Baaghi TV

Tag: افغان طالبان

  • افغانستان کو دہشتگرد حملوں کیلئےمحفوظ مقام کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے،امریکا

    افغانستان کو دہشتگرد حملوں کیلئےمحفوظ مقام کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے،امریکا

    امریکا نے کہا ہےکہ افغان طالبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بننے دیں۔

    باغی ٹی وی: پریس بریفنگ کے دوران امریکی وزرات خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ افغان طالبان یہ ہر صورت یقینی بنائیں کہ ان کا ملک دہشتگرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہو اوروہ اپنی سرزمین کو دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہ بننے دیں دہشتگردی کو روکنا طالبان کی ذمہ داری ہے، افغانستان کو دہشتگرد حملوں کے لیے محفوظ مقام کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے افغانستان سے کیے جانے والے دہشتگردوں حملوں پر اپنے شدید تحفظات کا اظہا رکیا ہےگزشتہ روز آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت ہونے والی کورکمانڈرز کانفرنس نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اوردیگر دہشتگرد گروپوں سے ملکی سلامتی کو خطرہ ہے۔

    چین نےتائیوان کےنائب صدرکےدورہ امریکہ کی مخالفت کردی

    کور کمانڈرز کانفرنس نے ایک پڑوسی ملک میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کو کارروائی کی آزادی، دہشت گردوں کے پاس جدید ترین ہتھیاروں کی دستیابی کو نوٹ کیا گیا اور فورم نے کہا کہ دہشت گردوں کے پاس جدید ترین ہتھیار پاکستان کی سلامتی متاثر کرنے کی بڑی وجوہات ہیں۔

    اس سے قبل آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو کارروائیوں کیلئے حاصل آزادی اور ان کے محفوظ ٹھکانوں پر مسلح افواج کو تشویش ہے، امید ہے افغان حکومت دوحہ معاہدے کے مطابق اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گی مسلح افواج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں اور آزادانہ دہشت گرد کارروائیوں پر شدید تحفظات ہیں، توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور عبوری حکومت حقیقی معنوں میں دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔

    اسرائیل نے سرکاری طور پر مغربی صحارا پر مراکش کی خودمختاری کو تسلیم کرلیا

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی شمولیت ایک اور اہم تشویشناک پہلو ہے جس پر فوری توجہ دینے اور اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے، اس طرح کے دہشت گرد حملے ناقابل برداشت ہیں، ان حملوں پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے مؤثر جوابی کارروائی ہوگی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بلاامتیاز جاری رہے گا اور مسلح افواج دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گی۔ کوئٹہ گیریژن آمد پر کور کمانڈر کوئٹہ نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

    اسی حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اپنی حدود کے اندر عسکریت پسندوں کو لگام ڈالنےکی خواہش رکھتے ہوں یا نہیں، پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی ختم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

    رجب طیب اردوان سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

    علاوہ ازیں ٹوئٹر پر ایک بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں50 سے 60 لاکھ افغان شہریوں کو 40 سے 50 سال سے حقوق کے ساتھ پناہ میسر ہے لیکن اس کے برعکس پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو افغان سر زمین پر پناہ گاہیں میسر ہیں لیکن اب یہ صورت حال مزید جاری نہیں رہ سکتی، پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کےتحفظ کے لیےاپنے وسائل بروئے کار لائےگا، افغانستان ہمسایہ اور برادر ملک ہونےکا حق نہیں ادا کر رہا، افغانستان دوحہ معاہدے کی پاسداری بھی نہیں کر رہا۔

  • پاکستان ٹی ٹی پی کے خلاف ثبوت دے،ہم اقدامات کریں گے، وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پرافغان طالبان کا ردعمل

    پاکستان ٹی ٹی پی کے خلاف ثبوت دے،ہم اقدامات کریں گے، وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پرافغان طالبان کا ردعمل

    افغان طالبان نے پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ معاہدے پر امریکہ کے ساتھ دستخط کیے ہیں، افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی-

    باغی ٹی وی : وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت پڑوسیوں کے حقوق پرعمل نہیں کرتی اور نہ ہی دوحہ معاہدے کی پابند ہے،قطرکے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے امریکہ کے ساتھ ہونےوالےمعاہدے میں طالبان کے نمائندوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان میں عسکریت پسندوں کو جگہ نہیں دیں گےساتھ ہی اپنےملک کی سرزمین دوسرےممالک کےخلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔


    وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ 40-50 سالوں سے 50-60 ملین افغان باشندے اپنے حقوق کے لیے پاکستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں لیکن اس کے برعکس پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشتگرد اس سرزمین پرموجود ہیں، جن کا تعلق افغانستان سے ہے یہ صورتحال جاری نہیں رہنی چاہیے، پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کیلئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گا۔

    قرآن پاک کی بے حرمتی: طالبان حکومت نےافغانستان میں سویڈن کی تمام سرگرمیاں معطل کردیں

    اس حوالے سے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے برطانوی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ معاہدے پر امریکہ کے ساتھ دستخط کیے ہیں، افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور پاکستان ایک برادر اور مسلم ملک ہے، ہم اسے ایسا ہی سمجھتے ہیں، اگر پاکستان کی حکومت ان کو ثبوت دیتی ہے تو وہ پاکستانی طالبان کے خلاف اقدامات کریں گے پاکستانی فریق نے ملاقاتیں بھی کی ہیں-

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے جب پوچھا گیا کہ اگر پاک فوج افغانستان کی سرزمین پر دوبارہ حملہ کرتی ہے تو ان کا کیا ردعمل ہوگا؟انہوں نے جواب دیا کہ ہم سنجیدگی سے اس کی روک تھام کرتے ہیں اور کسی کو اپنی سرزمین پر تجاوزات کی اجازت نہیں دیتے ان مذاکرات کے لیے پاکستانی طالبان کے نمائندے شمالی وزیرستان سے آئے تھے اور اب جب کہ یہ مذاکرات بے نتیجہ ہو چکے ہیں، مذاکرات کی ثالثی بھی ختم ہو گئی ہے۔

    پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے،افغان طالبان

    دریں اثنا، افغان طالبان کے ترجمان بیح اللہ مجاہد نے ایک حالیہ بیان میں دعویٰ کیا کہ عبوری حکومت اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے رہی ہے اور یہ کہ ٹی ٹی پی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کا مسئلہ ہے۔

    واضح رہے کہ حال میں ہی بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملوں میں 9 پاکستانی فوجی شہید ہوئے تھے جبکہ پاک فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ فوج کو افغانستان میں پاکستانی طالبان تحریک کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا چاہیے۔

    انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کے لیے دستیاب محفوظ پناہ گاہوں اور کارروائی کی آزادی پر شدید تحفظات ہیں-

    ترکیہ نےسویڈن کی نیٹو رکنیت کیلئےحمایت کر دی

    آرمی چیف کے حوالے سے کہا گیا کہ ’یہ توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت حقیقی معنوں میں اور دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں کے مطابق اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی،ج پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں میں افغان شہری ملوث تھے۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی شمولیت ایک اوراہم تشویش ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہےاس طرح کے حملے ناقابل برداشت ہیں اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے موثر جواب دیا جائے گا-

    انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بلاتاخیر جاری رہیں گی اور مسلح افواج ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گی۔ آرمی چیف کے بیان میں ٹی ٹی پی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے افغان طالبان کی جانب سے تعاون کی کمی کی وجہ سے پاکستان کی جانب سے مایوسی کا اظہار کیا گیا۔

    اسلامی تعلیمات سےمتاثرہوکراسلام قبول کیاہے،سیر کے دوران آیا صوفیا میں اسلام قبول کرنے والا روسی …

  • افغان طالبان اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپ، 3 افراد ہلاک

    افغان طالبان اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپ، 3 افراد ہلاک

    افغان طالبان اور ایرانی فورسز کے درمیان ہفتے کو سرحد پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کی فورسز کے درمیان یہ جھڑپ ایران کے صوبے سیستان اور افغان صوبے نمروز کی سرحد پر ہوئی ہے، فائرنگ کے تبادلے میں دو ایرانی سرحدی محافظوں سمیت ایک افغان طالبان ہلاک ہو گیا۔

    ایران اور روس کے درمیان کارگو ٹریفک میں غیرمعمولی تیزی

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا کہ ڈپٹی پولیس چیف جنرل قاسم رضاعی نے الزام لگایا کہ ہفتے کی صبح ایران کے سیستان بلوچستان صوبے اور افغانستان کے نمروز صوبے کی سرحد پر طالبان نے پہلے فائرنگ کی۔

    ارنا کے مطابق افغانستان سے فائرنگ کے تبادلے میں ایران کے دو سرحدی محافظ ہلاک ہو گئے ہیں،ائرنگ کے واقعے کے اسباب معلوم نہیں ہو سکے ہیں تاہم دونوں ممالک میں پانی کے معاملے پر تنازعہ موجود ہے۔

    جھوٹےدعووں کےذریعہ ہی یوکرین مغربی ملکوں سےہتھیاراورمالی امداد حاصل کرسکتا ہے،ایران

    طالبان حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ نمروز صوبے میں ایرانی بارڈر گارڈز کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیاردعمل میں افغانستان کی جانب سے جوابی فائرنگ کی گئی، واقعے میں ایک طالبان ہلاک ہو گیا جبکہ دونوں جانب کچھ افراد زخمی ہوئے اب حالات قابو میں ہیں، افغانستان کسی پڑوسی کے ساتھ تنازع نہیں چاہتا۔

  • افغان طالبان نےخواتین پر پابندیوں کیخلاف سلامتی کونسل کی قرار داد مسترد کردی

    افغان طالبان نےخواتین پر پابندیوں کیخلاف سلامتی کونسل کی قرار داد مسترد کردی

    افغان طالبان نےخواتین پر پابندیوں کیخلاف سلامتی کونسل کی قرار داد مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی: اپنے بیان میں افغان طالبان نے کہا کہ خواتین پر پابندی کو افغانستان کا اندرونی سماجی مسئلہ سمجھتے ہیں جس کا بیرونی ممالک پر کوئی اثر نہیں۔

    جسٹس مظاہر اکبر نقوی کیخلاف ریفرنس دائر

    خیال رہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد میں افغان خواتین کے حقوق کیخلاف پابندیاں جلد ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    سلامتی کونسل میں افغان خواتین پر عائد پابندی کیخلاف قرار داد متحدہ عرب امارات اور جاپان نے پیش کی تھی قرارداد میں کہا گیا ہےکہ طالبان کے یہ اقدامات انسانی حقوق اور انسانی اصولوں کو کمزور بنارہے ہیں جب کہ قرارداد میں افغان سوسائٹی میں خواتین کے کردار کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

    اقوام متحدہ میں یو اے ای کے سفیر نے اس حوالے سے کہا کہ 90 سے زائد ممالک نے ہماری قرارداد کی حمایت کی ہے جس میں افغانستان کے انتہائی قریب پڑوسیوں سمیت مسلم ممالک اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

    ثاقب نثار کے بیٹے کی مبینہ آڈیو لیک،مریم کا ردعمل سامنے آ گیا

    انہوں نے کہا کہ یہ چیز ہمارے بنیادی پیغام کو مزید اہمیت دیتی ہے کہ دنیا افغانستان میں خواتین کے کردار کو ختم کرنے پر خاموش نہیں بیٹھے گی۔

    یاد رہے سال 2021 میں مغربی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے طالبان نے عوامی زندگی تک خواتین کی رسائی پر بھی کنٹرول سخت کر دیا ہے، جس میں خواتین کو یونیورسٹی جانے سے روکنا اور لڑکیوں کے ہائی اسکول بند کرنا شامل ہیں۔

    طالبان نے دسمبر میں انسانی ہمدردی سے متعلق امدادی گروپوں کے لیے کام کرنے والی زیادہ تر خواتین کو کام سے روکنے کے بعد، اس ماہ کے شروع میں اقوامِ متحدہ کے لیے کام کرنے والی افغان خواتین پر بھی پابندی کا نفاذ شروع کر دیا تھا۔

    حارث سہیل نیوزی لینڈ کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر

    طالبان کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی شریعت کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں، جس کی وہ ایک سخت تشریح کرتے ہیں۔ طالبان حکام نے کہا ہے کہ خواتین کارکنوں کے بارے میں فیصلے ان کے ‘اندرونی معاملے’ ہیں۔

  • اعلیٰ امریکی حکام کی اہم افغان طالبان رہنما سے ملاقات

    اعلیٰ امریکی حکام کی اہم افغان طالبان رہنما سے ملاقات

    جو بائیڈن انتظامیہ کے اعلیٰ عہدایدارو ں نے قطر میں اہم افغان طالبان رہنما سے ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد اعلیٰ امریکی حکام نے طالبان سے پہلی ملاقات کی ہے بائیڈن انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے ہفتے کے روز طالبان وفد سے قطر کے دارالحکومت دوحا میں ملاقات کی۔

    امریکا نے کویت کو جدید میزائل سسٹم فروخت کرنے کی منظوری دیدی

    میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے اور امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے طالبان وفد سے دوحا میں ملاقات کی، طالبان حکومت کے انٹیلی جنس سربراہ عبدالحق واثق بھی ملاقات میں شریک تھے۔

    ایک حملے میں الظواہری کے مارے جانے کے بعد، امریکہ نے طالبان پر الزام لگایا کہ دوحہ معاہدے کی ر صریح خلاف ورزی ہے”، جو ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ثالثی کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء ہوتا ہے تو طالبان دہشت گردوں کو پناہ نہیں دیں گے-

    امریکی ڈرون نے الظواہری پر مہلک ہیل فائر میزائل فائر کیے، امریکی حکام نے حقانی نیٹ ورک کے طالبان رہنماؤں پر الزام لگایا کہ وہ الظواہری کے ٹھکانے کے بارے میں جانتے تھے جب کہ طالبان نے غصے سے اس کارروائی کی مذمت کی۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کے بیٹے کو ٹیکس چوری اور اسلحہ خریداری کے مقدمات کا سامنا

    اس کے بعد سے، امریکہ نے طالبان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جس میں امریکی شہری مارک فریچس کی رہائی پر بات چیت بھی شامل ہے۔ لیکن 31 جولائی کو الظواہری کی ہلاکت سے چند روز قبل سے سینئر حکام نے آمنے سامنے ملاقات نہیں کی تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا کو موجودہ افغان حکومت سے اچھےتعلقات قائم کرنے چاہیے، افغانستان میں طاقت کا استعمال کامیاب نہیں رہا۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا امریکا خطے میں اپنے مفادات کے لیے استحکام چاہتا ہے تو اسے افغان حکومت سے مثبت تعلقات بنانے چاہئیں۔

    امریکہ نے ڈرون حملوں کی پالیسی میں تبدیلی کر دی

  • افغان طالبان حکومت کے‌خلاف پھراتحاد بنارہےہیں:احمد شاہ مسعود کے جانشین کا اعلان

    افغان طالبان حکومت کے‌خلاف پھراتحاد بنارہےہیں:احمد شاہ مسعود کے جانشین کا اعلان

    ویت نام :افغانستان میں روس کے خلاف جنگ لڑنے والے مشہور سابق کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے نے افغان تارکین وطن پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی حل اور طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے راستہ نکالیں اور سیاسی محاذ تشکیل دیں۔خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے شمال میں واقع وادی پنچ شیر کے مسلح گروپ نیشنل ریزسٹینس فرنٹ (این آر ایف) کے سربراہ احمد مسعود نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی ٹیبل پر لایا جائے۔

    ویت نام میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں تارکین وطن متحد ہوں اور بتدریج مذاکرات میں توسیع لائیں اور اس نکتے پر پہنچیں جہاں ہمیں افغانستان کے مستقبل کا راستہ بن جائے۔رپورٹ کے مطابق ویت نام میں ہونے والی پریس کانفرنس میں طالبان مخالف 30 افراد موجود تھے، جن میں سے اکثر جلاوطنی کاٹ رہے ہیں۔افغانستان سے باہر موجود کئی گروپس ملک کے اندر حکومتی معاملات سے بالکل خوش نہیں ہیں، اسی لیے وہ نئے اتحاد کی باتیں کر رہے ہیں۔

    احمد مسعود نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم آپس کے اختلافات بھلا کر زخموں پر مرہم رکھیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کے قبضے سے خواتین کے حقوق کو دھچکا لگا ہے اور دہشت گرد گروپوں کے لیے سازگار ماحول بن گیا ہے۔خیال رہے کہ احمد مسعود کے والد احمد شاہ مسعود سوویت یونین کے خلاف جنگ میں مشہور کردار تھے اور وہ طالبان کے بھی مخالف تھے۔

    احمد شاہ مسعود ہو پنج شیر کا شیر کہا جاتا تھا اور انہیں 2001 میں القاعدہ نے قتل کیا تھا اور ان کے قتل کے دو دن بعد 11 ستمبر کو امریکا میں حملے ہوئے تھے۔

    بعد ازاں ان کے بیٹے احمد مسعود جونیئر نے طالبان کے خلاف ان کا مشن جاری رکھا اور گزشتہ برس جب طالبان امریکی افواج کے انخلا کے بعد حکومت سنبھالی تو انہوں نے طالبان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور لڑنے کا اعلان کیا تھا۔این آر ایف فورسز نے رواں برس مئی میں بھی طالبان کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کا اعلان کیا تھا اور رواں ماہ متعدد علاقوں میں جھڑپوں کی اطلاعات ملی تھیں۔

    احمد مسعود نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہمارا مقصد کبھی یہ نہیں رہا کہ جنگ کا ماحول مضبوط کیا جائے بلکہ جنگ کا خاتمہ ہے اور عالمی برادری سے تعاون کی درخواست کی جبکہ دنیا کی توجہ یوکرین پر مرکوز ہے۔دوسری جانب طالبان نے دو روز قبل بتایا تھا کہ ان کی فوج نے این آر ایف کے 40 جنگجووں کو ہلاک کردیا ہے۔

    ایک دن بعد طالبان نے کہا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو دیکھ رہے ہیں، جس میں این آر ایف کا کہنا تھا کہ ان کے چند جنگجووں کو پھانسی دی گئی ہے۔احمد مسعود کا کہنا تھا کہ یہ ناقابل قبول ہے اور یہ تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

  • افغانستان میں مغربی ثقافت کی کوئی جگہ نہیں: افغان طالبان

    افغانستان میں مغربی ثقافت کی کوئی جگہ نہیں: افغان طالبان

    قطر میں طالبان دفتر کے سربراہ سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ طالبان لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان ایک اسلامی ملک ہے اور خواتین کے حقوق کے معاملے میں افغانستان کا یورپی ممالک سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

    امریکی میڈیا کو انٹرویو میں سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ افغانستان میں لاکھوں لڑکیاں پرائمری اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔تعلیم، اعلیٰ تعلیم، عوامی صحت اور داخلہ کی وزارتوں میں خواتین کام کر رہی ہیں، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیگر مسائل حل کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ نے افغان طالبان کے 2 وزرائے تعلیم کے بیرون ملک سفرپرپابندی لگا دی

    ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان دوحہ معاہدے کی پاسداری پر عمل پیرا ہے، کسی کو بھی افغان سرزمین کسی اور ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، یہ ہماری پالیسی ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

    سہیل شاہین کا یہ بیان ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کی پامالی کے خلاف افغان خواتین کے مظاہرے ہوتے رہے ہیں اور بہت سی خواتین کو سرکاری ملازمتوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیگر مسائل حل کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں، افغانستان ایک اسلامی ملک ہے، خواتین کے حقوق کے معاملے میں افغانستان کا یورپی ممالک سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

  • افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

    افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

    کابل: افغانستان میں حالیہ بدترین زلزلے کے بعد طالبان حکومت نے بین الاقوامی حکومتوں سے پابندیاں ختم کرنے اور مرکزی بینک کے منجمد اثاثے جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ملک کے مشرق میں آنے والے 6.1 شدت کے زلزلے سے تقریباً 10 ہزار مکانات تباہ اور 2 ہزار افراد زخمی ہوئے گئے تھے۔ زلزلے میں ایک ہزار افراد بھی جاں بحق ہوئے جس کے بعد افغانستان کے نازک صحت کے نظام پر مزید دباؤ بڑھا ہے۔

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ

    اس حوالے سے وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا کہ امارت اسلامیہ دنیا سے مطالبہ کر رہی ہے کہ افغانوں کو ان کا بنیادی حق دیا جائے اور وہ بنیادی حق پابندیاں ہٹانے اور ہمارے منجمد اثاثوں کی بحالی سے مشروط ہے۔

    واضح رہے کہ نیویارک کے فیڈرل ریزرو فنڈ میں افغانستان کے 7ارب ڈالر موجود ہیں جنھیں جو بائیڈن انتظامیہ نے منجمد کررکھا ہے۔ یہ اثاثے اس وقت منجمد کیے گئے تھے جب طالبان نے افغانستان کے اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا ۔طالبان مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے ملک کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گزشتہ برس اگست کے وسط میں افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا میں موجود 7 ارب ڈالر کے افغان فنڈ پر بظور حکومت ہمارا حق ہے جب کہ اس فنڈز کے حصول کے لیے نائن الیون متاثرین نے بھی عدالت سے رجوع کر رکھا تھا-

    دوسری جانب نائن الیون حملے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کے لواحقین، زخمیوں اور متاثرین نے گزشتہ برس نومبر میں ایک احتجاجی مظاہرے میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا تھا افغانستان کے منجمد فنڈز سے معاوضہ دیا جائے۔

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ

    امریکا نے افغانستان کے منجمد اثاثوں کو اپنی ترجیحات کےمطابق استعمال کرنے کی منظوری دی تھی جس کے تحت واشنگٹن ان اثاثوں کو دو حصوں میں برابر تقسیم کیے جائیں گے امریکی صدر نے افغانستان کے امریکا میں منجمد اثاثوں میں سے نصف نائن الیون حملوں کے متاثرین کو دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔

    امریکا کےصدر جوبائیڈن نے منجمد اثاثوں کو تقسیم اور استعمال کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیئے تھےجس کے مطابق افغانستان کے امریکا میں منجمد سات بلین ڈالرز میں سے نصف افغانستان میں انسانی ہمدردی کے کاموں کے لیے خرچ کی جائے گی جس کے بعد افغانستان سمیت دنیا بھر سے تنقید کی گئی تھی۔

    جبکہ نصف رقم نائن الیون دہشت گردانہ حملوں میں متاثر ہونے واافغنا لوں میں تقسیم کی جائے گی۔ افغان شہریوں نے امریکی صدر کے حکم کی مذمت کی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ اثاثے افغانوں کے ہیں۔ امریکی صدر انہیں چرا رہے ہیں۔

    امریکا کا افغانستان کے اثاثے ضبط کرنا افغانیوں کے حق پر ڈاکہ ہے،چین

    صدر جو بائیڈن کے حالیہ فیصلے پر قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے ٹویٹ میں ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کے مرکزی بینک کے فنڈز پر قبضہ کرنا ’چوری‘ ہے اور ’انسانی اور اخلاقی انحطاط‘ کے سب سے نچلے درجے پر گرنے کی نشانی ہے۔

    جبکہ ماضی میں طالبان نے تنبیہ کی تھی کہ افغانستان کے منجمد فنڈز کو واپس نہ کرنا ’مسائل‘ کا باعث بن سکتا ہےجس کےباعث نہ صرف اقتصادی طور پر افغانستان مزید متاثر ہوگا بلکہ بڑی تعداد میں لوگ پناہ لینے کے لیے ملک چھوڑنے کی کوشش کریں گے اگست 2021 میں طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد سے ملک کی معاشی حالات مسلسل بگڑتی جا رہی ہے اور اقوام متحدہ نے خدشہ کا اظہار کیا کہ 2022 کے وسط تک ملک میں غربت کی شرح 97 فیصد تک پہنچ سکتی ہے-

    نائن الیون متاثرین کا افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بطور معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ

  • اقوام متحدہ نے افغان طالبان کے 2 وزرائے تعلیم کے بیرون ملک سفرپرپابندی لگا دی

    اقوام متحدہ نے افغان طالبان کے 2 وزرائے تعلیم کے بیرون ملک سفرپرپابندی لگا دی

    نیویارک:ایک طرف دنیا افغآن طالبان کی حکومت کوتسلیم کرنے پرغورکررہی ہے تو دوسری طرف عالمی ادارے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی طالبان پرپابندی سے متعلق کمیٹی نے طالبان کے وزیرتعلیم اورنائب وزیرتعلیم پرسفری پابندی عائد کردی۔

    اس سلسلے میں یہ بھی خبریں‌ گردش کررہی ہیں کہ اقوام متحدہ کی طرف سے افغآن طالبان کے وزیرتعلیم عبدالباقی حقانی اورنائب وزیرتعلیم سید احمد شاد خیل کا استثنیٰ ختم کرکے بیرون ملک سفر پرپابندی عائد کردی۔اقوام متحدہ کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کے وزیرتعلیم اورنائب وزیرتعلیم پرسفری پابندیاں وعدے کا باوجود افغانستان میں لڑکیوں کے اسکولزنہ کھولنے پرلگائی گئی ہے۔

    ادھراس حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان نائب وزیراعلیٰ تعلیم لطف اللہ خیرخواہ نے اقوام متحدہ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیرمنصفانہ قراردیتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلے صورتحال کو مزید نازک بنا دیں گے۔اقوام متحدہ کی جانب سے 15 طالبان عہدیداروں پرمذاکرات کے لئے بیرون ملک سفر کے استثنیٰ کی مدت کل ختم ہوئی تھی جس کے بعد 13 طالبان عہدیداروں کے لئے سفری استثنیٰ میں دوماہ کی توسیع کی گئی ہے۔

    یاد رہےکہ اس سال جنوری کے مہینے میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ رواں سال مارچ سے ملک بھر میں لڑکیوں کے تمام اسکولز کھول دیئے جائیں گے۔ لڑکیوں کے اسکول کھولنے کے انتظامات آخری مراحل میں ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امارت اسلامیہ افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات اور طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک انٹرویو میں کہاتھا کہ لڑکیوں کے اسکول کھولنے کے انتظامات آخری مراحل میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے نئے سال کا آغاز 21 مارچ سے ہوتا ہے اور رواں برس نئے سال کی شروعات سے لڑکیوں اور خواتین کے لیے اسکول کالجز کھول دیئے جائیں گے لیکن مخلوط تعلیم کی ہر گز اجازت نہیں ہو گی۔

    افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ ہم لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں تاہم مخلوط نظام تعلیم کے خاتمے اور علیحدہ عمارتوں کے انتظامات سمیت نصاب میں تبدیلی کے باعث لڑکیوں کے اسکول کھولنے میں کچھ وقت لگا۔

    واضح رہے کہ افغانستان کے منجمد فنڈز کی بحالی کے لیے طالبان حکومت پر لڑکیوں کے اسکول کھولنے اور خواتین کو ملازمتوں پر آنے کی اجازت دینے کے لیے شدید دباؤ تھا اور طالبان نے عالمی قوتوں سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ساتویں کلاس سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد تھی تاہم کچھ صوبوں میں پرائمری اسکول کھلے ہوئے ہیں۔

  • افغان طالبان کی قید میں 5 برطانوی شہری رہا

    افغان طالبان کی قید میں 5 برطانوی شہری رہا

    افغان طالبان کی قید میں موجود 5 برطانوی شہریوں کو رہا کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "دی گارجئین کے مطابق” بی بی سی کے سابق کیمرہ مین اور افغانستان کے ماہر پیٹر جووینال سمیت گزشتہ دسمبر سے طالبان کے زیر حراست پانچ برطانوی شہریوں کو برطانوی دفتر خارجہ (FCDO) نے بیک روم ڈپلومیسی کے بعد پیر کو رہا کر دیا ہے-

    جووینال کو طالبان نے چھ ماہ قبل کابل میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ کان کنی کی کچھ سرمایہ کاری پر بات کرنے اور ملک میں اپنے بہت سے دیرینہ دوستوں سے بات کرنے کے لیے افغانستان گیا تھا-

    اس کی شادی ایک افغان سے ہوئی ہے جس سے اس کے تین بچے ہیں اور بی بی سی کے رپورٹر جان سمپسن کے الفاظ میں، وہ دنیا کے بہترین ٹیلی ویژن کیمرہ مینوں میں سے ایک تھے۔ دونوں افراد نے تقریباً دو دہائیاں قبل ایک ساتھ کام کیا تھا۔ ان کی عمر 66 سال ہے اور انہیں ہائی بلڈ پریشر ہے۔ اس نے قید میں بیرونی دنیا تک بہت کم رسائی حاصل کی تھی، اسے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے نہیں دیکھا تھا اور اس پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا تھا۔

    ایف سی ڈی او نے کہا کہ وہ رہائی پانے والے دیگر افراد کے نام جاری نہیں کرے گا، لیکن اس بات کی تصدیق کی کہ کوئی اور برطانوی ابھی تک حراست میں نہیں ہے۔

    سکریٹری خارجہ لز ٹرس نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ خوشی ہے کہ برطانیہ افغانستان میں قید اپنے 5 شہریوں کو رہا کرانے میں کامیاب رہا یہ افراد جلد اپنے خاندانوں سے ملیں گے، میں ان افراد کی رہائی کے لیے برطانوی سفارتکاروں کی جانب سے کیے جانے والے کام پر ان کی شکرگزار ہوں-

    برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کے ایک ترجمان نے کہا ‘ ہم افغانستان کی موجودہ انتظامیہ کی جانب سے 5 برطانوی شہریوں کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہیں ان برطانوی شہریوں کا افغانستان میں ہماری حکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ حکومتی سفری ہدایت کے برخلاف افغانستان گئے تھے، جو ایک غلطی تھی’۔

    ترجمان کے مطابق ان شہریوں کے خاندانوں کی جانب سے ہم افغان ثقافت، روایات یا قوانین کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر معذرت کرتے ہیں اور مستقبل میں اچھے رویے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔

    یہ واضح نہیں کہ ان افراد کو کب طالبان نے قید کیا تھا اور انہیں کہاں رکھا گیا تھا۔

    برطانوی شخص جس نے 20 سال بعد پہلی بار پانی پیا