Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • الیکشن کمیشن کا عمران خان،فواد چوہدری ، اسد عمرکے خلاف فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن کا عمران خان،فواد چوہدری ، اسد عمرکے خلاف فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے عمران خان،فواد چوہدری ، اسد عمرکے خلاف فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی :بغاوت پر اکسانے اور الیکشن کمیشن کو دھمکیاں دینے کے کیس میں الیکشن کمیشن نے عمران خان،فواد چوہدری ، اسد عمر کے خلاف فر دجرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 11 جولائی کوعمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے-

    قبل ازیں 17 جون کو بغاوت پر اکسانے اور الیکشن کمیشن کو دھمکیاں دینے کے کیس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری عدالت میں پیش ہوئے تھے عدالت نے کہا تھا کہ 24 جون کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    ڈیرہ مراد جمالی کا فیملی پارک” ویران خانہ” بن گیا

    عدالت نے مقدمے کی نقول فواد چوہدری کو فراہم کردیں اور آئندہ سماعت پر فواد چوہدری کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دیاواضح رہے کہ اس کیس میں فواد چوہدری کو 25 جنوری کو لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا، یکم فروری کو سیشن کورٹ نے ان کو ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا فواد چوہدری کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جو سیکرٹری الیکشن کمیشن کی درخواست پر کیا گیا، فواد چوہدری پر الیکشن کمیشن کو دھمکانے کا الزام ہے۔

    عمران خان جو مرضی اسٹریٹجی اپنائیں،میں اتفاق نہیں کرتا،اسد عمر

    مئی میں 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا،اسٹیٹ بینک

    فواد چوہدری کے وکیل فیصل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہی الزام کے تحت دو جگہ کارروائی نہیں ہوسکتی،الیکشن کمیشن عدالت نہیں بلکہ انتظامی اتھارٹی ہے، اسی معاملے پر عدالت بھی کارروائی کررہی ہے،الیکشن کمیشن کا شوکاز نوٹس مل گیا مگر تاحال تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا، عدالت نے ہماری درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے،

  • ووٹر لسٹوں میں اندراج و اخراج اور درستگی پر ایم کیوایم کا شدید تحفظات کا اظہار

    ووٹر لسٹوں میں اندراج و اخراج اور درستگی پر ایم کیوایم کا شدید تحفظات کا اظہار

    کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کرلیا-

    باغی ٹی وی :ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفٰی کمال کی زیر صدارت بہادر آباد مرکز پر منعقد ہوا، جس میں اراکین سی او سی اور مرکزی الیکشن سیل کے ذمہ داران نے بھی شرکت کی۔

    ترجمان ایم کیو ایم کے مطابق اجلاس میں ووٹر لسٹوں میں اندراج و اخراج اور درستگی کی آخری تاریخ 13 جولائی 2023 دیئے جانے پر شدید تحفظات کا اظہارکیاگیا اجلاس میں ایم کیو ایم کیجانب سے ووٹر اندراج کی تاریخ کو آگے بڑھانے اور درستگی کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو خط ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے-

    الیکشن ایسا ہونا چاہیے جس پر انگلیاں نہ اٹھ سکیں،طلال چاہدری کا کراچی مئیرالیکشنز پر …

    رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ انتخابی شیڈول کے جاری ہونے تک ووٹر لسٹوں م-یں اندراج و اخراج اور درستگی کی جاتی ہے جبکہ اس بار قبل از وقت انتخابی شیڈول سے پہلے ووٹر لسٹوں کے اندراج کی تاریخ کا اعلان پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کیا جارہا ہے، اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے۔

    قبل ازیں رابطہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ ہمارے صبر کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے پیپلز پارٹی اندرون سندھ کے کھیل شہروں میں نہ کھیلے
    پیپلزپارٹی کی بربریت کا منہ توڑ جواب دینے کی طاقت رکھتے ہیں لیکن ہمیں شہر کا امن عزیز ہے-

    پارٹی کارکنان عوامی رابطہ مہم شروع کر دیں،مریم نواز

    علاوہ ازیں ایم کیو ایم پاکستان نے کل تنظیمی ذمہ داران کا اہم اجلاس طلب کر لیا بہادرآباد مرکز پر کل شام 5 بجے تنظیمی ذمہ داران کا اجلاس ہوگا، جس میں پارٹی کے مختلف شعبہ جات کے زمہ داران شرکت کریں گے-

  • عوام کے مینڈیٹ پر قبضے کے پورے عمل کو مسترد کرتے ہیں،حافظ نعیم

    عوام کے مینڈیٹ پر قبضے کے پورے عمل کو مسترد کرتے ہیں،حافظ نعیم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کراچی کے امیرحافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ سندھ اور پاکستان کی تاریخ کا بدترین جمہوری دن ہے ،

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ڈھٹائی اور دلیری سے کراچی کے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ، جمہوریت پر شپ خون مار کر مرضی کا نتیجہ حاصل کیا گیا ،عوام کے مینڈیٹ پر قبضے کے پورے عمل کو مسترد کرتے ہیں ،انشااللہ کراچی کا میئر جماعت اسلامی کا ہی بنے گا ، ح اس میئر شپ کو قبول نہیں کیا جائے گا ،جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے 192 ووٹ تھے ، پیپلزپارٹی کے 173 ووٹ تھے، ہمارے 31 لوگوں کو غائب کردیا گیا ،ہم یہ اغوا اور قبضہ مینڈیٹ کو قبول نہیں کرسکتے 31 لوگ غائب کیے گئے ان کے بغیر انتخاب قبول نہیں کیا جاسکتا ،

    پورے سندھ سے پیپلزپارٹی کا جنازہ نکلے گا،میاں محمد اسلم
    جماعت اسلامی نے میئر کے انتخابی نتائج کیخلاف الیکشن کمیشن جانے کا اعلان کر دیا،نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم کا کہنا ہے کہ ریاستی مشینری کی مدد سے پیپلزپارٹی نے کراچی میں 71 کی تاریخ دوہرا کر عوامی رائے پر شب خون مارا ہے۔ حافظ نعیم کے حامی 30 سے زائد چیئرمین اغوا اور انھیں ووٹ سے محروم کرنا ننگی فسطائیت ہے۔ ان شاء اللہ جماعت اسلامی پر عوام کا اعتماد بڑھے گا۔ پورے سندھ سے پیپلزپارٹی کا جنازہ نکلے گا،

    کراچی میئر الیکشن ، جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ سے نوٹس کا مطالبہ
    جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ آج میئر کراچی الیکشن میں پی پی کی قیادت میں پی ڈی ایم کے اتحاد نے اپنے غیر منتخب سرپرستوں کے تعاون اور سرپرستی سے جو شرمناک کھیل کھیلا وہ جمہوریت کے اوپر ڈاکہ ہے، عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے اور فری الیکشن پراسس کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ صوبائی حکومت,صوبائی پولیس، رینجرز دھونس دھاندلی اور خرید و فروخت کے ذریعے جمہوریت کو کچلا گیا۔ الیکشن کمیشن کراچی میئر انتخاب کو کالعدم کرے۔ پیپلز پارٹی / پی ڈی ایم کی اس شرمناک کاروائی نے آئندہ الیکشن کے اوپر بھی سوالات اُٹھا دیئے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اس کا نوٹس لے۔ پیپلز پارٹی نے اپنی بدترین دھاندلی کی تاریخ دھرائی ہے۔ کراچی میئر الیکشن میں مینڈیٹ پر ڈاکہ آسیب کی طرح پیپلز پارٹی کا پیچھا کرے گا.

    پیپلز پارٹی کے امیدوار نے اب تک 173 ووٹ حاصل کیے اور کامیاب قرار پائے،

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر کراچی میئر الیکشن کے اغوا، ووٹوں کی خریداری، دھونس دھاندلی کے خلاف 16 جون بروز جمعۃ المبارک ملک گیر یوم سیاہ منایا جائے گا۔

    اپنی حفاظت کرنا سب کا فرض ہے حکومت بھی مدد کررہی ہے . وزیراعلیٰ سندھ

    سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی ڈویژن کی 40 عمارتوں کو مکمل مخدوش قرار 

    سمندری طوفان ”بائے پرجوائے“ کے پیش نظربھارت کی سات ریاستوں میں الرٹ جاری
    سمندری طوفان ’’بائے پرجوائے‘‘ کا کراچی سے فاصلہ 850 کلومیٹر رہ گیا

     جوائے کے پیشِ نظر کراچی پورٹ پر الرٹ جاری

     پی آئی اے کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل 

    ہ آج پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک تاریخی کامیابی ملی ہے

  • کراچی میئرالیکشن،جماعت اسلامی کا جمعہ کو یوم سیاہ منانے کا اعلان

    کراچی میئرالیکشن،جماعت اسلامی کا جمعہ کو یوم سیاہ منانے کا اعلان

    جماعت اسلامی نے چیف الیکشن کمشنر کے نام خط لکھ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت کے چاق و چوبند دستوں نے پی ٹی آئی کے 29 ارکان کو اغواء کرکے ووٹ ڈالنے سے روک دیا۔

    جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اس فراڈ عمل کو کالعدم قرار دے اور نیا شیڈول جاری کرے۔ الیکشن کمیشن پاکستان کا بنیادی مقصد صاف و شفاف الیکشن کروانا ہے۔الیکشن کمیشن انصاف و شفاف انتخابات کروانے میں مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے۔ ہم نے ہر موقع پر الیکشن کمیشن کو خطوط کے ذریعے سندھ حکومت کے غیر آئینی و غیر جمہوری عمل کے اقدامات سے آگاہ کرتے رہے۔ الیکشن کمیشن ہمیشہ کی طرح خاموش تماشائی بنا رہا۔ مئیر کے انتخاب کے موقع پر حال کے دروازے بند کردیے گئے اور پی ٹی آئی 29 ممبران کو اس عمل سے اپنی ایلیٹ فورس کے ذریعے گھروں سے جبری اغواء کرکے روک دیا گیا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حاضری مکمل کی جاتی اور پھر مئیر کے انتخاب کا عمل شروع کیا جاتا۔ لیکن بر قسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا۔ الیکشن کمیشن نے اپنا کردار ادا نہیں کیا اور بے رحمی سے مینڈیٹ کا قتل کیا گیا۔اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا گیا یہ حقیقی مینڈیٹ کے ساتھ دھوکا اور جبری قبضہ ہے۔مینڈیٹ پر قبضہ کے نتائج شہر اور ملک کے حق میں بہتر نہیں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ کراچی میں میئر کے انتخابات ہوئی، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان ہار گئے، پی پی کے مرتضیٰ وہاب جیت گئے، اس دوران جماعت اسلامی نے احتجاج کیا، جماعت اسلامی کے کارکنان پر پولیس نے تشدد کیا، کئی کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ،

    دوسری جانب امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ منتخب نمائندوں کے اغوا، ووٹوں کی خریداری، دھونس دھاندلی سے میئر کراچی کا الیکشن آئین و جمہوریت پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر جمہوریت کو اس طرح مسلسل مذاق بنایا جائے گا تو اس پر لوگوں کا رہا سہا اعتماد بھی ختم ہو جائے گا۔ الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت کی ملی بھگت بھی واضح ہے، بلدیاتی اور میئر الیکشن میں اس نے سندھ حکومت کے طفیلی ادارے کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ شفاف قومی انتخابات کےلیے الیکشن کمیشن نے اپنی وقعت کھو دی ہے۔

    پیپلز پارٹی کے امیدوار نے اب تک 173 ووٹ حاصل کیے اور کامیاب قرار پائے،

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر کراچی میئر الیکشن کے اغوا، ووٹوں کی خریداری، دھونس دھاندلی کے خلاف 16 جون بروز جمعۃ المبارک ملک گیر یوم سیاہ منایا جائے گا۔

    نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم نے کہا کہ ریاستی مشینری کی مدد سے پیپلزپارٹی نے کراچی میں 71 کی تاریخ دوہرا کر عوامی رائے پر شب خون مارا ہے۔ حافظ نعیم کے حامی 30 سے زائد چیئرمین اغوا اور انھیں ووٹ سے محروم کرنا ننگی فسطائیت ہے۔ ان شاء اللہ جماعت اسلامی پر عوام کا اعتماد بڑھے گا۔ پورے سندھ سے پیپلزپارٹی کا جنازہ نکلے گا،

    محمد اصغر، ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی 1970 سے دھاندلی کی سیاست اور اخلاقی کرپشن کر رہی ہے ۔ پیپلزپارٹی کا پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے صفایا ہو چکا ہے۔ عالمی اور مقامی مافیاز کے ساتھ مل کر سندھ پر قبضہ کر رکھا ہے۔ آج کراچی کے میڈیٹ پر شب خون مارا ہے۔ یہ ہرگز ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ پیپلزپارٹی کی بدمعاشی نہیں چلنے دیں گے

    اپنی حفاظت کرنا سب کا فرض ہے حکومت بھی مدد کررہی ہے . وزیراعلیٰ سندھ

    سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی ڈویژن کی 40 عمارتوں کو مکمل مخدوش قرار 

    سمندری طوفان ”بائے پرجوائے“ کے پیش نظربھارت کی سات ریاستوں میں الرٹ جاری
    سمندری طوفان ’’بائے پرجوائے‘‘ کا کراچی سے فاصلہ 850 کلومیٹر رہ گیا

     جوائے کے پیشِ نظر کراچی پورٹ پر الرٹ جاری

     پی آئی اے کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل 

    ہ آج پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک تاریخی کامیابی ملی ہے

  • عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کی کارروائی روکنے کے حکم میں توسیع

    عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کی کارروائی روکنے کے حکم میں توسیع

    اسلام آباد: عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کارروائی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائرکررکھی ہے-

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں عمران خان کے وکیل خواجہ حارث عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے امجد پرویز پیش ہوئے۔سابق وزیر اعظم نے توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کررکھا ہے گزشتہ سماعت پر عدالت نے توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روک دیا تھا

    خواجہ حارث نے آئندہ ہفتے تک کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی، الیکشن کمیشن کے وکیل نے ٹرائل کورٹ کو کاروائی سے روکنے کا حکم واپس لینے کی استدعا کردی، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت نے ٹرائل کورٹ کی کاروائی کو روک رکھا ہے ،اگر یہ وقت مانگ رہے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ،عدالت ٹرائل کورٹ کو کاروائی سے روکنے کا حکم واپس لے لے ، عدالت اسٹے ختم کرکے ٹرائل کورٹ کو حتمی فیصلہ جاری کرنے سے روک سکتی ہے ،عدالت سے اسٹے ختم کرنے کی استدعا ہے ،میں نے ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق بھی درخواست دائر کر رکھی ہے ،چھ ہفتے تک کا وقت دیا گیا تھا ابھی تک ٹرائل کورٹ کی کاروائی رکی ہوئی ہے ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی ٹرائل کورٹ کاروائی روکنے کے حکم میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے 14 جون تک توسیع کردی

    دوسری جانب انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آبادمسابق وزیراعظم کے وکیل نعیم پنجوتھا اور علی اعجاز بٹر عدالت پیش ہوئے وکیل نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے وکیل سلمان صفدر ایک گھنٹے تک آرہے ہیں،سابق وزیراعظم لاہور سے اسلام آباد آ رہے، سابق وزیراعظم کے ایک اور کیس میں سلمان صفدر اس وقت کچہری میں مصروف ہیں،سابق وزیراعظم کے خلاف آج 18 کیسز ہیں، اے ٹی سی جج نے ہدایت کی کہ آپ لوگ اپنی مینجمنٹ کے حساب سے عدالت پیش ہو جائیں، کیا چیرمین پی ٹی آئی شامل تفتیش ہوئے؟ وکیل نے کہا کہ تحریری جواب جمع کروا دیاہے جو وصول بھی کرلیا گیا ہے، اےٹی سی نے زاتی حیثیت میں شاملِ تفتیش کے حوالے سے قانونی نکات پر معاونت طلب کرلی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جوادعباس نے سماعت میں وقفہ کردیا

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

  • سیاسی رہنماؤں کیخلاف ٹرائل،عمران خان کے خلاف کیوں نہیں؟محسن شاہنواز رانجھا

    سیاسی رہنماؤں کیخلاف ٹرائل،عمران خان کے خلاف کیوں نہیں؟محسن شاہنواز رانجھا

    رہنما مسلم لیگ ن محسن شاہنواز رانجھا نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں یہ سوچتی ہیں کہ جو سہولت آج عمران خان کو دی جا رہی ہے یہ سہولت نوازشریف کو تو میسر نہیں تھی نواز شریف  کے خلاف جو نیب ریفرنس چل رہا تھا اسکے اوپر تو مانیٹرنگ جج بٹھایا گیا تھا اور روزانہ کی بنیاد پہ اس کی سماعت ہوا کرتی تھی

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے ن لیگی رہنما محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ "فری اینڈ فیئر ٹرائل” ہر پاکستانی کا حق ہے توشہ خانہ کا فری اینڈ فیئر ٹرائل ہونا چاہیے عمران خان کو وہاں اپنی شہادتیں پیش کرنی چاہیے اگر نوازشریف اور اور پاکستان کے باقی سیاسی رہنماؤں کے خلاف ٹرائل ہوسکتا ہے تو عمران خان کے خلاف ٹرائل کیوں نہیں ہو سکتا؟ چیئرمین پی ٹی آئی نے دستاویزات میں اپنے اثاثے چھپائے ،ہم نے بھی ریفرنس دائر کیا ہوا ہے، آپ نے چوری کی ہے اور حکومت میں وزیراعظم ہونے کی وجہ سے دبا رہے تھے، اب چوری سامنے آ گئی ہے، عمران خان کو اپنی شہادتیں پیش کرنی چاہئے اگر آصف زرداری، نواز شریف کا ٹرائل ہو سکتا ہے تو عمران خان کا کیوں نہیں ہو سکتا، دو قانون کی پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ فوجداری کاروائی قانون کے مطابق ہونی چاہئے، سیشن کورٹ کی کارروائی ہائیکورٹ کیسے معطل کر دیتی ہے قانون میں نہیں لکھا کہ 120 دن گزرنے کے بعد الیکشن کمیشن کارروائی نہیں کر سکتا

    محسن شاہ نواز رانجھا کا کہنا تھا کہ ملک میں عام شخص اورعمران خان کے ساتھ عدالتی نظام کا برتاؤ مختلف ہے تحریکِ انصاف کے لیے تمام عدالتیں مختلف رویہ رکھتی ہیں ،ثاقب نثار کی باقیات آج بھی متحرک ہیں عمران خان کو 2018 انتخابات میں نقل مار کر پاس کروایا گیا جیسی آوازیں عمران خان کے لیے عدلیہ سے پہلے آتی تھیں آج بھی ویسی ہی آ رہی ہیں نواز شریف پر تنخواہ کا الزام تھا جس پر انہیں تا حیات نااہل کردیا گیا اوراب عمران خان سر پر ٹوکری پہن کر ملک میں گھوم رہے ہیں

    پاکستان میں توقع سے بڑھ کر پیار ملا، بھارتی برج ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، کھلاڑیوں کا شاہی قلعہ کا دورہ

    عمران خان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے لائینگے، انہیں کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

  • الیکشن کمیشن نے گرفتار بلدیاتی نمائندوں سے متعلق چیف سیکرٹری سندھ کو خط لکھ دیا

    الیکشن کمیشن نے گرفتار بلدیاتی نمائندوں سے متعلق چیف سیکرٹری سندھ کو خط لکھ دیا

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے کراچی میں گرفتار بلدیاتی نمائندوں سے متعلق چیف سیکرٹری سندھ کو خط لکھ دیا۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 15 جون کو سندھ بھر کے تمام منتخب بلدیاتی منتخب نمائندوں کو ووٹ دینے کا حق دینے کے لئے تمام گرفتار منتخب نمائندوں کی ہیڈ آف کونسلز کے انتخابات میں حاضری کو یقینی بنانے کا حکم نامہ جاری کردیا۔

    ینگ ڈاکٹرزکی ہڑتال:عدالت نے پنجاب حکومت اور سیکرٹری صحت سے جواب طلب کرلیا

    الیکشن کمیشن نے 15جون کوہونےوالے میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین، وائس چیئرمین سمیت تمام کونسلز کے ہیڈ کے انتخابات کے لیے خط لکھا-

    الیکشن کمیشن کی جانب سے چیف سیکرٹری سندھ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں گرفتار منتخب بلدیاتی نمائندوں کو پروڈکشن آرڈر کے تحت ووٹ ڈالنے کے لیے حاضر کیا جائے، اور چیف سیکرٹری سندھ تمام منتخب نمائندوں کی حاضری الیکشن کے روز یقینی بنائیں۔

    عثمان بزدار،فرح گوگی اور بشری بی بی کے بیٹے سمیت 8 افراد کے خلاف مقدمہ …

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ صاف و شفاف الیکشن کے لیے تمام منتخب نمائندوں کی موجودگی کے انتظامات کیے جائیں اور کراچی میں گرفتار منتخب بلدیاتی نمائندوں کو پروڈکشن آرڈر کے تحت ووٹ ڈالنے کے لیے حاضر کیا جائے۔

  • پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،چیف الیکشن کمشنر کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،چیف الیکشن کمشنر کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس سے متعلق شوکازنوٹس پر سماعت ہوئی،

    تحریک انصاف کے وکیل انور منصور نے کہا اس وقت معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے اس وقت تحریک انصاف کے عہدیدار روپوش اور دفاتر بند ہیں ،نا معلوم افراد آفس سے تمام ریکارڈ اٹھا کرلے گئے ریکارڈ کے حصول کیلئے مختلف سورسز سے کوشش کررہا ہوں ، الیکشن کمیشن کے ممبر نثار درانی نے کہا کہ ریکارڈ آپکے اور ہمارے پاس موجود ہے ، انور منصور نے کہا کہ ہم نے بیرون ملک سے مزید ریکارڈ بھی منگوایا تھا ریکارڈ کی عدم موجودگی پرکیا دلائل دوں؟

    چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس ممنوعہ فنڈنگ کی ضبطگی سے متعلق ہے، الیکشن کمیشن نے حقائق کی بنیاد پرمرکزی کیس پر حتمی فیصلہ سنا دیا الیکشن کمیشن نے فنڈنگ ضبطگی کا کیس 10 ماہ قبل شروع کیا 10 ماہ بعد بھی آج تک جواب جمع نہیں کرایا گیا ،

    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں جب پی ٹی وکیل انور منصور نے کہا کہ اس وقت ایک سیاسی جماعت پر زمین بہت زیادہ تنگ کردی گئی ہے اس پر الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے ریمارکس دئیے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں پر ایسے حالات آتے رہتے ہیں اس پر بہت زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    میاں بیوی نے مل کر قومی خزانے کو لوٹا، مریم نواز کا عمران خان کی نااہلی پر ردعمل

    ویڈیو، اللہ کرے میں نااہل ہو جاؤں، عمران خان اپنی نااہلی کو بھی درست قرار دے چکے

  • الیکشن کمیشن نے صدر کو ایک دن انتخابات کی ایڈوائس کیوں نہیں دی؟ چیف جسٹس

    الیکشن کمیشن نے صدر کو ایک دن انتخابات کی ایڈوائس کیوں نہیں دی؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ، پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت شروع ہو گئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں ،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ اس سے پہلے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل دلائل دیں میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، گزشتہ روز عدالت کی جانب سے کچھ ریمارکس دئے گئے،عدالت نے کہا جو نکات پہلے نے نہیں اٹھائے وہ اب کیوں رکھ رہے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ گھبرا کیوں رہے ہیں آپ نے گھبرانا نہیں ہے، یہ عدالت سماعت کیلئے بیٹھی ہے کوئی معقول نقطہ اٹھائیں سن کر فیصلہ کریں گے،آپ نے نکات بے شک اٹھائے لیکن ان پر بحث نہیں کی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل عدالت میں کہا گیا الیکشن کمیشن کے اٹھائے گئے نکات پہلے کیوں نہیں اٹھائے گئے تھے ،دوسرا نقطہ تھا وفاقی حکومت پہلے چار تین کے چکر میں پڑی رہی، ایک صوبے میں انتخابات ہوں تو قومی اسمبلی کا الیکشن متاثر ہونے کا نقطہ پہلے اٹھایا گیا تھا، اپنے جواب میں 4/3 کا فیصلہ ہونے کا ذکر بھی کیا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی معقول نقطہ اٹھایا گیا تو جائزہ لے کر فیصلہ بھی کریں گے، کل نظر ثانی کے دائرہ اختیار پر بات ہوئی تھی ماضی کو حکومت کے خلاف استعمال نہیں کریں گے، حکومت کی نہیں اللہ کی رضا کے لیے بیٹھے ہیں، بہت سی قربانیاں دے کر یہاں بیٹھے ہیں ،آپ اپنے ساتھیوں سے کہیں کہ ہمارے دروازے پر ایسی باتیں نہ کریں، ایوان میں گفتگو بھی سخت نہ کیا کریں ہم اللہ کے لیے کام کرتے ہیں اس لیے چپ بیٹھے ہیں ،جس ہستی کا کام کر رہے ہیں وہ بھی اپنا کام کرتی ہے،آپ صفائیاں نہ دیں عدالت صاف دل کے ساتھ بیٹھی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کو بھی خوش آمدید کہا گڈ ٹو سی یو کہا ،ہماری ہرچیز درست رپورٹ نہیں ہوتی،کہا گیا عمران خان کو عدالت نے مرسیڈیز دی تھی، میں تو مرسیڈیز استعمال ہی نہیں کرتا، پولیس نے عمران خان کی مرسیڈیز کا بندوبست کیا تھا، اس بات کو پتہ نہیں کیا سے کیا بنا دیا گیا ، پی آر او نے وضاحت کی اسے بھی غلط طریقے سے پیش کیا گیا ، ہم نے توآپ کو دیکھ کرکھلے دل سے”گڈ ٹو سی یو” کہا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسی اورطریقے سے کہی گئی باتیں رپورٹ ایسے ہوئیں کہ ان سے تاثرغلط گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ پرسکون رہیں بیٹھ جائیں،ابھی الیکشن کمیشن کے وکیل کوسنتے ہیں پھرآپکے مفید دلائل بھی سنیں گے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل کا آغاز کردیا ،سجیل سواتی وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ہمیشہ آئین کی تشریح زندہ دستاویز کے طور پر کرتی ہے،انصاف کا حتمی ادارہ سپریم کورٹ ہے اس لئے دائرہ کار محدود نہیں کیا جا سکتا، مکمل انصاف اور آرٹیکل 190 کا اختیار کسی اور عدالت کو نہیں ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظیروں کے مطابق نظر ثانی اور اپیل کے دائرہ کار میں فرق ہے،اس سوال کا جواب آپ نے کل سے نہیں دیا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دائرہ کار پر آپ کی دلیل درست مان لیں تو سپریم کورٹ رولز کالعدم ہو جائیں گے، سپریم کورٹ رولز میں نظر ثانی پر ابھی تک کوئی ترمیم نہیں کی گئی، دائرہ کار بڑھایا تو کئی سال پرانے مقدمات بھی آ جائیں گے،کیسے ہو سکتا ہے سپریم کورٹ رولز کا نظرثانی سے متعلق آرڈر 26 پورا لاگو نہ ہو، آرڈر 26 پورا لاگو نہ ہونے سے نظر ثانی دائر کرنے کی مدت بھی ختم ہو جائے گی، کیا دس سال بعد کوئی نظر ثانی دائر کر کے کہہ سکتا ہے رولز مکمل لاگو نہیں ہوتے، آپ کو شاید اپنی دلیل مانے جانے کے نتائج کا اندازہ نہیں ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نظر ثانی دائر کرنے کے لیے مدت ختم نہیں ہونی چاہیئے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ 70 سال میں یہ نقطہ آپ نے دریافت کیا ہے تو نتائج بھی بتائیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی کا دائرہ کار سپریم کورٹ رولز میں موجود ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ رولز نظر ثانی کے آئینی اقدام پر قدغن نہیں لگا سکتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 184/3 کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے،احساس ہوا ہے کہ اس سے غلطیاں بھی ہوسکتی ہیں، آپ کی نظر میں نظر ثانی کا دائرہ محدود ہونا درست نہیں ہے، آپ چاہتے ہیں نظر ثانی میں دائرہ وسیع کیا جائے،اب اصل مقدمہ کی جانب آئیں اس پر بھی دلائل دیں،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ دینے کا معاملہ پہلی بار عدالت آیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت توقع کرتی ہے کہ ایسے قانون کے حوالے بھی دئیے جائیں گے، الیکشن کمیشن نے کہا تھا سکیورٹی اور فنڈز دے دیں انتخابات کروا دیں گے، اب ان تمام نکات کی کیا قانونی حیثیت ہے، نو رکنی بینچ نے اپنے حکم میں اہم سوالات اٹھائے تھے،سیاسی جماعتوں کے مفادات کہیں اور جڑے ہوئے تھے،قانونی نکات پر دلائل کی بجائے بینچ پر اعتراض کیا گیا، نو رکنی بینچ سے پانچ رکنی بینچ بنا وہ بھی عدالتی حکم پر، سات رکنی بینچ عدالت کے حکم پر بنا ہی نہیں تو 4/3 کا فیصلہ کیسے ہو گیا، عدالت دو منٹ میں فیصلہ کر سکتی ہے کہ نظر ثانی درخواست خارج کی جاتی ہے،عدالت قانونی نکات پر سن کر فیصلہ کرنا چاہتی ہے ، آسانی سے کہہ سکتے ہیں آپ نے سواری مس کر دی، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن نے صدر کو خط لکھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر کو وہ صورتحال نہیں بتائی جو عدالت کو اب بتا رہے ہیں ، صدر کو خط صرف تاریخ دینے کا لکھا گیا تھا، سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے کی کوشش کرتا ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں تو نظر ثانی دائر کرنے کی مدت بھی نہیں دی گئی، کیا فیصلے کے بیس سال بعد نظر ثانی دائر ہو سکتی ہے ،اگر نظر ثانی کی مدت والا رول لاگو ہو سکتا ہے تو دائرہ کار کیسے نہیں ہو گا، وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ رولز بنانے والوں نے دائرہ کار آئینی مقدمات میں محدود نہیں رکھا ،ملک کے تین بہترین ججز کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر رہا ہوں،وقت کے ساتھ قانون تبدیل ہوتا رہتا ہے ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر کو ایک دن انتخابات کی ایڈوائس کیوں نہیں دی؟ الیکشن کمیشن نے صدر کو نہ سکیورٹی کا بتایا نہ فنڈز کا، زمینی حالات کا ذکر کیے بغیر کہا جا رہا ہے آرٹیکل 218/3 کے تحت مزید اختیارات دئیے جائیں ، آئین اختیار دیتا ہے تو استعمال کرنے سے پہلے آنکھیں اور ذہن بھی کھلا رکھیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تلور کے شکار والے کیس میں بھی عدالت نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی، 16 ہزار ملازمین کے کیس میں نظر ثانی خارج ہوئی لیکن عدالت نے 184/3 اور 187 کا اختیار استعمال کیا، ججز کیس میں بھی عدالت نے اپنا فیصلہ خود تبدیل کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ججز کیس میں سوموٹو نظر ثانی کی تھی ،ملازمین کیس میں اقلیتی نوٹ ہے کہ خارج شدہ نظرثانی آرٹیکل 187 میں بحال نہیں ہوسکتی، وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ دہشتگردی کیس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا دوسری نظرثانی درخواست نہیں ہوسکتی لیکن عدالت خود فیصلے کا جائزہ لے سکتی ہے، الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے جسٹس فائز عیسی کیس کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی نظرثانی درخواست میں بھی عدالت نے اپنا فیصلہ واپس لیا تھا، کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی،

    نگران پنجاب حکومت نے صوبہ پنجاب میں فوری الیکشن کی مخالفت کر دی

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

  • تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    پنجاب کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دو صوبوں کے عوام کے حقوق انتخابات سے جڑے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے، چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہیں۔

    آئندہ سماعت پر عثمان بزدار پیش نہ ہوئے تو ضمانت خارج کردی جائے گی،عدالت

    سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی روسٹرم پر آگئے، ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب حکومت کا جواب ابھی ملا ہے، پی ٹی آئی نے تحریری جواب جمع نہیں کرایا، کوئی بھی جواب پہلے سے مجھے فراہم نہیں کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شاید تحریک انصاف نے جواب جمع نہیں کرایا وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ کوئی بھی جواب پہلے سے فراہم نہیں کیا گیا ،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم آپ کی مدد کریں کہ جوابات میں کیا کہا گیا ہےپہلے یہ بتانا ہے کہ کیسے نظرثانی درخواست میں نئے گراؤنڈز لے سکتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جواب کا جائزہ لینے کیلئے وقت دیا جائے، نظرثانی اختیار کا آرٹیکل 188 اختیارات کو محدود نہیں کرتاچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین پاکستان نظرثانی کی اجازت دیتا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھایا جا سکتا ہے، کم نہیں کیا جاسکتا، نظرثانی کا دائرہ اختیار دیوانی، فوجداری مقدمات میں محدود ہوتا ہے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی حقوق کیلئے رجوع کرنا سول نوعیت کاکیس ہوتا ہے۔

    کراچی میں پولیس اہلکار کو شہید کرنیوالا ملزم سوئیڈن سے گرفتار

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 184(3) کے تحت کارروائی سول نوعیت کی نہیں ہوتی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 184(3) کا ایک حصہ عوامی مفاد، دوسرا بنیادی حقوق کا ہے، اگر انتخابات کا مقدمہ ہائیکورٹ سے ہو کر آتا تو کیا سول کیس نہ ہوتا وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ہائیکورٹ کا آئینی اختیار سپریم کورٹ سے زیادہ ہے۔

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا، اور الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل مسترد کرنے کی استدعا کردی۔

    تحریک انصاف نے اپنے جواب میں مؤقف پیش کیا کہ نظرثانی اپیل میں الیکشن کمیشن نے نئے نکات اٹھائے ہیں، جب کہ نظرثانی اپیل میں نئے نکات نہیں اٹھائےجاسکتے۔

    تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نظر ثانی اپیل میں نئے سرے سے دلائل دینا چاہتا ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں کوئی تاریخ نہیں دی، بلکہ 90 روز میں انتخابات کے لئے ڈیڈ لائن مقرر کی، انتخابات کے لئے 30 اپریل کی تاریخ صدر مملکت نے دی، جب کہ الیکشن کمیشن نے 30 اپریل کی تاریخ کو تبدیل کردیا، سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن کے جائزہ لینے کا اختیار ہے۔

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

    تحریک انصاف نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن چاہتا ہے سپریم کورٹ نظریہ ضرورت کو زندہ کرے، نظریہ ضرورت دفن کیا چکا جسے زندہ نہیں کیا جاسکتا، 90 روز میں الیکشن آئینی تقاضہ ہے، آرٹیکل218 کی روشنی میں آرٹیکل 224 کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    تحریک انصاف نے مؤقف پیش کیا کہ آئین اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیتا ہے، آئین میں نہیں لکھا تمام انتخابات ایک ساتھ ہوں گے، الیکشن کمیشن کے کہنے پر سپریم کورٹ آئین میں ترمیم نہیں کرسکتی، آئین کے بغیر زمینی حقائق کو دیکھنے کی دلیل نظریہ ضرورت ہے، ایسی خطرناک دلیل ماضی میں آئین توڑنے کےلئے استعمال ہوئی، عدالت ایسی دلیل کو ہمیشہ کے لئے مسترد کرچکی ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ انتحابات سے کروڑوں عوام کے حقوق جڑے ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا کےعوام کے حقوق انتخابات سے جڑے ہیں، عوامی مفاد تو 90 روز میں انتخابات ہونے میں ہے-

    109 ملین پاؤنڈز کیس میں نیب میں پیشی: عمران خان سے پوچھ گچھ مکمل

    جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کے لیے عدالت سے رجوع کرنا سول نوعیت کا کیس ہوتا ہے وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184 تھری کے تحت کارروائی سول نوعیت کی نہیں ہوتی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 184 تھری کا ایک حصہ عوامی مفاد اور دوسرا بنیادی حقوق کا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نےکہا کہ اگر انتخابات کا مقدمہ ہائی کورٹ سے ہوکر آتا تو کیا سول کیس نہ ہوتا؟وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کا آئینی اختیار سپریم کورٹ سے زیادہ ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے مطابق نظرثانی کا دائرہ اختیارنہیں، طریقہ کار محدود ہے-

    چسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ عدالت نظرثانی کیس میں اپنے دائرہ اختیار کا فیصلہ کیوں کرے، نظرثانی کیس میں آپ کا مؤقف ہےکہ دائرہ محدود نہیں،کیا یہ بنیادی حقوق کے مقدمہ کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں،سپریم کورٹ کیوں اپنے دائرہ اختیارمیں ابہام پیدا کرے-

    چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ اپنے دائرہ کار کو یکجا کر کے استعمال کر سکتی ہے۔وکیل الیکشن کمیشن نے مؤقف اپنایا کہ آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، اپیل کا حق نہ ہونے کی وجہ سے نظرثانی کا دائرہ محدود نہیں کیا جا سکتا عدالت کو نظرثانی میں انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہے، عدالت کو نظرثانی میں ضابطہ کی کارروائی میں نہیں پڑنا چاہیے، آئینی مقدمات میں نیا نقطہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

    نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

    جسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ 184(3) میں نظرثانی کواپیل کی طرح سماعت کریں۔ جس پر وکیل نے کہا کہ 184(3) میں نظرثانی دراصل اپیل ہی ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے دلائل میں بڑے اچھے نکات اٹھائے ہیں، لیکن ان نکات پرعدالتی حوالہ جات اطمینان بخش نہیں ہیں، وفاقی، نگراں حکومت کے جوابات کو بھی سراہتے ہیں، اس بار کیس کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، اس سے پہلے تو سب بینچ کے نمبرز میں لگے ہوئے تھے، جو باتیں اب کر رہے ہیں پہلے کیوں نہیں کیں، کیا ان باتوں کو پہلے نہ کرنے کی وجہ کچھ اور تھی۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی دلیل مان لیں تونظرثانی میں ازسر نو سماعت کرنا ہوگی اور بہت پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں گی، آئین میں نہیں لکھاکہ نظرثانی اوراپیل کادائرہ کاریکساں ہوگا۔

    بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل سوا 12 بجے تک ملتوی کردی۔

    عمران خان نے ہی منصوبہ کی تھی کہ اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو کیا …

    واضح رہے کہگزشتہ روز پنجاب میں انتخابات کرانےکے فیصلےکے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست میں نگران پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا تھاوفاقی حکومت نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پرنظرثانی کی استدعا کی ہے۔

    وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کروانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، سپریم کورٹ نے خود تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کے اختیار کو غیر موثر کر دیا، پنجاب میں انتخابات پہلے ہوئے تو قومی اسمبلی کے انتخابات متاثر ہونےکا اندیشہ ہے۔

    نگران پنجاب حکومت نے صوبے میں فوری انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئےکہا ہےکہ الیکشن کی تاریخ دینےکا اختیار ریاست کے دیگر اداروں کو ہے، 14 مئی الیکشن کی تاریخ دے کر اختیارات کے آئینی تقسیم کی خلاف ورزی ہوئی ہے، آرٹیکل 218 کے تحت صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اختیارات کی تقسیم کے پیش نظر سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان