Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا دوسرا روز، الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیمیں متحرک

    کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا دوسرا روز، الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیمیں متحرک

    عام انتخابات2024 کیلئے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے،

    کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل 30 دسمبر تک مکمل ہوگا،8 فرور ی کو عام انتخابات ہوں گے،قومی اور صوبائی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں پر آج مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں کی سکروٹنی کا عمل جاری ہے،پورے ملک میں الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیمیں متحرک ہو گئی ہیں،امیدواران کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلام آباد میں تشہیری ہورڈنگز لگائے گئے ہیں،اسلام آباد میں مانیٹرنگ ٹیموں نے امیدواران کا تشہیری مواد ہٹانا شروع کر دیا، تمام اضلاع میں الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیمیں فعال ہو گئی ہیں.

    کراچی سے انتخابات لڑنے والے پارٹی سربراہ کم ہوگئے،2018 میں کئی جماعتوں کے سربراہوں نے کراچی سے الیکشن لڑا تھا،عمران خان، بلال بھٹو، شہباز شریف، خالد مقبول کراچی سے امیدوار تھے،مصطفی کمال نے پی ایس پی کے سربراہ کے طور پر الیکشن لڑا تھا،بانی چئیرمین پی ٹی آئی اور بلاول بھٹو اس بار کراچی کے انتخابی میدان سے باہر ہیں،شہباز شریف اور خالد مقبول اس بار بھی کراچی سے الیکشن لڑ رہے ہیں،مصطفی کمال اپنی جماعت، ایم کیو ایم میں ضم کرچکے ہیں

    ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کی زیر صدارت اسلام آباد میں الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس میں فیڈرل ڈائریکٹوریٹ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، قائد اعظم یونیورسٹی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، ڈی آر او کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نمائندگان کی الیکشن ڈیوٹیز کی ٹریننگ کا آغاز تیس دسمبر سے کیا جارہا ہے، الیکشن ڈیوٹیز ٹریننگ لسٹ میں شامل اہلکاروں کی حاضری کو یقینی بنایا جائے،اسلام آباد میں افسران کی ٹریننگ کے لیے دو مختلف جی سکس اور جی سیون میں دو سکولوں کے سینٹرز بنائے گئے ہیں

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے این اے 194 لاڑکانہ سے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے،ترجمان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلا غیر قانونی ہے عدالت میں چیلنج کریں گے،

    زرتاج گل کے کاغذات نامزدگی مسترد
    تحریک انصاف کی رہنما، سابق وفاقی وزیر زرتاج گل کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے ہیں، تحریک انصاف کے مطابق زرتاج گل کے تائید اور تجویز کنندہ کو اغوا کر لیا گیا ہے، تائید اور تجویز کنندہ کے ریٹرننگ آفس میں کاغذات کی جانچ پڑتال پر نہ پہنچنے پر کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں۔ اِس معاملے میں کورٹ سے رجوع کیا جائیگا۔زرتاج گل کے وکیل کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے،

    این اے 130 لاہور، نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور
    سابق وزیراعظم نواز شریف کے این اے 130 لاہور سے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں، ن لیگی رہنما بلال یاسین پیش ہوئے تھے،بلال یاسین کا کہنا تھا کہ این اے 130 لاہور سے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی پر کوئی اعتراض نہیں آیا اور وہ منظورہو گئے ہیں،الیکشن میں آٹھ فروری کو نواز شریف اس حلقے سے کامیاب ہو کر وزارت عظمیٰ کے چوتھے بار امیدوار بنیں گے.

    پیپلز پارٹی نے کے پی میں پہلی بار ہندو خاتون کو جاری کیا ٹکٹ
    پیپلزپارٹی نے بونیر سےہندو اقلیت کی رکن ڈاکٹر سویرا پرکاش کو جنرل سیٹ کے لیے ٹکٹ جاری کیا ہے، خیبر پختونخواہ کے ضلع بونیر میں پہلی ہندو خاتون امیدوار نے پی کے 25 بونیر سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں،ر ڈاکٹر سویرا پرکاش نے پاکستان پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے عام انتخابات 2024 میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ، خاتون امیدوار ڈاکٹر سویرا پرکاش کے والد ڈاکٹر اوم پرکاش گزشتہ 35 برسوں سے پیپلزپارٹی سے وابستہ ہیں

    https://twitter.com/iambhevishk/status/1739393685127569564

    sawera

    قومی اسمبلی کی مخصوص نشست پرمریم اورنگزیب، حنا ربانی کھر سمیت لیگی رہنما شائستہ پرویز جب کہ صوبائی مخصوص نشستوں پرعظمی بخاری،حنا پرویز بٹ اور ذکیہ شاہنواز کے کاغذات منظور کرلیے گئے ہیں، پیپلز پارٹی کے نثار کھوڑو، روبینہ قائم خانی، سعید غنی، تنزیلہ قمبرانی، جمیل سومرو، ٹی ایل پی کی ثروت فاطمہ، ایم کیو ایم کی افشاں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے

    لیاقت بلوچ، لطیف کھوسہ، ناصر بٹ ،مریم اورنگزیب کے کاغذات منظور
    این اے 128 اور این اے 123 سے لیاقت بلوچ کے کاغذات منظور کر لئے گئے ہیں، راشد شفیق کے پی پی 19 سے کاغذات منظور کیے گئے ہیں،تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ کے این اے 127 سے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے،مسلم لیگ ن کے رہنما ناصر بٹ کی کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،ناصر بٹ نے این اے 56 اور پی پی 16 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے،

    جمشید دستی کی حفاظتی ضمانت منظور
    تحریک انصاف کے روپوش رہنما ،سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی منظر عام پر آگئے ،جمشید دستی مظفر گڑھ پولیس کو تھانہ صدر میں قائم ایک مقدمہ میں مطلوب ہیں جمشید دستی نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور پیش ہو گئے، لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نےجمشید دستی کی 2 دن کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی، جمشید دستی اپنے وکیل کے ہمراہ حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں پیش ہوئے، جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے جمشید دستی کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    آصف زرداری، سلیم مانڈوی والا،عبدالقادر پٹیل،شازیہ مری،آسیہ اسحاق،ایاز صادق کے کاغذات منظور
    پیپلزپارٹی کی سحر کامران کے مخصوص نشست کے لئے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،پیپلزپارٹی کی امیدوار خیر النساء مغل کے کاغذات بھی منظور کرلئےگئے، اس موقع پر سحر کامران کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ پیپلز پارٹی کے اتنے امیدوار ضرور ہوں گے کہ مجھے قومی اسمبلی میں سیٹ مل جائے گی،میرے کاغذات منظور ہو گئے ہیں. این اے 232 سے ایم کیو ایم پاکستان رکن رابطہ کمیٹی آسیہ اسحاق کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں.سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے این اے 240 کی نشست پر کاغذات نامزدگی منظورہو گئے ہیں.سابق صدر آصف زرداری کے حلقہ این اے 207 سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،این اے 243 سے پی پی امیدوار عبدالقادر پٹیل کے فارم بھی منظور ہو گئے،سابق گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب کے این اے 16 ایبٹ آباد سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے جمع کرائے گئے کاغذات منظور کر لیے گئے،لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 121 سے ایم کیو ایم امیدوار عمران اشرف، جی ڈی اے رہنما شمائلہ رضا کے این اے 240 کراچی، این اے 248 کراچی سے پی پی امیدوار فیضان راوت کےکاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،پیپلز پارٹی کی شازیہ مری، تنزیلا لغاری اور سعدیہ جاوید کے خواتین کی مخصوص نشستوں پر کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے.سابق وزیراعظم پاکستان اور موجودہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور امیدوار برائے صوبائی اسمبلی خرم پرویز راجہ کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہونے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم اور پارٹی نشان واپس لینے کے فیصلے کو عبوری معطل کردیا،عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا،عدالت نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ ہونے تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل ہوگا،پشاور ہائی کورٹ نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ چھٹیوں کے ختم ہونے کے بعد پہلے ڈبل بینچ میں کیس سنا جائے۔

    وکیل تحریک انصاف بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 2 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کو تسلیم کیا، الیکشن کے انعقاد میں کوئی بے ضابطگی کا نہیں کہا، الیکشن کمیشن نے انتخابات کو درست جبکہ اس کے انعقاد کرنے والے پر اعتراض کیا، الیکشن کمیشن نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی سے انتخابی نشان لیا، اب ہم الیکشن میں بطور پارٹی حصہ نہیں لے سکتے،مخصوص نشستیں بھی سیاسی جماعت کو بغیر انتخابی نشان نہیں مل سکتیں، سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کردیا گیا، انتخابی نشان سیاسی پارٹی کی پہچان ہوتی ہے، اسکے بہت سنجیدہ ایشو ہوں گے،انتخابی نشان کے بغیر امیدوار میدان میں نہیں اُترسکتے، ریزرو سیٹ بھی اقلیتی امیدوار کو نہیں مل سکتی ،جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کیلیے جنرل سیکرٹری کے کمیشن بنانے پر اعتراض کیا؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو صحیح جبکہ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کیجانب سے کمیشن کی تقرری پر اعتراض کیا ، علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کو سوالیہ نشان بنانے کا اختیار نہیں ،الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ،پولیٹکل پارٹیز ایکٹ اور الیکشن ایکٹ واضح ہے اور ان میں اختیارات کا تعین ہے ،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ میں نے فیصلہ نہیں پڑھا، کیا صرف یہی لکھا ہے کہ الیکشن کرانے والے کی تعیناتی غلط ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بالکل الیکشن کمیشن نے یہی لکھا ہے، الیکشن کمیشن پارٹی میں تعیناتیوں پر سوال نہیں اٹھا سکتا، الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم نہیں کرسکتا، اگر الیکشن کمیشن کو یہ اختیارات دیئے گئے تو آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہوگی۔الیکشن کمیشن کے پاس کسی بھی سیاسی پارٹی کے عہدیدار کی تقرری ، انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ، الیکشن کمیشن کے پاس کورٹ کی طرح اختیارات نہیں ہیں ، الیکشن کے حوالے سے معاملات سول کورٹ باقاعدہ ٹرائل کے بعد طے کرتا ہے، 8 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جنہوں نے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض نہیں کیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر سیکرٹری جنرل مستعفی ہوجائے تو کیا ہوگا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عہدے سنبھالا لیتا ہےاس وقت عمر ایوب تھے،جسٹس کامران حیات نے کہا کہ کیا اسد عمر نے استعفیٰ دیا اور وہ منظور ہوا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی بالکل ، جنوری میں اسد عمر گرفتار ہوئے اور جب واپس آئے تو استعفیٰ دیا، اسد عمر کے بعد عمر ایوب جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواستگزار کون ہیں ؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواست عام شہریوں کے طور پر دی گئی ،کسی بھی سیاسی پارٹی کو صرف سپریم کورٹ نکال سکتی ہے الیکشن کمیشن کمیشن نہیں، جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ آپ کی پارٹی کے آئین و رولز میں انٹرا پارٹی انتخابات کا کیا طریقہ کار ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پارٹی چیئرمین کا انتخاب خفیہ بیلٹ پر ہوگا، رجسٹرڈ ووٹرز ہی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں ، ، انٹرا پارٹی انتخابات رولز ہم نے بنائے ہیں ہم ہی اپ ڈیٹ کرینگے،الیکشن کمیشن ڈائریکشن نہیں دے سکتا، جسٹس کامران حیات نے کہا کہ الیکشن کمیشن یہ کہ رہی ہے کہ آئین کے مطابق الیکشن نہیں ہوا،آپ یہ کہنا جاتے ہیں کہ اگر الیکشن نہیں کروائیں گے تو پھر پارٹی جرمانہ ہوگا، علی ظفر نے کہا کہ یہاں تو اس سے بڑا فیصلہ ہوا ہے اور پارٹی کو الیکشن سے ہی باہر نکال دیا،ایک طرف ہمیں کہا جاتا ہے کہ 20دن میں انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں دوسری جانب اعتراض کررہے ہیں ، انٹرا پارٹی کے خلاف 14بندوں نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی ایک بھی پارٹی ممبر نہیں تھا، الیکشن کمیشن کو بتایا کہ درخواستگزار پی ٹی آئی ممبر شپ کو کوئی ثبوت دیں ، اگر انتخابی نشان نہیں ملا تو ہمیں اقلیتی اور خواتین کی مخصوص نشستیں نہیں ملے گی، 30دسمبر اسکروٹنی کا آخری دن ہے ہمیں نشان الاٹ کیا جائے،

    جسٹس کامران حیات نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ آج نہیں کرسکتے، کیونکہ یہ ڈویژنل بینچ کا کیس ہے،پی ٹی آئی کی آج ہی درخواست پر فیصلہ کرنے کی استدعا پشاور ہائیکورٹ نے مسترد کر دی،انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کچھ دیر کا وقفہ کر دیا گیا، بیرسٹر علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے، عدالت نے کہا کہ سرکاری وکلاء کو وقفے کے بعد سنتے ہیں.

    دوبارہ سماعت ہوئی جسٹس کامران حیات میاں خیل نے وکیل الیکشن کمیشن سے کہاکہ آپ ادھر ادھر جاتے ہیں جو سوال کیا ہے اس پر آ جائیں،وکیل نے کہاکہ پارٹی کو نشان تب الاٹ ہوتا ہے جب وہ الیکشن کرائے اور سرٹیفکیٹ جمع کرائے،جسٹس کامران نے کہاکہ الیکشن شیڈول جاری ہو گیا ہے اب تو نشان نہیں روک سکتے،الیکشن شیڈول جاری ہو گیاہے نشان دینا ہوگا،

    قبل ازیں تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کوپشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، درخواست میں پی ٹی آئی کے وکلاء نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے استدعا کی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی انتخابات کرانے کے طریقے پر فیصلے کا اختیار نہیں، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے پارٹی ممبر ہی نہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان بلا بھی واپس لے لیا ہے،تحریکِ انصاف نے اپنی درخواست میں الیکشن اور انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے درخواست گزاروں کو بھی فریق بنایا ہے،عدالت سے سینئر ججز پر مشتمل بینچ بنانے اور درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے،

    پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ، بیرسٹر علی ظفر
    پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کا بلے کا نشان بحال کردیا ہے، عدالت نے حکومتی وکیل سے پوچھا کہ الیکشن کمیشن نے کس شق کے تحت فیصلہ کیا؟ یقین ہے ہر فیصلہ قانون کے مطابق ہوتا ہے، التجا کرتا ہوں کہ آئین و قانون پر یقین رکھیں،پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ہے عدالت نے الیکشن کمیشن کے بلے چھیننے کے آرڈر کو معطل کردیا ہے اور کہا کہ بلے کا نشان واپس کیا جائے،

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا تھا اور بلا ہی رہے گا،بانی پی ٹی آئی چیئرمین تھے اور رہیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں سپریم کورٹ بھی توہین عدالت کا کیس دائر کرنے جا رہے ہیں، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن میں جو بھی رکاوٹ ڈالے گا، اس کے خلاف توہینِ عدالت کا مقدمہ ہو گا، پنجاب میں پی ٹی آئی کے ساتھ پری پول ریگنگ ہو رہی ہے، امیدواروں سے کاغذاتِ نامزدگی تک چھینے گئے

    قبل ازیں تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر شیر افضل مروت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلا پی ٹی آئی کا نشان تھا اور رہے گا،پرویز خٹک کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے، بیٹ کا نشان صرف الیکشن کمیشن ہی آفر کر سکتا ہے،بیٹ کا نشان آفر کرنے کی ضرورت کیوں تھی؟ پرویز خٹک نے تو تحریک انصاف کے مقابلے میں اپنی پارٹی بنائی ہے، پرویز خٹک کے بیان سے ان کے اور الیکشن کمیشن کے تانے بانے ملتے ہیں،بانی پی ٹی آئی نے این اے 32 پشاور سے الیکشن کے لیے مجھے نامزد کیا تھا، اپنے حلقے لکی مروت سے بھی قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کرائے ہیں، الیکشن کہاں سے لڑنا ہے یہ فیصلہ پارٹی کرے گی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہ کرانے پر بلے کا نشان واپس لے لیا تھا،عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں ، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ ان کو بلے کا نشان واپس مل جائے، بلے کا نشان واپس نہ ملنے کی صورت میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد الیکشن لڑنا پڑے گا.ایسے میں سب امیدواروں کے انتخابی نشان مختلف ہوں گے.ہم عوام پاکستان پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن سے بلے کا نشان مانگ رکھا ہے ، وہیں ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو بلے کی بجائے گھڑی کا انتخابی نشان دیا جائے تا کہ سب کو پتہ چلے کہ یہ گھڑی چور ہیں

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • ای سی پی کا  انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا فیصلہ

    ای سی پی کا انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ملک بھر میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا فیصلہ کیا ہے

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن کے جاری کردہ مراسلے کے مطابق الیکشن کمیشن نے سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کے لیے چاروں چیف سیکرٹریز کو احکامات بھجوا دئیے ہیں،ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران (ڈی آر اوز) کی کی جانب سے قرار دئیے گئے انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر خفیہ کیمرے لگائے جائیں۔

    مراسلے میں مزید بتایا گیا کہ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز کے تمام بوتھوں پر کیمرے نصب ہوں گے، سی سی ٹی وی کیمروں سے انتخابی عمل، گنتی اور نتائج کی تیاری کی مانیٹرنگ ہوگی الیکشن کمیشن نے سی سی ٹی وی کیمروں سے متعلق ایس او پیز بھجوا دئیے ہیں۔

    کسی کو بھی انتخابی نشان بلے کی پیشکش نہیں کی گئی، الیکشن کمیشن

    کاغذات نامزدگی کی مد میں وصول ہونے والی فیس کی تفصیلات جاری

    فلسطینی میرے ڈراؤنے خوابوں میں آتے ہیں اور پوچھتے ہیں تم نے ہمیں کیوں …

  • کاغذات نامزدگی کی مد میں وصول ہونے والی فیس کی تفصیلات جاری

    کاغذات نامزدگی کی مد میں وصول ہونے والی فیس کی تفصیلات جاری

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کاغذات نامزدگی کی تفصیلات اور اس کی مد میں وصول ہونے والی فیس کی تفصیلات جاری کردی گئیں ۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کو عام انتخابات 2024 کے کاغذات نامزدگی کی مد میں 65 کروڑ 54 لاکھ روپے سے زائد فیس موصول ہوئی ہے، اس میں سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر 8312 کاغذات نامزدگی کی فیس کی مد میں 24 کڑور 93 لاکھ 90 ہزار روپے موصول ہوئی۔

    اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے لئے 7713 کاغذات نامزدگی کی فیس کی مد میں 23 کڑور 13 لاکھ 90 ہزار روپے، خواتین کی مخصوص نشستوں کے لئے 459 کاغذات نامزدگی کی فیس کی مد میں 1 کڑور 37 لاکھ 70 ہزار روپے موصول ہوئے۔

    کسی کو بھی انتخابی نشان بلے کی پیشکش نہیں کی گئی، الیکشن کمیشن

    قومی اسمبلی کی اقلیتوں کی نشستوں کے لئے 140 کاغذات نامزدگی کی فیس کی مد میں 45 لاکھ روپےموصول ہوئے اسی طرح صوبائی اسمبلی کی نشستوں کےلئے 20304 کاغذات نامزدگی کی فیس کی مد میں 40 کڑور 60 لاکھ 80 ہزار روپے الیکشن کمیشن کوموصول ہوئے۔

    اعلامیے کے مطابق صوبائی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے لئے 18546 کاغذات نامزدگی کی فیس کی مد میں 37 کڑور 9 لاکھ 20 ہزار روپے موصول ہوئےصوبائی اسمبلی میں خواتین کیلئے مخصوص نشستوں کے 1365 کاغذات نامزدگی کی فیس کی مد میں 2 کڑور 73 لاکھ روپے، اقلیتوں کی نشستوں پر 393 کاغزات نامزدگی کی فیس کی مد میں 78 لاکھ 60 ہزار روپے موصول ہوئے۔

    ڑکوں کے مقابلے میں نوجوان لڑکیاں ایڈز کا زیادہ شکار ہوتی ہیں،رپورٹ

    دوسری جانب 2018 کے عام انتخابات کے مقابلے میں 2024 کے الیکشن میں 33 فیصد زیادہ امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں اگلے سال کے شروعات میں ہونے والے عام انتخابات کیلیے مجموعی طورپرمختص جنرل 859 سیٹوں کیلیے ریکارڈ 28686 امیدواران نے اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں۔

    2018 کے انتخابات میں 21425 امیدواران نے اپنے کاغذات جمع کرائے تھے، جبکہ 2013 کے عام انتخابات میں 27998 امیدواروں نے اپنے پیپرز جمع کرائے تھے۔

    الیکشن کمیشن سے حاصل تفصیلات کے مطابق 7713 امیدواروں نے قومی اسمبلی کی 266 جنرل سیٹوں کیلئےکاغذات جمع کرائے ہیں دلچسپ طورپہلی بار 471 خواتین نے قومی اسمبلی کی جنرل سیٹوں کیلئے اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں 802 خواتین نے صوبائی اسمبلیوں کی 593 جنرل سیٹوں کیلیے اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں مجموعی طور پر صوبائی سیٹوں پر 18546 امیدواران نے صوبائی اسمبلیوں کی تمام جنرل سیٹوں کیلیے پیپر جمع کرائے ہیں 459 خواتین نے قومی اسمبلی کی خواتین کیلیے مخصوص 60 سیٹوں کیلیے اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں۔

    جماعت اسلامی کے سابق ایم پی اے جے یو آئی میں شامل

    صوبائی اسمبلیوں کی 132 مخصوص نشستوں کیلیے 1365 خواتین نے اپنی درخواستیں جمع کرائی ہیں قومی اسمبلی کی دس اقلیتوں کیلیے مخصوص سیٹوں کیلیے 150 امیدواروں نے اپنی درخواستیں الیکشن کمیشن کے ساتھ جمع کرائی ہیں صوبائی اسمبلیوں کی غیرمسلموں کی 24 مخصوص نشتوں کیلیے 392 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں صوبائی اور قومی اسمبلوں کی 859 جنرل سیٹوں کیلیے انتخابات 2024 الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کی حمایت یافتہ 2434 امیدواروں نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی 859 جنرل سیٹوں پر اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

    اس طرح تحریک انصاف کے امیدواران کی تعداد زیادہ ہے، دوسرے نمبر پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ 2134 امیدواران نے اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں 1651 امیدواران جن کو پی پی کی حمایت حاصل تھی اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں، تحریک لبیک پاکستان کے حمایت یافتہ 1478 امیدواران بھی میدان میں ہیں، تاہم حتمی معلومات کاغذات نامزدگی کی چھان بین کے بعد ہی آئے گی۔

    نان فائلرز کی رجسٹریشن کیلئےکاروباری اور کمرشل یونٹس کا ملک گیر سروے شروع

  • کسی کو بھی انتخابی نشان بلے کی پیشکش نہیں کی گئی، الیکشن کمیشن

    کسی کو بھی انتخابی نشان بلے کی پیشکش نہیں کی گئی، الیکشن کمیشن

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ پرویز خٹک سمیت کسی کو بھی انتخابی نشان بلے کی پیشکش نہیں کی گئی۔

    باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ترجما ن الیکشن کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے چیئرمین پی ٹی آئی پارلیمینٹیرین ،پرویز خٹک سمیت کسی کو بھی انتخابی نشان” بلے "کی پیشکش نہیں کی گئی –
    https://x.com/ECP_Pakistan/status/1739301971407061211?s=20

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کے چیئرمین پرویز خٹک نے کہا تھا کہ مجھے بلے کے نشان کی پیشکش ہوئی تھی، میں نے انکار کردیا دریں اثنا پرویز خٹک نےکہاتھا کہ پی ٹی آئی کی پارٹی ماضی کا حصہ بن جائے گی، کیونکہ ماضی میں جن پارٹیوں نے ملکی اداروں کے خلاف نفرت کی سیاست کی و ہ پارٹیاں یا تو ختم ہوگئیں یا وہ پارٹیاں صرف صوبے یا ضلع کی پارٹی بن کر رہ گئیں-

    نگران وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ کو عہدے سے ہٹا دیا …

    تبدیلی خان کی تبد یلی کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے، نہ بلا رہا اور نہ بلے سے کھیلنے والا کھلاڑی، الیکشن کمیشن نے بلےکے نشان کو ختم کردیا،8 فروی کو پاکستان تحریک انصاف کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہےگا بانی پی ٹی آئی اصل میں آصف علی زرداری اور نواز شریف سے بھی دو ہاتھ آگے تھے، تبدیلی اور احتساب تو بس ایک ٹوپی ڈرامہ تھا، اصل میں تو وہ خود کرپشن کے کنگ تھے۔

    نان فائلرز کی رجسٹریشن کیلئےکاروباری اور کمرشل یونٹس کا ملک گیر سروے شروع

  • عالمی بینک کے پاکستان میں الیکشن کے بعد نئی حکومت کےحوالے سے خدشات

    عالمی بینک کے پاکستان میں الیکشن کے بعد نئی حکومت کےحوالے سے خدشات

    اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان میں الیکشن کے بعد نئی حکومت کے حوالے سے اپنے خدشے کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی بینک نے اصلاحاتی پروگرام رائزٹو سے متعلق رپورٹ جاری کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں الیکشن کے بعد نئی حکومت متعدد اقدامات واپس لے سکتی ہےمنظم مفاد پرست طبقہ تیزی سے ضروری اصلاحات کو واپس لے سکتا ہے، نئی حکومت گیس، توانائی، ٹیکس اقدامات سے متعلق اقدامات ختم کر سکتی ہے، سبسڈی، تجارتی ٹیرف اور جائیدادوں پر ٹیکس وصولی بھی ختم ہو سکتی ہے۔

    عالمی بینک نے رپورٹ میں کہا کہ آئندہ الیکشن کے بعد سیاسی دباؤ کی وجہ سے گورننس کو خطرات بہت زیادہ ہیں، سیاسی وجوہات کی بنا پر مالی پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں، مشکل اصلاحات پر عملدرآمد جاری رکھنے کا وعدہ خطرے میں پڑھ سکتا ہے، مستقبل کی حکومت کی طرف سے بنیادی اصلاحات اور ترجیحات کا علم نہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹینڈ بائی معاہدے کے خاتمے پر خطرات زیادہ ہیں، اسٹینڈ بائی معاہدے کے اختتام پر پاکستان کےذخائر ڈیڑھ ماہ کی درآمدات کے برابر ہوں گے، آئی ایم ایف سے معاہدہ ختم ہونے کے بعد اضافی بیرونی مدد درکار ہو گی۔

    غزہ کی پٹی میں جھڑپ، مزید دو اسرائیلی فوجی ہلاک

    عالمی بینک نے رپورٹ میں کہا کہ زرعی شعبے میں غلط پالیسیوں اور صوبوں کو منتقل شعبوں میں اخرجات کا خاتمہ ضروری ہے، وفاقی حکومت کی طرف سے صوبائی ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کا خاتمہ ضروری ہے، زراعت، چھوٹے تاجروں اور رئیل اسٹیٹ کو ٹیکس نیٹ میں لا کر ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانا ہو گا، توانائی کی تقسیم کے شعبے میں لاگت اور نقصانات کم کرنے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں نجکاری کے ذریعے ریاستی اداروں کے نقصانات میں کمی کرنا ہو گی، سرخ فیتے کے اختیارات کم کر کے سرمایہ کاری کا ماحول آسان بنانا ہو گا، جامع اصلاحات کے بغیر بیرونی سرمایہ میں کمی رہے گی، بیرونی ذخائر برقرار رکھنے کے لیے درآمدات پر پابندی متوقع ہے، جس سے معاشی کارکردگی متاثر ہوگی۔

    ہم نے کسی ٹینکر پر کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا، ایران نے پینٹاگون کا الزام …

  • الیکشن کمیشن کے حکم پر آئی جی اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہٹا دیا گیا

    الیکشن کمیشن کے حکم پر آئی جی اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہٹا دیا گیا

    الیکشن کمیشن کے حکم پر آئی جی اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہٹا دیا گیا
    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے متبادل افسروں کے نام طلب کر لئے، ڈپٹی کمشنر اسلام اور آئی جی اسلام آباد کے متبادل ناموں کا پینل بھیجا جائے،وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نےاسٹبلشمنٹ ڈویژن کو خط لکھ دیا۔الیکشن کمیشن نے 26 اکتوبر کو ڈی سی اور آئی جی اسلام آباد کو ہٹانے کا حکم دیا تھا

    نگران وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ کو بھی عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ
    دوسری جانب الیکشن کمیشن کے حکم پر مشیر احد چیمہ کو ہٹانے کا معاملہ ،نگران وزیراعظم نے احد چیمہ کو ہٹانے کی منظوری دے دی ،نگران وزیراعظم نے احد چیمہ کو ہٹانے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوا دی ،الیکشن کمیشن نے سابق حکومت میں شامل نگران کابینہ ارکان کے خلاف درخواست پر فیصلہ دیا تھا،الیکشن کمیشن نے احد چیمہ کو فوری مشیر کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عام انتخابات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں الیکشن کمیشن نے سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو حکم دیا ہے کہ احد چیمہ کو فوری مشیرکے عہدے الگ کردیاجائے احد چیمہ گزشتہ کابینہ کا حصہ رہے ہیں، اور وہ عام انتخابات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں

  • بلے کے نشان کی واپسی کیلیے پی ٹی آئی کا عدالت جانے کا فیصلہ

    بلے کے نشان کی واپسی کیلیے پی ٹی آئی کا عدالت جانے کا فیصلہ

    انتخابی نشان بلے کی واپسی کے لئے تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا، پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں کل درخواست دائر کرے گی.

    تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان معظم بٹ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی نشان واپس لینے کے خلاف کل پشاور ہائیکورٹ جائیں گے،کیس سے متعلق پٹیشن تیارکرلی ہے، کوشش ہوگی کہ پٹیشن کل ہی سماعت کے لیے مقرر ہو، پٹیشن میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم کرنے کی استدعاکی گئی ہے اور پٹیشن میں مؤقف ہےکہ الیکشن کمیشن نے غیر قانونی فیصلہ کیا ہے، غیر متعلقہ شخص کی درخواست پر انتخابی نشان واپس لینا غیرقانونی ہے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہ کرانے پر بلے کا نشان واپس لے لیا تھا،عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں ، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ ان کو بلے کا نشان واپس مل جائے، بلے کا نشان واپس نہ ملنے کی صورت میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد الیکشن لڑنا پڑے گا.ایسے میں سب امیدواروں کے انتخابی نشان مختلف ہوں گے.ہم عوام پاکستان پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن سے بلے کا نشان مانگ رکھا ہے ، وہیں ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو بلے کی بجائے گھڑی کا انتخابی نشان دیا جائے تا کہ سب کو پتہ چلے کہ یہ گھڑی چور ہیں

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • عام انتخابات، کاغذات نامزدگی، جانچ پڑتال کا عمل آج سے

    عام انتخابات، کاغذات نامزدگی، جانچ پڑتال کا عمل آج سے

    عام انتخابات،کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل آج سے شروع ہوگیا ہے

    کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لیے دن سات سے کم کرکے پانچ کر دیے گئے ہیں جانچ پڑتال 30 دسمبر تک ہوگی،کاغذاتِ نامزدگی منظور یا مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل تین جنوری تک کی جا سکے گی، ان اپیلوں پر انتخابی ٹریبونل 10 جنوری تک فیصلہ کریں گے، الیکشن کمیشن نے تمام صوبوں میں ٹربیونل مقرر کر دیئے ہیں، امیدوار اپنے کاغذات 12 جنوری تک واپس لے سکیں گے، امیدواروں کو انتخابی نشان 13 جنوری کو دیے جائیں گے.

    جمعیت علماء اسلام نے سندھ سے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا
    جمعیت علماء اسلام نے سندھ بھر میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں پر امیدوار میدان میں اتار دئیے ،علامہ راشد محمود سومرو این اے 194 لاڑکانہ، پی ایس 5 کندھ کوٹ سے جےیوآئی کے امیدوار ہوں گے ،اسلم غوری کراچی این اے 235، پی ایس 97 سے جےیوآئی کے امیدوار ہوں گے ،سائیں عبدالقیوم ہالیجوی این اے 201 سکھر، این اے 199 گھوٹکی، پی ایس 6 کندھ کوٹ سے جےیوآئی کے امیدوار ہوں گے ،ناصر محمود سومرو این اے 196 قمبر شہداد کوٹ ، پی ایس 106 لیاری، پی ایس 18 گھوٹکی سے جےیوآئی کے امیدوار ہوں گے،سائیں عبداللہ مہر این اے 193 شکار پور، ڈاکٹر ابراہیم جتوئی این اے 192 شکار پور، میر عابد خان جتوئی پی ایس 08شکار پور سے جےیوآئی کے امیدوار ہوں گے ،آغا ایوب شاہ این اے 200 سکھر، میر شاہ زین بجرانی این اے 191 کندھ کوٹ سے جےیوآئی کے امیدوار ہوں گے ،امیر بخش عرف میر مہر پی ایس 25 سکھر ، پپو خان چاچڑ پی ایس 21 گھوٹکی سے جےیوآئی کے امیدوار ہوں گے ،عبدالزاق عابد لاکھو این اے 197 قمبرشہداد کوٹ سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہوں گے ،مولانا نور الحق این اے 239 لیاری، مولانا نصیر الدین سواتی این اے 244 کراچی غربی، سمیع سواتی پی ایس 116 کراچی سے جےیوآئی کے امیدوار ہوں گے ،قاری محمد عثمان این اے 243 کیماڑی, پی ایس 114 شیرشاہ کراچی، عمر صادق پی ایس 111 کیماڑی سے جےیوآئی کے امیدوار ہوں گے

    الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والوں کی تفصیلات جاری کردیں ،ملک بھر میں مجموعی طورپر 28ہزار 626امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے.قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے لئے7713 امیدواروں کے کاغذات جمع ہوئے،صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کےلئے 18546 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع ہوئے

    kaghaz

    پنجاب،قومی و صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر 13823 کاغذات نامزدگی وصول ہوئے
    دفتر صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے صوبہ پنجاب میں وصول شدہ کاغذات نامزدگی کی تفصیلات جاری کر دیں ،ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق صوبہ پنجاب میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی جنرل و مخصوص نشستوں پر مجموعی طور پر 13823 کاغذات نامزدگی وصول ہوئے۔صوبہ پنجاب سےقومی اسمبلی کی جنرل نشستوں پر 3594مرد اور 277خواتین نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔صوبائی اسمبلی پنجاب کی جنرل نشستوں پر 8592مرد اور 437خواتین نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔ مخصوص نشستوں برائے خواتین قومی اسمبلی کیلئے 195کاغذات نامزدگی وصول ہوئے۔مخصوص نشستوں برائے خواتین صوبائی اسمبلی پنجاب کےلئے 601خواتین نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔مخصوص نشستوں برائے اقلیت صوبائی اسمبلی پنجاب کے لئے 118مرد اور 9خواتین نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔اسلام آباد میں قومی اسمبلی نشستوں پر 182مرد اور 26خواتین کے کاغذات نامزدگی وصول ہوئے۔الیکشن شیڈول کے مطابق سکروٹنی کا عمل 30دسمبر تک جاری رہے گا۔

    خواتین کی مخصوص سیٹوں کی سکروٹنی ،الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کا نام نکال دیا
    تحریک انصاف کو الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک اور بڑا دھچکا،خواتین کی مخصوص سیٹوں کی سکروٹنی کے لئے جاری فہرست میں سے تحریک انصاف کا نام نکال دیا گیا،الیکشن کمیشن نے فہرست جاری کی ہے جس میں امیدواروں کو سکروٹنی کے لئےطلب کیا گیا ہے، اس فہرست میں تحریک انصاف کا نام شامل نہیں ہے،الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری فہرست میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن، تحریک لبیک پاکستان، جماعت اسلامی، پاکستان مسلم لیگ ق، استحکام پاکستان پارٹی، پاکستان تحریک انصاف نظریاتی اور پاکستان مرکزی مسلم لیگ شامل ہیں،الیکشن کمیشن کیجانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ان جماعتوں کی خواتین کیلئے مخصوص نشستوں کی امیدواروں کی سکروٹنی 26 سے 28 دسمبر کے درمیان ہوگی۔

    نوازشریف ، مریم نواز سمیت ن لیگ کے تمام امیدوار نیب سکروٹنی میں کلیئر قرار
    الیکشن لڑنے والے امیدواروں کی نیب سکروٹنی،نوازشریف ، مریم نواز سمیت ن لیگ کے تمام امیدوار نیب سکروٹنی میں کلیئر قرار دے دیئے گئے،نیب کے الیکشن سیل نے تمام لیگی امیدواروں کو کلیئر کر دیا،نیب ہیڈ کوارٹر میں الیکشن کمیشن کی معاونت کیلئے خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب ہیڈ کوارٹر میں قائم سیل کی تمام بیورو معاونت کر رہےہیں، الیکشن کمیشن سے موصول دیگر امیدواروں کی فہرست کا جائزہ لیا جاتا ہے، پلی بارگین کرنے والے اور سزا یافتہ امیدوار الیکشن کے اہل نہیں ہوتے،پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے امیدواروں کی سکروٹنی بھی جاری ہے

    آصف زرداری، سلیم مانڈوی والا،عبدالقادر پٹیل،شازیہ مری،آسیہ اسحاق،ایاز صادق کے کاغذات منظور
    پیپلزپارٹی کی سحر کامران کے مخصوص نشست کے لئے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،پیپلزپارٹی کی امیدوار خیر النساء مغل کے کاغذات بھی منظور کرلئےگئے، اس موقع پر سحر کامران کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ پیپلز پارٹی کے اتنے امیدوار ضرور ہوں گے کہ مجھے قومی اسمبلی میں سیٹ مل جائے گی،میرے کاغذات منظور ہو گئے ہیں. این اے 232 سے ایم کیو ایم پاکستان رکن رابطہ کمیٹی آسیہ اسحاق کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں.سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے این اے 240 کی نشست پر کاغذات نامزدگی منظورہو گئے ہیں.سابق صدر آصف زرداری کے حلقہ این اے 207 سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،این اے 243 سے پی پی امیدوار عبدالقادر پٹیل کے فارم بھی منظور ہو گئے،سابق گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب کے این اے 16 ایبٹ آباد سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے جمع کرائے گئے کاغذات منظور کر لیے گئے،لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 121 سے ایم کیو ایم امیدوار عمران اشرف، جی ڈی اے رہنما شمائلہ رضا کے این اے 240 کراچی، این اے 248 کراچی سے پی پی امیدوار فیضان راوت کےکاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،پیپلز پارٹی کی شازیہ مری، تنزیلا لغاری اور سعدیہ جاوید کے خواتین کی مخصوص نشستوں پر کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے.سابق وزیراعظم پاکستان اور موجودہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور امیدوار برائے صوبائی اسمبلی خرم پرویز راجہ کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے

    تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی این اے 129 سے منظور ہو گئے،حماد اظہر کا کہنا ہے کہ آج دوپہر 1 بجے میرے کاغذات نامزدگی برائے حلقہ این اے 129 کی چانچ پرتال ہوئی جس کے بعد انھیں الحمدللہ منظور کر لیا گیا۔ میں تیسری دفعہ عاجزی کے ساتھ اپنے آپ کو اس حلقے کی عوام کے آگے احتساب کے لئے پیش کر رہا ہوں۔ اگلے 5 سال کا منشور لے کر عوام سے مینڈیٹ مانگوں گا۔

    حلقہ این اے 121 سے سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے کاغذات منظور
    لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 121 سے سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے کاغذات منظور کر لیے گئے ،سردار ایاز صادق کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل مسلم لیگ ن کے رہنما احسن شرافت نے مکمل کرایا،اس موقع پر احسن شرافت کا کہنا تھا کہ سردار ایا زصادق کی کاغذات کی جانچ پڑتال مکمل ہو گئی ہے.سردار ایاز صادق کے کاغذات درست قرار پائے ہیں تمام رپورٹس ساتھ لف تھیں، تجویز کنندہ اور تائید کنندہ بھی موجود تھے، کسی جماعت کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونی چاہیے ،ہم چاہتے ہیں کہ تمام جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملے، لاہور ہائی کورٹ پی ٹی آئی کو ریلیف دے رہی ہے،

    این اے 121 سے مسلم لیگ ن کے رہنما شیخ روحیل اصغر کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہو گیا، این اے 118 سے پی ٹی آئی کے رہنما محمد خان مدنی ،پاکستان مرکزی مسلم لیگ ملک اعجاز کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل ہو گئی،این اے 118، این اے 121، پی پی 155، 157، 162 کے امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال ریٹرنگ آفیسرز کے آفس میں جاری ہے،این اے 118 سے کل 19 امیدوار جن میں سترہ مرد اور دو خواتین امیدوار کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال شروع ہے،این اے 121 سے کل 38 امیدواروں میں 35 مرد اور تین خواتین امیداوراوں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے ،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 121 سے مسلم لیگ ن کے رہنماء شیخ روحیل اصغر،تحریک انصاف کے رضوان ضیا، سمیت دیگر کے کاغذات کی جانچ پڑتال مکمل ہو گئی ہے، این اے 118 سے پی ٹی آئی رہنماء محمد خان مدنی، وسیم قادر ،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ملک اعجاز سمیت دیگر امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال مکمل ہو گئی ہے،این اے 118 سے حمزہ شہباز اور این اے 121 سے سردار ایاز صادق دوپہر تین بجے کے بعد اپنے کاغذات کی جانچ پڑتال کروائیں گے ،پی پی 155 سے پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی بدر، مرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید ،مسلم لیگ ن کے حاجی اللہ رکھا سمیت دیگر امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال مکمل ہو گئی ہے،امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کا سلسلہ آج ساڑھے چار بجے تک جاری رہے گا

    سکروٹنی کے لئے امیدوار پہنچے تو الیکشن کمیشن کا دفتر بند،آگاہ نہیں کیا گیا،امیدوار
    پنجاب میں امیدواروں کی سکروٹنی کا عمل شروع نہ ہو سکا ،آج چھٹی ہونے کی وجہ سے امیدواران کے کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی کا عمل شروع نہیں ہوا ،صوبائی الیکشن کمیشن پنجاب نے امیدواران کے کاغذات نامزدگی کی تاریخ تبدیلی بارے آگاہ ہی نہیں کیا ،صوبائی و قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں کی امیدوار لاہور پہنچ گئیں ، صوبائی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں پر سکروٹنی کل 26 دسمبر سے شروع ہو گی،کل مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے کاغذات کی نامزدگی کی سکروٹنی ہو گی، امیدواروں کا کہنا ہے کہ صوبائی الیکشن کمیشن کی جانب سے تاریخ تبدیلی کی بروقت اطلاع نہیں ملی، سرد موسم میں کئی گھنٹے کی مسافت طے کر کے لاہور پہنچے،یہاں دفتر کے باہر پہنچے تو پولیس نے اندر جانے سے روک دیا،

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اور شیخ راشد شفیق آر او آفس پہنچ گئے شیخ رشید احمد اور شیخ راشد شفیق سکروٹنی کے لیے آر او آفس راولپنڈی پہنچے این اے 56 سے سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھےسکروٹنی کا عمل 25 دسمبر سے 30 دسمبر تک جاری رہے گا.

    کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑ تال کی آسانی کے لیے آن لائن سہولت مرکز الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ میں قائم
    عام انتخابات میں حصہ لینے تمام امیدوار پولیس، نادرا، نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، سٹیٹ بینک، پاور ڈویژن، پیٹرولیم ڈویژن، نیشنل کمیونیکیشن ڈویژن، ہاؤسنگ ڈویژن، چاروں چیف سیکریٹریز، سی ڈی اے کی سکریننگ سے گزریں گے اور تمام مراحل پار کرنے والا سکروٹنی پاس کرے گا،ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ریٹرننگ افسران کے لیے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑ تال کی آسانی کے لیے آن لائن سہولت مرکز الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ میں قائم کیا گیا ہے۔اِس سہولت مرکز کی معاونت نادرا،قومی احتساب بیورو، ایف آئی اے، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کر رہے ہیں، یہ مرکز 24/7 کام کر رہا ہے۔ ریٹرننگ افسران کی جانب سے موصول شدہ امیدواران کے کوائف ضروری کاروائی کے لیے ان اداروں کو بھجوائے جا رہے ہیں۔الیکشن کمیشن نے سیکریٹری پاور ڈویژن ، سیکریٹری پٹرولیم ڈویژن، سیکریٹری نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن، سیکریٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن ، چاروں چیف سیکریٹریز اور چیئرمین سی ڈی اے کو بھی تحریری طور پر مطلع کیا ہےکہ وہ ریٹرننگ افسران سے امیدواران کی فہرستیں حاصل کریں۔ امیدواروں کی فہرست کا اجراء 24 دسمبر 2023 کو کیا جا چکا ھے ۔نادہندہ امیدواران کاغذاتِ نامزدگی کی چانچ پڑتال کے دوران مورخہ 25 تا 30 دسمبر 2023 تک متعلقہ ریٹرننگ آفیسر سے رجوع کریں ۔ نادہندگان سے واجبات کی وصولی یقینی بنائی جائے۔ حکومت کے تمام وفاقی ، صوبائی ادارے فوری ریٹرننگ افسران سے رابطہ کریں۔

    مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی میں اقلیتی نشستوں کی ترجیحی فہرست بھی جاری کردی
    پاکستان مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی میں اقلیتی نشستوں کی ترجیحی فہرست بھی جاری کردی،پاکستان مسلم لیگ ن نے مختلف اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے 10 ممبران کی ترجیحی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کروا دی،سابق رکن قومی اسمبلی کھئیل داس کوہستانی کا نام پہلے نمبر پر سر فہرست ہے،کھئیل داس کوہستانی پہلے بھی مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں ،ڈاکٹر درشن لال، ڈاکٹر نیلسن عظیم اور اسفندیار بھنڈارا بھی فہرست میں شامل ہیں،عمر کوٹ سندھ سے نیلم، ڈاکٹر طارق جاوید، سردار درشن سنگھ بھی ترجیحی فہرست میں شامل ہیں،جگدیش چند، عامر جاوید اور انیتا عرفان بھی فہرست میں شامل ہیں،قائد مسلم لیگ ن نواز شریف، صدر شہباز شریف اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے فہرست کی منظوری دی.

    امیدواروں کے لئے بینرز،اشتہارات چھاپنے کے لئے ہدایت نامہ جاری
    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے لیے بینرز چھاپنے کی ہدایات جاری کردیں۔الیکشن کمیشن کے ہدایت نامے کے مطابق مقررہ سائز سے بڑے پوسٹرز، پمفلٹ یا بینرز کی اجازت نہیں ہوگی۔پوسٹرز کی لمبائی 18 انچ اور چوڑائی 23 انچ سے زیادہ نہ ہو، ہینڈ بل، پمفلٹ اور کتابچے 9 انچ لمبے اور 6 انچ چوڑے ہوسکتے ہیں۔اسی طرح بینر 3 فٹ لمبا اور 9 فٹ سے زیادہ بڑا نہیں ہونا چاہیے جبکہ پورٹریٹ تصویر 2 فٹ لمبی اور 3 فٹ چوڑی ہوسکتی ہے۔ ہر اشتہاری مواد پر پبلشر کا نام اور پتا لکھنا لازم ہے جبکہ قرآنی آیات سمیت مذہبی مواد کی طباعت غیر قانونی ہے۔اسی طرح ہورڈنگز، بل بورڈز، وال چاکنگ اور پینافلیکس پر مکمل پابندی ہوگی۔انتخابی مہم میں سرکاری اہلکار کی تصویر لگانا غیر قانونی ہوگا، جبکہ خلاف ورزی پر امیدواروں کے ساتھ پبلشر کے خلاف بھی کارروائی ہوگی

    کراچی میں قومی ،صوبائی اسمبلی اور مخصوص نشستوں پر 3 ہزار 365 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں،کراچی میں قومی اسمبلی کی 22 نشستوں کے لیے 808 امیدوار میدان میں ہیں،صوبائی اسمبلی کی 47 نشستوں پر 2005 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔خواتین اور اقلیت کی مخصوص نشستوں پر 552 امیدوار نے کاغذات جمع کرائے ۔ضلع شرقی میں قومی اسمبلی پر 180 اور صوبائی اسمبلی پر 448 امیدوار شامل ہیں،ضلع کیماڑی میں قومی اسمبلی پر 70 اور صوبائی اسمبلی پر 221 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے،ضلع وسطی میں قومی اسمبلی پر 146 اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر 356 امیدوار شامل ہیں،ضلع ملیر میں قومی اسمبلی پر 96 اور صوبائی اسمبلی پر 246 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے،ضلع جنوبی میں قومی اسمبلی پر 119 اور صوبائی اسمبلی پر 238 امیدوار میدان میں ہیں،ضلع غربی میں قومی اسمبلی پر 92 اور صوبائی اسمبلی پر 276 امیدوار شامل ہیں،ضلع کورنگی میں قومی اسمبلی پر 105اور صوبائی اسمبلی پر 220 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں

    مریم نواز 5 حلقوں ، جہانگیر ترین 3، مصطفیٰ کمال 2، پرویز الہی 2،بانی پی ٹی آئی 2 حلقوں سے الیکشن لڑیں گے ۔
    لاہور سے قومی اسمبلی کے چودہ حلقوں پر 400 سے زائد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں، صوبائی اسمبلی کی 30 نشستوں پر 400 سے زائد امیدوار قسمت آزمائیں گے۔ این اے 123 سے نوازشریف کے کاغذات جمع کرائے گئے ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان لاہور سے بھی الیکشن لڑیں گے، این اے 122 سے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے، مریم نواز کے این اے 119 اور این اے 120 لاہور میں کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے گئے ہیں۔بلاول بھٹو این اے 128 لاہور سے الیکشن میں حصہ لیں گے، این اے 242 کراچی میں شہبازشریف کے کاغذات جمع ہوچکے ہیں، محمود خان سوات میں 4 حلقوں سے الیکشن لڑیں گے۔ نواز شریف این اے 15 مانسہرہ سے انتخابات میں حصہ لیں گے، بانی پی ٹی آئی کے میانوالی کی نشست این اے 89 سے کاغذات جمع کرا دیئے گئے۔شہباز شریف نے قصور کے حلقہ این اے 132 سے بھی کاغذات جمع کرادیئے،

    مسلم لیگ ق کے چودھری سالک حسین نے این اے 64 سے کاغذات جمع کرائے۔آصف زرداری این اے 207 نواب شاہ سے الیکشن لڑیں گے، پرویز خٹک نے این اے 33 نوشہرہ اور 2 صوبائی نشستوں سے کاغذات جمع کرادیئے، سراج الحق این اے 7 لوئر دیر سے قسمت آزمائیں گے۔مصطفیٰ کمال نے این اے 242 اور این اے 247 کراچی سے کاغذات جمع کرا دیئے، عطا اللہ تارڑ نے پی پی 35 کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے، نواز شریف نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، خرم دستگیر خان نے این اے 78 گوجرانوالہ کی نشست کے لیے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ ڈاکٹریاسمین راشد نے بھی این اے 130 سے اپنے کاغذات جمع کرائے جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے اقبال احمد خان، جماعت اسلامی کی جانب سے صوفی خلیق اور احمد بٹ اور جے یو آئی کی طرف سے مولانا سلیم اللہ قادری نے کا غذات نامزدگی جمع کرائے۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے این اے 194 لاڑکانہ سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

    این اے 117 سے پیپلز پارٹی کے آصف ہاشمی، ن لیگ کے ملک ریاض اور آئی پی پی کے علیم خان نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے، این اے 118 سے ن لیگ کے حمزہ شہباز، پی ٹی آئی کے محمد خان مدنی اور غلام محی الدین نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے۔این اے 119 سے مریم نواز، علیم خان سمیت دیگر نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، این اے 120 سے مریم نواز، خواجہ سعد رفیق، ایاز صادق، عطاء تارڑ نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، این اے122 سے بانی پی ٹی آئی، لطیف کھوسہ، اظہر صدیق نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔این اے 123 سے شہبازشریف، پی ٹی آئی کے افضال پاہٹ، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ سمیت دیگر نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے، این اے 124 سے آئی پی پی کے عون چودھری، رانا ضمیر جھیڈو سمیت دیگر نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے۔این اے 125 سے ن لیگ کے افضل کھوکھر، سابق وفاقی وزیر عبدالغفور سمیت دیگر نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے، این اے 126 سے جماعت اسلامی کے امیرالعظیم، سیف الملوک، کرامت کھوکھر سمیت دیگر نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے، این اے 127 سے بلاول بھٹو، شائستہ پرویز ملک، لطیف کھوسہ سمیت دیگر نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے۔این اے 128 سے سلمان اکرم راجہ، شفقت محمود، حافظ نعمان سمیت دیگر نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، این اے 129 سے حماد اظہر، مہر اشتیاق، بجاش نیازی سمیت دیگر نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے، این اے 130 سے نواز شریف، یاسمین راشد، اقبال خان سمیت دیگر نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے.

    وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی ، انکے بیٹے زین قریشی اور بیٹی مہربانو قریشی نے این اے 150 ملتان سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے جبکہ این اے 180 کوٹ ادو سے سابق وزیر خارجہ حناربانی کھر نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے۔ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بھی کراچی سے این اے 249 کی نشست پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں،تحریک انصاف نظریاتی کے مرکزی چیئر مین اختر اقبال ڈار نے شیخوپورہ این اے 115اور صوبائی اسمبلی پی پی 141میں کاغذات نامزدگی جمع کر وا دیئے۔ گوجرانوالہ سے قومی اسمبلی کے 5 حلقوں میں 159 کاغذات نامزدگی موصول ہوئے جبکہ صوبائی اسمبلی کے 12حلقوں سے 426 کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے نامزد امیدوار پی پی 141چوہدری طارق محمود گجر نے کاغذات نامزدگی جمع کروادیئے۔ استحکام پاکستان پارٹی نے قومی اسمبلی کی 18 اور پنجاب اسمبلی کی 40 نشستوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔ علیم خان نے لاہور کے حلقوں این ے 117، این اے 119 جبکہ عامر کیانی نے این اے 47 اسلام آباد سے کاغذات جمع کروا دیے۔غلام سرور خان نے راولپنڈی کے حلقوں این اے 53اور 54 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے، فردوس عاش اعوان نے این اے 70 سیالکوٹ اور ہمایوں اختر نے این اے 97 فیصل آباد سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔سابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار نے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 284سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے،گلوکارہ چاہت فتح علی خان بھی سیاسی میدان میں اترنے کو تیار ہیں،چاہت فتح علی خان نے لاہور کے حلقہ این اے 128 سے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے ،کاشف رانا عرف چاہت فتح علی نے وکیل کے ذریعے کاغذات نامزدگی جمع کروائے

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • حلقہ بندیوں پر اعتراضات ،الیکشن کمیشن کا  عام انتخابات کے بعد سماعت کا فیصلہ

    حلقہ بندیوں پر اعتراضات ،الیکشن کمیشن کا عام انتخابات کے بعد سماعت کا فیصلہ

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں پر اعتراضات پر عام انتخابات کے بعد سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے حالیہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا، جس کے مطابق حلقہ بندیوں پر اعتراضات عام انتخابات کے نتائج مرتب کرنے کے بعد سننے کا فیصلہ کیا گیا ہے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات عام انتخابات کے نتائج مرتب کرنے کے بعد سنیں جائیں گے۔

    الیکشن کمیشن کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے مطابق سپریم کورٹ نے شیڈول اجراء کے بعد حلقہ بندیوں پر اعتراضات کو سننا انتخابی پروگرام کو متاثر کرنے کے مساوی قرار دیا ہے۔

    ٹھٹھہ: عام انتخابات 2024ء کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عمل جاری

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن سمیت مختلف جماعتوں نے الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں پر اعتراض کیا تھا کیونکہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے آئندہ برس فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں تاخیر سے منع کرتے کہا تھا کہ انتخابی شیڈول جاری ہونےکے بعد حلقہ بندیوں پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے 8 فروری 2024 کو ملک بھر میں عام انتخابات کرانےکا اعلان کر رکھا ہے جس کا شیڈول بھی جاری کر دیا گیا ہے اور اب کاغذات نامزدگی وصول کیے جارہے ہیں۔

    عوام چار سال میں مہنگائی کا ظلم ڈھانے والوں کا سیاسی طور پر صفایا کردیں …