Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری

    زمانہ گواہ ہے کہ جو خطہ آتش میں جلتا ہے، اُس کی تپش سرحدوں کی لکیر نہیں دیکھتی افغانستان آج پھر عالمی نگاہوں کا مرکز ہے؛ سرمایہ کاری کے معاہدے ہیں، سفارتی مسکراہٹیں ہیں، اور مستقبل کے خواب بھی۔ مگر پسِ پردہ ایک سوال آہنی دروازے پر دستک دے رہا ہے: اگر افغان خاک کسی ہمسایہ کے خلاف استعمال ہو رہی ہو تو عالمی طاقتوں کی خاموشی کس مصلحت کا نام ہے؟-

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور خونچکاں سفر طے کیا ہے اس راہ میں بے شمار جانیں نذر ہوئیں، شہر سوگوار ہوئے، اور معیشت نے زخم سہے ایسے میں اگر سرحد پار سے شرپسند عناصر دوبارہ سر اُٹھائیں تو یہ صرف ایک ملک کا نہیں، پورے خطے کے وقار اور اطمینان کا مسئلہ ہے۔

    تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں پاکستان کا موقف واضح ہے کہ اُن کی پناہ گاہیں سرحد پار موجود ہیں اگرچہ کابل اس الزام کی نفی کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امن محض بیان سے نہیں، اقدام سے آتا ہے جو ریاست اپنی سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال ہونے سے نہ روک سکے، وہ خود بھی عدمِ استحکام کی گرد میں گھر جاتی ہے۔

    عالمی طاقتیں افغانستان میں معدنیات، راہداریوں اور سفارتی اثر و رسوخ کی بازی کھیل رہی ہیں مگر کیا استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کی فصل بارآور ہو سکتی ہے؟ اگر پاکستان جیسے ہمسایہ میں اضطراب بڑھے گا تو اُس کی بازگشت کابل کی گلیوں تک ضرور پہنچے گی۔

    افغان عبوری حکومت کو سوچنا ہوگا کہ ہمسائیگی محض جغرافیہ نہیں، ایک اخلاقی عہد بھی ہے اسلام نے ہمسائے کے حق کو عبادت کے درجے تک بلند کیا ہے ایک اسلامی ریاست سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی برادر ملک کے امن کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، یہی حکمت ہے، یہی دین کا تقاضا بھی۔

    پاکستان اور افغانستان کی داستان صدیوں پر محیط ہے؛ مہاجرین کی میزبانی، ثقافتی رشتہ داری، اور مشترکہ دکھ سکھ اس تعلق کو محض سیاسی نہیں رہنے دیتے۔ آج ضرورت الزام کی نہیں، بصیرت کی ہے۔ مشترکہ بارڈر نظم، انٹیلی جنس کا تبادلہ، اور کھلا سفارتی مکالمہ ہی وہ چراغ ہیں جو اس اندھیرے کو کم کر سکتے ہیں۔
    وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری معاشی مفاد کے ساتھ سکیورٹی ذمہ داری کو بھی لازم و ملزوم سمجھے ورنہ تاریخ یہ سوال ضرور کرے گی کہ جب خطہ سلگ رہا تھا تو اہلِ اختیار خاموش کیوں تھے؟-

  • افغانستان میں معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین، عالمی ادارے نےخبردار کر دیا

    افغانستان میں معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین، عالمی ادارے نےخبردار کر دیا

    افغانستان میں بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور لاکھوں بچے خوراک اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں جاری معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان میں تقریباً 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث ان میں سے بڑی تعداد کو امداد فراہم نہیں کی جا سکی۔

    ادارے نے خبردار کیا ہے کہ وسائل کی کمی کے سبب تقریباً 17.4 ملین افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں رہا دور دراز علاقوں میں رہنے والے خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں اور کئی بیمار بچے علاج کے مراکز تک بھی نہیں پہنچ پا رہے اگر فوری مالی معاونت فراہم نہ کی گئی تو لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق افغانستان کو درپیش معاشی اور انتظامی بحران نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی ادارے بھی ملک میں وسائل کی کمی اور بدانتظامی کے باعث عوامی محرومی کی نشاندہی کر چکے ہیں انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر امداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ مزید انسانی المیہ جنم نہ لے۔

  • افغانستان میں کارروائی صرف  آپریشن نہیں ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو محفوظ پاکستان چاہتا ہے، طارق فضل چوہدری

    افغانستان میں کارروائی صرف آپریشن نہیں ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو محفوظ پاکستان چاہتا ہے، طارق فضل چوہدری

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بُننے والوں کو ایک بار پھر واضح پیغام مل چکا ہے کہ یہ سرزمین کمزور نہیں بلکہ شہدا کے لہو سے مضبوط ہوئی ہے۔

    ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارتی سرپرستی میں پلنے والے فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر پاک فضائیہ کی بروقت اور مؤثر کاررو ا ئی اُن معصوم جانوں کا بدلہ ہے جو دہشتگردی کی آگ میں جھونک دی گئیں، یہ صرف ایک آپریشن نہیں بلکہ ہر اُس ماں کے آنسوؤں کا جواب ہے جس نے اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کیا اور ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو ایک محفوظ پاکستان چاہتا ہے۔

    طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جو بھی پاکستان کو کمزور سمجھنے کی غلطی کرے گا اسے یاد رکھنا چاہیے کہ ہم امن کے خواہاں ضرور ہیں، مگر اپنی سرزمین، اپنے عوام اور اپنے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے انہوں نے خبردار کیا کہ جو میلی آنکھ سے دیکھے گا وہ نیست و نابود کر دیا جائے گا یہ وطن ہماری پہچان، ہماری غیرت اور ہمارا ایمان ہے انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے بھی تھا، پاکستان آج بھی ہے اور پاکستان ہمیشہ رہے گا۔

    واضح رہے کہ آج شب پاکستان نے رات گئے افغانستان کے اندر قریباً 7 اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں پاکستان کے خلاف برسرپیکار فتنہ الخوارج اور داعش خراسان کے دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے کیمپس اور کمین گاہیں شامل ہیں۔

  • پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، دہشت گردوں کے 7 ٹھکانے تباہ، طالبان کمانڈر سمیت متعدد ہلاک

    پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، دہشت گردوں کے 7 ٹھکانے تباہ، طالبان کمانڈر سمیت متعدد ہلاک

    پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر افغانستان کے مشرقی علاقوں میں بڑا انٹیلیجنس بیسڈ فضائی آپریشن کرتے ہوئے شدت پسندوں کے سات اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں طالبان کمانڈر اختر محمد سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں جیٹ طیاروں نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر درست نشانہ لگایا، جہاں زوردار دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں، کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے استعمال میں آنے والی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق پکتیکا کے بعد ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بھی فضائی کارروائی کی گئی، جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور مبینہ تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیاافغانستان کے مرغہ علاقے میں واقع بنوسی مدرسہ میں دھماکے سے 10 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں یہ علاقہ کمانڈر خارجی اختر محمد مرکز سے منسلک ہے ننگرہار جلال آباد کے ضلع کامی میں بھی دو اہداف جیٹ طیاروں سے کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا لیے گئے ہیں جبکہ شاہینوں کی پروازیں بد ستور جاری ہیں۔

    افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے علاقے بر مل میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر دھماکوں کے نتیجے میں کئی دہشت گروں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان کمانڈر اختر محمد پکتیا میں مارا گیا افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی جس میں دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر تباہ ہوگیا۔

    وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان کے مطابق جنگی طیاروں نے دہشت گرد ی کےجوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں خارجی دہشت گردوں، فتنہ الخوارج اور اس کے منسلک گروہوں، نیز سے وابستہ سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیادوں پر نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔ اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا۔

    وزارت اطلاعات و نشریات سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرےاور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف خارجیوں اور دہشت گردوں کے استعمال سے روکے، کیونکہ پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے۔

    پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے بعد، جن میں اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ پر حملہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک واقعہ، اور ماہِ مقدس رمضان کے دوران بنوں میں پیش آنے والا ایک اور واقعہ شامل ہے۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کے پاس اس بات کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گردی کے اقدامات خارجی عناصر نے اپنی افغانستان میں موجود قیادت اور ہینڈلرز کی ایما پر انجام دیے۔

    ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستان طالبان، فتنہ الخوارج اور اس سے منسلک گروہوں، نیز اسلامک اسٹیٹ خراسان صوبہ نے بھی قبول کی۔

    پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکومت پر بارہا زور دیا گیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسیز کے استعمال سے روکے، تاہم افغان طالبان حکومت ان عناصر کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔

    پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے کوشاں رہا ہے، لیکن اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہےاسی تناظر میں پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں خارجی دہشت گردوں، فتنہ الخوارجاور اس کے منسلک گروہوں، نیز سے وابستہ سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیادوں پر نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔

    پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرےاور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف خارجیوں اور دہشت گردوں کے استعمال سے روکے، کیونکہ پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے۔

    پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری پر آمادہ کرے،تاکہ کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کو روکا جا سکے جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

  • پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

    پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

    وزارت اطلاعات و نشریات کی پریس ریلیز کے مطابق، پاکستان نے باضابطہ طور پر افغان سرزمین کے اندر درست فضائی حملے کرنے، تحریک طالبان پاکستان (TTP)، القاعدہ کے عناصر، اور ISIS-Khorasan Province (ISKP) سے منسلک عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنانے کا باضابطہ اعتراف کیا ہے۔

    پاکستان میں حالیہ خودکش بم دھماکوں کے واقعات، بشمول اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک اور آج بنوں میں رمضان کے مقدس مہینے کے دوران ایک اور واقعے کے بعد،پاکستان کے پاس اس بات کے حتمی شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں خوارج نے اپنی افغانستان میں مقیم قیادت اور ہینڈلرز کی ایماء پر کیں۔

    ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں مقیم پاکستانی طالبان جن کا تعلق فتنہ الخوارج (ایف اے کے) اور ان سے وابستہ تنظیموں اور دولت اسلامیہ خرا سا ن صوبہ (آئی ایس کے پی) نے بھی قبول کیا تھا۔

    دہشتگردوں کیخلاف ان کی موجودگی کے مقام سے قطع نظر بلارعایت کارروائیاں کریں گے،آئی ایس پی آر

    پاکستان کی طرف سے افغان طالبان کی حکومت پر دہشت گرد گروپوں اور غیر ملکی پراکسیوں کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کرنے پر زور دینے کی بار بار کوششوں کے باوجود، افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔

    پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن واستحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے اس پس پردہ ردعمل میں، پاکستان نے جوابی کارروائی میں، پاکستانی طالبان کے FAK اور اس سے وابستہ تنظیموں اور ISKP کے سات دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو درست اور درستگی کے ساتھ پاک افغان سرحد کے سرحدی علاقے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر منتخب کیا ہے۔

    پاکستان، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت

    پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے اور اس کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا اور خوارج اور دہشت گردوں کی جانب سے پا کستان کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال سے انکار کرے گا کیونکہ پاکستان کے لوگوں کی حفاظت سب سے پہلے ہے پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع کرتا ہے کہ وہ طالبان حکومت پر زور دے کر مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے گا کہ وہ دوحہ معاہدے کے حصے کے طور پر اپنی سرزمین کو دوسرے مما لک کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کے لیے اپنے وعدوں پر قائم رہے، علاقائی اور عالمی امن اور سلامتی کے لیے ایک اہم اقدام۔

  • اقوامِ متحدہ کے اسسٹنس مشن برائے افغانستان کی رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں، پاکستان

    اسلام آباد: پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے اسسٹنس مشن برائے افغانستان (UNAMA) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا-

    پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں بلکہ نام نہاد اسلامک امارتِ افغانستان (آئی ای اے) کے یکطرفہ، غیر مصدقہ اور غیر مستند الزامات پر انحصار کرتی ہےپاکستان نے افغانستان میں کسی بھی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی کسی شہری جانی نقصان کا سبب بنا۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی تمام کارروائیاں صرف اُن دہشتگرد عناصر کے خلاف تھیں جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولتکاری اور عمل درآمد میں براہِ راست ملوث تھے پاکستان کی کارروائیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت حقِ دفاع کے دائرے میں، درست انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن میں شہری آبادی کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے سے مکمل اجتناب کیا گیا دہشتگرد تربیتی مراکز اور کیمپوں کو نشانہ بنانے کے شواہد پہلے ہی عالمی برادری کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔

    پاکستان نے UNAMA رپورٹ میں اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرنے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ افغانستان طالبان کے زیرِ انتظام دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق، افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث رہی ہیں-

    ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں شہری نقصان کی اصل ذمہ داری اُن عناصر پر عائد ہوتی ہے جو دہشت گر دوں کو شہری آبادیوں میں پناہ دیتے اور انہیں آپریشنل سہولت فراہم کرتے ہیں ایسے حالات میں پاکستان کی جوابی کارروائیوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

    دفتر خارجہ نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ غیر جانبدار، قابلِ تصدیق اور متوازن رپورٹس مرتب کرے اور دہشتگردی کے اصل محرکات اور ذمہ داروں کو نظر انداز نہ کرے پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اپنی خودمختاری، علاقا سالمیت اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

  • افغان طالبان پہلے سے زیادہ ناقابلِ اعتماد ہو چکے ہیں،عالمی تجزیہ کار

    افغان طالبان پہلے سے زیادہ ناقابلِ اعتماد ہو چکے ہیں،عالمی تجزیہ کار

    عالمی تجزیہ کاروں نے افغانستان میں قائم طالبان حکومت کو خطے اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا ہے۔

    افغان جریدے افغان انٹرنیشنل کے مطابق مختلف بین الاقوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت نہ صرف ناقابلِ اعتماد ہے بلکہ اس کی پالیسیاں خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہیں عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ طالبان حکومت غیر مستحکم بنیادوں پر قائم ہے اور اس کا اقتدار وقتی نوعیت کا ہو سکتا ہے۔

    سینئر روسی تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کی حکمرانی کا انداز غیر پائیدار ہے، جس کے باعث افغانستان میں عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہےطالبان کی پالیسیاں داخلی عدم استحکام کی عکاس ہیں جبکہ روسی محقق آندرے سرینکو کا کہنا ہے کہ طالبان کی سوچ اور طرزِ عمل میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی بلکہ وہ پہلے سے زیادہ ناقابلِ اعتماد ہو چکے ہیں۔

    سینٹر فار کنٹیمپریری ایرانی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر رجب سفاروف نے کہا ہے کہ طالبان کا خراب سیاسی طرزِ عمل زیادہ عرصے تک اقتدار کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے گا، طالبان ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھے ہیں جہاں انتہا پسندانہ اقدامات کو فروغ دیا جاتا رہا ہے۔

    عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر طالبان کی موجودہ پالیسیاں جاری رہیں تو افغانستان پورے خطے میں عدم استحکام اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے، جس سے عالمی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

  • طالبان حکومت میں غذائی بحران خطرناک حد تک بڑھ گیا

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری اور عالمی امداد کی معطلی نے غذائی بحران کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے، لاکھوں افراد شدید بھوک اور فاقہ کشی کا سامنا کر رہے ہیں۔

    افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں غذائی قلت ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو چکی ہے، لا کھو ں افغان شہری روزانہ کی بنیاد پر خوراک کی شدید کمی اور بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کا سامنا کر رہے ہیں-

    ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے تخمینوں کے مطابق افغانستان میں تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ رواں سال مزید 20 لاکھ بچوں کو غذائی قلت کے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک سے افغان مہاجرین کی واپسی نے بھی غربت اور غذائی بحران میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ محدود وسائل پر دباؤ بڑھ گیا ہے، طالبان رجیم کی پالیسیوں کے باعث عالمی امداد میں کمی آئی، جس کے نتیجے میں مزید 30 لاکھ افراد شدید بھوک کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی سخت اور جابرانہ پالیسیوں نےافغانستان کی معیشت کو کمزور کر دیا ہےجس سے بے روزگاری میں اضافہ اور عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے اگر فوری طور پر عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح نہ دی گئی تو افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔

  • افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، متعدد افراد ہلاک

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، متعدد افراد ہلاک

    افغانستان کے دارالحکومت کابل کے علاقے شہر نو میں ایک دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے،جبکہ افغان حکام نے بھی دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    طالبان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے روئٹرز کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جانی نقصان ہوا ہے، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد بعد میں جاری کی جائے گی،واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید تفصیلات جلد منظرعام پر آئیں گی-

    عالمی خبررساں ادارے کے مطابق شہرِ نو کا علاقہ زیادہ تر غیر ملکی باشندوں کی رہائش کے لیے جانا جاتا ہے اور اسے کابل کے محفوظ ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    افغان میڈیا کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے ابھی تک دھماکے کی نوعیت اور مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

    گل پلازہ میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

    گل پلازہ متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے،کراچی بار

  • بینک الفلاح کا افغانستان میں اپنے آپریشنز بند کرنے کا فیصلہ

    بینک الفلاح کا افغانستان میں اپنے آپریشنز بند کرنے کا فیصلہ

    بینک الفلاح نے افغانستان میں اپنے آپریشنز بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد افغانستان میں بینک الفلاح کے آپریشنز ختم کیے جا رہے ہیں،بینک نے اس فیصلے سے متعلق اسٹاک ایکسچینج کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے، بینک الفلاح کئی برسوں سے افغانستان میں اپنی خدمات فراہم کر رہا تھا افغانستان کے غضنفر بینک نے بینک الفلاح کے متعلقہ آپریشنز خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی، جس کے بعد ریگولیٹری منظوری کا عمل شروع کیا گیا۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سینٹرل بینک آف افغانستان دونوں نے اس حوالے سے ریگولیٹری منظوری دے دی ہے، جبکہ افغان حکومت نے بھی غضنفر بینک کو جانچ پڑتال (ڈو ڈیلیجنس) کے عمل کی اجازت دے دی ہےسینٹرل بینک آف افغانستان کی جانب سے بھی غضنفر بینک کو جانچ پڑتال شروع کرنے کی منظوری مل چکی ہے، جس کے بعد خریداری کا عمل مکمل ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    شیر افضل مروت کی عمران خان کےفیصلوں پر تنقید

    شراب برآمدگی کیس : علی امین گنڈاپور اشتہاری قرار،وارنٹ گرفتاری جاری

    صبا قمر کے خلاف متنازع بیانات پر صحافی نے معافی مانگ لی