Baaghi TV

Tag: افغان طالبان

  • پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    پاکستانی فضائی حملوں میں سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا.پاکستانی فضائیہ کے حالیہ حملے ٹی ٹی پی "فتنہ الخوارج” کے تربیتی کیمپوں پر کیے گئے ہیں۔ یہ حملے افغانستان یا آئی اے جی (اسلامی امارت افغانستان) کی افواج کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے مراکز کے خلاف تھے۔

    1. پاکستان نے افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا، جنہیں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
    2. پاکستان کی مسلسل شکایت رہی ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین سے کارروائیاں کر رہی ہے، لیکن آئی اے جی نے ان سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے۔
    3. یہ کیمپ سرحد پار دہشت گردی کا منبع تھے، جو پاکستان کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔
    4. چار اہم دہشت گرد مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں خودکش حملہ آور، اہم کمانڈر، اور بڑی مقدار میں اسلحہ موجود تھا۔
    5. مارے جانے والوں میں اہم کمانڈر شامل ہیں:
    شیر زمان المعروف مخلص یار
    ابو حمزہ (خودکش بمباروں کے تربیت کار)
    اختر محمد المعروف خلیل
    شعیب اقبال (ٹی ٹی پی کے عمر میڈیا کا سربراہ)
    6. افغانستان، بطور ایک غیر مستحکم ریاست، اپنی داخلی مسائل میں الجھا ہوا ہے، لیکن آئی اے جی کو سمجھنا ہوگا کہ دہشت گرد دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہیں۔
    7. عالمی قانون کسی بھی ریاست کو اپنی سرزمین سے باہر موجود خطرات کے خلاف دفاع کا حق دیتا ہے.

    افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور ٹی ٹی پی خوارج کے خلاف کارروائی

    پاکستان افغانستان کو برادر ملک تصور کرتا ہے اور فضائی حملے افغان عوام یا افواج کے خلاف نہیں تھے۔
    1. پاکستان نے سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے خلاف دفاعی اقدامات کیے۔
    2. مارے جانے والے ٹی ٹی پی کے خوارج وہ تھے جو حال ہی میں پاکستانی فوجیوں کی شہادت کا جشن منا رہے تھے۔
    3. ان فضائی حملوں کا مقصد دہشت گردوں کا خاتمہ تھا جو پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے خطرہ ہیں۔
    4. پاکستان کی جانب سے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    کرّم میں سیکیورٹی صورتحال: افغان فورسز کے ساتھ کشیدگی

    آئی اے جی کی جانب سے یہ غلط دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ افغان افواج نے پاکستانی افواج پر حملہ کیا، حالانکہ حقیقت میں 28 دسمبر کی صبح سرحد پار سے ٹی ٹی پی اور افغان فورسز نے بلااشتعال فائرنگ کی۔
    1. پاکستانی افواج نے جوابی کارروائی میں مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔
    2. افغان فورسز اور ٹی ٹی پی کے درمیان "فرینڈلی فائر” کے نتیجے میں متعدد جانی نقصان ہوا۔
    3. رپورٹس کے مطابق، ٹی ٹی پی کی فائرنگ سے ایک افغان ہیلی کاپٹر تباہ ہوا۔
    4. پاکستان کی متعدد درخواستوں کے باوجود افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کیا ہے۔

    کرّم میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی افغان کوششیں

    افغان طالبان کی جانب سے کرّم میں غیر مستحکم حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    1. افغانستان کی غیر اشتعال انگیز فائرنگ نے کرّم میں حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔
    2. افغان طالبان کا یہ رویہ پاکستان کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے، جو ہمیشہ افغان عوام کا حامی رہا ہے۔
    3. پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، لیکن طالبان کی جانب سے جوابی طور پر صرف ناشکری اور دشمنی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

    جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا

    1. افغان چینلز پر پاکستان کے فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کے دعوے جھوٹے ہیں۔ یہ تصاویر پرانے زلزلے کی ہیں۔
    2. کرّم میں پاکستانی افواج کی 19 ہلاکتوں کے دعوے غلط ہیں؛ حقیقت میں صرف 4 اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ 25 ٹی ٹی پی شدت پسند مارے گئے۔
    3. پاکستانی حملوں کے بعد ٹی ٹی پی کی قیادت میں مکمل رابطہ منقطع ہو چکا ہے، اور خوف کی وجہ سے ان کا نیٹ ورک مفلوج ہو چکا ہے۔

  • افغان طالبان  کا خواتین کو نرسنگ اور دائی کے کورسز سمیت صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم

    افغان طالبان کا خواتین کو نرسنگ اور دائی کے کورسز سمیت صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم

    کابل: افغانستان میں طالبان قیادت نے اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے بعد خواتین کو نرسنگ اور دائی کے کورسز سمیت صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: دی ٹیلیگراف کے مطابق طالبان نے افغانستان میں خواتین کی نرسوں اور دائیوں کی تربیت پر پابندی لگا دی ہے، جس سے خواتین کی صحت اور تعلیم کو ایک اور دھچکا لگا ہے،پابندی کا اعلان پیر کے روز کابل میں ایک اجلاس کے دوران وزارتِ صحت عامہ کے حکام نے طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے کیا،اس کا اطلاق نجی اور سرکاری دونوں اداروں پر ہوتا ہے۔

    وزارت صحت کے حکام نے تعلیمی اداروں کے سربراہان کوپابندی سے آگاہ کرتے ہوئے خواتین سے 10 دن میں حتمی امتحان لینے کی ہدایت کردی تاہم اس ضمن میں کوئی تحریری حکم جاری نہیں کیا گیا،خواتین اب دائی، نرسنگ، دندان سازی اور لیبارٹری سائنسز سمیت اہم شعبوں میں کام کرنے کے قابل نہیں ہوں گی، جو کہ 3 دسمبر سے نافذ العمل ہوں گی، جس سے افغان خواتین کے لیے مواقع مزید محدود ہوں گے۔

    پیر کے روز وزارت صحت کے حکام نے میڈیکل کی تعلیم فراہم کرنے والے اداروں کے سربراہان سے ملاقات میں پابندی سے آگاہ کیاحکام کی جانب سے اس فیصلےکی وجوہات بتانے سے گریز کیا گیا اور صرف یہ بتایا گیا کہ یہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوند زا د ہ کا حکم ہے،کچھ اداروں کی جانب سے حکام سے مزید وضاحت طلب کی گئی ہے جبکہ دیگر ادارے کوئی تحریری حکم نہ ملنے کے با عث معمول کےمطابق کام کررہے ہیں۔

    واضح رہے کہ طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد لڑکیوں پر سیکنڈری سطح کے بعد تعلیم جاری رکھنے پر پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے میڈیکل سمیت چند ہی شعبے دستیاب تھے۔

  • افغان طالبان اور حکومت پاکستان کے پاس بات چیت کے سوا کوئی حل نہیں،حافظ نعیم

    افغان طالبان اور حکومت پاکستان کے پاس بات چیت کے سوا کوئی حل نہیں،حافظ نعیم

    پشاور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ فوجی آپریشنز مسئلے کا حل نہیں، پاکستانی حکومت افغانستان کیساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرے اور مسائل کو بات چیت سے حل کیا جائے-

    باغی ٹی وی: پشاور میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام قبائلی امن جرگہ ہوا جس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے شرکت کی جرگے میں حافظ نعیم الرحمان کو روایتی پگڑی پہنائی گئی، امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ افغان طالبان کو چاہیے اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں اور بدامنی کی فضا کو روکیں۔

    حافظ نعیم نے کہا کہ فوجی آپریشنز مسئلے کا حل نہیں، پاکستانی حکومت افغانستان کیساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرے اور مسائل کو بات چیت سے حل کیا جائے، افغان طالبان اور حکومت پاکستان کے پاس بات چیت کے سوا کوئی حل نہیں، اگر حکومت راضی نہیں تو ہم مذاکرات کے لئے اپنی خدمات سرانجام دینے کو تیار ہیں، آرمی چیف کی ذمہ داری ہے فوج میں کرپشن کرنے والوں کا نوٹس لیں، جنرل فیض حمید اور ایف سی کے صوبیداروں کی جانب سے کی جانے والی کرپشن کو بھی دیکھنا چاہیے، توقع ہے کہ آرمی چیف اس معاملے کو دیکھیں گے۔

  • افغان وفد کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    افغان وفد کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے افغانستا ن کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی سربراہی میں امارات اسلامیہ افغانستان کے وفد نے ملاقات کی ہے۔

    ملاقات دبئی میں ہوئی، اماراتی صدر سشیخ محمد بن زاید سے افغانستان کی موجودہ انتظامیہ کے وزیر داخلہ ملا سراج الدین حقانی سربراہی میں وفد کی ملاقات کے دوران دونوں ممالک افغانستا ن اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مختلف موضوعات اورافغان باشندوں کے معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی

    افغان وفد کے یواے ای کے صدر سے ملاقات کے لئے پہنچنے پر متحدہ عرب امارات کے صدر نے وزیر داخلہ کے ہمراہ استقبال کیا،افغان وفد میں طالبان کے چیف آف انٹیلی جنس ملا عبدالحق وثیق بھی شامل تھے، عرب امارات اور افغان وفد کے مابین ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات اور تعاون کو مضبوط بنانے ، مشترکہ مفادات کے حصول کیلئے مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا،خطے میں استحکام کیلئے اقتصادی شعبے میں تعاون کی وسعت پر بھی گفتگو کی گئی،ملاقات میں افغان وفد نے خطے کی تعمیر نو اور ترقی کیلئے حکومت امارات کی طرف سے حمایت کا یقین دلایا،

  • بھارت  یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں  افغان طالبان کو شرکت کی دعوت

    بھارت یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں افغان طالبان کو شرکت کی دعوت

    ابو ظہبی: بھارت نے افغان طالبان کو اپنے یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کی دعوت بھیجی ہے۔

    باغی ٹی وی : متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی سفارت خانے نے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں طالبان کے ایلچی بدرالدین حقانی کو مدعو کیا ہے جو ابوظہبی میں افغانستان کی نمائندگی کرتے ہیں، بھارت کے اس اقدام نے اہم بحث چھیڑ دی ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بھارت کی طرف سے طالبان کو قبول کرنے کی طرف اشارہ ہے۔

    تاہم، بھارتی اخبار ”دی ہندو“ کے مطابق، بھارتی حکام اسے ایک معیاری سفارتی طریقہ کار قرار دیتے ہیں بدرالدین حقانی، جو پہلے حقانی نیٹ ورک سے وابستہ تھے، ایک متنازعہ شخصیت ہیں، اس نیٹ ورک نے افغانستان میں ہندوستانی مشنز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی، حقانی نیٹ ورک کی کارروائیوں میں سب سے زیادہ قابل ذکر 2008 میں کابل کے سفارت خانے پر ہونے والا بم حملہ تھا۔ جس میں ہندوستانی سفارت کاروں اور سیکورٹی اہلکاروں سمیت 58 افراد ہلاک ہوئے۔

    سندھ: لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کو سرکار ی معاوضہ بند

    سری لنکا میں افغانستان کی سابق حکومت کے سفیر اشرف حیدری نے اس دعوت نامے پر مایوسی کا اظہار کیا ، کہا کہ یہ افغانوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور دفاع کے لیے ایک ابھرتی ہوئی جمہوری طاقت کے طور پر ہندوستان سے افغانوں کی بنیادی توقع کے خلاف ہے، یہ اقدام انہی دہشت گردوں کے خلاف ان کی بڑھتی ہوئی مزاحمت کی حمایت کرنا ہے، جنہوں نے کابل میں ہندوستانی سفارت خانے پر بم حملہ کیا اور کئی ہندوستانی شہریوں کو ہلاک اور زخمی کیا ۔

    بھارتی ویب سائٹ دی ہندو نے سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک ”معمول کی“ دعوت تھی، ذرائع کے مطابق، پاکستان کو چھوڑ کر متحدہ عرب امارات میں تمام سفارتی مشنوں کو دعوت دی گئی ہے۔

    ذرائع نے اشاعت کے ساتھ بات چیت میں یہ بھی انکشاف کیا کہ ابوظہبی میں افغان سفارت خان میں اب بھی افغان جمہوریہ کا ترنگا لہراتا ہے جو کہ طالبان کے سیاہ اور سفید پرچم سے متصادم ہے، نئی دہلی میں ہندوستانی سفارت خانہ، جسے طالبان سے منسلک افغان قونصلوں نے دوبارہ کھولا ہے، اس میں بھی ”اسلامی جمہوریہ افغانستان“ کا جھنڈا برقرار ہے۔

    غیرقانونی بھرتیاں کیس، چوہدری پرویز الہیٰ سمیت دیگر فردِ جرم کیلئے طلب

    حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ بھارت طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لا رہا ہے ذرائع نے بتایا کہ یوم جمہوریہ پر یہ دعوت نامہ معمول کے طور پر ان تمام سفارتی مشنوں کو بھیجا گیا ہے جنہیں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے تسلیم کیا ہے۔ تاہم، اس میں پاکستان شامل نہیں ہے، جس کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات دور ہو گئے ہیں۔

    بھارتی اخبار ”انڈین ایکسپریس“ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت تین نکات پر غور کر رہی ہے، تاکہ یہ پیغام نہ جائے کہ بھارت طالبان کو تسلیم کر رہا ہے پہلا یہ کہ نئی قیادت کی ٹیم اسلامی جمہوریہ افغانستان کا تین رنگوں والا پرچم لہراتی رہے گی، یہ ٹیم طالبان کا جھنڈا نہیں لہرائے گی دوسرا یہ کہ سفارت خانہ اسلامی جمہوریہ افغانستان کا نام استعمال کرتا رہے گا نہ کہ طالبان کا اسلامی امارت افغانستان، تیسرا یہ کہ طالبان حکومت کے سفارت کاروں کو دہلی میں افغانستان کے سفارت خانے اور حیدرآباد میں ممبئی کے قونصلیٹ جنرل کے حصے کے طور پر نہیں بھیجا جائے گا۔

    کے پی میں پی ٹی آئی کو میں نے بنایا میں ہی اس کا صفایا …

  • طالبان نے افغانستان میں ٹی ٹی پی   کے 40 دہشت گردوں کو حراست میں لے لیا

    طالبان نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے 40 دہشت گردوں کو حراست میں لے لیا

    کابل: افغانستان میں طالبان حکومت نے انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 40 دہشت گردوں کو حراست میں لے لیا ، پہلی بار طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی گرفتاری کا باضابطہ دعویٰ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: افغان خبر رساں ادارے طلوع نیوز کے مطابق طالبان وزارت داخلہ کے ترجمان عبد المتین قانع نے ٹی پی پی کے 40 دہشت گردوں کی گرفتاری کے بعد جیل میں قید ہونے کی تصدیق کی ہے،ٹی ٹی پی کے 35 سے 40 تک کے ممبران جیلوں میں ہیں اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    افغان وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اتوار کو اعلان کیا کہ ان کی حکومت نے تمام ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی کابل کی خواہش پر زور دیتے ہوئے، گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 40 پاکستانی طالبان، جنہیں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند بھی کہا جاتا ہے، کو گرفتار کیا ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے جب کسی افغان اہلکار نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی ہے، جن پر پاکستان کا الزام ہے کہ وہ اپنی مغربی سرحد کے قریب علاقوں میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

    پاکستان میں حال ہی میں عسکریت پسندوں نے تشدد اور خودکش بم دھماکے کئے ہیں ، پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی اور افغانستان میں مقیم اس سے وابستہ گروپوں نے کیا ہے۔ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے گزشتہ ماہ انکشاف کیا تھا کہ ان کے ملک نے کابل سے کہا تھا کہ وہ پاکستان یا عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے-

    افغانستان میں ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کے معاملے نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے غیر رجسٹرڈ غیر ملکیوں، خاص طور پر افغان باشندوں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    افغان وزارت داخلہ کے ترجمان، عبدالمتین قانی نے طلوع نیوز کو بتایا، "آج، افغانستان میں کوئی عسکریت پسند گروپ کام نہیں کر رہا ہے،” "ہمارے ساتھ داعش کے قیدیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، اور تقریباً 35 سے 40 ٹی ٹی پی جنگجو ہمارے ہاں قید ہیں۔”
    انہوں نے کہا کہ کابل افغانستان کے پڑوسیوں کے ساتھ مثبت تعلقات کا خواہاں ہے اور اپنی سرزمین مسلح دھڑوں کو دوسرے ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

    انہوں نے افغان میڈیا کو یقین دلایا کہ ان کے ملک کی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کا فوری طور پر مقابلہ کیا جائے گا، ذمہ دار افراد یا گروہوں کی نشاندہی کرکے انہیں گرفتار کیا جائے گا۔

    پاکستان نے کہا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ کابل کے حکام سرحد پار حملوں میں اس کے سکیورٹی اہلکاروں اور لوگوں کو نشانہ بنانے والے عسکریت پسندوں کے حوالے کریں۔

    بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، افغان حکام نے پاکستان کے ایک سرکردہ مذہبی سیاست دان مولانا فضل الرحمان کو کابل آنے کی دعوت دی ہے، حالانکہ اس دورے کا ایجنڈا دونوں طرف سے ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

    ترجمان عبد المتین قانع نے اپنے بیان میں ٹی ٹی پی کے گرفتار دہشت گردوں کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ ان میں کتنے رہنما اور کس رینک کے کمانڈرز شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان متعدد بار طالبان حکومت سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی اور حوالگی کا مطالبہ کرچکا ہے پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں ٹی ٹی پی ملوث رہی ہے –

  • ٹی ٹی پی وسطی ایشیائی ریاستوں میں نہیں بلکہ افغان سرزمین پر موجود ہے،نگران وزیراعظم

    ٹی ٹی پی وسطی ایشیائی ریاستوں میں نہیں بلکہ افغان سرزمین پر موجود ہے،نگران وزیراعظم

    اسلام آباد: نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی وسطی ایشیائی ریاستوں میں نہیں بلکہ افغان سرزمین پر موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ افغان طالبان اچھی طرح جانتے ہیں کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگ پاکستان کے خلاف کہاں سے کارروائیاں کر رہے ہیں ٹی ٹی پی وسطی ایشیائی ریاستوں میں نہیں بلکہ افغان سرزمین پر موجود ہے، دو سال قبل جو مذاکرات کا ڈھونگ رچایا گیا تھا، تو ٹی ٹی پی کے لوگ کابل میں عملی طور پر ان مذاکرات میں شریک تھے، اب یہ فیصلہ افغان طالبان کو کرنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے لوگوں کو ہمارے حوالے کرنا ہے یا ان کے خلاف خود کارروائی کرنی ہے-

    الشفا اسپتال کے نیچے حماس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا اسرائیلی دعوی،مغربی میڈیا …

    انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ یہ بات قابل برداشت نہیں کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کی جائیں اور افغان طالبان تماشا دیکھتے رہیں، تمام مکاتب فکر کے علماء نے آرمی چیف کے ساتھ ملاقات میں ٹی ٹی پی سے متعلق موجودہ حکومتی پالیسی کی حمایت کی ہے۔

    ن لیگ میں سیاسی شخصیات کی شمولیت کا سلسلہ جاری،مزید دو ایم این اے پارٹی …

  • طالبان نے یونیورسٹی اسکالر شپ کیلئے یو اے ای جانیوالی 100 طالبات کو روک دیا

    طالبان نے یونیورسٹی اسکالر شپ کیلئے یو اے ای جانیوالی 100 طالبات کو روک دیا

    کابل: افغان طالبان نے یونیورسٹی اسکالر شپ کے لیے دبئی جانے والی 100 طالبات کو روک دیا۔

    باغی ٹی وی: "روئٹرز” کے مطابق افغان طالبات کو متحدہ عرب امارات کے ایک کاروباری گروپ نے اسپانسر کیا تھا کاروباری گروپ کے بانی چیئرمین خلف احمد الحبطور نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے 100 افغان لڑکیوں کے لیے امارات میں رہائش، تعلیم کا انتظام کیا تھا، لڑکیوں کے لیے خصوصی طیارے کو رقم کی ادائیگی بھی کردی گئی تھی تاہم افغان حکومت نے طالبات کو طیارے میں سوار ہونے سے روک دیا-

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    اماراتی تاجر نے سوشل میڈیا پر ایک افغان طالبہ کی آڈیو بھی شیئر کی جس میں طالبہ کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ گھر کے مرد بھی تھے تاہم کابل انتظامیہ کے اہلکاروں نے انہیں جہاز میں سوار نہیں ہونے دیا۔

    خبر ایجنسی کے مطابق اس معاملے پر طالبان انتظامیہ یا وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

    سعودی تحائف فروخت کرنے پربرازیل کے سابق صدر کی گرفتاری کا امکان

    قبل ازیں افغانستان میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی،عبوری وزیر انصاف جسٹس شیخ مولوی عبدالحکیم شرعی نے کابل میں اپنی وزارت کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں مکمل طور پر روک دی گئی ہیں، سیاسی جماعتوں کی شریعت میں کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی کوئی حیثیت ، ان جماعتوں سے کوئی قومی مفاد وابستہ ہے اور نہ ہی قوم انہیں پسند کرتی ہے۔

  • یونیورسٹیاں خواتین کو دوباہ داخلہ دینے کیلئے تیارہیں، افغان محکمہ تعلیم

    یونیورسٹیاں خواتین کو دوباہ داخلہ دینے کیلئے تیارہیں، افغان محکمہ تعلیم

    افغان محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ یونیورسٹیاں خواتین کو دوباہ داخلہ دینے کیلئے تیارہیں، تاہم اس بات کی منظوری طالبان کی اعلٰی قیادت دے گی۔

    باغی ٹی وی: نیوزایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق طالبان نے دسمبر 2022 میں خواتین کی یونیورسٹی تعلیم پر پابندی لگا دی تھی جس سے عالمی سطح پر غم و غصہ پیدا ہوا تھا اگست 2021 میں اقتدارسنبھالنے کے بعد چھٹی جماعت کےبعد سےلڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا تھا،طالبان کے عبوری حکومت سنبھالنے کے بعد سے اففانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کی تعلیم پرپابندی عائد کی گئی۔

    افغان وزیرتعلیم ندا محمد ندیم کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم پرپابندی لازمی تھی کیونکہ کچھ مضامین پڑھائے جانے سے اسلام کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے،یہ پابندی طالبان سپریم کمانڈر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی طرف سے لگائی گئی تھی،یہ عارضی ہے ، مخلوط تعلیم، نصاب اور ڈریس کوڈ کا مسئلہ حل ہو جائے گا تو یونیورسٹیاں دوبارہ کھول دی جائیں گی ہیبت اللہ اخوندزادہ کی طرف سے جنوبی شہر قندھار سے جاری کردہ پابندی اگلے نوٹس تک برقرار ہے۔

    کینیڈا:سکھوں کاہندو مندر پر حملہ ،پوسٹر آویزاں کر دیئے

    وزارت تعلیم کے مشیر مولوی عبدالجبار نے کہا ہے کہ جیسے ہی ملاہیبت اللہ اخونزادہ کا حکم ہوگا یونیورسٹیاں خواتین کو دوبارہ داخلہ دینے کیلئے تیارہوں گی،تاہم اس حکم کا نفاذ کب ہوگا،اس حوالے سے ابھی کچھ نہیں بتایا گیا،ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نےکہا کہ یونیورسٹیاں بند کر دو ،اس لیے بند ہیں، اور جب وہ کہیں گے کھول دو تو اسی روز کھل جائیں گی، ہمارے رہنما خواتین کی تعلیم کے حق میں ہیں-

    گوگل کا ای دستخط متعارف کرانے کا فیصلہ

  • یورپی ممالک نےافغان طالبان پرپابندیاں عائد کردیں

    یورپی ممالک نےافغان طالبان پرپابندیاں عائد کردیں

    لڑکیوں کو تعلیم سے روکنے پر یورپی ممالک نے افغان طالبان پر پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی:یورپی یونین نے سینئیر رہنماؤں پر پابندی عائد کردی بلیک لسٹ ہونے والے سینئر رہنماؤں میں عبدالحکیم حقانی، عبدالحکیم شرعی اور مولوی حبیب اللہ آغا شامل ہیں طالبان رہنماؤں سمیت 18 افراد اور 5 اداروں پر بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث پابندی عائد کی گئی ہے۔


    یورپی یونین نے کہا کہ اس نے افغانستان، جنوبی سوڈان، وسطی افریقی جمہوریہ، یوکرین اور روس میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پرپابندیاں عائد کی ہیں جن ممالک کا ذکر کیا گیا ہے وہاں عام شہریوں کو منظم طریقے سے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جن افراد کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے وہ پابندیوں کو دہشت پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔


    اس حوالے سے جاری بیان میں عبوری طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان رہنماؤں کو پابندیوں کی فہرست میں ڈالنا کسی بھی طرح فائدہ مند نہیں، دباؤ اور پابندیاں لگانے کے بجائے بات چیت اور افہام وتفہیم سے کام لینا چاہیے۔

    پاکستان میں انتخابات کا اعلان حوصلہ افزا ہے،امریکا

    یورپی کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ (مذکورہ افراد کو) افغان لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم کے حق، انصاف تک رسائی اور مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوی سلوک سے محروم کرنے میں ان کے کردار کی وجہ سے (پابندیوں کی فہرست میں) شامل کیا گیا ہے-

    دوسری جانب اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کی صورت حال پر پیر کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے حالیہ مہینوں میں افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں کو مزید سخت کر دیا ہے۔ خاص طور پر طالبان کی طرف سے خواتین کو تعلیم کی سہولت سے محروم کیا جا رہا ہے۔

    سیما حیدر نےنریندرمودی اوریوگی آدتیہ ناتھ سے مدد مانگ لی

    زیادہ اعتدال پسند حکمرانی کے ابتدائی وعدوں کے باوجود طالبان نے اگست 2021 میں افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے سخت اقدامات نافذ کیے ہیں۔ تحریک نے خواتین کے پارکوں اور جموں جیسی عوامی جگہوں پر جانے پر پابندی لگا دی اور میڈیا کی آزادیوں پر کریک ڈاؤن کیا ہے ان اقدامات کے رد عمل میں بین الاقوامی سطح پربہت زیادہ شور مچایا گیا۔ کابل کو ایک ایسے وقت میں مزید تنہا کر دیا ہے جب اس کی معیشت تباہ ہو رہی ہے اور انسانی بحران دو چند ہو رہا ہے۔