Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • آئین کے آرٹیکل 62 ،63 پرعملدرآمد ، الیکشن کمیشن، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹسز جاری

    آئین کے آرٹیکل 62 ،63 پرعملدرآمد ، الیکشن کمیشن، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹسز جاری

    لاہور: آئین کے آرٹیکل 62 ،63 پرعملدرآمد کروانے کیلئے متفرق درخواست پر الیکشن کمیشن، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹسز جاری کردیئے گئے۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائی کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 62 ،63 پرعملدرآمد کروانے کیلئے متفرق درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت آئین کے آرٹیکل 62 ،63 پرعملدرآمد کروانے کیلئے متفرق درخواست پر الیکشن کمیشن، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹسز جاری کردیئے گئے۔

    درخواست شہری منیراحمد نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سےدائرکی، جس میں مؤقف پیش کیا کہ عام انتخابات 8 فروری کو ہونے جارہے ہیں، ہماری درخواست ہے کہ جو امیدوارالیکشن لڑنے میدان میں اترے اس کا تمام ڈیٹا الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پرموجود ہو۔

    سائفر کیس سماعت 24 نومبر تک ملتوی

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ الیکشن کمیشن کو مراسلے لکھے گئے لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا، عدالت الیکشن کمیشن کو ڈیٹا مرتب کرکے ویب سائٹ پر جاری کرنے کی ہدایت کرے،جس پر عدالت نے الیکشن کمیشن، وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹسز جاری کردئیے اور سماعت ملتوی کردی۔

    فیض آباد دھرنا کیس: سابق ن لیگی وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے پاس جنرل …

  • نگران حکومت آئین اور الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق چلے گی،مرتضٰی سولنگی

    نگران حکومت آئین اور الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق چلے گی،مرتضٰی سولنگی

    اسلام آباد: نگراں وزیراطلاعات مرتضی سولنگی کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گی۔

    باغی ٹی وی: نگراں وزیراطلاعات مرتضٰی سولنگی کا کہنا تھا کہ آئین میں لکھا ہے ملک منتخب نمائندے چلائیں گے، 8 فروری جمعرات کو الیکشن ہوں گے، مذاکرات، تحفظات شکایات اور آوازیں جموریت کا حسن ہے،جمہوری نظام کا حسن ہے،نگراں حکومت عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گی،نگران حکومت آئین اور الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق چلے گی، صدر کے خط کا جواب خط سے دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 8 نومبر کو بنیادی حقوق اور ہموار سیاسی میدان کے حوالے سے تحریک انصاف کے خدشات پر غور کرنے کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے نام خط ارسال کیا تھا صدر مملکت عارف علوی نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب کا صدر کے نام خط بھی آگے نگراں وزیر اعظم کو ارسال کیا، خط میں سیاسی میدان کے حوالے سے پی ٹی آئی کے خدشات پر غور کرنے کا کہا گیا۔

    لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے اور منی لانڈرنگ کیلئے فرح گوگی کا خفیہ پاسپورٹ منظر …

    صدر مملکت نے خط میں لکھا کہ عوام کا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور آزاد میڈیا کے ذریعے رائے کا اظہار کرنا ہی جمہوریت کی روح ہے جبکہ آزادانہ، منصفانہ اور مستند الیکشن پر پورے پاکستان میں اتفاق ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو الیکشن میں حصہ لینے اور عوام کو انہیں منتخب کرنے کا حق ہے، سیاسی وابستگیاں رکھنے والے افراد کی جبریوں گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر میڈیا میں بھی بحث ہوئی، لوگوں کی سیاسی وابستگیاں اور وفاداریاں بدل جانے پر ایسے واقعات تشویش کا باعث بنتے ہیں، خواتین سیاسی ورکرز کی طویل نظر بندی یا عدالت کی جانب سے ریلیف کے بعد بار بار دوبارہ گرفتاریاں معاملے کو مزید حساس بنا دیتی ہیں-

    پی ٹی آئی کے خدشات پر صدر مملکت نے نگراں وزیر اعظم کو خط لکھ دیا

  • لیول پلیئنگ فیلڈ نہ دینے  میں نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن  کا  کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،پی ٹی آئی

    لیول پلیئنگ فیلڈ نہ دینے میں نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،پی ٹی آئی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ نہ دینے میں نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں-

    باغی ٹی وی: نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کی صدرِ مملکت عارف علوی کے لیول پلئینگ فیلڈ کے حوالے سے دیے گئے بیان پر تنقید کے معاملے پر تحریک انصاف کے ترجمان نے صدرِ مملکت کے بیانات کو آئین سے متصادم قرار دینے کی مذموم کوشش کی شدید مذمت کی ہے۔

    ترجمان کے مطابق دستور کی معین کردہ مدت گزرنے کے بعد غیرآئینی ، غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر وزارت پر براجمان شخص کو صدرِ مملکت کو آئین کا درس دیتے ہوئے شرم آنی چاہیئے،تحریک انصاف کو لیول پلئینگ فیلڈ سے مسلسل محروم رکھنے میں نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کا شرمناک کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں-
    https://x.com/PTIofficial/status/1723295738308755651?s=20
    ترجمان کے مطابق تحریک انصاف کو سیاسی اجتماعات کی اجازت سے محروم رکھنے اور قائدین و کارکنان کی جبری گمشدگیوں میں مجرمانہ سہولت کاری کرنے والوں کو آئین کا ذکر کرنا زیب نہیں دیتا،صدرِ مملکت نے اپنے آئینی اختیارات کے تحت عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے شفاف و منصفانہ انتخاب کا انعقاد یقینی بنانے پر زور دیادستور کا آرٹیکل 41 صدرِ مملکت کو ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے تمام شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کا پابند بناتا ہے

    ترجمان تحریک انصا ف کے مطابق صدرِ مملکت ڈاکٹرعارف علوی پاکستانی تاریخ میں آئین کی روح کے عین مطابق اپنے فرائضِ منصبی سرانجام دینے والے واحد صدر ہیں،اس سے قبل نوز شریف کو دہی بھلے کھلانے اور ججز کو خریدنے کیلئے نوٹوں سے بھرے بریف کیس لے جانے والے مشہور اشخاص کو ریاست کے اہم ترین عہدے پر فائز کرنے کی شرمناک روایت قائم کی گئی-

    ترجمان نے کہا کہ ملک میں شفاف انتخاب کے انعقاد کے واحد کام کیلئے آنے والے نگران وزیر کی جانب سے ریاست کے سربراہ کے آئینی کردار پر تبصرہ آرائی کسی صورت میں اسے زیب نہیں دیتی ،نگران حکومت صدرِ مملکت کو آئین کا درس دینے کی بجائے ان کی ہدایات کے مطابق اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کوانتخابات سے قبل مساوی حقوق فراہم کرے اور قبل از انتخاب دھاندلی کے مذموم ایجنڈے میں سہولتکاری بند کرے-

  • شاہد خاقان نے این اے 51 سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا عندیہ دے دیا

    شاہد خاقان نے این اے 51 سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا عندیہ دے دیا

    اسلام آباد: شاہد خاقان نے این اے 51 سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا عندیہ دیا ہے-

    باغی ٹی وی:شاہد خاقان عباسی کی اپنے آبائی علاقے کے لیگی وفد سے ملاقات ہوئی،وفد کے اصرار کے باوجود شاہد خاقان نے ن لیگ سے ٹکٹ نہ لینے کا موقف اختیار کیا،شاہد خاقان نے این اے 51 سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا عندیہ دیاشاہد خاقان نے وفد سے پارٹی میں نظر انداز کیے جانے کا شکوہ کیا-

    قبل ازیں نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مجھے مسلم لیگ ن کے اجلاس میں بلایا نہیں گیا، میں نے شہباز شریف کو خود کہہ دیا تھا کہ مجھے پارٹی امور سے علیحدہ رکھیں،میں نے پہلے سے کہہ دیا تھا کہ پارٹی میں اگلی نسل آئے گی تو میں عہدے دار نہیں رہوں گا، مسلم لیگ ن میں موجود ہوں مگر نئے الیکشن میں حصہ لینے کا قائل نہیں-

    شاہد خاقان نے کہا کہ حلقے کے عوام کا مجھ پر بہت دباؤ ہے کہ الیکشن لڑوں،شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ الیکشن سے مسائل حل نہیں ہوں گے،مسائل حل کرنے کے لیے تمام جماعتوں کو آپس میں بیٹھنا ہو گا سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جو لوگ جیل میں ہیں، چاہے انہیں مقبولیت حاصل ہے یا نہیں، انہیں سیاست کو ایک طرف رکھنا پڑے گا، سب جماعتوں کو موقع مل چکا ہے، کوئی کچھ نہیں کر سکا،نواز شریف جب بلائیں گے حاضر ہو جاؤں گا، نیب کے ہوتے حکومت کا نظام نہیں چلے گا، یہ سیاسی انجینئرنگ کا ادارہ ہے۔

    لودھراں: تیز رفتار ٹریلر کی موٹر سائیکل رکشےکو ٹکر ،ایک ہی خاندان …

    دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دے دی ہے،ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما رؤف صدیقی کا کہنا تھا کہ میں نے شاہد خاقان کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی ہے، دل کی گہرائیوں سے شاہد خاقان عباسی کو ایم کیو ایم میں شمولیت کی دعوت دی ہے، انہوں نے مجھے سنجیدگی سے سنا ہے، وہ سوچ کر جواب دیں گے۔

    روؤف صدیقی نے کہا کہ گزشتہ 7، 8 برس سے کیسز کا سامنا کر رہے ہیں، ہمیں عدالت سے ریلیف نہیں انصاف چاہئے، ہر کیس میں ہم باعزت بری ہوں گے، کس بات کی معافی مانگے، ہم بے گناہ ہیں، تضحیک آمیز مقدمات بنائے گئے، 11 سے 12 سو اشرفیہ خاندان ہیں ایسے ہیں جن کو ریلیف دیا جاتا ہے۔

    مزید 6 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

  • بیٹ کا نشان پی ٹی آئی کا ہی ہوگا،الیکشن کمیشن کی تحریک انصاف کو یقین دہانی

    بیٹ کا نشان پی ٹی آئی کا ہی ہوگا،الیکشن کمیشن کی تحریک انصاف کو یقین دہانی

    اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کے ممبران بیرسٹر گوہر،بابر اعوان کی ملاقات ہوئی ہے

    پی ٹی آئی وفد نے ملاقات میں تحریک انصاف کے انٹراپارٹی الیکشن سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کرنے کا مطالبہ کی،پی ٹی آئی وفد نے الیکشن کمیشن کو انتخابی مہم میں رکاوٹوں سے آگاہ کیا،ملاقات کے بعد بیرسٹر گوہر علی نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن سے بابر اعوان اور میں نے ملاقات کی،ملاقات ہماری درخواست پر ہوئی، تقریبا 45 منٹ کی ملاقات ہوئی جس میں چیف الیکشن کمشنر اور ممبرز موجود تھے،ہم نے چارٹر آف ڈیمانڈ الیکشن کمیشن کو دیا، ہم نے کہا کہ ہمیں میٹنگ کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، پی ٹی آئی کے جھنڈے اور بینرز پرنٹ نہیں ہونے دیئے جارہے،ایک نوٹیفیکیشن جاری کریں جس میں ہمیں فئیر اینڈ فئیر الیکشن کی مہم کی اجازت دی جائے،

    بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ ہم نے یہ بھی کہا کہ نگران حکومت فنڈز جاری کررہی ہے جو نہیں کرسکتی،الیکٹرک کمپنیز کے ڈسکوز جاری کرنے والے ن لیگ کے امیدوار ہیں،ہمارا انتخابی نشان کا آرڈر ابھی تک ریلیز نہیں کیا گیا ان کو کہا ہے کہ تفصیلی آرڈر جاری کیا جائے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیٹ کا نشان پی ٹی آئی کا ہی ہوگا، کوئی چئیرمن مائنس نہیں ہوگا جو چیرمین پی ٹی آئی ہیں وہ رہیں گے، الیکشن کمیشن کی آئینی ذمے داری ہے لیول پلیئنگ فیلڈ کے لئے کردار ادا کرے گا، چیف الیکشن کمشنر نے ہماری تمام جائز گذارشات پر کہا سب مانی جائیں گی،الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے،آج کی میٹنگ سے امید ہے کہ الیکشن کمیشن اپنا کردار ادا کرے گا،

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • حکومت صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے ہر قسم کا تعاون کرے گی،نگران وزیراعظم

    حکومت صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے ہر قسم کا تعاون کرے گی،نگران وزیراعظم

    اسلام آباد: نگران وزیراعظم ا نوارالحق کاکڑ سے چیف الیکشن کمشنر سکندرسلطان راجہ نے اہم ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے کمیشن کی تیاریوں پر بریفنگ دی،چیف الیکشن کمشنر نے وزیراعظم کو انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے الیکشن کمیشن کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے وزیر اعظم کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کیلئے تمام ضروری تیاری کرلی ہے، پولنگ اسٹیشنز، پولنگ اسٹاف کی فہرستیں بھی تیار کرلی گئی ہیں؛چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ الیکشن مٹیریل کی پرنٹنگ کا کام بھی آخری مراحل میں ہے جبکہ انتخابی فہرستیں اپ ڈیٹ کرنے کا کام بھی تکمیل کے مراحل میں ہے؛ جلد ہی تمام اضلاع میں انتخابی فہرستیں پہنچا دی جائیں گی، الیکشن کمیشن بروقت انتخابات کے انعقاد، انتخابی شیڈول جاری کرنے کا پابند ہے، الیکشن کمیشن آئینی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے انجام دے گا۔

    نگران وزیراعظم نے کہا حکومت الیکشن کمیشن کوصاف شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے ہر قسم کا تعاون کرے گی،آزادانہ اورصاف شفاف الیکشن کیلئے تمام ضروری وسائل کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔

    سونے کی قیمت میں معمولی کمی

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹیں منجمد کردی گئیں ہیں،الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کو منجمد کرنے کے بعد آئندہ عام انتخابات کے لیے ووٹر لسٹوں کی تیاری پر کام جاری ہے،الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں کو منجمد کردیا ہے، جس کے بعد اب ووٹرز کا اندراج یا اخراج نہیں ہوگا بلکہ الیکشن کمیشن رواں ماہ کی 25 تاریخ تک ووٹر لسٹوں کو فائنل کردے گا، اور 25 نومبر تک ہی ووٹر لسٹوں کی اشاعت مکمل کر لی جائے گی۔

    ڈی جی خان :ڈسٹرکٹ کوالٹی کنٹرول بورڈ اجلاس،36کیسز کی سماعت کی گئی

    قبل ازیں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ نگران حکومت بنانا الیکشن کمیشن کا کام نہیں تاہم نگران حکومت کو چیک کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے اٹارنی جنرل بھی الیکشن کمیشن کے خاندان کا حصہ ہیں سی ڈی اے اراکین کا جھگڑا بنا لیکن میں کسی کو نہیں جانتا اور ہم نے 2 اراکین سی ڈی اے کے تبدیل کیے جو سب سے دیکھا، ہم نے خیبرپختونخوا کی کابینہ تبدیل کروائی اور الیکشن کمیشن نے وفاقی کابینہ پر بھی نوٹسز لیے جبکہ ہم نے تمام فیصلے مشاورت سے کیے۔

    سیالکوٹ :تھانہ سمبڑیال کے علاقہ میں کھیت سے 2 نوجوانوں کی لاشیں برآمد

  • الیکشن کمیشن کیجانب سے ووٹر لسٹیں رواں ماہ فائنل ہوں گی

    الیکشن کمیشن کیجانب سے ووٹر لسٹیں رواں ماہ فائنل ہوں گی

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹیں منجمد کردی گئیں ہیں-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کو منجمد کرنے کے بعد آئندہ عام انتخابات کے لیے ووٹر لسٹوں کی تیاری پر کام جاری ہے،الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں کو منجمد کردیا ہے، جس کے بعد اب ووٹرز کا اندراج یا اخراج نہیں ہوگا بلکہ الیکشن کمیشن رواں ماہ کی 25 تاریخ تک ووٹر لسٹوں کو فائنل کردے گا، اور 25 نومبر تک ہی ووٹر لسٹوں کی اشاعت مکمل کر لی جائے گی۔

    قبل ازیں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ نگران حکومت بنانا الیکشن کمیشن کا کام نہیں تاہم نگران حکومت کو چیک کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے اٹارنی جنرل بھی الیکشن کمیشن کے خاندان کا حصہ ہیں سی ڈی اے اراکین کا جھگڑا بنا لیکن میں کسی کو نہیں جانتا اور ہم نے 2 اراکین سی ڈی اے کے تبدیل کیے جو سب سے دیکھا، ہم نے خیبرپختونخوا کی کابینہ تبدیل کروائی اور الیکشن کمیشن نے وفاقی کابینہ پر بھی نوٹسز لیے جبکہ ہم نے تمام فیصلے مشاورت سے کیے۔

    واٹس ایپ میں ای میل کے ذریعے لاگ ان ہونے کا فیچر متعارف

    انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں الیکشن کمیشن کے اب تک کے فیصلے درست ہیں لیکن الیکشن کمیشن پر بلاوجہ تنقید ہوتی ہے، انتخابات میں پاک فوج ہماری مدد کرے گی۔

    2023 میں کون سی ویب سائٹس سب سے زیادہ دیکھی گئیں

    اسٹیٹ بینک کا 9 نومبر کو عام تعطیل کا اعلان

  • انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کا چیلنج الیکشن کمیشن کو درپیش ہے،پی ٹی آئی

    انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کا چیلنج الیکشن کمیشن کو درپیش ہے،پی ٹی آئی

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کی دستیابی یقینی بنائے –

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا،جس میں انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا گیا،کور کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک میں انتخابی عمل کے آغاز پر سپریم کورٹ کے شکر گزار ہیں ، انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کا چیلنج الیکشن کمیشن کو درپیش ہے ،انتخابی نشان ”بلّے“ کی فوری فراہمی سمیت زیر التوا معاملات پر بلا تاخیر فیصلے کیے جائیں۔

    اعلامیے میں کہا گہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کی دستیابی یقینی بنائے ، اللہ کی رضا سے چیئرمین پی ٹی آئی بطور منتخب وزیراعظم ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے ۔

    عرب مانیٹری فنڈ اور سٹیٹ بینک کے مابین ترسیلات زر میں سہولت کیلئے مفاہمتی یادداشت …

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو 8 فروری 2024 کو ملک میں انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے ملک میں 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس میں صدر مملکت کی جانب سے 8 فروری 2024 کو عام انتخابات سے متعلق دستاویز پر دستخط کے بعد سپریم کورٹ نے کیس نمٹا دیا۔

    حماس کا اسرائیلی فوج پر حملہ، 6 ٹینکوں سمیت 9 فوجی گاڑیاں تباہ

  • 8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،سپریم کورٹ کا حکمنامہ

    8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،سپریم کورٹ کا حکمنامہ

    سپریم کورٹ میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ صدر مملکت سے ہونے والی ملاقات کے منٹس عدالت کو پیش کرنے ہیں ،
    ہم نے منٹس فائل کردیئے ہیں،جواب کے صفحہ دو پر صدر کو لکھا گیا خط ہے،عدالت کے حکم پر اٹارنی جنرل نے لکھے گئے خط پڑھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خط میں یہ آگسٹ کا لفظ سپریم کورٹ کےلئے کیوں لکھا ہے،آئین میں ایسا کچھ نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ممبران میں نثار درانی سندھ سے، شاھد جتوئی بلوچستان سے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے جواب میں صدر کے دستخط کہاں ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر نے مجھے خط لکھا ہے، وہ تھوڑی دیر میں میرے پاس آجائیگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے آج آپ کو اتنا وقت دیا ہے ،دیکھیں آپ حکومت کے نمائندے ہیں،صدر نے ابھی تک یہ نہیں لکھا کہ میں راضی ہوں یا کچھ اور، آپ کو صدر کی جانب سے جو بھی دستاویز آئے وہ ہمیں بھجوا دیجئے گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کیس میں کوئی آئینی تشریح کی ضرورت نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر مملکت کی جانب سے کل کی ملاقات کی ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اس معاملے میں مثبت سوچ رکھنی چاہیئے، ہمیں بہتری کی کوشش کرنی چاہیئے،آپ کے پاس جب صدر کا جواب آئے تو بتائیے گا، ہم اٹھ کر جارہے ہیں پھر واپس آئیں گے، صدر کے جواب آنے تک کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا

    سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل پاکستان ایوان صدر سے سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت پہنچ گئے،سماعت سے قبل اٹارنی جنرل کی چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی،اٹارنی جنرل نے صدر مملکت کا خط چیف جسٹس کو دیا، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کمرہ عدالت پہنچ گیا،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے،اٹارنی جنرل نے صدر مملکت کا خط سپریم کورٹ میں پیش کردیا،صدر مملکت کی جانب سے 8 فروری 2024 کی انتخابات کی تاریخ دینے پر رضامندی ظاہر کی گئی، الیکشن کمیشن نے جواب میں کہا کہ الیکشن کمیشن 8 فرروری کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرائیگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اس پر کسی کو اعتراض ہے؟ اس پر صدر اور الیکشن کمیشن کے ممبران بھی مطمئن ہیں؟ کیا آپ سب خوش ہیں، کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں؟کمرہ عدالت میں موجود پی ٹی آئی کے وکیل سمیت کسی درخواست گزار نے اعتراض نہیں کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی اس ملک میں انتخابات چاہتا ہے، سب لوگ بیٹھ جائیں آرڈر لکھوانے میں وقت لگے گا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی نے بھی آئینی شق کا حوالہ نہیں دیا، اس نقطے پر بحث پھر کبھی کریں گے، عدالت نے تحریری حکمنامہ شروع کردیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ 2 نومبر 2023 کی ملاقات کے بعد انتخابات کی تاریخ پر اتفاق کیا گیا ، قومی اسمبلی وزیراعظم کی ایڈوائس پر 9 اگست کو تحلیل ہوئی ، یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے، قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد انتخابات کی تاریخ پر الیکشن کمیشن اور صدر مملکت میں اختلاف ہوا، وکیل تحریک انصاف علی ظفر کے مطابق صدر مملکت نے 13 ستمبر کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا، صدر نے خط میں لکھا کہ الیکشن کمیشن صوبائی حکومتوں سے مشاورت کر کے تاریخ کا اعلان کرے، صدر کے اس خط پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ کا تاریخ دینے کے معاملے پر کوئی کردار نہیں، صدر مملکت ملک کا اعلی عہدہ ہے، حیرت ہے کہ صدر مملکت اس نتیجے پر کیسے پہنچے، تاریخ دینے کا معاملہ سپریم کورٹ یا کسی اور عدالت کا نہیں، صدر مملکت کو اگر رائے چاہیے تھی تو 186آرٹیکل کے تحت رائے لے سکتے تھے،

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تمام ایڈووکیٹ جنرلز کمرہ عدالت میں موجود ہین؟ ایڈووکیٹ جنرلز روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کسی کو انتخابات کی تاریخ پر اعتراضات تو نہیں؟ایڈوکیٹ جنرلز نے جواب دیا کہ انتخابات کی تاریخ پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں، حکمنامہ میں کہا کہ کسی ایڈووکیٹ جنرل نے انتخابات کی تاریخ پر اعتراض نہیں کیا، سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہی، اعلیٰ آئینی عہدہ ہونے کے ناطے صدر مملکت کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے،پورا ملک اس شش و پنج میں تھا کہ ملک میں عام انتخابات نہیں ہو رہے، آئین اور قانون پر عملدرآمد ہر شہری پر فرض ہے،ہر آئینی ادارہ بشمول الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں، آئین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں، آئین پر علمداری اختیاری نہیں صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی وجہ سے غیر ضروری طور پر معاملہ سپریم کورٹ آیاسپریم کورٹ آگاہ ہے ، صدر اور الیکشن کمیشن کے انتحابات کی تاریح نہ دینے سے پورا ملک بے چینی کا شکار ہوا،یہ خدشہ پیدا ہوا کہ شاید انتحابات ہوں گے ہی نہیں۔ عدالت کو اداروں کا کردار نہیں اپنانا چاہییے،عدالت نے صدر اور ای سی پی کو کسی نتیجے تک پہنچنے میں سہولت فراہم کی جس کے پاس جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی،آئین میں صدر اور الیکشن کمیشن ممبران کے حلف کا ذکر موجود ہے۔آئین کو بنے ہوئے پچاس سال ہو چکے ہیں۔حکمنامہ یہ باتیں کی گئیں کہ ملک میں انتخابات کبھی نہیں ہوں گے یہ آئین کی سکیم ہے کہ سپریم کورٹ کو یہ اختیار نہیں ہے،سپریم کورٹ صرف سہولت کار کے طور پر صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے درمیان مشاورت کا کہہ سکتی ہے،یہ عدالت صرف یہ کہہ سکتی ہے کہ ہر ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ آئین سے انحراف کا کوئی آپشن کسی آئینی ادارے کے پاس موجود نہیں، آئین کو بنے 50 سال گزر چکے، اب کوئی ادارہ آئین سے لاعلم ہونے کا نہیں کہہ سکتا، 15 سال قبل آئین کو پامال کیا گیا، انتخابات کے سازگار ماحول پر بہتری ہر شہری کا بنیادی حق ہے یہ ذمہ داری اُن پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ حلف اُٹھا رکھا ہے چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور صدرمملکت حلف لیتے ہیں عوام کو صدر یا کمیشن آئین کی عملداری سے دور نہیں رکھ سکتے.حادثاتی طور پر پاکستان کی تاریخ میں پندرہ سال آئینی عملداری کا سوال آیا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ صرف آئین پر عمل کریں بلکہ ملکی آئینی تاریخ کو دیکھیں ،آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ ملکی اداروں اور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے ،عدالتوں کو ایسے معاملات کا جلد فیصلہ کرنا پڑے گا ،قومی اسمبلی اس وقت تحلیل ہوئی جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد آئی ،وزیراعظم کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں تھا،اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا ،تحریک عدم اعتماد کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوا،عدالت نے سیاسی معاملے پر از خود نوٹس لیا، صدر مملکت نے تحریک عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی تحلیل کی جو غیر آئینی عمل تھا، تحریک عدم اعتماد کے بعد صدر، وزیراعظم کی ہدایت پر اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے،سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلہ کیا کہ پی ٹی آئی دور میں قومی اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ غیر آئینی تھا،اس وقت کے وزیر اغظم اور صدر مملکت نے جو کیا وہ ان کے اختیار میں نہیں تھااس فیصلے میں دو ججز نے صدر مملکت کے نتائج پر بات کی، اس فیصلہ میں کہا گیا کہ عوامی منتخب نمائندوں کو عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنے سے روکا گیا، چیف جسٹس نے حکمنامہ میں تین نومبر کی ایمرجنسی کا ذکر بھی کر دیا اور کہا کہ آج سے پندرہ سال پہلے آج ہی کے دن آئین پامال ہوا،آئین کی پامالی کا خمیازہ ملک اور عوام کو بھگتنا پڑا۔اسمبلی تحلیل کیس میں ایک جج نے کہا کہ صدر مملکت پر پارلیمنٹ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرے،عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال کیا جو ان کا نہیں تھا،عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا،آئین پر شب خون مارنے کی تاریخ سے سیکھنا ہوگا کہ اِس کے عوام اور ملکی جغرافیائی حدود پر منفی اثرات پڑے،غیر آئینی طور پر اسمبلی تحلیل کرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے، صرف عوام کے مفاد میں آئینی ادارے اہم فیصلے کر سکتے ہیں، امید کرتے ہیں تمام آئینی ادارے مستقبل میں سمجھداری کا مظاہرہ کریں گے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوا ہے ،وقت پر ہوجانے چاہئیں،اس پر منیر احمد نامی شخص کو پریشانی ہوسکتی ہے،منیر احمد ایسے شخص ہیں جس کے لئے وکلا پیش ہونا چاہتے ہیں،منیر احمد ایک پُراسرار شخص ہیں، ہم نے انتخابات کے انعقاد کیلئے سب کو پابند کر دیا،کوئی رہ تو نہیں گیا،میڈیا پر انتخابات سے متعلق مایوسی پھیلانے پر اٹارنی جنرل پیمرا کے ذریعے کارروائی کروائیں،اگر کسی سے فیصلے نہیں ہو پا رہے تو وہ گھر چلا جائے،جس اینکر کو بھی انتخابات وقت پر نہ ہونے کا خدشہ ہے وہ ذاتی محفلوں یا اہلیہ کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کریں ،اگر میڈیا نے شکوک شبہات پیدا کیے تو وہ بھی آئینی خلاف ورزی ہوگی، آزاد میڈیا ہے ہم ان کو بھی دیکھ لیں گے،کسی اینکر یا رپورٹر کو اجازت نہیں کہ مائیک پکڑ کر عوام کو گمراہ کرے، میڈیا انتخابات پر اثرانداز ہوا تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی،میڈیا کو منفی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،انشاء اللہ انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہوں گے آپ نظر رکھیں الیکشن کے حوالے سے کوئی منفی خبر چلائے تو ان کے خلاف ایکشن لیں ،یہ کوئی نہ سوچے کہ انتخابات کی تاریخ عدالت نے دی ہے،ہمیں مثبت سوچ رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا،لائیٹر نوٹ پر سماعت ختم کررہا ہوں کہ انتخابات بخیر و عافیت سے ہونگے،اٹارنی جنرل نے بھی 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد پرکوئی اعتراض نہیں کیا، صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے پورے ملک کی تاریخ دے دی، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے اتفاق کیا کہ انتخابات کا انعقاد بغیر کسی خلل کے ہو گا،اُمید ہے تمام تیاریاں مکمل کرکے الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرے گا،8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت آئین و قانون کی کسی خلاف ورزی کی توثیق نہیں کر رہی،الیکشن کمیشن یقینی بنائے کہ 8 فروری کو انتخابات ہر صورت ہوں، الیکشن کمیشن ہر قدم قانون کے مطابق اٹھائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے عدالت کا دوستانہ چہرہ دیکھا ہے دوسرا چہرا ہم دکھانا نہیں چاہتے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ کیساتھ تمام درخواستیں نمٹا دیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو صدر مملکت سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی تھی ،الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کے بعد انتخابات کی تاریخ کے حوالے عدالت کو آگاہ کرے گا ،الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز عدالت کوگیارہ فروری کے روز انتخابات کرانے کی تاریخ دی ہے ،رات گئے الیکشن کمیشن اور صدر مملکت کے درمیان عدالتی حکم پر ملاقات ہوئی

  • آئندہ عام انتخابات میں بیلپٹ پیپر پر بلے کا نشان بھی ہوگا،چیف الیکشن کمشنر

    آئندہ عام انتخابات میں بیلپٹ پیپر پر بلے کا نشان بھی ہوگا،چیف الیکشن کمشنر

    اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ کوئی شک نہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے مقبول لیڈر ہیں،ماضی میں چیئرمین پی ٹی آئی کو آئیڈلائز کرتا تھا-

    باغی ٹی وی : صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو چاہئیے تھا کہ تحمل سے کام لیتے، میں عمران خان کی دل سے عزت کرتا ہوں، خواہش تھی کہ تمام سیاستدانوں کو ساتھ بٹھاتا اور خواہش تھی کہ چیئرمین پی ٹی آئی سیاسی ماحول میں تحمل کا کردار ادا کرتےمیں ماضی میں چئیرمین پی ٹی آئی کو آئیڈلائز کرتا تھا سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں بیلپٹ پیپر پر بلے کا نشان بھی ہوگا۔

    ’اتوار کو الیکشن کیوں نہیں؟ سوال کے جواب میں چیف الیکشن کمیشن نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ چلیں اس بہانے اسکول کے بچوں کو ایک اور چھٹی مل جائے گی انہوں نے کہا کہ صدر مملکت سے ملنے سے انکار نہیں کیا نہ ملنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کیا، ہم نے عدالت کے حکم پر سب کچھ کیا، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں 11 فروری کی تاریخ دی تھی اور صدر کو بھی اسی تاریخ کا خط لکھا تھا۔

    جی ڈی اے رہنما پیپلز پارٹی میں شامل

    انہوں نے کہا کہ ملاقات میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ 8 تاریخ کو الیکشن ہوں، پہلے بھی فروری میں الیکشن ہوتے رہے ہیں، الیکشن کمیشن کا گراؤنڈ ڈبل کنکریٹ کا ہے، ہمارے لیے سارے ادارے محترم ہیں لیکن الیکشن کمیشن تو اپنے مؤقف پر کھڑا ہے کے پی اور پنجاب اسمبلی تحلیل ہوئی تو ای سی پی نے فیصلہ کیا کہ پورے ملک میں انتحابات ایک ساتھ ہوں، ہر کوئی کہتا ہے الیکشن شفاف ہوں لیکن دوسری جانب مداخلت بھی کی جاتی ہے، صدر مملکت نے ہمیں اچھے طریقے سے ویلکم کیا جس کی تصاویر آپ نے دیکھ لیں ہوں گی۔

    جی ڈی اے رہنما پیپلز پارٹی میں شامل

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ صدر نےہمیں اچھے طریقے سے ویلکم کیا جس کی تصاویر آپ نے دیکھ لی ہوں گی ہماری کوشش تھی کہ اتوار کا روز پولنگ کے لئے اچھا رہے گا لیکن جب چار لوگ مل کر بیٹھتے ہیں تو گنجائش نکل آتی ہے،نتخابات میں فوج ہماری مدد کرے گی، نگران حکومت بنانا الیکشن کمیشن کا کام نہیں لیکن ان کو چیک کرنا ہمارا کام ہے-