Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • انتہائی حساس اور حساس پولنگ اسٹیشنز کی درجہ بندی مکمل

    انتہائی حساس اور حساس پولنگ اسٹیشنز کی درجہ بندی مکمل

    اسلام آباد: ملک بھر میں انتہائی حساس اور حساس پولنگ اسٹیشنز کی درجہ بندی مکمل کرلی گئی۔

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں قائم پولنگ اسٹیشنز کی درجہ بندی مکمل کرتے ہوئے اے، بی اور سی کیٹنگری میں تقسیم کر دیا ہے جس کے تحت ساڑھے 92 ہز ار پولنگ اسٹیشنز میں سے ساڑھے 42 ہز ار پولنگ اسٹیشن کو نارمل، 32 ہزار 508 پولنگ اسٹیشنز کو حساس اور ساڑھے 17 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے پنجاب کے 15 ہز ار 829 پولنگ اسٹیشنز کو حساس، سندھ میں 8 ہز ار30، بلوچستان میں 2 ہزار 68 جبکہ خیبر پختونخوا میں ساڑھے 6 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز حساس کیٹگری میں رکھے گئے ہیں۔

    ای سی پی کا انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا فیصلہ

    ملک بھر میں 17 ہزار 500 سے زائد انتہائی حساس پولنگ اسٹینشز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز کے تمام بوتھوں پر کیمرے نصب ہوں گے سی سی ٹی وی کیمروں سے پولنگ اسٹیشنز پرانتخابی عمل، گنتی اور نتائج کی تیاری کی مانیٹرنگ ہوگی۔

    پنجاب کے 6 ہز ار 599 ، سندھ کے 4 ہزار 430 پولنگ اسٹینشزکی کیمروں سے مانیٹرنگ ہوگی بلوچستان کے 2 ہزار 38، خیبرپختونخوا کے 4 ہز ار 344 پولنگ اسٹیشنز پر انتخابی سرگرمی کی کیمرے سے نگرانی ہوگی۔

    حماس اور اسلامی جہاد نےمستقل جنگ بندی کیلئے مصر کی تجویز مسترد کر دی

  • لیول پلئنگ فیلڈ کے احکامات پر عمل نہیں ہو رہا،تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    لیول پلئنگ فیلڈ کے احکامات پر عمل نہیں ہو رہا،تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکردی

    تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے

    گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں، شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں، انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہییں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

  • کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا دوسرا روز، الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیمیں متحرک

    کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا دوسرا روز، الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیمیں متحرک

    عام انتخابات2024 کیلئے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے،

    کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل 30 دسمبر تک مکمل ہوگا،8 فرور ی کو عام انتخابات ہوں گے،قومی اور صوبائی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں پر آج مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں کی سکروٹنی کا عمل جاری ہے،پورے ملک میں الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیمیں متحرک ہو گئی ہیں،امیدواران کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلام آباد میں تشہیری ہورڈنگز لگائے گئے ہیں،اسلام آباد میں مانیٹرنگ ٹیموں نے امیدواران کا تشہیری مواد ہٹانا شروع کر دیا، تمام اضلاع میں الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیمیں فعال ہو گئی ہیں.

    کراچی سے انتخابات لڑنے والے پارٹی سربراہ کم ہوگئے،2018 میں کئی جماعتوں کے سربراہوں نے کراچی سے الیکشن لڑا تھا،عمران خان، بلال بھٹو، شہباز شریف، خالد مقبول کراچی سے امیدوار تھے،مصطفی کمال نے پی ایس پی کے سربراہ کے طور پر الیکشن لڑا تھا،بانی چئیرمین پی ٹی آئی اور بلاول بھٹو اس بار کراچی کے انتخابی میدان سے باہر ہیں،شہباز شریف اور خالد مقبول اس بار بھی کراچی سے الیکشن لڑ رہے ہیں،مصطفی کمال اپنی جماعت، ایم کیو ایم میں ضم کرچکے ہیں

    ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کی زیر صدارت اسلام آباد میں الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس میں فیڈرل ڈائریکٹوریٹ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، قائد اعظم یونیورسٹی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، ڈی آر او کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نمائندگان کی الیکشن ڈیوٹیز کی ٹریننگ کا آغاز تیس دسمبر سے کیا جارہا ہے، الیکشن ڈیوٹیز ٹریننگ لسٹ میں شامل اہلکاروں کی حاضری کو یقینی بنایا جائے،اسلام آباد میں افسران کی ٹریننگ کے لیے دو مختلف جی سکس اور جی سیون میں دو سکولوں کے سینٹرز بنائے گئے ہیں

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے این اے 194 لاڑکانہ سے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے،ترجمان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلا غیر قانونی ہے عدالت میں چیلنج کریں گے،

    زرتاج گل کے کاغذات نامزدگی مسترد
    تحریک انصاف کی رہنما، سابق وفاقی وزیر زرتاج گل کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے ہیں، تحریک انصاف کے مطابق زرتاج گل کے تائید اور تجویز کنندہ کو اغوا کر لیا گیا ہے، تائید اور تجویز کنندہ کے ریٹرننگ آفس میں کاغذات کی جانچ پڑتال پر نہ پہنچنے پر کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں۔ اِس معاملے میں کورٹ سے رجوع کیا جائیگا۔زرتاج گل کے وکیل کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے،

    این اے 130 لاہور، نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور
    سابق وزیراعظم نواز شریف کے این اے 130 لاہور سے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں، ن لیگی رہنما بلال یاسین پیش ہوئے تھے،بلال یاسین کا کہنا تھا کہ این اے 130 لاہور سے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی پر کوئی اعتراض نہیں آیا اور وہ منظورہو گئے ہیں،الیکشن میں آٹھ فروری کو نواز شریف اس حلقے سے کامیاب ہو کر وزارت عظمیٰ کے چوتھے بار امیدوار بنیں گے.

    پیپلز پارٹی نے کے پی میں پہلی بار ہندو خاتون کو جاری کیا ٹکٹ
    پیپلزپارٹی نے بونیر سےہندو اقلیت کی رکن ڈاکٹر سویرا پرکاش کو جنرل سیٹ کے لیے ٹکٹ جاری کیا ہے، خیبر پختونخواہ کے ضلع بونیر میں پہلی ہندو خاتون امیدوار نے پی کے 25 بونیر سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں،ر ڈاکٹر سویرا پرکاش نے پاکستان پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے عام انتخابات 2024 میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ، خاتون امیدوار ڈاکٹر سویرا پرکاش کے والد ڈاکٹر اوم پرکاش گزشتہ 35 برسوں سے پیپلزپارٹی سے وابستہ ہیں

    sawera

    قومی اسمبلی کی مخصوص نشست پرمریم اورنگزیب، حنا ربانی کھر سمیت لیگی رہنما شائستہ پرویز جب کہ صوبائی مخصوص نشستوں پرعظمی بخاری،حنا پرویز بٹ اور ذکیہ شاہنواز کے کاغذات منظور کرلیے گئے ہیں، پیپلز پارٹی کے نثار کھوڑو، روبینہ قائم خانی، سعید غنی، تنزیلہ قمبرانی، جمیل سومرو، ٹی ایل پی کی ثروت فاطمہ، ایم کیو ایم کی افشاں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے

    لیاقت بلوچ، لطیف کھوسہ، ناصر بٹ ،مریم اورنگزیب کے کاغذات منظور
    این اے 128 اور این اے 123 سے لیاقت بلوچ کے کاغذات منظور کر لئے گئے ہیں، راشد شفیق کے پی پی 19 سے کاغذات منظور کیے گئے ہیں،تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ کے این اے 127 سے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے،مسلم لیگ ن کے رہنما ناصر بٹ کی کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،ناصر بٹ نے این اے 56 اور پی پی 16 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے،

    جمشید دستی کی حفاظتی ضمانت منظور
    تحریک انصاف کے روپوش رہنما ،سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی منظر عام پر آگئے ،جمشید دستی مظفر گڑھ پولیس کو تھانہ صدر میں قائم ایک مقدمہ میں مطلوب ہیں جمشید دستی نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور پیش ہو گئے، لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نےجمشید دستی کی 2 دن کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی، جمشید دستی اپنے وکیل کے ہمراہ حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں پیش ہوئے، جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے جمشید دستی کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    آصف زرداری، سلیم مانڈوی والا،عبدالقادر پٹیل،شازیہ مری،آسیہ اسحاق،ایاز صادق کے کاغذات منظور
    پیپلزپارٹی کی سحر کامران کے مخصوص نشست کے لئے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،پیپلزپارٹی کی امیدوار خیر النساء مغل کے کاغذات بھی منظور کرلئےگئے، اس موقع پر سحر کامران کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ پیپلز پارٹی کے اتنے امیدوار ضرور ہوں گے کہ مجھے قومی اسمبلی میں سیٹ مل جائے گی،میرے کاغذات منظور ہو گئے ہیں. این اے 232 سے ایم کیو ایم پاکستان رکن رابطہ کمیٹی آسیہ اسحاق کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں.سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے این اے 240 کی نشست پر کاغذات نامزدگی منظورہو گئے ہیں.سابق صدر آصف زرداری کے حلقہ این اے 207 سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،این اے 243 سے پی پی امیدوار عبدالقادر پٹیل کے فارم بھی منظور ہو گئے،سابق گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب کے این اے 16 ایبٹ آباد سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے جمع کرائے گئے کاغذات منظور کر لیے گئے،لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 121 سے ایم کیو ایم امیدوار عمران اشرف، جی ڈی اے رہنما شمائلہ رضا کے این اے 240 کراچی، این اے 248 کراچی سے پی پی امیدوار فیضان راوت کےکاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،پیپلز پارٹی کی شازیہ مری، تنزیلا لغاری اور سعدیہ جاوید کے خواتین کی مخصوص نشستوں پر کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے.سابق وزیراعظم پاکستان اور موجودہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور امیدوار برائے صوبائی اسمبلی خرم پرویز راجہ کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہونے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم اور پارٹی نشان واپس لینے کے فیصلے کو عبوری معطل کردیا،عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا،عدالت نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ ہونے تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل ہوگا،پشاور ہائی کورٹ نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ چھٹیوں کے ختم ہونے کے بعد پہلے ڈبل بینچ میں کیس سنا جائے۔

    وکیل تحریک انصاف بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 2 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کو تسلیم کیا، الیکشن کے انعقاد میں کوئی بے ضابطگی کا نہیں کہا، الیکشن کمیشن نے انتخابات کو درست جبکہ اس کے انعقاد کرنے والے پر اعتراض کیا، الیکشن کمیشن نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی سے انتخابی نشان لیا، اب ہم الیکشن میں بطور پارٹی حصہ نہیں لے سکتے،مخصوص نشستیں بھی سیاسی جماعت کو بغیر انتخابی نشان نہیں مل سکتیں، سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کردیا گیا، انتخابی نشان سیاسی پارٹی کی پہچان ہوتی ہے، اسکے بہت سنجیدہ ایشو ہوں گے،انتخابی نشان کے بغیر امیدوار میدان میں نہیں اُترسکتے، ریزرو سیٹ بھی اقلیتی امیدوار کو نہیں مل سکتی ،جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کیلیے جنرل سیکرٹری کے کمیشن بنانے پر اعتراض کیا؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو صحیح جبکہ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کیجانب سے کمیشن کی تقرری پر اعتراض کیا ، علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کو سوالیہ نشان بنانے کا اختیار نہیں ،الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ،پولیٹکل پارٹیز ایکٹ اور الیکشن ایکٹ واضح ہے اور ان میں اختیارات کا تعین ہے ،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ میں نے فیصلہ نہیں پڑھا، کیا صرف یہی لکھا ہے کہ الیکشن کرانے والے کی تعیناتی غلط ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بالکل الیکشن کمیشن نے یہی لکھا ہے، الیکشن کمیشن پارٹی میں تعیناتیوں پر سوال نہیں اٹھا سکتا، الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم نہیں کرسکتا، اگر الیکشن کمیشن کو یہ اختیارات دیئے گئے تو آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہوگی۔الیکشن کمیشن کے پاس کسی بھی سیاسی پارٹی کے عہدیدار کی تقرری ، انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ، الیکشن کمیشن کے پاس کورٹ کی طرح اختیارات نہیں ہیں ، الیکشن کے حوالے سے معاملات سول کورٹ باقاعدہ ٹرائل کے بعد طے کرتا ہے، 8 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جنہوں نے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض نہیں کیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر سیکرٹری جنرل مستعفی ہوجائے تو کیا ہوگا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عہدے سنبھالا لیتا ہےاس وقت عمر ایوب تھے،جسٹس کامران حیات نے کہا کہ کیا اسد عمر نے استعفیٰ دیا اور وہ منظور ہوا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی بالکل ، جنوری میں اسد عمر گرفتار ہوئے اور جب واپس آئے تو استعفیٰ دیا، اسد عمر کے بعد عمر ایوب جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواستگزار کون ہیں ؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواست عام شہریوں کے طور پر دی گئی ،کسی بھی سیاسی پارٹی کو صرف سپریم کورٹ نکال سکتی ہے الیکشن کمیشن کمیشن نہیں، جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ آپ کی پارٹی کے آئین و رولز میں انٹرا پارٹی انتخابات کا کیا طریقہ کار ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پارٹی چیئرمین کا انتخاب خفیہ بیلٹ پر ہوگا، رجسٹرڈ ووٹرز ہی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں ، ، انٹرا پارٹی انتخابات رولز ہم نے بنائے ہیں ہم ہی اپ ڈیٹ کرینگے،الیکشن کمیشن ڈائریکشن نہیں دے سکتا، جسٹس کامران حیات نے کہا کہ الیکشن کمیشن یہ کہ رہی ہے کہ آئین کے مطابق الیکشن نہیں ہوا،آپ یہ کہنا جاتے ہیں کہ اگر الیکشن نہیں کروائیں گے تو پھر پارٹی جرمانہ ہوگا، علی ظفر نے کہا کہ یہاں تو اس سے بڑا فیصلہ ہوا ہے اور پارٹی کو الیکشن سے ہی باہر نکال دیا،ایک طرف ہمیں کہا جاتا ہے کہ 20دن میں انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں دوسری جانب اعتراض کررہے ہیں ، انٹرا پارٹی کے خلاف 14بندوں نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی ایک بھی پارٹی ممبر نہیں تھا، الیکشن کمیشن کو بتایا کہ درخواستگزار پی ٹی آئی ممبر شپ کو کوئی ثبوت دیں ، اگر انتخابی نشان نہیں ملا تو ہمیں اقلیتی اور خواتین کی مخصوص نشستیں نہیں ملے گی، 30دسمبر اسکروٹنی کا آخری دن ہے ہمیں نشان الاٹ کیا جائے،

    جسٹس کامران حیات نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ آج نہیں کرسکتے، کیونکہ یہ ڈویژنل بینچ کا کیس ہے،پی ٹی آئی کی آج ہی درخواست پر فیصلہ کرنے کی استدعا پشاور ہائیکورٹ نے مسترد کر دی،انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کچھ دیر کا وقفہ کر دیا گیا، بیرسٹر علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے، عدالت نے کہا کہ سرکاری وکلاء کو وقفے کے بعد سنتے ہیں.

    دوبارہ سماعت ہوئی جسٹس کامران حیات میاں خیل نے وکیل الیکشن کمیشن سے کہاکہ آپ ادھر ادھر جاتے ہیں جو سوال کیا ہے اس پر آ جائیں،وکیل نے کہاکہ پارٹی کو نشان تب الاٹ ہوتا ہے جب وہ الیکشن کرائے اور سرٹیفکیٹ جمع کرائے،جسٹس کامران نے کہاکہ الیکشن شیڈول جاری ہو گیا ہے اب تو نشان نہیں روک سکتے،الیکشن شیڈول جاری ہو گیاہے نشان دینا ہوگا،

    قبل ازیں تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کوپشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، درخواست میں پی ٹی آئی کے وکلاء نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے استدعا کی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی انتخابات کرانے کے طریقے پر فیصلے کا اختیار نہیں، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے پارٹی ممبر ہی نہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان بلا بھی واپس لے لیا ہے،تحریکِ انصاف نے اپنی درخواست میں الیکشن اور انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے درخواست گزاروں کو بھی فریق بنایا ہے،عدالت سے سینئر ججز پر مشتمل بینچ بنانے اور درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے،

    پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ، بیرسٹر علی ظفر
    پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کا بلے کا نشان بحال کردیا ہے، عدالت نے حکومتی وکیل سے پوچھا کہ الیکشن کمیشن نے کس شق کے تحت فیصلہ کیا؟ یقین ہے ہر فیصلہ قانون کے مطابق ہوتا ہے، التجا کرتا ہوں کہ آئین و قانون پر یقین رکھیں،پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ہے عدالت نے الیکشن کمیشن کے بلے چھیننے کے آرڈر کو معطل کردیا ہے اور کہا کہ بلے کا نشان واپس کیا جائے،

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا تھا اور بلا ہی رہے گا،بانی پی ٹی آئی چیئرمین تھے اور رہیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں سپریم کورٹ بھی توہین عدالت کا کیس دائر کرنے جا رہے ہیں، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن میں جو بھی رکاوٹ ڈالے گا، اس کے خلاف توہینِ عدالت کا مقدمہ ہو گا، پنجاب میں پی ٹی آئی کے ساتھ پری پول ریگنگ ہو رہی ہے، امیدواروں سے کاغذاتِ نامزدگی تک چھینے گئے

    قبل ازیں تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر شیر افضل مروت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلا پی ٹی آئی کا نشان تھا اور رہے گا،پرویز خٹک کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے، بیٹ کا نشان صرف الیکشن کمیشن ہی آفر کر سکتا ہے،بیٹ کا نشان آفر کرنے کی ضرورت کیوں تھی؟ پرویز خٹک نے تو تحریک انصاف کے مقابلے میں اپنی پارٹی بنائی ہے، پرویز خٹک کے بیان سے ان کے اور الیکشن کمیشن کے تانے بانے ملتے ہیں،بانی پی ٹی آئی نے این اے 32 پشاور سے الیکشن کے لیے مجھے نامزد کیا تھا، اپنے حلقے لکی مروت سے بھی قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کرائے ہیں، الیکشن کہاں سے لڑنا ہے یہ فیصلہ پارٹی کرے گی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہ کرانے پر بلے کا نشان واپس لے لیا تھا،عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں ، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ ان کو بلے کا نشان واپس مل جائے، بلے کا نشان واپس نہ ملنے کی صورت میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد الیکشن لڑنا پڑے گا.ایسے میں سب امیدواروں کے انتخابی نشان مختلف ہوں گے.ہم عوام پاکستان پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن سے بلے کا نشان مانگ رکھا ہے ، وہیں ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو بلے کی بجائے گھڑی کا انتخابی نشان دیا جائے تا کہ سب کو پتہ چلے کہ یہ گھڑی چور ہیں

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • ای سی پی کا  انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا فیصلہ

    ای سی پی کا انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ملک بھر میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا فیصلہ کیا ہے

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن کے جاری کردہ مراسلے کے مطابق الیکشن کمیشن نے سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کے لیے چاروں چیف سیکرٹریز کو احکامات بھجوا دئیے ہیں،ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران (ڈی آر اوز) کی کی جانب سے قرار دئیے گئے انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر خفیہ کیمرے لگائے جائیں۔

    مراسلے میں مزید بتایا گیا کہ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز کے تمام بوتھوں پر کیمرے نصب ہوں گے، سی سی ٹی وی کیمروں سے انتخابی عمل، گنتی اور نتائج کی تیاری کی مانیٹرنگ ہوگی الیکشن کمیشن نے سی سی ٹی وی کیمروں سے متعلق ایس او پیز بھجوا دئیے ہیں۔

    کسی کو بھی انتخابی نشان بلے کی پیشکش نہیں کی گئی، الیکشن کمیشن

    کاغذات نامزدگی کی مد میں وصول ہونے والی فیس کی تفصیلات جاری

    فلسطینی میرے ڈراؤنے خوابوں میں آتے ہیں اور پوچھتے ہیں تم نے ہمیں کیوں …

  • کاغذات نامزدگی کی مد میں وصول ہونے والی فیس کی تفصیلات جاری

    کاغذات نامزدگی کی مد میں وصول ہونے والی فیس کی تفصیلات جاری

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کاغذات نامزدگی کی تفصیلات اور اس کی مد میں وصول ہونے والی فیس کی تفصیلات جاری کردی گئیں ۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کو عام انتخابات 2024 کے کاغذات نامزدگی کی مد میں 65 کروڑ 54 لاکھ روپے سے زائد فیس موصول ہوئی ہے، اس میں سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر 8312 کاغذات نامزدگی کی فیس کی مد میں 24 کڑور 93 لاکھ 90 ہزار روپے موصول ہوئی۔

    اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے لئے 7713 کاغذات نامزدگی کی فیس کی مد میں 23 کڑور 13 لاکھ 90 ہزار روپے، خواتین کی مخصوص نشستوں کے لئے 459 کاغذات نامزدگی کی فیس کی مد میں 1 کڑور 37 لاکھ 70 ہزار روپے موصول ہوئے۔

    کسی کو بھی انتخابی نشان بلے کی پیشکش نہیں کی گئی، الیکشن کمیشن

    قومی اسمبلی کی اقلیتوں کی نشستوں کے لئے 140 کاغذات نامزدگی کی فیس کی مد میں 45 لاکھ روپےموصول ہوئے اسی طرح صوبائی اسمبلی کی نشستوں کےلئے 20304 کاغذات نامزدگی کی فیس کی مد میں 40 کڑور 60 لاکھ 80 ہزار روپے الیکشن کمیشن کوموصول ہوئے۔

    اعلامیے کے مطابق صوبائی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے لئے 18546 کاغذات نامزدگی کی فیس کی مد میں 37 کڑور 9 لاکھ 20 ہزار روپے موصول ہوئےصوبائی اسمبلی میں خواتین کیلئے مخصوص نشستوں کے 1365 کاغذات نامزدگی کی فیس کی مد میں 2 کڑور 73 لاکھ روپے، اقلیتوں کی نشستوں پر 393 کاغزات نامزدگی کی فیس کی مد میں 78 لاکھ 60 ہزار روپے موصول ہوئے۔

    ڑکوں کے مقابلے میں نوجوان لڑکیاں ایڈز کا زیادہ شکار ہوتی ہیں،رپورٹ

    دوسری جانب 2018 کے عام انتخابات کے مقابلے میں 2024 کے الیکشن میں 33 فیصد زیادہ امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں اگلے سال کے شروعات میں ہونے والے عام انتخابات کیلیے مجموعی طورپرمختص جنرل 859 سیٹوں کیلیے ریکارڈ 28686 امیدواران نے اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں۔

    2018 کے انتخابات میں 21425 امیدواران نے اپنے کاغذات جمع کرائے تھے، جبکہ 2013 کے عام انتخابات میں 27998 امیدواروں نے اپنے پیپرز جمع کرائے تھے۔

    الیکشن کمیشن سے حاصل تفصیلات کے مطابق 7713 امیدواروں نے قومی اسمبلی کی 266 جنرل سیٹوں کیلئےکاغذات جمع کرائے ہیں دلچسپ طورپہلی بار 471 خواتین نے قومی اسمبلی کی جنرل سیٹوں کیلئے اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں 802 خواتین نے صوبائی اسمبلیوں کی 593 جنرل سیٹوں کیلیے اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں مجموعی طور پر صوبائی سیٹوں پر 18546 امیدواران نے صوبائی اسمبلیوں کی تمام جنرل سیٹوں کیلیے پیپر جمع کرائے ہیں 459 خواتین نے قومی اسمبلی کی خواتین کیلیے مخصوص 60 سیٹوں کیلیے اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں۔

    جماعت اسلامی کے سابق ایم پی اے جے یو آئی میں شامل

    صوبائی اسمبلیوں کی 132 مخصوص نشستوں کیلیے 1365 خواتین نے اپنی درخواستیں جمع کرائی ہیں قومی اسمبلی کی دس اقلیتوں کیلیے مخصوص سیٹوں کیلیے 150 امیدواروں نے اپنی درخواستیں الیکشن کمیشن کے ساتھ جمع کرائی ہیں صوبائی اسمبلیوں کی غیرمسلموں کی 24 مخصوص نشتوں کیلیے 392 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں صوبائی اور قومی اسمبلوں کی 859 جنرل سیٹوں کیلیے انتخابات 2024 الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کی حمایت یافتہ 2434 امیدواروں نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی 859 جنرل سیٹوں پر اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

    اس طرح تحریک انصاف کے امیدواران کی تعداد زیادہ ہے، دوسرے نمبر پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ 2134 امیدواران نے اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں 1651 امیدواران جن کو پی پی کی حمایت حاصل تھی اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں، تحریک لبیک پاکستان کے حمایت یافتہ 1478 امیدواران بھی میدان میں ہیں، تاہم حتمی معلومات کاغذات نامزدگی کی چھان بین کے بعد ہی آئے گی۔

    نان فائلرز کی رجسٹریشن کیلئےکاروباری اور کمرشل یونٹس کا ملک گیر سروے شروع

  • کسی کو بھی انتخابی نشان بلے کی پیشکش نہیں کی گئی، الیکشن کمیشن

    کسی کو بھی انتخابی نشان بلے کی پیشکش نہیں کی گئی، الیکشن کمیشن

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ پرویز خٹک سمیت کسی کو بھی انتخابی نشان بلے کی پیشکش نہیں کی گئی۔

    باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ترجما ن الیکشن کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے چیئرمین پی ٹی آئی پارلیمینٹیرین ،پرویز خٹک سمیت کسی کو بھی انتخابی نشان” بلے "کی پیشکش نہیں کی گئی –
    https://x.com/ECP_Pakistan/status/1739301971407061211?s=20

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کے چیئرمین پرویز خٹک نے کہا تھا کہ مجھے بلے کے نشان کی پیشکش ہوئی تھی، میں نے انکار کردیا دریں اثنا پرویز خٹک نےکہاتھا کہ پی ٹی آئی کی پارٹی ماضی کا حصہ بن جائے گی، کیونکہ ماضی میں جن پارٹیوں نے ملکی اداروں کے خلاف نفرت کی سیاست کی و ہ پارٹیاں یا تو ختم ہوگئیں یا وہ پارٹیاں صرف صوبے یا ضلع کی پارٹی بن کر رہ گئیں-

    نگران وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ کو عہدے سے ہٹا دیا …

    تبدیلی خان کی تبد یلی کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے، نہ بلا رہا اور نہ بلے سے کھیلنے والا کھلاڑی، الیکشن کمیشن نے بلےکے نشان کو ختم کردیا،8 فروی کو پاکستان تحریک انصاف کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہےگا بانی پی ٹی آئی اصل میں آصف علی زرداری اور نواز شریف سے بھی دو ہاتھ آگے تھے، تبدیلی اور احتساب تو بس ایک ٹوپی ڈرامہ تھا، اصل میں تو وہ خود کرپشن کے کنگ تھے۔

    نان فائلرز کی رجسٹریشن کیلئےکاروباری اور کمرشل یونٹس کا ملک گیر سروے شروع

  • عالمی بینک کے پاکستان میں الیکشن کے بعد نئی حکومت کےحوالے سے خدشات

    عالمی بینک کے پاکستان میں الیکشن کے بعد نئی حکومت کےحوالے سے خدشات

    اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان میں الیکشن کے بعد نئی حکومت کے حوالے سے اپنے خدشے کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی بینک نے اصلاحاتی پروگرام رائزٹو سے متعلق رپورٹ جاری کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں الیکشن کے بعد نئی حکومت متعدد اقدامات واپس لے سکتی ہےمنظم مفاد پرست طبقہ تیزی سے ضروری اصلاحات کو واپس لے سکتا ہے، نئی حکومت گیس، توانائی، ٹیکس اقدامات سے متعلق اقدامات ختم کر سکتی ہے، سبسڈی، تجارتی ٹیرف اور جائیدادوں پر ٹیکس وصولی بھی ختم ہو سکتی ہے۔

    عالمی بینک نے رپورٹ میں کہا کہ آئندہ الیکشن کے بعد سیاسی دباؤ کی وجہ سے گورننس کو خطرات بہت زیادہ ہیں، سیاسی وجوہات کی بنا پر مالی پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں، مشکل اصلاحات پر عملدرآمد جاری رکھنے کا وعدہ خطرے میں پڑھ سکتا ہے، مستقبل کی حکومت کی طرف سے بنیادی اصلاحات اور ترجیحات کا علم نہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹینڈ بائی معاہدے کے خاتمے پر خطرات زیادہ ہیں، اسٹینڈ بائی معاہدے کے اختتام پر پاکستان کےذخائر ڈیڑھ ماہ کی درآمدات کے برابر ہوں گے، آئی ایم ایف سے معاہدہ ختم ہونے کے بعد اضافی بیرونی مدد درکار ہو گی۔

    غزہ کی پٹی میں جھڑپ، مزید دو اسرائیلی فوجی ہلاک

    عالمی بینک نے رپورٹ میں کہا کہ زرعی شعبے میں غلط پالیسیوں اور صوبوں کو منتقل شعبوں میں اخرجات کا خاتمہ ضروری ہے، وفاقی حکومت کی طرف سے صوبائی ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کا خاتمہ ضروری ہے، زراعت، چھوٹے تاجروں اور رئیل اسٹیٹ کو ٹیکس نیٹ میں لا کر ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانا ہو گا، توانائی کی تقسیم کے شعبے میں لاگت اور نقصانات کم کرنے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں نجکاری کے ذریعے ریاستی اداروں کے نقصانات میں کمی کرنا ہو گی، سرخ فیتے کے اختیارات کم کر کے سرمایہ کاری کا ماحول آسان بنانا ہو گا، جامع اصلاحات کے بغیر بیرونی سرمایہ میں کمی رہے گی، بیرونی ذخائر برقرار رکھنے کے لیے درآمدات پر پابندی متوقع ہے، جس سے معاشی کارکردگی متاثر ہوگی۔

    ہم نے کسی ٹینکر پر کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا، ایران نے پینٹاگون کا الزام …

  • الیکشن کمیشن کے حکم پر آئی جی اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہٹا دیا گیا

    الیکشن کمیشن کے حکم پر آئی جی اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہٹا دیا گیا

    الیکشن کمیشن کے حکم پر آئی جی اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہٹا دیا گیا
    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے متبادل افسروں کے نام طلب کر لئے، ڈپٹی کمشنر اسلام اور آئی جی اسلام آباد کے متبادل ناموں کا پینل بھیجا جائے،وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نےاسٹبلشمنٹ ڈویژن کو خط لکھ دیا۔الیکشن کمیشن نے 26 اکتوبر کو ڈی سی اور آئی جی اسلام آباد کو ہٹانے کا حکم دیا تھا

    نگران وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ کو بھی عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ
    دوسری جانب الیکشن کمیشن کے حکم پر مشیر احد چیمہ کو ہٹانے کا معاملہ ،نگران وزیراعظم نے احد چیمہ کو ہٹانے کی منظوری دے دی ،نگران وزیراعظم نے احد چیمہ کو ہٹانے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوا دی ،الیکشن کمیشن نے سابق حکومت میں شامل نگران کابینہ ارکان کے خلاف درخواست پر فیصلہ دیا تھا،الیکشن کمیشن نے احد چیمہ کو فوری مشیر کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عام انتخابات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں الیکشن کمیشن نے سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو حکم دیا ہے کہ احد چیمہ کو فوری مشیرکے عہدے الگ کردیاجائے احد چیمہ گزشتہ کابینہ کا حصہ رہے ہیں، اور وہ عام انتخابات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں

  • بلے کے نشان کی واپسی کیلیے پی ٹی آئی کا عدالت جانے کا فیصلہ

    بلے کے نشان کی واپسی کیلیے پی ٹی آئی کا عدالت جانے کا فیصلہ

    انتخابی نشان بلے کی واپسی کے لئے تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا، پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں کل درخواست دائر کرے گی.

    تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان معظم بٹ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی نشان واپس لینے کے خلاف کل پشاور ہائیکورٹ جائیں گے،کیس سے متعلق پٹیشن تیارکرلی ہے، کوشش ہوگی کہ پٹیشن کل ہی سماعت کے لیے مقرر ہو، پٹیشن میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم کرنے کی استدعاکی گئی ہے اور پٹیشن میں مؤقف ہےکہ الیکشن کمیشن نے غیر قانونی فیصلہ کیا ہے، غیر متعلقہ شخص کی درخواست پر انتخابی نشان واپس لینا غیرقانونی ہے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہ کرانے پر بلے کا نشان واپس لے لیا تھا،عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں ، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ ان کو بلے کا نشان واپس مل جائے، بلے کا نشان واپس نہ ملنے کی صورت میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد الیکشن لڑنا پڑے گا.ایسے میں سب امیدواروں کے انتخابی نشان مختلف ہوں گے.ہم عوام پاکستان پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن سے بلے کا نشان مانگ رکھا ہے ، وہیں ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو بلے کی بجائے گھڑی کا انتخابی نشان دیا جائے تا کہ سب کو پتہ چلے کہ یہ گھڑی چور ہیں

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ