Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • پاکستان نے افغانستان کے نائب وزیر خارجہ کے الزامات مسترد کردیے

    پاکستان نے افغانستان کے نائب وزیر خارجہ کے الزامات مسترد کردیے

    وزیردفاع خواجہ آصف نے افغانستان کے قائم مقام نائب وزیر خارجہ عباس استنکزئی کے الزامات مسترد کردیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیردفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس ایکس پر افغانستان کے قائم مقام نائب وزیر خارجہ کے بیانات حقائق کے منافی قراردیتے ہوئے کہا کہ الزامات توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، یواین رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 2 درجن سے زائد دہشت گر دتنظیمیں ہیں۔خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ سمیت دیگردہشت گردتنظیمیں ہیں، پاکستان نے دہشت گردوں کے خاتمےکے لیےعبوری حکومت پرزوردیا ہے۔خواجہ آصف نے مزید یہ بھی کہا کہ افغانستان اپنی سرزمین دیگرممالک کےخلاف استعمال ہونےسے روکے، افغان عبوری حکومت عملی اورقابل تصدیق اقدامات کرے۔

    گوجرہ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر عبدالرحمن جٹ کو اعزاز

    گوجرہ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر عبدالرحمن جٹ کو اعزاز

    سیالکوٹ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ بیورو آفس میں منائی گئی

    ٴْڈاکٹرعافیہ کی رہائی، 10 لاکھ سے زائد افراد نےدستخط کر دیئے

    20 جنوری کو بھی پی ٹی آئی کو مایوسی ہو گی، فیصل واوڈا کا دعویٰ

  • اسلام آباد میں مقیم 800 افغانی زیرحراست ہیں،افغان سفارتخانے کا دعویٰ

    اسلام آباد میں مقیم 800 افغانی زیرحراست ہیں،افغان سفارتخانے کا دعویٰ

    اسلام آباد: پاکستان میں افغانستان کے سفارت خانے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں مقیم 800 افغان باشندوں کو حکام نے حراست میں لیا ہے-

    باغی ٹی وی: سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں خبردار کیا گیا کہ پاکستان میں افغانوں کے لیے ویزا کے عمل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ”حراست اور ملک بدری کے پریشان کن معاملات“ کا باعث بنی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر افغان سفارتخانے نے کہا کہ ”افغانستان کا سفارت خانہ اسلام آباد میں تقریباً 800 افغان شہریوں کی حالیہ حراست پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہےیہ خواتین اور بچوں سمیت خاندانوں کی المناک علیحدگی کا سبب بنی ہے، جن میں سے اکثر پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں، اس تعداد میں 137 افغان باشندے شامل ہیں جن کی ویزا میں توسیع کی درخواستیں زیر التوا ہیں یا جو اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی میں عارضی طور پر رجسٹرڈ ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ نے تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    کیپ ٹاؤن ٹیسٹ:پاکستان کرکٹ ٹیم کو سلو اوور ریٹ پر جرمانہ

    سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنیوالوں کیخلاف مقدمات درج کروانے کا فیصلہ

    وفاقی وزارتوں نے معلومات تک رسائی کے قانون پر عملدرآمد نہیں کیا، فافن رپورٹ

  • کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    امریکی کانگریس کے رکن ٹم برچیٹ نے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ سے طالبان کو غیر ملکی امداد دینے کے بارے میں سوال کیا تھا جس پر وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے طالبان کو تقریباً 10 ملین ڈالر کی امداد دی جا رہی ہے۔ لیکن برچیٹ کے مطابق، یہ اس مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ وہ نقد رقم ہے جو امریکہ کے مرکزی بینک سے افغانستان کے مرکزی بینک میں بھیجی جاتی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ نقد رقم افغانستان کے مرکزی بینک کو نیلام کی جاتی ہے، جس کے بعد ان رقموں کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے طالبان دہشت گردی کی مالی معاونت حاصل کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

    ٹم برچیٹ نے 2023 میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں امریکی محکمہ خارجہ کو طالبان کو مالی یا مادی امداد فراہم کرنے والے غیر ملکی ممالک کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس بل میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکی حکومت افغانستان کے مرکزی بینک پر طالبان کے اثر و رسوخ اور نقد امدادی پروگراموں کی رپورٹ پیش کرے۔ یہ بل امریکی ایوان نمائندگان سے متفقہ طور پر منظور ہو گیا تھا، مگر سینٹ میں اس بل کو مزید غور و بحث کے لیے پیش نہیں کیا جا سکا کیونکہ اس وقت کے اکثریتی رہنما چک شومر نے اس پر ووٹنگ نہیں ہونے دی۔

    برچیٹ نے اعلان کیا کہ وہ اس بل کو آئندہ کانگریس میں دوبارہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور صدر ٹرمپ کی حمایت کی امید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "امریکہ کو اپنے دشمنوں کو بیرون ملک امداد نہیں دینی چاہیے۔” برچیٹ کا کہنا تھا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو دہشت گردوں کو فنڈ کرنے کے لیے استعمال کرنا ایک بے وقوفانہ اقدام ہے۔ٹم برچیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر 2024 میں ہونے والی انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ مشرقی ٹینسی کے لوگ وائٹ ہاؤس میں مضبوط قیادت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے دوسرے دورِ حکومت میں ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ امریکہ کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

    ٹم برچیٹ کا خط امریکی سیاست میں طالبان کی امداد کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے اور امریکی پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ برچیٹ کا موقف ہے کہ امریکی حکومت کو اپنے ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے کی بجائے امریکی مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔یہ خط امریکی سیاست میں غیر ملکی امداد کے بارے میں جاری بحث کو مزید شدت دے سکتا ہے، خاص طور پر جب طالبان جیسے دہشت گرد گروپوں کو امداد دینے کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہو رہے ہیں

    https://x.com/elonmusk/status/1876436915479843239

    ٹم کے اس خط پر دنیا کے معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے سی ای او،ایلون مسک نے سنسنی خیز سوال اٹھایا ہے: "کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟” ایلن مسک کا یہ سوال اس وقت منظر عام پر آیا جب افغانستان کے حوالے سے امریکی حکومت کی امداد اور امدادی فنڈز پر بات چیت ہو رہی تھی۔ امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مختلف امدادی پروگرامز شروع کیے ہیں تاکہ انسانی بحران اور معاشی عدم استحکام سے نمٹا جا سکے۔ اس امداد میں غذائی اشیاء، ادویات، اور دیگر امدادی سامان شامل ہے، جس کا مقصد افغان عوام کی مدد کرنا ہے۔تاہم، بہت سے حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ امداد طالبان کی حکومت کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ طالبان براہ راست افغان حکومت پر قابض ہیں اور ان کی جانب سے اس امداد کا استعمال دہشت گردی کے لئے بھی ممکن ہے۔

    ایلن مسک نے اپنی ٹویٹس اور عوامی بیانات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر امریکہ طالبان کے حوالے سے امداد فراہم کر رہا ہے تو کیا یہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا غلط استعمال نہیں ہو رہا؟ ایلن مسک کا یہ سوال امریکہ کے امدادی پروگرامز پر ایک اہم سوالیہ نشان ہے، جس نے عالمی سطح پر افغان بحران کی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا ہے۔یہ مسئلہ مستقبل میں بھی عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن سکتا ہے، اور اس پر مزید فیصلے اور اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

    پاکستان میں سکواش کے فروغ کے حوالے سے ایک بڑی خوشخبری

  • افغانستان کیلئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان کی  وزیراعظم سے ملاقات

    افغانستان کیلئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان کی وزیراعظم سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے افغانستان کے لئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی، محمد صادق خان، نے ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں محمد صادق خان نے وزیراعظم کو اپنے حالیہ دورہء افغانستان کے دوران کی جانے والی ملاقاتوں اور پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔پاکستانی حکومت کے اعلیٰ حکام کے مطابق، اس ملاقات میں افغانستان میں امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری اور تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ محمد صادق خان نے افغانستان میں موجودہ سیاسی، اقتصادی اور انسانی حالات پر روشنی ڈالی اور وہاں پاکستان کے اقدامات اور معاونت کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور، طارق فاطمی بھی موجود تھے، جنہوں نے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں اہمیت اور مستقبل کی حکمت عملی پر گفتگو کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے افغانستان کے موجودہ حالات میں پاکستان کے کردار کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    محمد صادق خان نے وزیراعظم کو افغانستان میں پاکستانی سفارتکاری کے مختلف پہلوؤں پر بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ افغانستان میں پاکستان کے مفادات کو مزید فروغ دینے کے لئے مختلف اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر دونوں طرف سے اقتصادی ترقی، تجارت اور انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

    اس ملاقات میں پاکستان کی حکومت کی جانب سے افغانستان میں سیاسی استحکام، امن و سکونت کی فضا کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، افغانستان میں امن کے قیام کے لئے اپنے تمام ممکنہ ذرائع کو بروئے کار لائے گا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط مزید مستحکم کرے گا۔ملاقات کے اختتام پر محمد صادق خان نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور افغانستان کے لئے پاکستان کی پالیسی کو مزید کامیاب بنانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھنے کا عہد کیا۔

    خواتین کو دیکھنا فحاشی، گھروں کی کھڑکیاں بند کریں،افغان حکومت کا حکمنامہ

    برطانوی سائنسدان کی ایک صدی قبل کی گئی درست پیشگوئیاں

  • خطے میں امن کیلئے افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،وزیراعظم

    خطے میں امن کیلئے افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان افغانستان سے کام کر رہی ہے خطے میں امن کیلئے افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں خواہش ہے افغانستان سے بہتر تعلقات ہوں۔

    وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بطور پڑوسی افغانستان سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن بدقسمتی سے کالعدم ٹی ٹی پی آج بھی وہاں سے آپریریٹ کر رہی ہے جو ناقابل قبول ہے،پارا چنار میں وفاقی حکومت نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ادویات پہنچائیں، ہیلی کاپٹر کے ذریعے کرم سے مریضوں کو اسلام آباد شفٹ کیا گیا،سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف پوری طرح صف آرا ہیں،افغانستان کے ساتھ ہماری طویل سرحد ہے، چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک معاشی اور دیگر شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں لیکن افغانستان سے دہشتگرد پاکستان میں حملے کر رہے ہیں،افغانستان کو بارہا کہا کہ کالعدم تنظیم کو وہاں سے آپریٹ کرے گی تو یہ قبول نہیں، افغان حکومت کو کہنا چاہتا ہوں کہ دہشتگردی کے خلاف ٹھوس حکمت علی پر بات چیت کیلئے تیار ہیں، پاکستان کی سالمیت کے بھرپور دفاع کا حق رکھتے ہیں۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران بے نظیر بھٹو شہید کو تاریخی خراج تحسین پیش کیا، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو جمہوریت کی علمبردار، مفاہمت کی مضبوط حامی اور استقامت کی علامت بنیں، میثاق جمہوریت بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی پائیدار سیاسی سمجھ بوجھ کا ثبوت ہے،آج ہم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی 17ویں برسی منا رہے ہیں۔ میں ان کے خاندان، خاص طور پر صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ان کے پیروکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جو فخر کے ساتھ ان کے وژن اور ان کے نظریات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔27دسمبر2007کو محترمہ بے نظیربھٹوکوراولپنڈی میں شہیدکیاگیا.شہیدبےنظیربھٹوایک جراتمنداوردلیرخاتون تھیں.شہیدبےنظیربھٹوکو اسلامی دنیامیں پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہونے کااعزازحاصل ہوا.شہیدبےنظیربھٹواورنوازشریف کے درمیان لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے.میثاق جمہوریت کی دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی حمایت کی. شہیدبے نظیربھٹوکی قربانی ہم سب کےلیے ایک مثال ہے.اللہ تعالیٰ شہیدبےنظیربھٹوکےدرجات بلند اورخاندان کو صبرجمیل عطاکرے.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاراچنارمیں ادویات کی قلت کے حوالے سے میڈیامیں خبریں زیرگردش تھیں.وفاقی حکومت نےفوری طور پر پاڑاچنارمیں ادویات کی کھیپ بھجوائی.اب تک ایک ہزارکلوگرام ادویات پاڑاچناربھجوائی جاچکی ہیں.پاڑاچنارسے مریضوں کو ہیلی کاپٹرکے ذریعےدوسرے شہروں میں منتقل کیاگیا.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسزبہادری سے دہشتگردوں کیخلاف نبردآزماہیں.گزشتہ روز ہماری سکیورٹی فورسز نے کئی خوارج کو جہنم واصل کیا.جھڑپ کے دوران پاکستان آرمی کے ایک میجر شہیدہوئے.بدقسمتی سے افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہورہی ہے.افغانستان ہماراہمسایہ ، ہماری ہزاروں کلومیٹرسرحدمشترک ہے.خواہش ہے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہترہوں اورمعاشی میدان میں تعاون فروغ پائے. افغا ن سرزمین پر کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کی روک تھام یقینی بنائی جائے.افغان حکام کے ساتھ بات چیت کیلئے تیارہیں ،مسئلے کے حل کیلئے وہ ٹھوس حکمت عملی اپنائے.کالعدم ٹی ٹی پی کو کسی صورت کارروائیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہئے.کالعدم ٹی ٹی پی کی افغان سرزمین سے کارروائیاں ہمارے لئے ریڈلائن ہیں.کالعدم ٹی ٹی پی کی کارروائیاں کسی صورت قابل قبول نہیں.پاکستان کی سالمیت کے تقاضوں کاہرصورت دفاع کریں گے.کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگرد پاکستان میں بے گناہ لوگوں کو شہیدکرتےہیں.افغان حکام فی الفورنوٹس لیں اور ٹھوس حکمت عملی اپنائیں.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ آذربائیجان کے صدرکے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے.آذربائیجان کے صدرسے طیارہ حادثے پر اظہارہمدردی کیاہے.آذربائیجان کے صدرپاکستان کے خیرخواہ ہیں.خوشخبری ہے کہ آئی سی سی کے ایونٹس پاکستان میں ہونے جارہے ہیں.آئی سی سی ایونٹ کے لیے تمام ترتیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں. کرکٹ ایونٹ عوام کی دلجوئی کے لیے ایک اچھاموقع ہے.تنازعات کے متبادل حل کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے.اے ڈی آرکامسئلہ حل ہونے سے 70ارب روپے موصول ہوں گے

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    نواز شریف کے پوتے کی نکاح کی تقریب میں تلاوت، ویڈیو وائرل

  • پاکستان کی فضائی کارروائی، پکتیکا میں خوارج کے 71 دہشت گردجہنم واصل

    پاکستان کی فضائی کارروائی، پکتیکا میں خوارج کے 71 دہشت گردجہنم واصل

    پاکستان نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں خوارج کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائی کی، جس میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جن میں کئی اہم کمانڈرز شامل ہیں۔ اس کارروائی کے دوران خوارج کے 4 اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک خودکش جیکٹ بنانے والی فیکٹری اور ‘عمر میڈیا سیل’ بھی شامل ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں انتہائی درستگی کے ساتھ کی گئیں، جس سے مقامی آبادی یا شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے برعکس، دہشت گردوں کے درمیان مایوسی اور بھگدڑ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ خوارج ایک دوسرے کو بھاگنے کی ہدایات دے رہے تھے اور شکایت کر رہے تھے کہ مقامی لوگ ان کی مدد کے لیے نہیں آ رہے۔ یہ ویڈیوز اور آڈیوز اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستان کی فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے غیر متنازعہ اور درست کارروائیاں کیں۔

    پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ یہ کارروائیاں پاکستان کے دشمنوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قیمت پر کارروائی کرے گا۔ ایک سینئر سیکیورٹی افسر نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں سرحد پار کارروائیاں کی ہوں۔ ماضی میں بھی پاکستان نے ڈرون حملے کرکے دہشت گردوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ تاہم، افغان طالبان نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور اپنی سرزمین سے پاکستان پر حملوں کی روک تھام میں ناکام رہے۔ افسر نے کہا کہ اگر افغان طالبان پاکستان اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے اور خوارج کے خلاف مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

    افغان وزارت دفاع نے پاکستانی کارروائی کے ردعمل میں کہا ہے کہ اس حملے میں 46 سویلین ہلاک ہوئے ہیں اور افغانستان اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع کو اپنا ناقابل تنسیخ حق سمجھتا ہے۔ افغان وزارت خارجہ نے کابل میں پاکستانی ناظم الامور کو طلب کرتے ہوئے ایک احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے افغانستان کی حدود کی خلاف ورزی کی اور افغان عوام کی زندگی کو خطرے میں ڈالا۔

    پاکستانی ذرائع نے انکشاف کیا کہ افغان اور بھارتی میڈیا کی جانب سے 2023 کے افغانستان کے زلزلے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تصاویر استعمال کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان کی کارروائی کو غلط طریقے سے پیش کیا جا سکے۔ یہ اکاؤنٹس اس مہم کے ذریعے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ عالمی سطح پر اس کارروائی کو بدنام کیا جا سکے۔ پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے یہ واضح کیا کہ ان کارروائیوں کا مقصد صرف دہشت گردوں کے مراکز کو نشانہ بنانا تھا، اور شہریوں یا دوسرے غیر فوجی مقامات کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔

    پاکستانی فضائی حملوں میں جن چار اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا ان میں شیر زمان، اختر محمد، اظہار اور شعیب چیمہ جیسے مشہور دہشت گرد کمانڈرز کے مراکز شامل ہیں۔ یہ مراکز خوارج کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر کام کر رہے تھے اور ان کی انتظامی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھے۔ ان مراکز کی تباہی نے دہشت گردوں کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے اور ان کی صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    پاکستان کے موقف میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں اور اس کا مقصد پاکستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانا تھا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اس کے حملوں کا مقصد افغان عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا، بلکہ صرف ان دہشت گردوں کو نشانہ بنانا تھا جو دونوں ممالک کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

    پاکستان نے اپنی فضائی کارروائیوں کے ذریعے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد پاکستان کی عسکری قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو نہیں چھوڑے گا اور ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، چاہے وہ کہاں بھی چھپے ہوں۔

    افغان حکومت نے ایک اہم اجلاس کے بعد حالیہ پاکستانی حملے پر لاتعلقی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جلاس میں افغان حکام نے واضح کیا کہ حملے میں مارے جانے والے تمام افراد پاکستانی شہری ہیں اور ان میں کوئی افغان شامل نہیں تھا۔ اسی بناء پر افغان حکومت نے اس واقعے کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے اور کسی قسم کے ردعمل سے اجتناب کیا ہے۔ذرائع کے مطابق، افغان حکومت کے اس موقف کے پیچھے خطے میں غیر جانبداری کی پالیسی کو مضبوط کرنے کا مقصد ہے۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایران نے بھی پاکستان کے ایک حملے پر اسی قسم کا موقف اپنایا تھا، جب انہوں نے کہا تھا کہ حملے میں مارے جانے والوں میں کوئی ایرانی شہری شامل نہیں، لہذا وہ اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیں گے۔افغان حکام نے کہا ہے کہ خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ممالک ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔

    پاک فوج: تحفظ، قربانی اور قومی فخر کی داستان

    پاک فوج تمام اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے ملک کی حفاظت کرتی رہےگی، آرمی چیف

    پاک فوج قومی یکجہتی کی علامت،پاس آؤٹ نوجوان افسران کے جذبات

  • سعودی عرب نے افغانستان  میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

    سعودی عرب نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

    کابل: افغانستان میں 2021 میں طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد سے سعودی عرب نے پہلی بار کابل میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب نے سفارت خانہ بند کردیا تھا بعد ازاں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر گزشتہ برس فروری میں سعودی سفارتی عملہ واپس اپنے وطن چلا گیا تھا تاہم اب دوبارہ کابل میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا۔

    سعودی سفارتی خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان باشندوں کو سفارتی خادمات کی فراہمی کے لیے کابل میں سفارتی مشن کا دوبارہ آغاز کیا ہےافغانستان کے ساتھ دوطرفہ برادرانہ تعلقات ہیں، سفارتی مشن کا آغاز اس کی غمازی کرتا ہے۔

    طالبان حکومت نے بھی سعودی عرب کے سفارتی مشن کے آغاز کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ برادر اسلامی ملک کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

  • پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    19 اور 20 دسمبر کی درمیانی شب، پاک افغان سرحد کے قریب خیبر ڈسٹرکٹ کے علاقے راجگال میں ایک غیر ملکی دہشت گرد گروہ نے پاکستان میں دراندازی کی کوشش کی۔

    سیکیورٹی فورسز کے دستوں نے فوری طور پر کارروائی کی اور دراندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر آپریشن کیا۔ اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر مطابق، اس آپریشن کے دوران پاک فوج کے بہادر سپاہی، 22 سالہ عامر سہیل آفریدی نے شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کیا، مگر وہ بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ سپاہی عامر سہیل آفریدی ضلع خیبر کے علاقے راجگال کے رہائشی تھے اور ان کی شہادت نے قوم کو بے حد غمگین کیا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور دہشت گردی کی لعنت کا قلع قمع کرنے کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ سرگرم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔پاکستان کی حکومت نے مسلسل طور پر عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد کے اطراف میں مؤثر بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنائے تاکہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گی اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

    یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ پاک فوج نہ صرف اپنے سرحدی علاقوں کی حفاظت کے لیے کوشاں ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اپنی قربانیاں دے رہی ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ایسے آپریشنز سے دہشت گرد گروہوں کو سخت پیغام مل رہا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور ان کے دہشت گردانہ منصوبوں کو ناکام بنائے گا۔

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    انسانیت کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملاتے رہیں گے، وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف نے ضلع خیبر کے علاقے راجگال میں سیکیورٹی آپریشن میں فتنہ الخوارج کے 4 کارندوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے،وزیراعظم نےفائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے سپاہی عامر سہیل آفریدی کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے،وزیراعظم نے شہید کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی اور کہا کہ قوم کے بیٹوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے، انسانیت کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملاتے رہیں گے، حکومت اور سیکیورٹی فورسز ملک سے فتنہ الخوارج کے مکمل سد باب کے لیے سرگرم عمل ہیں،

  • افغانستان ،خواتین    کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

    افغانستان ،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

    افغانستان :خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات سامنے آئے ہیں

    خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی کا فیصلہ ہیبت اللہ اخوند زادہ کی جانب سے کیا گیا،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی کے باعث افغانستان میں شرح اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خواتین اور بچوں کی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی محدود ہو گئی ہے،اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق; حمل اورولادت کے دوران ہر ایک لاکھ پیدائشوں میں 600 سے زیادہ اموات ہوتی ،طالبان نے بعض صوبوں میں خواتین کے مرد مریضوں کے علاج پر پابندی عائد کردی، خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، خواتین کی میڈیکل تعلیم پرپابندی سے انسانی زندگیوں کو بھی داؤ پر لگا دیاگیا،2021ء میں افغان طالبان نے چھٹی جماعت سے لیکر یوینورسٹی تک لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کی تھی،افغانستان میں یہ غیر انسانی اقدامات عالمی برادری کیلئے ایک چیلنج ہیں ،افغانستان میں غیرانسانی اقدامات طالبان کے پرتشدد اور انتہاپسند ایجنڈے کو آشکار کر رہے ہیں، افغانستان کی خواتین اور بچوں کو بنیادی حقوق کیلئے عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے

    دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ

  • طالبان کے حمایتی عمران خان کے ساتھ امریکی ہمدردیاں کیوں؟

    طالبان کے حمایتی عمران خان کے ساتھ امریکی ہمدردیاں کیوں؟

    افغانستان میں امریکہ کی شکست پر طالبان کی فتح کا جشن منانے والے عمران خان کے لئے اب امریکہ سے ہی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی لابنگ فرم نے کام دکھانا شروع کر دیا ۔ امریکی غلامی سے آزادی لینے کے دعویدار امریکہ سے مدد مانگ رہے تو وہیں امریکی بھی عمران خان کے لیے لابنگ کرنے لگے

    طالبان جنہوں نے دو دہائیوں تک امریکی افواج کے خلاف جنگ لڑی اور 2,400 سے زائد امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ 2021 میں جب طالبان افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آئے، عمران خان نے اس فتح کو خوشی کے ساتھ سراہا اور طالبان کے قبضے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر امریکی تربیت یافتہ افغان فوجیوں کی شکست کا مذاق اُڑایا اور طالبان کو ایک عظیم کامیابی قرار دیا۔یہاں تک کہ عمران خان نے طالبان کی کامیابی کو ایک علامتی فتح کے طور پر پیش کیا، جسے اس وقت کے عالمی سیاست میں ایک غیر معمولی موقف کے طور پر دیکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے نہ صرف امریکہ کی فوجی طاقت کو شکست دی بلکہ افغانستان کی آزادی اور خود مختاری کے لیے بھی ایک بڑا قدم اُٹھایا ہے۔

    مگر آج کچھ عجیب سی صورتحال سامنے آئی ہے۔ امریکی کانگریس کے کئی اہم ارکان اب عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہیں ایک ایسے ہیرو اور جمہوریت کے علمبردار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس نے امریکہ کے دشمنوں کی حمایت کی۔ ایک ایسا شخص جو کبھی طالبان کے حق میں بول رہا تھا، آج وہ امریکہ میں اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک محبوب شخصیت بن چکا ہے۔ یہ تبدیلی کس طرح آئی؟اس تبدیلی کا ایک بڑا سبب واشنگٹن کا لابنگ نظام ہے۔ وہ طاقتور لابنگ جو طالبان کے حمایتی کو بھی امریکہ کا دوست بنا دیتی ہے اور ناقدین کو بھی حامیوں میں تبدیل کر دیتی ہے۔ امریکہ کا لابنگ سسٹم نہایت حیرت انگیز طریقے سے اپنے مخالفین کو اپنے اتحادیوں میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وقت نہیں آیا کہ ہم اس لابنگ سسٹم کی ذہانت اور اس کے کمالات کو تسلیم کریں؟ ایک ایسی قوت جو اپنے مخالفین کو بھی اپنے کیمپ میں شامل کر لیتی ہے، کیا یہ ایک سیاسی جادو نہیں؟ اس کا جواب شاید آنے والے دنوں میں ہمیں مزید واضح ہو سکے گا۔