Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • افغانستان کیلئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان کی  وزیراعظم سے ملاقات

    افغانستان کیلئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان کی وزیراعظم سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے افغانستان کے لئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی، محمد صادق خان، نے ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں محمد صادق خان نے وزیراعظم کو اپنے حالیہ دورہء افغانستان کے دوران کی جانے والی ملاقاتوں اور پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔پاکستانی حکومت کے اعلیٰ حکام کے مطابق، اس ملاقات میں افغانستان میں امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری اور تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ محمد صادق خان نے افغانستان میں موجودہ سیاسی، اقتصادی اور انسانی حالات پر روشنی ڈالی اور وہاں پاکستان کے اقدامات اور معاونت کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور، طارق فاطمی بھی موجود تھے، جنہوں نے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں اہمیت اور مستقبل کی حکمت عملی پر گفتگو کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے افغانستان کے موجودہ حالات میں پاکستان کے کردار کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    محمد صادق خان نے وزیراعظم کو افغانستان میں پاکستانی سفارتکاری کے مختلف پہلوؤں پر بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ افغانستان میں پاکستان کے مفادات کو مزید فروغ دینے کے لئے مختلف اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر دونوں طرف سے اقتصادی ترقی، تجارت اور انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

    اس ملاقات میں پاکستان کی حکومت کی جانب سے افغانستان میں سیاسی استحکام، امن و سکونت کی فضا کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، افغانستان میں امن کے قیام کے لئے اپنے تمام ممکنہ ذرائع کو بروئے کار لائے گا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط مزید مستحکم کرے گا۔ملاقات کے اختتام پر محمد صادق خان نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور افغانستان کے لئے پاکستان کی پالیسی کو مزید کامیاب بنانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھنے کا عہد کیا۔

    خواتین کو دیکھنا فحاشی، گھروں کی کھڑکیاں بند کریں،افغان حکومت کا حکمنامہ

    برطانوی سائنسدان کی ایک صدی قبل کی گئی درست پیشگوئیاں

  • خطے میں امن کیلئے افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،وزیراعظم

    خطے میں امن کیلئے افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان افغانستان سے کام کر رہی ہے خطے میں امن کیلئے افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں خواہش ہے افغانستان سے بہتر تعلقات ہوں۔

    وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بطور پڑوسی افغانستان سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن بدقسمتی سے کالعدم ٹی ٹی پی آج بھی وہاں سے آپریریٹ کر رہی ہے جو ناقابل قبول ہے،پارا چنار میں وفاقی حکومت نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ادویات پہنچائیں، ہیلی کاپٹر کے ذریعے کرم سے مریضوں کو اسلام آباد شفٹ کیا گیا،سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف پوری طرح صف آرا ہیں،افغانستان کے ساتھ ہماری طویل سرحد ہے، چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک معاشی اور دیگر شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں لیکن افغانستان سے دہشتگرد پاکستان میں حملے کر رہے ہیں،افغانستان کو بارہا کہا کہ کالعدم تنظیم کو وہاں سے آپریٹ کرے گی تو یہ قبول نہیں، افغان حکومت کو کہنا چاہتا ہوں کہ دہشتگردی کے خلاف ٹھوس حکمت علی پر بات چیت کیلئے تیار ہیں، پاکستان کی سالمیت کے بھرپور دفاع کا حق رکھتے ہیں۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران بے نظیر بھٹو شہید کو تاریخی خراج تحسین پیش کیا، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو جمہوریت کی علمبردار، مفاہمت کی مضبوط حامی اور استقامت کی علامت بنیں، میثاق جمہوریت بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی پائیدار سیاسی سمجھ بوجھ کا ثبوت ہے،آج ہم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی 17ویں برسی منا رہے ہیں۔ میں ان کے خاندان، خاص طور پر صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ان کے پیروکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جو فخر کے ساتھ ان کے وژن اور ان کے نظریات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔27دسمبر2007کو محترمہ بے نظیربھٹوکوراولپنڈی میں شہیدکیاگیا.شہیدبےنظیربھٹوایک جراتمنداوردلیرخاتون تھیں.شہیدبےنظیربھٹوکو اسلامی دنیامیں پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہونے کااعزازحاصل ہوا.شہیدبےنظیربھٹواورنوازشریف کے درمیان لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے.میثاق جمہوریت کی دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی حمایت کی. شہیدبے نظیربھٹوکی قربانی ہم سب کےلیے ایک مثال ہے.اللہ تعالیٰ شہیدبےنظیربھٹوکےدرجات بلند اورخاندان کو صبرجمیل عطاکرے.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاراچنارمیں ادویات کی قلت کے حوالے سے میڈیامیں خبریں زیرگردش تھیں.وفاقی حکومت نےفوری طور پر پاڑاچنارمیں ادویات کی کھیپ بھجوائی.اب تک ایک ہزارکلوگرام ادویات پاڑاچناربھجوائی جاچکی ہیں.پاڑاچنارسے مریضوں کو ہیلی کاپٹرکے ذریعےدوسرے شہروں میں منتقل کیاگیا.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسزبہادری سے دہشتگردوں کیخلاف نبردآزماہیں.گزشتہ روز ہماری سکیورٹی فورسز نے کئی خوارج کو جہنم واصل کیا.جھڑپ کے دوران پاکستان آرمی کے ایک میجر شہیدہوئے.بدقسمتی سے افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہورہی ہے.افغانستان ہماراہمسایہ ، ہماری ہزاروں کلومیٹرسرحدمشترک ہے.خواہش ہے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہترہوں اورمعاشی میدان میں تعاون فروغ پائے. افغا ن سرزمین پر کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کی روک تھام یقینی بنائی جائے.افغان حکام کے ساتھ بات چیت کیلئے تیارہیں ،مسئلے کے حل کیلئے وہ ٹھوس حکمت عملی اپنائے.کالعدم ٹی ٹی پی کو کسی صورت کارروائیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہئے.کالعدم ٹی ٹی پی کی افغان سرزمین سے کارروائیاں ہمارے لئے ریڈلائن ہیں.کالعدم ٹی ٹی پی کی کارروائیاں کسی صورت قابل قبول نہیں.پاکستان کی سالمیت کے تقاضوں کاہرصورت دفاع کریں گے.کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگرد پاکستان میں بے گناہ لوگوں کو شہیدکرتےہیں.افغان حکام فی الفورنوٹس لیں اور ٹھوس حکمت عملی اپنائیں.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ آذربائیجان کے صدرکے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے.آذربائیجان کے صدرسے طیارہ حادثے پر اظہارہمدردی کیاہے.آذربائیجان کے صدرپاکستان کے خیرخواہ ہیں.خوشخبری ہے کہ آئی سی سی کے ایونٹس پاکستان میں ہونے جارہے ہیں.آئی سی سی ایونٹ کے لیے تمام ترتیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں. کرکٹ ایونٹ عوام کی دلجوئی کے لیے ایک اچھاموقع ہے.تنازعات کے متبادل حل کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے.اے ڈی آرکامسئلہ حل ہونے سے 70ارب روپے موصول ہوں گے

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    نواز شریف کے پوتے کی نکاح کی تقریب میں تلاوت، ویڈیو وائرل

  • پاکستان کی فضائی کارروائی، پکتیکا میں خوارج کے 71 دہشت گردجہنم واصل

    پاکستان کی فضائی کارروائی، پکتیکا میں خوارج کے 71 دہشت گردجہنم واصل

    پاکستان نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں خوارج کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائی کی، جس میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جن میں کئی اہم کمانڈرز شامل ہیں۔ اس کارروائی کے دوران خوارج کے 4 اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک خودکش جیکٹ بنانے والی فیکٹری اور ‘عمر میڈیا سیل’ بھی شامل ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں انتہائی درستگی کے ساتھ کی گئیں، جس سے مقامی آبادی یا شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے برعکس، دہشت گردوں کے درمیان مایوسی اور بھگدڑ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ خوارج ایک دوسرے کو بھاگنے کی ہدایات دے رہے تھے اور شکایت کر رہے تھے کہ مقامی لوگ ان کی مدد کے لیے نہیں آ رہے۔ یہ ویڈیوز اور آڈیوز اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستان کی فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے غیر متنازعہ اور درست کارروائیاں کیں۔

    پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ یہ کارروائیاں پاکستان کے دشمنوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قیمت پر کارروائی کرے گا۔ ایک سینئر سیکیورٹی افسر نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں سرحد پار کارروائیاں کی ہوں۔ ماضی میں بھی پاکستان نے ڈرون حملے کرکے دہشت گردوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ تاہم، افغان طالبان نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور اپنی سرزمین سے پاکستان پر حملوں کی روک تھام میں ناکام رہے۔ افسر نے کہا کہ اگر افغان طالبان پاکستان اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے اور خوارج کے خلاف مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

    افغان وزارت دفاع نے پاکستانی کارروائی کے ردعمل میں کہا ہے کہ اس حملے میں 46 سویلین ہلاک ہوئے ہیں اور افغانستان اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع کو اپنا ناقابل تنسیخ حق سمجھتا ہے۔ افغان وزارت خارجہ نے کابل میں پاکستانی ناظم الامور کو طلب کرتے ہوئے ایک احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے افغانستان کی حدود کی خلاف ورزی کی اور افغان عوام کی زندگی کو خطرے میں ڈالا۔

    پاکستانی ذرائع نے انکشاف کیا کہ افغان اور بھارتی میڈیا کی جانب سے 2023 کے افغانستان کے زلزلے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تصاویر استعمال کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان کی کارروائی کو غلط طریقے سے پیش کیا جا سکے۔ یہ اکاؤنٹس اس مہم کے ذریعے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ عالمی سطح پر اس کارروائی کو بدنام کیا جا سکے۔ پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے یہ واضح کیا کہ ان کارروائیوں کا مقصد صرف دہشت گردوں کے مراکز کو نشانہ بنانا تھا، اور شہریوں یا دوسرے غیر فوجی مقامات کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔

    پاکستانی فضائی حملوں میں جن چار اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا ان میں شیر زمان، اختر محمد، اظہار اور شعیب چیمہ جیسے مشہور دہشت گرد کمانڈرز کے مراکز شامل ہیں۔ یہ مراکز خوارج کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر کام کر رہے تھے اور ان کی انتظامی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھے۔ ان مراکز کی تباہی نے دہشت گردوں کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے اور ان کی صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    پاکستان کے موقف میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں اور اس کا مقصد پاکستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانا تھا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اس کے حملوں کا مقصد افغان عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا، بلکہ صرف ان دہشت گردوں کو نشانہ بنانا تھا جو دونوں ممالک کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

    پاکستان نے اپنی فضائی کارروائیوں کے ذریعے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد پاکستان کی عسکری قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو نہیں چھوڑے گا اور ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، چاہے وہ کہاں بھی چھپے ہوں۔

    افغان حکومت نے ایک اہم اجلاس کے بعد حالیہ پاکستانی حملے پر لاتعلقی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جلاس میں افغان حکام نے واضح کیا کہ حملے میں مارے جانے والے تمام افراد پاکستانی شہری ہیں اور ان میں کوئی افغان شامل نہیں تھا۔ اسی بناء پر افغان حکومت نے اس واقعے کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے اور کسی قسم کے ردعمل سے اجتناب کیا ہے۔ذرائع کے مطابق، افغان حکومت کے اس موقف کے پیچھے خطے میں غیر جانبداری کی پالیسی کو مضبوط کرنے کا مقصد ہے۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایران نے بھی پاکستان کے ایک حملے پر اسی قسم کا موقف اپنایا تھا، جب انہوں نے کہا تھا کہ حملے میں مارے جانے والوں میں کوئی ایرانی شہری شامل نہیں، لہذا وہ اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیں گے۔افغان حکام نے کہا ہے کہ خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ممالک ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔

    پاک فوج: تحفظ، قربانی اور قومی فخر کی داستان

    پاک فوج تمام اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے ملک کی حفاظت کرتی رہےگی، آرمی چیف

    پاک فوج قومی یکجہتی کی علامت،پاس آؤٹ نوجوان افسران کے جذبات

  • سعودی عرب نے افغانستان  میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

    سعودی عرب نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

    کابل: افغانستان میں 2021 میں طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد سے سعودی عرب نے پہلی بار کابل میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب نے سفارت خانہ بند کردیا تھا بعد ازاں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر گزشتہ برس فروری میں سعودی سفارتی عملہ واپس اپنے وطن چلا گیا تھا تاہم اب دوبارہ کابل میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا۔

    سعودی سفارتی خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان باشندوں کو سفارتی خادمات کی فراہمی کے لیے کابل میں سفارتی مشن کا دوبارہ آغاز کیا ہےافغانستان کے ساتھ دوطرفہ برادرانہ تعلقات ہیں، سفارتی مشن کا آغاز اس کی غمازی کرتا ہے۔

    طالبان حکومت نے بھی سعودی عرب کے سفارتی مشن کے آغاز کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ برادر اسلامی ملک کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

  • پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    19 اور 20 دسمبر کی درمیانی شب، پاک افغان سرحد کے قریب خیبر ڈسٹرکٹ کے علاقے راجگال میں ایک غیر ملکی دہشت گرد گروہ نے پاکستان میں دراندازی کی کوشش کی۔

    سیکیورٹی فورسز کے دستوں نے فوری طور پر کارروائی کی اور دراندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر آپریشن کیا۔ اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر مطابق، اس آپریشن کے دوران پاک فوج کے بہادر سپاہی، 22 سالہ عامر سہیل آفریدی نے شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کیا، مگر وہ بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ سپاہی عامر سہیل آفریدی ضلع خیبر کے علاقے راجگال کے رہائشی تھے اور ان کی شہادت نے قوم کو بے حد غمگین کیا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور دہشت گردی کی لعنت کا قلع قمع کرنے کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ سرگرم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔پاکستان کی حکومت نے مسلسل طور پر عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد کے اطراف میں مؤثر بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنائے تاکہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گی اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

    یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ پاک فوج نہ صرف اپنے سرحدی علاقوں کی حفاظت کے لیے کوشاں ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اپنی قربانیاں دے رہی ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ایسے آپریشنز سے دہشت گرد گروہوں کو سخت پیغام مل رہا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور ان کے دہشت گردانہ منصوبوں کو ناکام بنائے گا۔

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    انسانیت کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملاتے رہیں گے، وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف نے ضلع خیبر کے علاقے راجگال میں سیکیورٹی آپریشن میں فتنہ الخوارج کے 4 کارندوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے،وزیراعظم نےفائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے سپاہی عامر سہیل آفریدی کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے،وزیراعظم نے شہید کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی اور کہا کہ قوم کے بیٹوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے، انسانیت کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملاتے رہیں گے، حکومت اور سیکیورٹی فورسز ملک سے فتنہ الخوارج کے مکمل سد باب کے لیے سرگرم عمل ہیں،

  • افغانستان ،خواتین    کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

    افغانستان ،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

    افغانستان :خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات سامنے آئے ہیں

    خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی کا فیصلہ ہیبت اللہ اخوند زادہ کی جانب سے کیا گیا،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی کے باعث افغانستان میں شرح اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خواتین اور بچوں کی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی محدود ہو گئی ہے،اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق; حمل اورولادت کے دوران ہر ایک لاکھ پیدائشوں میں 600 سے زیادہ اموات ہوتی ،طالبان نے بعض صوبوں میں خواتین کے مرد مریضوں کے علاج پر پابندی عائد کردی، خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، خواتین کی میڈیکل تعلیم پرپابندی سے انسانی زندگیوں کو بھی داؤ پر لگا دیاگیا،2021ء میں افغان طالبان نے چھٹی جماعت سے لیکر یوینورسٹی تک لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کی تھی،افغانستان میں یہ غیر انسانی اقدامات عالمی برادری کیلئے ایک چیلنج ہیں ،افغانستان میں غیرانسانی اقدامات طالبان کے پرتشدد اور انتہاپسند ایجنڈے کو آشکار کر رہے ہیں، افغانستان کی خواتین اور بچوں کو بنیادی حقوق کیلئے عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے

    دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ

  • طالبان کے حمایتی عمران خان کے ساتھ امریکی ہمدردیاں کیوں؟

    طالبان کے حمایتی عمران خان کے ساتھ امریکی ہمدردیاں کیوں؟

    افغانستان میں امریکہ کی شکست پر طالبان کی فتح کا جشن منانے والے عمران خان کے لئے اب امریکہ سے ہی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی لابنگ فرم نے کام دکھانا شروع کر دیا ۔ امریکی غلامی سے آزادی لینے کے دعویدار امریکہ سے مدد مانگ رہے تو وہیں امریکی بھی عمران خان کے لیے لابنگ کرنے لگے

    طالبان جنہوں نے دو دہائیوں تک امریکی افواج کے خلاف جنگ لڑی اور 2,400 سے زائد امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ 2021 میں جب طالبان افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آئے، عمران خان نے اس فتح کو خوشی کے ساتھ سراہا اور طالبان کے قبضے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر امریکی تربیت یافتہ افغان فوجیوں کی شکست کا مذاق اُڑایا اور طالبان کو ایک عظیم کامیابی قرار دیا۔یہاں تک کہ عمران خان نے طالبان کی کامیابی کو ایک علامتی فتح کے طور پر پیش کیا، جسے اس وقت کے عالمی سیاست میں ایک غیر معمولی موقف کے طور پر دیکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے نہ صرف امریکہ کی فوجی طاقت کو شکست دی بلکہ افغانستان کی آزادی اور خود مختاری کے لیے بھی ایک بڑا قدم اُٹھایا ہے۔

    مگر آج کچھ عجیب سی صورتحال سامنے آئی ہے۔ امریکی کانگریس کے کئی اہم ارکان اب عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہیں ایک ایسے ہیرو اور جمہوریت کے علمبردار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس نے امریکہ کے دشمنوں کی حمایت کی۔ ایک ایسا شخص جو کبھی طالبان کے حق میں بول رہا تھا، آج وہ امریکہ میں اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک محبوب شخصیت بن چکا ہے۔ یہ تبدیلی کس طرح آئی؟اس تبدیلی کا ایک بڑا سبب واشنگٹن کا لابنگ نظام ہے۔ وہ طاقتور لابنگ جو طالبان کے حمایتی کو بھی امریکہ کا دوست بنا دیتی ہے اور ناقدین کو بھی حامیوں میں تبدیل کر دیتی ہے۔ امریکہ کا لابنگ سسٹم نہایت حیرت انگیز طریقے سے اپنے مخالفین کو اپنے اتحادیوں میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وقت نہیں آیا کہ ہم اس لابنگ سسٹم کی ذہانت اور اس کے کمالات کو تسلیم کریں؟ ایک ایسی قوت جو اپنے مخالفین کو بھی اپنے کیمپ میں شامل کر لیتی ہے، کیا یہ ایک سیاسی جادو نہیں؟ اس کا جواب شاید آنے والے دنوں میں ہمیں مزید واضح ہو سکے گا۔

  • پاکستان میں افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کا استعمال،ثبوت

    پاکستان میں افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کا استعمال،ثبوت

    پاکستان کی سر زمین پر افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت ایک بار پھر منظرِ عام پرآگئے۔

    افواج پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے،حال ہی میں پاکستان میں افغان سرزمین سے ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، افغانستان سے دہشتگرد پاک افغان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوشش کرتے ہیں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔سب پر یہ بات عیاں ہے کہ ”دہشتگردوں کو افغانستان میں امریکا کا چھوڑا ہوا اسلحہ دستیاب ہے”۔دہشتگردوں کو ہتھیاروں کی فراہمی نے خطے کی سلامتی کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا ہے۔

    09 دسمبر 2024 کو، سیکورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔آپریشن کے نتیجے میں دو خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا جبکہ ایک خارجی زخمی حالت میں پکڑا گیا۔بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں M16-A2, M4,AK-47 برآمد ہوا۔

    10 نومبر 2024 کو ضلع شمالی وزیرستان میں دس خوارج کو جہنم واصل کیا۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں M16-A4, M4,AMV-65 برآمد ہوا۔

    23/24 اکتوبر 2024 کی رات، سیکورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع باجوڑ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا۔آپریشن کے دوران، پاکستانی فوج کے دستوں نے دو خودکش بمباروں سمیت 9 خوارج اور 1 ہائی ویلیو ٹارگٹ خارجی رنگ کے لیڈر سید محمد عرف قریشی استاد کو جہنم واصل کیا۔ہلاک ہونے والے خوارج سے بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ جس میں M4, AMD65, AK47 گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

    19/20 ستمبر 2024 کو شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع میں اپنے ہی فوجیوں اور دہشت گردوں کے درمیان دو شدید مقابلے ہوئے جس کے نتیجے میں بارہ خوارج جہنم واصل کر دیے گئے۔بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں SKS, AK-47, RPD, LMG برآمد ہوا۔

    افغانستان سے جدید غیر ملکی اسلحے کی پاکستان سمگلنگ اور ٹی ٹی پی کا سکیورٹی فورسز اور پاکستانی عوام کے خلاف غیر ملکی اسلحے کا استعمال افغان عبوری حکومت کا اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے کے دعوؤں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔یورو ایشین ٹائمز کے مطابق پاکستان میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی کارروائیوں میں غیر ملکی ساخت کے اسلحے کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔پینٹاگون کے مطابق امریکا نے افغان فوج کو کل 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے، جس میں 300,000 انخلا کے وقت باقی رہ گئے۔اس بناء پر خطے میں گزشتہ دو سالوں کے دوران دہشت گردی میں وسیع پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا۔امریکا نے 2005 سے اگست 2021 کے درمیان افغان قومی دفاعی اور سیکیورٹی فورسز کو 18.6 ارب ڈالر کا سامان فراہم کیا۔ امریکی انخلا کے بعد ان ہتھیاروں نے ٹی ٹی پی کو سرحد پار دہشت گرد حملوں میں مدد دی،یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغان رجیم نہ صرف ٹی ٹی پی کو مسلح کر رہی ہے بلکہ دیگر دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ راستہ بھی فراہم کر رہی ہے

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے افغانستان کے ناظم الامور کی ملاقات

    ٹی ٹی پی اہم کمانڈر افغانستان میں حملے میں ہلاک

    افغانستان نے بھارت میں قائمقام قونصلر کی تقرری کر دی

    قومی ترانے کی بے حرمتی:پاکستان نے افغانستان سفارتخانے کی وضاحت کو سختی سے مسترد کردیا

  • فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

    کیا فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان قیادت کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے؟

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں فتنہ الخوارج کے لیڈر نور ولی کے ہاتھوں کمانڈر رحیم عرف شاہد عمر اور مزید تین خوارجی طارق، خاکسار اور عدنان مارے گئے.نور ولی کی اقتدار کی ہوس ایک بار پھر عیاں ہو گئی ہے، جو اختلافات کو قتل و غارت اور خونریزی کے ذریعے حل کر رہا ہے ۔ دھوکہ دہی اور اندرونی لڑائی نے ٹی ٹی پی کی بکھرتی ہوئی قیادت کو بے نقاب کر دیا ہے، فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ کی قیادت کے حصول کے لیے تنازع اس واقعے کی بنیادی وجہ بنی ہے۔ افغان سرزمین ان کی بدامنی کا میدان جنگ بنی ہوئی ہے، جو خطے کے امن کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے ۔

    تحریک خوارج پاکستان ٹی ٹی پی جو دین کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، اس کا اصل میں دین کے ساتھ دور دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ مجرموں کا ایک ٹولہ ہے جو صرف اقتدار اور طاقت کے لیے سرگرم ہے۔تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے یہ گروہ اپنے آپ کو دین اور اسلام کے محافظ کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر ان کی سرگرمیاں دین سے دور اور مجرمانہ ہیں۔ یہ تنظیم اپنے مخصوص مفادات کے لیے مسلسل خونریزی اور دہشت گردی کے راستے اختیار کر رہی ہے، اور ان کا اصل مقصد دین کی تعلیمات کی پاسداری نہیں، بلکہ صرف اقتدار اور طاقت کا حصول ہے۔

    ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات اور قیادت کی جنگ نے اس تنظیم کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان جاری یہ تصادم خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے اور یہ تحریک دراصل دین کے لبادے میں ایک دہشت گرد تنظیم بن چکی ہے، جو اپنے اقتدار کے لیے بے گناہ انسانوں کا خون بہا رہی ہے

  • ٹی ٹی پی اہم کمانڈر افغانستان میں حملے میں ہلاک

    ٹی ٹی پی اہم کمانڈر افغانستان میں حملے میں ہلاک

    کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اہم کمانڈر رحیم اللہ عرف شاہد عمر افغانستان کے صوبے کنڑ کے علاقے شرنگل میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے رہنما کی ہلاکت کے حوالے سے ابھی تک افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم عسکریت پسند تنظیم نے اپنے کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

    افغان سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق شاہد عمر کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کیا گیا جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ افغان طالبان کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں شرکت کے بعد واپس اپنے مقام پر جا رہے تھے۔ حملے کی نوعیت اور حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔پاکستانی سیکیورٹی حکام کے مطابق، ٹی ٹی پی کمانڈر شاہد عمر کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کا ایک سینئر کمانڈر تھا اور پاکستان میں دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں ملوث رہا۔ اس کے علاوہ وہ ایک طویل عرصہ تک افغان طالبان کی جانب سے بگرام جیل میں قید رہا، جہاں اس نے آٹھ سال گزارے۔

    رحیم اللہ عرف شاہد عمر، ٹی ٹی پی کے عسکریت پسند تنظیم کے فوجی کمیشن کا رکن بھی تھا اور اس نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے لئے ٹی ٹی پی کا شیڈو گورنر ہونے کا بھی عہدہ سنبھالا تھا۔رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی کے مزید کمانڈروں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم اس خبر کے شائع ہونے تک ان کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔رحیم اللہ عرف شاہد عمر کی ہلاکت نہ صرف ٹی ٹی پی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ افغانستان میں طالبان حکومت کے لیے بھی شرمندگی کا باعث بن رہی ہے۔ پاکستان نے بار بار اس بات کا الزام عائد کیا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ سرحد پار پاکستان میں حملے کر رہے ہیں، لیکن افغان طالبان حکومت نے ان دہشت گردوں کی افغانستان میں موجودگی کی تردید کی تھی۔ شاہد عمر کی ہلاکت نے ایک مرتبہ پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔

    کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے تعلقات کی نوعیت بھی اس واقعے کے بعد مزید زیر بحث آ سکتی ہے، کیونکہ یہ دونوں گروہ ماضی میں ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں اور ٹی ٹی پی کے کئی کمانڈر افغان طالبان کے زیرِ اثر علاقوں میں پناہ گزین ہیں۔یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ ابھی تک پوری طرح سے قابو میں نہیں آ سکے، اور یہ پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، خاص طور پر جب پاکستان کی سرحد کے قریب دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافے کی خبریں آ رہی ہوں۔

    کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر کو قتل کرنے کی ذمہ داری جبھتہ الرباط نے قبول کرلی
    افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں قتل ہونے والے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے انتہائی سینئر کماںدر شاھد عمر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کھانا کھارہے تھے۔شاھد عمر ٹی ٹی پی کے بانیوں میں شمار ہونے والے رہنما فقیر محمد کے بھتیجے تھے اور ٹی ٹی پی میں ان کو اہم مقام حاصل تھا وہ 8 سال سابقہ افغان حکومت کی قید میں بھی گزار چکے تھے، ذرائع کے مطابق ان کو کنڑ میں ٹی ٹی پی کے ایک اور رکن نے کھانے کی دعوت پر بلا کر کھانے کے دوران ہی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والا کمانڈر پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو مطلوب تھا اور حکومت نے ان کے سر پر ایک کروڑ پاکستانی کرنسی کا انعام بھی رکھا تھا۔