Baaghi TV

Tag: افغان طالبان

  • افغانستان میں مغربی ثقافت کی کوئی جگہ نہیں: افغان طالبان

    افغانستان میں مغربی ثقافت کی کوئی جگہ نہیں: افغان طالبان

    قطر میں طالبان دفتر کے سربراہ سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ طالبان لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان ایک اسلامی ملک ہے اور خواتین کے حقوق کے معاملے میں افغانستان کا یورپی ممالک سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

    امریکی میڈیا کو انٹرویو میں سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ افغانستان میں لاکھوں لڑکیاں پرائمری اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔تعلیم، اعلیٰ تعلیم، عوامی صحت اور داخلہ کی وزارتوں میں خواتین کام کر رہی ہیں، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیگر مسائل حل کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ نے افغان طالبان کے 2 وزرائے تعلیم کے بیرون ملک سفرپرپابندی لگا دی

    ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان دوحہ معاہدے کی پاسداری پر عمل پیرا ہے، کسی کو بھی افغان سرزمین کسی اور ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، یہ ہماری پالیسی ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

    سہیل شاہین کا یہ بیان ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کی پامالی کے خلاف افغان خواتین کے مظاہرے ہوتے رہے ہیں اور بہت سی خواتین کو سرکاری ملازمتوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیگر مسائل حل کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں، افغانستان ایک اسلامی ملک ہے، خواتین کے حقوق کے معاملے میں افغانستان کا یورپی ممالک سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

  • افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

    افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

    کابل: افغانستان میں حالیہ بدترین زلزلے کے بعد طالبان حکومت نے بین الاقوامی حکومتوں سے پابندیاں ختم کرنے اور مرکزی بینک کے منجمد اثاثے جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ملک کے مشرق میں آنے والے 6.1 شدت کے زلزلے سے تقریباً 10 ہزار مکانات تباہ اور 2 ہزار افراد زخمی ہوئے گئے تھے۔ زلزلے میں ایک ہزار افراد بھی جاں بحق ہوئے جس کے بعد افغانستان کے نازک صحت کے نظام پر مزید دباؤ بڑھا ہے۔

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ

    اس حوالے سے وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا کہ امارت اسلامیہ دنیا سے مطالبہ کر رہی ہے کہ افغانوں کو ان کا بنیادی حق دیا جائے اور وہ بنیادی حق پابندیاں ہٹانے اور ہمارے منجمد اثاثوں کی بحالی سے مشروط ہے۔

    واضح رہے کہ نیویارک کے فیڈرل ریزرو فنڈ میں افغانستان کے 7ارب ڈالر موجود ہیں جنھیں جو بائیڈن انتظامیہ نے منجمد کررکھا ہے۔ یہ اثاثے اس وقت منجمد کیے گئے تھے جب طالبان نے افغانستان کے اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا ۔طالبان مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے ملک کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گزشتہ برس اگست کے وسط میں افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا میں موجود 7 ارب ڈالر کے افغان فنڈ پر بظور حکومت ہمارا حق ہے جب کہ اس فنڈز کے حصول کے لیے نائن الیون متاثرین نے بھی عدالت سے رجوع کر رکھا تھا-

    دوسری جانب نائن الیون حملے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کے لواحقین، زخمیوں اور متاثرین نے گزشتہ برس نومبر میں ایک احتجاجی مظاہرے میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا تھا افغانستان کے منجمد فنڈز سے معاوضہ دیا جائے۔

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ

    امریکا نے افغانستان کے منجمد اثاثوں کو اپنی ترجیحات کےمطابق استعمال کرنے کی منظوری دی تھی جس کے تحت واشنگٹن ان اثاثوں کو دو حصوں میں برابر تقسیم کیے جائیں گے امریکی صدر نے افغانستان کے امریکا میں منجمد اثاثوں میں سے نصف نائن الیون حملوں کے متاثرین کو دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔

    امریکا کےصدر جوبائیڈن نے منجمد اثاثوں کو تقسیم اور استعمال کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیئے تھےجس کے مطابق افغانستان کے امریکا میں منجمد سات بلین ڈالرز میں سے نصف افغانستان میں انسانی ہمدردی کے کاموں کے لیے خرچ کی جائے گی جس کے بعد افغانستان سمیت دنیا بھر سے تنقید کی گئی تھی۔

    جبکہ نصف رقم نائن الیون دہشت گردانہ حملوں میں متاثر ہونے واافغنا لوں میں تقسیم کی جائے گی۔ افغان شہریوں نے امریکی صدر کے حکم کی مذمت کی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ اثاثے افغانوں کے ہیں۔ امریکی صدر انہیں چرا رہے ہیں۔

    امریکا کا افغانستان کے اثاثے ضبط کرنا افغانیوں کے حق پر ڈاکہ ہے،چین

    صدر جو بائیڈن کے حالیہ فیصلے پر قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے ٹویٹ میں ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کے مرکزی بینک کے فنڈز پر قبضہ کرنا ’چوری‘ ہے اور ’انسانی اور اخلاقی انحطاط‘ کے سب سے نچلے درجے پر گرنے کی نشانی ہے۔

    جبکہ ماضی میں طالبان نے تنبیہ کی تھی کہ افغانستان کے منجمد فنڈز کو واپس نہ کرنا ’مسائل‘ کا باعث بن سکتا ہےجس کےباعث نہ صرف اقتصادی طور پر افغانستان مزید متاثر ہوگا بلکہ بڑی تعداد میں لوگ پناہ لینے کے لیے ملک چھوڑنے کی کوشش کریں گے اگست 2021 میں طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد سے ملک کی معاشی حالات مسلسل بگڑتی جا رہی ہے اور اقوام متحدہ نے خدشہ کا اظہار کیا کہ 2022 کے وسط تک ملک میں غربت کی شرح 97 فیصد تک پہنچ سکتی ہے-

    نائن الیون متاثرین کا افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بطور معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ

  • اقوام متحدہ نے افغان طالبان کے 2 وزرائے تعلیم کے بیرون ملک سفرپرپابندی لگا دی

    اقوام متحدہ نے افغان طالبان کے 2 وزرائے تعلیم کے بیرون ملک سفرپرپابندی لگا دی

    نیویارک:ایک طرف دنیا افغآن طالبان کی حکومت کوتسلیم کرنے پرغورکررہی ہے تو دوسری طرف عالمی ادارے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی طالبان پرپابندی سے متعلق کمیٹی نے طالبان کے وزیرتعلیم اورنائب وزیرتعلیم پرسفری پابندی عائد کردی۔

    اس سلسلے میں یہ بھی خبریں‌ گردش کررہی ہیں کہ اقوام متحدہ کی طرف سے افغآن طالبان کے وزیرتعلیم عبدالباقی حقانی اورنائب وزیرتعلیم سید احمد شاد خیل کا استثنیٰ ختم کرکے بیرون ملک سفر پرپابندی عائد کردی۔اقوام متحدہ کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کے وزیرتعلیم اورنائب وزیرتعلیم پرسفری پابندیاں وعدے کا باوجود افغانستان میں لڑکیوں کے اسکولزنہ کھولنے پرلگائی گئی ہے۔

    ادھراس حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان نائب وزیراعلیٰ تعلیم لطف اللہ خیرخواہ نے اقوام متحدہ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیرمنصفانہ قراردیتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلے صورتحال کو مزید نازک بنا دیں گے۔اقوام متحدہ کی جانب سے 15 طالبان عہدیداروں پرمذاکرات کے لئے بیرون ملک سفر کے استثنیٰ کی مدت کل ختم ہوئی تھی جس کے بعد 13 طالبان عہدیداروں کے لئے سفری استثنیٰ میں دوماہ کی توسیع کی گئی ہے۔

    یاد رہےکہ اس سال جنوری کے مہینے میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ رواں سال مارچ سے ملک بھر میں لڑکیوں کے تمام اسکولز کھول دیئے جائیں گے۔ لڑکیوں کے اسکول کھولنے کے انتظامات آخری مراحل میں ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امارت اسلامیہ افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات اور طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک انٹرویو میں کہاتھا کہ لڑکیوں کے اسکول کھولنے کے انتظامات آخری مراحل میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے نئے سال کا آغاز 21 مارچ سے ہوتا ہے اور رواں برس نئے سال کی شروعات سے لڑکیوں اور خواتین کے لیے اسکول کالجز کھول دیئے جائیں گے لیکن مخلوط تعلیم کی ہر گز اجازت نہیں ہو گی۔

    افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ ہم لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں تاہم مخلوط نظام تعلیم کے خاتمے اور علیحدہ عمارتوں کے انتظامات سمیت نصاب میں تبدیلی کے باعث لڑکیوں کے اسکول کھولنے میں کچھ وقت لگا۔

    واضح رہے کہ افغانستان کے منجمد فنڈز کی بحالی کے لیے طالبان حکومت پر لڑکیوں کے اسکول کھولنے اور خواتین کو ملازمتوں پر آنے کی اجازت دینے کے لیے شدید دباؤ تھا اور طالبان نے عالمی قوتوں سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ساتویں کلاس سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد تھی تاہم کچھ صوبوں میں پرائمری اسکول کھلے ہوئے ہیں۔

  • افغان طالبان کی قید میں 5 برطانوی شہری رہا

    افغان طالبان کی قید میں 5 برطانوی شہری رہا

    افغان طالبان کی قید میں موجود 5 برطانوی شہریوں کو رہا کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "دی گارجئین کے مطابق” بی بی سی کے سابق کیمرہ مین اور افغانستان کے ماہر پیٹر جووینال سمیت گزشتہ دسمبر سے طالبان کے زیر حراست پانچ برطانوی شہریوں کو برطانوی دفتر خارجہ (FCDO) نے بیک روم ڈپلومیسی کے بعد پیر کو رہا کر دیا ہے-

    جووینال کو طالبان نے چھ ماہ قبل کابل میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ کان کنی کی کچھ سرمایہ کاری پر بات کرنے اور ملک میں اپنے بہت سے دیرینہ دوستوں سے بات کرنے کے لیے افغانستان گیا تھا-

    اس کی شادی ایک افغان سے ہوئی ہے جس سے اس کے تین بچے ہیں اور بی بی سی کے رپورٹر جان سمپسن کے الفاظ میں، وہ دنیا کے بہترین ٹیلی ویژن کیمرہ مینوں میں سے ایک تھے۔ دونوں افراد نے تقریباً دو دہائیاں قبل ایک ساتھ کام کیا تھا۔ ان کی عمر 66 سال ہے اور انہیں ہائی بلڈ پریشر ہے۔ اس نے قید میں بیرونی دنیا تک بہت کم رسائی حاصل کی تھی، اسے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے نہیں دیکھا تھا اور اس پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا تھا۔

    ایف سی ڈی او نے کہا کہ وہ رہائی پانے والے دیگر افراد کے نام جاری نہیں کرے گا، لیکن اس بات کی تصدیق کی کہ کوئی اور برطانوی ابھی تک حراست میں نہیں ہے۔

    سکریٹری خارجہ لز ٹرس نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ خوشی ہے کہ برطانیہ افغانستان میں قید اپنے 5 شہریوں کو رہا کرانے میں کامیاب رہا یہ افراد جلد اپنے خاندانوں سے ملیں گے، میں ان افراد کی رہائی کے لیے برطانوی سفارتکاروں کی جانب سے کیے جانے والے کام پر ان کی شکرگزار ہوں-

    برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کے ایک ترجمان نے کہا ‘ ہم افغانستان کی موجودہ انتظامیہ کی جانب سے 5 برطانوی شہریوں کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہیں ان برطانوی شہریوں کا افغانستان میں ہماری حکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ حکومتی سفری ہدایت کے برخلاف افغانستان گئے تھے، جو ایک غلطی تھی’۔

    ترجمان کے مطابق ان شہریوں کے خاندانوں کی جانب سے ہم افغان ثقافت، روایات یا قوانین کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر معذرت کرتے ہیں اور مستقبل میں اچھے رویے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔

    یہ واضح نہیں کہ ان افراد کو کب طالبان نے قید کیا تھا اور انہیں کہاں رکھا گیا تھا۔

    برطانوی شخص جس نے 20 سال بعد پہلی بار پانی پیا

  • صیہونی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا: افغان طالبان کا شدید ردعمل

    صیہونی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا: افغان طالبان کا شدید ردعمل

    کابل :صیہونی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا : افغان طالبان کا شدید ردعمل،اطلاعات کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت نے صیہونی فوج کی جانب سے ماہ رمضان میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز نے جعمہ کی صبح مسجد اقصیٰ پر اچانک دھاوا بولتے ہوئے کمپاؤنڈ میں موجود نمازیوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور ان پر ربڑ کی گولیاں بھی برسائیں۔یاد رہے کہ اس واقعہ میں مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ میں اسرائیلی فورسز کی بربریت کے باعث 152 فلسطینی زخمی ہو ئے۔

    مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی فوج کے دھاوے پر طالبان حکومت نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں پر تشدد کی شدید مذمت کرتی ہے۔

    افغان وزارت خارجہ نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری بالخصوص اسلامی ممالک فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی بحالی اور اسرائیلی مظالم کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کریں۔

    یاد رہے کہ اس واقعہ میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے نماز فجر کے بعد مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں 152 نمازی زخمی ہوگئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مسجد اقصیٰ میں نماز فجر کے بعد نمازیوں اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی، اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔

    اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے نمازیوں کو زدوکوب کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ فلسطینی ہلال احمر نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز کی کارروائی میں 152 نمازی زخمی حالت میں لائے گئے جن میں درجن بھر کی حالت تشویشناک ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی پولیس کا کہنا تھا کہ چند نمازیوں نے یہودیوں کے لیے مختص جگہ پر پتھر برسائے جب انھیں روکا گیا تو سیکیورٹی فورسز پر بھی فائر کریکر پھینکے گئے جس کے جواب میں آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔

     

    رمضان المبارک کے مہینے میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان عبادت کے لیے مقدس مسجد آتے ہیں اور کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے مسجد اقصیٰ کے کسٹوڈین اردن اور اسرائیلی حکومت کے درمیان ضابطہ اخلاق بھی طے پایا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران اسرائیل میں چار مختلف حملوں میں ایک درجن یہودیوں کی ہلاکت کے بعد سے اسرائیلی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 25 فلسطنی شہید ہوگئے ہیں۔

  • پشاورمیں شہریوں ، نمازیوں پرخودکُش حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں :افغان طالبان

    پشاورمیں شہریوں ، نمازیوں پرخودکُش حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں :افغان طالبان

    کابل :افغانستان میں طالبان حکومت نے پشاور کی جامع مسجد میں ہونے والے خودکش بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔اور کہا ہے کہ مسجد ہو یا عام جگہ کسی بھی جگہ خودکش حملے حرام ہیں اور ان حملوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے

    اس واقعے پر افغان طالبان کے ترجمان و افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹ کرتے ہوئے پشاور بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھاکہ شہریوں اور نمازیوں پر حملے کا کوئی جواز نہیں، پشاور دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔

     

    پشاور کے قصہ خوانی بازار کے علاقے کوچہ رسالدار کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں امام ارشاد خلیلی سمیت 56 شہید ہو گئے۔

    پشاور کے قصہ خوانی بازار میں نمازِ جمعہ کے دوران دو حملہ آور جامع مسجد کے گیٹ پر آئے اور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار موقع پر شہید ہو گئے۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد جامع مسجد میں داخل ہوئے، جس کے بعد مسجد میں دھماکا ہوا۔

    ترجمان ایل آر ایچ پشاور کے مطابق کوچہ رسالدار دھماکے میں56 افراد شہید ہوئے جبکہ 194 زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں کچھ کی حالت تشویشناک ہے، شدید زخمیوں کو بروقت طبی سہولیات فراہم کی گئی، بڑی تعداد میں ڈاکٹروں اورنرسوں نےعلاج فراہم کیا۔

    پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کرلئے گئے۔ دھماکے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پشاور کے تین بڑے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ جبکہ سیکورٹی بھی ہائی الرٹ کر دی گئی۔

    حکومت خیبر پختونخوا کے ترجمان بیرسٹر محمد سیف نے تصدیق کی کہ مسجد کے اندر ہونے والا دھماکا خودکش تھا جس میں دو حملہ آور ملوث تھے۔

  • عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے،ملا عبدالغنی برادر

    عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے،ملا عبدالغنی برادر

    افغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر کا کہنا ہے کہ افغانستان اس وقت بڑے انسانی المیے سے گزر رہا ہے، اور عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ اردو نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے حوالے سے بتایا کہ جمعے کو سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری ایک ویڈیو بیان میں ملا عبدالغنی برادر نے کہا کہ اس وقت کئی جگہوں پر لوگوں کے پاس خوراک، رہنے کی جگہ، گرم کپڑے اور پیسے نہیں ہیں دنیا کو بغیر کسی سیاسی تعصب کے افغان عوام کی مدد کرنی چاہیے اور انسانی ہمدردی کا فرض پورا کرنا چاہیے۔‘

    افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں وسطی اور شمالی افغانستان کے بیشتر علاقے برف سے ڈھک گئے ہیں جبکہ ملک کے جنوبی علاقے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔


    طالبان کے نائب وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ موسم کی صورت حال خراب ہونے سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہےطالبان ملک بھر میں بین الاقوامی امداد کو تقسیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ گذشتہ برس اگست میں طالبان کی جانب سے ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد بین الاقوامی برادری نے افغانستان کے اثاثے منجمد کر دیئے تھے عالمی امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے 3 کروڑ 80 لاکھ افراد میں سے آدھی آبادی کا بھوک سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ ملک میں افراطِ زر اور بے روزگاری کی شرح بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

    افغان حکومت کا دکانداروں کولباس آویزاں کرنے والی پلاسٹک ڈمیز کےسرقلم کرنے کاحکم

    یاد رہے کہ ابھی تک کسی ملک نے باضابطہ طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور سفارت کاروں کو اس مشکل کا سامنا ہے کہ وہ طالبان کی حمایت کیے بغیر زبوں حالی کا شکار افغانستان کی معیشت تک امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

    واضح رہے ک سابق صدر اشرف غنی نے طالبان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حکومت کو قانونی حیثیت دینے کے لیے لویہ جرگہ بلائیں دنیا کی اقوام لویہ جرگہ کے بغیر طالبان کو تسلیم کرنے سے گریز کریں گی۔ انہوں نے لویہ جرگہ کو ایک جمہوری ادارہ قرار دیا۔ اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات قابل فہم ہے کہ افغانستان کے عوام افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے اور اس ملک کے حالات پر طالبان سے ناراض ہیں۔

    قازقستان: حالات کشیدہ، مظاہرین کیساتھ جھڑپ، 16 سکیورٹی اہلکار ہلاک:روسی دستے مدد کو پہنچ گئے

  • افغان طالبان نے آئی ایم ایف اوردیگرمالیاتی اداروں کے بغیربجٹ تیارکردکھایا

    افغان طالبان نے آئی ایم ایف اوردیگرمالیاتی اداروں کے بغیربجٹ تیارکردکھایا

    کابل :افغان طالبان نے آئی ایم ایف اوردیگرمالیاتی اداروں کے بغیربجٹ تیارکردکھایا،اطلاعات کے مطابق افغآن طالبان کا غیر ملکی امداد کے بغیر قومی بجٹ تیار کرنے کا دعویٰ کرکے دنیا کو حیران کردیا ،ادھرافغان طالبان کی اس کامیابی کے پیچھے پاکستان کی حکمت قراردی جارہی ہے

    اس حوالے سے تازہ خبروں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بغیر کسی غیر ملکی امداد کے مالی سال 2022 کا قومی بجٹ تیار کرکے اس کی حتمی منظوری کے لیے پیش کردیا ہے اوراگلے چند دنوں تک اس بجٹ کو منظور کرکے افغانستان میں ترقیاتی ، صحت وتعلیم اور دیگرمنصوبوں پر کام شروع کیا جائے گا

    فرانسیسی خبر ررساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق افغان وزارت خزانہ کادعویٰ ہے کہ انہوں نے قومی بجٹ 2022 کا مسودہ دو دہائیوں میں پہلی بار غیر ملکی امداد کے بغیر تیار کرلیا ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق افغان وزارت خزانہ کے ترجمان احمد ولی حقمل نے بجٹ کا حجم نہیں بتایا لیکن ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کا یہ مسودہ شائع ہونے سے پہلے منظوری کے لیے کابینہ کے پاس جائے گا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترجمان افغان وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم اس بجٹ کو اپنی ملکی آمدنی سےتیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم کر سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ رواں سال اگست میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد غیر ملکی مالی امداد روک گئی تھی جبکہ مغربی ملکوں نے طالبان کو بیرون ملک موجود اربوں ڈالرز کے اثاثوں تک رسائی فراہم نہیں کی تھی۔یہ بھی یاد رہے کہ 2021 کا بجٹ گزشتہ افغان حکومت نے آئی ایم ایف کی رہنمائی سے تیار کیا تھا۔

  • افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    نیویارک: افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا ا،طلاعات کے مطابق گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت افغان طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت کے نمائندوں کو تسلیم کرنے کا معاملہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

    امریکا، روس اور چین سمیت 9 ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی کے معاہدے پر مشتمل قرارداد کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ووٹنگ کے بغیر اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔

    گزشتہ ہفتے کمیٹی نے جنرل اسمبلی کے موجودہ سیشن کے لیے افغانستان اور ’میانمار کے نمائندوں کی شمولیت کو مؤخر کرنے‘ کی تجویز دی تھی، جنرل اسبملی کا موجودہ سیشن ستمبر 2022 میں ختم ہوگا۔

    9 ممالک پر مشتمل کریڈنشلز کمیٹی کی صدارت اس وقت سویڈن کے پاس ہے اور مستقبل قریب میں کمیٹی کا مزید کوئی اجلاس ہونے کی بھی امید نہیں ہے۔

    افغانستان اور میانمار کے معاملے پر اقوام متحدہ میں نئی اور پرانی حکومتوں کی جانب سے دو مختلف درخواستیں موجود تھیں۔

    میانمار میں یکم فروری کو فوجی قبضہ ہونے کے بعد وزیر خارجہ وونا ماونگ لوین نے 18 اگست کو سابق فوجی کمانڈر اونگ تھورئین کو اقوام متحدہ میں تعینات کیا تھا۔

    تاہم سابق سربراہ آنگ سان سوچی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات کیے گئے نمائندہ کیاو مو تُن نے فوجی قیادت کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے درخواست کی ان کی نمائندگی کو برقرار رکھا جائے۔

    سابق افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات سفیر غلام اسحٰق زئی نے بھی 14 ستمبر کو اقوام متحدہ میں اسی قسم کی درخواست دی تھی۔

    طالبان نے اگست کے وسط میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 20 ستمبر کو اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ وہ ان کے سابق ترجمان سہیل شاہین کو افغانستان کے نئے نمائندے کے طور تسلیم کرلے۔

    طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت نے اپنے نامزد کردہ نمائندوں کی منظوری نہ دینے پر اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی پر تنقید کی ہے۔

    گزشتہ ہفتے سہیل شاہین نے کہا کہ ’یہ فیصلہ قانونی تقاضوں اور انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے افغان عوام کو ان کے قانونی حق سے محروم کیا ہے‘۔

    میانمار کی فوجی حکومت کے ترجمان زا مِن تُن کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا فیصلہ زمینی حقائق کا عکاس نہیں ہے۔

    اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی نے بدھ کے روز 191 ممالک کے نمائندگان کی منظوری دی جس میں صرف وینزویلا کے نمائندے پر امریکا نے اعتراض اٹھایا۔

  • افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا

    افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا

    کابل، تہران: افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا ،اطلاعات کےمطابق افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دونوں جانب سے بھاری اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کی طالبان فورسز اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، یہ جھڑپ مغربی افغانستان کے صوبہ نمروز کے سرحدی ضلع کُنگ میں ہوئی ہے۔

     

     

    افغان صحافیوں نے بتایا کہ طالبان اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپ نمروز کے سرحدی ضلع میں بدھ کی شام 5 بجے شروع ہوئیں۔ لڑائی کے دوران طالبان کی جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ بھاری اسلحہ کا بھی استعمال کیا گیا۔

     

    مقامی میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے تین سرحدی چوکیوں پر قبضہ کا دعوی کیا گیا ہے، جبکہ طالبان نے مزید فوجی کمک بھی طلب کرلی ہے۔مقامی افغان صحافیوں کے مطابق جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب ایران کی جانب سے سرحد پر چیک پوسٹ کی تعمیر کی جارہی تھی۔

    طلوع نیوز کے مطابق امارت اسلامی کے نائب ترجمان بلال کریمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبہ نمروز کے سرحدی علاقوں میں طالبان فورسز اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جھڑپیں اب بند ہوچکی ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بلال کریمی نے جھڑپوں کی وجوہات کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ لڑائی کے دوران بعض طالبان فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے، لیکن ایران کی جانب کسی زخمی یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد افغان اور ایرانی سرحد پر یہ پہلی جھڑپ ہے۔دوسری طرف ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران کی چیک پوسٹ پر قبضے کی خبریں غلط ہیں، طالبان نے غلط فہمی کی بنیاد پر ایرانی کسانوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔