Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • 8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،سپریم کورٹ کا حکمنامہ

    8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،سپریم کورٹ کا حکمنامہ

    سپریم کورٹ میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ صدر مملکت سے ہونے والی ملاقات کے منٹس عدالت کو پیش کرنے ہیں ،
    ہم نے منٹس فائل کردیئے ہیں،جواب کے صفحہ دو پر صدر کو لکھا گیا خط ہے،عدالت کے حکم پر اٹارنی جنرل نے لکھے گئے خط پڑھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خط میں یہ آگسٹ کا لفظ سپریم کورٹ کےلئے کیوں لکھا ہے،آئین میں ایسا کچھ نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ممبران میں نثار درانی سندھ سے، شاھد جتوئی بلوچستان سے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے جواب میں صدر کے دستخط کہاں ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر نے مجھے خط لکھا ہے، وہ تھوڑی دیر میں میرے پاس آجائیگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے آج آپ کو اتنا وقت دیا ہے ،دیکھیں آپ حکومت کے نمائندے ہیں،صدر نے ابھی تک یہ نہیں لکھا کہ میں راضی ہوں یا کچھ اور، آپ کو صدر کی جانب سے جو بھی دستاویز آئے وہ ہمیں بھجوا دیجئے گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کیس میں کوئی آئینی تشریح کی ضرورت نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر مملکت کی جانب سے کل کی ملاقات کی ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اس معاملے میں مثبت سوچ رکھنی چاہیئے، ہمیں بہتری کی کوشش کرنی چاہیئے،آپ کے پاس جب صدر کا جواب آئے تو بتائیے گا، ہم اٹھ کر جارہے ہیں پھر واپس آئیں گے، صدر کے جواب آنے تک کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا

    سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل پاکستان ایوان صدر سے سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت پہنچ گئے،سماعت سے قبل اٹارنی جنرل کی چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی،اٹارنی جنرل نے صدر مملکت کا خط چیف جسٹس کو دیا، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کمرہ عدالت پہنچ گیا،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے،اٹارنی جنرل نے صدر مملکت کا خط سپریم کورٹ میں پیش کردیا،صدر مملکت کی جانب سے 8 فروری 2024 کی انتخابات کی تاریخ دینے پر رضامندی ظاہر کی گئی، الیکشن کمیشن نے جواب میں کہا کہ الیکشن کمیشن 8 فرروری کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرائیگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اس پر کسی کو اعتراض ہے؟ اس پر صدر اور الیکشن کمیشن کے ممبران بھی مطمئن ہیں؟ کیا آپ سب خوش ہیں، کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں؟کمرہ عدالت میں موجود پی ٹی آئی کے وکیل سمیت کسی درخواست گزار نے اعتراض نہیں کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی اس ملک میں انتخابات چاہتا ہے، سب لوگ بیٹھ جائیں آرڈر لکھوانے میں وقت لگے گا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی نے بھی آئینی شق کا حوالہ نہیں دیا، اس نقطے پر بحث پھر کبھی کریں گے، عدالت نے تحریری حکمنامہ شروع کردیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ 2 نومبر 2023 کی ملاقات کے بعد انتخابات کی تاریخ پر اتفاق کیا گیا ، قومی اسمبلی وزیراعظم کی ایڈوائس پر 9 اگست کو تحلیل ہوئی ، یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے، قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد انتخابات کی تاریخ پر الیکشن کمیشن اور صدر مملکت میں اختلاف ہوا، وکیل تحریک انصاف علی ظفر کے مطابق صدر مملکت نے 13 ستمبر کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا، صدر نے خط میں لکھا کہ الیکشن کمیشن صوبائی حکومتوں سے مشاورت کر کے تاریخ کا اعلان کرے، صدر کے اس خط پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ کا تاریخ دینے کے معاملے پر کوئی کردار نہیں، صدر مملکت ملک کا اعلی عہدہ ہے، حیرت ہے کہ صدر مملکت اس نتیجے پر کیسے پہنچے، تاریخ دینے کا معاملہ سپریم کورٹ یا کسی اور عدالت کا نہیں، صدر مملکت کو اگر رائے چاہیے تھی تو 186آرٹیکل کے تحت رائے لے سکتے تھے،

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تمام ایڈووکیٹ جنرلز کمرہ عدالت میں موجود ہین؟ ایڈووکیٹ جنرلز روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کسی کو انتخابات کی تاریخ پر اعتراضات تو نہیں؟ایڈوکیٹ جنرلز نے جواب دیا کہ انتخابات کی تاریخ پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں، حکمنامہ میں کہا کہ کسی ایڈووکیٹ جنرل نے انتخابات کی تاریخ پر اعتراض نہیں کیا، سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہی، اعلیٰ آئینی عہدہ ہونے کے ناطے صدر مملکت کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے،پورا ملک اس شش و پنج میں تھا کہ ملک میں عام انتخابات نہیں ہو رہے، آئین اور قانون پر عملدرآمد ہر شہری پر فرض ہے،ہر آئینی ادارہ بشمول الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں، آئین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں، آئین پر علمداری اختیاری نہیں صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی وجہ سے غیر ضروری طور پر معاملہ سپریم کورٹ آیاسپریم کورٹ آگاہ ہے ، صدر اور الیکشن کمیشن کے انتحابات کی تاریح نہ دینے سے پورا ملک بے چینی کا شکار ہوا،یہ خدشہ پیدا ہوا کہ شاید انتحابات ہوں گے ہی نہیں۔ عدالت کو اداروں کا کردار نہیں اپنانا چاہییے،عدالت نے صدر اور ای سی پی کو کسی نتیجے تک پہنچنے میں سہولت فراہم کی جس کے پاس جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی،آئین میں صدر اور الیکشن کمیشن ممبران کے حلف کا ذکر موجود ہے۔آئین کو بنے ہوئے پچاس سال ہو چکے ہیں۔حکمنامہ یہ باتیں کی گئیں کہ ملک میں انتخابات کبھی نہیں ہوں گے یہ آئین کی سکیم ہے کہ سپریم کورٹ کو یہ اختیار نہیں ہے،سپریم کورٹ صرف سہولت کار کے طور پر صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے درمیان مشاورت کا کہہ سکتی ہے،یہ عدالت صرف یہ کہہ سکتی ہے کہ ہر ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ آئین سے انحراف کا کوئی آپشن کسی آئینی ادارے کے پاس موجود نہیں، آئین کو بنے 50 سال گزر چکے، اب کوئی ادارہ آئین سے لاعلم ہونے کا نہیں کہہ سکتا، 15 سال قبل آئین کو پامال کیا گیا، انتخابات کے سازگار ماحول پر بہتری ہر شہری کا بنیادی حق ہے یہ ذمہ داری اُن پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ حلف اُٹھا رکھا ہے چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور صدرمملکت حلف لیتے ہیں عوام کو صدر یا کمیشن آئین کی عملداری سے دور نہیں رکھ سکتے.حادثاتی طور پر پاکستان کی تاریخ میں پندرہ سال آئینی عملداری کا سوال آیا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ صرف آئین پر عمل کریں بلکہ ملکی آئینی تاریخ کو دیکھیں ،آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ ملکی اداروں اور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے ،عدالتوں کو ایسے معاملات کا جلد فیصلہ کرنا پڑے گا ،قومی اسمبلی اس وقت تحلیل ہوئی جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد آئی ،وزیراعظم کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں تھا،اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا ،تحریک عدم اعتماد کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوا،عدالت نے سیاسی معاملے پر از خود نوٹس لیا، صدر مملکت نے تحریک عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی تحلیل کی جو غیر آئینی عمل تھا، تحریک عدم اعتماد کے بعد صدر، وزیراعظم کی ہدایت پر اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے،سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلہ کیا کہ پی ٹی آئی دور میں قومی اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ غیر آئینی تھا،اس وقت کے وزیر اغظم اور صدر مملکت نے جو کیا وہ ان کے اختیار میں نہیں تھااس فیصلے میں دو ججز نے صدر مملکت کے نتائج پر بات کی، اس فیصلہ میں کہا گیا کہ عوامی منتخب نمائندوں کو عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنے سے روکا گیا، چیف جسٹس نے حکمنامہ میں تین نومبر کی ایمرجنسی کا ذکر بھی کر دیا اور کہا کہ آج سے پندرہ سال پہلے آج ہی کے دن آئین پامال ہوا،آئین کی پامالی کا خمیازہ ملک اور عوام کو بھگتنا پڑا۔اسمبلی تحلیل کیس میں ایک جج نے کہا کہ صدر مملکت پر پارلیمنٹ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرے،عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال کیا جو ان کا نہیں تھا،عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا،آئین پر شب خون مارنے کی تاریخ سے سیکھنا ہوگا کہ اِس کے عوام اور ملکی جغرافیائی حدود پر منفی اثرات پڑے،غیر آئینی طور پر اسمبلی تحلیل کرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے، صرف عوام کے مفاد میں آئینی ادارے اہم فیصلے کر سکتے ہیں، امید کرتے ہیں تمام آئینی ادارے مستقبل میں سمجھداری کا مظاہرہ کریں گے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوا ہے ،وقت پر ہوجانے چاہئیں،اس پر منیر احمد نامی شخص کو پریشانی ہوسکتی ہے،منیر احمد ایسے شخص ہیں جس کے لئے وکلا پیش ہونا چاہتے ہیں،منیر احمد ایک پُراسرار شخص ہیں، ہم نے انتخابات کے انعقاد کیلئے سب کو پابند کر دیا،کوئی رہ تو نہیں گیا،میڈیا پر انتخابات سے متعلق مایوسی پھیلانے پر اٹارنی جنرل پیمرا کے ذریعے کارروائی کروائیں،اگر کسی سے فیصلے نہیں ہو پا رہے تو وہ گھر چلا جائے،جس اینکر کو بھی انتخابات وقت پر نہ ہونے کا خدشہ ہے وہ ذاتی محفلوں یا اہلیہ کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کریں ،اگر میڈیا نے شکوک شبہات پیدا کیے تو وہ بھی آئینی خلاف ورزی ہوگی، آزاد میڈیا ہے ہم ان کو بھی دیکھ لیں گے،کسی اینکر یا رپورٹر کو اجازت نہیں کہ مائیک پکڑ کر عوام کو گمراہ کرے، میڈیا انتخابات پر اثرانداز ہوا تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی،میڈیا کو منفی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،انشاء اللہ انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہوں گے آپ نظر رکھیں الیکشن کے حوالے سے کوئی منفی خبر چلائے تو ان کے خلاف ایکشن لیں ،یہ کوئی نہ سوچے کہ انتخابات کی تاریخ عدالت نے دی ہے،ہمیں مثبت سوچ رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا،لائیٹر نوٹ پر سماعت ختم کررہا ہوں کہ انتخابات بخیر و عافیت سے ہونگے،اٹارنی جنرل نے بھی 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد پرکوئی اعتراض نہیں کیا، صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے پورے ملک کی تاریخ دے دی، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے اتفاق کیا کہ انتخابات کا انعقاد بغیر کسی خلل کے ہو گا،اُمید ہے تمام تیاریاں مکمل کرکے الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرے گا،8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت آئین و قانون کی کسی خلاف ورزی کی توثیق نہیں کر رہی،الیکشن کمیشن یقینی بنائے کہ 8 فروری کو انتخابات ہر صورت ہوں، الیکشن کمیشن ہر قدم قانون کے مطابق اٹھائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے عدالت کا دوستانہ چہرہ دیکھا ہے دوسرا چہرا ہم دکھانا نہیں چاہتے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ کیساتھ تمام درخواستیں نمٹا دیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو صدر مملکت سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی تھی ،الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کے بعد انتخابات کی تاریخ کے حوالے عدالت کو آگاہ کرے گا ،الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز عدالت کوگیارہ فروری کے روز انتخابات کرانے کی تاریخ دی ہے ،رات گئے الیکشن کمیشن اور صدر مملکت کے درمیان عدالتی حکم پر ملاقات ہوئی

  • آئندہ عام انتخابات میں بیلپٹ پیپر پر بلے کا نشان بھی ہوگا،چیف الیکشن کمشنر

    آئندہ عام انتخابات میں بیلپٹ پیپر پر بلے کا نشان بھی ہوگا،چیف الیکشن کمشنر

    اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ کوئی شک نہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے مقبول لیڈر ہیں،ماضی میں چیئرمین پی ٹی آئی کو آئیڈلائز کرتا تھا-

    باغی ٹی وی : صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو چاہئیے تھا کہ تحمل سے کام لیتے، میں عمران خان کی دل سے عزت کرتا ہوں، خواہش تھی کہ تمام سیاستدانوں کو ساتھ بٹھاتا اور خواہش تھی کہ چیئرمین پی ٹی آئی سیاسی ماحول میں تحمل کا کردار ادا کرتےمیں ماضی میں چئیرمین پی ٹی آئی کو آئیڈلائز کرتا تھا سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں بیلپٹ پیپر پر بلے کا نشان بھی ہوگا۔

    ’اتوار کو الیکشن کیوں نہیں؟ سوال کے جواب میں چیف الیکشن کمیشن نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ چلیں اس بہانے اسکول کے بچوں کو ایک اور چھٹی مل جائے گی انہوں نے کہا کہ صدر مملکت سے ملنے سے انکار نہیں کیا نہ ملنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کیا، ہم نے عدالت کے حکم پر سب کچھ کیا، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں 11 فروری کی تاریخ دی تھی اور صدر کو بھی اسی تاریخ کا خط لکھا تھا۔

    جی ڈی اے رہنما پیپلز پارٹی میں شامل

    انہوں نے کہا کہ ملاقات میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ 8 تاریخ کو الیکشن ہوں، پہلے بھی فروری میں الیکشن ہوتے رہے ہیں، الیکشن کمیشن کا گراؤنڈ ڈبل کنکریٹ کا ہے، ہمارے لیے سارے ادارے محترم ہیں لیکن الیکشن کمیشن تو اپنے مؤقف پر کھڑا ہے کے پی اور پنجاب اسمبلی تحلیل ہوئی تو ای سی پی نے فیصلہ کیا کہ پورے ملک میں انتحابات ایک ساتھ ہوں، ہر کوئی کہتا ہے الیکشن شفاف ہوں لیکن دوسری جانب مداخلت بھی کی جاتی ہے، صدر مملکت نے ہمیں اچھے طریقے سے ویلکم کیا جس کی تصاویر آپ نے دیکھ لیں ہوں گی۔

    جی ڈی اے رہنما پیپلز پارٹی میں شامل

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ صدر نےہمیں اچھے طریقے سے ویلکم کیا جس کی تصاویر آپ نے دیکھ لی ہوں گی ہماری کوشش تھی کہ اتوار کا روز پولنگ کے لئے اچھا رہے گا لیکن جب چار لوگ مل کر بیٹھتے ہیں تو گنجائش نکل آتی ہے،نتخابات میں فوج ہماری مدد کرے گی، نگران حکومت بنانا الیکشن کمیشن کا کام نہیں لیکن ان کو چیک کرنا ہمارا کام ہے-

  • جعل سازی کی انتہا کر کے مرتضیٰ وہاب میئر بنے، حافظ نعیم

    جعل سازی کی انتہا کر کے مرتضیٰ وہاب میئر بنے، حافظ نعیم

    کراچی: میئر کراچی کو ضمنی بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے درخواست گزار جماعت اسلامی کو الیکشن ٹریبونل سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی: سندھ ہائیکورٹ میں میئرکراچی کو ضمنی بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کیلئے جماعت اسلامی کی درخواست کی سماعت ہوئی، دوران سماعت جماعت اسلامی کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب خلاف قانون غیر متعلقہ یوسیز سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں عدالت نے درخواست گزار کو الیکشن ٹریبونل سےرجوع کرنےکی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ٹریبونل اعتراضات کا جائزہ لے کر فوری فیصلہ کرے۔

    قائم مقام چیف جسٹس عقیل عباسی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ الیکشن جس طرح ہوئے، ہمارے علم میں بھی بہت کچھ ہے، لیکن یہ معاملہ ابھی ہمارے سامنے نہیں، کوئی رائے نہیں دے سکتے، الیکشن بہت اہم معاملہ ہوتا ہے ایسے کیسز کی سماعت روزانہ کی بنیادوں پر ہونی چاہئیں۔

    نگران وزیراعظم اور شاہد آفریدی کے مابین ملاقات

    انہوں نے مزید ریمارکس دئیے کہ جن معاملات میں قانون کی خرابی کا معاملہ ہو ان کی سماعت سب کیسز چھوڑ کر ترجیحاًً کرنا چاہیے، اس معاملے میں ہم سے بھی کوتاہی ہوتی ہے، خود کو بھی قصور وار سمجھتے ہیں، یہ بہت ہی بدقسمتی ہے کہ الیکشن کے معاملات کئی کئی سال چلتے ہیں اور دوسرے الیکشن آجاتے ہیں۔

    سندھ ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو میں حافظ نعیم نے کہا کہ میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے تین مختلف جگہوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، یہ سہولت اور اختیار الیکشن کمیشن نے صرف مرتضیٰ وہاب کو فراہم کیا جعل سازی کی انتہا کر کے مرتضیٰ وہاب میئر بن گئے ہیں، مرتضیٰ وہاب میئر کے عہدے پر رہتے ہوئے الیکشن لڑ رہے ہیں، الیکشن مرتضیٰ وہاب نہیں الیکشن کمشنر سندھ اعجاز چوہان خود الیکشن لڑ رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مرتضیٰ وہاب کو پیراشوٹ میں لاکر میئر بنانے کیلئے ترمیم کی گئی، ہم نے وہ ترمیم عدالت میں چیلنج کر رکھی ہے، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے اس درخواست کو تیزی سے چلانے کا کہا ہے، کراچی کے میئر کا الیکشن بلاول بھٹو اور آصف زرداری پر داغ بن گیا ہے۔

    واٹس ایپ میں نیا فیچر متعارف

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ الیکشن کمیشن پیپلز پارٹی کا کیس لڑ رہا ہے جبکہ ابراہیم حیدری کے امیدواروں کو ڈرایا دھمکایا گیا، اچانک سے چار لوگوں نے ہاتھ اٹھا لیے اور الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کیا پیپلز پارٹی نے وڈیرا شاہی والا کام کرتے ہوئے ابراہیم حیدری سے بلدیاتی ضمنی الیکشن لڑنے کی کوشش بھی نہیں کی، دیکھا جائے تو قانونی طور پر تین جگہ سے الیکشن لڑنے کا قانون ہی موجود نہیں ہے مرتضی وہاب گزری سے الیکشن لڑ رہے ہیں لیکن وہ وہاں رہتے نہیں ہیں، مرتضیٰ وہاب رہتے ڈی ایچ اے میں ہیں لیکن ایڈریس تبدیل کر کے گزری لکھا گیا ہے۔

    حج 2024 کی پروازوں سے متعلق شیڈول جاری

  • فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے پہ آرٹیکل 6 لگ سکتا ہے،علی ظفر

    فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے پہ آرٹیکل 6 لگ سکتا ہے،علی ظفر

    تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایک تاریخی سماعت ہوئی ہے،کوئی کہتا تھا الیکشن ہو گا کوئی کہتا الیکشن نہیں ہو گا یہ ایک پریشانی کا عالم تھا،

    علی ظفرکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا انتخابات 90 روز میں ہی ہونا تھا،الیکشن کمیشن آئین کے مطابق الیکشن شیڈول دے،سپریم کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ چیف الیکشن کمیشن آج ہی صدر سے مشاورت کرے،سپریم کورٹ نے واضح احکامات دئیے ہیں کہ کسی نے خلاف ورزی کی تو وہ نتائج کا خود ذمہ ہو گا،سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے پہ آرٹیکل 6 لگ سکتا ہے،پی ٹی آئی نے ہمیشہ انتخابات کی بات ہے،الیکشن کمیشن نے بھی کہا ہے کہ 11 فروری کو الیکشنز کروانے کے لئے تیار ہیں

    واضح رہے کہ عام انتخابات میں کیس سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئندہ سماعت تک تاریخ طے کرکے آئیں، اٹارنی جنرل آپ صدر سے ملاقات فکس کرائیں ،ہم سماعت کل تک ملتوی کرتے ہیں، جو بھی ملاقات کا نتیجہ ہوگا وہ آرڈرمیں شامل کرینگے، ہم دونوں آئینی ادراوں کے اختیار کم نہیں کررہے ہیں،ہماری گزشتہ سماعت کا حکم نامہ صدر کو دکھائیں،جو تاریخ دی جایے گی اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا، سپریم کورٹ بغیر کسی بحث کے انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے،ہم امید کرتے ہیں عام انتخابات کی تاریخ طے کی جائیگی،اس بارے میں کل عدالت کو آگاہ کیا جائیگا،جو بھی طےہوگا اس پر تمام کے دستخط موجود ہونگے۔ایک دفعہ تاریخ کا اعلان ہو جانے پر تصور کیا جائے یہ پتھر پر لکیر ہو گی،تاریخ بدلنے نہیں دیں گے،ہم اسی تاریخ پر انتخابات کا انعقاد یقینی بنوائیں گے،عدالت اپنے فیصلے پر عمل درآمد کروائیگی ،سماعت کل تک ملتو ی کر دی گئی.

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • صدر سے ملاقات کیلئے چیف الیکشن کمشنر ایوان صدر پہنچ گئے

    صدر سے ملاقات کیلئے چیف الیکشن کمشنر ایوان صدر پہنچ گئے

    صدرمملکت سے ملاقات کیلئے چیف الیکشن کمشنر ایوان صدر پہنچ گئے
    الیکشن کمیشن وفد کی صدر مملکت سے عام انتخابات پر مشاورت جاری ہے،الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کے بعد آج ہی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا ،

    قبل ازیں الیکشن کمیشن نےایوان صدر سے رابطہ کیا ہے،ایوان صدر نے ملاقات کا حتمی وقت آج شام پانچ بجے سے دیا ،الیکشن کمیشن نے تین رکنی وفد کے نام ایوان صدر کو دے دیئے ، صدر مملکت عارف علوی سے الیکشن کمیشن کا تین رکنی وفد ملاقات کرے گا

    قبل ازیں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات ہوئی ہے،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ کا فیصلہ صدرِ مملکت کے حوالے کیا ،اٹارنی جنرل نے صدر پاکستان کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کی درخواست کی ،صدر پاکستان نے الیکشن کمیشن حکام کو ایوان صدر بلانے کی اجازت دے دی

    قبل ازیں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا،اجلاس کی صدرات چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کی،اجلاس میں سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق غور کیا گیا،اجلاس میں صدر مملکت سے ملاقات سے متعلق بھی مشاورت کی گئی.، انتخابی تاریخ سمیت آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا،

    قبل ازیں سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی سپریم کورٹ آمد ہوئی، اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے صدر سے انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کا فیصلہ کرلیا؟سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کیلئے صدر سے مشاورت کا فیصلہ کرلیا ہے، بہت جلد الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کرے گا، اس حوالے سے عدالت کو آگاہ کریں گے،

    واضح رہے کہ عام انتخابات میں کیس سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئندہ سماعت تک تاریخ طے کرکے آئیں، اٹارنی جنرل آپ صدر سے ملاقات فکس کرائیں ،ہم سماعت کل تک ملتوی کرتے ہیں، جو بھی ملاقات کا نتیجہ ہوگا وہ آرڈرمیں شامل کرینگے، ہم دونوں آئینی ادراوں کے اختیار کم نہیں کررہے ہیں،ہماری گزشتہ سماعت کا حکم نامہ صدر کو دکھائیں،جو تاریخ دی جایے گی اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا، سپریم کورٹ بغیر کسی بحث کے انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے،ہم امید کرتے ہیں عام انتخابات کی تاریخ طے کی جائیگی،اس بارے میں کل عدالت کو آگاہ کیا جائیگا،جو بھی طےہوگا اس پر تمام کے دستخط موجود ہونگے۔ایک دفعہ تاریخ کا اعلان ہو جانے پر تصور کیا جائے یہ پتھر پر لکیر ہو گی،تاریخ بدلنے نہیں دیں گے،ہم اسی تاریخ پر انتخابات کا انعقاد یقینی بنوائیں گے،عدالت اپنے فیصلے پر عمل درآمد کروائیگی ،سماعت کل تک ملتو ی کر دی گئی.

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن میں کوئی پیش نہ ہوا

    فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن میں کوئی پیش نہ ہوا

    اسلام آباد،تحریک انصاف کیخلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کی جانب سے کیس متعلق ثبوت فراہم کرنےکے لیے کوئی پیش نہ ہو سکا ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،کیس کی سماعت اکیس نومبر تک کیلئے ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے بعد تحریک انصاف غیر ملکی فنڈنگ ضبطگی کیس میں الیکشن کمیشن نے تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کو انصاف کے تقاضے کے تحت تفصیلی جواب جمع کروانے کی اجازت دی جاتی ہے تحریک انصاف پچاس ہزار روپے الیکشن کمیشن ڈپٹی ڈائریکٹر لا کے دفتر میں جمع کرائے،یہ رقم یتیم خانے کو دی جائے گی

    تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف شو کاز کا حتمی جواب جمع کروائے حتمی جواب جمع نہ کروانے کی صورت میں الیکشن کمیشن کیس نمٹا دے گا ،الیکشن کمیشن دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر حتمی فیصلہ جاری کردے گاحکم نامہ چیف الیکشن کمشنر کے دستخط سے جاری کیا گیا

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • وفاقی وزرا کی سیاسی وابستگی کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    وفاقی وزرا کی سیاسی وابستگی کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    الیکشن کمیشن نے نگراں وفاقی وزرا کے خلاف درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے اور درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ فواد حسن فواد اور احد چیمہ گزشتہ حکومت میں اہم پوسٹوں پر تعینات تھے جبکہ الیکشن کمیشن میں نگراں وفاقی وزرا کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ہے اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سماعت کی ہے۔

    واضح ہے درخواست گزار سید عزیزالدین کا کا خیل الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تو چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ گزشتہ سماعت پر آپ پیش نہیں ہوئے تھے، سید عزیزالدین کا کا خیل نے جواب دیا کہ میں تھوڑا لیٹ ہو گیا تھا معذرت چاہتا ہوں جبکہ چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ حکومت کی طرف سے الیکشن میں کون نمائندگی کررہا ہے۔ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کررہا ہوں۔
    شاہ محمودقریشی؛ سائفر کیس میں دستاویزات فراہمی اور ضمانت کی درخواست سماعت کے لئے منظور
    پولیس پر حملہ اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق

    بشریٰ بی بی کی توشہ اور 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں 15 نومبر تک توسیع
    درخواست گزار نے مؤقف پیش کیا کہ گزشتہ حکومت فواد حسن فواد اور احد چیمہ اہم پوسٹوں پر فائز تھے، احد چیمہ کو معاون خصوصی سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے تاہم چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ آپ کے پاس کیا شواہد ہیں کہ ان کی سیاسی وابستگی ثابت ہوسکے۔ جس پر درخواست گزار نے کہا کہ وزیراعظم بھی سیاسی وابستگی رکھتے ہیں، اور نگراں مشیر احد چیمہ گزشتہ حکومت میں اہم عہدے پر تھے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی نظرمیں وفاقی وزیر اور مشیر غیرجانبدار ہیں، الیکشن کمیشن نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • انتخابات کا وقت قریب ہے،چیف الیکشن کمشنر

    انتخابات کا وقت قریب ہے،چیف الیکشن کمشنر

    لاہور،وزیراعلیٰ ہاؤس میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا

    اجلاس میں الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی ممبران اور پنجاب کی نگران کابینہ نے شرکت کی ،اجلاس میں عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کے انتظامات اور پنجاب حکومت کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا،اجلاس میں عام انتخابات کے لیے سکیورٹی انتظامات پر بھی بریفنگ دی گئی اور اس دوران عام انتخابات کےپرامن، آزادانہ اور منصفانہ انعقاد یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا،عام انتخابات کے سلسلے میں نگران پنجاب حکومت الیکشن کمیشن کے ساتھ کوآرڈینیشن کے لیے فوکل پرسن مقرر کرے گی

    اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر راجہ سلطان سکندر کا کہنا تھا کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے انتخابات کا وقت قریب ہے سب کو مل کر منصفانہ اور شفاف الیکشن یقینی بنانا ہے جس کے لیے الیکشن کمیشن تیار ہے نگران پنجاب حکومت کو فری اینڈ فیئر الیکشن کے لیے مکمل سپورٹ کریں گے، پنجاب حکومت کے اب تک کے اقدامات سے مکمل طور پر مطمئن ہیں30 نومبر تک حلقہ بندیوں کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دے دی

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دے دی

    پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کو جلسوں کی اجازت کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوسری سیاسی پارٹیاں تو کنونشن،جلسے کررہی ہے روزانہ اخباروں میں خبریں بھی آتی ہے، سڑکوں پر جلسہ کرنے کی اجازت تو ہم کسی کو نہیں دے سکتے، کسی گراونڈ میں جلسہ کرسکتے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختون خوا نے عدالت میں کہا کہ عاطف خان اشتہاری ہے، کیسے اشتہاری کے حجرے میں کنونشن کی اجازت دیں؟ جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، کچھ اشتہاریوں کو تو پروٹوکول میں لایا جاتا ہے،

    عدالت نے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر جلسے ، کنونشن کی اجازت نہ دیں تو پھر عدالت میں رجوع کریں،پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے جلسے کی درخواست کو نمٹا دیا

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل میں قید تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے خیبر پختونخوا میں جلسوں کا کہا تھا، حکومت کی جانب سے جلسوں کی اجازت نہ ملنے پر تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی

    فیفا کے وارے نیارے ہوگئے؛ اسپانسر شپ سے ایک بلین ڈالر اضافی کمالیے
    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار
    انتظار ختم! تاریخ کا مہنگا ترین عالمی فٹبال میلہ قطر میں سج گیا:میزبان ملک قطرپہلے میچ میں ہی ہارگیا

  • استحکام پاکستان کو انتخابی نشان عقاب الاٹ

    استحکام پاکستان کو انتخابی نشان عقاب الاٹ

    الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان کو انتخابی نشان عقاب الاٹ کرنے پر محفوظ فیصلہ سنا دیا

    الیکشن کمیشن استحکام پاکستان پارٹی کو عقاب کا انتخابی نشان الاٹ کردیا،الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی کی درخواست منظور کرلی

    اب شاہیں پرواز کرے گا،فردوس عاشق اعوان
    استحکام پاکستان پارٹی کو شاہین کا انتخابی نشان ملنے پر مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ آج استحکام پاکستان پارٹی نے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئی پی پی کو شاہین کا انتخابی نشان الاٹ کر دیا۔ آئی پی پی نے اپنی درخواست میں شاہین کا نشان مانگ رکھا تھا۔ لوگوں کے خدشات دور ہو گئے ہیں۔ اب شاہیں پرواز کرے گا۔ آئی ہی پی شاہین کی طرح ہی بلند سوچ، بلند عمل اور بلند پروزی والی جماعت ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی کی تمام قیادت مبارکباد کی مستحق ہے۔جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان اس شاہیں کے وہ دو "پر” ہیں جس سے آئی پی پی پرواز کرے گی۔خانیوال جلسے سے دو دن قبل یہ خوشخبری جلسے کی خوشی کو دوبالا کر دے گی۔ اب خانیوال جلسے میں "تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا” کا جذبہ دیکھنے کو ملے گا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے پارٹی نشان الاٹ ہونے سے پارٹی مزید مستحکم ہوئی ہے۔

    واضح رہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کی طرف سے الیکشن کمیشن میں نئی درخواست دی گئی تھی جس میں آئی پی پی نے درخواست میں الیکشن کمیشن سے عقاب کا انتخابی نشان مانگا تھا ،پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی رجسٹریشن ختم ہوچکی ہے، عقاب کا نشان اے پی ایم ایل کا تھا، رجسٹریشن ختم ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے قرار دیا تھاکہ اے پی ایم ایل کا انتخابی نشان عقاب اب مختص ہونے کیلئے دستیاب ہے،

    دوسری جانب آل پاکستان مسلم لیگ نے پارٹی رجسٹریشن منسوخی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ،اے پی ایم ایل نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے رجسٹریشن بحال کرنے کی استدعا کر دی،اے پی ایم ایل نے اپنا انتخابی نشان عقاب بھی واپس مانگ کرنے کی استدعا کر دی ، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں،الیکشن کمیشن سیایسی جماعتوں کے انٹراپارٹی انتخابات کے تنازعات پر فیصلہ نہیں کر سکتا، الیکشن کمیشن نے اپنے آئینی و قانونی مینڈیٹ سے تجاوز کیا،الیکشن کمیشن نے آئی پی پی اور جہانگیر ترین کو نوازنے کیلئے انتخابی نشان واپس لیا،

    "استحکام پاکستان پارٹی” نام سے متعلق عون چودھری کی وضاحت

    چھینہ گروپ بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کو تیار

    جہانگیرترین کی پارٹی کا نام الیکشن میں رجسڑیشن سے پہلے ہی الیکشن کمیشن اور اعلی عدلیہ میں چیلنج

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

    استحکام پاکستان پارٹی کی پریس کانفرنس، فواد چودھری "منہ” چھپاتے رہے، تصاویر وائرل