Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • دنیا کی بہترین کرنسی کو طالبان نے کنٹرول کرلیا

    دنیا کی بہترین کرنسی کو طالبان نے کنٹرول کرلیا

    انسانی امداد اور ایشیائی ہمسایہ ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارت کی وجہ سے اربوں ڈالر کی امداد نے افغانستان کی کرنسی کو اس سہ ماہی میں عالمی درجہ بندی میں سب سے اوپر پہنچا دیا ہے بلوم برگ نے لکھا ہے کہ بدترین انسانی حقوق کے ریکارڈ کے مطابق غربت کا شکار ملک کے لیے یہ ایک غیر معمولی مقام ہے۔ حکمران طالبان، جنہوں نے دو سال قبل اقتدار پر قبضہ کیا تھا، نے بھی افغانیوں کو مضبوط گڑھ میں رکھنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں مقامی لین دین میں ڈالر اور پاکستانی روپے کے استعمال پر پابندی عائد کرنا اور گرین بیک کو ملک سے باہر لانے پر پابندیاں سخت کرنا شامل ہیں۔ اس نے آن لائن ٹریڈنگ کو غیر قانونی بنا دیا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قید کی دھمکی دی ہے۔

    بلومبرگ کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرنسی کنٹرول، نقد رقم کی آمد اور دیگر ترسیلات زر نے اس سہ ماہی میں افغانیوں کو تقریبا 9 فیصد اضافے میں مدد دی ہے، جو کولمبیا کے پیسو کے 3 فیصد اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سال کے دوران افغانی کرنسی میں تقریبا 14 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ کولمبیا اور سری لنکا کی کرنسیوں کے بعد عالمی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی تبدیلی کے بعد کرنسی کے نقصانات میں جو کمی دیکھی گئی ہے وہ اس ڈرامائی ہلچل کو بھی ظاہر کرتی ہے جو افغانستان پابندیوں کی وجہ سے عالمی مالیاتی نظام سے کافی حد تک کٹ گیا ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق بے روزگاری بہت زیادہ ہے، دو تہائی گھرانے بنیادی اشیاء خریدنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور افراط زر افراط زر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے 2021 کے اختتام کے بعد سے کم از کم 18 ماہ تک غریبوں کی مدد کے لیے تقریبا ہفتہ وار امریکی ڈالر کی آمد ہوتی ہے۔

    جبکہ واشنگٹن میں قائم نیو لائنز انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجی اینڈ پالیسی میں مشرق وسطیٰ، وسطی اور جنوبی ایشیائی امور کے ماہر کامران بخاری نے کہا، "کرنسی پر سخت کنٹرول کام کر رہا ہے، لیکن معاشی، سماجی اور سیاسی عدم استحکام کرنسی میں اس اضافے کو قلیل مدتی رجحان کے طور پر پیش کرے گا۔ افغانستان میں غیر ملکی زرمبادلہ کی تجارت اب زیادہ تر منی چینجرز کے ذریعے کی جاتی ہے جنہیں مقامی طور پر صرافہ کہا جاتا ہے جو بازاروں میں اسٹال لگاتے ہیں یا شہروں اور دیہاتوں میں دکانوں سے کام کرتے ہیں۔ کابل میں مصروف، کھلی فضا میں چلنے والی مارکیٹ سرائے شہزادہ ملک کا حقیقی مالیاتی مرکز ہے، جہاں ہر روز لاکھوں ڈالر کے مساوی رقم گزرتی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق ٹریڈنگ کی کوئی حد نہیں ہے۔ مالی پابندیوں کی وجہ سے اب تقریبا تمام ترسیلات زر مشرق وسطیٰ سمیت خطوں میں رائج صدیوں پرانے حوالہ منی ٹرانسفر سسٹم کے ذریعے افغانستان منتقل کی جاتی ہیں۔ حوالہ سرافوں کے کاروبار کا ایک اہم حصہ ہے۔

    اقوام متحدہ، جس کا تخمینہ ہے کہ افغانستان کو اس سال تقریبا 3.2 بلین ڈالر کی امداد کی ضرورت ہے، نے اس میں سے تقریبا 1.1 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں، عالمی ادارے کی مالیاتی ٹریکنگ سروس کے مطابق. گزشتہ سال اس تنظیم نے تقریبا 4 ارب ڈالر خرچ کیے تھے کیونکہ افغانستان کے 41 ملین افراد میں سے نصف کو جان لیوا بھوک کا سامنا تھا۔ عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال معیشت سکڑنا بند ہو جائے گی اور 2025 تک 2 سے 3 فیصد کی شرح نمو حاصل کرے گی، حالانکہ اس نے عالمی امداد میں کمی جیسے خطرات سے خبردار کیا ہے کیونکہ طالبان نے خواتین پر جبر کو تیز کر دیا ہے۔ لندن میں بی ایم آئی میں یورپ کنٹری رسک کی سربراہ انویتا باسو نے کہا، "غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین پر سخت پابندیاں اور تجارت میں بتدریج بہتری افغانی کی طلب میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانی سال کے آخر تک موجودہ سطح پر مستحکم رہنے کا امکان ہے۔ ایک مضبوط کرنسی افغانستان کے لئے تیل جیسی اہم درآمدات کے لئے افراط زر کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، خاص طور پر جب خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہیں۔

    اب بھی، نقد رقم کے بہاؤ کے باوجود، انسانی صورتحال اور مالی نقطہ نظر سنگین ہے. اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن کی جولائی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے منجمد زرمبادلہ کے 9.5 ارب ڈالر کے ذخائر میں سے 3.5 ارب ڈالر جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن اس منصوبے کو اس وقت روک دیا گیا جب اسے معلوم ہوا کہ مرکزی بینک کو طالبان سے آزادی حاصل نہیں ہے اور انسداد منی لانڈرنگ کنٹرول اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام میں کوتاہیاں ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس سال غیر ملکی امداد میں 30 فیصد کمی واقع ہوتی ہے تو اس سے فی کس آمدنی کم ہو کر 306 ڈالر رہ جائے گی جو 2020 کی سطح سے 40 فیصد کم ہے۔ خواتین کے خلاف وسیع پیمانے پر پابندیوں نے طالبان انتظامیہ کے اندر بھی تقسیم کو ہوا دی ہے ، کچھ نے کھلے عام اپنے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اخوندزادہ نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے، کام کرنے، عوامی پارکوں میں جانے، جم استعمال کرنے اور مردوں کی حفاظت کے بغیر طویل فاصلے تک سفر کرنے سے منع کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    رواں ماہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ طالبان نے جنوری 2022 سے رواں سال جولائی کے آخر تک لوگوں کی گرفتاری اور حراست کے دوران تشدد سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 1600 سے زائد واقعات کا ارتکاب کیا۔ دریں اثنا، 2023 میں پینٹاگون کے ایک جائزے سے پتہ چلا ہے کہ دولت اسلامیہ ایک بار پھر دنیا بھر میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لئے افغانستان کو ایک اڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس دہشت گرد گروپ نے افغانستان میں حملوں میں بھی اضافہ کیا ہے، جیسے ایک ڈپٹی گورنر کی ہلاکت اور ایک مسجد پر بم حملے میں داعش کے عسکریت پسندوں نے افغانستان میں چینی، بھارتی اور ایرانی سفارت خانوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ بی ایم آئی کے باسو نے کہا، "بالآخر، سیاسی استحکام کرنسی کو بنائے گا یا توڑ دے گا – اگر طالبان گھر پر کنٹرول کھو دیتے ہیں، تو کرنسی کو بھی نقصان پہنچے گا۔

  • افغانستان میں مسیحیت کی تبلیغ و ترویج کا الزام،بین الاقوامی این جی او کے 18 ارکان گرفتار

    افغانستان میں مسیحیت کی تبلیغ و ترویج کا الزام،بین الاقوامی این جی او کے 18 ارکان گرفتار

    افغانستان میں مسیحیت کی تبلیغ و ترویج کے الزام میں بین الاقوامی این جی او کے 18 ارکان کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق گرفتار این جی او ارکان میں ایک امریکی خاتون بھی شامل ہے سوئس این جی او انٹرنیشنل اسسٹنس مشن نے افغان صوبے غور میں اپنے ارکان کی گرفتاری کی تصدیق ہے، ان پر عیسائی مشنری کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے-

    بین الاقوامی امدادی مشن (IAM) نے تصدیق کی کہ اس کے عملے کو وسطی افغانستان کے صوبہ غور میں واقع اس کے دفتر سے اٹھا کر دارالحکومت کابل لے جایا گیا صوبے کے ایک حکومتی ترجمان عبدالواحد حماس غوری نے اے ایف پی کو بتایا کہ سیکیورٹی اور انٹیلیجنس فورسز کچھ عرصے سے اس گروپ پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔

    سعودی شہزادہ خالد بن محمد بن عبداللہ آل عبدالرحمن آل سعود انتقال کرگئے

    این جی او کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے ارکان کو افغان صوبہ غور سے گرفتار کرکے کابل لے جایا گیا ہے، طالبان حکام کی جانب سے عملے کے ارکان کو حراست میں لینےکی وجہ سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا، عملےکی حفاظت اور ان کی جلد رہائی یقینی بنانےکے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

    دستاویزات اور آڈیوز حاصل کیے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو عیسائیت میں شامل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں، انہوں نے مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا 21 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں ایک امریکی خاتون بھی شامل ہے۔

    ہم نے اپنی سیاسی قربانی دے کر پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا، اسحاق ڈار

    IAM نے پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ 18 افراد بشمول ایک "غیر ملکی” کو حراست میں لیا گیا ہے اور اسے الزامات کی نوعیت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے امریکی خاتون اور دو افغان عملے کو سب سے پہلے 3 ستمبر کو حراست میں لیا گیا، اس کے بعد بدھ کو مزید 15 افغان ملازمین کو حراست میں لیا گیا اگر ہماری تنظیم یا عملے کے کسی فرد کے خلاف کوئی الزام عائد کیا جائے تو ہم پیش کردہ کسی بھی ثبوت کا آزادانہ طور پر جائزہ لیں گے۔”

    IAM کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ تنظیم کی بنیاد عیسائی اقدار پر رکھی گئی ہے، لیکن یہ سیاسی یا مذہبی عقیدے کے مطابق امداد فراہم نہیں کرتی ہے۔

    نیب ترامیم سےمتعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے،شہباز شریف

    دوسری جانب ترجمان غور حکومت کا کہنا ہےکہ سکیورٹی فورسز این جی او کی کچھ عرصے سے نگرانی کر رہی تھیں، این جی او کے دفتر پر چھاپے میں برآمد دستاویزات اور آڈیوز سے لوگوں کو عیسائیت میں شامل ہونے کی دعوت دیے جانےکے شواہد ملے ہیں۔

  • یہ تاثر درست نہیں کہ امریکہ کسی سازش کے تحت افغانستان میں اسلحہ  چھوڑ کرگیا، نگراں وزیراعظم

    یہ تاثر درست نہیں کہ امریکہ کسی سازش کے تحت افغانستان میں اسلحہ چھوڑ کرگیا، نگراں وزیراعظم

    اسلام آباد: نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر سکیورٹی خطرات بڑھنے سے مؤثر جواب کی ضروریات بڑھ گئیں، پاکستان کو حق دفاع حاصل ہے اور اپنے لوگوں و سرزمین کے دفاع کے لیے جہاں سمجھیں گے ضرور ایکشن لیں گے۔

    باغی ٹی وی: امریکی خبر رساں ادارے ”وائس آف امریکہ“ سےگفتگو کرتےہوئےنگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نےافغانستان میں امریکی اسلحہ چھوڑے جانے کے حوالے سے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑنے کہا کہ یہ تاثر کہ امریکہ کسی سازش کے تحت افغانستان میں اسلحہ چھوڑ کر خطے سے چلا گیا درست نہیں ہے اور نہ ہی ان کے دیئے گئے بیان کا یہ مقصد تھا،پاکستان کی جانب سے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، کیونکہ کابل کا نظامِ حکومت طالبان کے پاس ہے تو ریاستی امور کے سلسلے میں ان سے ہی بات کرنی ہوگی۔

    ٹک ٹاک پر بچوں کے ڈیٹا کی خلاف ورزی پر 345 ملین یورو کا جرمانہ …

    انہوں نے کہا کہ ان کے بیان کا مقصد یہ نشاندہی کرنا تھا کہ امریکی ساختہ چھوٹے جنگی ہتھیار نہ صرف بلیک مارکیٹ میں مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا میں فروخت ہورہے ہیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہےٹی ٹی پی اور دیگر تنظیمیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اس اسلحہ کا استعمال کررہے ہیں جو کہ پاکستان کے لیے اسٹرٹیجکل اور ٹیکٹیکل چیلنج ہے پاکستان کو افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد پرسیکیورٹی کےخطرات کا سامنا ہےدوحہ امن معاہدے میں طالبان نے دنیا کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہوگی پاکستان کو حق دفاع حاصل ہے اور اپنے لوگوں اور سرزمین کے دفاع کے لیے جہاں سمجھیں گے ضرور ایکشن لیں گے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کے بیٹے پر فردجرم عائد

    انہوں نے کہا کہ طالبان اس بات پر قائل ہیں کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے تاہم وہ کہتے ہیں کہ ایسا کیوں نہیں ہو پا رہا ہے اس حوالے سے پاکستان طالبان سے بات چیت کررہا ہے کہ وہ کیا کردار چاہتا ہے افغانستان کے ساتھ پاکستان کی تجارت باقاعدگی سے جاری ہے، البتہ غیر قانونی ٹرانزٹ ٹریڈ اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائی ضرور کی جا رہی ہے حالیہ عرصے میں افغانستان کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں بہتری آئی ہے اور افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ممالک تک تجارت میں بھی بہتری آنے جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے تمام طاقتوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور اس حوالے سے اسلام آباد اور واشنگٹن میں اشتراک اور مشترکہ نکات پائے جاتے ہیں۔

    برطانیہ؛ صحت سربراہان کا بھارت میں مہلک وائرس کے پھیلاؤ پر فوکس

    پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کی صورتِ حال کا کشمیر سے موازنہ کرنا درست نہیں کیوں کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جہاں لاکھوں کی تعداد میں بھارتی افواج آزادی کی تحریک کو دبا رہے ہیں جب کہ پاکستان ایک تسلیم شدہ آزاد ریاست ہے جسے اپنے قوانین بنانے کا حق حاصل ہے۔

    اپنے انٹرویو میں انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھاکہ انتخابی عمل الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہے، نگران حکومت انتخابات میں التوا کیلئے کوئی جواز سامنے نہیں لائے گی اور امن و امان، سرحدی صورتحال کے باعث انتخابات میں تاخیرنہیں ہوگی پاکستان کومغربی اور مشرقی محاذ پر خطرات کا سامنا ضرور ہے، یقین ہے بیک وقت سرحدی خطرات پربھی قابوپائیں گے اور انتخابی عمل بھی مکمل کرائیں گے، مشرقی اور مغربی سرحدوں پر سکیورٹی خطرات بڑھنے سے مؤثر جواب کی ضروریات بڑھ گئیں، انتخابات کے انعقاد پرسرحدوں کی صورتحال کےاثرات نہیں ہونے دیں گے۔

    پاکستان میں امریکا کے سابق سفیر کو سزا سنا دی گئی

    ان کا کہنا تھاکہ حکومت کا کام انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کرناہے جس کیلئے مکمل تیار ہیں، انتخابات سے متعلق قیاس آرائیاں ختم کرنا نگران حکومت کا کام نہیں، انتخابات کا انعقاد آئینی طور پر الیکشن کمیشن کا کام ہے یہ تاثردرست نہیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کوبذریعہ قانونی مقدمات سیاست سے باہر کیا جا رہا ہے، ان پر عائد مقدمات میں عدالتی عمل شفاف ہوگا۔

  • وزیر اعظم 22 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے،ترجمان دفتر خارجہ

    وزیر اعظم 22 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں تاکہ وہاں خواتین امن سے زندگی گزار سکیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ 18 سے 23 ستمبر تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بحث میں حصہ لیں گے۔وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے ہمنوا ہوں گے ،وزیر اعظم 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔وزیر اعظم اپنے خطاب میں علاقائی اور عالمی تنازعات پر گفتگو کریں گے۔وزیر اعظم یو این جنرل اسمبلی خطاب میں مسئلہ جموں کشمیر پر بات کریں گے۔نگران وزیراعظم موجودہ نگران حکومت کی جانب سے معاشی بحالی کے لئے کئے گئے اقدامات پر بات کریں گے۔وزیر اعظم موجودہ حکومت کی جانب سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے کئے گئے اقدامات پر بات کریں گے۔یو این جی اے کی سائڈ لائنز پر وزیر اعظم مختلف ممالک کے نمائندگان سے ملاقاتیں کریں گے۔وزیراعظم پاکستان کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت پاکستان کی کثیر الجہتی کے فروغ لئے عزم کی نشاندہی کرتی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ برطانیہ میں دولت مشترکہ کی یوتھ میٹنگ اجلاس میں شرکت کررہے ہیں ، اس اجلاس میں وزیر خارجہ نے پاکستان کی طرف سے نوجوانوں بالخصوص لڑکیوں اور پسماندہ طبقات کے نوجوانوں کو آگے لانے کے اقدامات سے آگاہ کیا، پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ نے ایران کا دو روزہ دورہ کیا ،وزیر خارجہ نے دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل ، برطانیہ کے وزراء اور دیگر ممالک کے وزراء سے ملاقاتیں کیں اقوام متحدہ پوری دنیا میں ترقی و خوشخالی اور امن کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نگران وزیراعظم اقوام متحدہ دورے سے قبل سعودی عرب جائیں گے ؟ جس کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے سعودی عرب دورے کو حتمی شکل دی جارہی ہے، جلد تفصیلات سے آگاہ کریں گے،

    امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • فاٹا میں طالبان کا اثرورسوخ اور پاکستان پر اثرات

    فاٹا میں طالبان کا اثرورسوخ اور پاکستان پر اثرات

    مولانا فضل الرحمان نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی غالب موجودگی کو اجاگر کیا ہے۔ یہ مسلح گروہ خطے میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مشکلات کھڑی کرتا ہے،منصوبوں کی تکمیل کے لئے لاگ کا 10 فیصد حصہ مانگا جاتا ہے اور نہ ملنے کی صورت میں منصوبے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، فاٹا کے خیبرپختونخوا (کے پی کے) میں انضمام کے بعد سے، ٹی ٹی پی نے اس کی علیحدگی، اور اپنی سابقہ خود مختار حیثیت پر واپسی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    15 اگست 2021 کو طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد سے، نہ صرف فاٹا بلکہ صوبہ بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے 21 ماہ کے دوران ایسے واقعات میں 73 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ سیکورٹی چیلنجز پاکستان کی پہلے سے ہی کمزور معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔

    ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایک ریسرچ فیلو عبدالباسط کا مشاہدہ ہے، "یہ پورا خطہ غیر مستحکم ہے، چاہے وہ افغانستان ہو یا پاکستان۔ یہ افغانستان میں ہونے والی پیشرفت کا ایک اثر ہے۔”

    ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کی کوششوں نے بدقسمتی سے دہشت گرد تنظیم کو دوبارہ منظم ہونے اور حملوں کو تیز کرنے کے مواقع فراہم کیے ۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کے پاس صرف دو ہی قابل عمل آپشن رہ جاتے ہیں۔ پہلی بات حقانی کی طرف سے بیان کی گئی ہے، جو دلیل دیتے ہیں، "پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت یہ تسلیم کرنے سے گریزاں ہے کہ پرتشدد بنیاد پرست، اسلام پسند صرف ناراض لوگ نہیں ہیں. جنہیں مذاکرات کے ذریعے منایا جا سکتا ہے۔” [The New Humanitarian] اس آپشن میں ان شرپسند عناصر کے خلاف ایک جامع فوجی مہم شروع کرنا شامل ہے۔دوسرے آپشن میں بات چیت کے ذریعے تصفیہ شامل ہے۔ ان میں سے کوئی بھی آپشن پاکستان کے لیے مثالی حل پیش نہیں کرتا۔

    ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکراتی تصفیہ کی ماضی کی کوششوں کو جب بھی عسکریت پسندوں کے لیے موزوں تھا نظر انداز کیا گیا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی سمجھوتہ ہو بھی جاتا ہے، تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ٹی ٹی پی مزید رعایتوں کا مطالبہ نہیں کرے گی. ممکنہ طور پر ریاست کو ایک غیر یقینی صورت حال میں ڈالے گی، اور ایک پریشان کن مثال قائم کرے گی۔ ان عسکریت پسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے آپشن کے متعلق، یہ تبھی کارگر ثابت ہو گا جب سرحد پار سے دراندازی کے ہر راستے کو سختی سے سیل کر دیا جائے تاکہ بیرونی حمایت کو ختم کیا جا سکے۔

    ٹی ٹی پی سے نمٹنے کے لئے ، ایک پائیدار حل تلاش کرنا پیچیدہ اورغیریقینی سی صورتحال ہے،ان سیکورٹی خدشات کو حل کرنے کے لئے کثیر الجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے،

  • طالبان نے 6.5 ارب ڈالرز کے معاہدوں پر دستخط کر لئے

    طالبان نے 6.5 ارب ڈالرز کے معاہدوں پر دستخط کر لئے

    افغانستان نے برطانیہ، ایران، ترکی اور چائنہ سے 6.5 ارب ڈالرز کے معاہدوں پر دستخط کر لئے ہیں، طالبان نے یہ مناطر لائیو ٹی وی چینلز پر دکھائے اور چاروں ممالک افغانستان میں گولڈ، کاپر، لوہا زنک سمیت مختلف معدنیات نکالیں گیں جبکہ افغانستان میں مزید 50 ارب ڈالرز تک کی سرمایہ کاری ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے.
    https://youtu.be/9jA6MB7TtgA?si=vb5EmI7eyGJ1JbUh
    ‏جبکہ ذرائع کے مطابق مختلف ممالک سے بات چیت جاری ہے اور چائنہ سمیت تمام ممالک نے افغان طالبان کو کہا تھا کہ آپ اپنے ملک میں امن قائم کریں گے تو ہم ڈالرز کی بارش کر دیں گے. اب امن قائم ہونے کے بعد وہاں پوری دنیا کی سرمایہ کاری شروع ہو چکی ہے جس سے ایک افغان مستقل میں ڈالر کے مقابلے میں 40 سے 50 تک ہونے کا امکان ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خیبر پاک افغان بارڈر پر کشیدگی تیسرے روز بھی جاری
    پاکستان کا روشن مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے،سینیٹر رانا محمود الحسن
    بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
    جی 20 سربراہی اجلاس؛ امریکی صدر دہلی پہنچ گئے

    ‏تاہم چائنہ افغانستان میں تیل نکال رہا ہے اور بڑی تعداد افغانستان مستقبل میں پوری دنیا کو تیل ایکسپورٹ کرنے والے ممالک میں شامل ہو جائے گا اور چائنہ افغانستان میں سڑکیں بلڈنگ اور مختلف تعمیراتی کام شروع کرنے جا رہا ہے. دوسری جانب گزشتہ روز تجزیہ کار امتیاز نے صحافی ملک رمضان اسراء کو انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ طالبان حکومت نے سات کمپنیوں کے ساتھ مختلف معاہدے کیئے ہیں.

  • افغانستان میں چھوڑا جانیوالا اسلحہ دہشتگرد گروہوں کے ہاتھ لگا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    افغانستان میں چھوڑا جانیوالا اسلحہ دہشتگرد گروہوں کے ہاتھ لگا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ دی ہے

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین سے دہشتگرد حملوں کا معاملہ اٹھایا ہے ،افغانستان میں چھوڑا جانے والا اسلحہ دہشتگرد گروہوں کے ہاتھ لگا ہے ،ہم کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے تاہم یہ معاملہ عالمی توجہ کا متقاضی ہے

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جدید اسلحہ کی موجودگی باعث تشویش ہے، پاک افغان بارڈر پر سیکیورٹی سے متعلق اپنی تشویش سے امریکا سمیت تمام دوستوں کو آگاہ کردیا ہے، پاکستان اورامریکا کے درمیان گہرے سیکیورٹی تعلقات ہیں

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ سخت سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر طورخم بارڈر بند کیا جاتا ہے، سیکیورٹی معاملات پر پیش رفت کے بعد بارڈر کھولا جائے گا پاک افغان بارڈرکی صورتحال پرتشویش سے افغان حکومت کوآگاہ کردیا ہے پاکستان طورخم بارڈر کو امن کا بارڈر سمجھتا ہے طورخم بارڈرکو سیکیورٹی معاملات پر پیش رفت کے بعد ہی کھولا جائے گا ہم یقین رکھتے ہیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد امن کی سرحد ہونی چاہیے اگر پاکستان کی طرف سے سرحد بند کی گئی ہے تو اس کی وجہ سکیورٹی کی سنگین صورتحال ہے ہم افغان حکومت سے اس متعلق مذاکرات کر رہے ہیں

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ چترال کی صورتحال پر افغان حکام سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اس صورتحال پر ہوم ڈپارٹمنٹ اور متعلقہ ادارے تفصیل دے سکتے ہیں،بھارتی قیادت پاکستان کے بارے میں تبصروں کی بجائے اپنے چیلنجز پر توجہ دے

    امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • افغان انجینئرز نے70سے زائد طیاروں کی مرمت کرکے انہیں دوبارہ پرواز کے قابل بنا دیا

    افغان انجینئرز نے70سے زائد طیاروں کی مرمت کرکے انہیں دوبارہ پرواز کے قابل بنا دیا

    افغانستان کی فضائیہ کے انجینئرز نے دو سال کے عرصے میں 70سے زائد طیاروں کی مرمت کرکے انہیں دوبارہ پرواز کے قابل بنا دیا۔

    باغی ٹی وی : سالوں تک جنگ زدہ ملک رہنے کے باعث افغانستان کے بارے میں امریکا اور دنیا کا گمان تھا کہ وہ ہائی ٹیک انجینئرنگ میں کارکردگی دکھانے کے قابل نہیں ہے مگر افغان فضائیہ نے طیاروں کی مرمت کرکے اس گمان کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

    عالمی میڈیارپورٹ کے مطابق افغان فضائیہ (اے اے ایف)کے کمانڈر عبدالغفار محمدی نے بتایا ہے کہ افغان فضائیہ کی انجینئرنگ ٹیم نے گزشتہ دو سال میں 70سے زائد طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مرمت کرکے انہیں پرواز کے لیے تیار کر دیا ہےابھی کچھ ہیلی کاپٹر اور ہوائی جہاز مرمت کے مراحل میں ہیں-

    جاپان بھی چاند پر مشن بھیجنے کے لیے تیار

    انہوں نے کہا کہ AAF کی دیکھ بھال کرنے والی ٹیموں نے حال ہی میں ایک روسی MI-17 ہیلی کاپٹر کی مرمت کی ہے،عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مرمت عسکری شعبے کے لیے اہم ہے فوجی تجزیہ کار یوسف امین زازئی نے کہا کہ "ایئر فورس کے کسی بھی قسم کا سامان جس کی مرمت ہو رہی ہے، ہیلی کاپٹروں سے لے کر دوسرے آلات تک، فائدہ مند ہے سیاسی تجزیہ کار صادق شنواری نے کہا کہ ہیلی کاپٹر ہونے سے فضائیہ مضبوط ہو گی اور امارت اسلامیہ کو اس سلسلے میں کوششیں کرنی چاہئیں-

    واضح رہے کہ اگست کے آخر میں افغان وزارت دفاع نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کی انجینئرنگ ٹیم نے کابل میں 100فوجی گاڑیوں کی مرمت کی ہے-

    مودی حکومت کا آئین میں "انڈیا” کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ

  • ایشیا کپ، سری لنکا کا افغانستان کو جیت کیلئے 292 رنز کا ہدف

    ایشیا کپ، سری لنکا کا افغانستان کو جیت کیلئے 292 رنز کا ہدف

    ایشیا کپ ون ڈے کے چھٹے میچ میں سری لنکا نے افغانستان کو جیت کے لیے 292 رنز کا ہدف دے دیا۔

    باغی ٹی وی : ایشیا کپ ون ڈے کے چھٹے میچ میں سری لنکا نے افغانستان کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے،افغانستان اور سری لنکا کے درمیان گروپ اسٹیج کا یہ آخری میچ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جارہا ہے دونوں ٹیمیں اب تک ایک ایک میچ کھیل چکی ہیں جس میں سری لنکا کو فتح جب کہ اپنے پہلے میچ میں افغانستان کو بنگلادیش سے شکست ہوئی تھی۔

    ایشیا کپ ون ڈے کے چھٹے میچ میں افغانستان کے بولر گلبدین نائب نے تنہا ہی سری لنکا کے تین کھلاڑیوں کو پویلین واپس بھیج دیا سری لنکا نے 17 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 86 رنز بنالیے ہیں، گلبدین نائب نے پاتھوم نسانکا، دیموتھ کرونارتنے اور سدیرا کو آؤٹ کیا کریز پر اس وقت کوشال مینڈس اور چریتھ اسالنکا موجود ہیں۔

    سری لنکا نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں پر 291 رنز اسکور کیے، کوشل مینڈس 92 رنز بناکر نمایاں رہے،دونوں اوپنرز کے درمیان 63 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی،کوشل مینڈس اور آسالنکا کےدرمیان 102رنز کی شراکت داری قائم ہوئی لیکن پھر آسالنکا 36 رنز بناکر راشد خان کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔اس کے بعد ڈی سلوا بھی 14 رنز بناکر ٹیم کا ساتھ چھوڑ گئے، ایسے میں کوشل مینڈس نے ذمہ درانہ اننگز کھیلی لیکن وہ بھی 92 رنز بناکر رن آؤٹ ہوگئے۔

    اختتامی اوورز میں والیلاگے اور تھکشانا نے شاندار بیٹنگ کی اور ٹیم کا اسکور291 رنز تک پہنچایا۔ والیلاگے نے 33 اور تھکشانا نے 28 رنز اسکور کیے افغانستان کی جانب سے گلبدین نائب نے 3، راشد خان نے 2 اور مجیب الرحمان نے ایک وکٹ حاصل کی۔

  • عالمی برادری کو ہمیں ایک ذمہ دارملک کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے،وزیراعظم

    عالمی برادری کو ہمیں ایک ذمہ دارملک کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے،وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے غیرملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرملکی میڈیا کیساتھ بطور نگران وزیراعظم پہلی باضابطہ گفتگو ہے،

    انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کی بنیادی آئینی ذمہ داری انتخابات میں معاونت فراہم کرنا ہے،آئینی طورپر حکومتی نظام میں بڑی تبدیلی نہیں لا سکتے،تمام شعبوں کیلئے بجٹ مختص کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے،اپنے دائرہ کارمیں رہتے ہوئے معاشی اور مالی معاملات چلا رہے ہیں،خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کوآگے بڑھانا اہم ترجیح ہے،کونسل کے تحت زراعت ،کان کنی اورمعدنیات جیسے شعبے اہم ترجیح ہیں،ملک میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی بہت ضرورت ہے،ایف بی آر اور توانائی کے شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے ہم اپنے آئینی مینڈیٹ سے آگے نہیں بڑھ سکتے،ہم مختصر مدتی اصلاحات کرسکتے ہیں ،جن کے مستقبل کا فیصلہ آئندہ منتخب حکومت کرے گی

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں کچھ تقسیم کارکمپنیاں نجکاری فہرست میں شامل ہیں،ہماری کوشش ہے کہ کان کنی اورمعدنیات میں بیرونی سرمایہ کاری لاسکیں،آئین کے تحت مردم شماری کے بعد انتخابی حلقہ بندیاں ضروری ہیں،امید ہے الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کاعمل مناسب وقت میں مکمل کرلے گا،پاکستان میں تمام رجسٹر سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی آزادی ہے، ہماری مغربی سرحد سے ملک کے اندرحملے ہورہے ہیں افغانستان میں امریکا اوراتحادیوں کا چھوڑا گیا جدید اسلحہ بڑا چیلنج ہے،اتحادیوں کا چھوڑا گیا اسلحہ علاقائی سکیورٹی صورتحال پرگہرے اثرات مرتب کررہا ہے،اس چیلنج سے عالمی برادری کے ساتھ مل کر نمٹنا چاہتے ہیں،اتحادیوں کا چھوڑا ہوا جدید اسلحہ عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ چکا ہے،ہماراموقف تھا کہ اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد منفی صورتحال کو ہمیں بھگتنا ہو گا، ہم اس چیلنج کےسامنے ہارنہیں مان سکتے،اپنی آبادی کے تحفظ کیلئے تمام مناسب اقدامات کررہے ہیں،عالمی برادری کو ہمیں ایک ذمہ دارملک کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے

    بجلی کے بلوں میں اضافہ پرشہری سڑکوں پرنکل آئے

    بجلی کے نرخوں کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

     عابد شیر علی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بجلی کے بھاری بلوں پر پھٹ پڑے ،

     پاکستان چاہے تو ہم پاکستان کو سستی بجلی، گیس اور تیل دے سکتے ہیں

    حکومت نے پاک ایران، پاک روس بارٹر تجارت کی اجازت دے دی

     اپنی صنعتوں کو تالے لگا دیں گے اور چابیاں حکومت کے حوالے کردیں گے۔