Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • پاکستان میں افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کا استعمال،ثبوت

    پاکستان میں افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کا استعمال،ثبوت

    پاکستان کی سر زمین پر افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت ایک بار پھر منظرِ عام پرآگئے۔

    افواج پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے،حال ہی میں پاکستان میں افغان سرزمین سے ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، افغانستان سے دہشتگرد پاک افغان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوشش کرتے ہیں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔سب پر یہ بات عیاں ہے کہ ”دہشتگردوں کو افغانستان میں امریکا کا چھوڑا ہوا اسلحہ دستیاب ہے”۔دہشتگردوں کو ہتھیاروں کی فراہمی نے خطے کی سلامتی کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا ہے۔

    09 دسمبر 2024 کو، سیکورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔آپریشن کے نتیجے میں دو خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا جبکہ ایک خارجی زخمی حالت میں پکڑا گیا۔بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں M16-A2, M4,AK-47 برآمد ہوا۔

    10 نومبر 2024 کو ضلع شمالی وزیرستان میں دس خوارج کو جہنم واصل کیا۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں M16-A4, M4,AMV-65 برآمد ہوا۔

    23/24 اکتوبر 2024 کی رات، سیکورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع باجوڑ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا۔آپریشن کے دوران، پاکستانی فوج کے دستوں نے دو خودکش بمباروں سمیت 9 خوارج اور 1 ہائی ویلیو ٹارگٹ خارجی رنگ کے لیڈر سید محمد عرف قریشی استاد کو جہنم واصل کیا۔ہلاک ہونے والے خوارج سے بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ جس میں M4, AMD65, AK47 گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

    19/20 ستمبر 2024 کو شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع میں اپنے ہی فوجیوں اور دہشت گردوں کے درمیان دو شدید مقابلے ہوئے جس کے نتیجے میں بارہ خوارج جہنم واصل کر دیے گئے۔بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں SKS, AK-47, RPD, LMG برآمد ہوا۔

    افغانستان سے جدید غیر ملکی اسلحے کی پاکستان سمگلنگ اور ٹی ٹی پی کا سکیورٹی فورسز اور پاکستانی عوام کے خلاف غیر ملکی اسلحے کا استعمال افغان عبوری حکومت کا اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے کے دعوؤں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔یورو ایشین ٹائمز کے مطابق پاکستان میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی کارروائیوں میں غیر ملکی ساخت کے اسلحے کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔پینٹاگون کے مطابق امریکا نے افغان فوج کو کل 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے، جس میں 300,000 انخلا کے وقت باقی رہ گئے۔اس بناء پر خطے میں گزشتہ دو سالوں کے دوران دہشت گردی میں وسیع پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا۔امریکا نے 2005 سے اگست 2021 کے درمیان افغان قومی دفاعی اور سیکیورٹی فورسز کو 18.6 ارب ڈالر کا سامان فراہم کیا۔ امریکی انخلا کے بعد ان ہتھیاروں نے ٹی ٹی پی کو سرحد پار دہشت گرد حملوں میں مدد دی،یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغان رجیم نہ صرف ٹی ٹی پی کو مسلح کر رہی ہے بلکہ دیگر دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ راستہ بھی فراہم کر رہی ہے

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے افغانستان کے ناظم الامور کی ملاقات

    ٹی ٹی پی اہم کمانڈر افغانستان میں حملے میں ہلاک

    افغانستان نے بھارت میں قائمقام قونصلر کی تقرری کر دی

    قومی ترانے کی بے حرمتی:پاکستان نے افغانستان سفارتخانے کی وضاحت کو سختی سے مسترد کردیا

  • فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

    کیا فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان قیادت کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے؟

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں فتنہ الخوارج کے لیڈر نور ولی کے ہاتھوں کمانڈر رحیم عرف شاہد عمر اور مزید تین خوارجی طارق، خاکسار اور عدنان مارے گئے.نور ولی کی اقتدار کی ہوس ایک بار پھر عیاں ہو گئی ہے، جو اختلافات کو قتل و غارت اور خونریزی کے ذریعے حل کر رہا ہے ۔ دھوکہ دہی اور اندرونی لڑائی نے ٹی ٹی پی کی بکھرتی ہوئی قیادت کو بے نقاب کر دیا ہے، فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ کی قیادت کے حصول کے لیے تنازع اس واقعے کی بنیادی وجہ بنی ہے۔ افغان سرزمین ان کی بدامنی کا میدان جنگ بنی ہوئی ہے، جو خطے کے امن کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے ۔

    تحریک خوارج پاکستان ٹی ٹی پی جو دین کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، اس کا اصل میں دین کے ساتھ دور دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ مجرموں کا ایک ٹولہ ہے جو صرف اقتدار اور طاقت کے لیے سرگرم ہے۔تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے یہ گروہ اپنے آپ کو دین اور اسلام کے محافظ کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر ان کی سرگرمیاں دین سے دور اور مجرمانہ ہیں۔ یہ تنظیم اپنے مخصوص مفادات کے لیے مسلسل خونریزی اور دہشت گردی کے راستے اختیار کر رہی ہے، اور ان کا اصل مقصد دین کی تعلیمات کی پاسداری نہیں، بلکہ صرف اقتدار اور طاقت کا حصول ہے۔

    ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات اور قیادت کی جنگ نے اس تنظیم کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان جاری یہ تصادم خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے اور یہ تحریک دراصل دین کے لبادے میں ایک دہشت گرد تنظیم بن چکی ہے، جو اپنے اقتدار کے لیے بے گناہ انسانوں کا خون بہا رہی ہے

  • ٹی ٹی پی اہم کمانڈر افغانستان میں حملے میں ہلاک

    ٹی ٹی پی اہم کمانڈر افغانستان میں حملے میں ہلاک

    کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اہم کمانڈر رحیم اللہ عرف شاہد عمر افغانستان کے صوبے کنڑ کے علاقے شرنگل میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے رہنما کی ہلاکت کے حوالے سے ابھی تک افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم عسکریت پسند تنظیم نے اپنے کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

    افغان سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق شاہد عمر کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کیا گیا جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ افغان طالبان کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں شرکت کے بعد واپس اپنے مقام پر جا رہے تھے۔ حملے کی نوعیت اور حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔پاکستانی سیکیورٹی حکام کے مطابق، ٹی ٹی پی کمانڈر شاہد عمر کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کا ایک سینئر کمانڈر تھا اور پاکستان میں دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں ملوث رہا۔ اس کے علاوہ وہ ایک طویل عرصہ تک افغان طالبان کی جانب سے بگرام جیل میں قید رہا، جہاں اس نے آٹھ سال گزارے۔

    رحیم اللہ عرف شاہد عمر، ٹی ٹی پی کے عسکریت پسند تنظیم کے فوجی کمیشن کا رکن بھی تھا اور اس نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے لئے ٹی ٹی پی کا شیڈو گورنر ہونے کا بھی عہدہ سنبھالا تھا۔رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی کے مزید کمانڈروں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم اس خبر کے شائع ہونے تک ان کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔رحیم اللہ عرف شاہد عمر کی ہلاکت نہ صرف ٹی ٹی پی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ افغانستان میں طالبان حکومت کے لیے بھی شرمندگی کا باعث بن رہی ہے۔ پاکستان نے بار بار اس بات کا الزام عائد کیا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ سرحد پار پاکستان میں حملے کر رہے ہیں، لیکن افغان طالبان حکومت نے ان دہشت گردوں کی افغانستان میں موجودگی کی تردید کی تھی۔ شاہد عمر کی ہلاکت نے ایک مرتبہ پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔

    کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے تعلقات کی نوعیت بھی اس واقعے کے بعد مزید زیر بحث آ سکتی ہے، کیونکہ یہ دونوں گروہ ماضی میں ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں اور ٹی ٹی پی کے کئی کمانڈر افغان طالبان کے زیرِ اثر علاقوں میں پناہ گزین ہیں۔یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ ابھی تک پوری طرح سے قابو میں نہیں آ سکے، اور یہ پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، خاص طور پر جب پاکستان کی سرحد کے قریب دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافے کی خبریں آ رہی ہوں۔

    کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر کو قتل کرنے کی ذمہ داری جبھتہ الرباط نے قبول کرلی
    افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں قتل ہونے والے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے انتہائی سینئر کماںدر شاھد عمر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کھانا کھارہے تھے۔شاھد عمر ٹی ٹی پی کے بانیوں میں شمار ہونے والے رہنما فقیر محمد کے بھتیجے تھے اور ٹی ٹی پی میں ان کو اہم مقام حاصل تھا وہ 8 سال سابقہ افغان حکومت کی قید میں بھی گزار چکے تھے، ذرائع کے مطابق ان کو کنڑ میں ٹی ٹی پی کے ایک اور رکن نے کھانے کی دعوت پر بلا کر کھانے کے دوران ہی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والا کمانڈر پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو مطلوب تھا اور حکومت نے ان کے سر پر ایک کروڑ پاکستانی کرنسی کا انعام بھی رکھا تھا۔

  • غیر ملکی شہریوں کی احتجاجوں میں شرکت غیر قانونی ہے،ترجمان دفترخارجہ

    غیر ملکی شہریوں کی احتجاجوں میں شرکت غیر قانونی ہے،ترجمان دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کی پاکستانی سیاسی احتجاجوں میں شرکت مکمل غیر قانونی ہے، تمام غیر ملکیوں سے کہیں گے کہ پاکستان کے سیاسی معاملات سے دور رہیں، گرفتار افغان شہریوں کی تفصیلات وزارت داخلہ جاری کرے گی

    اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ بیلاروس کے صدر کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی یادداشتوں اور معاہدوں پردستخط ہوئے،عالمی برادری اسرائیل کو جارحیت اور نسل کشی پر جواب دہ ٹھہرائے۔ پاکستان لبنان میں حال میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ پاکستان فلسطین میں غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار 2 سے 3 دسمبر کو ایران کا دورہ کریں گے، جہاں وہ اپنے خطاب میں ای سی او چارٹر کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کریں گے۔ روڈ اور ریل راہداریوں کی ترقی کے ذریعے ای سی او خطے میں زیادہ سے زیادہ رابطے کے امکانات کو بھی اجاگر کریں گے۔ پاکستان ای سی او کے چارٹر پر مضبوطی سے پر عزم ہے جس کا مقصد مواصلات، تجارت، ثقافت اور رابطوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے موثر علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ نائب وزیر اعظم ای سی او کلین انرجی سنٹر کے چارٹر پر دستخط کریں گے اور مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ماسکو کے دورے پر ہیں

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں ہمارے سفارتکاروں کا کام افغان حکومت سے رابطے میں رہنا ہے، افغانستان میں پاکستانی ناظم الامورکی افغان وزیر دفاع سے ملاقات کے امور میڈیا سے شیئر نہیں کریں گے، حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، پاکستان اور چین کا ٹی ٹی پی سے انگیجمنٹ سے متعلق کوئی ایجنڈا نہیں ہے،یو اے ای کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تعداد کی فی الحال تصدیق نہیں کی جاسکتی، پاکستانی شہریوں پر یو اے ای نے ویزے کی پابندی عائد نہیں کی،پاکستان یقین رکھتا ہے کہ کھیلوں کو سیاست زدہ نہ کیا جائے، پاکستان آئندہ سال چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کر رہا ہے، امید ہے چیمپئنز ٹرافی کے لیے تمام ممالک شریک ہوں گے

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • افغانستان: بغلان میں مزار پر فائرنگ سے 10 افراد جاں بحق

    افغانستان: بغلان میں مزار پر فائرنگ سے 10 افراد جاں بحق

    افغانستان کے صوبے بغلان میں صوفی بزرگ کے مزار پر مسلح شخص کی فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے بتایا کہ ناہرین ضلع کے دور دراز علاقے میں ایک مسلح شخص نے مزار پر جاری ہفتہ وار تقریب کے دوران شرکا پر فائرنگ کی۔ناہرین ضلع کے ایک رہائشی نےبتایا کہ فائرنگ کا نشانہ بننے والے زائرین سید پاشا آغا کے مزار پر تقریب میں شریک تھے اور جیسے ہی شرکا نے صوفی نعرے لگانے شروع کیے تو حملہ آور نے فائرنگ شروع کر دی، مزار پر فائرنگ سے اموات کا انکشاف اس وقت ہوا جب لوگ صبح فجر کی نماز کی ادائیگی کے لیے وہاں پہنچے۔واضح رہے کہ اپریل 2022 میں صوبہ قندوز کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران دھماکے کے نتیجے میں بچوں سمیت 33 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔افغانستان میں 2021 سے طالبان حکام کی جانب سے زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بم دھماکوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم انتہا پسند گروہ اور خطے کی شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ خراسان ایسے اہداف کو نشانہ بناتی ہے جنہیں وہ ’ بدعتی’ تصور کرتی ہے۔

    سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کی معافی نہیں، وزیر اعظم

    اسلام آباد احتجاج، کراچی سے پولیس نفری روانہ

    چیمپئینز ٹرافی بلدیہ عظمی کراچی کے صدر دفتر پہنچ گئی

  • افغان انتظامیہ کو اپنی سرزمین پر دہشتگرد گروپوں کا خاتمہ کر نا چاہئے،دفترخارجہ

    افغان انتظامیہ کو اپنی سرزمین پر دہشتگرد گروپوں کا خاتمہ کر نا چاہئے،دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ بیلاروس کے صدر 25 سے 27 نومبر تک پاکستان کا دورہ کریں گے۔ بیلاروس کے صدر وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر دورہ پاکستان کر رہے ہیں

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ دہشتگردی نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان سمیت پورےخطے کیلئے خطرہ ہے۔افغان انتظامیہ کو اپنی سرزمین پر دہشتگرد گروپوں کا خاتمہ کر نا چاہئے ،افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کو ملنے والی حمایت پاکستان کے لیے باعثِ تشویش ہے، افغانستان سے متعلق خصوصی مندوب کی تقرری کی کوئی تجویز فی الحال زیرِ غور نہیں، دہشت گردی صرف افغانستان نہیں بلکہ پاکستان سمیت ہمسایوں کے لیے بھی خطرہ ہے، افغانستان کو دہشت گرد گروہوں سے متعلق ٹھوس شواہد پیش کر دیے،افغانستان کو دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، امید ہے کہ افغانستان بین الاقوامی سطح پر اپنے وعدے پورے کرے گا۔

    ترجمان دفترِ خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی اسرائیلی سرگرمیوں پر رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں، بیلاروس کے صدر 25 سے 27 نومبر تک پاکستان کا دورہ کریں گے، دورے کے دوران بیلاروس کے صدر پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، دونوں ممالک تعاون بڑھانے سمیت اہم معاہدوں پر بات چیت کریں گے۔اسپین کے پارلیمانی وفد نے پاکستان میں اہم ملاقاتیں کیں، دونوں ممالک نے درمیان تجارت سمیت تعاون بڑھانے پر بات چیت کی،برطانوی وزیر ہمیش فالکنر نے بھی رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کیا، برطانوی وزیر نے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ سمیت اہم ملاقاتیں کیں ،پاک یورپی یونین مشترکہ کمیشن کا 14 واں سیشن اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ پاکستان کی صورتحال پر برطانوی رکن پارلیمنٹ اور وزیر خارجہ کے درمیان خط ایک اندرونی معاملہ ہے، پاکستان سے خط کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی رابطہ نہیں کیا گیا،

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    عمران خان کی آج یا کل رہائی، اصل کہانی کیا؟

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • افغانستان نے بھارت میں قائمقام قونصلر کی تقرری کر دی

    افغانستان نے بھارت میں قائمقام قونصلر کی تقرری کر دی

    افغان حکومت کی بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھنے لگیں،افغانستان کی طالبان حکومت نے بھارت میں ایک نوجوان افغان طالب علم اکرام الدین کامل کی ممبئی میں افغانستان کے قونصل خانے میں قائم مقام قونصل کے طور پر تقرری کر دی ہے۔

    2021 میں افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سےیہ طالبان کی جانب سے بھارت میں کی جانے والی پہلی تقرری ہے، بھارت نے افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کابل اور دیگر شہروں سے اپنے سفارت کاروں کو واپس بلا لیا تھا، اور افغانستان کی سابقہ حکومت کے سفارت کار بھارت چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ گزین ہوگئے تھے۔ ایک سابق افغان سفارت کار اب بھی ہندوستان میں مقیم ہیں اور افغانستان کے مشن اور قونصل خانے کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔

    اکرام الدین کامل کی تقرری اس وقت ہوئی ہے جب وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکرٹری جے پی سنگھ کی قیادت میں ایک بھارتی وفد نے افغانستان کا دورہ کیا اور کابل میں طالبان کے قائم مقام وزیر دفاع، ملا محمد یعقوب سے ملاقات کی۔ طالبان کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور، شیر محمد عباس ستانکزئی نے 12 نومبر کو کامل کی تقرری کا اعلان کیا۔

    اکرام الدین کامل نے سات سال تک بھارت میں تعلیم حاصل کی ہے اور وہ اس وقت دہلی کی یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، وہ ممبئی میں موجود ہیں اور اپنے نئے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔

    طالبان حکومت کی جانب سے بھارت میں تقرری پر بھارتی حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ذرائع نے بتایا کہ کامل کو افغانستان کے ایک نمائندے کے طور پر نہیں بلکہ ہندوستان میں افغان کمیونٹی کے لیے کام کرنے والے افغان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • پاکستان سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں،فتنتہ الخوارج کےخارجی نورولی کی آڈیو لیک

    پاکستان سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں،فتنتہ الخوارج کےخارجی نورولی کی آڈیو لیک

    فتنتہ الخوارج کے خارجی نورولی اور غٹ حاجی کی آڈیو لیک منظر عام پر آ گئی

    ذرائع کے مطابق "آڈیو میں خارجی نور ولی محسود غٹ حاجی کوپاکستان میں داخل ہونے والے دہشتگردوں کو واپس نہ آنے کے لیے دباو ڈال رہا ہے” لیک آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ خارجی نور ولی محسود کہتا ہے کہ "مجاہدین کو اطلاع کر دو کہ ہماری طرف سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں””ہر کوئی اپنے آپ کو تیار رکھے اور سب قربانی دینے کے لیے تیار رہیں، مجاہدین کو راستہ بدلنے کی اجازت نہیں””ہماری کوشش ہے کہ سب ساتھ مل کر اسی راستے پر چلتے رہیں”

    دفاعی ماہرین کاکہنا ہے کہ "لیک آڈیو واضح ثبوت ہے کہ فتنتہ الخوارج کے سرغنہ افغانستان میں چھپے بیٹھے ہیں جہاں سے وہ دہشتگردوں کوہدایات جاری کرتے ہیں” ،فتنتہ الخوارج کی افغانستان میں محفوظ پناگاہیں افغان طالبان کی براہ راست مدد اور حمایت کے بغیر ممکن نہیں”،فتنتہ الخوارج افغان سرزمین سے افغان طالبان کی مکمل حمایت سے پاکستان میں دہشتگرد حملے کرتے ہیں "،”یہ ثابت ہو چکا ہے کہ فتنتہ الخوارج اور افغان طالبان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں””لیک آڈیو سےواضح طور پر مستقبل میں بھی افغانستان سے مزید خارجیوں کے پاکستان میں داخل ہونے کا اشارہ ملتا ہے” "خارجی نور ولی افغانستان میں بیٹھ کر چھوٹے درجے کے دہشتگردوں کو نام نہاد جہاد میں جان دینے کیلیے مجبور کر رہا ہے” "خارجی نور ولی کی ہدایات ظاہر کرتی ہیں کہ حملے کرنے والے نچلے درجے کے دہشتگرد اب افغانستان میں بیٹھے آقاؤں سےتنگ آچکے ہیں”اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کے پاکستان کی طرف سے موثر انگیجمنٹ سے خوارجین کے لیے افغانستان کی زمین تنگ پڑتی جا رہی ہے، اگر فتنتہ الخوارج کافتنہ صحیح معنوں میں جہاد ہے تو خارجی نور ولی جیسے سرغنہ خود آگے ہو کر سیکیورٹی فورسز کا سامنا کیوں نہیں کرتے”” یہ حقیقت ہے کہ خارجی نور ولی جہاد کے نام پر اپنے پیروکاروں کو گمراہ کر کے ڈالر کما رہا ہے”

    آخری خارجی کی موجودگی تک ان کا پیچھا کرتے رہیں گے،جوانوں کا عزم

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • سہ ملکی انڈر 19 ٹورنامنٹ 13 نومبر سے دبئی میں شروع ہوگا

    سہ ملکی انڈر 19 ٹورنامنٹ 13 نومبر سے دبئی میں شروع ہوگا

    پاکستان، افغانستان اور یو اے ای کے درمیان سہ ملکی انڈر 19 ٹورنامنٹ 13 نومبر سے دبئی میں شروع ہوگا.

    رپورٹ کے مطابق پچاس اوورز پر مشتمل ٹورنامنٹ ڈبل لیگ کی بنیاد پر کھیلا جائے گا، تین ملکی انڈر 19 ٹورنامنٹ کا فائنل 26 نومبر کو ہوگا۔سعد بیگ کی زیرقیادت ٹیم ہفتہ کو دبئی پہنچی ، ٹیم نے تین پریکٹس سیشنز میں حصہ لیا۔پاکستانی ٹیم ٹورنامنٹ میں دیگر ٹیموں سے مقابلے کے لیے بھرپور تیار اور پرعزم ہے، تین ملکی سیریز کے اختتام کے بعد پاکستان آٹھ ٹیموں پر مشتمل اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں حصہ لے گا، انڈر 19 ایشیا کپ 29 نومبر سے 8 دسمبر تک دبئی اور شارجہ میں ہوگا۔15 رکنی سکواڈ میں سے تین کھلاڑیوں سعد بیگ، شاہ زیب خان اور طیب عارف کو آئی سی سی اکیڈمی میں کھیلنے کا تجربہ بھی حاصل ہے کیونکہ تینوں کھلاڑی گزشتہ سال اسی مقام پر ہونے والے اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں شامل تھے۔سعد بیگ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹورنامنٹ کی تیاری اچھی رہی ہے، کھلاڑیوں کے تربیتی سیشن بھی بہترین رہے اور اب ہماری توجہ کل کے کھیل اور ٹورنامنٹ پر ہے۔سعد بیگ کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان اور متحدہ عرب امارات دونوں مضبوط سائیڈز ہیں اوریہ اے سی سی ایشیا کپ سے پہلے کمبینیشن بنانے کا بہترین موقع ہے۔تین ملکی سیریز کے لیے پاکستان انڈر 19 سکواڈ میں سعد بیگ (کپتان، وکٹ کیپر) (کراچی)، عبدالسبحان (ایبٹ آباد)، علی رضا (سیالکوٹ)، فہام الحق (لاہور)، فرحان یوسف (لاہور)، ہارون ارشد (کراچی)، حسن خان (راولپنڈی) )، محمد احمد (لاہور)، محمد حذیفہ (بہاولپور)، محمد ریاض اللہ (ایبٹ آباد)، نوید احمد خان (کراچی)، شاہ زیب خان (ایبٹ آباد)، طیب عارف (سیالکوٹ)، عمر زیب (ایبٹ آباد) اور عثمان خان (فاٹا) جبکہ ریزرو کھلاڑیوں میں احمد حسین (پشاور)، رضوان اللہ (کراچی) اور یحییٰ بن عبدالرحمٰن (لاہور) شامل ہیں۔پاکستان انڈر 19 کے تمام میچز آئی سی سی اکیڈمی میں کھیلے جائیں گے ۔ پاکستانی وقت کے مطابق میچز کا آغاز صبح 10.30 بجے ہو گا۔

    اورماڑہ کے سمندر میں پاکستان گوسٹ گارڈ کی گشتی ٹیم پرحملہ

    بابا گرونانک کی تقریبات میں شرکت کے لئے لاڑکانہ سے یاتری روانہ

    چیف آف جنرل اسٹاف اویس دستگیر کی چینی آرمی کے کمانڈر سے ملاقات

  • افغانستان کا دوہرا معیار،اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار،مگر خواتین کی تعلیم پر پابندی

    افغانستان کا دوہرا معیار،اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار،مگر خواتین کی تعلیم پر پابندی

    طالبان وزیر کا ٹی وی پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بیان
    افغانستان حکومت کے ایک وزیر نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں یہ بیان دیا ہے کہ تحریک طالبان افغانستان اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں رکھتی۔

    طالبان حکومت کے اس بیان پر ردعمل سامنے آیا ہے، خاص طور پر ان مسائل کی روشنی میں جو افغان خواتین کی تعلیم، خواتین کے حقوق اور جدید تعلیم کے حوالے سے موجود ہیں۔افغان وزیر نے کہا، "ہم عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے تیار ہیں، بشمول اسرائیل کے ساتھ۔” ان کے اس بیان نے کئی سوالات کو جنم دیا، خاص طور پر یہ کہ طالبان کی حکومت کی پالیسیوں میں کس حد تک تبدیلی آرہی ہے۔ایک طرف افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، خواتین کا بغیر پردے کے گھروں سے نکلنے پر پابندی ،دوسری جانب اسرائیل جیسے ملک جو غزہ میں انسانیت کا قتل عام کر رہا ہے کو افغان حکومت تسلیم کرنے کو تیار ہے،

    افغان وزیر کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں اور خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔افغانستان میں 87 فیصد افغان لڑکیوں اور خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جب کہ 70 فیصد خواتین پولیس افسر اور اہلکاروں کو بھی جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی یہ دوہری پالیسی ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ جبکہ ایک طرف بین الاقوامی تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے اشارے دیے جا رہے ہیں، دوسری طرف داخلی مسائل اور خواتین کی تعلیم میں رکاوٹیں موجود ہیں۔مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ طالبان کو اپنے وعدوں کی پاسداری کرنی ہوگی تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جا سکیں۔

    تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم پرپابندیاں نہ صرف خواتین کی ترقی کو روکتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی پر بھی منفی اثر ڈالتی ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کو محدود کرنا ایک ایسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو جدید دور کے تقاضوں کے خلاف ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ ایک بڑی معاشرتی بحرانی صورت حال پیدا کر سکتا ہے