Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • چیف الیکشن کمشنر کی چیف جسٹس سے ملاقات

    چیف الیکشن کمشنر کی چیف جسٹس سے ملاقات

    چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کی چیف جسٹس فائز عیسی سے ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات سپریم کورٹ میں ہوئی،ملاقات میں جسٹس سردار طارق اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی شریک تھے، چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات میں اٹارنی جنرل بھی شریک تھے،چیف الیکشن کمشنر نے ججز کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم امتناع سے آگاہ کیا، ملاقات لاہور ہائیکورٹ کے آرڈر سے پیدا صورتحال پر ہو ئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر پہلے سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز سے مشاورت کی، مشاورت کے بعد اٹارنی جنرل اور چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کیلئے بلایا گیا،

    این اے 122 لاہور کی حلقہ بندی کیخلاف کیس،الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری
    دوسری جانب ‏اسلام آباد ہائیکورٹ میں این اے 122 لاہور کی حلقہ بندی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا ،عدالت نے آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا ،عدالت نےکہا کہ آئندہ سماعت تک جواب آنے دیں پھر اس معاملے کو دیکھتے ہیں ، الیکشن شیڈول کا تو فی الحال امکان دکھائی نہیں دے رہا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شہری کرامت کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل تیمور اسلم عدالت میں پیش ہوئے،کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

    دوسری جانب الیکشن کمیشن خود ہی الیکشن قانون کی دھجیاں اڑانے لگا، ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی انتخابی شیڈول سے 60 روز قبل کرنا ضروری ہے۔ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی تاخیر سے کی گئی اور تاخیر کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ اور ریٹرننگ افسروں کی تعیناتی خلاف قانون کی گئی۔الیکشن ایکٹ کے تحت غیر معمولی حالات میں تعیناتی میں تاخیر کے لئے الیکشن کمیشن وجوبات بتانے کا پاپند ہوگا۔الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 52 آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی سے متعلق ہے۔آر اوز اور ڈی آر او کی تعیناتی الیکشن ایکٹ کےسیکشن 50 اور 51 کے تحت ہوگی،کیا آر اوز اور ڈی ار اوز کی تعیناتی ایکشن ایکٹ کی شق 52 کے خلاف کی ہے یا قانون کے مطابق؟ترجمان خاموش ہے،لاہور ہائیکورٹ نے 13 دسمبر کو بیوروکریسی سے آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی کو معطل کیا تھا،الیکشن کمیشن کی جانب سے 11 دسمبر کو بیوروکریسی سے آر اوز اور ڈی آر اوز تعینات کیے تھے.
    الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 52 آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی سے متعلق ہے

    دوسری جانب سابق وفاقی وزیر، ن لیگ کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے 8 فروری کا اعلان ہے،مسلم لیگ ن انتخابات کے لیے تیارکا عمل شروع کر چکی ہے، نواز شریف کی صدارت میں پارلیمانی بورڈ کے اجلاس منعقد ہو رہے ہیں،پی ٹی آئی کی جانب سے آر او کی تقریری کو سسپنڈ کروانا ایک سازش ہے،

    الیکشن شیڈول اور انتخابی عمل تاخیر کا شکار ہو گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟شیری رحمان
    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے تحریک انصاف کی لاہور ہائی کورٹ میں درخواست پر کہا ہے کہ تحریک انصاف کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے الیکشن میں تاخیر کی افواہیں گردش کر رہی ہیں، فیصلے کے باعث الیکشن کمیشن میں جاری ریٹرننگ افسران اور ڈپٹی ریٹرننگ افسران کی تربیت بھی معطل ہوگئی ہے،تحریک انصاف کے رہنماء خود تسلیم کر رہے کہ ہمارے خلاف الیکشن میں تاخیر متعلق تاثر درست ہے، تحریک انصاف کے دوہرے معیار کی وجہ سے متوقع الیکشن شیڈول اور انتخابی عمل تاخیر کا شکار ہو گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟ تحریک انصاف نے ایک بار پھر انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے، یہ ان کی غیر جمہوری اور اور غیر سیاسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے،
    عمران خان چاہتے ہیں میں نہیں تو انتخابات بھی نہیں،واضح طور پر تحریک انصاف نہیں چاہتی کہ ملک میں انتخابات ہوں، پیپلز پارٹی الیکشن کیلئے مکمل طور پر تیار ہے، چیرمین بلاول بھٹو زرداری ملک بھر میں الیکشن مہم چلا رہے ہیں، ہمیں امید کے عدلیہ اس معاملے کو جلد از جلد سلجھائے گی اور الیکشن کمیشن مقرر وقت پر انتخابی شیڈول کا اعلان کرے گا،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے انتخابات ملتوی کرانے کے الزامات الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیئے

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ریٹرننگ افسران کی ٹریننگ روک دی، الیکشن کمیشن ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن کی طرف سے ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل ہونے کے بعد ٹریننگ روک دی گئی

     آصف زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں، آٹھ دس دن تاخیر سے کچھ نہیں ہوتا، 

    8 فروری انتخابات میں تاخیر ہوئی تو ذمہ دار پی ٹی آئی ہوگی،شہباز شریف

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • انٹراپارٹی انتخابات،الیکشن کمیشن کا دوسرا نوٹس،پشاور ہائیکورٹ نے حتمی فیصلے سے روک دیا

    انٹراپارٹی انتخابات،الیکشن کمیشن کا دوسرا نوٹس،پشاور ہائیکورٹ نے حتمی فیصلے سے روک دیا

    پشاور ہائی کورٹ ، تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کے دوسرے نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو حتمی فیصلے اور درخواست گزاروں کے خلاف کارروائی سے روک دیا،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق 8 دسمبر کو نوٹس بھیجا، پی ٹی آئی نے نوٹس کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا عدالت نے 19 دسمبر کی تاریخ دی، الیکشن کمیشن کو حتمی فیصلے سے روکا الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات، انتخابی نشان کا کیس الگ الگ کر دیا، انتخابی نشان کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے دوسرا نوٹس جاری کر کے 18 دسمبر کو پیش ہونے کا حکم دیا،بیرسٹر گوہر نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سخت فیصلے سے روکا جائے ہم نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے اور دستاویزات الیکشن کمیشن کو دیں،جسٹس فہیم ولی نے استفسار کیا کہ آپ لوگ 18 دسمبر کو الیکشن کمیشن میں پیش ہو جائیں گے؟بیرسٹر گوہر خان نے جواب دیا کہ جی ہم 18 دسمبر کو الیکشن کمیشن میں پیش ہوں گے۔عدالتِ عالیہ نے الیکشن کمیشن کو حتمی فیصلے سے روک دیا،عدالت نے الیکشن کمیشن کو درخواست گزاروں کے خلاف کارروائی سے بھی روک دیا اور درخواست کی سماعت 19 تاریخ تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے حکم پر پی ٹی آئی نے 3 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا، جس میں بیرسٹر گوہر بلامقابلہ چیئرمین جبکہ عمر ایوب جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے، اس کے علاوہ یاسمین راشد پنجاب کی صدر اور علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا کے صدر منتخب ہوئےپی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے ایک روز قبل انٹرا پارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چلینج کرتے ہوئے سارے عمل کو مشکوک قرار دیا تھا۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

  • الیکشن لڑناچاہتا ہوں،گرفتاری کا خدشہ،روکا جائے ،پی ٹی آئی امیدوار عدالت پہنچ گیا

    الیکشن لڑناچاہتا ہوں،گرفتاری کا خدشہ،روکا جائے ،پی ٹی آئی امیدوار عدالت پہنچ گیا

    لاہور ہائیکورٹ، سابق پی ٹی آئی ایم این اے شوکت علی بھٹی کے کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر حکومت پنجاب سمیت فریقین سے جواب طلب کرلیا،جسٹس علی باقر نجفی نے شوکت علی بھٹی کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کی طرف سے عابد ساقی ایڈووکیٹ پیش ہوئے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار حافظ آباد سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ ہولڈر ہے ،پولیس کوئی مقدمہ درج نہ ہونے کے باوجود گھر پر چھاپے مار رہی ہے، گھر پر چھاپے مار کر الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جارہاہے، درخواست گزار کو درج کیسز، انکوائریز کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی جا رہی،عدالت درخواست گزار کو کیسز اور انکوائریز کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے،

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے فیصل آباد سے ایم پی اے کے امیدوار پر مقدمات اور انکوائریوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے آئی جی پنجاب پولیس سے مقدمات کی تفصیلات طلب کر لیں ،درخواست گزار کی طرف سے میاں عرفان اکرم ایڈووکیٹ پیش ہوئے،جسٹس شہرام سرور چوہدری نے شاہد جاوید کی درخواست پر سماعت کی،درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار عام الیکشن لڑناچاہتا ہے ،خدشہ ہے کہ اسکو بے بنیاد مقدمات میں ملوث کر دیا جائے گا ۔عدالت اسکو ناجائز تنگ اور حراساں کرنے سے روکے،عدالت اسکے خلاف درج مقدمات اور انکوائریوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے،

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • سپریم کورٹ نہیں جا رہے، الیکشن کمیشن کی تردید

    سپریم کورٹ نہیں جا رہے، الیکشن کمیشن کی تردید

    الیکشن کمیشن نے میڈیا چینلوں پر چلنے والی خبر کی سختی سے تردید کی ہے

    ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خبر میں الیکشن کمیشن کے ذرائع کے حوالے سےسپریم کورٹ جانے کا اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ خبر بے بنیاد ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان ایسی مبہم خبروں کو پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان، شفاف انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ایک جامع منصوبے پر عمل پیرا ہے، اس حوالے سے تمام اہداف کو بروقت مکمل کیا جا رہا ہے۔

    قبل ازیں میڈیا رپورٹس کے مطابق کہا گیا تھا کہ ڈی آر اوز اور آر اوز کا نوٹیفیکیشن لاہور ہائیکورٹ سے معطل ہونے کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے کل سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا-نجی ٹی وی کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کی صورتحال سپریم کورٹ کے سامنے رکھی جائے گی، سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کل رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات کا امکان ہے، سیکرٹری الیکشن کمیشن کے ہمراہ ڈی جی لا بھی سپریم کورٹ جائیں گے-ذرائع کے مطابق رجسٹرار سپریم کورٹ کو تحریری اور زبانی صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا، چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی سفارش کی تھی، سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں کسی بھی رکاوٹ سے متعلق الیکشن کمیشن کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی تھی-

    صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی فارم 5 کے مطابق جاری کی جائے،بلوچستان ہائیکورٹ

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے عام انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کا الیکشن کمیشن پاکستان کا جاری کردہ نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے تحریک انصاف کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا یا تھا عدالت نے پنجاب میں انتخابات ایگزیکٹو سے کروانے کے خلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کرتے ہوئے فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو ارسال کر دی تھی-

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں کمی

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ انتخابات کرانے پر قوم کے اربوں روپے لگتے ہیں اگر بڑی جماعتیں انتخابی نتائج تسلیم نہ کریں تو قوم کا پیسہ ضائع ہو گا۔ الیکشن کمیشن کو فری اینڈ فیئر الیکشن کرانے ہیں اور شفاف انتخابات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے امیدواروں اور ووٹرز کو یکساں مواقع فراہم کرنے ہیں،موجودہ صورتحال میں عام انتخابات سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے جس سے جمہوریت کا مستقبل کمزور ہو سکتا ہے، درخواست میں قومی ایشو سے متعلق نشاندہی کی گئی لہٰذا لارجر بینچ کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوائی جاتی ہے۔

    صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی فارم 5 کے مطابق جاری کی جائے،بلوچستان ہائیکورٹ

  • چیئرمین پی ٹی آئی کے انتخابات ملتوی کرانے کے الزامات الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیئے

    چیئرمین پی ٹی آئی کے انتخابات ملتوی کرانے کے الزامات الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیئے

    چئیرمین پی ٹی آئی کے پریس کانفرنس کے دوران انتخابات ملتوی کرانے کے سلسلے میں کمیشن پر الزامات کو الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا ھے اور اس کو عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا ھے ۔الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن نے 8 فروری کو الیکشن کروانے کے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز کا تقرر کر دیا گیا تھا اور ملک بھر میں ان کی ٹریننگ بھی شروع کر دی تھی جو کہ الیکشن شیڈول سے پہلے ضروری ھے تاکہ شیڈول کا اعلان ہوتے ہی کاغذات نامزدگی کا اجرا کر سکیں اور وصول کر سکیں اور اس سلسلے میں دیگر ذمہ داریاں نبھا سکیں۔پی ٹی آئی کی طرف سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز کے تقرر کو چیلنج کرنے اور ان کی تقرری کی معطلی کے بعد کی صورتحال پر کمیشن نے تفصیل سے غور کیا اور جلد ہی اس پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔موجودہ صورتحال کا الیکشن کمیشن کو کسی طور بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

    واضح رہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے الیکشن کمیشن کے آر اوز سے متعلق نوٹیفکیشن سے الیکشن ملتوی ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ افسران کو آر او نہیں بنایا جا سکتا اس سے دھاندلی ہو سکتی ہے، ججوں کو ریٹرننگ افسران بنایا جائے جس سے الیکشن شفاف ہوں گے،الیکشن کمیشن نے پہلے بھی انتخابات ملتوی ہونے کا بہانہ بنایا، آج الیکشن کا شیڈول آنا تھا لیکن جاری نہیں ہوا،اسٹے کا بہانہ نہیں بنائے دیں گے،سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن کے انعقاد میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے،الیکشن بروقت ہونے چاہیں،اگر تاخیر کی کوشش کی جاتی ہے تو سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرے،سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہوسکتا ،

    پریس کلب اسلام آباد میں پارٹی راہنماء شعیب شاہین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا مزید کہنا تھا کہ آج الیکشن کمیشن نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس کے مطابق آر اوز اور ڈی آر اوز کی ٹریننگ روک دی گئی ہے،اس سے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن میں تاخیر پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،اسٹے کا بہانہ نہیں بنائے دیں گے،سپریم کورٹ نے کہا الیکشن کے انعقاد میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے،صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے دستخط موجود ہیں،الیکشن شیڈیول آج جاری ہونا چاہیے تھا،ہمارا شروع سے موقف ہے کہ الیکشن صاف شفاف ہوں،اسٹے کے میٹر بہت جلد ڈسپوز ہوسکتا ،ہےہمارا شروع سے مطالبہ ہے کہ آر اوز اور ڈی آر اوز عدلیہ سے لیےجائیں، الیکشن میں ایسے افراد کو تعینات کیا جائے جن کا ماضی شفاف ہو،الیکشن بروقت ہونے چاہیں،اگر تاخیر کی کوشش کی جاتی ہے تو سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرے،انہوں نے مزید کہا کہ ملٹری کورٹس کے حوالے سے آڈر آیا ہے جس نے پہلے والے 5 ممبر بنچ کے فیصلے کو معطل کیا ہے،ابھی سپریم کورٹ کے سامنے پٹیشن پینڈنگ ہیںکسی بھی فورم میں جس کے پاس دائرہ اختیار نہ ہو وہاں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہوسکتا،کسی بھی سولین کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں نہیں ہونا چاہیے،سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کو جلد چیلنج کریں گے،کہ کل یا پرسوں ہم پنجاب میں کنونشنز سے متعلق شیڈول جاری کریں گے، پنجاب میں ورکرز کنونشن کو خود لیڈ کروں گا،

    اس موقع پر شعیب شاہین نے کہا کہ ہماری پٹیشن پر 8 فروری کی تاریخ طے ہوئی ہے،جسٹس اطہر من اللہ اپنے آڈر میں بھی لکھ چکے ہیں، الیکشن میں تاخیر برداشت نہیں ہوگی، آٹھ فروریپتھر پہ لکیر ہے،شہباز شریف اور ن لیگ پراپیگنڈا کر رہی ہے،پی ٹی آئی انتخابات سے نہیں بھاگتی یہ شروع سے بھاگتے ہیں ،انتخابات سےڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن پہلے سے ہمارے خلاف ہے،ہمارے راہنماؤں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا جارہا ہے،اب اگر انتخابات نہ کرانے گئے تو یہ آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوگا،یہ بہت بڑا جرم ہوگا اس ہر سپریم کورٹ اور قوم آپ کو معاف نہیں کرے گی ،ملٹری کورٹس سے متعلق فیصلہ سن کر قوم مایوس ہوئی ہے۔

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ریٹرننگ افسران کی ٹریننگ روک دی، الیکشن کمیشن ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن کی طرف سے ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل ہونے کے بعد ٹریننگ روک دی گئی

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی فارم 5 کے مطابق جاری کی جائے،بلوچستان ہائیکورٹ

    صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی فارم 5 کے مطابق جاری کی جائے،بلوچستان ہائیکورٹ

    کوئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی فارم 5 کے مطابق جاری کی جائے-

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس نذیر احمد لانگو پر مشتمل بینچ نے رحیم الدین، محمد مبین، محمد عمر، نسیم الرحمن، اور حافظ سراج الدین کے دائر آئینی درخواستوں کو نمٹاتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی 26 نومبر 2023ءکی جاری کردہ حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی بنیادی حد بندی فارم 5 کے مطابق جاری کی جائے جبکہ اس کے H 1، این اے 263 کوئٹہ 2 اور این اے 264 کوئٹہ 3 کو حکم نامے کے سفارشات کے مطابق جاری کی جائے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عدلیہ کے ایک جون 2018 کے حکم کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف سیاسی پارٹیوں کےصوبائی حلقوں کی حد بندی سےمتعلق اعتراضات اٹھائےگئے الیکشن کمیشن میں نمائندگی درج کی ان اعتراضا ت پر الیکشن کمیشن نے 15 جولائی 2022 کو فیصلہ دیا۔

    کوئٹہ کی صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی جاری کی گئی۔ ان حلقوں کی حد بندی کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا گیا عدالت نے 7 اگست 2023 کو صوبائی حلقوں کی حد بندی کو کالعدم قرار دیا عدالت نے فیصلے میں الیکشن کمیشن پاکستان کو 2017ءکی مردم شماری کی بنیاد، 31 مئی 2022ء کو منعقدہ حد بندی کمیٹی کی سفارشات اور انتخابی قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ کوئٹہ کے صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی سفارشات کے ساتھ کی جائے۔

    الیکشن کمیشن پاکستان نے اس عدالتی حکم پر 31 مئی 2018ءکے انتخابی شیڈول کی وجہ سے عمل درآمد نہیں کیا، اس متعلق رکن الیکشن کمیشن پاکستان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی گئی، سپریم کورٹ آف پاکستان نے یکم جون 2018ء کو اس حکم کو برقرار رکھا بعد میں مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری سے وفاقی حکومت نے مردم شماری برائے سال 2017ءکو 2021ءمیں اعلان کیا۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن قانون کے سیکشن 17 دو 2 کے تحت حلقہ بندیوں کی حد بندی شروع کی۔ مئی 2022ءمیں حد بندی کمیٹی میں کوئٹہ کی صوبائی حلقوں کی بنیادی حد بندی شروع کی عدالت عالیہ نے 2017ءکے بنیاد پر صوبائی حلقوں کی حد بندی کو دوبارہ جاری کرنے کی ہدایت کی تھی، 27 اگست 2022ءکو مشترکہ مفادات کونسل کی ڈیجیٹل مردم شماری برائے سال 2022 -23ءکی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی و صوبائی حلقوں کی تازہ حد بندی شروع کی۔

    نومبر 2023ءکو حد بندی کمیٹی نے کوئٹہ کی 9 صوبائی حلقہ بندیوں کی بنیادی حد بندی جاری کی۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں نے ان حلقوں کی حد بندی پر اعتراضات اٹھائے الیکشن کمیشن نے ان کے اعتراضات 26نومبر 2023ءکو فیصلہ دیا الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے کے بعد ان حلقوں کی حتمی حد بندی جاری کی جس پر فوری آئینی درخواستوں کو دائر کیا گیا۔

    معزز بینچ نے کہا کہ بنیادی 9 حلقوں کی حد بندی حد بندی کمیٹی کی غور کردہ اور یکم جون 2018ءکی عدالت عالیہ کا حکم اور سات اگست 2023ءکو سپریم کورٹ کی برقرار کردہ حکم اور کسی بھی سیاسی پارٹی کی اس کو چیلنج نہ کرنے پر الیکشن کمیشن نے کوئٹہ کی 9 حلقوں کی حد بندی جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ عناصر کو یکسر نظر انداز کیا جبکہ حد بندی کمیٹی میں تمام عناصر اور اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے کوئٹہ کی صوبائی حلقوں کی حد بندی شمال سے شروع کی۔ لیکن حتمی حد بندی جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے واضح طور پر بیان کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مخالف سمت میں حد بندی شروع کی-

  • سبز باغ نہیں دکھاتا،جو کہتا ہوں کر کے دکھاتا ہوں،آٹھ فروری کو اپنا مقدر بدلیں،نواز شریف

    سبز باغ نہیں دکھاتا،جو کہتا ہوں کر کے دکھاتا ہوں،آٹھ فروری کو اپنا مقدر بدلیں،نواز شریف

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھ پر جھوٹے اور بےبنیاد مقدمات بنائے گئے ، عوام کا شکر گزار ہوں وہ میرے ساتھ کھڑے رہے،

    ویڈیو پیغام میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ تعالٰی نے مجھے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں سرخرو کیا،میری جماعت کا ہر ورکر مبارکباد کا مستحق ہے،اس شرمناک کھیل کے سارے چہرے بےنقاب ہو چکے ہیں،عوام کی دعاؤں نے ہمیشہ مجھے حوصلہ دیا ،میں 6 سال یہ بات سوچتا رہا کہ مجھ سے دشمنی کرنے والوں نے میری قوم کو کیوں نشانہ بنایا۔ میرے ملک پاکستان کی عوام کا کیا قصور تھا۔کیوں اس پاکستان کو اندھیروں میں دھکیل دیا گیا اس سازش کا آغاز اگست 2014 کے دھرنوں سے ہوا جس کا پہلا مرحلہ جولائی 2017کو ختم ہوا جب بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نہ صرف وزارت عظمی سے بے دخل کیا گیا بلکہ تاعمر نااہل بھی کردیا گیا.مطلوبہ فیصلے لینے کیلئے ججوں کے گھروں میں جا کر دھمکیاں دی گئیں،انکوائری کے لیے ہیرے چنے گئے۔ واٹس ایپ پر پیغامات دئیے گئے ۔ نیب کو 3 ریفرنس دائر کرنے کا کہا گیا۔ مجھے گاڈ فادر اور سسیلین مافیا جیسی گالیاں دی گئیں۔ اس شرمناک کھیل کے سارے کردار بے نقاب ہو چکے ہیں ۔ طویل عرصہ جیل میں رہا، گالیاں کھائیں، کردار کشی ہوئی ۔ اپنے خلاف منظم سازش بیان کرنے لگوں تو وقت لگے گا۔مجھے اور میرے خاندان کو سزا اصل میں 25 کروڑ عوام کو سزا ہے۔والد کی میت کو کندھا نہ دے سکا، والدہ کا تابوت قبر میں نہ اتار سکا، شریک حیات کا آخری وقت میں ساتھ نہ دے سکا، میرے خلاف سارے مقدمے فراڈ اور جھوٹے نکلے۔مجھے پورے ملک سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہورہے ہیں۔میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہوں جس نے مجھے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں سرخرو فرمایا۔میں نے مصائب مشکلات اور آزمائشوں کا لمبا سلسلہ کاٹا۔ اپنی بیٹی کے ہمراہ سینکڑوں پیشیاں بھگتیں طویل عرصہ جیل میں رہا، الزامات تھوپے گئے، گالیاں کھائیں اور کردار کشی کی گئی۔ایسی ایسی گواہیاں سامنے آئیں جو ہمارے ذہن وگمان میں بھی نہیں تھی، میرے خلاف کی گئی سازش کے شرمناک کھیل کے تمام کردار سامنے آگئے ہیں جو سب اللہ کا کرم ہے کیونکہ میں نے اپنا معاملہ اپنے اللہ پر چھوڑتا ہوں،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک کو کیوں بھکاری بنادیا گیا جو آئی ایم ایف سے نجات حاصل کرچکا تھا ، ہم نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا،جو روٹی میری دور میں پانچ روپے کی تھی ، کیوں اسے 25 روپے پہنچایا گیا ، میں سبز باغ نہیں دکھاتا ، جو کہتا ہوں اللہ پر پختہ ایمان کی وجہ سےکہتا ہوں، جو کہتا ہوں، اللہ کے فضل و کرم سے کر کے دکھاتا ہوں، مجھے کبھی اچھے حالا ت نہیں ملے لیکن جب بھی فارغ کیا گیا پاکستان کو بہتر حالت میں چھوڑ کر گیا، مجھے اپنے سزاؤں سے نجات کے لئے عدالتوں سے رجوع کرنا پڑا، آپ کو کسی عدالت نہیں جانا، آپ خود عدالت ہیں، کسی کو درخواست نہیں دینی، آپ خود جج ہیں،مجھے معلوم ہے کہ آٹھ فروری کو اپنا فیصلہ سنائیں گے، اور اپنی بریت کا فیصلہ خود کریں گے،خود ہی اپنی سزاؤں کا خاتمہ کرنا ہے،

  • چاہتا ہوں پارٹی کو موقع ملے،حقدار لوگ جیتیں،وکیل اکبر ایس بابر

    چاہتا ہوں پارٹی کو موقع ملے،حقدار لوگ جیتیں،وکیل اکبر ایس بابر

    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس کی سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹر علی ظفر الیکشن کمیشن پہنچ گئے ،پی ٹی آئی چیف الیکشن کمشنر نیاز اللہ نیازی سمیت دیگر بھی الیکشن کمیشن پہنچ گئے،اکبر ایس بابر کے وکلاء بھی کمیشن پہنچ گئے،پی ٹی آئی انٹراپارٹی کالعدم قرار دینے والے درخواست گزار بھی الیکشن کمیشن پہنچ گئے ،الیکشن کمیشن کے باہر سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے تھے،

    راجہ طاہر نواز عباسی کے وکیل عزیز الدین کاکا خیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی انتخابات کے سرٹیفیکیٹ پر مجاز شخص کی بجائے چیئرمین کے دستخط ہیں ،اسی وجہ سے انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن جمع کی ہے، نتیجہ کے ساتھ ووٹس کی تعداد نہیں ہے، ممبر کمیشن نے کہا کہ جب لوگ بلا مقابلہ منتخب ہوئے تو تعداد کہاں سے آگئی آپ دیکھیں پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر کی منظوری کون کرسکتا ہے ،جنرل سیکرٹری تعینات نہیں کرسکتا صرف تجویز دے سکتا ہے ،وکیل عزیز الدین کاکا خیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ڈاکومنٹس میں الیکشن کے اعلان کا ذکر نہیں ہے، پی ٹی آئی نے اپنے رولز کی خلاف ورزی کی، جگہ کا ذکر نہیں کیا گیا کہ الیکشن کہاں پر ہوئے، انتخابی نتائج کے کتنے ووٹ کاسٹ ہوئے؟ کہیں نہیں بتایا گیا، ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ جب الیکشن ہی بلامقابلہ ہوئے تو ووٹ کیسے ڈل سکتے ہیں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہمارے مطابق الیکشن ہوا ہی نہیں اور نتائج کا اعلان کردیا گیا، ہمارے مطابق اسلام آباد میں الیکشن کروانا بہترین مقام تھا لیکن پشاور میں کروائے،الیکشن شیڈول جاری کرنا پی ٹی آئی کے الیکشن کمیشن کا کام تھا ،کمیشن کی بجائے الیکشن کمشنر نے شیڈول جاری کیا ،نہ پی ٹی آئی کے الیکشن ہوئے نہ رولز کا خیال رکھا گیا،پشاور ہائی کورٹ میں جانے سے ان کی نیت کا پتہ چلتا ہے ،پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کے کو مسترد کردیں .

    اکبر ایس بابر اور ان کے وکیل احمد حسن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے، وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آئین میں رول بنانے کا ذکر نہیں،رول بنانے کا ذکر اس ڈرافٹ میں ہے جو واپس لیا گیا،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رولز کب اور کس نے بنائے ،انٹرا پارٹی انتخابات کس تاریخ کو ہوں گے یہ ذکر نہیں ،کیا یہ ممکن ہے کہ تین دن میں لاکھوں لوگوں کا الیکشن کرالیں،پارٹی الیکشن کمیشن کا کام ووٹر لسٹ کو ویری فائی کرنا تھا ،کیا چوبیس گھنٹے میں وہ لسٹ ویری فائی ہوئی ؟ ،انتخاب کی تاریخ، ووٹر لسٹ، مقام کا پتہ نہیں ،بلا مقابلہ انتخاب تو بعد کی بات ہے انتظامات کہاں ہیں ؟ممبر کمیشن نے کہا کہ آپ بڑی آئیڈیل باتیں کررہے ہیں ،وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ سر آئین تو ہے ہی آئیڈیل، آئین اعلیٰ اقدار کی بات کرتا ہے، یہاں پر پیپر ورک بھی نہیں کیا گیا ،اگر قانون کے مطابق عمل نہیں ہوتا تو اسکے اثرات ہے، ایک انتخابی نشان سے متعلق ہے دوسرا پارٹی کا نام خارج کرنے سے متعلق ہے ،میں چاہتا ہوں اس پارٹی کو موقع ملے اور حقدار لوگ جیتیں ،ان انتخابات کو کالعدم قرار دینا چاہیے،اکبر ایس بابر نے تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس نہ لینے اور پارٹی رجسٹریشن ختم نہ کرنے کی استدعا کرتے ہوئے دوبارہ الیکشن کمیشن کی نگرانی میں انتخابات کرانے کی استدعا کردی

    درخواست گزار نورین کے وکیل نے بھی اکبر ایس بابر کے دلائل اختیار کر لیے،درخواست گزار محمود خان نے بھی اکبر ایس بابر کے دلائل کی تائید کردی،درخواست گزار صبا زاہد نے بھی اکبر ایس بابر کے دلائل اپنا لئے، درخواست گزار شاہ فہر نے کہا کہ انتخابات میں کسی کو بھی حصہ نہیں لینے دیا گیا، انتخابات کالعدم قرار دیے جائیں،الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشنز چیلنج کرنے والے درخواستوں گذاروں کے دلائل مکمل ہو گئے.

    تحریک انصاف انٹرا پارٹی انتخابات لڑنا چاہتے تھے، پارٹی کےلئے جیل گئے، مشکلیں برداشت کیں، درخواست گزار نورین فاروق خان الیکشن کمیشن کے سامنے رو پڑیں۔

    تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی آئین میں کی گئی ترمیم کو تسلیم نہیں کیا، شو آف ہینڈز کےذریعے الیکشنز کرانے کےلئے ترمیم کی،الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق 2019 کے آئین کے مطابق الیکشنز کرائے،پارٹی آئین کے مطابق الیکشنز پینل کی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں،وفاقی اور صوبائی سطح پر پینل پر الیکشنز ہوتے ہیں،پارٹی آئین کے مطابق اگر ایک پینل سامنے آتا ہے تو ووٹ کی ضرورت ہی نہیں،اگر پینل ایک ہے تو ووٹر پوچھ ہی نہیں سکتا ووٹ کیوں نہیں ڈالنے دیا،ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ کیا یہ سب پارٹی آئین میں ہے؟علی ظفر نے کہا کہ جی پارٹی کے آرٹیکل 5 میں موجود ہے،بیرسٹر علی ظفر نے پارٹی آئین کے آرٹیکل 5 کو پڑھ کر سنایا اور کہا کہ ہمیں حکم یہ تھا کہ 20 دن کے اند انٹرا پارٹی الیکشن کرائیں، ہم نے اپنے آئین کے تحت الیکشن کرائے، پٹیشنرز کا موقف درست نہیں، مخالف امیدوار نہ ہو تو ووٹنگ کی ضرورت نہیں ہوتی

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا معاملہ ،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے حلقہ بندیوں سے متعلق کیسز کی سماعت کرنی ہے۔الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرپارٹی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت 18 دسمبر تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے حکم پر پی ٹی آئی نے 3 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا، جس میں بیرسٹر گوہر بلامقابلہ چیئرمین جبکہ عمر ایوب جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے، اس کے علاوہ یاسمین راشد پنجاب کی صدر اور علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا کے صدر منتخب ہوئےپی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے ایک روز قبل انٹرا پارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چلینج کرتے ہوئے سارے عمل کو مشکوک قرار دیا تھا۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • 8 فروری  انتخابات میں تاخیر ہوئی تو ذمہ دار پی ٹی آئی ہوگی،شہباز شریف

    8 فروری انتخابات میں تاخیر ہوئی تو ذمہ دار پی ٹی آئی ہوگی،شہباز شریف

    سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ملک میں عام 8 فروری کے انتخابات ملتوی سبوتاژ کرانے کی سازش کر ر ہی ہے

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی درخواست عوام کی ترجمانی کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے، الیکشن کے خلاف پی ٹی آئی درخواستیں الیکشن سے فرار کی منصوبہ بندی ہے،سائیفر کی طرح پی ٹی آئی 8 فروری کے عام انتخابات کے خلاف سازش کر رہی ہے،پی ٹی آئی ہمیشہ کی طرح دوغلی، دوہری اور منفقانہ پالیسی پر کاربند ہے،پی ٹی آئی 8 فروری سے فرار کی راہیں تلاش کررہی ہے،پی ٹی آئی میڈیا میں الیکشن جلد کرانے کے اعلان کرتی ہے جبکہ عملی طورپر عدالتوں میں تاخیر کی پٹیشنز کرتی ہے،2018 کے انتخابات میں بھی بیوروکریسی نے ہی ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کی ذمہ داری نبھائی تھی،2018 میں بیورکروکریسی کے ڈی آر اوز کا فرض نبھانے پر پی ٹی آئی نے اعتراض نہیں کیا،ڈی آراوز کے خلاف پٹیشن لے کر پی ٹی آئی لاہور ہائی کورٹ گئی،8 فروری 2024 کے انتخابات میں تاخیر ہوئی تو ذمہ دار پی ٹی آئی ہوگی.

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سائیفرمیں عوام میں کچھ کہا،تحقیقات میں کچھ کہا، پی ٹی آئی یہی منفاقت الیکشن کے حوالے سے بھی اپنائے ہوئے ہے،آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے بھی پی ٹی آئی نے ایسی ہی سازش کی تھی،پی ٹی آئی ملک میں آئینی بحران پیداکرکے سیاسی عدم استحکام چاہتی ہے،پی ٹی آئی نہیں چاہتی کہ ملک معاشی طورپر مضبوط ہو،

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ریٹرننگ افسران کی ٹریننگ روک دی، الیکشن کمیشن ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن کی طرف سے ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل ہونے کے بعد ٹریننگ روک دی گئی

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • عام انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کیلئے الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل

    عام انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کیلئے الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل

    لاہور ہائیکورٹ نے 8 فروری کے عام انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کیلئے الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔

    باغی ٹی وی : جسٹس علی باقر نجفی نے تحریک انصاف کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا، ایک رکنی بینچ نے عام انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کردیا،عدالت نے انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کے خلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کی اور جسٹس علی باقر نجفی نے فائل چیف جسٹس کو ارسال کردی۔

    عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ الیکشن کرانے پر غریب قوم کے اربوں روپے لگتے ہیں ، اگر بڑی سیاسی جماعتیں الیکشن نتائج تسلیم نہ کریں تو قوم کا پیسہ ضائع ہوگا ،الیکشن کمیشن کو فری اینڈ فئیر الیکشن کرانے ہیں ،شفاف انتخابات کو حقیقت میں بدلنے کےلیے امیدواروں اور ووٹرز کو یکساں مواقع فراہم کرنے ہیں ۔

    شدید دھند کے باعث موٹرویز مختلف مقامات پر بند

    کوئٹہ میں سیاسی رہنما بی اے پی میں شامل

    عمران خان غیر شرعی نکاح کیس قابل سماعت ہونےکا تحریری حکمنامہ جاری