Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • افغانستان کو 6 وکٹوں سے شکست

    افغانستان کو 6 وکٹوں سے شکست

    کرکٹ ورلڈکپ، تیسرے میچ میں بنگلا دیش نے افغانستان کو 6 وکٹوں سے شکست دیدی

    افغانستان کی ٹیم ابتدا میں اچھی کھیلی تاہم بیٹنگ لائن زیادہ دیر تک نہ چل سکی اور 156 کے مجموعی اسکور پر پوڑی ٹیم آؤٹ ہوگئی،بنگلادیش کو یہ میچ جیتنے کے لیے 157 رنز کا ہدف ملا تھا ،بنگال ٹائیگرز نے157رنزکا ہدف 35 ویں اوور میں مکمل کر لیا،

    ورلڈ کپ میں افغانستان کی ٹیم بنگلا دیش کیخلاف 156 رنز پر ڈھیر ، افغانستان نے بنگلا دیش کو جیت کیلئے 157 رنز کا ہدف دیاتھا،افغانستان کے اوپنر ابراہیم زدران 22 رنز بناکر کپتان شکیب الحسن کا شکار بنے، رحمت شاہ کو بھی شکیب نے 18 رنز پر پویلین لوٹایاجس کے بعد کپتان حمشت اللہ شاہد کو 18رنز پر مہدی حسن نے پویلین کی راہ دکھائی، اگلے ہی اوور میں رحمان اللہ گرباز بھی 47 رنز بنا کر مستفیض الرحمان کا شکار بن گئے نجیب زادران ٹیم کو سنبھالنے آئے لیکن وہ بھی 5 رنز بنا کر شکیب الحسن کا شکار ہو گئے، محمد نبی بھی صرف 6 رنز ہی بنا سکے اور تسکین احمد کا شکار بنے

    آئی سی سی ورلڈکپ کے تیسرے میچ میں بنگلادیش نے افغانستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا،دھرم شالہ کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں بنگلادیش کے کپتان شکیب الحسن نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے کہا کہ کوشش کریں گے حریف ٹیم کو جلد از جلد آوٹ کریں اور ٹورنامنٹ کا آغاز جیت کے ساتھ کریں ,اس موقع پر افغان ٹیم کے کپتان حشمت اللہ شاہدی نے کہا کہ ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا ہی فیصلہ کرتے تاہم کوشش کریں بڑا ٹارگٹ سیٹ کریں۔کپتان حشمت اللہ شاہدی، رحمان اللہ گرباز، ابراہیم زدران، رحمت شاہ، محمد نبی، نجیب اللہ زدران، عظمت اللہ عمرزئی، راشد خان، مجیب الرحمان، نوین الحق، فضل الحق فاروقی شامل ہیں۔

    آج دوسرا میچ بھی ہو گا،دوسرے میچ میں جنوبی اور سری لنکا کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی

     بھارتی ٹیم کے ان فارم بیٹر شبمن گل بخار میں مبتلا

    کیا بابر اعظم بھارت کو منہ توڑ جواب دیں گے؟

    بابراعظم کا کہنا تھا کہ دو پریکٹس میچوں میں مختلف کامبی نیشن آزمائے ہیں

    ورلڈ کپ 2023: تاریخ رقم ہو جائے گی کہ پاکستانی پریس باکس میں کوئی پاکستانی صحافی موجود نہیں ہو گا،سینئیرصحافی

  • ایشین گیمز ؛  افغانستان پاکستان کو شکست دیکر فائنل  میں شامل

    ایشین گیمز ؛ افغانستان پاکستان کو شکست دیکر فائنل میں شامل

    ایشین گیمز کے سیمی فائنل میں افغانستان نے پاکستان کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی ہے جبکہ ینگزو میں ہونے والے ایشین گیمز کے سیمی فائنل میں افغانستان نے پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی تاہم پاکستان کی ٹیم افغانستان کو متاثر کن ہدف دینے میں ناکام رہی۔


    پاکستان کی پوری ٹیم 115 رنز پر پویلین لوٹ گئی ہے جس کے بعد افغانستان کو جیت کیلئے 116 رنز درکار تھے افغانستان نے 17 اوورز اور 5 گیندوں میں 6 وکٹوں کے نقصان پر مقررہ ہدف پورا کرلیا۔
    ورلڈ کپ 2023 کن کن کھلاڑیوں کیلئے آخری ورلڈ کپ ہوسکتا؟
    فرانسیسی سفیر نے قومی ٹیم کیلئے پیغام جاری کردیا

     بھارتی ٹیم کے ان فارم بیٹر شبمن گل بخار میں مبتلا

    کیا بابر اعظم بھارت کو منہ توڑ جواب دیں گے؟

    بابراعظم کا کہنا تھا کہ دو پریکٹس میچوں میں مختلف کامبی نیشن آزمائے ہیں
    میچ میں پاکستان ٹیم کی قیادت قاسم اکرم نے کی، پاکستان کی جانب سے عمیر بن یوسف 24 رنز بناکر نمایاں رہے عرفات منہاس 14 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے، عامر جمال نے 14 اور روحیل نذیر نے 10 رنز بنائے تاہم واضح رہے کہ اس سے قبل سیمی فائنل میں بھارت نے بنگلا دیش کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی ، افغانستان فائنل میں بھارت کا سامنا کرے گی۔

  • افغانستان کا آج ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر نیلام کرنے کا اعلان

    افغانستان کا آج ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر نیلام کرنے کا اعلان

    بینک آف افغانستان نے آج ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امریکی کرنسی نیلام کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : افغان نیوز ایجنسی "بختار” نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان مرکزی بینک ’دی افغانستان بینک‘ نےآج 3 اکتوبر 2023 کو ایک کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے،یہ فیصلہ افغان کرنسی کی مارکیٹ میں قدر کو مستحکم رکھنے کیلئے کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ڈالرز کی افغانستان اسمگلنگ کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قدر میں غیر معمولی کمی ہو گئی تھی،ڈالر کی قیمت میں مسلسل تین ہفتوں تک کمی کے بعد روپے کی قدر بحال ہو گئی ہےمنگل کو کاروبار کے آغاز پر انٹر بینک میں ڈالر ایک روپے ایک پیسے سستا ہو گیا، جس کے بعد ڈالر کی قیمت 285 روپے 75 پیسے ہو گئی گزشتہ روز کاروبار کے اختتام پر انٹر بینک میں ڈالر 286 روپے 76 پیسے پر بند ہوا تھا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی سکیورٹی سے متعلق بشری بی بی کی درخواست …

    اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت آغاز ہوا ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 162 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 46 ہزار 789 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔

    چمن فالٹ لائن میں زلزلے کے فوری طورپر آنے کے کوئی سائنسی شواہد نہیں …

  • بھارتی حکومت کا عدم تعاون، افغانستان نے نئی دہلی میں اپنا سفارت خانہ بند کردیا

    بھارتی حکومت کا عدم تعاون، افغانستان نے نئی دہلی میں اپنا سفارت خانہ بند کردیا

    نئی دہلی: افغانستان نے نئی دہلی میں اپنا سفارت خانہ بند کرتے ہوئے بھارتی حکومت پر عدم تعاون کا الزام عائد کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر افغان سفارت خانے کی جانب سے بھارتی وزارت خارجہ کو ایک غیر دستخط شدہ خط بھیجا گیا تھا، جس میں اشارہ دیا گیا تھا کہ سفارت خانےکو یکم اکتوپر سے بند کردیا جائے گاخط میں لکھا ہےکہ نئی دہلی میں اسلامی جمہوریہ افغانستان کو سفارت خانہ یکم اکتوبر 2023 سے اپنے کام بند کرنے کے فیصلے کا اعلان کرنے پر افسوس ہے۔
    https://x.com/AfghanistanInIN/status/1708189818516119651?s=20
    افغان سفارت خانے کے عملے نے بھارتی وزارت خارجہ کو لکھے خط میں موقف اپنایا کہ بھارت سفارتی کام میں تعاون نہیں کررہا، سفارت خانے کو بائی پاس کر کے افغانستان حکومت سے براہ راست رابطے کرتا ہے، جس سے معاملات خراب ہورہے ہیں۔
    https://x.com/AfghanistanInIN/status/1708189840032846245?s=20
    واضح رہے کہ اگست2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے تین ہزار افغان طلبا اب بھی اپنے ویزوں کے منتظر ہیں، جس سے ان کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے بھارت2021 میں اقتدار میں واپس آنے والی طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا، اس نے افغان سفارت خانے کو سابق صدر اشرف غنی کے مقرر کردہ سفیر اور مشن کے عملے کے تحت کام جاری رکھنے کی اجازت دی تھی، جو امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد کابل سے فرار ہو گئے تھے۔

  • کراچی: افغانستان سے بحرین کے پارسل سےساڑھے 14 کلو گرام آئس ہیروئن برآمد

    کراچی: افغانستان سے بحرین کے پارسل سےساڑھے 14 کلو گرام آئس ہیروئن برآمد

    کراچی : افغانستان سے بحرین کے پارسل سے کراچی میں ساڑھے 14 کلو گرام آئس ہیروئن پکڑی گئی، پارسل افغانستان سے بحرین بھیجا جارہا تھا، پارسل مزار شریف سے بحرین روانہ کیا گیا تھایہ انکشاف بھی ہوا کہ پارسل وصول نہ کرنے پر قریبی ملک پاکستان بھیج دیا گیا۔

    باغی ٹی وی:تفصیلات کے مطابق کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز ڈرگ انفورسمنٹ سیل نے کارروائی کرتے ہوئے کارٹن سے 30 کروڑ روپے مالیت کی آئس منشیات برآمد کرلی،کراچی ائیرپورٹ کسٹمز ڈرگ انفورسمنٹ سیل کے کلیکٹر شفیق احمد لاٹکی کے مطابق ان کے عملے نے کراچی ائیرپورٹ پر لاوارث میں منشیات کا سراغ لگایا۔

    انہوں نے بتایا کہ فروٹ باسکٹس پر مشتمل پارسل افغانستان کے شہر مزار شریف سے رفیع نامی شہری نے بحرین کے گلباز خان کے نام روانہ کیا تھا، غالباً پکڑے جانے کے ڈر سے بحرین میں متعلقہ شخص نے پارسل وصول نہیں کیا۔

    فارسی زبان کے عظیم صوفی شاعر مولانا رومی

    حکام کا کہنا ہے کہ پکڑے جانے کے ڈر سے پارسل وصول نہیں کیا گیا، بحرینی حکام نے پارسل کھولے بغیر کراچی بھیج دیا،کراچی ائیرپورٹ پر شک کی بنا پر کسٹمز ڈرگ انفورسمنٹ کے عملے نے پارسل کی چیکنگ کی تو عملے نے دوران چیکنگ پارسل میں اعلیٰ کوالٹی کی 14 کلو 500 گرام کرسٹل آئس کا سراغ لگایا۔

    پارسل کھولنے پر کارٹن سے 30 کروڑ روپے مالیت کی اعلیٰ کوالٹی کی کرسٹل آئس برآمد ہوئی جس پر کسٹمز پریونٹیو افسر کی مدعیت میں درج مقدمہ کے تحت مزید کارروائی جاری ہے۔

    ن لیگ کا انتقامی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز

  • دنیا کی بہترین کرنسی کو طالبان نے کنٹرول کرلیا

    دنیا کی بہترین کرنسی کو طالبان نے کنٹرول کرلیا

    انسانی امداد اور ایشیائی ہمسایہ ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارت کی وجہ سے اربوں ڈالر کی امداد نے افغانستان کی کرنسی کو اس سہ ماہی میں عالمی درجہ بندی میں سب سے اوپر پہنچا دیا ہے بلوم برگ نے لکھا ہے کہ بدترین انسانی حقوق کے ریکارڈ کے مطابق غربت کا شکار ملک کے لیے یہ ایک غیر معمولی مقام ہے۔ حکمران طالبان، جنہوں نے دو سال قبل اقتدار پر قبضہ کیا تھا، نے بھی افغانیوں کو مضبوط گڑھ میں رکھنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں مقامی لین دین میں ڈالر اور پاکستانی روپے کے استعمال پر پابندی عائد کرنا اور گرین بیک کو ملک سے باہر لانے پر پابندیاں سخت کرنا شامل ہیں۔ اس نے آن لائن ٹریڈنگ کو غیر قانونی بنا دیا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قید کی دھمکی دی ہے۔

    بلومبرگ کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرنسی کنٹرول، نقد رقم کی آمد اور دیگر ترسیلات زر نے اس سہ ماہی میں افغانیوں کو تقریبا 9 فیصد اضافے میں مدد دی ہے، جو کولمبیا کے پیسو کے 3 فیصد اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سال کے دوران افغانی کرنسی میں تقریبا 14 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ کولمبیا اور سری لنکا کی کرنسیوں کے بعد عالمی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی تبدیلی کے بعد کرنسی کے نقصانات میں جو کمی دیکھی گئی ہے وہ اس ڈرامائی ہلچل کو بھی ظاہر کرتی ہے جو افغانستان پابندیوں کی وجہ سے عالمی مالیاتی نظام سے کافی حد تک کٹ گیا ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق بے روزگاری بہت زیادہ ہے، دو تہائی گھرانے بنیادی اشیاء خریدنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور افراط زر افراط زر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے 2021 کے اختتام کے بعد سے کم از کم 18 ماہ تک غریبوں کی مدد کے لیے تقریبا ہفتہ وار امریکی ڈالر کی آمد ہوتی ہے۔

    جبکہ واشنگٹن میں قائم نیو لائنز انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجی اینڈ پالیسی میں مشرق وسطیٰ، وسطی اور جنوبی ایشیائی امور کے ماہر کامران بخاری نے کہا، "کرنسی پر سخت کنٹرول کام کر رہا ہے، لیکن معاشی، سماجی اور سیاسی عدم استحکام کرنسی میں اس اضافے کو قلیل مدتی رجحان کے طور پر پیش کرے گا۔ افغانستان میں غیر ملکی زرمبادلہ کی تجارت اب زیادہ تر منی چینجرز کے ذریعے کی جاتی ہے جنہیں مقامی طور پر صرافہ کہا جاتا ہے جو بازاروں میں اسٹال لگاتے ہیں یا شہروں اور دیہاتوں میں دکانوں سے کام کرتے ہیں۔ کابل میں مصروف، کھلی فضا میں چلنے والی مارکیٹ سرائے شہزادہ ملک کا حقیقی مالیاتی مرکز ہے، جہاں ہر روز لاکھوں ڈالر کے مساوی رقم گزرتی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق ٹریڈنگ کی کوئی حد نہیں ہے۔ مالی پابندیوں کی وجہ سے اب تقریبا تمام ترسیلات زر مشرق وسطیٰ سمیت خطوں میں رائج صدیوں پرانے حوالہ منی ٹرانسفر سسٹم کے ذریعے افغانستان منتقل کی جاتی ہیں۔ حوالہ سرافوں کے کاروبار کا ایک اہم حصہ ہے۔

    اقوام متحدہ، جس کا تخمینہ ہے کہ افغانستان کو اس سال تقریبا 3.2 بلین ڈالر کی امداد کی ضرورت ہے، نے اس میں سے تقریبا 1.1 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں، عالمی ادارے کی مالیاتی ٹریکنگ سروس کے مطابق. گزشتہ سال اس تنظیم نے تقریبا 4 ارب ڈالر خرچ کیے تھے کیونکہ افغانستان کے 41 ملین افراد میں سے نصف کو جان لیوا بھوک کا سامنا تھا۔ عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال معیشت سکڑنا بند ہو جائے گی اور 2025 تک 2 سے 3 فیصد کی شرح نمو حاصل کرے گی، حالانکہ اس نے عالمی امداد میں کمی جیسے خطرات سے خبردار کیا ہے کیونکہ طالبان نے خواتین پر جبر کو تیز کر دیا ہے۔ لندن میں بی ایم آئی میں یورپ کنٹری رسک کی سربراہ انویتا باسو نے کہا، "غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین پر سخت پابندیاں اور تجارت میں بتدریج بہتری افغانی کی طلب میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانی سال کے آخر تک موجودہ سطح پر مستحکم رہنے کا امکان ہے۔ ایک مضبوط کرنسی افغانستان کے لئے تیل جیسی اہم درآمدات کے لئے افراط زر کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، خاص طور پر جب خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہیں۔

    اب بھی، نقد رقم کے بہاؤ کے باوجود، انسانی صورتحال اور مالی نقطہ نظر سنگین ہے. اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن کی جولائی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے منجمد زرمبادلہ کے 9.5 ارب ڈالر کے ذخائر میں سے 3.5 ارب ڈالر جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن اس منصوبے کو اس وقت روک دیا گیا جب اسے معلوم ہوا کہ مرکزی بینک کو طالبان سے آزادی حاصل نہیں ہے اور انسداد منی لانڈرنگ کنٹرول اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام میں کوتاہیاں ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس سال غیر ملکی امداد میں 30 فیصد کمی واقع ہوتی ہے تو اس سے فی کس آمدنی کم ہو کر 306 ڈالر رہ جائے گی جو 2020 کی سطح سے 40 فیصد کم ہے۔ خواتین کے خلاف وسیع پیمانے پر پابندیوں نے طالبان انتظامیہ کے اندر بھی تقسیم کو ہوا دی ہے ، کچھ نے کھلے عام اپنے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اخوندزادہ نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے، کام کرنے، عوامی پارکوں میں جانے، جم استعمال کرنے اور مردوں کی حفاظت کے بغیر طویل فاصلے تک سفر کرنے سے منع کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    رواں ماہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ طالبان نے جنوری 2022 سے رواں سال جولائی کے آخر تک لوگوں کی گرفتاری اور حراست کے دوران تشدد سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 1600 سے زائد واقعات کا ارتکاب کیا۔ دریں اثنا، 2023 میں پینٹاگون کے ایک جائزے سے پتہ چلا ہے کہ دولت اسلامیہ ایک بار پھر دنیا بھر میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لئے افغانستان کو ایک اڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس دہشت گرد گروپ نے افغانستان میں حملوں میں بھی اضافہ کیا ہے، جیسے ایک ڈپٹی گورنر کی ہلاکت اور ایک مسجد پر بم حملے میں داعش کے عسکریت پسندوں نے افغانستان میں چینی، بھارتی اور ایرانی سفارت خانوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ بی ایم آئی کے باسو نے کہا، "بالآخر، سیاسی استحکام کرنسی کو بنائے گا یا توڑ دے گا – اگر طالبان گھر پر کنٹرول کھو دیتے ہیں، تو کرنسی کو بھی نقصان پہنچے گا۔

  • افغانستان میں مسیحیت کی تبلیغ و ترویج کا الزام،بین الاقوامی این جی او کے 18 ارکان گرفتار

    افغانستان میں مسیحیت کی تبلیغ و ترویج کا الزام،بین الاقوامی این جی او کے 18 ارکان گرفتار

    افغانستان میں مسیحیت کی تبلیغ و ترویج کے الزام میں بین الاقوامی این جی او کے 18 ارکان کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق گرفتار این جی او ارکان میں ایک امریکی خاتون بھی شامل ہے سوئس این جی او انٹرنیشنل اسسٹنس مشن نے افغان صوبے غور میں اپنے ارکان کی گرفتاری کی تصدیق ہے، ان پر عیسائی مشنری کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے-

    بین الاقوامی امدادی مشن (IAM) نے تصدیق کی کہ اس کے عملے کو وسطی افغانستان کے صوبہ غور میں واقع اس کے دفتر سے اٹھا کر دارالحکومت کابل لے جایا گیا صوبے کے ایک حکومتی ترجمان عبدالواحد حماس غوری نے اے ایف پی کو بتایا کہ سیکیورٹی اور انٹیلیجنس فورسز کچھ عرصے سے اس گروپ پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔

    سعودی شہزادہ خالد بن محمد بن عبداللہ آل عبدالرحمن آل سعود انتقال کرگئے

    این جی او کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے ارکان کو افغان صوبہ غور سے گرفتار کرکے کابل لے جایا گیا ہے، طالبان حکام کی جانب سے عملے کے ارکان کو حراست میں لینےکی وجہ سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا، عملےکی حفاظت اور ان کی جلد رہائی یقینی بنانےکے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

    دستاویزات اور آڈیوز حاصل کیے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو عیسائیت میں شامل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں، انہوں نے مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا 21 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں ایک امریکی خاتون بھی شامل ہے۔

    ہم نے اپنی سیاسی قربانی دے کر پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا، اسحاق ڈار

    IAM نے پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ 18 افراد بشمول ایک "غیر ملکی” کو حراست میں لیا گیا ہے اور اسے الزامات کی نوعیت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے امریکی خاتون اور دو افغان عملے کو سب سے پہلے 3 ستمبر کو حراست میں لیا گیا، اس کے بعد بدھ کو مزید 15 افغان ملازمین کو حراست میں لیا گیا اگر ہماری تنظیم یا عملے کے کسی فرد کے خلاف کوئی الزام عائد کیا جائے تو ہم پیش کردہ کسی بھی ثبوت کا آزادانہ طور پر جائزہ لیں گے۔”

    IAM کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ تنظیم کی بنیاد عیسائی اقدار پر رکھی گئی ہے، لیکن یہ سیاسی یا مذہبی عقیدے کے مطابق امداد فراہم نہیں کرتی ہے۔

    نیب ترامیم سےمتعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے،شہباز شریف

    دوسری جانب ترجمان غور حکومت کا کہنا ہےکہ سکیورٹی فورسز این جی او کی کچھ عرصے سے نگرانی کر رہی تھیں، این جی او کے دفتر پر چھاپے میں برآمد دستاویزات اور آڈیوز سے لوگوں کو عیسائیت میں شامل ہونے کی دعوت دیے جانےکے شواہد ملے ہیں۔

  • یہ تاثر درست نہیں کہ امریکہ کسی سازش کے تحت افغانستان میں اسلحہ  چھوڑ کرگیا، نگراں وزیراعظم

    یہ تاثر درست نہیں کہ امریکہ کسی سازش کے تحت افغانستان میں اسلحہ چھوڑ کرگیا، نگراں وزیراعظم

    اسلام آباد: نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر سکیورٹی خطرات بڑھنے سے مؤثر جواب کی ضروریات بڑھ گئیں، پاکستان کو حق دفاع حاصل ہے اور اپنے لوگوں و سرزمین کے دفاع کے لیے جہاں سمجھیں گے ضرور ایکشن لیں گے۔

    باغی ٹی وی: امریکی خبر رساں ادارے ”وائس آف امریکہ“ سےگفتگو کرتےہوئےنگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نےافغانستان میں امریکی اسلحہ چھوڑے جانے کے حوالے سے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑنے کہا کہ یہ تاثر کہ امریکہ کسی سازش کے تحت افغانستان میں اسلحہ چھوڑ کر خطے سے چلا گیا درست نہیں ہے اور نہ ہی ان کے دیئے گئے بیان کا یہ مقصد تھا،پاکستان کی جانب سے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، کیونکہ کابل کا نظامِ حکومت طالبان کے پاس ہے تو ریاستی امور کے سلسلے میں ان سے ہی بات کرنی ہوگی۔

    ٹک ٹاک پر بچوں کے ڈیٹا کی خلاف ورزی پر 345 ملین یورو کا جرمانہ …

    انہوں نے کہا کہ ان کے بیان کا مقصد یہ نشاندہی کرنا تھا کہ امریکی ساختہ چھوٹے جنگی ہتھیار نہ صرف بلیک مارکیٹ میں مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا میں فروخت ہورہے ہیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہےٹی ٹی پی اور دیگر تنظیمیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اس اسلحہ کا استعمال کررہے ہیں جو کہ پاکستان کے لیے اسٹرٹیجکل اور ٹیکٹیکل چیلنج ہے پاکستان کو افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد پرسیکیورٹی کےخطرات کا سامنا ہےدوحہ امن معاہدے میں طالبان نے دنیا کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہوگی پاکستان کو حق دفاع حاصل ہے اور اپنے لوگوں اور سرزمین کے دفاع کے لیے جہاں سمجھیں گے ضرور ایکشن لیں گے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کے بیٹے پر فردجرم عائد

    انہوں نے کہا کہ طالبان اس بات پر قائل ہیں کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے تاہم وہ کہتے ہیں کہ ایسا کیوں نہیں ہو پا رہا ہے اس حوالے سے پاکستان طالبان سے بات چیت کررہا ہے کہ وہ کیا کردار چاہتا ہے افغانستان کے ساتھ پاکستان کی تجارت باقاعدگی سے جاری ہے، البتہ غیر قانونی ٹرانزٹ ٹریڈ اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائی ضرور کی جا رہی ہے حالیہ عرصے میں افغانستان کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں بہتری آئی ہے اور افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ممالک تک تجارت میں بھی بہتری آنے جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے تمام طاقتوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور اس حوالے سے اسلام آباد اور واشنگٹن میں اشتراک اور مشترکہ نکات پائے جاتے ہیں۔

    برطانیہ؛ صحت سربراہان کا بھارت میں مہلک وائرس کے پھیلاؤ پر فوکس

    پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کی صورتِ حال کا کشمیر سے موازنہ کرنا درست نہیں کیوں کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جہاں لاکھوں کی تعداد میں بھارتی افواج آزادی کی تحریک کو دبا رہے ہیں جب کہ پاکستان ایک تسلیم شدہ آزاد ریاست ہے جسے اپنے قوانین بنانے کا حق حاصل ہے۔

    اپنے انٹرویو میں انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھاکہ انتخابی عمل الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہے، نگران حکومت انتخابات میں التوا کیلئے کوئی جواز سامنے نہیں لائے گی اور امن و امان، سرحدی صورتحال کے باعث انتخابات میں تاخیرنہیں ہوگی پاکستان کومغربی اور مشرقی محاذ پر خطرات کا سامنا ضرور ہے، یقین ہے بیک وقت سرحدی خطرات پربھی قابوپائیں گے اور انتخابی عمل بھی مکمل کرائیں گے، مشرقی اور مغربی سرحدوں پر سکیورٹی خطرات بڑھنے سے مؤثر جواب کی ضروریات بڑھ گئیں، انتخابات کے انعقاد پرسرحدوں کی صورتحال کےاثرات نہیں ہونے دیں گے۔

    پاکستان میں امریکا کے سابق سفیر کو سزا سنا دی گئی

    ان کا کہنا تھاکہ حکومت کا کام انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کرناہے جس کیلئے مکمل تیار ہیں، انتخابات سے متعلق قیاس آرائیاں ختم کرنا نگران حکومت کا کام نہیں، انتخابات کا انعقاد آئینی طور پر الیکشن کمیشن کا کام ہے یہ تاثردرست نہیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کوبذریعہ قانونی مقدمات سیاست سے باہر کیا جا رہا ہے، ان پر عائد مقدمات میں عدالتی عمل شفاف ہوگا۔

  • وزیر اعظم 22 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے،ترجمان دفتر خارجہ

    وزیر اعظم 22 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں تاکہ وہاں خواتین امن سے زندگی گزار سکیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ 18 سے 23 ستمبر تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بحث میں حصہ لیں گے۔وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے ہمنوا ہوں گے ،وزیر اعظم 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔وزیر اعظم اپنے خطاب میں علاقائی اور عالمی تنازعات پر گفتگو کریں گے۔وزیر اعظم یو این جنرل اسمبلی خطاب میں مسئلہ جموں کشمیر پر بات کریں گے۔نگران وزیراعظم موجودہ نگران حکومت کی جانب سے معاشی بحالی کے لئے کئے گئے اقدامات پر بات کریں گے۔وزیر اعظم موجودہ حکومت کی جانب سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے کئے گئے اقدامات پر بات کریں گے۔یو این جی اے کی سائڈ لائنز پر وزیر اعظم مختلف ممالک کے نمائندگان سے ملاقاتیں کریں گے۔وزیراعظم پاکستان کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت پاکستان کی کثیر الجہتی کے فروغ لئے عزم کی نشاندہی کرتی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ برطانیہ میں دولت مشترکہ کی یوتھ میٹنگ اجلاس میں شرکت کررہے ہیں ، اس اجلاس میں وزیر خارجہ نے پاکستان کی طرف سے نوجوانوں بالخصوص لڑکیوں اور پسماندہ طبقات کے نوجوانوں کو آگے لانے کے اقدامات سے آگاہ کیا، پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ نے ایران کا دو روزہ دورہ کیا ،وزیر خارجہ نے دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل ، برطانیہ کے وزراء اور دیگر ممالک کے وزراء سے ملاقاتیں کیں اقوام متحدہ پوری دنیا میں ترقی و خوشخالی اور امن کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نگران وزیراعظم اقوام متحدہ دورے سے قبل سعودی عرب جائیں گے ؟ جس کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے سعودی عرب دورے کو حتمی شکل دی جارہی ہے، جلد تفصیلات سے آگاہ کریں گے،

    امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • فاٹا میں طالبان کا اثرورسوخ اور پاکستان پر اثرات

    فاٹا میں طالبان کا اثرورسوخ اور پاکستان پر اثرات

    مولانا فضل الرحمان نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی غالب موجودگی کو اجاگر کیا ہے۔ یہ مسلح گروہ خطے میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مشکلات کھڑی کرتا ہے،منصوبوں کی تکمیل کے لئے لاگ کا 10 فیصد حصہ مانگا جاتا ہے اور نہ ملنے کی صورت میں منصوبے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، فاٹا کے خیبرپختونخوا (کے پی کے) میں انضمام کے بعد سے، ٹی ٹی پی نے اس کی علیحدگی، اور اپنی سابقہ خود مختار حیثیت پر واپسی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    15 اگست 2021 کو طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد سے، نہ صرف فاٹا بلکہ صوبہ بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے 21 ماہ کے دوران ایسے واقعات میں 73 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ سیکورٹی چیلنجز پاکستان کی پہلے سے ہی کمزور معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔

    ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایک ریسرچ فیلو عبدالباسط کا مشاہدہ ہے، "یہ پورا خطہ غیر مستحکم ہے، چاہے وہ افغانستان ہو یا پاکستان۔ یہ افغانستان میں ہونے والی پیشرفت کا ایک اثر ہے۔”

    ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کی کوششوں نے بدقسمتی سے دہشت گرد تنظیم کو دوبارہ منظم ہونے اور حملوں کو تیز کرنے کے مواقع فراہم کیے ۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کے پاس صرف دو ہی قابل عمل آپشن رہ جاتے ہیں۔ پہلی بات حقانی کی طرف سے بیان کی گئی ہے، جو دلیل دیتے ہیں، "پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت یہ تسلیم کرنے سے گریزاں ہے کہ پرتشدد بنیاد پرست، اسلام پسند صرف ناراض لوگ نہیں ہیں. جنہیں مذاکرات کے ذریعے منایا جا سکتا ہے۔” [The New Humanitarian] اس آپشن میں ان شرپسند عناصر کے خلاف ایک جامع فوجی مہم شروع کرنا شامل ہے۔دوسرے آپشن میں بات چیت کے ذریعے تصفیہ شامل ہے۔ ان میں سے کوئی بھی آپشن پاکستان کے لیے مثالی حل پیش نہیں کرتا۔

    ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکراتی تصفیہ کی ماضی کی کوششوں کو جب بھی عسکریت پسندوں کے لیے موزوں تھا نظر انداز کیا گیا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی سمجھوتہ ہو بھی جاتا ہے، تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ٹی ٹی پی مزید رعایتوں کا مطالبہ نہیں کرے گی. ممکنہ طور پر ریاست کو ایک غیر یقینی صورت حال میں ڈالے گی، اور ایک پریشان کن مثال قائم کرے گی۔ ان عسکریت پسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے آپشن کے متعلق، یہ تبھی کارگر ثابت ہو گا جب سرحد پار سے دراندازی کے ہر راستے کو سختی سے سیل کر دیا جائے تاکہ بیرونی حمایت کو ختم کیا جا سکے۔

    ٹی ٹی پی سے نمٹنے کے لئے ، ایک پائیدار حل تلاش کرنا پیچیدہ اورغیریقینی سی صورتحال ہے،ان سیکورٹی خدشات کو حل کرنے کے لئے کثیر الجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے،