Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • الیکشن پراسس سے باہر کیا گیا تو یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہوگی،چیئرمین تحریک انصاف

    الیکشن پراسس سے باہر کیا گیا تو یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہوگی،چیئرمین تحریک انصاف

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ہمارے انٹرا پارٹی الیکشن ایک سال سے الیکشن کمیشن میں زیر التوا پڑے رہے، الیکشن کمیشن کی طرف سے اس کا پہلا نوٹس دسمبر 2022 کو آیا، جس طرح 175 سیاسی جماعتوں کا سرٹیفکیٹ دیا ہمارا بھی دیں،

    بیرسٹر علی گوہر کا کہنا تھا کہ کل رات ورچوئل جلسہ کیا، 4 ملین لوگوں نے فیس بک اور ٹوئٹر پر دیکھا ہے، ہمارا جلسہ 9 بجے شروع ہوا، 2 بجے میری آخری تقریر تھی، الیکشن کمیشن سے استدعا ہے آپ کا فرض صاف و شفاف الیکشن کرانا ہے،الیکشن کمیشن کی آئنی ذمہ داری ہے کہ وہ صاف و شفاف انتخابات کروائے،اگر اس طرح پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کو الیکشن پراسس سے باہر کیا گیا تو یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہوگی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہر صورت 22 تاریخ سے قبل ہمارا سرٹیفکیٹ ایشو کیا جائے،22 تاریخ کاغذات نامزدگی فائل کرنے کی آخری تاریخ ہے، ہمارے امیدوار لکھتے ہیں کہ میں پی ٹی آئی کا ممبر ہوں اور آپ نہیں مانیں گے تو بہت بڑا رسک ہوگا، جمہوریت کیلئے خطرہ ہے، عمران خان کل بھی چئیرمین تھے، آج بھی چیئرمین ہیں اور انشاءاللہ کل بھی چیئرمین ہی رہیں گے۔ ہماری یہ دعا ہے کہ خان صاحب جلد سے جلد رہا ہوں اور ہم سب کے سامنے ہوں۔

    الیکشن کمیشن میں انٹرا پارٹی کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کمیشن کے 40 سوالوں کے بھی جواب دیں گے، الیکشن کمیشن نے جو رولز بنائے اسکے تحت الیکشن ہوئے، سب کو پتا تھا کس نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور کس دن الیکشن تھا، الیکشن کمیشن سے استدعا کی 14 لوگوں کی درخواستیں مسترد کی جائیں، درخواست گزاروں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ کس پوسٹ کیلئے الیکشن لڑنا چاہتے تھے، ان 14 لوگوں میں سے ایک نے بھی نہ تو الیکشن فارم کیلئے درخواست دی نہ ہی الیکشن لڑنے کیلئے درخواست دی، پی ٹی آئی کا الیکشن پینل بیسڈ ہوتا ہے، ہر پینل کیلئے 15 ممبر چاہئیں،ان 14 افراد میں سے کسی نے نہیں کہا کہ ہم 15 ممبر لے کر آئے تھے، جو درخواستیں الیکشن کمیشن میں دی گئیں ان میں کوئی ذکر نہیں کہ یہ کس پوسٹ کیلئے الیکشن لڑنا چاہتے تھے

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • عام انتخابات میں تاخیر،سپریم کورٹ نے تمام دروازے بند کر دیئے

    عام انتخابات میں تاخیر،سپریم کورٹ نے تمام دروازے بند کر دیئے

    سپریم کورٹ نے عام انتخابات میں تاخیر کرنے کے تمام دروازے بند کردیئے
    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد حلقہ بندیوں پر اعتراض نہیں اٹھایا جاسکتا، جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کوئٹہ کی دو صوبائی نشستوں پر حلقہ بندیوں کیخلاف اپیل پر فیصلہ دیا،بلوچستان ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کی حلقہ بندی تبدیل کی تھی.

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو اختیار قانون نے الیکشن کمیشن کو دیا اسے ہائیکورٹ کیسے استعمال کر سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن پروگرام جاری ہونے کے بعد حلقہ بندیوں سے متعلق تمام مقدمہ بازی غیر موثر ہو چکی،کسی انفرادی فرد کو ریلیف دینے کیلئے پورے انتخابی عمل کو متاثر نہیں کیا جا سکتا، ہمیں اس حوالے سے لکیر کھینچ کر حد مقرر کرنی ہے جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی سارے کیوں چاہتے ہیں الیکشن لمبا ہو،الیکشن ہونے دیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر اس درخواست پر فیصلہ دیا تو سپریم کورٹ میں درخواستوں کا سیلاب امڈ آئے گا، جب الیکشن شیڈول جاری ہو جائے تو سب کچھ رک جاتا ہے،الیکشن کمیشن کا سب سے بڑا امتحان ہے کہ آٹھ فروری کے انتخابات شفاف ہوں،

    بلوچستان ہائیکورٹ نے بلوچستان کی دو صوبائی نشستوں شیرانی اور ژوب میں الیکشن کمیشن کی حلقہ بندی تبدیل کر دی تھی الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی

    جمعیت علماء اسلام کی کرپشن اور دردناک کہانی، ثبوت آ گئے، مبشر لقمان نے پول کھول دیا

    پشاور فلائنگ کلب کے جہاز کی فروخت،مبشر لقمان کا مؤقف بھی آ گیا

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    پاکستان میں ہزاروں بچوں کو مارنے کی تیاری،چیف جسٹس،خاموش قاتلوں کا حساب لیں،

  • الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا فیصلہ محفوظ کرلیا

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا فیصلہ محفوظ کرلیا

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا معاملہ ، انٹرا پارٹی کیس کی سماعت الیکشن کمیشن میں ہوئی

    الیکشن کمیشن کےپانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیئے،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کمرہ عدالت پہنچ گئے،پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جون دوہزار بائیس کے انتخابات کو آپکی طرف سے کالعدم قرار دیا گیا تھا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جو الیکشن کمیشن نے آرڈر کیا تھا وہ معاملہ زیر بحث نہیں ہے،علی ظفر نے کہا کہ دو ہزار انیس کے آئین کے مطابق چیئرمین اور دوسری باڈی کے انتخابات متعلق قانونی طور پر آگاہ کیا تھا،چیئرمین پانچ سال اور پینل کی مدت تین سال ہوتی ہے،جب بلامقابلہ ہو تو انتخابات کی ضرورت نہیں ہوتی ہے،ہمارے الیکشن ہی بلامقابلہ تھے ریٹرننگ افسر جیتنے متعلق اعلان کرسکتا ہے،الیکشن ایکٹ 2017 اور پاکستان تحریک انصاف کے آئین میں انٹرا پارٹی الیکشنز کو پروسیجر نہیں بتایا گیا، اگر کوئی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کرتی ہے تو اس میں کوئی ممانعت نہیں ،پارٹی آئین کے مطابق صرف سیکیرٹ بیلٹ پیپرز کا زکر ہے، الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات کو بطور الیکشن ٹریبونلز ریگلویٹ نہیں کرتا، کسی بھی سیاسی جماعت کے آئین میں انٹرا پارٹی انتخابات کے رولز اور قوانین موجود ہیں نہیں ،تاہم اپیلز متعلق طریقہ کار ضرور دیا گیا ہے،الیکشن ایکٹ میں انٹرا پارٹی انتخابات اور پارٹی رجسٹریشن متعلق ہے،الیکشن ایکٹ میں بتایا گیا ہے کون پارٹی ممبر ہوگا اور کون نہیںکل بحث ہورہی تھی ستر فیصد ووٹرز ہیں،صرف ممبرز ہی ووٹ دینے کے اہل ہونگے،جب کوئی کہے گا میں ووٹ دینا چاہ رہا ہوں تو آپ ان سے ممبرشپ مانگیں گے،الیکڑول کالج ممبرز سے ہی بنتا ہے،الیکشن کمیشن کا اپنا بائیس فروری 2023 کا فیصلہ ہے جو ممبر نہیں وہ انٹراپارٹی میں ووٹ نہیں دے سکتا،جو ممبر فیس نہیں دے گا وہ ممبر نہیں کہلائے گا،کوئی بھی پارٹی کسی بھی وقت کسی ممبر کو نکال سکتی ہے،اگر کسی ممبر کو پارٹی میں رہنے کا بہت شوق ہو تو وہ سول کورٹ جائے گا،آپ نے 20 روز دیئے ہمارے قوانین کہتے ہیں چھ ہفتے چاہیے،

    ممبر کمیشن نے کہا کہ نئے چیئرمین کے آنے تک چیئرمین کون تھا، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ گزشتہ چیئرمین ہی چیئرمین تھا یہ قانون ہے، صدر مملکت بھی اپنا وقت پورا کرچکے ہیں لیکن وہ تاحال صدر ہیں، الیکشن ایکٹ چار ڈاکومنٹ فراہم کرنے کی بات کرتا ہے، ممبر کمیشن نے کہا کہ قانون کہتا ہے کہ آپ سرٹیفیکیٹ لائیں اور ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا،لیکن وہ سرٹیفیکیٹ کوئی چیک تو کرے گا کہ ٹھیک ہے یا نہیں،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ آپ سرٹیفیکیٹ کی اصلیت دیکھ سکتے ہیں لیکن آپ الگ بات کررہے ہیں، ممبر کمیشن نے کہا کہ جرمانے کی بات وقت کی حد تک ہے،

    وکیل پی ٹی آئی علی ظفر نے کہا کہ انتخابی نشان نہ دینے کے سنگین نتائج ہیں سیاسی جماعت کے رجسٹریشن پر سوال ہے،ممبر کے پی نے کہا کہ جب ہم مطمئن ہونگے تب ہی سرٹیفکیٹ جارہی کرسکتے ہیں،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات کی تاریخ 28 نومبر کو میڈیا میں دی گئی،کہا گیا ہم ڈر رہے تھے اور چھپا کرانتخابات کروا رہے تھے،میں نے خود پریس کانفرنس کی اور بتایا انتخابات اسی ہفتے کو کرانے جارہے ہیں،انتخابات کا شیڈول ہم نے ہر دفتر کے باہر چسپاں کیا،ممبر کے پی نے کہا کہ پورے پاکستان کے انتخابات صرف پشاور میں ہوئے،علی ظفر نے کہا کہ ہر جماعت کا یہی ہوتا ہے یہ عام انتخابات نہیں،انٹرا پارٹی ہیں جو ایک جگہ ہوتے ہیں،ممبر سندھ نے کہا کہ پہلی بات جو ممبر نہیں وہ لڑ نہیں سکتے،دوسرا آپ نے کہا بلامقابلہ ہوئے تیسرا آپ نے کہا آئین میں کرانے کا طریقہ کار نہیں ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق میڈیا رپورٹس جمع کرا دیئے ، بیرسٹر علی ظفر نے مختلف میڈیا چینلز پر نشر کیے گئے خبروں کے حوالے دیئے اور کہا کہ ہم نے شیڈیول مختلف دفاتر کے باہر چسپاں کردیئے، ہم نے الیکشن کمیشن کو سیکورٹی کیلئے خط بھی لکھا ، آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری سے بھی بات ہوئی،کاغذات نامزدگی سے متعلق بھی خبریں رپورٹ ہوئیں، ممبر کمیشن نے کہا کہ آپ کے پاس کاغذات نامزدگی کا کوئی نمونہ ہے،آپ کے پاس کاغذات نامزدگی سے متعلق نوٹس کی کوئی کاپی ہے؟آپ ہماری تسلی کیلئے کوئی کاپی دکھائیں، چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان نے کہا کہ جی بالکل ہے لیکن یہاں پر نہیں لائے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جب سکروٹنی مکمل ہوئی تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ بلا مقابلہ ہے، بلا مقابلہ کے باوجود ہم نے سب کو جمع ہونے کی اجازت دی، الیکٹوریٹ باڈی میں سے کسی نے بھی الیکشن سے متعلق شکایت نہیں کی، غیر ممبر کے علاؤہ کوئی بھی آپ کے پاس نہیں آیا، ہم واحد پارٹی ہیں جن کا سب کچھ انٹرنیٹ پر موجود ہے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اب تو جلسے بھی انٹرنیٹ پر ہورہے ہیں ،جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے 8 لاکھ 37 ہزار ووٹرز ہیں،کوئی بھی ان میں سے آپکے پاس نہیں آیا سوائے ان چند افراد کے،ان سے پوچھیں کہ اگر ممبر نہیں تو کیسے آپ الیکشن میں حصہ لیتے، ہم واحد جماعت ہیں جس کا سب ریکارڈ آئن لائن ہے رابطہ ایپ بھی ہے، چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ جو سب آئے ہیں یہ کبھی تو آپکی پارٹی کا حصہ ہونگے،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ سوائے اکبر ایس بابر کے کوئی ممبر نہیں رہا ان میں سے کسی نے فیس جمع نہیں کرائی کسی کے پاس کارڈ نہیں،

    ممبر کمیشن نے کہا کہ آپ کے فارمز کہاں سے مل رہے تھے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ فارمز پارٹی آفسز سے مل رہے تھے ، بڑے ہی خوبصورت اور پانچ رنگوں کے تھے,ممبر سندھ نثار درانی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ان کو تو اک رنگ کا بھی نہیں ملا ، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر یہ لوگ پینل لے بھی آتے پھر بھی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے تھے، اس کی وجہ ہے کہ یہ ممبر ہی نہیں ہے،دوسری بات یہ ہے کہ انہوں نے کاغذات نامزدگی کیلئے درخواست ہی نہیں دی، ممبر کمیشن نے کہا کہ درخواست گزاروں نے یہاں ویڈیو بھی چلائی تھی ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اس کا تو فرانزک ہوگا اوراس کے بعد پتہ چلے گا، ہر کوئی تو نہیں کہہ سکتا کہ خلاف ورزی کی گئی ،انتخابی نشان اور الیکشن لڑنا ہمارا بنیادی حق ہے، ان درخواست گزاروں کا کوئی حق نہیں بنتا،اکبر ایس بابر نے باقی پارٹیوں کا بھی ذکر کیا صرف پی ٹی آئی کا نہیں، اب اس درخواست کا کیا کرنا ہے یہ الیکشن کمیشن کا کام ہے، کچھ درخواست گزاروں نے کہا وینیو کا پتہ نہیں چلا،انتخاب بلا مقابلہ تھا اس لیے ضروری نہیں،دوسری بات یہ ہے کہ یہ لوگ ممبر ہی نہیں، کچھ درخواست گزاروں کے پاس پینل ہی نہیں ہے، ان درخواست گزاروں کی درخواستیں مسترد کی جائیں،بیرسٹر علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے.

    اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن نے جواب الجواب میں کہا کہ کسی ممبر کا ذکر نہیں بلکہ فرد کا ذکر ہے ،آپ نے آئین میں بتانا ہے کہ پروسیجر کیا ہونا چاہیے ،اکبر ایس کی ممبرشپ سے متعلق فیصلے لگادیئے ہیں،اکبر ایس بابر پارٹی کے سابق عہدے دار رہے ہیں ،انہوں نے اکبر ایس بابر کو کب شوکاز نوٹس دیا وہ کہاں ہے ؟ممبر کمیشن نے سوال کیا کہ آپ کی استدعا کیا ہے؟وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ ہم صرف دوبارہ جلد از جلد انٹرا پارٹی انتخابات چاہتے ہیں ، اکبر ایس بابر کے وکیل نے انٹرا پارٹی انتخابات دربارہ کروانے کی استدعا کر دی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے حکم پر پی ٹی آئی نے 3 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا، جس میں بیرسٹر گوہر بلامقابلہ چیئرمین جبکہ عمر ایوب جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے، اس کے علاوہ یاسمین راشد پنجاب کی صدر اور علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا کے صدر منتخب ہوئےپی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے ایک روز قبل انٹرا پارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کرتے ہوئے سارے عمل کو مشکوک قرار دیا تھا۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • انتخابات کا اعلان، ووٹر کتنے، تاحال تعداد سامنے نہ آ سکی

    انتخابات کا اعلان، ووٹر کتنے، تاحال تعداد سامنے نہ آ سکی

    اسلام آباد(محمداویس) : 8فروری2024 کو ہونے والے عام انتخابات میں کتنے ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے کسی کو معلوم نہیں،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن شیڈول بھی جاری کردیا مگر ووٹرز کی تعداد ابھی تک جاری نہیں کی ،سیکرٹری الیکشن کمیشن کو باقاعدہ خط لکھا مگر اس خط کے جواب میں بھی تعداد نہیں بتائی گئی-

    باغی ٹی وی: خبررساں ادارے کے مطابق پاکستان میں عام انتخابات 2024میں کل کتنے ووٹر رائے حق داہی استعمال کرسکتے ہیں اس حوالے سے کسی قسم کا ڈیٹا الیکشن کمیشن نے ابھی تک جاری نہیں کیا ہے آخری بار 25 جولائی 2023 کو ووٹرز کا ڈیٹا جاری کیا گیا مگر انتخابات مردم شماری کی منظوری کے بعد تاخیر کا شکار ہوئے اور الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیاں کی اسی دوران ووٹر لسٹوں کو ڈی فریز کر کے نئے ووٹرز رجسٹرڈ کئے گئے 25ستمبر 2023 کو ووٹر لسٹیں غیر منجمند کی گئی جو 28 اکتوبر 2023 کو دوبارہ منجمند کردی گئیں-

    ایک ماہ اور 19دن گزرنے کے باوجود ابھی تک الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ووٹر لسٹیں جاری نہیں کیں کہ اس دوران کتنے ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے اس خبررساں ادارے کے صحافی نے اس حوالے سے باقاعدہ درخواست سیکرٹری الیکشن کمیشن کو دی مگر اس درخوا ست کے جواب میں بھی ووٹرز کی تعداد نہیں بتائی گئی ۔

    الیکشن کمیشن نے 15دسمبر کو سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن شیڈول بھی جاری کردی مگر ابھی تک عام انتخابات 2024 جو 8 فروری کو ہونے ہیں اس کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں دیں کہ ووٹر لسٹیں غیر منجمند ہونے کے درمیان کتنے ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے ۔

  • نگران وزرا کو ہٹانے کی درخواست  الیکشن کمیشن میں سماعت کیلئے مقرر

    نگران وزرا کو ہٹانے کی درخواست الیکشن کمیشن میں سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے نگران وزرا کو ہٹانے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے شفاف انتخابات کیلئے نگران وفاقی وزرا کو ہٹانے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی،الیکشن کمیشن نے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ، نگران وزیر فواد حسن فواد اور مشیر احد چیمہ کو نوٹس جاری کردیا درخواست گزار نے مبینہ جانبدار وزرا کو نگران وفاقی کابینہ سے ہٹانے کی استدعا کر رکھی ہے،الیکشن کمیشن نے درخواست گزار کو بھی نوٹس جاری کردیا اور درخواست پر سماعت 19 دسمبر کو ایک بجے ہوگی۔

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس،الیکشن کمیشن نے کاز لسٹ جاری کر دی

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق کیس کی کاز لسٹ جاری کر دی الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) انٹرا پارٹی انتخابات کا کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا گیاپی ٹی آئی انٹرا پارٹی کیس کی سماعت 18 دسمبر کو ہو گی اور چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا،پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر اپنے حتمی دلائل دیں گےالیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر اور پارٹی چیئرمین کو نوٹس جاری کردئیے ہیں۔

    شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح کویت کے نئے امیر مقرر

  • پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس،الیکشن کمیشن نے  کاز لسٹ جاری کر دی

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس،الیکشن کمیشن نے کاز لسٹ جاری کر دی

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق کیس کی کاز لسٹ جاری کر دی –

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) انٹرا پارٹی انتخابات کا کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا گیاپی ٹی آئی انٹرا پارٹی کیس کی سماعت 18 دسمبر کو ہو گی اور چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا،پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر اپنے حتمی دلائل دیں گےالیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر اور پارٹی چیئرمین کو نوٹس جاری کردئیے ہیں۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نےتوہین الیکشن کمیشن کا کیس بھی سماعت کیلئے مقرر کردیاعمران خان اور فواد چوہدری کیس کی سماعت 19 دسمبر کواڈیالہ جیل میں ہو گی۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ: آئندہ برس پاک بھارت میچ نیویارک میں کرایا جائے گا

    قبل ازیں پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کرانےکی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا، درخواست پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان معظم بٹ ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے، کیس کی سماعت چیف جسٹس محمد ابراہیم خان اورجسٹس شکیل احمد نےکی۔

    عدالت نےگزشتہ روز پی ٹی آئی کی انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کروانےکی درخواست کی سماعت میں الیکشن کمیشن کا نوٹس چیلنج کرنےکا حکم دیا تھا، عدالت نے کہا کہ یہ قومی ایشو ہے، آپ ضمنی درخواست جمع کریں،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم کسی کو الیکشن میں تاخیر کی اجازت نہیں دیں گے، الیکشن کی جو تاریخ مقرر ہے اس سے ایک دن زیادہ یا کم نہیں کریں گے۔

    بہشت سے میں آئی زمین پر لیکن ،شمار میرا نہیں آسمانی چیزوں میں

    آج پی ٹی آئی کے وکیل نے درخواست میں ترمیم کردی اور نوٹیفکیشن معطل کرنے کی استدعا کی عدالت عالیہ نے درخواست 18 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی، عدالت نے الیکشن کمیشن اور ایڈووکیٹ جنرل آفس سے جواب طلب کرلیا دو رکنی بینچ پیرکو 2 بجے درخواست پر سماعت کرےگا۔

  • عام انتخابات 2024، اپیلٹ ٹربیونلز لگانے کیلئے عدلیہ سے رجوع کا فیصلہ

    عام انتخابات 2024، اپیلٹ ٹربیونلز لگانے کیلئے عدلیہ سے رجوع کا فیصلہ

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی)نے عام انتخابات کیلئے اپیلٹ ٹربیونلز لگانے کیلئے عدلیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2024 کے لیے اپیلٹ ٹربیونلز لگانے کے لیے عدلیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز کو مراسلے جاری کردئیے۔

    جاری کردہ مراسلے میں الیکشن کمیشن نے ہدایت کی کہ ملک بھر کے پانچوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے رابطہ کیا جائے، چیف جسٹس ہائی کورٹس سے اپیلٹ ٹربیونلز کے لیے تجاویز لی جائیں،ملک بھر میں عام انتخابات کیلئے اپیلٹ ٹربیونلز ہائیکورٹس کےججز پر مشتمل ہوں گے، اپیلٹ ٹربیونلز میں ریٹرنگ افسران کے فیصلوں کو چیلنج کیا جاسکے گا۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ: آئندہ برس پاک بھارت میچ نیویارک میں کرایا جائے گا

    الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنرز کو ہنگامی بنیادوں پر ہائیکورٹس سے رجوع کرنے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اپیلٹ ٹربیونلز میں کاغذات نامزدگیوں پر آر اوز کے فیصلے چیلنج ہوسکیں گے،الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنرز کوہائیکورٹس سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق عام انتخابات 8 فروری کو ہوں گے، ریٹرننگ افسران 19 دسمبر کو پبلک نوٹس جاری کریں گے، عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی 20 تا 22 دسمبر جمع کرائے جاسکیں گے جبکہ امیدواروں کی ابتدائی فہرستیں 23 دسمبر کو جاری ہوں گی-

    وہاج علی ایشیا کی 10 مقبول ترین شوبز شخصیات میں شامل

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 23 دسمبر کو امیدواروں کی فہرست جاری ہوگی جبکہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 24 سے 30 دسمبر تک ہوگی، 3 جنوری کو کاغذات کی منظوری اورمسترد ہونے پر اپیلوں کی سماعت ہوگی جبکہ 10 جنوری 2024 کو اپیلوں پر اپیلٹ اتھارٹی کے فیصلوں کا آخری روز ہوگا، 11 جنوری 2024 کو امیدواروں کی نظرثانی فہرست جاری کی جائے گی۔

    کینیڈا کا پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا فیصلہ

  • عام انتخابات،لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل،انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہونگے،چیف جسٹس

    عام انتخابات،لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل،انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہونگے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس سردار طارق مسعود اور منصور علی شاہ کا حصہ تھے،الیکشن کمیشن کے وکیل روسٹرم پر موجود تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ کیا جلدی تھی اس وقت سب کو آنا پڑا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف کے عمیر نیازی نے آر او کے فیصلے کو چیلنج کیا، الیکشن شیڈول جاری کرنے میں وقت بہت کم ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے تو 8 فروری کو الیکشن کرانے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کوشش ہے کہ الیکشن کروا دیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کوشش کیوں آپ نے کرانے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری فلائیٹ میس ہوئی کیسے مداوا کریں گے،بحرکیف کوئی بات نہیں ہم عدالت میں کیس لگا کر سن رہے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے عمیر نیازی نے درخواست دائر کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ عمیر نیازی کی درخواست انفرادی ہے یا پارٹی کی جانب سے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ ہائیکورٹ میں آر اوز اور ڈی آراوز کی تعیناتی کو چیلنج کیا گیا،تحریک انصاف نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جس پر اسٹے ملا ،ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران کی فہرست حکومت دیتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ درخواست گزار کیا چاہتے ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواست گزار چاہتے ہیں ریٹرننگ افسران عدلیہ سے لیے جائیں، درخواست گزار کہتے ہیں انتظامی افسران کی آر او تعیناتی ہمیشہ کیلئے ختم کی جائے، درخواست میں استدعا تھی کہ الیکشن کمیشن کو عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لینے کی ہدایت کی جائے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ شق تو کبھی بھی چیلنج کی جا سکتی تھی اب ہی کیوں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدلیہ کو فروری میں جوڈیشل افسران کیلئے خط لکھا تھا، عدلیہ نے زیرالتواء مقدمات کے باعث جوڈیشل افسران دینے سے معذوری ظاہر کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے جوڈیشل افیسر فراہم کرنے کے خط کا جواب ہی نہیں دیا ،ہماری پہلی ترجیح تھی کہ عدالتوں سے سٹاف لیا جائے لیکن ہائی کورٹس نے انکار کردیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ ہائیکورٹ کے خط کے بعد درخواست گزار کیا انتخابات ملتوی کرانا چاہتے تھے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جواب نہیں دیا، پشاور ہائی کورٹ نے کہا جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی سے رجوع کریں، الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لینا ہی تھا، ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عمیر نیازی آخر چاہتے کیا تھے؟ہائیکورٹ اپنی ہی عدالت کی خلاف رٹ کیسے جاری کر سکتی ہے؟ پی ٹی آئی کی درخواست پر ہی سپریم کورٹ نے انتخابات کا فیصلہ دیا تھا،عمیر نیازی کی درخواست سپریم کورٹ کے حکم کی توہین ہے

    جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ انہوں نے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا کیا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آئین کے آرٹیکل 218 تھری کے تحت فئیر الیکشن کرائے جائیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا آرٹیکل 218 تھری میں کچھ ایسا ہے کہ انتخابات فئیر نہیں ہو سکتے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 50 اور 51 چیلنج کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کا افسران اپائنٹ کرنے کا حق کالعدم قرار دیا جائے،پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ آر اوز ڈی آر اوز کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس ہائیکورٹ سے مشاورت کی جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کچھ تھکے ہوئے ہیں، اسٹیپ بائے اسٹیپ بتائیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ میں فیصلہ کس نے دیا؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی نے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب لارجر بینچ کو ہیڈ کون کررہا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی مائی لارڈ وہی آنر ایبل جج،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ ایک جج جب معاملہ لارجر بنچ کے لئے بھیج رہا ہےپھر ساتھ آرڈر کیسے جاری کر سکتا ہے؟عدالت نے استفسار کیا کہ ڈی آر اوز سارے ڈپٹی کمشنرز ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی! سارے ڈپٹی کمشنرز ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس میں پک اینڈ چوز تو نہیں ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نو، نو ، یہ پوسٹڈ ہیں، ہم نے پک اینڈ چوز نہیں کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ پورے پاکستان کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کردیتا ہے ؟لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست کا مقصد بظاہر الیکشن نہ کرانے کےلئے تھا،ہم بہت کلیئر ہیں، ہم نے آپ سے کہا تھا ہم آپ کا کام کرائینگے، میں حیران ہوں عدلیہ سے ایسے آرڈر پاس ہو رہے ہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ یہ کون لوگ ہیں جو الیکشن نہیں چاہتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ یہ بتائیں آپ نے ٹریننگ کیوں روکی، نوٹیفکیشن معطل ہوا، ٹریننگ تو نہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے ریٹرننگ افسران لئے تھے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ملک بھر میں کتنے ڈی آر اوز اور آر اوز تھے؟ جو ریٹرننگ افسران الیکشن کمیشن کے ہیں وہ تو چیلنج ہی نہیں تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمشن افسران اور ڈپٹی کمشنرز بھی انتخابات نہ کرائیں تو کون کرائے گا؟ تمام ڈی آر اوز متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنرز ہیں،اس سے تو بادی النظر میں انتخابات ملتوی کرانا ہی مقصد نظر آتا ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نگران حکومت کے آتے ہی تمام افسران تبدیل کئے گئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عمیر خان نیازی کون ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کل بلوچستان میں پٹیشن چلی جائے، وہاں پنجاب کے لوگ پٹیشن دیتے ہیں، سندھ والے خیبرپختونخوا میں جا کر پٹیشن دیتے ہیں، یہ بہت حیران کن ہو گا، ایسے تو کوئی کل کو آ کر کہے کہ کہ عدلیہ پر اعتماد نہیں تو پھر کیا کریں گے،عمیر نیازی کی ایک درخواست پر پورے ملک میں انتخابات روک دیں؟ عدلیہ سے ایسے احکامات آنا حیران کن ہے، الیکشن پروگرام کب جاری ہونا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج الیکشن شیڈول جاری ہونا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اٹارنی جنرل کا موقف سنا گیا تھا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاونت کیلئے نوٹس تھا لیکن ایڈیشنل اٹارنی جنرل پیش ہوئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین میں اٹارنی جنرل کا ذکر ہے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سماعت سے قبل مجھ سے ہدایات لی تھیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر جاکر پورے ملک میں حکم جاری کردیا، سپریم کورٹ نے انتخابات کا حکم دیا ہائیکورٹ نے کیسے مداخلت کی؟ درخواست گزار نے جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواست گزار کا مسئلہ یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنرز نے ہمارے خلاف ایم پی اوز کے آرڈر کئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عمیر نیازی کو کوئی مسئلہ تھا تو سپریم کورٹ آتے،ہائی کورٹ نے پورے ملک کے ڈی آر اوز کیسے معطل کر دیے؟ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کہتے ہیں جوڈیشل افسران نہیں دے سکتے، کیا جج نے اپنے ہی چیف جسٹس کیخلاف رٹ جاری کی ہے؟ کیا توہین عدالت کے مرتکب شخص کو ریلیف دے سکتے ہیں؟کیوں نہ عمیر نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں؟کیا عمیر نیازی وکیل بھی ہے یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمیر نیازی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رہے ہیں،

    جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ اگر آر اوز انتظامیہ سے لینے کا قانون کالعدم ہوجائے تو کبھی الیکشن ہو ہی نہیں سکے گا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کو کوئی درخواست دی گئی ہے؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو کوئی درخواست نہیں دی گئی، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا ریٹرننگ افسر جانبدار ہو تو الیکشن کمیشن سے رجوع کیا جا سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایک ہزار سے زائد افسر اکیلے عمیر نیازی کیخلاف جانبدار کیسے ہوسکتے ہیں؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شیڈول آج دینگے یا نہیں،الیکشن شیڈول کب جاری کریں گے؟ کہاں ہے شیڈول ؟ کچھ تو بنایا ہوگا؟ ابھی تک جاری کیوں نہیں ہوا؟ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹریننگ کےبعد انتخابات کا شیڈول جاری کریں گے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ آپ پہلے ٹریننگ کرینگے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ رات کو ٹریننگ کروا دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شیڈول آج دینگے یا نہیں، یا تو بتائیں یا سب کو بلالیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپکو کو ڈی آر اوز اور آراوز کی ضرورت تو آگے جا کر ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ آپ نے پتہ نہیں شیڈول کیوں روک دیا؟ٹریننگ بلاوجہ کیوں روکی ہے؟ کیا الیکشن کمیشن بھی انتخابات نہیں چاہتا؟ الیکشن کمیشن نے ڈی آر اوز کی معطلی کا نوٹیفکیشن کیوں جاری کیا؟ عدالتیں نوٹیفکیشن معطل کریں تو متعلقہ ادارہ معطلی کا نوٹیفیکیشن نہیں جاری کرتا، سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ افسران کو الیکشن کمیشن نے حکم دینا ہوتا ہے،

    سپریم کورٹ نے حکم نامہ لکھوانا شروع کر دیا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کر لی، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا 13 دسمبر کا حکمنامہ غیر قانونی قرار دے دیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے 13 دسمبر کے حکم کی خلاف اپیل دائر کی گئی،سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کرنے والوں کو ہائی کورٹ میں فریق بنایا گیا، درخواست میں الیکشن ایکٹ کے سیکشن 50 اور 51 غیرآئینی قرار دینے کی استدعا تھی، صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عدالتی ہدایات پر آٹھ فروری کی تاریخ مقرر کی، تمام فریقین آٹھ فروری کی تاریخ پر متفق تھے،وکیل الیکشن کمیشن کے مطابق عدالت نے پابند کیا تھا کوئی انتخابات میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا، انتخابات کے انعقاد کیلئے تعینات ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کیا گیا، الیکشن کمیشن کے مطابق ہائی کورٹ آرڈر کے بعد انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،وکیل کے مطابق ہائی کورٹ حکم کی وجہ سے الیکشن شیڈیول جاری کرنا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن کے وکیل کے مطابق گزشتہ انتخابات سے آج تک کسی نے یہ شقیں چیلنج نہیں کیں،سجیل سواتی کے مطابق ہائی کورٹ کے حکم میں تضاد پایا جاتا ہے، وکیل کے مطابق کیس لارجر بنچ کو بھیجتے ہوئے نوٹیفیکیشن معطل کیا گیا،

    پی ٹی آئی کی وکیل مشعل یوسفزئی عدالت میں پیش ہوئیَں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم حکم نامہ لکھو رہے ہیں مداخلت نہ کریں، آپ کون ہیں کیا آپ وکیل ہیں؟جا کر اپنی نشست پر بیٹھیں،آپ نے تعلیم کہاں سے حاصل کی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشعل یوسفزئی سپریم کورٹ وکیل نہیں ان کا بولنا نہیں بنتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دوبارہ مداخلت کی تو توہین عدالت کا نوٹس دینگے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے 1011 ڈی آر اوز، آر اوز اور اے آر اوز کو کام سے روکا،ہائی کورٹ نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ افسران نے ملک بھر میں خدمات انجام دینی ہیں، ہائی کورٹ نے اپنے علاقائی حدود سے بڑھ کر حکم جاری کیا،عدالت نے استفسار کیا کسی ریٹرننگ افسر کیخلاف درخواست آئی تھی؟ الیکشن کمیشن نے بتایا کسی نے کوئی درخواست نہیں دی،عمیر نیازی اسی پارٹی سے ہیں جس نے انتخابات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا،عمیر نیازی کہتے ہیں وہ بیرسٹر ہیں تو انہیں سپریم کورٹ احکامات کا علم ہونا چاہیے تھا،بظاہر عمیر نیازی نے جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالی، کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے؟سپریم کورٹ نے عمیر نیازی کو نوٹس جاری کر دیا،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کو آر اوز ڈی آر اوز سے متعلق درخواست پر کارروائی سے روک دیا،اور کہا کہ لاہور ہائی کورٹ مزید کاروائی نہ کرے،انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہوں گے،

    سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،عدالت نے الیکشن کمیشن کو فوری انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو آج ہی انتخابات کا شڈول جاری کرنے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے حکمنامے میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جج باقر نجفی نے مس کنڈکٹ کیا. آئندہ کوئی بھی جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش نہ کرے, الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذ مے داریاں جاری رکھے،

    عمیر نیازی کو نوٹس جاری، الیکشن کمیشن آج ہی شیڈول جاری کرے،لاہور ہائیکورٹ درخواست پر کوئی کاروائی نہیں کریگی،سپریم کورٹ

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن تین رکنی بنچ کا حصہ نہیں بنے،جسٹس اعجاز الاحسن کی کچھ اور مصروفیت تھی، جسٹس منصور علی شاہ کو سینئر جج ہونے پر گھر سے بلایا ہے،یہ وقت شفافیت اور احتساب کا ہے،جو بنچ یہ مقدمہ سن رہا ہے اس کی منظوری جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی دی،اب میں اکیلے بنچ تشکیل نہیں دے سکتا،

    واضح رہے کہ چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات ختم ہونے کے بعد،الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی،الیکشن کمیشن نے اپیل میں لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی کورٹ روم نمبر ایک میں عملہ پہنچا،سپریم کورٹ کے بند دفاتر بھی کھول دیے گئے تھے، درخواست وصول کرنے والا عملہ بھی پہنچ چکا ہے،،الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم سپریم کورٹ پہنچ گئی، سیکرٹری الیکشن کمیشن بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،اس موقع پر صحافیوں کے سوال کے جواب میں سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ 8فروری کو انتخابات سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے، درخواست تیار کرلی ہے،کچھ دیر بعد سپریم کورٹ میں دائر کردیں گے،جسٹس منصور علی شاہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،سپریم کورٹ کے کمرہِ عدالت نمبر ون میں تین کرسیاں لگا دی گئی ہیں،

    اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئےہیں، صحافی بھی کوریج کے لئے سپریم کورٹ میں موجود ہیں، اسلام آباد سے صحافی اعزاز سید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ "سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں اور خلائی مخلوق کی بڑی تعداد کس بے چینی کا اظہار کررہی ہے؟”

    گزشتہ روز خبریں سامنے آئی تھیں کہ الیکشن کمیشن لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جائے گا جسکی الیکشن کمیشن نے فوراً سختی سے تردید کر دی۔اور کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ نہیں کیا ،تا ہم آج الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے سےیوٹرن لیا اور آج سپریم کورٹ میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی

    الیکشن کمیشن نے 8 فروری کو عام انتخابات کا اعلان کر رکھا ہے، الیکشن کمیشن پولنگ ڈے سے 54 روز قبل انتخابی شیڈول جاری کرنے کا پابندہے، اگر آٹھ فروری کو پولنگ ہو گی تو اس حساب سے الیکشن کمیشن کو کل ہر حال میں انتخابی شیڈول جاری کرنا پڑے گا،انتخابی شیڈول کے مطابق 17 دسمبر پہلا دن اور 8 فروری 54واں دن بنتا ہے، اگر کل الیکشن شیڈول جاری نہ ہو سکا تو الیکشن لیٹ ہو سکتے ہیں،

    ن لیگی رہنما عطا تارڑ ، خواجہ سعد رفیق نے حلقہ بندیوں کے حوالہ سے بھی درخواست دائر کی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے حلقہ بندیاں ن لیگ کی درخواست پر کالعدم قرار دی ہیں، آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی کوہاٹ کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دے ہیں، ایسے میں ان حلقوں میں حلقہ بندیوں کا فیصلہ بھی الیکشن کمیشن کو کرنا ہے، جب تک حلقہ بندیوں کا فیصلہ نہیٰں ہو گا الیکشن کیسے ہو سکتے ہیں؟

    آج رات تک سپریم کورٹ سے کوئی نہ کوئی فیصلہ آئے گا ،مظہر عباس
    سینئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے مسئلے چل رہے ہیں ، الیکشن کمیشن میں کیس چل رہا ،لوگ گرفتار ہو رہے ،پی ٹی آئی کو اس وقت الیکشن سوٹ نہیں کرتے ، اب اگر الیکشن وقت پر ہوتے ہیں پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو سوٹ کرتے ہیں، پی ٹی آئی مشکلات کی وجہ سے ابھی الیکشن کی ریس میں نہیں ہے،الیکشن لیٹ ہو گاتو سوال تو ہو گا، آئینی سوال ہو گا، آپکا سینیٹ مارچ میں آدھا خالی ہو رہا ہے، یہ بہت ہی پیچیدہ معاملہ ہے،تحریک انصاف کے لئے امیدوار تلاش کرنا پھر پولنگ ایجنٹ ہر بوتھ کے لئے مسئلہ بن چکا ہے، آج رات تک سپریم کورٹ سے کوئی نہ کوئی فیصلہ آئے گا کیونکہ چیف جسٹس نے واضح کہا تھا کہ کوئی ابہام پیدا نہ کیا جائے، اب لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ابہام پیدا ہو گیا ہے

    کسی بھی ادارے کی غیر ضروری رخنہ اندازی الیکشن میں تاخیر کا باعث بنے گی۔اسحاق ڈار
    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک آزاد آئینی ادارہ ہے ۔ملک میں الیکشن کروانا صرف الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے ۔کسی بھی ادارے کی غیر ضروری رخنہ اندازی الیکشن میں تاخیر کا باعث بنے گی۔ملکی حالات اور آئین کا تقاضا ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں۔ مسلم لیگ (ن) انتخابات مقررہ وقت پر ہونے کی مکمل حمایت کرتی ہے

    الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تاحال لاہور ہائیکورٹ کے حکمنامے کی نقل ہی مل سکی ہے، الیکشن کمیشن کے رجوع کے باوجود لاہور ہائیکورٹ نے تاحال حکمنامہ کی مصدقہ کاپی فراہم نہیں کی،

  • عام انتخابات کیس، سیاسی جماعتوں کا فریق بننے کا فیصلہ

    عام انتخابات کیس، سیاسی جماعتوں کا فریق بننے کا فیصلہ

    لاہور ہائیکورٹ کے عام انتخابات کیس سے متعلق بڑی پیشرفت سامنے آ گئی، ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے فریق بننے کا فیصلہ کر لیا

    8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بروقت انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے مسلم لیگ(ن) نےا لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کا فیصلہ کیا،مسلم لیگ (ن) لاہور ہائیکورٹ کے ریٹرننگ افسران سے متعلق فیصلے کے خلاف لارجر بینچ میں فریق بنے گی،پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور صدر شہباز شریف نے پارٹی کو گرین سگنل دے دیا،مسلم لیگ (ن) کی لیگل ٹیم نے پٹیشن تیار کرنا شروع کر دی

    پیپلز پارٹی نے بھی لاہور ہائیکورٹ میں عام انتخابات کیس میں فریق بننے کا فیصلہ کر لیا ہے، سابق صدر آصف زرداری نے فوری پٹیشن فائل کر کے فریق بننے کی ہدایت کی ہے،وہیں دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی کے جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان بھی پیٹیشن فائل کریں گے،

    واضح رہے کہ عام انتخابات کیلئے بیوروکریسی کی خدمات کے خلاف درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کا لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ،بینچ کی سربراہی جسٹس علی باقر نجفی کریں گے،لارجر بینچ میں جسٹس شہرام سرور، جسٹس جواد حسن، جسٹس سرفراز ڈوگراور جسٹس سلطان تنویر کو شامل کیا گیا ہے، لارجر بینچ 18 دسمبر کو درخواست کی سماعت کرے گا

    لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے تحریک انصاف کی عام انتخابات کیلئے بیوروکریسی کی خدمات لینے کیلئے الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا تھا اور لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کی تھی

    چوہدری نثار کے حلقے کی حلقہ بندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    چیئرمین پی ٹی آئی کے انتخابات ملتوی کرانے کے الزامات الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیئے

     آصف زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں، آٹھ دس دن تاخیر سے کچھ نہیں ہوتا، 

    8 فروری انتخابات میں تاخیر ہوئی تو ذمہ دار پی ٹی آئی ہوگی،شہباز شریف

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،حلقہ این اے 35 اور 36 کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ،حلقہ این اے 35 اور 36 کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے حلقہ این اے 35 کوہاٹ اور این 36 ہنگو ، اورکزئی کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دے دیں

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا ، عدالت نے الیکشن کمیشن کو تمام فریقین کو دوبارہ سن کر از سر نو حلقہ بندی کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن درخواست گزار کا موقف سن کر ٹھوس فیصلہ کرے،

    دوران سماعت بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کچھ حلقے چھوٹے اور کچھ بڑے بنائے ہیں نئی حلقہ بندیوں میں کچھ حلقوں میں آبادی 6 لاکھ اور کچھ کی 13 لاکھ ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں میں ضلعی حدود کا پابند ہے اسی لیے کچھ حلقے بڑے اور کچھ چھوٹے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں درخواست گزار کا مؤقف قانونی طور پر مضبوط ہے الیکشن کمیشن کا مؤقف بھی زمینی حقائق کے مطابق ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ پورے ملک میں حلقہ بندیاں قانون کے خلاف ہوئی ہیں؟

    وکیل بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پورے ملک کی حلقہ بندیوں میں سیکشن 20 کی خلاف ورزی کی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم سیکشن 20 کے تحت چلیں اور تمام حلقوں کی آبادی کو برابر کریں تو نئی حلقہ بندیاں کرنی پڑیں گی نئی حلقہ بندیوں سے انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے جس پر کچھ لوگ بہت خوش ہوں گے،

    این اے 122 لاہور کی حلقہ بندی کیخلاف کیس،الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری
    دوسری جانب ‏اسلام آباد ہائیکورٹ میں این اے 122 لاہور کی حلقہ بندی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا ،عدالت نے آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا ،عدالت نےکہا کہ آئندہ سماعت تک جواب آنے دیں پھر اس معاملے کو دیکھتے ہیں ، الیکشن شیڈول کا تو فی الحال امکان دکھائی نہیں دے رہا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شہری کرامت کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل تیمور اسلم عدالت میں پیش ہوئے،کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

    چوہدری نثار کے حلقے کی حلقہ بندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    چیئرمین پی ٹی آئی کے انتخابات ملتوی کرانے کے الزامات الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیئے

     آصف زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں، آٹھ دس دن تاخیر سے کچھ نہیں ہوتا، 

    8 فروری انتخابات میں تاخیر ہوئی تو ذمہ دار پی ٹی آئی ہوگی،شہباز شریف

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے لئے ملک میں حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت کر دی ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک بھر سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے 266 ، صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کے593 حلقے ہوں گے،حتمی حلقہ بندیوں کے مطابق اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی 3 جنرل نشستیں ہوں گی، پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی اسمبلی کی 297 جنرل نشستیں ہوں گی،سندھ میں قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی اسمبلی کی 130 جنرل نشستیں ہوں گی،