Baaghi TV

Tag: افغان طالبان

  • افغان طالبان  کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت ،افغانستان میں مزاحمتی تنظیم این ایم ایف کے قیام کا اعلان

    افغان طالبان کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت ،افغانستان میں مزاحمتی تنظیم این ایم ایف کے قیام کا اعلان

    افغانستان کے شمالی اور مشرقی صوبوں کے نوجوانوں نے مشترکہ طور پر نیشنل موبلائزیشن فرنٹ(این ایم ایف) کے قیام کا اعلان کیا ہے، تاکہ افغان طالبان کے قبضے اور دہشت گردی کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کی جا سکے۔

    افغان ٹائمز کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کو مقامی افغان ذرائع کے ذریعے بتایا جا رہا ہے جس میں ایک نئے گروپ کے ابھرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کی شناخت نیشنل موبلائزیشن فرنٹ (NMF) کے نام سے کی گئی ہے،ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغانستان کے مختلف حصوں بالخصوص شمالی اور مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس نئے اعلان کردہ محاذ کی حمایت اور شرکت کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔

    نیشنل موبلائزیشن فرنٹ (این ایم ایف) نے کہا ہے کہ طالبان عوام کے نمائندے نہیں بلکہ غاصب ہیں اور افغانستان پر جبراً قبضہ کر چکے ہیں، نیا محاذ قائم کرنے کا مقصد ملک کو دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کروانا اور عوام کی حفاظت کرنا ہے۔

    شمالی وزیرستان سرحد پر پاک فوج کی کارروائی، متعدد افغان طالبان ہلاک

    این ایم ایف کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ سابقہ سوویت یونین کے خلاف جہاد ایک فرض تھا، اسی طرح آج طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت اور جہاد بھی ایک فرض بن چکا ہے،افغانستان کی بڑی آبادی پریشان اور مظلوم ہے اور اب عوام کے نمائندے خود اٹھ کھڑے ہوئے ہیں،یہ اقدام طالبان کی دہشت گردی کی سرپرستی کی پالیسیوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے اور وہ افغانستان میں امن، استحکام اور عوامی حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔

    ایرانی حملوں کا خوف، امارات میں کھلے میدانوں میں عید کی نماز پر پابندی

    واضح رہے کہ نیشنل موبلائزیشن فرنٹ ایک افغان مزاحمتی تنظیم ہے جو بھرپور انداز میں طالبان کے خلاف سرگرم ہے اس کا قیام شمالی اور مشرقی افغانستان کے نوجوانوں نے کیا، جو ظلم و جبر اور دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے این ایم ایف خود کو افغان عوام کا حقیقی نمائندہ اور طالبان کے خلاف مزا حمتی قوت کے طور پر پیش کرتی ہے، تنظیم کے مطابق اس کا مقصد ملک میں امن، استحکام اور بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کرنا ہے، یہ تنظیم عوامی جذ با ت اور قومی وقار کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط محاذ کے طور پر سامنے آئی ہے۔

    عید کے چاند سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

  • شمالی وزیرستان سرحد پر پاک فوج کی کارروائی، متعدد افغان طالبان ہلاک

    شمالی وزیرستان سرحد پر پاک فوج کی کارروائی، متعدد افغان طالبان ہلاک

    شمالی وزیرستان کے مواز کلے سرحدی علاقے میں پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی بڑی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد علاقے میں داخل ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، لیکن پاک فوج کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں کئی طالبان ہلاک ہو گئے جب کہ دیگر فرار ہونے پر مجبور ہوئے پاک فوج نے دشمن کے کمپاؤنڈز اور ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر مکمل تباہ کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی اس دوران پاک فوج علاقے میں سیکیورٹی مضبوط رکھنے اور ممکنہ دراندازی کی روک تھام کے لیے چوکس ہے آپریشن کا مقصد نہ صرف دہشت گردوں کو ختم کرنا بلکہ شمالی وزیرستان میں امن و امان کی صورت حال کو یقینی بنانا اور عوام کی حفاظت کرنا ہے۔

    ایرانی حملوں کا خوف، امارات میں کھلے میدانوں میں عید کی نماز پر پابندی

    عید کے چاند سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    وزیراعلیٰ ہاؤس کے پی سے معلومات لیک ، 80اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا

  • افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف

    افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف

    افغان طالبان کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا پردہ چاک ہوگیا، جہاں اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف ہوا ہے۔

    وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے کیے گئے فیکٹ چیک کے مطابق جس امید اسپتال کو افغان طالبان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ دراصل کیمپ فینکس (Camp Phoenix) سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے، اصل ہدف ایک عسکری مقام تھا جہاں دہشتگردوں کے اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ موجود تھا، جسے گزشتہ رات درست نشانہ بنایا گیا۔

    تصاویر سے بھی واضح ہے کہ اصل اسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جبکہ نشانہ بنائی گئی جگہ کنٹینرز پر مشتمل عسکری/دہشت گرد انفرا اسٹرکچر تھا یہ فرق خود ہی حقیقت کو واضح کرتا ہے ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ واقعی منشیات کے عادی افراد کے علاج کا مرکز تھا تو پھر اسے ایک ایسے فوجی کیمپ میں کیوں قائم کیا گیا جہاں مہلک اسلحہ اور بارود ذخیرہ کیا جاتا ہو؟ یہ تضاد خود اس دعوے کی حقیقت پر سوال اٹھاتا ہے۔

    پی آئی اے کو مارکیٹ ویلیو سے کم میں فروخت کرنے کا تاثر غلط ہے، سیکریٹری نجکاری کمیشن

    وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایک اور اہم فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے افغان سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل سے ایک پوسٹ اور ویڈیو ڈیلیٹ کیے جانے پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے،مذکورہ آفیشل اکاؤنٹ کی جانب سے سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی منشیات بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم بعد ازاں اس متنازع پوسٹ کو اچانک ہی ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی تھی، جو متعدد بار کیے جانے والے فیکٹ چیکس کے سخت دباؤ اور جانچ پڑتال کا سامنا نہیں کر سکی، اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے اپنے ہی سوشل میڈیا ہینڈل پر شیئر کی گئی ہیرا پھیری والی ویڈیو کو حقیقت ثابت کرنے کی کوشش بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

    افواج پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں 6 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، عطا اللہ تارڑ

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کے کابل میں امید ایڈکشن اسپتال پر فضائی کارروائی کے الزامات حقیقت سے بعید ہیں طالبان کے دعوے 400 ہلاک اور 250 زخمی ہونے کے ہیں، تاہم حکام کے مطابق یہ کارروائیاں مکمل طور پر انٹیلی جنس پر مبنی، درست اور محدود تھیں، جو دہشت گردوں کے ٹھکانے، لاجسٹک نیٹ ورک اور سرحدی حملوں میں ملوث بنیادی ڈھانچے تک محدود تھیں۔

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی پروپیگنڈا واضح نمونہ اختیار کر چکی ہے: دہشت گرد موجودگی سے انکار، ہدف کو اسپتال یا پناہ گاہ کے طور پر پیش کرنا، ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور ہمدردی کے جذبات پیدا کرنا،امید ایڈکشن اسپتال جیسی کہانیاں اب معمول بن چکی ہیں، ہر دہشت گرد سے منسلک مقام کو انسانی سہولت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

    یہ دعوے صرف ان مقامات پر حملوں کے بعد سامنے آتے ہیں جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری سے جڑے ہوتے ہیں طالبان نے شہری علاقوں میں دہشت گردوں کو چھپنے کی اجازت دے رکھی ہے اور بعد میں اس کا فائدہ پروپیگنڈا اور مظلومیت کے بیانیے کے لیے اٹھا تے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کےمقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے تحت دہشت گرد گروپس، بشمول ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر علاقائی تنظیمیں آزادانہ ماحول میں کام کر رہی ہیں۔ 2025 میں ٹی ٹی پی کے 600 سے زائد حملے افغان علاقے سے انجام دیے گئے، جس سے پاکستان کو براہ راست نقصان پہنچا جن میں 1957 ہلاکتیں اور 3603 زخمی شامل ہیں۔

    سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور سفارتی راستے استعمال کیے، تاہم دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کے خلاف کارروائی قانونی اور ضروری دفاع کے طور پر کی گئی۔ طالبان کی بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ہلاکتوں کی رپورٹیں حقیقت میں انسانی ہمدردی کا معاملہ نہیں بلکہ دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کو بچانے اور اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی اسپتال یا شہریوں کے بارے میں نہیں، بلکہ دہشت گردی اور اس کے خلاف کارروائی میں طالبان کی عدم تعاون اور ان کے پروپیگنڈا بیانیے پر مرکوز ہے۔

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

  • افواج پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں 6 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، عطا اللہ تارڑ

    افواج پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں 6 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، عطا اللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے 16 مارچ کی شب کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کے عسکری ٹھکانوں پر درستگی کے ساتھ فضائی کارروائیاں کیں۔

    وزیر اطلاعات نے منگل کو ایکس پر ایک پیغام میں بتایا کہ یہ کارروائیاں ان ہی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئیں جو افغان طالبان کے ذریعے دہشت گرد گروپوں فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کی مدد کے لیے استعمال ہو رہے تھےکابل میں دو مقامات پر تکنیکی معاونت اور گولہ بارود کی ذخیرہ گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں، جن کے بعد ہونے والے ثانوی دھماکوں سے بڑے گولہ بارود کے ذخائر کی موجودگی ظاہر ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ ننگرہار میں چار عسکری ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں لاجسٹک، گولہ بارود اور تکنیکی ڈھانچے تباہ کر دیے گئے طالبان کی طرف سے کیے جانے والے جھوٹے دعوے افغان اور عالمی سطح پر ان کے دہشت گردانہ اقدامات کو چھپا نہیں سکتے۔

    فروری میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 427 ملین ڈالر ریکارڈ

    عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ تمام ٹارگٹ صرف ان انفراسٹرکچر کو درستگی کے ساتھ کیا گیا ہے جنہیں افغان طالبان حکومت اپنے متعدد دہشت گرد پراکسیوں بشمول فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی حمایت کے لیے استعمال کر رہی ہے، جیسا کہ ساتھ والی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے پروپیگنڈا کرنے والے طالبا ن حکومت کے جھوٹے دعوے خطے میں دہشت گردی کی حمایت اور سرپرستی کرنے والے اپنے گھناؤنے اقدامات سے افغانوں اور دنیا کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔

    وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ غضب للحق کے تحت پاکستانی شہریوں کو دہشت گردی کے خلاف ماسٹر ٹیرر پراکسی کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کے لیے آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک مطلوبہ مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتے۔

    ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی جاں بحق

  • آپریشن غضب للحق : باجوڑ سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹیں تباہ

    آپریشن غضب للحق : باجوڑ سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹیں تباہ

    پاک افواج نے آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے باجوڑ سیکٹر میں پاک افغان سرحد سے ملحقہ افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں تباہ کردی ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افواج کی جانب سے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف فیصلہ کن جوابی کارروائیاں جاری ہیں اور اس سلسلے میں باجوڑ سیکٹر میں پاک افغان سرحد کے قریب موجود افغان طالبان کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا پاک فوج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے سرحدی علاقے میں قائم افغان طالبان کی پوسٹوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا کارروائی کے دوران گائیڈڈ میزائل کے ذریعے بھی افغان طالبان کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، آپریشن غضب للحق اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔

    امریکی کمیشن کی آر ایس ایس ،را پر پابندی کی سفارش

    بنگلہ دیشی وزیراعظم نے نہریں کھودنے کے ملک گیر منصوبے کا افتتاح کر دیا

    بشنوئی گینگ کی گلوکار بادشاہ کو سر پر گولی مارنے کی دھمکی

  • آپریشن غضب للحق: چترال میں پاک افغان سرحد پر طالبان کی بادانی پوسٹ تباہ

    آپریشن غضب للحق: چترال میں پاک افغان سرحد پر طالبان کی بادانی پوسٹ تباہ

    آپریشن غضب للحق کے تحت پاک فوج کی افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے چترال میں ملحقہ پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بادانی پوسٹ کو چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے نشانہ بناکر تباہ کردیا ہے،بادانی پوسٹ کو مختلف زمینی ہتھیاروں اور کواڈ کاپٹرز کے ذریعے مکمل تباہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

    افغان طالبان اورفتنہ الخوارج کوبلا اشتعال جارحیت کے بعد ہر محاذ پر بھرپور پسپائی کا سامنا ہے، سیکیورٹی فورسز کا آپریشن غضب للحق اپنے مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا اور سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

    ملک بھر میں عیدالفطر کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری

    نیتن یاہو زندہ ہیں تو وہ ایران کے اہم اہداف میں شامل ہیں،پاسداران انقلاب

    وزارتِ مذہبی امور نے حج پروازوں کے شیڈول کی معطلی کی خبروں کو مسترد کردیا

  • آپریشن غضب للحق:663 افغان طالبا ن ہلاک ،887 سے زائد زخمی  اور 249 چیک پوسٹیں تباہ

    آپریشن غضب للحق:663 افغان طالبا ن ہلاک ،887 سے زائد زخمی اور 249 چیک پوسٹیں تباہ

    پاکستان سیکیورٹی فورسز 26 فروری 2026 کو شروع کی گئی ٹی ٹی اے کی دشمنیوں کے جواب میں آپریشن غضب للحق کو جاری رکھے ہوئے ہیں پاک افغان سرحد پر دشمنانہ کارروائیوں کو مؤثر طریقے سے پسپا کیا جا رہا ہے، جبکہ مسلسل سزا کی کارروائیاں ٹی ٹی اے کی آپریشنل ڈھانچہ میں ان کی عسکری صلاحیتوں اور معاونت کی صلاحیت کو مسلسل کمزور کر رہی ہیں۔

    پاکستان سیکیورٹی فورسز نے کے پی کے میں پاک افغان بارڈر پر مضبوط آپریشنل تسلط برقرار رکھا، عسکریت پسندوں کی تیاریوں میں مشغول رہے، مربوط توپ خانے، مارٹر، ٹینکوں اور باجوڑ، کرم اور پاراچنار سیکٹر میں درست فائرنگ کے تبادلوں کے ذریعے دراندازی کی کوشش اور دشمن کی فائرنگ کی پوزیشنوں کو ناکام بنایا۔

    رپورٹنگ کی مدت کے دوران، سرحد پار سے ٹی ٹی اے کے عناصر کی طرف سے مارٹر، آرٹلری اور چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ سمیت متعدد معاندانہ کارروائیاں شروع کی گئیں اس کے علاوہ، تیراہ سیکٹر میں ٹی ٹی اے کے عسکریت پسندوں کی طرف سے 4 بار چھاپوں کی کوشش کی گئی، جن میں سے سبھی کو پاکستان سیکورٹی فورسز نے مربوط فائر پاور اور دفاعی ردعمل کے ذریعے کامیابی سے پسپا کر دیا۔

    کامران ٹیسوری تاریخ رقم کر کے نہایت باوقار طریقے سے گورنر ہاؤس چھوڑ کر گئے ہیں،ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

    سرویلنس گرڈز نے کئی سیکٹرز میں دشمنی ڈرون کی سرگرمیوں اور عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کا بھی پتہ لگایا، جن پر کڑی نظر رکھی گئی اور جہاں ضروری ہو مصروف تھے، سرحد کے ساتھ عسکریت پسندوں کی آپریشنل جگہ کو مزید محدود کر دیا۔

    بلوچستان فرنٹ کے ساتھ – پاک افغان بارڈر

    پاکستان سیکیورٹی فورسز قلعہ سیف اللہ، ژوب، نوشکی، چمن، چلتن اور سمبازہ سیکٹرز میں مضبوط آپریشنل پوزیشن اور آگے کی بالادستی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، مسلسل نگرانی، علاقے پر تسلط گشت اور توپ خانے اور بھاری ہتھیاروں کی تیاری کے ساتھ کسی بھی دشمنی کی سرگرمی کا فوری جواب دینے کے لیے۔

    زرنج ایئر بیس،جبہ استقلال کا حملہ،ہیلی کاپٹر تباہ

    گڈوانہ انکلیو (ژوب سیکٹر) مضبوطی سے پاکستان کے کنٹرول میں ہے، دفاعی استحکام اور آس پاس کے علاقوں پر تسلط جاری ہے رپورٹنگ کی مدت کے دوران، سرحد پار سے آنے والے راکٹ فائر نے گڈوانہ انکلیو کو نشانہ بنایا، تاہم تمام راکٹ انکلیو کے علاقے میں گرے جس میں کوئی جانی یا بڑا نقصان نہیں ہوا۔

    افغانستان کے اندر اسٹریٹجک حملے

    12/13 مارچ 2026 کی رات کے دوران، پاکستان نے افغانستان کے اندر دہشت گردی سے منسلک بنیادی ڈھانچے کے خلاف درست حملے کیے، پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کی سہولت فراہم کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا اہم اہداف میں قندھار ایئر فیلڈ میں تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات تھیں، جنہیں افغان طالبان عناصر اور اس سے منسلک دہشت گرد نیٹ ورک عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں مدد کے لیے استعمال کر رہے تھے-

    ڈرون حملوں کا بدلہ ، پاک افواج نےافغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    پاک افواج کی کارروائیوں میں 663 افغان طالبا ن ہلاک ،887 سے زائد زخمی ہوئے اور 249 چیک پوسٹیں تباہ ہوئیں جبکہ 44 چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا اور تباہ کی گئیں، 224 ٹینک/اے پی سی/گاڑیاں/توپ خانے تباہ کئے گئے جبکہ پاک فضائیہ نے 70 مقامات کو نشانہ بنایا-

    میدان جنگ میں بار بار کی ناکامیوں کے باوجود، TTA پروپیگنڈہ آؤٹ لیٹس زمینی صورتحال کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش میں جھوٹے دعوے اور مسخ شدہ بیانیہ پھیلاتے رہتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سیکیورٹی فورسز سرحد پر واضح آپریشنل برتری اور مضبوط کنٹرول برقرار رکھتی ہیں-

    طالبان نے افغان عوام کو دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے لیے قربان کر دیا ،احمد مسعود

    علاوہ ازیں آپریشن غضب للحق میں پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملوں کی ویڈیو جاری کر دی گئی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج نے 14/15 مارچ کی درمیانی شب افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد ٹھکانوں سمیت فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ،ان حملوں میں پاک افواج نے قندھار میں ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایکوپمنٹ سٹوریج کو موثر انداز میں تباہ کیا ،یہ انفراسٹرکچر اور ایکوپمنٹ سٹوریج افغان طالبان اور دہشت گرد استعمال کرتے تھے –

    سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق جاری رہے گا اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دشمنی کے عزائم اور عسکریت پسندوں کے انفراسٹرکچر کو پاک افغان سرحد کے اس پار سے پاکستان کو خطرہ لاحق نہیں ہو جاتا۔

  • ڈرون حملوں کا بدلہ ، پاک افواج نےافغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    ڈرون حملوں کا بدلہ ، پاک افواج نےافغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    افغانستان کے شہر قندھار کے فضائی حدود میں پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں کی نچلی پروازوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر حملے بھی کیے گئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے قندھار کے اوپر نچلی پروازیں کیں، جس کے دوران علاقے میں فائرنگ کی تیز آوازیں بھی سنی گئیں عینی شاہدین کے مطابق گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے فضا گونج اٹھی جس کے باعث مقامی آبادی میں تشویش کی فضا پیدا ہوگئی پاک فضائیہ کی جانب سے قندھار میں مختلف مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے طالبان اور دہشتگردوں کے متعدد اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق فضائی حملوں میں طالبان کی خفیہ ایجنسی جی ڈی آئی کے علاقائی ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جسے دہشتگردوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کا ایک اہم مرکز قرار دیا جاتا ہے،علاوہ ازیں قندھار میں افواج پاکستان نے کل ہونے والے ڈرون حملوں کا بدلہ لے لیا، افغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    دوسری جانب افغانستان کے صوبہ تخار میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کے جنگجوؤں نے ایک حملے میں بدخشاں کے پولیس چیف خارجی معراج الدین کو جہنم واصل کر دیا اطلاعات کے مطابق خارجی معراج الدین بدخشاں سے تخار جا رہا تھا کہ راستے میں نیشنل ریزسٹنس کے جنگجوؤں نے اس کی گاڑی کو گھات لگا کر مار ڈالا-

  • پاکستان کے جوابی حملوں کا خوف، افغان طالبان عہدیدار کابل سے فرار

    پاکستان کے جوابی حملوں کا خوف، افغان طالبان عہدیدار کابل سے فرار

    پاکستان کے جوابی حملوں کے خوف سے افغان طالبان عہدیدار 4 ہیلی کاپٹروں کے ذریعے صوبہ غور فرار ہوگئے۔

    افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے صوبہ غور کے کم از کم چار ذرائع نے بتایا کہ طالبان کے متعدد عہدیدار ہفتہ کی صبح چار ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ممکنہ پاکستانی فضائی حملوں کے خوف سے اس صوبے میں پہنچے،افغان میڈیا نے ہیلی کاپٹر کی تصویر بھی جاری کی ہے جس میں افغان طالبان عہدیدار صوبہ غور پہنچے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی حملوں کے خوف سے طالبان کے کئی عہدیدار ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بامیان اور دایکندی کی طرف فرار ہوئے تھے۔

    حالیہ جنگ:روس ایران کو انسانی امداد بھیجنے والا پہلا ملک بن گیا

    اسرائیل کی لبنان میں اسپتال پر بمباری، 12 ڈاکٹرز اور نرسیں جاں بحق

    ایرانی جزیرے پر امریکی حملے سے نقصان کی تفصیلات جاری

  • صدرمملکت کی افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستانی شہری علاقوں پرحملوں کی مذمت

    صدرمملکت کی افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستانی شہری علاقوں پرحملوں کی مذمت

    صدرمملکت آصف علی زرداری نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستانی شہری علاقوں کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی مذمت کی ہے۔

    ایوان صدر سے جاری بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ دہشت اور وحشیانہ طاقت کے ذریعے قائم کی گئی افغانستان کی غیر قانونی حکومت اپنی ان ذمہ دار یوں سے مسلسل مکر رہی ہے جن کے تحت اسے دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اب وہ اسلامی دنیا کی ایک بڑی عسکری طاقت کو اشتعال دلانے کی جسارت بھی کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ افغان دہشت گرد حکومت ہمارے دوست ممالک کے ساتھ مذاکرات کی خواہاں ہے تو دوسری جانب اس نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر کے ایک سرخ لکیر عبور کر لی ہے پاکستان خلیج کے خطے اور مغربی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ کی کوششوں میں مصروف ہے، غیر قانونی اور دہشت گرد طالبان حکومت نے یہ سرخ لکیر عبور کر کے اپنے اوپر سنگین نتائج مسلط کر لیے ہیں۔

    یمنی حوثیوں کا ایران کی حمایت کا اعلان

    انہوں نے کوئٹہ، کوہاٹ اور راولپنڈی میں ڈرون کے ملبے سے زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر شہریوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔

    افغان رجیم کے پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور نقصان کے دعوے مسترد