Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • افغانستان کیلئے’انسانی ٹرسٹ فنڈ’ قائم کرنے پر اتفاق:او آئی سی اعلامیہ جاری

    افغانستان کیلئے’انسانی ٹرسٹ فنڈ’ قائم کرنے پر اتفاق:او آئی سی اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: افغانستان کیلئے’انسانی ٹرسٹ فنڈ’ قائم کرنے پر اتفاق:او آئی سی اعلامیہ جاری ،اطلاعات کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی ) کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق افغانستان کے لئے نمائندہ خصوصی مقرر کرنے،انسانی ٹرسٹ فنڈ بنانے اور اقوام متحدہ کے ساتھ مشترکہ کام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    او آئی سی اجلاس میں افغانستان کے انسانی بحران پر مشترکہ اوراجلاس میں فلسطین کی صورتحال پر اسلام آباد اعلامیہ متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔

    اعلامیہ کے مطابق افغانستان کو کورونا کے تناظر میں ویکسین اور طبی امداد فراہم کی جائے گی ،افغانستان سے متعلق "انسانی ٹرسٹ فنڈ” قائم کیا جائے ،افغانستان کے لیے "غذائی تحفظ پروگرام تشکیل دیا جائے گا،افغانستان کے تناظر میں مالیاتی اور بینکنگ چینلز کھولے جائیں گے ،افغانستان پر نمائندہ خصوصی مقرر کیا جائے گا ،او آئی سی اور اقوام متحدہ نظام کے مابین مربوط میکانزم تشکیل دیا جائے گا ۔

    اعلامیہ میں بتایا گیا کہ افغانستان کے لیے انسانی، سکولو‍ں، ہسپتالوں کے لیے مالی امداد کو پابندیوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے ،او آئی سی نے ادراک کیا کہ افغانستان کے لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کاوشیں کی جائیں گی۔

    او آئی سی سیکرٹری جنرل حِسین براھیم طہ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ یہ انتہائی اہمیت کا حامل اجلاس تھا، اس کے اثرات دور رس ہوں گے ،پاکستان کو میزبان ملک کی حیثیت سے اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔

    انہوں نے کہا کہ یورپی یونین، امریکا، برطانیہ، فرانس اور دیگر نے متحرک کردار ادا کرتے ہوئے امداد کا اعلان کیا ،یہ اجلاس افغان عوام کے لیے بہتر مستقبل کی امید ثابت ہو گا ،اسلامی ترقیاتی بینک کے تحت افغانستان کے لیے قائم کردہ ٹرسٹ فنڈ میں تمام ممالک امداد جمع کرائیں گے ،اسلامک فقہ اکیڈمی، علماء سے رابطے کر کے افغان فریقین میں اتفاق رائے پیدا کرے گی۔

    سیکرٹری جنرل او آئی سی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کے اجلاس میں مندوبین نے شرکت کی، کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے شرکا کے شکر گزار ہیں،سیکریٹری جنرل او آئی سی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ او آئی سی سیکریٹری جنرل کے تعاون کے بغیر کانفرنس کا انعقاد ممکن نہیں تھا،افغان وفد کو بھی کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا جبکہ اجلاس میں افغان صورتحال پر تبادلہ خیال اہم پیشرفت ہے۔

  • پاکستان کے دلیرانہ فیصلے: امریکا کو افغان جنگ اسکروٹنی بل سے پاکستان سے متعلق شق ختم کرنا پڑگئی

    پاکستان کے دلیرانہ فیصلے: امریکا کو افغان جنگ اسکروٹنی بل سے پاکستان سے متعلق شق ختم کرنا پڑگئی

    واشنگٹن:پاکستان کے دلیرانہ فیصلے: امریکا کو افغان جنگ اسکروٹنی بل سے پاکستان سے متعلق شق ختم کرنا پڑگئی ،اطلاعات کے مطابق امریکی سینیٹ نے افغان جنگ کی مکمل جانچ پڑتال سے متعلق آزاد کمیشن کے قیام کی تشکیل کا بل منظور کرلیا ہے جب کہ بل کے پرانے ورژن میں شامل پاکستان کے کردار کی تحقیقات سے متعلق شق کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ میں ایک دفاعی بل کی منظور دی گئی ہے۔ بل میں افغان جنگ اور پاکستان سمیت خطے میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی جانچ پڑتال کے لیے ایک آزاد کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس بل کی سب سے خاص بات ہے یہ کہ پرانے ورژن کے برعکس اس بل میں افغان وار میں پاکستان کے کردار کی تحقیقات سے متعلق تجویز کی شق کو ختم کردیا گیا ہے البتہ کمیشن مختلف ممالک کے افغان جنگ پر اثر انداز ہونے اور افغان جنگ کے پرامن حل میں ان کے کردار کا جائزہ لے سکتا ہے۔

    اس وار کمیشن میں 16 ارکان شامل ہوں گے جن کا انتخاب ریپبلکن اور ڈیموکریٹک کے ارکان اسمبلی مساوی انداز میں کریں گے اور یہ کمیشن تین سال کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔کمیشن میں 2001 سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے موجودہ اور سابق ارکان کے ساتھ ساتھ کابینہ کی سطح کے اور افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسیوں کی منصوبہ بندی کرنے والے اعلی سطحی دفاعی عہدیداروں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

    بل کی سمری میں کہا گیا ہے کہ دو طرفہ پینل 20 سالہ جنگ کی اسکروٹنی اور انخلا کے بعد افغانستان میں رہ جانے والے فوجی سازوسامان کا بھی احتساب بھی کرے گا اور افغانستان میں موجود امریکی شہریوں اور افغان اتحادیوں کو نکالنے کے منصوبے بھی بنائے گا۔بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیشن پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیتوں کے انسداد دہشت گردی میں استعمال اور اقدامات کا جائزہ بھی لے گا۔

    دوسری طرف دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی وعسکری قیادت کے دلیرانہ فیصلوں کی وجہ سے امریکہ نے یہ محسوس کرلیا ہے کہ اگراب پاکستان کے ساتھ کوئی شرارت کی گئی تو اس کا سخت جواب ملے گا اورویسے بھی امریکہ اب پاکستان کی مرضی کے بغیرافغانستان میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتا اس لیے امریکہ نے اپنے مفادات کو بچانے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے جو کہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے

  • ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا

    ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا

    واشنگٹن:ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا،اطلاعات کے مطابق امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں ناقص انٹیلی جنس معلومات پر فضائی کاروائیوں میں ہزاروں بے گناہ لوگوں کے قتل کا انکشاف ہوا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی خفیہ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں امریکا کی فضائی کاروائیاں ناقص انٹیلی جنس معلومات سے بھرپوررہیں۔

    شام میں امریکی فورسز کی فضائی کارروائی، 18 اتحادی جنگجو ہلاک امریکی اخبارکی رپورٹ کے مطابق غلط اطلاعات کی بنیاد پرکاروائیوں میں بچوں سمیت ہزاروں عام شہری قتل کر دیےگئے لیکن کسی بھی مقام پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نظر نہیں آئی۔

    دوسری جانب رپورٹ منظرعام پر آنےکے بعد ترجمان امریکی سینٹرل کمانڈ کیپٹن بل اربن نے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بے قصور شہریوں کی ہلاکت پر شرمندہ ہیں اور غلطیوں سے سیکھنےکی کوشش کر رہےہیں۔

    یاد رہے کہ دوسری طرف چند دن پہلے امریکہ نے تسلیم کیا تھا کہ فوجی انخلا سے چند دن قبل کابل میں کیے جانے والے ڈرون حملے میں دس معصوم شہری ہلاک ہوئے تھے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 29 اگست کو کابل میں ہونے والے ڈرون حملے میں ایک امدادی کارکن سمیت اس کے خاندان کے نو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سات بچے بھی شامل تھے۔

    اس حملے میں ہلاک ہونے والی سب سے کم سن بچی دو سال کی سمعیہ تھی۔

    پینٹاگان کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلیجنس نے اس شخص کی کار کی آٹھ گھنٹوں تک نگرانی کی تھی اور ان کا خیال تھا کہ اس کا تعلق افغانستان میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ خراسانی گروپ سے تھا۔

    یہ جان لیوا حملے افغانستان میں امریکہ کی 20 سال تک جاری رہنے والی جنگ سے قبل آخری کارروائیوں میں سے ایک تھا۔

    جنرل کینتھ مکینزی نے اس حملے کو ایک افسوسناک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ یہ خاندان شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ خراسانی گروپ سے منسلک ہو یا امریکی افواج کے لیے خطرہ ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک غلطی تھی اور میں اس پر تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔‘

  • افغانستان کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے، وزیراعظم عمران خان

    افغانستان کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے، وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد: افغانستان میں بگڑتی انسانی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کا غیرمعمولی اجلاس آج اسلام آباد میں جاری ہے-

    باغی ٹی وی : افغانستان کی صورتحال پر سعودی عرب کی تجویز اور پاکستان کی میزبانی میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے وزرا خارجہ کی کونسل کا 17واں غیر معمولی اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے غیر معمولی اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا –

    وزیر اعظم عمران خان نے اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام معزز مہمانوں کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں یہ ستم ظریفی ہے کہ 41 سال قبل جب پاکستان میں او آئی سی کا اجلاس ہوا اس وقت بھی اس کا موضوع افغانستان ہی تھا، افغانستان 40 سال خانہ جنگی کا شکار رہا ہے اور افغانستان کی بیرونی امداد بند ہو چکی ہے۔


    انہوں نے کہا کہ جتنی مشکلات افغان عوام نے اٹھائیں کسی اور ملک کے عوام نے نہیں اٹھائیں اور افغانستان کے 4 کروڑ عوام کو بحران کا سامنا ہے جبکہ افغانستان کے حالات کی وجہ سے پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے جان کی قربانی دی-

    انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانستان کے لیے امداد پر پاکستان کے مشکور ہیں،ترک وزیر خارجہ

    عمران خان نے کہا کہ دنیا نے افغانستان کے لیے مدد3شرائط سے مشروط کردی افغانستان کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے اور دنیا کو افغان ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت ہے افغانستان کا بینکنگ نظام جمود کا شکار ہے اور اگر اس وقت دنیا نے افغانستان کی مدد نہ کی تو یہ انسانوں کا پیدا کردہ بہت بڑا بحران ہو گا۔


    انہوں نے کہا کہ افغان آبادی غربت کی لکیر سے نیچے آ رہی ہے اور اس وقت افغانستان کی صورتحال انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے افغان عوام کی مدد کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے افغان مسئلے پر دنیا کی خاموشی قابل افسوس ہے افغانستان میں عدم استحکام پوری دنیا کو متاثر کرے گاافغانستان میں خواتین اور انسانی حقوق کے معاملات حساسیت سے حل کرنے کی ضرورت ہے –

    انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹروں، اساتذہ اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا نہ کی جائیں تو کوئی حکومت قائم نہیں رہ سکتی، اگر دنیا کو داعش کے خطرے سے بچانا ہے تو افغانستان کو مستحکم کرنا ہوگا۔


    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر افغانستان میں افراتفری ہوگی تو مہاجرین میں اضافہ ہوگا، یہ مہاجرین صرف پاکستان اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دیگر ممالک کو بھی ان کا سامنا کرنا ہوگا افغانستان میں جاری افراتفری کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، میں دوبارہ یہ بات دہرانا چاہتا ہوں کہ غیر مستحکم افغانستان کسی کے مفاد میں نہیں اور امید کرتا ہوں کہ اس اجلاس کے اختتام تک آپ تمام شرکا کسی روڈ میپ پر متفق ہوجائیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام ہماری طرف دیکھ رہے ہیں اسلامو فوبیا بہت اہم مسئلہ ہے دنیا میں اسلام کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ بہت زیادہ ہے-


    واضح رہے کہ او آئی سی اجلاس سعودی عرب کی دعوت پر طلب کیا گیا ہے جو اسلامی تعاون تنظیم کا چیئرمین ہے پاکستان نے اجلاس بلانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کی میزبانی کی پیشکش کی تھی پاکستان کی دعوت پر اجلاس میں 22 ممالک کے وزرائے خارجہ، 10 نائب وزرائے خارجہ سمیت 70 وفود شریک ہیں۔

    دنیا کے مفاد میں ہے کہ افغانستان کی صورتحال نہ بگڑے، شاہ محمود قریشی

  • پاکستان میں او آئی سی کے اجلاس سے قبل ہی  اقوام متحدہ میں افغان سفیر مستعفی ہوگئے

    پاکستان میں او آئی سی کے اجلاس سے قبل ہی اقوام متحدہ میں افغان سفیر مستعفی ہوگئے

    جنیوا: پاکستان میں او آئی سی کے اجلاس سے قبل ہی اقوام متحدہ میں افغان سفیر مستعفی ہوگئے،اطلاعات کے مطابق افغانستان کی معزول حکومت کے اقوام متحدہ میں سفیر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ نئی طالبان حکومت نے اس نشست کے لیے اپنا نمائندہ مقرر کرنے کے لیے جمعے کے روز درخواست دی ہے۔

    اس حوالے سے اقوام متحدہ کے معاون ترجمان فرحان حق نے ذرائع کو بتایا کہ جمعرات کو موصول ہونے والے ایک خط کے مطابق سابق حکومت کے مندوب غلام اسحاق زئی نے 15 دسمبر سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اگست میں افغانستان پر طالبان کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے ملک اقتصادی بحران سے دوچار ہے اور اقوام متحدہ میں افغان مشن کے لیے اپنا کام کاج جاری رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔

    گذشتہ ستمبر میں اسحاق زئی نے اقوام متحدہ سے کہا تھا کہ وہ اب بھی افغانستان کے سفیر ہیں۔ انہوں نے نومبر کے اواخر میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی میٹنگ میں حصہ بھی لیا تھا جس میں طالبان حکمرانوں کی کھل کر نکتہ چینی کی تھی۔ سابق صدر اشرف غنی نے جون میں انہیں اس عہدے پر تعینات کیا تھا۔

    دوسری طرف طالبان نے اقتدار پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اقوام متحدہ سے کہا تھا کہ وہ اس کے سابق ترجمان محمد سہیل شاہین کو افغانستان کے نمائندہ کے طورپر منظوری دے۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے رواں ماہ کے اوائل میں ایک قرارداد منظور کرکے افغانستان کے لیے نمائندگی کی باہم مخالف دعووں پر اپنا فیصلہ غیر معینہ مدت کے لیے موخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ طالبان نے اس فیصلے پر اقوام متحدہ کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی ادارہ افغان عوام کے حقوق کو نظر انداز کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ میں افغانستان کے نمائندہ کے لیے طالبان کے نامزد امیدوار سہیل شاہین نے کہا کہ یہ نشست اب افغانستان کی نئی حکومت کو دی جانی چاہئے کیونکہ یہ عالمی ادارے کے لیے ساکھ کا معاملہ ہے۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا کہ اب افغانستان میں ایک نئی خود مختار حکومت قائم ہے۔

    دریں اثنا افغانستان کے اقوام متحدہ مشن نے ٹویٹ کیا کہ سفارت کار نصیر فائق چارج ڈی افیئرز کے طور پر مشن کی قیادت کریں گے۔ وہ اقوام متحدہ میں اپنے ساتھی شہریوں کے تحفظات اور جائز مطالبات کا اشتراک کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔

    یاد رہےکہ دوسری طرف پاکستان میں‌ اسلامی ممالک کی تنظیم کا اہم اجلاس کل سے اسلام آباد میں شروع ہورہا ہے جس میں‌ اسلامی دنیا افغانستان کے حوالے سے اہم فیصلے کرے گی

  • اقوام متحدہ میں سفیر کی تعیناتی کے لئے طالبان کی دوبارہ درخواست

    اقوام متحدہ میں سفیر کی تعیناتی کے لئے طالبان کی دوبارہ درخواست

    کابل: طالبان نے اقوام متحدہ میں سفیر کی تعیناتی کے لیے ایک بار پھر درخواست دے دی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کی سابق حکومت کے سفیر نے اقوام متحدہ میں نشست چھوڑ دی ہے جس کے بعد طالبان نے ایک بارپھراقوام متحدہ سے اپنا سفیربھیجنے کی اپیل کی ہے۔


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں طالبان رہنما اور اقوام متحدہ کی نشست کے لئے طالبان کے نامزد سفیر سہیل شاہین نے کہا کہ اقوام متحدہ اگست کا ایک عالمی ادارہ ہے اور اس کی ساکھ اس کی غیر جانبداری میں مضمر ہے میں اس سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اقوام متحدہ میں افغانستان کی نشست افغانستان کی موجودہ حکومت کو دے کر اپنی غیر جانبداری کو ثابت کرے یہ اقوام متحدہ کے تشخص کا معاملہ ہے افغانستان میں موجودہ حکومت خود مختار ہے۔


    انہوں نے کہا کہ قوانین کو سیاسی ترجیحات کی بالادستی ہونی چاہیے۔ ورنہ اس کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

    یو این جنرل اسمبلی میں افغان نشست نہ ملنے پر طالبان کا ردعمل

    واضح رہے کہ طالبان نے 20 ستمبر کو اقوام متحدہ سے سہیل شاہین کو افغانستان کے نئے نمائندے کے طور تسلیم کرنے کی درخواست کی تھی جسے اقوام متحدہ نے رد کردیا تھا اقوام متحدہ کی جانب سے افغان نمائندے کوسفیرتسلیم نہ کئے جانے پرطالبان نے اقوام متحدہ کوتنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    طالبان نے اگست میں افغانستان میں اقتدارسنبھالا ہے تاہم انہیں اب تک کسی حکومت نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

    عالمی بینک نے افغانستان کو بڑی خوشخبری سُنا دی

    ڈرون حملہ،کسی امریکی فوجی یا عہدیدار کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی ،امریکا

  • دنیا کے مفاد میں ہے کہ افغانستان کی صورتحال نہ بگڑے، شاہ محمود قریشی

    دنیا کے مفاد میں ہے کہ افغانستان کی صورتحال نہ بگڑے، شاہ محمود قریشی

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغانستان نازک صورتحال سے دوچارہے توجہ نہ دی گئی توانسانی بحران شدت اختیارکرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس سے متعلق بیان میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دنیا کی توجہ افغانستان کی طرف مبذول کرانے کے لئے کانفرنس اہم ہے اوآئی سی اجلاس میں سلامتی کونسل کےمستقل ارکان کی نمائندگی بھی ہوگی کانفرنس میں افغان نمائندگان بھی اپنےنقطہ نظرپیش کریں گے۔

    41 برس بعد پاکستان میں او آئی سی اجلاس، حکومت کا تعطیل کا اعلان

    انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان نازک صورتحال سےدوچارہے دنیا نے توجہ نہ دی توافغانستان میں انسانی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے دنیا کے مفاد میں ہے کہ افغانستان کی صورتحال نہ بگڑے پاکستان کی خواہش ہےمہاجرین باعزت طریقےسےگھروں کولوٹیں مہاجرین کی واپسی کیلئےسازگارماحول ہونا سب سےاہم ہے-

    انہوں نے کہا کہ افغانستان میں روزگار،امن نہ ہوتومہاجرین واپسی سے کترائیں گے مہاجرین کا بحران پیدا ہوا تو پاکستان اور ایران تک محدودنہیں رہےگا مہاجرین روزگار کیلئے یورپ کے دروازوں پربھی دستک دیں گے۔

    افغانستان کو ضرورت کے وقت تنہا چھوڑنا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔وزیراعظم

    وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس وقت افغانستان میں جنگ نہیں ہورہی، مسئلہ بھوک ہے ۔افغانستان میں معطل بینکنگ سسٹم فوری بحال کرنےکی ضرورت ہے۔ بینکنگ سسٹم فعال نہ ہوتودنیابھرسےافغانی پیسے کیسےبھیجیں گے؟ افغانستان کےاپنےوسائل کومنجمد کردیا گیا ہے افغان عبوری حکومت کےپاس تنخواہیں دینےکے پیسے نہیں کیا نہ چاہتے ہوئے بھی دنیا افغانستان کوہنگامی صورتحال میں تونہیں دھکیل رہی؟-

    او آئی سی اجلاس کا مقصد افغانستان کی سنگین صورتحال پرغور کرنا ہے ،وزیر خارجہ

  • 41 برس بعد پاکستان میں او آئی سی اجلاس، حکومت کا تعطیل کا اعلان

    41 برس بعد پاکستان میں او آئی سی اجلاس، حکومت کا تعطیل کا اعلان

    41 برس بعد پاکستان میں او آئی سی اجلاس، حکومت کا تعطیل کا اعلان
    اوآئی سی کا غیر معمولی اجلاس ،وفاقی حکومت نے 20 دسمبر کو مقامی تعطیل کا باضابطہ اعلان کردیا

    20 دسمبر بروز سوموار تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور تمام ماتحت ادروں میں چھٹی ہوگی ،کابینہ ڈویژن نے. 20 دسمبر بروز سوموار کی چھٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی اجلاس میں آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اجلاس کے حوالے سے تمام انتظامات مکمل ہیں

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان 19 دسمبر کو اوآئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 17ویں اجلاس کی میزبانی کر یگا وزرائے خارجہ کونسل اجلاس بلانے کی تجویز سعودی عرب نے دی، پاکستان نے کال کا خیر مقدم کیا تھا اور سیشن کی میزبانی کی پیشکش کی تھی، اجلاس میں او آئی سی رکن ممالک اور مبصرین کے وزرائے خارجہ شریک ہونگے ،شرکامیں اقوام متحدہ ، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے نمائندے بھی شرکت کرینگے امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس، جرمنی، اٹلی سمیت غیر رکن ممالک کو مدعو کیا گیا ، جاپان ، یورپی یونین اور افغان حکومت بھی اجلاس میں شریک ہوگی،

    قبل ازیں او آئی سی کے سیکرٹری جنرل، حسین ابراہیم طہٰ کی وزارت خارجہ آمد ہوئی ہے ،وزارت خارجہ آمد پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی سیکرٹری جنرل کا استقبال کیا، اس موقع پر دونوں رہنماؤں میں ملاقات کے دوران افغانستان کی صورتحال پر بات چیت کی گئی

    قبل ازیں او آئی سی کے سیکرٹری جنرل، حسین ابراہیم طہٰ کی پاکستان آمد ہوئی ہے ،اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے معزز مہمان کا خیر مقدم کیا وفاقی دارلحکومت آمد پر او آئی سی سیکرٹری جنرل کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا. وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ او آئی سی سیکرٹری جنرل کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں،او آئی سی کانفرنس کا انعقاد پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہے،

    او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے کہا کہ پاکستان نے پرامن اور مستحکم افغانستان کیلئے بہترین کردار ادا کیا، او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس ایک اہم موقع ہے، او آئی سی کانفرنس میں افغانستان کی صورتحال پر غور کیا جائے گا،

    او آئی سی سیکرٹری جنرل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کریں گے سیکرٹری جنرل او آئی سی 19 دسمبر کو وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کریں گے

    اسلام آباد میں دفاتر جانے والوں کی وجہ سے رش کی صورتحال ہے۔ او آئی سی کے وفود کی نقل و حرکت کے باعث اسلام آباد کی اہم شاہراہوں پر مختصر وقت کے لئے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔تاخیر سے بچنے کے لیے 15 منٹ کا اضافی وقت سفر کے آغاذ سے قبل رکھیں۔

    قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن خطے اور دنیا کے مفاد میں ہے،ذرا سی غفلت پورے خطے کومتاثرکرسکتی ہے،پاکستان، افغانستان سے متعلق جوبھی کردار ادا کر سکتا ہے کر رہا ہے ،او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس افغانستان سے متعلق طلب کیا گیا ہے ،توقع ہے افغانستان کے دیگر پڑوسی بھی کردار ادا کریں گے،یورپی یونین کو احساس ہوگیا کہ افغانستان میں حالات بگڑے تو نقصان ہو گا نیٹو کمانڈرز کو بھی افغانستان کی صورتحال پرتشویش ہے ،امریکی حکام کو بھی کہا جارہا ہے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے،امریکامیں بھی باتیں ہورہی ہیں کہ مستحکم افغانستان کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے 19دسمبر کو او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اہم اجلاس ہوگا، او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس 41 برس قبل 1981 میں ہوا تھا، پرامن و مستحکم افغانستان کے ذریعے ہم علاقائی باہمی روابط رکھ سکتے ہیں غفلت برتنے پر افغانستان کی 47فیصد آبادی خط غربت سے نیچے چلی جائے گی،افغانستان میں خوراک کی کمی اور غربت کے شدید خطرات ہیں،

    او آئی سی اجلاس کے لیے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کو دلہن کی طرح سجایا گیا ہے، ،پارلیمنٹ میںصفائی رنگ وروغن شاہرہ دستورسمیت جن شاہرائوں پر وفود نے پارلیمنٹ تک پہنچنا ہے وہاں پر بھی پھول ،لائٹیں، سڑکوں  کی کارپیٹنگ و لائنگ کا کام کیا گیا ہے، ۔باغی ٹی وی کے مطابق مطابق او آئی سی (آرگنائزیشن آف اسلامک کوپرایشن) کا اجلاس 19دسمبر کو پاکستان میں ہونے جارہا ہے او آئی سی کی تقریب کے لیے پارلیمنٹ کو منتخب کیا گیا ہے اور اس کے لیے قومی اسمبلی کا ہال استعمال کیا جائے گا جس کے لیے پہلے ہی قومی اسمبلی نے تحریک پاس کرکے او آئی سی اجلاس کے لیے ہال دینے کی اجازت دے دی ہے ۔جس کے بعد انتظامیہ نے او آئی سی اجلاس کے لیے تیاریاں تیز کردی ہیں پوری پارلیمنٹ کی عمارت میں رنگ وروغن کاکام تیزی کے ساتھ جاری ہے پارلیمنٹ کے اندر لائٹیں تبدیل کی جارہی ہیں

    قومی اسمبلی کے ہال میں کارپٹ صاف اور نئے ڈالے جارہے ہیں صفائی کے لیے خصوصی عملہ لایا گیا ہے جو پوری عمارت کی کیمیکلز کے ذریعے سے صفائی کررہاہے اس کے ساتھ پارلیمنٹ کی عمارت کے بارشاہراہ دستور پر انتظامیہ سڑک اکھڑکر دوبارہ کارپیٹنگ کررہی ہے فٹ پاتھ اور ٹھیک اور ان کورنگ دیاجارہاہے نئے پھول وپودے لگائے جارہے ہیں لائٹ پول کے ساتھ مزید مختلف ڈیزائن کی لائٹیں لگائی جارہی ہیں جبکہ درختوں وپودوں کومختلف رنگوں سے روشن کرنے کے بھی انتظام کئے جارہے ہیں ۔اس کے ساتھ وی آئی پی وفودکو ائیرپورٹ سے پارلیمنٹ تک لانے کے راستوں کی بھی خصوصی صفائی اور رنگ وروغن کاکام جارہی ہے اسلام آباد ہائی وئے او رایکسپریس وے پر سڑکوں کی دوبارہ کارپٹنگ کی جارہی ہے سڑکوں پر لائنیں لگائی جارہیں تاکہ مسلم ملک کے سامنے پاکستان کی بہترین تصویر پیش کی جاسکے ۔

    او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 19 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے غیر معمولی اجلاس کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں کچھ بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کو بھی مدعو کیا جارہا ہے- اس غیر معمولی اجلاس کا مقصد، افغانستان کی سنگین انسانی صورتحال پر غور و خوض کرنا اور موثر لائحہ عمل طے کرنا ہے، اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق اس وقت افغانستان کے 38 ملین افراد میں سے 50 فیصد کو بھوک کے سنگین بحران کا سامنا ہے اور یہ صورتحال روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

    ترکی طالبان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار

    امریکی سیکریٹری خارجہ کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ

    انتظار کی گھڑیاں ختم، طالبان کا اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان

    طالبان اب واقعی بدل گئے، کابل کے شہریوں کی رائے

    جنہوں نے حملہ کیا وہ اس کی قیمت چکائیں گے، جوبائیڈن کا کابل دھماکوں پر ردعمل

    امریکی فضائیہ کے طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود میں پرواز

    کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

    امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    مقبوضہ کشمیر، ریاض نائیکو کے ہمراہ حریت رہنما کے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے کیا شہید

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    سرینگر ،بھارتی فوج اور مجاہدین کے مابین جھڑپ ,ایک فوجی ہلاک، 5زخمی

    چئرمین تحریک حریت کا فرزند ارجمند کشمیر کی مٹی پر جان نچھاور کر گیا، باغی سپیشل رپورٹ

    او آئی سے اجلاس سے خطاب میں وزیر خارجہ نے او آئی سی اور عالمی دنیا سے کیا بڑا مطالبہ

    کشمیر میں بھارتی ڈومیسائل کا نیا قانون، او آئی سی نے بڑا اعلان کر دیا

    وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی نائیجر میں او آئی سی اجلاس سے قبل اہم ملاقات

     او آئی سی کو قابض قوتوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے

  • افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات بھی آگیں‌

    افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات بھی آگیں‌

    واشگنٹن: افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات بھی آگیں‌اطلاعات کے مطابق افغانستان میں 20 سال کے دوران اربوں ڈالرز اور جدید فوجی ہتھیار استعمال کرنے کے باوجود امریکا اور اتحادیوں کو شکست کی تحقیقات کے لیے امریکی کانگریس کے اراکین پر مشتمل کمیشن قائم کر دیا گیا ہے۔

    قائم کردہ کمیشن 768 ارب ڈالر کے سالانہ دفاعی بجٹ کا حصہ ہے جسے ایوان نمائندگان کے بعد امریکی سینیٹ نے بھی منظور کیا، افغانستان پر بنایا جانے والا کمیشن 16 ارکان پر مشتمل ہوگا۔

    دونوں بڑی جماعتوں ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی کی طرف سے نامزد کیے جانے والے ارکان کو ایک سال کے اندر طالبان کی فتح کی ابتدائی اور3 سال میں مکمل وجوہات کا پتہ چلانا ہو گا۔

    یاد رہے کہ 20 سال تک افغانستان میں 50 ملکوں کی حمایت سے جنگ لڑنے والا امریکہ جس طرح رسوا ہوکرافغانستان سے نکلا ہے اس منظر نے دنیا سے امریکہ کا خوف ختم کردیا ہے اور اب تو امریکہ کی اپنی ریاستوں نے سراٹھان اشروع کردیا ہے ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان ریاستوں نے الگ حیثیت سے ملک کے طور پردنیا کے نقشنے پرانے کا فیصلہ کرلیا ہے

    اس اثنا میں دوسری طرف چین اور روس سے معاذ آرئی بھی امریکہ کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ نے زمینی جنگ کی بجائے خلائی جنگ کا منصوبہ بنایا ہے ،

    یہ سارے حالات ایک طرف مگرامریکی جرنیل اس بات پرپریشان ہیں‌کہ چند ہزارنہتے افغان طالبان نے دنیا کے 50 ملکی اتحاد کو کسیے ذلت آمیز شکست دی یہ ایک قابل غور سوال ہے تاکہ آئندہ سے ایسی شکست سے بچا جاسکے ، اسی مقصد کے تحت یہ کمیشن قائم کیا گیا ہے

  • طالبان نے کابل پر قبضہ نہیں کیا بلکہ انہیں دعوت دی گئی تھی ،حامد کرزئی

    طالبان نے کابل پر قبضہ نہیں کیا بلکہ انہیں دعوت دی گئی تھی ،حامد کرزئی

    سابق افغان صدرحامد کرزئی کا کہنا ہے کہ طالبان نے افغان دارالحکومت کابل پر قبضہ نہیں کیا تھا بلکہ انہیں اس کی دعوت دی گئی تھی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق سابق افغان صدر حامد کرزئی نے سابق صدراشرف غنی کے ملک چھوڑنے اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کو شہر میں داخل ہونے کی دعوت دی گئی تاکہ آبادی کا تحفظ کیا جاسکے اور ملک کو افراتفری سے بچایا جاسکے۔

    حامد کرزئی نے پہلی بار ایسا اشارہ دیا ہے کہ انہوں نے طالبان کو آنے کی دعوت دی تھی۔ حامد کرزئی نے اس بات پر بھی اصرار کیا ہے کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ عبد اللہ عبد اللہ اور دوحہ میں موجود طالبان قیادت اس حوالے سے ہونے والے معاہدے کا حصہ تھی۔

    عالمی بینک نے افغانستان کو بڑی خوشخبری سُنا دی

    حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ اشرف غنی کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی حکام بھی ملک چھوڑ چکے تھے، حامد کرزئی نے جب وزیر دفاع بسم اللہ خان سے یہ پوچھنے کے لیے رابطہ کیا کہ کتنے حکومتی اراکین موجود ہیں تو انہیں معلوم ہوا کہ کوئی موجود نہیں، یہاں تک کہ کابل کے پولیس چیف بھی موجود نہیں تھے۔

    اس کے بعد میں نے وزیر داخلہ کو فون کیا، پولیس چیف کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی موجود نہیں تھا۔ یہاں تک کہ نہ کور کمانڈر تھے اور نہ کوئی یونٹ، سب جا چکے تھے اشرف غنی کے چلے جانے نے دارالحکومت میں طالبان کے داخلے کے حوالے سے منصوبہ بندی کو درہم برہم کردیا۔

    اس صورتحال میں بسم اللہ خان نے حامد کرزئی سے بھی دریافت کیا کہ کیا وہ کابل چھوڑنا چاہتے ہیں؟ جس پر 13 سال تک ملک کے صدر رہنے والے حامد کرزئی نے کابل چھوڑنے سے انکار کردیا۔

    یو این جنرل اسمبلی میں افغان نشست نہ ملنے پر طالبان کا ردعمل

    یاد رہے کہ اس وقت حامد کرزئی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ عبداللہ عبداللہ دوحہ میں طالبان قیادت کے ساتھ ایک معاہدے پر کام کررہے تھے جس کے تحت طالبان کو کچھ شرائط کے ساتھ دار الحکومت میں داخل ہونے دیا جاتا اس ضمن میں حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی سے ملاقات کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ شراکت اقتدار کے معاہدے کے لیے دیگر 15 افراد کے ہمراہ اگلے روز قطر روانہ ہوں گے۔

    حامد کرزئی نے بتایا کہ 15 اگست کی صبح اس وقت دارالحکومت میں بے چینی کا ماحول تھا افواہیں پھیلی ہوئی تھیں کہ طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا ہے ، جس پر انہوں نے دوحہ فون کیا جہاں سے انہیں بتایا گیا کہ طالبان شہر کے اندر داخل نہیں ہوں گے۔

    طالبان کے ساتھ سرحدی جھڑپ غلط فہمی کا نتیجہ تھی ایران

    حامد کرزئی کے مطابق دوپہر تک طالبان کا بیان آیا کہ حکومت کو اپنی جگہ پر برقرار رہنا چاہیے کیونکہ طالبان شہر میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے اس کے بعد تاہم دوپہر تقریباً پونے 3 بجے تک یہ واضح ہوگیا تھا کہ اشرف غنی شہر چھوڑ چکے ہیں، حامد کرزئی نے وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کو فون کیا، کابل پولیس چیف کو تلاش کیا لیکن سب جاچکے تھے۔

    اشرف غنی کے محافظ دستے کے نائب سربراہ نے حامد کرزئی سے کہا کہ وہ محل آکر صدارت سنبھال لیں تاہم حامد کرزئی نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ یہ ان کا حق نہیں ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ اس کے برعکس انہوں نے ’اپنے بچوں کے ساتھ ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تاکہ افغان عوام جان سکیں کہ وہ سب یہاں موجود ہیں‘۔

    حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ اگر اشرف غنی کابل میں ہی رہتے تو پر امن انتقال اقتدار کا معاہد ہ ہوسکتا تھا۔

    طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    بھارت امن چاہتا ہے تو کشمیریوں پر مظالم بند کرے،قریشی کی نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو

    شاہ محمود قریشی کی افغان عبوری وزیراعظم ملاحسن اخوند سے ملاقات

    حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ آج کل روزانہ کی بنیاد پر طالبان قیادت سے ملاقات کرتاہوں۔ دنیا کو ان سے رابطہ کرنا چاہیے،یہ بھی بہت ضروری ہے کہ افغان عوام بھی متحد ہوجائیں۔’اس صورتحال کا خاتمہ تب ہی ہو سکتا ہے جب افغان اکٹھے ہوں اور اپنا راستہ خود تلاش کریں۔

    اس سے قبل امریکی میگزین "نیویارکر” اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستانی نمبر سے موصول ہونے والے ایک ٹیکسٹ میسج اور فون کال سے سابق مشیر قومی سلامتی حمد اللہ محب، سابق صدر اشرف غنی کے ساتھ اہلِ خانہ کے ہمراہ افغانستان چھوڑنے پر آمادہ ہوئے –

    کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    میگزین کے مطابق طالبان جنگجوؤں کے کابل پر قبضے والے روز یعنی 15 اگست کو تقریباً ایک بجے ایک پیغام آیا کہ طالبان کے حقانی گروپ کے سربراہ خلیل حقانی، حمداللہ محب سے بات کرنا چاہتے ہیں جس پر انہوں نے خلیل حقانی کی کال اٹھالی، کال پر انہیں ہتھیار ڈالنے کا کہا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق خلیل حقانی نے کہا کہ اگر حمداللہ محب ایک مناسب بیان دے دیتے ہیں تو وہ ملاقات کر سکتے ہیں لیکن جب سابق مشیر قومی سلامتی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے پہلے مذاکرات کا کہا تو خلیل حقانی نے اپنی بات دہرا کر کال کاٹ دی۔

    اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا کہ خلیل حقانی نے زلمے خلیل زاد کے نائب ٹام ویسٹ کو دوحہ میں کال کی اور انہیں خلیل حقانی کی کال سے آگاہ کیا جس پر ٹام ویسٹ نے انہیں ملاقات کے لیے نہ جانے کا مشور دیا کیوں کہ یہ ایک جال ہوسکتا تھا۔

    ایک سو سے زائد افغان خواتین کو فروخت کرنیوالا ملزم طالبان کے ہتھے چڑھ گیا

    غداری کے الزام میں گرفتار شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا