Baaghi TV

Tag: افغان طالبان

  • طالبان حکومت کا پہلا سفارتی وفد دورے پر جاپان پہنچ گیا

    طالبان حکومت کا پہلا سفارتی وفد دورے پر جاپان پہنچ گیا

    کابل: افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان حکومت کا پہلا سفارتی وفد دورہ جاپان پر پہنچا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کے وفد میں وزارتِ خارجہ، وزارتِ اعلیٰ تعلیم، وزارتِ معیشت اور وزارتِ صحت کے حکام شامل ہیں، طالبان وفد ایک ہفتہ تک جاپان میں قیام کرے گا یہ نادر دورہ طالبان کی عالمی برادری سے تعلقات بنا نے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

    یہ دورہ جاپان اس وقت ہو رہا ہے جب کابل میں ایک خودکش بم حملہ ہوا ہے جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے یہ حملہ وزا رتِ شہری ترقیات و رہائش کے باہر ہوا تھا جاپان کے سفارت خانے نے اس حملے کی مذمت کی اور دہشت گردی کے ایسے واقعا ت کی روک تھام کی اپیل کی ہے۔

    حزب اللہ کی اسرائیلی فوج کو 18 فروری تک لبنان خالی کرنے کی ڈیڈلائن

    افغانستان کے وزارتِ معیشت کے نائب وزیر لطیف نظری نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ یہ دورہ عالمی سطح پر باوقار تعلقات قائم کرنے اور افغانستان کو "مضبوط، متحد، ترقی یافتہ اور خوشحال” ملک بنانے کی کوشش کا حصہ ہے طالبان حکومت عالمی برادری کا ایک فعال رکن کی حیثیت سے کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔

    دوسری جانب جاپانی میڈیا کےمطابق جاپان کا سفارت خانہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد عارضی طور پر قطر منتقل ہوگیا تھا، لیکن اب یہ دوبارہ کھل چکا ہے اور افغانستان میں سفارتی و امدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں۔

    پاکستان نے عالمی بینک کے ساتھ شراکت داری سے استفادہ کیا،وزیراعظم

    واضح رہے کہ طالبان نے حالیہ برسوں میں چین، روس اور وسطی ایشیا کے ممالک جیسے ہمسایہ ممالک کا دورہ کیا ہے لیکن سفارتی سطح پر رابطہ ہمشہ کسی تیسرے ملک میں ہوا ہے طالبان نے 2022 اور 2023 میں یورپ کے سفارتی اجلاسوں میں شرکت کی تھی۔

  • افغان طالبان  نے 34 ملین ڈالر کی 9 منزلہ تجارتی عمارت  بنا لی

    افغان طالبان نے 34 ملین ڈالر کی 9 منزلہ تجارتی عمارت بنا لی

    طالبان حکومت نے کابل کے وسط میں 9 منزلہ تجارتی مرکز کا افتتاح کردیا۔

    افغان میڈیا کے مطابق دہائیوں سے جنگ زدہ کابل میں تجارتی، معاشی اور اقتصادی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔طالبان حکومت نے تین سال سے بھی کم وقت میں کثیر المنزلہ کمرشل بلڈنگ بنا کر سب کو حیران کردیا۔34 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کیے گئے تجارتی مرکز میں 1300 سے زائد دکانیں ہیں۔ 1,800 سے زائد گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش ہے اور ایک بڑی مسجد بھی ہے۔طالبان حکام نے بتایا کہ اس منصوبے کے لیے زمین ریاست فراہم کی جب کہ اسے سن اسکائی گلوبل کمپنی نے تعمیر کیا۔

    اس منصوبے سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 30 فیصد طالبان حکام کو اور 70 فیصد سرمایہ کاروں کو دیا جائے گا۔طالبان وزیراعظم کے دفتر کے چیف آف اسٹاف عبدالوٰسی خادم نے کہا کہ اس تجارتی مرکز میں بینکوں، کرنسی ایکسچینج آفس اور دیگر کاروباری اداروں کے لیے مخصوص جگہیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔خیال رہے کہ طالبان حکومت بین الاقوامی معیار کی ایک جدید تیل ریفائنری قائم کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے جس کی ابتدائی سرمایہ کاری 25 ملین ڈالر ہوگی اور اس کا حجم بڑھ کر 35 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

    واٹس ایپ میں رنگا رنگ چیٹ تھیمز کا اضافہ

    وفاقی حکومت کے قرض میں اضافے کا سلسلہ جاری

    سونا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگا، قیمت میں پھر بڑا اضافہ

  • عمران خان کا افغان قیادت کیلئے خصوصی پیغام

    عمران خان کا افغان قیادت کیلئے خصوصی پیغام

    اسلام آباد: پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے قائم مقام افغان سفیر سے ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی : مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا نے افغانستان کے پاکستان میں قائم مقام سفیر مولوی سردار احمد شکیب سے ملاقات کی، اس موقع پر سینئر سیاستدان محمد علی درانی اور مولانا فضل الرحمان خلیل بھی شریک تھےبیرسٹر سیف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی طرف سے افغانستان کی قیادت کے لیے خصوصی پیغام بھی سفیر مولوی سردار احمد شکیب کے حوالے کیا ۔

    انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے افغانستان کے عوام کے لیے نیک تمناؤں اور برادرانہ خیر سگالی کا پیغام دیا ہے اس موقع پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان خوشگوار، باہمی بااعتماد اور دوطرفہ تعاون پر مبنی تعلقات کے فروغ پر اتفاق کیا گیا ۔

    امریکا کی فنڈنگ رُکنے سے جنوبی ایشیا میں لاکھوں خواتین متاثر ہوں گی،اقوام متحدہ

    بیرسٹر سیف نے قائم مقام افغان سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی و سیاسی عمائدین اور علماء کا وفد افغانستان لانا چاہتے ہیں، پاکستان اور افغانستان کے مابین دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔

    افغانستان کے قائم قام سفیر مولوی سردار احمد شکیب نے بانی پی ٹی آئی عمران خان، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اور وفد کی طرف سے نیک تمناؤں کے اظہار پر جوابی خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا انہوں نے بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف، محمد علی درانی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کا شکریہ ادا کیا کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی مضبوطی خطے اور عوام کے مفاد میں ہے، دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری کے لیے آپ کا کردار قابل تعریف ہے۔

    اسماعیلی فرقے کے سربراہ آغا خان انتقال کر گئے

  • افغانستان :امریکی انخلا کے بعد پونے 4 ارب ڈالر کی امداد خرچ ہونے کا انکشاف

    افغان طالبان کے جبری دور حکومت اور سنگین ترین عوامی صورتحال پر اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغان ری کنسٹرکشن(SIGAR) کی رپورٹ جاری کردی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق رپورٹ کے مطابق خرچ کی گئی امداد کا 64.2 فیصد اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، UNAMA اور ورلڈ بینک کے زیر انتظام افغانستان ریزیلینس ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے تقسیم کیا گیا ہے۔ افغانستان میں SIGAR کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد سے تقریباً 3 ارب 71 کروڑ ڈالر کی امداد خرچ کی جاچکی ہے۔تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر اضافی امدادی فنڈنگ بھی جاری کرنے کے لیے دستیاب ہے، امریکا میں منجمد کیے گئے افغان مرکزی بینک کے ساڑھے 3 ارب ڈالر کے اثاثے سوئٹزرلینڈ میں قائم افغان فنڈ میں منتقل کر دیے گئے، جو سود کے ساتھ اب 4 ارب ڈالر کے مجموعہ میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ اتنی بڑی امداد کے باوجود افغان طالبان کی جابرانہ پالیسیاں جاری ہیں، طالبان نےتاحال خواتین کی تعلیم پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، افغان طالبان نے خواتین کی ملازمتوں بشمول این جی اوز، صحت اور دیگر شعبوں میں ملازمتوں پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔نیکی کی ترویج اور برائی کی روک تھام کے لیے نافذ نام نہاد ’اخلاقیات قانون‘ نے مرد و خواتین کےطرز عمل پر پابندیاں بڑھا دی ہیں، ان پابندیوں کی بدولت بین الاقوامی سطح کے انسانی ہمدردی کے پروگراموں کے تحت امداد کی تقسیم میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 جنوری 2025 کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت افغانستان میں جاری منصوبوں سمیت تمام امریکی و غیر ملکی امداد کی نئی ذمہ داریاں اور تقسیم 90 دن کے لیے روک دی گئی ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود سنگین صورتحال کا شکار ایک کروڑ 68 لاکھ لوگوں کے لیے اقوام متحدہ نے سال 2025ء کے لیے 2 ارب 42 کروڑ ڈالر امداد کی درخواست کی ہے۔افغانستان میں اتنی بڑی تعداد میں بھوک کے شکار لوگوں کے باوجود افغان طالبان امدادی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، افغانستان میں داعش اور القاعدہ کی موجودگی نے سیکیورٹی خطرات کو بھی بڑھا دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سال 2024میں پاکستان میں افغان سرزمین سے 640 دہشت گرد حملوں کی وجہ سے پاک افغان تعلقات بھی کشیدگی کا شکار ہیں، کشیدگی کے باعث پاکستان سے لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی افغان شہری ملک بدر بھی کیے گئے ہیں۔طالبان کے دور اقتدار میں ایک منظم طریقے سے خواتین کو سیاسی، سماجی اور تعلیمی زندگی سےخارج کردیا گیا.افغانستان میں موجود 4کروڑ سے زائد کی آبادی سنگین صورتحال کا شکار ہے، جب کہ افغان طالبان افغانستان کی تعمیر نو میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔

  • پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    پاکستانی فضائی حملوں میں سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا.پاکستانی فضائیہ کے حالیہ حملے ٹی ٹی پی "فتنہ الخوارج” کے تربیتی کیمپوں پر کیے گئے ہیں۔ یہ حملے افغانستان یا آئی اے جی (اسلامی امارت افغانستان) کی افواج کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے مراکز کے خلاف تھے۔

    1. پاکستان نے افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا، جنہیں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
    2. پاکستان کی مسلسل شکایت رہی ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین سے کارروائیاں کر رہی ہے، لیکن آئی اے جی نے ان سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے۔
    3. یہ کیمپ سرحد پار دہشت گردی کا منبع تھے، جو پاکستان کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔
    4. چار اہم دہشت گرد مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں خودکش حملہ آور، اہم کمانڈر، اور بڑی مقدار میں اسلحہ موجود تھا۔
    5. مارے جانے والوں میں اہم کمانڈر شامل ہیں:
    شیر زمان المعروف مخلص یار
    ابو حمزہ (خودکش بمباروں کے تربیت کار)
    اختر محمد المعروف خلیل
    شعیب اقبال (ٹی ٹی پی کے عمر میڈیا کا سربراہ)
    6. افغانستان، بطور ایک غیر مستحکم ریاست، اپنی داخلی مسائل میں الجھا ہوا ہے، لیکن آئی اے جی کو سمجھنا ہوگا کہ دہشت گرد دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہیں۔
    7. عالمی قانون کسی بھی ریاست کو اپنی سرزمین سے باہر موجود خطرات کے خلاف دفاع کا حق دیتا ہے.

    افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور ٹی ٹی پی خوارج کے خلاف کارروائی

    پاکستان افغانستان کو برادر ملک تصور کرتا ہے اور فضائی حملے افغان عوام یا افواج کے خلاف نہیں تھے۔
    1. پاکستان نے سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے خلاف دفاعی اقدامات کیے۔
    2. مارے جانے والے ٹی ٹی پی کے خوارج وہ تھے جو حال ہی میں پاکستانی فوجیوں کی شہادت کا جشن منا رہے تھے۔
    3. ان فضائی حملوں کا مقصد دہشت گردوں کا خاتمہ تھا جو پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے خطرہ ہیں۔
    4. پاکستان کی جانب سے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    کرّم میں سیکیورٹی صورتحال: افغان فورسز کے ساتھ کشیدگی

    آئی اے جی کی جانب سے یہ غلط دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ افغان افواج نے پاکستانی افواج پر حملہ کیا، حالانکہ حقیقت میں 28 دسمبر کی صبح سرحد پار سے ٹی ٹی پی اور افغان فورسز نے بلااشتعال فائرنگ کی۔
    1. پاکستانی افواج نے جوابی کارروائی میں مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔
    2. افغان فورسز اور ٹی ٹی پی کے درمیان "فرینڈلی فائر” کے نتیجے میں متعدد جانی نقصان ہوا۔
    3. رپورٹس کے مطابق، ٹی ٹی پی کی فائرنگ سے ایک افغان ہیلی کاپٹر تباہ ہوا۔
    4. پاکستان کی متعدد درخواستوں کے باوجود افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کیا ہے۔

    کرّم میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی افغان کوششیں

    افغان طالبان کی جانب سے کرّم میں غیر مستحکم حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    1. افغانستان کی غیر اشتعال انگیز فائرنگ نے کرّم میں حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔
    2. افغان طالبان کا یہ رویہ پاکستان کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے، جو ہمیشہ افغان عوام کا حامی رہا ہے۔
    3. پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، لیکن طالبان کی جانب سے جوابی طور پر صرف ناشکری اور دشمنی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

    جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا

    1. افغان چینلز پر پاکستان کے فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کے دعوے جھوٹے ہیں۔ یہ تصاویر پرانے زلزلے کی ہیں۔
    2. کرّم میں پاکستانی افواج کی 19 ہلاکتوں کے دعوے غلط ہیں؛ حقیقت میں صرف 4 اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ 25 ٹی ٹی پی شدت پسند مارے گئے۔
    3. پاکستانی حملوں کے بعد ٹی ٹی پی کی قیادت میں مکمل رابطہ منقطع ہو چکا ہے، اور خوف کی وجہ سے ان کا نیٹ ورک مفلوج ہو چکا ہے۔

  • افغان طالبان  کا خواتین کو نرسنگ اور دائی کے کورسز سمیت صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم

    افغان طالبان کا خواتین کو نرسنگ اور دائی کے کورسز سمیت صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم

    کابل: افغانستان میں طالبان قیادت نے اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے بعد خواتین کو نرسنگ اور دائی کے کورسز سمیت صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: دی ٹیلیگراف کے مطابق طالبان نے افغانستان میں خواتین کی نرسوں اور دائیوں کی تربیت پر پابندی لگا دی ہے، جس سے خواتین کی صحت اور تعلیم کو ایک اور دھچکا لگا ہے،پابندی کا اعلان پیر کے روز کابل میں ایک اجلاس کے دوران وزارتِ صحت عامہ کے حکام نے طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے کیا،اس کا اطلاق نجی اور سرکاری دونوں اداروں پر ہوتا ہے۔

    وزارت صحت کے حکام نے تعلیمی اداروں کے سربراہان کوپابندی سے آگاہ کرتے ہوئے خواتین سے 10 دن میں حتمی امتحان لینے کی ہدایت کردی تاہم اس ضمن میں کوئی تحریری حکم جاری نہیں کیا گیا،خواتین اب دائی، نرسنگ، دندان سازی اور لیبارٹری سائنسز سمیت اہم شعبوں میں کام کرنے کے قابل نہیں ہوں گی، جو کہ 3 دسمبر سے نافذ العمل ہوں گی، جس سے افغان خواتین کے لیے مواقع مزید محدود ہوں گے۔

    پیر کے روز وزارت صحت کے حکام نے میڈیکل کی تعلیم فراہم کرنے والے اداروں کے سربراہان سے ملاقات میں پابندی سے آگاہ کیاحکام کی جانب سے اس فیصلےکی وجوہات بتانے سے گریز کیا گیا اور صرف یہ بتایا گیا کہ یہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوند زا د ہ کا حکم ہے،کچھ اداروں کی جانب سے حکام سے مزید وضاحت طلب کی گئی ہے جبکہ دیگر ادارے کوئی تحریری حکم نہ ملنے کے با عث معمول کےمطابق کام کررہے ہیں۔

    واضح رہے کہ طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد لڑکیوں پر سیکنڈری سطح کے بعد تعلیم جاری رکھنے پر پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے میڈیکل سمیت چند ہی شعبے دستیاب تھے۔

  • افغان طالبان اور حکومت پاکستان کے پاس بات چیت کے سوا کوئی حل نہیں،حافظ نعیم

    افغان طالبان اور حکومت پاکستان کے پاس بات چیت کے سوا کوئی حل نہیں،حافظ نعیم

    پشاور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ فوجی آپریشنز مسئلے کا حل نہیں، پاکستانی حکومت افغانستان کیساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرے اور مسائل کو بات چیت سے حل کیا جائے-

    باغی ٹی وی: پشاور میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام قبائلی امن جرگہ ہوا جس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے شرکت کی جرگے میں حافظ نعیم الرحمان کو روایتی پگڑی پہنائی گئی، امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ افغان طالبان کو چاہیے اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں اور بدامنی کی فضا کو روکیں۔

    حافظ نعیم نے کہا کہ فوجی آپریشنز مسئلے کا حل نہیں، پاکستانی حکومت افغانستان کیساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرے اور مسائل کو بات چیت سے حل کیا جائے، افغان طالبان اور حکومت پاکستان کے پاس بات چیت کے سوا کوئی حل نہیں، اگر حکومت راضی نہیں تو ہم مذاکرات کے لئے اپنی خدمات سرانجام دینے کو تیار ہیں، آرمی چیف کی ذمہ داری ہے فوج میں کرپشن کرنے والوں کا نوٹس لیں، جنرل فیض حمید اور ایف سی کے صوبیداروں کی جانب سے کی جانے والی کرپشن کو بھی دیکھنا چاہیے، توقع ہے کہ آرمی چیف اس معاملے کو دیکھیں گے۔

  • افغان وفد کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    افغان وفد کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے افغانستا ن کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی سربراہی میں امارات اسلامیہ افغانستان کے وفد نے ملاقات کی ہے۔

    ملاقات دبئی میں ہوئی، اماراتی صدر سشیخ محمد بن زاید سے افغانستان کی موجودہ انتظامیہ کے وزیر داخلہ ملا سراج الدین حقانی سربراہی میں وفد کی ملاقات کے دوران دونوں ممالک افغانستا ن اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مختلف موضوعات اورافغان باشندوں کے معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی

    افغان وفد کے یواے ای کے صدر سے ملاقات کے لئے پہنچنے پر متحدہ عرب امارات کے صدر نے وزیر داخلہ کے ہمراہ استقبال کیا،افغان وفد میں طالبان کے چیف آف انٹیلی جنس ملا عبدالحق وثیق بھی شامل تھے، عرب امارات اور افغان وفد کے مابین ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات اور تعاون کو مضبوط بنانے ، مشترکہ مفادات کے حصول کیلئے مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا،خطے میں استحکام کیلئے اقتصادی شعبے میں تعاون کی وسعت پر بھی گفتگو کی گئی،ملاقات میں افغان وفد نے خطے کی تعمیر نو اور ترقی کیلئے حکومت امارات کی طرف سے حمایت کا یقین دلایا،

  • بھارت  یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں  افغان طالبان کو شرکت کی دعوت

    بھارت یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں افغان طالبان کو شرکت کی دعوت

    ابو ظہبی: بھارت نے افغان طالبان کو اپنے یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کی دعوت بھیجی ہے۔

    باغی ٹی وی : متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی سفارت خانے نے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں طالبان کے ایلچی بدرالدین حقانی کو مدعو کیا ہے جو ابوظہبی میں افغانستان کی نمائندگی کرتے ہیں، بھارت کے اس اقدام نے اہم بحث چھیڑ دی ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بھارت کی طرف سے طالبان کو قبول کرنے کی طرف اشارہ ہے۔

    تاہم، بھارتی اخبار ”دی ہندو“ کے مطابق، بھارتی حکام اسے ایک معیاری سفارتی طریقہ کار قرار دیتے ہیں بدرالدین حقانی، جو پہلے حقانی نیٹ ورک سے وابستہ تھے، ایک متنازعہ شخصیت ہیں، اس نیٹ ورک نے افغانستان میں ہندوستانی مشنز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی، حقانی نیٹ ورک کی کارروائیوں میں سب سے زیادہ قابل ذکر 2008 میں کابل کے سفارت خانے پر ہونے والا بم حملہ تھا۔ جس میں ہندوستانی سفارت کاروں اور سیکورٹی اہلکاروں سمیت 58 افراد ہلاک ہوئے۔

    سندھ: لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کو سرکار ی معاوضہ بند

    سری لنکا میں افغانستان کی سابق حکومت کے سفیر اشرف حیدری نے اس دعوت نامے پر مایوسی کا اظہار کیا ، کہا کہ یہ افغانوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور دفاع کے لیے ایک ابھرتی ہوئی جمہوری طاقت کے طور پر ہندوستان سے افغانوں کی بنیادی توقع کے خلاف ہے، یہ اقدام انہی دہشت گردوں کے خلاف ان کی بڑھتی ہوئی مزاحمت کی حمایت کرنا ہے، جنہوں نے کابل میں ہندوستانی سفارت خانے پر بم حملہ کیا اور کئی ہندوستانی شہریوں کو ہلاک اور زخمی کیا ۔

    بھارتی ویب سائٹ دی ہندو نے سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک ”معمول کی“ دعوت تھی، ذرائع کے مطابق، پاکستان کو چھوڑ کر متحدہ عرب امارات میں تمام سفارتی مشنوں کو دعوت دی گئی ہے۔

    ذرائع نے اشاعت کے ساتھ بات چیت میں یہ بھی انکشاف کیا کہ ابوظہبی میں افغان سفارت خان میں اب بھی افغان جمہوریہ کا ترنگا لہراتا ہے جو کہ طالبان کے سیاہ اور سفید پرچم سے متصادم ہے، نئی دہلی میں ہندوستانی سفارت خانہ، جسے طالبان سے منسلک افغان قونصلوں نے دوبارہ کھولا ہے، اس میں بھی ”اسلامی جمہوریہ افغانستان“ کا جھنڈا برقرار ہے۔

    غیرقانونی بھرتیاں کیس، چوہدری پرویز الہیٰ سمیت دیگر فردِ جرم کیلئے طلب

    حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ بھارت طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لا رہا ہے ذرائع نے بتایا کہ یوم جمہوریہ پر یہ دعوت نامہ معمول کے طور پر ان تمام سفارتی مشنوں کو بھیجا گیا ہے جنہیں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے تسلیم کیا ہے۔ تاہم، اس میں پاکستان شامل نہیں ہے، جس کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات دور ہو گئے ہیں۔

    بھارتی اخبار ”انڈین ایکسپریس“ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت تین نکات پر غور کر رہی ہے، تاکہ یہ پیغام نہ جائے کہ بھارت طالبان کو تسلیم کر رہا ہے پہلا یہ کہ نئی قیادت کی ٹیم اسلامی جمہوریہ افغانستان کا تین رنگوں والا پرچم لہراتی رہے گی، یہ ٹیم طالبان کا جھنڈا نہیں لہرائے گی دوسرا یہ کہ سفارت خانہ اسلامی جمہوریہ افغانستان کا نام استعمال کرتا رہے گا نہ کہ طالبان کا اسلامی امارت افغانستان، تیسرا یہ کہ طالبان حکومت کے سفارت کاروں کو دہلی میں افغانستان کے سفارت خانے اور حیدرآباد میں ممبئی کے قونصلیٹ جنرل کے حصے کے طور پر نہیں بھیجا جائے گا۔

    کے پی میں پی ٹی آئی کو میں نے بنایا میں ہی اس کا صفایا …

  • طالبان نے افغانستان میں ٹی ٹی پی   کے 40 دہشت گردوں کو حراست میں لے لیا

    طالبان نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے 40 دہشت گردوں کو حراست میں لے لیا

    کابل: افغانستان میں طالبان حکومت نے انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 40 دہشت گردوں کو حراست میں لے لیا ، پہلی بار طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی گرفتاری کا باضابطہ دعویٰ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: افغان خبر رساں ادارے طلوع نیوز کے مطابق طالبان وزارت داخلہ کے ترجمان عبد المتین قانع نے ٹی پی پی کے 40 دہشت گردوں کی گرفتاری کے بعد جیل میں قید ہونے کی تصدیق کی ہے،ٹی ٹی پی کے 35 سے 40 تک کے ممبران جیلوں میں ہیں اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    افغان وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اتوار کو اعلان کیا کہ ان کی حکومت نے تمام ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی کابل کی خواہش پر زور دیتے ہوئے، گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 40 پاکستانی طالبان، جنہیں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند بھی کہا جاتا ہے، کو گرفتار کیا ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے جب کسی افغان اہلکار نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی ہے، جن پر پاکستان کا الزام ہے کہ وہ اپنی مغربی سرحد کے قریب علاقوں میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

    پاکستان میں حال ہی میں عسکریت پسندوں نے تشدد اور خودکش بم دھماکے کئے ہیں ، پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی اور افغانستان میں مقیم اس سے وابستہ گروپوں نے کیا ہے۔ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے گزشتہ ماہ انکشاف کیا تھا کہ ان کے ملک نے کابل سے کہا تھا کہ وہ پاکستان یا عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے-

    افغانستان میں ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کے معاملے نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے غیر رجسٹرڈ غیر ملکیوں، خاص طور پر افغان باشندوں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    افغان وزارت داخلہ کے ترجمان، عبدالمتین قانی نے طلوع نیوز کو بتایا، "آج، افغانستان میں کوئی عسکریت پسند گروپ کام نہیں کر رہا ہے،” "ہمارے ساتھ داعش کے قیدیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، اور تقریباً 35 سے 40 ٹی ٹی پی جنگجو ہمارے ہاں قید ہیں۔”
    انہوں نے کہا کہ کابل افغانستان کے پڑوسیوں کے ساتھ مثبت تعلقات کا خواہاں ہے اور اپنی سرزمین مسلح دھڑوں کو دوسرے ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

    انہوں نے افغان میڈیا کو یقین دلایا کہ ان کے ملک کی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کا فوری طور پر مقابلہ کیا جائے گا، ذمہ دار افراد یا گروہوں کی نشاندہی کرکے انہیں گرفتار کیا جائے گا۔

    پاکستان نے کہا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ کابل کے حکام سرحد پار حملوں میں اس کے سکیورٹی اہلکاروں اور لوگوں کو نشانہ بنانے والے عسکریت پسندوں کے حوالے کریں۔

    بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، افغان حکام نے پاکستان کے ایک سرکردہ مذہبی سیاست دان مولانا فضل الرحمان کو کابل آنے کی دعوت دی ہے، حالانکہ اس دورے کا ایجنڈا دونوں طرف سے ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

    ترجمان عبد المتین قانع نے اپنے بیان میں ٹی ٹی پی کے گرفتار دہشت گردوں کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ ان میں کتنے رہنما اور کس رینک کے کمانڈرز شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان متعدد بار طالبان حکومت سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی اور حوالگی کا مطالبہ کرچکا ہے پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں ٹی ٹی پی ملوث رہی ہے –