Baaghi TV

Tag: افغان طالبان

  • صیہونی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا: افغان طالبان کا شدید ردعمل

    صیہونی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا: افغان طالبان کا شدید ردعمل

    کابل :صیہونی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا : افغان طالبان کا شدید ردعمل،اطلاعات کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت نے صیہونی فوج کی جانب سے ماہ رمضان میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز نے جعمہ کی صبح مسجد اقصیٰ پر اچانک دھاوا بولتے ہوئے کمپاؤنڈ میں موجود نمازیوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور ان پر ربڑ کی گولیاں بھی برسائیں۔یاد رہے کہ اس واقعہ میں مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ میں اسرائیلی فورسز کی بربریت کے باعث 152 فلسطینی زخمی ہو ئے۔

    مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی فوج کے دھاوے پر طالبان حکومت نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں پر تشدد کی شدید مذمت کرتی ہے۔

    افغان وزارت خارجہ نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری بالخصوص اسلامی ممالک فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی بحالی اور اسرائیلی مظالم کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کریں۔

    یاد رہے کہ اس واقعہ میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے نماز فجر کے بعد مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں 152 نمازی زخمی ہوگئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مسجد اقصیٰ میں نماز فجر کے بعد نمازیوں اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی، اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔

    اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے نمازیوں کو زدوکوب کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ فلسطینی ہلال احمر نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز کی کارروائی میں 152 نمازی زخمی حالت میں لائے گئے جن میں درجن بھر کی حالت تشویشناک ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی پولیس کا کہنا تھا کہ چند نمازیوں نے یہودیوں کے لیے مختص جگہ پر پتھر برسائے جب انھیں روکا گیا تو سیکیورٹی فورسز پر بھی فائر کریکر پھینکے گئے جس کے جواب میں آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔

     

    رمضان المبارک کے مہینے میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان عبادت کے لیے مقدس مسجد آتے ہیں اور کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے مسجد اقصیٰ کے کسٹوڈین اردن اور اسرائیلی حکومت کے درمیان ضابطہ اخلاق بھی طے پایا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران اسرائیل میں چار مختلف حملوں میں ایک درجن یہودیوں کی ہلاکت کے بعد سے اسرائیلی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 25 فلسطنی شہید ہوگئے ہیں۔

  • پشاورمیں شہریوں ، نمازیوں پرخودکُش حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں :افغان طالبان

    پشاورمیں شہریوں ، نمازیوں پرخودکُش حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں :افغان طالبان

    کابل :افغانستان میں طالبان حکومت نے پشاور کی جامع مسجد میں ہونے والے خودکش بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔اور کہا ہے کہ مسجد ہو یا عام جگہ کسی بھی جگہ خودکش حملے حرام ہیں اور ان حملوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے

    اس واقعے پر افغان طالبان کے ترجمان و افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹ کرتے ہوئے پشاور بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھاکہ شہریوں اور نمازیوں پر حملے کا کوئی جواز نہیں، پشاور دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔

     

    پشاور کے قصہ خوانی بازار کے علاقے کوچہ رسالدار کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں امام ارشاد خلیلی سمیت 56 شہید ہو گئے۔

    پشاور کے قصہ خوانی بازار میں نمازِ جمعہ کے دوران دو حملہ آور جامع مسجد کے گیٹ پر آئے اور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار موقع پر شہید ہو گئے۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد جامع مسجد میں داخل ہوئے، جس کے بعد مسجد میں دھماکا ہوا۔

    ترجمان ایل آر ایچ پشاور کے مطابق کوچہ رسالدار دھماکے میں56 افراد شہید ہوئے جبکہ 194 زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں کچھ کی حالت تشویشناک ہے، شدید زخمیوں کو بروقت طبی سہولیات فراہم کی گئی، بڑی تعداد میں ڈاکٹروں اورنرسوں نےعلاج فراہم کیا۔

    پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کرلئے گئے۔ دھماکے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پشاور کے تین بڑے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ جبکہ سیکورٹی بھی ہائی الرٹ کر دی گئی۔

    حکومت خیبر پختونخوا کے ترجمان بیرسٹر محمد سیف نے تصدیق کی کہ مسجد کے اندر ہونے والا دھماکا خودکش تھا جس میں دو حملہ آور ملوث تھے۔

  • عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے،ملا عبدالغنی برادر

    عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے،ملا عبدالغنی برادر

    افغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر کا کہنا ہے کہ افغانستان اس وقت بڑے انسانی المیے سے گزر رہا ہے، اور عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ اردو نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے حوالے سے بتایا کہ جمعے کو سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری ایک ویڈیو بیان میں ملا عبدالغنی برادر نے کہا کہ اس وقت کئی جگہوں پر لوگوں کے پاس خوراک، رہنے کی جگہ، گرم کپڑے اور پیسے نہیں ہیں دنیا کو بغیر کسی سیاسی تعصب کے افغان عوام کی مدد کرنی چاہیے اور انسانی ہمدردی کا فرض پورا کرنا چاہیے۔‘

    افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں وسطی اور شمالی افغانستان کے بیشتر علاقے برف سے ڈھک گئے ہیں جبکہ ملک کے جنوبی علاقے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔


    طالبان کے نائب وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ موسم کی صورت حال خراب ہونے سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہےطالبان ملک بھر میں بین الاقوامی امداد کو تقسیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ گذشتہ برس اگست میں طالبان کی جانب سے ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد بین الاقوامی برادری نے افغانستان کے اثاثے منجمد کر دیئے تھے عالمی امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے 3 کروڑ 80 لاکھ افراد میں سے آدھی آبادی کا بھوک سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ ملک میں افراطِ زر اور بے روزگاری کی شرح بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

    افغان حکومت کا دکانداروں کولباس آویزاں کرنے والی پلاسٹک ڈمیز کےسرقلم کرنے کاحکم

    یاد رہے کہ ابھی تک کسی ملک نے باضابطہ طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور سفارت کاروں کو اس مشکل کا سامنا ہے کہ وہ طالبان کی حمایت کیے بغیر زبوں حالی کا شکار افغانستان کی معیشت تک امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

    واضح رہے ک سابق صدر اشرف غنی نے طالبان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حکومت کو قانونی حیثیت دینے کے لیے لویہ جرگہ بلائیں دنیا کی اقوام لویہ جرگہ کے بغیر طالبان کو تسلیم کرنے سے گریز کریں گی۔ انہوں نے لویہ جرگہ کو ایک جمہوری ادارہ قرار دیا۔ اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات قابل فہم ہے کہ افغانستان کے عوام افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے اور اس ملک کے حالات پر طالبان سے ناراض ہیں۔

    قازقستان: حالات کشیدہ، مظاہرین کیساتھ جھڑپ، 16 سکیورٹی اہلکار ہلاک:روسی دستے مدد کو پہنچ گئے

  • افغان طالبان نے آئی ایم ایف اوردیگرمالیاتی اداروں کے بغیربجٹ تیارکردکھایا

    افغان طالبان نے آئی ایم ایف اوردیگرمالیاتی اداروں کے بغیربجٹ تیارکردکھایا

    کابل :افغان طالبان نے آئی ایم ایف اوردیگرمالیاتی اداروں کے بغیربجٹ تیارکردکھایا،اطلاعات کے مطابق افغآن طالبان کا غیر ملکی امداد کے بغیر قومی بجٹ تیار کرنے کا دعویٰ کرکے دنیا کو حیران کردیا ،ادھرافغان طالبان کی اس کامیابی کے پیچھے پاکستان کی حکمت قراردی جارہی ہے

    اس حوالے سے تازہ خبروں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بغیر کسی غیر ملکی امداد کے مالی سال 2022 کا قومی بجٹ تیار کرکے اس کی حتمی منظوری کے لیے پیش کردیا ہے اوراگلے چند دنوں تک اس بجٹ کو منظور کرکے افغانستان میں ترقیاتی ، صحت وتعلیم اور دیگرمنصوبوں پر کام شروع کیا جائے گا

    فرانسیسی خبر ررساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق افغان وزارت خزانہ کادعویٰ ہے کہ انہوں نے قومی بجٹ 2022 کا مسودہ دو دہائیوں میں پہلی بار غیر ملکی امداد کے بغیر تیار کرلیا ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق افغان وزارت خزانہ کے ترجمان احمد ولی حقمل نے بجٹ کا حجم نہیں بتایا لیکن ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کا یہ مسودہ شائع ہونے سے پہلے منظوری کے لیے کابینہ کے پاس جائے گا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترجمان افغان وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم اس بجٹ کو اپنی ملکی آمدنی سےتیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم کر سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ رواں سال اگست میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد غیر ملکی مالی امداد روک گئی تھی جبکہ مغربی ملکوں نے طالبان کو بیرون ملک موجود اربوں ڈالرز کے اثاثوں تک رسائی فراہم نہیں کی تھی۔یہ بھی یاد رہے کہ 2021 کا بجٹ گزشتہ افغان حکومت نے آئی ایم ایف کی رہنمائی سے تیار کیا تھا۔

  • افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    نیویارک: افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا ا،طلاعات کے مطابق گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت افغان طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت کے نمائندوں کو تسلیم کرنے کا معاملہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

    امریکا، روس اور چین سمیت 9 ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی کے معاہدے پر مشتمل قرارداد کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ووٹنگ کے بغیر اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔

    گزشتہ ہفتے کمیٹی نے جنرل اسمبلی کے موجودہ سیشن کے لیے افغانستان اور ’میانمار کے نمائندوں کی شمولیت کو مؤخر کرنے‘ کی تجویز دی تھی، جنرل اسبملی کا موجودہ سیشن ستمبر 2022 میں ختم ہوگا۔

    9 ممالک پر مشتمل کریڈنشلز کمیٹی کی صدارت اس وقت سویڈن کے پاس ہے اور مستقبل قریب میں کمیٹی کا مزید کوئی اجلاس ہونے کی بھی امید نہیں ہے۔

    افغانستان اور میانمار کے معاملے پر اقوام متحدہ میں نئی اور پرانی حکومتوں کی جانب سے دو مختلف درخواستیں موجود تھیں۔

    میانمار میں یکم فروری کو فوجی قبضہ ہونے کے بعد وزیر خارجہ وونا ماونگ لوین نے 18 اگست کو سابق فوجی کمانڈر اونگ تھورئین کو اقوام متحدہ میں تعینات کیا تھا۔

    تاہم سابق سربراہ آنگ سان سوچی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات کیے گئے نمائندہ کیاو مو تُن نے فوجی قیادت کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے درخواست کی ان کی نمائندگی کو برقرار رکھا جائے۔

    سابق افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات سفیر غلام اسحٰق زئی نے بھی 14 ستمبر کو اقوام متحدہ میں اسی قسم کی درخواست دی تھی۔

    طالبان نے اگست کے وسط میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 20 ستمبر کو اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ وہ ان کے سابق ترجمان سہیل شاہین کو افغانستان کے نئے نمائندے کے طور تسلیم کرلے۔

    طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت نے اپنے نامزد کردہ نمائندوں کی منظوری نہ دینے پر اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی پر تنقید کی ہے۔

    گزشتہ ہفتے سہیل شاہین نے کہا کہ ’یہ فیصلہ قانونی تقاضوں اور انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے افغان عوام کو ان کے قانونی حق سے محروم کیا ہے‘۔

    میانمار کی فوجی حکومت کے ترجمان زا مِن تُن کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا فیصلہ زمینی حقائق کا عکاس نہیں ہے۔

    اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی نے بدھ کے روز 191 ممالک کے نمائندگان کی منظوری دی جس میں صرف وینزویلا کے نمائندے پر امریکا نے اعتراض اٹھایا۔

  • افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا

    افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا

    کابل، تہران: افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا ،اطلاعات کےمطابق افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دونوں جانب سے بھاری اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کی طالبان فورسز اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، یہ جھڑپ مغربی افغانستان کے صوبہ نمروز کے سرحدی ضلع کُنگ میں ہوئی ہے۔

     

     

    افغان صحافیوں نے بتایا کہ طالبان اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپ نمروز کے سرحدی ضلع میں بدھ کی شام 5 بجے شروع ہوئیں۔ لڑائی کے دوران طالبان کی جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ بھاری اسلحہ کا بھی استعمال کیا گیا۔

     

    مقامی میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے تین سرحدی چوکیوں پر قبضہ کا دعوی کیا گیا ہے، جبکہ طالبان نے مزید فوجی کمک بھی طلب کرلی ہے۔مقامی افغان صحافیوں کے مطابق جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب ایران کی جانب سے سرحد پر چیک پوسٹ کی تعمیر کی جارہی تھی۔

    طلوع نیوز کے مطابق امارت اسلامی کے نائب ترجمان بلال کریمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبہ نمروز کے سرحدی علاقوں میں طالبان فورسز اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جھڑپیں اب بند ہوچکی ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بلال کریمی نے جھڑپوں کی وجوہات کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ لڑائی کے دوران بعض طالبان فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے، لیکن ایران کی جانب کسی زخمی یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد افغان اور ایرانی سرحد پر یہ پہلی جھڑپ ہے۔دوسری طرف ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران کی چیک پوسٹ پر قبضے کی خبریں غلط ہیں، طالبان نے غلط فہمی کی بنیاد پر ایرانی کسانوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔

     

     

  • پاکستان افغان عوام کی مدد کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے،سفیر پاکستان

    پاکستان افغان عوام کی مدد کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے،سفیر پاکستان

    واشنگٹن:پاکستان افغان عوام کی مدد کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے،سفیر پاکستان کا بی بی سی کو انٹریو،اطلاعات کے مطابق سفیر پاکستان ڈاکٹر اسد مجید خان نے بی بی سی ورلڈ نیوز کے پروگرام یلدا حکیم کے ساتھ انٹرویومیں کہا ہےکہ پاکستان افغان عوام کی مدد کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے،

    بی بی سی کو انٹریودیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ،افغانستان میں 5 بلین روپے کے سازوسامان سمیت ویزہ کے اجراء ، انسانی بنیادوں پر امداد اور طبعی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنا رہا ہے۔

    سفیر پاکستان کا بی بی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ افغان عوام کے ساتھ ساتھ ہم بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کو بھی مدد اور سہولیات دے رہے ہیں۔افغان عوام کے ساتھ ساتھ پاکستان نے بھی اس جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان افغانستان میں انسانی بنیادوں پر سب سے زیادہ امداد اور سہولیات فراہم کر رہا ہے۔عالمی برادری کو افغانستان میں معاشی تباہی اور انسانی المیےکو روکنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گئے۔

    افغانستان میں اطلاعات کے مطابق ابھی تک سیکورٹی کےحالات معمول کے مطابق ہیں اور مثبت تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

  • عید کے بعد غزوہِ ہند سے متعلق خبر پر افغان طالبان کا آفیشل بیان آ گیا

    عید کے بعد غزوہِ ہند سے متعلق خبر پر افغان طالبان کا آفیشل بیان آ گیا

    باغی ٹی وی کے مطابق افغان طالبان نے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھارت کے ساتھ جنگ والی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیک اکاؤنٹ‌سے خبر نشر کی گئ ہے . ہم اس بیان کی تردی کرتے ہوئے ہیں.واضح‌رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی مبینہ ایک تویٹ کہاگیا تھا کہ مسلمان کی کافر سے دوستی ناممکن ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز افغان طالبان سے منسوب عید کے بعد غزوہ ہند کے اعلان کا فیک پوسٹر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا . جسے ملک کے معروف صحافیوں ، عسکری تجزیہ نگاروں اور الیکٹرانک میڈیا سے شئر کی گیا. افغان طالبان کے ترجمان زبیج اللہ مجاہد نے اس پوسٹر کی تردید کرتے ہو کہا کہ ہے جس ٹویٹڑ اکاونٹ سے یہ پوسٹر شئر کیا گیا ہے وہ فیک اکاؤنٹ ہے تمام میڈیا کے ادارے نوٹ کر لیں

    کل طالبان سے منسوب ایک فیک پوسٹر میں یہ طالبان سے متعلق یہ بیان دیا گیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک امارات اسلامیہ کی ہندوستان سے دوستی ممکن نہیں ہے۔ فتح کابل کے بعد ، امارات اسلامیہ نے کشمیر کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے کو بھی فتح کرنا ہے ان شاء اللّٰہ۔ اس کے بعد ہندوستان کے دو انتخاب ہیں ، یا تو مکمل ہتھیار ڈالنا اور اسلام قبول کرنا یا غزوہِ ہند کا سامنا کریں۔

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    جان اچکزئی کی ٹویٹ

    زید حامد کی ٹویٹ
    https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1261864387515744257?s=20

    زید حامد کی ایک اور ٹویٹ
    https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1261854126432018433?s=20

  • امریکہ پھر افغان طالبان کے منتیں کرنے لگا ،

    امریکہ پھر افغان طالبان کے منتیں کرنے لگا ،

    واشنگٹن :امریکہ جلد ہی اپنی باتوں سے پھر گیا اور پھر سےافغان طالبان کی منتیں کرنے لگا، اطلاعات کے مطابق امریکا کے سیکریٹری دفاع مارک ایسپر 18 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے افغان طالبان کے ساتھ اچانک معطل ہونے والے مذاکرات کی بحالی کے لیے افغانستان پہنچ گئے۔

    اسٹریٹ کرائم کے بارے میں ڈی جی رینجرز کا بیان سب حیران

    ذرائع کے مطابق امریکی سیکرٹر ی دفاع مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ ‘مقصد اب بھی یہی ہے کہ کسی نکتے پر امن معاہد یا سیاسی معاہدہ ہوجائے جو آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے’۔امریکی سیکریٹری دفاع اس دورے میں افغان صدر اشرف غنی اور افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں سے ملاقات کریں گے۔

    ایک کروڑ پنجابی ہیپاٹائٹس کے مریض‌

    امریکی سیکرٹری دفاع کہتے ہیں کہ ‘مجھے امید ہے کہ ہم ایک سیاسی معاہدے کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں جو ہماری واپسی اور جو مقاصد ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس کے مطابق ہوگا’۔انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کرنا اسٹیٹ ڈپارٹنمنٹ کا کام ہے۔

    وزیراعظم نے یو این سیکریٹری جنرل سے کیا مطالبہ کردیا ؟

    افغانستان سے فوج کی دستبرداری کےحوالے سے کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی توامریکا، افغانستان میں اپنی فوج کی موجودہ تعداد کو 14 ہزار سے کم کرکے 8 ہزار 600 تک لاسکتا ہے جس سے انسداد دہشت گردی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

  • تمام پشین گوئیاں، شکوک وشبہات دم توڑ گئے،افغان طالبان نے دورہ پاکستان کامدعا بیان کردیا

    تمام پشین گوئیاں، شکوک وشبہات دم توڑ گئے،افغان طالبان نے دورہ پاکستان کامدعا بیان کردیا

    اسلام آباد:تمام پشین گوئیاں ، شکوک وشبہات دم توڑ گئے ، افغان طالبان نے دورہ پاکستان کامدعا بیان کردیا ، اور کیا کیا ہوئی بات وہ بھی بتا دی ، اطلاعات کےمطابق ملاعبدالغنی برادر کی سربراہی میں 12 رکنی وفد نے سرکاری دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا

    بھارت مزید مشکلات کا شکار: ناگالینڈ علیحدگی پسند تنظیم نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی…

    افغان طالبان کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خطے کے ممالک کے ساتھ باہمی احترام کی پالیسی کے تحت دوستانہ تعلقات کی کوشش کرتے ہیں اور وقتاً فوقتاً نمائندے مختلف ممالک کے دورے پر جاتے ہیں، پاکستان کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔افغان طالبان کا کہنا ہے کہ کابل انتظامیہ مذاکرات کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی ہے۔

    دورہ پاکستان کے متلعق اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وفد نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے امن و امان اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جبکہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین اور افغان تاجروں کو سہولیات کے امور پر بھی گفتگو کی گئی۔

    تدبیریں‌ناکام ، ڈینگی نے پنجاب میں پنجے گاڑ لیے، مزید 2 مریض جاں بحق،

    افغان طالبان نے اعلامیے میں مزید کہا کہ ترجمان افغان وزارت خارجہ صبغت اللہ احمدی نے ِاس دورے کا خیرمقدم کیا لیکن افغان ایوان صدر نے فوراً اس کی تردید کی اور کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے لہٰذا متضاد بیانات سے ظاہر ہے کابل انتظامیہ کے اندر کتنا گہرا اختلاف موجود ہے۔

    ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے کہا ہےکہ کابل انتظامیہ مذاکرات کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی ہے، سب سے پہلے امریکیوں کے ساتھ اس معاملے کو حل کریں گے، پھر مختلف افغان حلقوں کے ساتھ بات چیت شروع کریں گے۔

    افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کو پاکستان سے متعلق مہذب الفاظ استعمال کرنے پر سخت…