش کردہ شرح میں فرق کے پیش نظر بینک دولت پاکستان نے ایکسچینج کمپنیوں اور بینکوں کی نگرانی میں اضافہ کردیا ہے،

    کون اپنی ڈگری کی بنیاد پرڈاکٹرہے اورکس اندازسے لکھنا ہے! ہائیرایجوکیشن کمیشن نے…

    اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک نے پیر (یکم اگست 2022ء) سے متعدد ایکسچینج کمپنیوں اور بینکوں کے معائنے شروع کردیئے ہیں۔منگل (2 اگست 2022ء) کو اسٹیٹ بینک نے ایس بی پی ضوابط کی خلاف ورزی پر دو ایکسچینج کمپنیوں (گیلکسی ایکسچینج کمپنی اور الحمید انٹرنیشنل ایکسچینج کمپنی) کی چار برانچوں کے آپریشنز معطل کردیئے۔ اسٹیٹ بینک نے کچھ عرصہ قبل بعض ایکسچینج کمپنیوں پر جرمانے بھی عائد کئے تھے۔

    سندھ میں جامعات کا کنٹرول ہائیرایجوکیشن کمیشن کودیئے جانے کافیصلہ کرلیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک کی ہدایات کی خلاف ورزی پر کچھ عرصہ قبل مختلف ایکسچینج کمپنیوں کے 13 فرنچائزز کے انتظامات ختم کردیئے گئے تھے۔اسٹیٹ بینک نے ان خدشات کی تحقیقات کے لئے کہ بعض ایکسچینج کمپنیاں اپنے صارفین کو غیرملکی کرنسی فروخت نہیں کررہی ہیں ’مسٹری شاپنگ‘ کی کارروائی بھی شروع کی ہے۔ 4 اگست 2022ء کو ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کا ایک اجلاس بھی بلایا گیا ہے۔اگر ضرورت پڑی تو اسٹیٹ بینک جاری معائنوں اور مسٹری شاپنگ کے نتائج کی روشنی میں ایکسچینج کمپنیوں اور بینکوں پر نفاذ کے حوالے سے اپنے اقدامات میں سختی لائے گا۔

    ائیرایجوکیشن کمیشن کا ایم فل سکالرزکےلیے بڑا اعلان

  • آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے،قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک

    آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے،قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک

    کراچی: اسٹیٹ بینک کے قائم مقام گورنر ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے-

    باغی ٹی وی : قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے ایس بی پی پوڈ کاسٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام آن ٹریک ہے، آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو اتنا آسان نہ لیا جائے۔


    انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) حکام تمام اقدامات سے مطمئن ہیں، اسٹاف لیول معاہدے سے بورڈ میٹنگ میں بڑی آسانی ہوتی ہے ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے پاکستان کو پیسے مل جائیں گے۔

    دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈاکٹر مرتضیٰ سید نےای میل پر جواب میں بتایا کہ آئی ایم ایف کےساتھ جاری پروگرام کےسبب ہماری اگلے 12 مہینوں کی مالی سال 23-2022 کے لیے 33.5 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت پوری ہو چکی ہےجبکہ مالی صورت حال کے حوالے سے مارکیٹ کے غیر ضروری خدشات چند ہفتوں میں ختم ہو جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ اسٹاف لیول معاہدے کا اگلا جائزہ اجلاس پاکستان کو کمزور ممالک کی فہرست سے الگ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا جبکہ زیادہ تر ممالک کو آئی ایم ایف کی حمایت حاصل نہیں۔

    انہوں نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے قرضوں کی صورتحال جو مارکیٹوں کےلیے اہم نقطہ ہے،اس کی صورتحال قرضوں والے دیگر کمزور ممالک کے مقابلے میں بہت بہتر ہے،پاکستان پر بیرونی قرضے کم ہیں،پریزینٹیشن میں پاکستان کی صورتحال کا موازنہ حال ہی میں دیوالیہ ہونے والے سری لنکا سےکرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی بیرونی دباؤ آیا پاکستان نےزری پالیسی کو سخت کردیا اور روپے کی قدر کم کرنے کی اجازت دی۔

    ہمیں امید ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں حقیقت ظاہر ہو جائے گی اور پاکستان کے حوالے سے غیر ضروری خدشات ختم ہو جائیں گے۔ پاکستان کے مقابلے میں سری لنکا کی مالی صورت حال زیادہ خراب ہے۔

  • اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تقرری

    اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تقرری

    اسلام آباد:اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تقرر ی کردی گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ کی طرف سے اس سلسلے میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں‌اس حوالےسے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے وزارت خزانہ کی تیار کردہ سمری کی منظوری دی۔

    اسٹیٹ بینک کےبورڈ آف ڈائریکٹرز میں ممتاز معاشی ماہرین شامل ہیں۔ڈاکٹرعلی چیمہ، ڈاکٹر اکبر زیدی، طارق پاشا کو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔نجف یاور، فواد انور، ندیم حسین بھی بورڈ آف ڈائریکٹرز کا حصہ ہیں۔

    بورڈ آف ڈائریکٹرز میں محفوظ احمد خان،زاہد فخرالدین جی ابراہیم بھی شامل ہیں۔سیکرٹری خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک بھی بورڈ کا حصہ ہیں۔

    ادھرڈالر بے لگام ہوگیا، روپے کے مقابلے امریکی کرنسی نے تمام ریکارڈ توڑ دئیے۔ملک بھر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بدترین گراوٹ کا تسلسل جاری ہے، ایک مرتبہ پھر امریکی کرنسی کی قیمت 228 روپے 37 تک جاپہنچی۔

    انٹربینک میں ڈالر مزید ایک روپے 56 پیسے مہنگا ہونے کے بعد 228 روپے 37 پیسے پر فروخت ہوا ہے۔ جبکہ اوپن مارکیٹ میں امریکی کرنسی 231 روپے پربند ہوا ہے۔

    معاشی ماہرین کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بے لگام گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، روپے کی بے قدری کی وجہ ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی عدم استحکام کی صورتحال کے درمیان مارکیٹ کا معاشی رہنمائی سے محروم ہونا ہے۔

    مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے ملک میں سیاسی استحکام ضروری ہے اور مارکیٹ کو عام انتخابات کے حوالے سے تحریک انصاف یا مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت حکمراں اتحاد کی جانب سے کچھ رہنمائی کی ضرورت ہوگی۔

    روپے کی قدر میں گراوٹ میں تیزی ریٹنگ ایجنسی ’فچ‘ کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ منفی کیے جانے، یورو بانڈ کی پیداوار میں اضافے اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے کوئی فعال سپلائی نہ ہونے کے بعد ہوئی ہے۔

  • وزیر اعظم میرا گھر اسکیم کے تحت تازہ رقم کی تقسیم روک دی گئی ہے۔اسٹیٹ بینک

    وزیر اعظم میرا گھر اسکیم کے تحت تازہ رقم کی تقسیم روک دی گئی ہے۔اسٹیٹ بینک

    کراچی: اسٹیٹ بینک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم میرا گھر اسکیم کے تحت تازہ رقم کی تقسیم روک دی گئی ہے۔

    مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق میکرو اکنامک صورتحال میں ادائیگی پندرہ دنوں کے لیے روک دی گئی ہے، حکومت اسکیم کی خصوصیات کا جائزہ لے گی۔

     

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے مزید کہا گیا کہ بینکوں نے یکم جولائی 2022 سے 15 جولائی 2022 تک تازہ رقوم کی تقسیم کو روکنے کو کہا۔

    ایک اورپیغام میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں شروع کامیاب جوان انٹرن شپ پروگرام پر بھی نظرثانی کی جارہی ہے اوریہ پروگرام بھی فی الحال بند کردیاگیا ہے، اس سلسلے میں نئے احکامات کی روشنی میں مزید تفصیلات پھرجاری کی جائیں گی