Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • طالبان نے یونیورسٹی اسکالر شپ کیلئے یو اے ای جانیوالی 100 طالبات کو روک دیا

    طالبان نے یونیورسٹی اسکالر شپ کیلئے یو اے ای جانیوالی 100 طالبات کو روک دیا

    کابل: افغان طالبان نے یونیورسٹی اسکالر شپ کے لیے دبئی جانے والی 100 طالبات کو روک دیا۔

    باغی ٹی وی: "روئٹرز” کے مطابق افغان طالبات کو متحدہ عرب امارات کے ایک کاروباری گروپ نے اسپانسر کیا تھا کاروباری گروپ کے بانی چیئرمین خلف احمد الحبطور نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے 100 افغان لڑکیوں کے لیے امارات میں رہائش، تعلیم کا انتظام کیا تھا، لڑکیوں کے لیے خصوصی طیارے کو رقم کی ادائیگی بھی کردی گئی تھی تاہم افغان حکومت نے طالبات کو طیارے میں سوار ہونے سے روک دیا-

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    اماراتی تاجر نے سوشل میڈیا پر ایک افغان طالبہ کی آڈیو بھی شیئر کی جس میں طالبہ کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ گھر کے مرد بھی تھے تاہم کابل انتظامیہ کے اہلکاروں نے انہیں جہاز میں سوار نہیں ہونے دیا۔

    خبر ایجنسی کے مطابق اس معاملے پر طالبان انتظامیہ یا وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

    سعودی تحائف فروخت کرنے پربرازیل کے سابق صدر کی گرفتاری کا امکان

    قبل ازیں افغانستان میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی،عبوری وزیر انصاف جسٹس شیخ مولوی عبدالحکیم شرعی نے کابل میں اپنی وزارت کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں مکمل طور پر روک دی گئی ہیں، سیاسی جماعتوں کی شریعت میں کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی کوئی حیثیت ، ان جماعتوں سے کوئی قومی مفاد وابستہ ہے اور نہ ہی قوم انہیں پسند کرتی ہے۔

  • افغانستان میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی

    افغانستان میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی

    کابل: افغانستان میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی۔

    باغی ٹی وی : افغانستان کی عبوری حکومت کے وزیرانصاف شیخ عبدالحکیم شریعی کا کہنا ہے کی ملک میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں مکمل طور پرروک دی گئی ہیں کیونکہ ان کی کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے سیاسی جماعتوں سے قوم کے مفادات وابستہ ہیں اورنہ ہی نہ قوم انہیں پسند کرتی ہے۔

    حکومت کے احتساب پروگرام کے تحت وزارت انصاف کی ایک سال کی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کر تے ہوئے وزیرانصاف نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ان کے ماتحت وزارت نے 38 قانونی دستاویزات، 10 پالیسی متن اور ایک قانون سمیت 49 قانونی دستاویزات کا مسودہ منظوری کے متعلقہ حکام کو بھجوادیا ہےگزشتہ ایک سال میں 1401 افراد کو وکالت کے لائسنس جاری کیے یا تجدید کی گئی۔

    صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر، 30 سے زائد کتابوں کےمصنف،ڈاکٹر ذوالفقار سیال

    اس کے علاوہ ملک بھر میں ایک ہزار قانون سے آگاہی کے عوامی پروگرام شروع کیے گئے عدالتوں میں لاوارث ملزمان کے 754 قانونی اور فوجداری مقدمات کا دفاع کیا گیا جبکہ 298 مدعا علیہان کو مفت قانونی مشورے دیئے گئے انجمنوں اور خیراتی اداروں کو 142 لائسنس جاری کیے گئے، 5 لائسنسوں کی تجدید اور14 کومنسوخ کیاگیا۔ خیراتی اداروں اورسوسائٹیز کے 470 دفاتر کی نگرانی کی گئی۔ معاملات کی قانونی مشاورت کے 664 نئے لائسنس جاری کیے، 379 لائسنسوں کی تجدید اور 346 کو منسوخ کیا گیا۔

    ملک بھر میں ای پاسپورٹ کا اجراء کر دیا گیا،فیس شیڈول بھی جاری

  • خدا کیلئے لڑکیوں کے اسکول کھول دو،سینئیر صحافی طالبان کے دفتر پہنچ گئیں

    خدا کیلئے لڑکیوں کے اسکول کھول دو،سینئیر صحافی طالبان کے دفتر پہنچ گئیں

    کابل: بچیوں کے اسکول کھلوانے کیلئے سینیئر افغان صحافی اور سماجی کارکن محبوبہ سراج طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے دفتر پہنچ گئیں۔

    باغی ٹی وی: حال ہی میں عرب نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے افغان طالبان کے محلات اور پالیسی پر پہلی خصوصی دستاویزی فلم جاری کیجس میں خواتین کے حقوق کی رہنما اور صحافی محبوبہ سراج نے بھی ملاقات کی، جنہوں نے ان سے لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کھولنے کی اپیل کی،دستاویزی فلم کی مختصر کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں محبوبہ سراج کو ذبیح اللہ سے ملاقات کرتے دیکھا جا سکتا ہےمختصر کلپ دستاویزی فلم کا حصہ ہے-

    یونیورسٹیاں خواتین کو دوباہ داخلہ دینے کیلئے تیارہیں، افغان محکمہ تعلیم

    رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے ترجمان سے ملاقات کے دوران محبوبہ سراج نے کہا کہ خدا کیلئے لڑکیوں کے اسکول کھول دو، افغانستان ایک ایسی نسل کا متحمل نہیں ہوسکتا جو اسکول ہی نہ گئی ہو طاقت سے اقتدار حاصل تو کیا جا سکتا ہے مگر اسے برقرار نہیں رکھا جا سکتا، جب تک طالبان حکومت یہ مسئلہ حل نہیں کرتی دنیا ان کے خلاف ہی رہے گی۔


    اس موقع پر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے محبوبہ سراج کے تحفظات افغان حکومت تک پہنچانے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ اگر اسکول کی لڑکیاں حکومت کے خلاف جائیں گی تو یہ معاشرے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے وہ صرف ترجمان ہیں، معاملے کو عمائدین تک پہنچادیں گے۔

    افغان طالبان حکومت کے 2 سال پورے ہونے پر امریکی وزیر خارجہ کا بیان

    واضح رہے کہ طالبان حکام نے امریکی فوج کے انخلا کے بعد 15 اگست 2021 کو افغانستان پر قبضہ کرلیا تھا،طالبان نے دسمبر 2022 میں خواتین کی یونیورسٹی تعلیم پر پابندی لگا دی تھی جس سے عالمی سطح پر غم و غصہ پیدا ہوا تھا اگست 2021 میں اقتدارسنبھالنے کے بعد چھٹی جماعت کےبعد سےلڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا تھا،طالبان کے عبوری حکومت سنبھالنے کے بعد سے اففانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کی تعلیم ، خواتین کے پارک، جم، یونیورسٹیوں میں جانے سمیت غیر سرکاری گروپوں اور اقوام متحدہ کے اداروں میں ملازمتوں پر پابندیاں عائد ہیں-

    موسمیاتی تبدیلیاں،ماہرین نے یو اے ای کو انتباہ جاری کر دیا

  • افغان طالبان حکومت کے 2 سال پورے ہونے پر امریکی وزیر خارجہ کا بیان

    افغان طالبان حکومت کے 2 سال پورے ہونے پر امریکی وزیر خارجہ کا بیان

    کابل پر طالبان قبضے کے 2 سال مکمل ہونے پر امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جب تک خواتین کو تحفظ نہیں دیا جائے گا طالبان کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آسکیں گے-

    باغی ٹی وی: امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ افغان طالبان نے وعدے کیے، مگر پورے نہیں کیے ، طالبان کو وعدوں کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں،جب تک خواتین کو تحفظ نہیں دیا جائے گا طالبان کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آسکیں گے-

    انٹونی بلنکن کا کہنا تھاکہ 2 برس میں تقریباً 34 ہزار افغان شہریوں کو خصوصی امیگرنٹ ویزے جاری کیے گئے جبکہ اگست 2021 سے اب تک 1.9 بلین ڈالر افغان عوام کی امداد کے لیے عطیہ کیے افغانستان میں شراکت داروں کے ساتھ وعدوں کی تکمیل پر پیشرفت جاری ہے۔

    یونیورسٹیاں خواتین کو دوباہ داخلہ دینے کیلئے تیارہیں، افغان محکمہ تعلیم

    یاد رہے کہ طالبان حکام نے امریکی فوج کے انخلا کے بعد 15 اگست 2021 کو افغانستان پر قبضہ کرلیا تھا،طالبان نے دسمبر 2022 میں خواتین کی یونیورسٹی تعلیم پر پابندی لگا دی تھی جس سے عالمی سطح پر غم و غصہ پیدا ہوا تھا اگست 2021 میں اقتدارسنبھالنے کے بعد چھٹی جماعت کےبعد سےلڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا تھا،طالبان کے عبوری حکومت سنبھالنے کے بعد سے اففانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کی تعلیم پرپابندی عائد کی گئی۔

    امریکا میں بھارتی شہریوں پر فراڈ کا جرم ثابت،ملزمان کو15 سال سے زائد قید کی …

    دوسری جانب حال ہی میں افغان محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ یونیورسٹیاں خواتین کو دوباہ داخلہ دینے کیلئے تیارہیں، تاہم اس بات کی منظوری طالبان کی اعلٰی قیادت دے گی،افغان وزیرتعلیم ندا محمد ندیم کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم پرپابندی لازمی تھی کیونکہ کچھ مضامین پڑھائے جانے سے اسلام کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے،یہ پابندی طالبان سپریم کمانڈر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی طرف سے لگائی گئی تھی،یہ عارضی ہے ، مخلوط تعلیم، نصاب اور ڈریس کوڈ کا مسئلہ حل ہو جائے گا تو یونیورسٹیاں دوبارہ کھول دی جائیں گی ہیبت اللہ اخوندزادہ کی طرف سے جنوبی شہر قندھار سے جاری کردہ پابندی اگلے نوٹس تک برقرار ہے۔

    نریندرمودی کی انوکھی اپیل ماننے پر بی سی سی آئی گولڈن ٹک سے محروم ہوگیا

  • طالبان نے لڑکیوں پر کلاس 3 سے آگے پڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی

    طالبان نے لڑکیوں پر کلاس 3 سے آگے پڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی

    کابل: افغانستان میں سیکنڈری اسکولوں میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے بعد طالبان نے اب کلاس 3 سے آگے پڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی : 15 اگست 2021 کوجب سے طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا ہے، تب سے اب تک خواتین پر پابندیوں کے کئی احکامات جاری کیے جا چکے ہیں ایسے کئی معاملات ہیں مگر کئی معاملات میں تو کسی حکم نامے یا سفارش کے بغیر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    طالبان کی جانب سے خواتین پر پابندیاں چار طرح کی ہیں: سیاست سے بے دخلی، عوامی سرگرمیوں پر پابندیاں، تعلیم پر پابندی، اور کام کرنے کے حق پر پابندی ،یہ وہ چاربنیادی پابندیاں ہیں جو طالبان نےخواتین پر عائد کر رکھی ہیں حالانکہ اُنھوں نے اپنے گذشتہ دورِ حکومت کے مقابلے میں زیادہ نرمی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

    ہر بارفرد جرم عائد ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا،برطانوی …

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی فارسی کے مطابق طالبان نے 10 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کردی جس کے بعد کلاس 3 کے بعد لڑکیاں تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں گی چھٹی جماعت کی ایک طالبہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم سے کہا گیا ہے کہ جن لڑکیوں کا قد 10 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں سے زیادہ ہے، انہیں بھی اسکول میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    بی بی سی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزنی صوبے میں طالبان حکومت کی وزارت تعلیم کےحکام نے اسکولوں اور مختصر مدت کے تربیتی پروگراموں کے سربراہوں کو مطلع کیا ہے کہ 10 سال سے زیادہ عمرکی لڑکیوں کوپڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی دیگر صوبوں میں ‘وزارت تبلیغ اور رہنمائی’ نے لڑکیوں کے اسکولوں کے سربراہوں سے کہا ہے کہ کسی بھی طالبہ کو تیسری جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    خواتین میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کےعلاج کیلئے تیار گولی کی منظوری مل گئی

    قبل ازیں طالبان نے لڑکیوں کے سیکنڈری تعلیم پر پابندی عائد کر رکھی تھی تاہم پرائمری اسکول میں پانچویں جماعت تک لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی تھیں جب کہ خواتین پر ملازمتوں کے دروازے بند ہیں اور انھیں پارکوں، جمز، میلوں اور پارلرز میں بھی جانے کی اجازت نہیں۔

  • پاکستان افغانستان اور سنٹرل ایشیا تجارت میں تاریخ رقم

    پاکستان افغانستان اور سنٹرل ایشیا تجارت میں تاریخ رقم

    سنٹرل ایشیا روٹ پر نیا سنگ میل طے ،پاکستان افغانستان اور سنٹرل ایشیا تجارت میں تاریخ رقم ہو گئی

    قازقستان سے شروع کیے گئے منصوبے سے ٹرک افغانستان کے راستے پاکستان پہنچ گئے ،سفارتی ذرائع کے مطابق قازقستان اور پاکستان کے درمیان پاکستانی کمپنی نیشنل لاجسٹک سیل کے ساتھ ذریعے تجارت روٹ پر کام کرے گی، نیشنل لاجسٹک سیل پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت کو محفوظ طریقے سے یقینی بنائے گی۔قازقستان سے پاکستان اور واپس جانے والا کارگو 4,000 کلومیٹر کا سفر طے کیا ،

    سنٹرل ایشیا اور پاکستان کے درمیان 4 ہزار کلومیٹر سب سے کم راستہ ہے قازقستان افغانستان کو آٹے اور اناج کی فراہمی کے لیے ازبکستان کے ساتھ مل کر اپنا تعاون بھی بڑھائے گا ،انہوں نے افغانستان کی سمت ترکمانستان کی سرزمین کے ذریعے سامان کی ترسیل پر 30 فیصد رعایت کے معاہدہ ہوچکا ہے وسطی ایشیا، ہندوستان اور خلیج فارس کو ملانے والے پل کے طور پر، افغانستان قازقستان کو پاکستان کی کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کا استعمال ہوگا،قازقستان 3 اگست کو آستانہ میں پہلے قازق-افغان بزنس فورم کی میزبانی بھی کرے گا،اجلاس میں میں پاکستان اور افغانستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • رواں ہفتے امریکی حکام دوحا میں طالبان کے وفد سےملاقات کریں گے

    رواں ہفتے امریکی حکام دوحا میں طالبان کے وفد سےملاقات کریں گے

    امریکی حکام رواں ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحا میں طالبان نمائندوں کے وفد سے ملاقات کریں گے۔

    باغی ٹی وی: امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق فغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائند تھامس ویسٹ اور افغان خواتین، لڑکیوں اور انسانی حقوق کےلیےامریکی نمائندہ خصوصی رینا امیری آستانہ قازقستان میں قازقستان، کرغیزجمہوریہ، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستا ن کے نمائندوں کے ساتھ افغانستان سے متعلق ملاقاتیں کریں گے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی حکام کی رواں ہفتے دوحا میں طالبان نمائندوں کے وفد سے ملاقات ہوگی جس میں معیشت، سکیورٹی اور خواتین کے حقوق پر بات چیت ہوگی ملاقات میں افغانستان کے لیے انسانی امداد، سلامتی کے مسائل، افغان معیشت کے استحکام اور منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ روکنے کے معاملات پر بھی گفتگو کی جائے گی۔

    مکیش امبانی نے نئی ’بم پروف‘ مرسڈیز کار خرید لی

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے امریکی نمائندہ خصوصی تھامس ویسٹ اور افغان خواتین، لڑکیوں اور انسانی حقوق کی ایلچی رینا امیری طالبان کے وفد سے ملاقات کریں گے تھامس ویسٹ اور رینا امیری 26 سے 31 جولائی تک قازقستان اور قطر کا دورہ کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان اگست 2021 میں امریکی انخلا مکمل ہونے کے بعد دوبارہ اقتدار میں آئے ہیں واشنگٹن اب بھی کابل میں طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا اور اس نے گروپ اور اس کے رہنماؤں کے خلاف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں محکمہ خارجہ نے بدھ 26 جولائی کو اپنے بیان میں کہا کہ دوحہ میں ہونے والی ملاقاتیں امریکی موقف میں تبدیلی کا اشارہ نہیں دیں گی۔

    ہزاروں گاڑیوں سے لدے بحری جہاز میں آگ لگ گئی،عملے نےسمندر میں چھلانگ لگا دی

    ترجمان ویدانت پٹیل نے نامہ نگاروں کو بتایا، “ہم بہت واضح ہیں کہ ہم طالبان کے ساتھ مناسب طریقے سے بات چیت کریں گے جب ایسا کرنا ہمارے مفاد میں ہوگا۔ اس کا مطلب طالبان کو تسلیم کرنے یا ان کے معمول پر لانے یا ان کے قانونی ہونے کا کسی بھی قسم کا اشارہ نہیں ہے2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے طالبان کو خواتین کی تعلیم پر عائد پابندیوں پر متعدد مسلم اکثریتی ممالک سمیت بین الاقوامی سطح پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    خواتین کے یونیورسٹی جانے پر پابندی عائد کرے کے علاوہ انہوں نے لڑکیوں کو چھٹی جماعت سے پہلے اسکول جانے سے روک دیا۔ رواں ماہ کے اوائل میں خواتین کے بیوٹی پارلرز پر بھی پابندی عائد کر دی تھی گزشتہ سال کےاواخر میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے طالبان کو متنبہ کیا تھا کہ اگر طالبان نے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں کی تو اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔

    جوبائیڈن انتظامیہ کی پناہ گزینوں پر عائد کی گئی پابندیاں معطل

  • پاکستان میں حکام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے پریس کی آزادی کا کہتے ہیں،امریکا

    پاکستان میں حکام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے پریس کی آزادی کا کہتے ہیں،امریکا

    واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا تکنیکی اور ترقیاتی اقدامات کے ذریعے پاکستان کے ساتھ روابط جاری رکھے گا۔

    باغی ٹی وی : امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے پریس بریفنگ میں کہا کہ انٹونی بلنکن اوربلاول بھٹو نے مضبوط تجارتی اور سرمایہ کاری کے ذریعے تعلقات بڑھانے پر بات کی، امریکا تکنیکی اور ترقیاتی اقدامات کے ذریعے پاکستان کے ساتھ روابط جاری رکھے گا،پاکستان میں حکام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے پریس کی آزادی کا کہتے ہیں۔

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ جاری سلوک کی مذمت کی، اور واضح کیا کہ کسی امریکی عہدیدار کا دورہ افغانستان کا کوئی پلان نہیں-

    ایل پی جی کی قیمت میں 10روپےفی کلو اضافہ

    واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور پاکستانی معیشت اور افغان امور پر تبادلہ خیال کیا امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق انٹونی بلنکن نے پاکستانی وزیر خارجہ سے گفتگو میں پاک امریکا تعلقات میں تعمیری شراکت داری قائم رکھنےکے عزم کا اعادہ کیا۔

    انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام دہشت گردی سے شدید متاثر ہوئے ہیں، انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے،ترجمان امریکی دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے روس کی یوکرین کے خلاف جنگ کے اثرات سمیت پرامن اور مستحکم افغانستان پر تبادلہ خیال کیا۔

    ملک میں موسلا دھار بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقے زیر آب،فصلیں …

    سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو سے مثبت گفتگو رہی،پاکستان کی معیشت کی بحالی اور علاقائی بالخصوص افغانستان کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، امریکا پاکستان سے مثبت، جمہوری اور تعمیری تعلقات کی حمایت کرتا ہے۔

  • ژوب حملہ: دہشتگردوں کے امریکی ہتھیار اور سامان استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا

    ژوب حملہ: دہشتگردوں کے امریکی ہتھیار اور سامان استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا

    کالعدم دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ژوب حملے میں دہشتگردوں کے امریکی ہتھیار اور سامان استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حملے میں دہشتگردوں نے افغانستان میں امریکی فوج کا چھوڑا ہوا اسلحہ استعمال کیا حملے میں 5.56 ایم ایم کیلیبر ایم 16 اسالٹ رائفلیں اور جدید ہیلمٹ، دستانے، بیک پیک اور یونیفارمز استعمال کیے گئے حملہ کرنے والے دہشت گرد جو کہ ہلاک ہو چکے ہیں امریکی یونیفارم میں ملبوس تھے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ وہی اسلحہ و یونیفارم ہے جو امریکی افواج نے افغانستان میں چھوڑا تھا، ٹی ٹی پی کے شر پسند یہ ہتھیار پاکستان کے خلاف استعمال کرتے آئے ہیں بھاری ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد امریکی یونیفارم پہن لیں تب بھی بزدلی کی موت ہی مریں گے دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی پاک دھرتی پر ناپاک قدم رکھنے والے تمام پاکستان دشمن عناصر کو منہ کی کھانی پڑے گی سیکیورٹی فورسز پاکستان میں امن دشمنوں کو بے نقاب اور جڑ سے ختم کرنے کے لیے مسلسل سر گرم عمل ہیں۔

    افغانستان کو دہشتگرد حملوں کیلئےمحفوظ مقام کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے،امریکا

    واضح رہے کہ 12 جولائی جو پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر ژوب کی فوجی چھاؤنی پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے میں 5 سیکیورٹی اہلکار شہید جب کہ پانچ شدید زخمی ہوئے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا بعد ازاں کلئیرنس آپریشن کے بعد ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 5 ہوگئی، جبکہ 9 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

    ڈپٹی کمشنر ژوب عظیم کاکڑ کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب شروع ہونے والے اس حملے میں فائرنگ کی زد میں آکر ایک خاتون ہلاک جب کہ 5 شہری بھی زخمی ہوئےکالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ گروپ ’جماعت الاحرار‘ نے ژوب میں کارروائی کی ذمہ داری قبول کی۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ بدھ کی صبح نامعلوم دہشت گرد ژوب کینٹ پر حملہ آور ہوئے دہشت گردوں نے چھاؤنی میں گھسنے کی کوشش کی جنہیں ڈیوٹی پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں نے روکے رکھا اور فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد دہشت گردوں کو باؤنڈری کے ساتھ ایک جگہ پر محصور کر دیا گیا تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے، کلیئرنس آپریشن کے دوران چار سیکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

    غلاف کعبہ تبدیل کر دیا گیا،ویڈیو

    جس کے بعد سیاسی اور عسکری قیادت نے دہشتگرد حملوں پر اپنے شدید تحفظات کا اظہا رکیا ہےگزشتہ روز آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت ہونے والی کورکمانڈرز کانفرنس نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اوردیگر دہشتگرد گروپوں سے ملکی سلامتی کو خطرہ ہے۔

    کور کمانڈرز کانفرنس نے ایک پڑوسی ملک میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کو کارروائی کی آزادی، دہشت گردوں کے پاس جدید ترین ہتھیاروں کی دستیابی کو نوٹ کیا گیا اور فورم نے کہا کہ دہشت گردوں کے پاس جدید ترین ہتھیار پاکستان کی سلامتی متاثر کرنے کی بڑی وجوہات ہیں۔

    اس سے قبل آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو کارروائیوں کیلئے حاصل آزادی اور ان کے محفوظ ٹھکانوں پر مسلح افواج کو تشویش ہے، امید ہے افغان حکومت دوحہ معاہدے کے مطابق اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گی مسلح افواج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں اور آزادانہ دہشت گرد کارروائیوں پر شدید تحفظات ہیں، توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور عبوری حکومت حقیقی معنوں میں دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔

    شمالی کوریا نے جاپانی سمندری حدود کے قریب بیلسٹک میزائل فائر کر دیا

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی شمولیت ایک اور اہم تشویشناک پہلو ہے جس پر فوری توجہ دینے اور اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے، اس طرح کے دہشت گرد حملے ناقابل برداشت ہیں، ان حملوں پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے مؤثر جوابی کارروائی ہوگی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بلاامتیاز جاری رہے گا اور مسلح افواج دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گی۔ کوئٹہ گیریژن آمد پر کور کمانڈر کوئٹہ نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

    اسی حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اپنی حدود کے اندر عسکریت پسندوں کو لگام ڈالنےکی خواہش رکھتے ہوں یا نہیں، پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی ختم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

    علاوہ ازیں ٹوئٹر پر ایک بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں50 سے 60 لاکھ افغان شہریوں کو 40 سے 50 سال سے حقوق کے ساتھ پناہ میسر ہے لیکن اس کے برعکس پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو افغان سر زمین پر پناہ گاہیں میسر ہیں لیکن اب یہ صورت حال مزید جاری نہیں رہ سکتی، پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کےتحفظ کے لیےاپنے وسائل بروئے کار لائےگا، افغانستان ہمسایہ اور برادر ملک ہونےکا حق نہیں ادا کر رہا، افغانستان دوحہ معاہدے کی پاسداری بھی نہیں کر رہا۔

    عمران خان کے فیک فالورز کے بعد فیک ویوز بھی پکڑے گئے

  • افغانستان کو دہشتگرد حملوں کیلئےمحفوظ مقام کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے،امریکا

    افغانستان کو دہشتگرد حملوں کیلئےمحفوظ مقام کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے،امریکا

    امریکا نے کہا ہےکہ افغان طالبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بننے دیں۔

    باغی ٹی وی: پریس بریفنگ کے دوران امریکی وزرات خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ افغان طالبان یہ ہر صورت یقینی بنائیں کہ ان کا ملک دہشتگرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہو اوروہ اپنی سرزمین کو دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہ بننے دیں دہشتگردی کو روکنا طالبان کی ذمہ داری ہے، افغانستان کو دہشتگرد حملوں کے لیے محفوظ مقام کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے افغانستان سے کیے جانے والے دہشتگردوں حملوں پر اپنے شدید تحفظات کا اظہا رکیا ہےگزشتہ روز آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت ہونے والی کورکمانڈرز کانفرنس نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اوردیگر دہشتگرد گروپوں سے ملکی سلامتی کو خطرہ ہے۔

    چین نےتائیوان کےنائب صدرکےدورہ امریکہ کی مخالفت کردی

    کور کمانڈرز کانفرنس نے ایک پڑوسی ملک میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کو کارروائی کی آزادی، دہشت گردوں کے پاس جدید ترین ہتھیاروں کی دستیابی کو نوٹ کیا گیا اور فورم نے کہا کہ دہشت گردوں کے پاس جدید ترین ہتھیار پاکستان کی سلامتی متاثر کرنے کی بڑی وجوہات ہیں۔

    اس سے قبل آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو کارروائیوں کیلئے حاصل آزادی اور ان کے محفوظ ٹھکانوں پر مسلح افواج کو تشویش ہے، امید ہے افغان حکومت دوحہ معاہدے کے مطابق اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گی مسلح افواج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں اور آزادانہ دہشت گرد کارروائیوں پر شدید تحفظات ہیں، توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور عبوری حکومت حقیقی معنوں میں دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔

    اسرائیل نے سرکاری طور پر مغربی صحارا پر مراکش کی خودمختاری کو تسلیم کرلیا

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی شمولیت ایک اور اہم تشویشناک پہلو ہے جس پر فوری توجہ دینے اور اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے، اس طرح کے دہشت گرد حملے ناقابل برداشت ہیں، ان حملوں پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے مؤثر جوابی کارروائی ہوگی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بلاامتیاز جاری رہے گا اور مسلح افواج دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گی۔ کوئٹہ گیریژن آمد پر کور کمانڈر کوئٹہ نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

    اسی حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اپنی حدود کے اندر عسکریت پسندوں کو لگام ڈالنےکی خواہش رکھتے ہوں یا نہیں، پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی ختم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

    رجب طیب اردوان سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

    علاوہ ازیں ٹوئٹر پر ایک بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں50 سے 60 لاکھ افغان شہریوں کو 40 سے 50 سال سے حقوق کے ساتھ پناہ میسر ہے لیکن اس کے برعکس پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو افغان سر زمین پر پناہ گاہیں میسر ہیں لیکن اب یہ صورت حال مزید جاری نہیں رہ سکتی، پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کےتحفظ کے لیےاپنے وسائل بروئے کار لائےگا، افغانستان ہمسایہ اور برادر ملک ہونےکا حق نہیں ادا کر رہا، افغانستان دوحہ معاہدے کی پاسداری بھی نہیں کر رہا۔