Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • الیکشن کمیشن نے صدر کو ایک دن انتخابات کی ایڈوائس کیوں نہیں دی؟ چیف جسٹس

    الیکشن کمیشن نے صدر کو ایک دن انتخابات کی ایڈوائس کیوں نہیں دی؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ، پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت شروع ہو گئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں ،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ اس سے پہلے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل دلائل دیں میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، گزشتہ روز عدالت کی جانب سے کچھ ریمارکس دئے گئے،عدالت نے کہا جو نکات پہلے نے نہیں اٹھائے وہ اب کیوں رکھ رہے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ گھبرا کیوں رہے ہیں آپ نے گھبرانا نہیں ہے، یہ عدالت سماعت کیلئے بیٹھی ہے کوئی معقول نقطہ اٹھائیں سن کر فیصلہ کریں گے،آپ نے نکات بے شک اٹھائے لیکن ان پر بحث نہیں کی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل عدالت میں کہا گیا الیکشن کمیشن کے اٹھائے گئے نکات پہلے کیوں نہیں اٹھائے گئے تھے ،دوسرا نقطہ تھا وفاقی حکومت پہلے چار تین کے چکر میں پڑی رہی، ایک صوبے میں انتخابات ہوں تو قومی اسمبلی کا الیکشن متاثر ہونے کا نقطہ پہلے اٹھایا گیا تھا، اپنے جواب میں 4/3 کا فیصلہ ہونے کا ذکر بھی کیا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی معقول نقطہ اٹھایا گیا تو جائزہ لے کر فیصلہ بھی کریں گے، کل نظر ثانی کے دائرہ اختیار پر بات ہوئی تھی ماضی کو حکومت کے خلاف استعمال نہیں کریں گے، حکومت کی نہیں اللہ کی رضا کے لیے بیٹھے ہیں، بہت سی قربانیاں دے کر یہاں بیٹھے ہیں ،آپ اپنے ساتھیوں سے کہیں کہ ہمارے دروازے پر ایسی باتیں نہ کریں، ایوان میں گفتگو بھی سخت نہ کیا کریں ہم اللہ کے لیے کام کرتے ہیں اس لیے چپ بیٹھے ہیں ،جس ہستی کا کام کر رہے ہیں وہ بھی اپنا کام کرتی ہے،آپ صفائیاں نہ دیں عدالت صاف دل کے ساتھ بیٹھی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کو بھی خوش آمدید کہا گڈ ٹو سی یو کہا ،ہماری ہرچیز درست رپورٹ نہیں ہوتی،کہا گیا عمران خان کو عدالت نے مرسیڈیز دی تھی، میں تو مرسیڈیز استعمال ہی نہیں کرتا، پولیس نے عمران خان کی مرسیڈیز کا بندوبست کیا تھا، اس بات کو پتہ نہیں کیا سے کیا بنا دیا گیا ، پی آر او نے وضاحت کی اسے بھی غلط طریقے سے پیش کیا گیا ، ہم نے توآپ کو دیکھ کرکھلے دل سے”گڈ ٹو سی یو” کہا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسی اورطریقے سے کہی گئی باتیں رپورٹ ایسے ہوئیں کہ ان سے تاثرغلط گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ پرسکون رہیں بیٹھ جائیں،ابھی الیکشن کمیشن کے وکیل کوسنتے ہیں پھرآپکے مفید دلائل بھی سنیں گے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل کا آغاز کردیا ،سجیل سواتی وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ہمیشہ آئین کی تشریح زندہ دستاویز کے طور پر کرتی ہے،انصاف کا حتمی ادارہ سپریم کورٹ ہے اس لئے دائرہ کار محدود نہیں کیا جا سکتا، مکمل انصاف اور آرٹیکل 190 کا اختیار کسی اور عدالت کو نہیں ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظیروں کے مطابق نظر ثانی اور اپیل کے دائرہ کار میں فرق ہے،اس سوال کا جواب آپ نے کل سے نہیں دیا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دائرہ کار پر آپ کی دلیل درست مان لیں تو سپریم کورٹ رولز کالعدم ہو جائیں گے، سپریم کورٹ رولز میں نظر ثانی پر ابھی تک کوئی ترمیم نہیں کی گئی، دائرہ کار بڑھایا تو کئی سال پرانے مقدمات بھی آ جائیں گے،کیسے ہو سکتا ہے سپریم کورٹ رولز کا نظرثانی سے متعلق آرڈر 26 پورا لاگو نہ ہو، آرڈر 26 پورا لاگو نہ ہونے سے نظر ثانی دائر کرنے کی مدت بھی ختم ہو جائے گی، کیا دس سال بعد کوئی نظر ثانی دائر کر کے کہہ سکتا ہے رولز مکمل لاگو نہیں ہوتے، آپ کو شاید اپنی دلیل مانے جانے کے نتائج کا اندازہ نہیں ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نظر ثانی دائر کرنے کے لیے مدت ختم نہیں ہونی چاہیئے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ 70 سال میں یہ نقطہ آپ نے دریافت کیا ہے تو نتائج بھی بتائیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی کا دائرہ کار سپریم کورٹ رولز میں موجود ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ رولز نظر ثانی کے آئینی اقدام پر قدغن نہیں لگا سکتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 184/3 کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے،احساس ہوا ہے کہ اس سے غلطیاں بھی ہوسکتی ہیں، آپ کی نظر میں نظر ثانی کا دائرہ محدود ہونا درست نہیں ہے، آپ چاہتے ہیں نظر ثانی میں دائرہ وسیع کیا جائے،اب اصل مقدمہ کی جانب آئیں اس پر بھی دلائل دیں،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ دینے کا معاملہ پہلی بار عدالت آیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت توقع کرتی ہے کہ ایسے قانون کے حوالے بھی دئیے جائیں گے، الیکشن کمیشن نے کہا تھا سکیورٹی اور فنڈز دے دیں انتخابات کروا دیں گے، اب ان تمام نکات کی کیا قانونی حیثیت ہے، نو رکنی بینچ نے اپنے حکم میں اہم سوالات اٹھائے تھے،سیاسی جماعتوں کے مفادات کہیں اور جڑے ہوئے تھے،قانونی نکات پر دلائل کی بجائے بینچ پر اعتراض کیا گیا، نو رکنی بینچ سے پانچ رکنی بینچ بنا وہ بھی عدالتی حکم پر، سات رکنی بینچ عدالت کے حکم پر بنا ہی نہیں تو 4/3 کا فیصلہ کیسے ہو گیا، عدالت دو منٹ میں فیصلہ کر سکتی ہے کہ نظر ثانی درخواست خارج کی جاتی ہے،عدالت قانونی نکات پر سن کر فیصلہ کرنا چاہتی ہے ، آسانی سے کہہ سکتے ہیں آپ نے سواری مس کر دی، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن نے صدر کو خط لکھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر کو وہ صورتحال نہیں بتائی جو عدالت کو اب بتا رہے ہیں ، صدر کو خط صرف تاریخ دینے کا لکھا گیا تھا، سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے کی کوشش کرتا ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں تو نظر ثانی دائر کرنے کی مدت بھی نہیں دی گئی، کیا فیصلے کے بیس سال بعد نظر ثانی دائر ہو سکتی ہے ،اگر نظر ثانی کی مدت والا رول لاگو ہو سکتا ہے تو دائرہ کار کیسے نہیں ہو گا، وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ رولز بنانے والوں نے دائرہ کار آئینی مقدمات میں محدود نہیں رکھا ،ملک کے تین بہترین ججز کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر رہا ہوں،وقت کے ساتھ قانون تبدیل ہوتا رہتا ہے ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر کو ایک دن انتخابات کی ایڈوائس کیوں نہیں دی؟ الیکشن کمیشن نے صدر کو نہ سکیورٹی کا بتایا نہ فنڈز کا، زمینی حالات کا ذکر کیے بغیر کہا جا رہا ہے آرٹیکل 218/3 کے تحت مزید اختیارات دئیے جائیں ، آئین اختیار دیتا ہے تو استعمال کرنے سے پہلے آنکھیں اور ذہن بھی کھلا رکھیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تلور کے شکار والے کیس میں بھی عدالت نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی، 16 ہزار ملازمین کے کیس میں نظر ثانی خارج ہوئی لیکن عدالت نے 184/3 اور 187 کا اختیار استعمال کیا، ججز کیس میں بھی عدالت نے اپنا فیصلہ خود تبدیل کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ججز کیس میں سوموٹو نظر ثانی کی تھی ،ملازمین کیس میں اقلیتی نوٹ ہے کہ خارج شدہ نظرثانی آرٹیکل 187 میں بحال نہیں ہوسکتی، وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ دہشتگردی کیس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا دوسری نظرثانی درخواست نہیں ہوسکتی لیکن عدالت خود فیصلے کا جائزہ لے سکتی ہے، الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے جسٹس فائز عیسی کیس کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی نظرثانی درخواست میں بھی عدالت نے اپنا فیصلہ واپس لیا تھا، کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی،

    نگران پنجاب حکومت نے صوبہ پنجاب میں فوری الیکشن کی مخالفت کر دی

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

  • تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    پنجاب کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دو صوبوں کے عوام کے حقوق انتخابات سے جڑے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے، چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہیں۔

    آئندہ سماعت پر عثمان بزدار پیش نہ ہوئے تو ضمانت خارج کردی جائے گی،عدالت

    سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی روسٹرم پر آگئے، ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب حکومت کا جواب ابھی ملا ہے، پی ٹی آئی نے تحریری جواب جمع نہیں کرایا، کوئی بھی جواب پہلے سے مجھے فراہم نہیں کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شاید تحریک انصاف نے جواب جمع نہیں کرایا وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ کوئی بھی جواب پہلے سے فراہم نہیں کیا گیا ،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم آپ کی مدد کریں کہ جوابات میں کیا کہا گیا ہےپہلے یہ بتانا ہے کہ کیسے نظرثانی درخواست میں نئے گراؤنڈز لے سکتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جواب کا جائزہ لینے کیلئے وقت دیا جائے، نظرثانی اختیار کا آرٹیکل 188 اختیارات کو محدود نہیں کرتاچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین پاکستان نظرثانی کی اجازت دیتا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھایا جا سکتا ہے، کم نہیں کیا جاسکتا، نظرثانی کا دائرہ اختیار دیوانی، فوجداری مقدمات میں محدود ہوتا ہے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی حقوق کیلئے رجوع کرنا سول نوعیت کاکیس ہوتا ہے۔

    کراچی میں پولیس اہلکار کو شہید کرنیوالا ملزم سوئیڈن سے گرفتار

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 184(3) کے تحت کارروائی سول نوعیت کی نہیں ہوتی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 184(3) کا ایک حصہ عوامی مفاد، دوسرا بنیادی حقوق کا ہے، اگر انتخابات کا مقدمہ ہائیکورٹ سے ہو کر آتا تو کیا سول کیس نہ ہوتا وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ہائیکورٹ کا آئینی اختیار سپریم کورٹ سے زیادہ ہے۔

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا، اور الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل مسترد کرنے کی استدعا کردی۔

    تحریک انصاف نے اپنے جواب میں مؤقف پیش کیا کہ نظرثانی اپیل میں الیکشن کمیشن نے نئے نکات اٹھائے ہیں، جب کہ نظرثانی اپیل میں نئے نکات نہیں اٹھائےجاسکتے۔

    تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نظر ثانی اپیل میں نئے سرے سے دلائل دینا چاہتا ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں کوئی تاریخ نہیں دی، بلکہ 90 روز میں انتخابات کے لئے ڈیڈ لائن مقرر کی، انتخابات کے لئے 30 اپریل کی تاریخ صدر مملکت نے دی، جب کہ الیکشن کمیشن نے 30 اپریل کی تاریخ کو تبدیل کردیا، سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن کے جائزہ لینے کا اختیار ہے۔

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

    تحریک انصاف نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن چاہتا ہے سپریم کورٹ نظریہ ضرورت کو زندہ کرے، نظریہ ضرورت دفن کیا چکا جسے زندہ نہیں کیا جاسکتا، 90 روز میں الیکشن آئینی تقاضہ ہے، آرٹیکل218 کی روشنی میں آرٹیکل 224 کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    تحریک انصاف نے مؤقف پیش کیا کہ آئین اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیتا ہے، آئین میں نہیں لکھا تمام انتخابات ایک ساتھ ہوں گے، الیکشن کمیشن کے کہنے پر سپریم کورٹ آئین میں ترمیم نہیں کرسکتی، آئین کے بغیر زمینی حقائق کو دیکھنے کی دلیل نظریہ ضرورت ہے، ایسی خطرناک دلیل ماضی میں آئین توڑنے کےلئے استعمال ہوئی، عدالت ایسی دلیل کو ہمیشہ کے لئے مسترد کرچکی ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ انتحابات سے کروڑوں عوام کے حقوق جڑے ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا کےعوام کے حقوق انتخابات سے جڑے ہیں، عوامی مفاد تو 90 روز میں انتخابات ہونے میں ہے-

    109 ملین پاؤنڈز کیس میں نیب میں پیشی: عمران خان سے پوچھ گچھ مکمل

    جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کے لیے عدالت سے رجوع کرنا سول نوعیت کا کیس ہوتا ہے وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184 تھری کے تحت کارروائی سول نوعیت کی نہیں ہوتی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 184 تھری کا ایک حصہ عوامی مفاد اور دوسرا بنیادی حقوق کا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نےکہا کہ اگر انتخابات کا مقدمہ ہائی کورٹ سے ہوکر آتا تو کیا سول کیس نہ ہوتا؟وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کا آئینی اختیار سپریم کورٹ سے زیادہ ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے مطابق نظرثانی کا دائرہ اختیارنہیں، طریقہ کار محدود ہے-

    چسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ عدالت نظرثانی کیس میں اپنے دائرہ اختیار کا فیصلہ کیوں کرے، نظرثانی کیس میں آپ کا مؤقف ہےکہ دائرہ محدود نہیں،کیا یہ بنیادی حقوق کے مقدمہ کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں،سپریم کورٹ کیوں اپنے دائرہ اختیارمیں ابہام پیدا کرے-

    چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ اپنے دائرہ کار کو یکجا کر کے استعمال کر سکتی ہے۔وکیل الیکشن کمیشن نے مؤقف اپنایا کہ آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، اپیل کا حق نہ ہونے کی وجہ سے نظرثانی کا دائرہ محدود نہیں کیا جا سکتا عدالت کو نظرثانی میں انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہے، عدالت کو نظرثانی میں ضابطہ کی کارروائی میں نہیں پڑنا چاہیے، آئینی مقدمات میں نیا نقطہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

    نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

    جسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ 184(3) میں نظرثانی کواپیل کی طرح سماعت کریں۔ جس پر وکیل نے کہا کہ 184(3) میں نظرثانی دراصل اپیل ہی ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے دلائل میں بڑے اچھے نکات اٹھائے ہیں، لیکن ان نکات پرعدالتی حوالہ جات اطمینان بخش نہیں ہیں، وفاقی، نگراں حکومت کے جوابات کو بھی سراہتے ہیں، اس بار کیس کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، اس سے پہلے تو سب بینچ کے نمبرز میں لگے ہوئے تھے، جو باتیں اب کر رہے ہیں پہلے کیوں نہیں کیں، کیا ان باتوں کو پہلے نہ کرنے کی وجہ کچھ اور تھی۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی دلیل مان لیں تونظرثانی میں ازسر نو سماعت کرنا ہوگی اور بہت پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں گی، آئین میں نہیں لکھاکہ نظرثانی اوراپیل کادائرہ کاریکساں ہوگا۔

    بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل سوا 12 بجے تک ملتوی کردی۔

    عمران خان نے ہی منصوبہ کی تھی کہ اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو کیا …

    واضح رہے کہگزشتہ روز پنجاب میں انتخابات کرانےکے فیصلےکے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست میں نگران پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا تھاوفاقی حکومت نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پرنظرثانی کی استدعا کی ہے۔

    وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کروانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، سپریم کورٹ نے خود تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کے اختیار کو غیر موثر کر دیا، پنجاب میں انتخابات پہلے ہوئے تو قومی اسمبلی کے انتخابات متاثر ہونےکا اندیشہ ہے۔

    نگران پنجاب حکومت نے صوبے میں فوری انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئےکہا ہےکہ الیکشن کی تاریخ دینےکا اختیار ریاست کے دیگر اداروں کو ہے، 14 مئی الیکشن کی تاریخ دے کر اختیارات کے آئینی تقسیم کی خلاف ورزی ہوئی ہے، آرٹیکل 218 کے تحت صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اختیارات کی تقسیم کے پیش نظر سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

  • توہین الیکشن کمیشن کیس:عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم

    توہین الیکشن کمیشن کیس:عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں فواد چوہدری اور اسد عمر کو 5 جون کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا-

    باغی ٹی وی: ممبر نثار درانی کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کی،عمران خان اور فواد چوہدری کی جانب سے وکیل فیصل چوہدری جبکہ اسد عمر کی جانب سے معاون وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔

    گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا …

    فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کا آرڈر گزشتہ روز موصول ہوا، آرڈر لیٹ موصول ہوا تو کیسے تیاری کرتے۔

    ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی عمران خان کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا موقع دیا تھا، جس پر وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ ہمارے خلاف 150 کیسز ہیں، روزانہ 36 کیسز ہوتے ہیں جس پرممبر الیکشن کمیشن نےکہا کہ جب 150 کیسز نہیں تھے تب بھی آپ پیش نہیں ہوتے تھے۔

    عمران خان کے خلاف کیسز میں نیب کی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل

    فیصل چوہدری نے سماعت جون کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ چیزیں ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں، الیکشن کمیشن یہ بات دماغ سے نکال دے کہ ہم ان کی توہین کر رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت میں عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کریں گے، تینوں رہنمائوں کی عدم پیشی پر اگلی سماعت پر کیس کو بھی نمٹا دیں گے۔

    بعدازاں الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 5 جون تک ملتوی کردی۔

    احتساب عدالت ،بشری بی بی کی عبوری ضمانت منظور

  • میئر کراچی کا انتخاب:الیکشن کمیشن اور دیگر کو نوٹس جاری

    میئر کراچی کا انتخاب:الیکشن کمیشن اور دیگر کو نوٹس جاری

    سندھ ہائیکورٹ نے میئر کراچی کے لیے انتخانات کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن اور دیگر کو نوٹس جاری کردیئے۔

    باغی ٹی وی:پی ٹی آئی نے مئیر شپ کے مرحلے کے انتخابات روکنے کے لیےعدالت سے رجوع کیا، درخواست پی ٹی آئی یوسی چئیرمین ذیشان زیب نے دائر کی پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست میں الیکشن کمیشن اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    عمران ریاض کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے؟ عدالت کا آئی جی سے استفسار

    سندھ ہائیکورٹ میں میئر کراچی کے مرحلے کے انتخابات روکنے کی پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی دوران سماعت عدالت نے کہا کہ ابھی یو سی چیئرمینز کے حلف کا معاملہ ہے، میئر کے الیکشن دور ہیں۔

    پی آئی آئی کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار یو سی چیئرمین کو بھی درخواست دائر کرنے کے بعد حراست میں لیا جاچکا ہے، 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، کئی پی ٹی آئی رہنما گرفتار اور کچھ روپوش ہوگئے ہیں، ایسے حالات میں میئر شپ کے انتخاب کا اعلان کردیا، الیکشن کمیشن نے آج سے میئر کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا ہے، موجودہ حالات کے پیش نظر پی ٹی آئی کے کونسل ممبر انتخاب میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

    سندھ ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ یو سی چیئرمین پوری پارٹی کی نمائندگی کیسےکرسکتا ہےدرخواست کے ساتھ پارٹی کا اتھارٹی لیٹر منسلک نہیں کیا گیا ہےعدالت نے الیکشن کمیشن اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت کی تاریخ کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔

    نیب پاکستانی ہائی کمیشن لندن کا تقریباً 57 کروڑ روپے کا نادہندہ نکلا

    واضح رہے کہ قبل ازیں پی ٹی آئی) نے میئرکراچی کے انتخاب میں جماعت اسلامی کی غیرمشروط حمایت کا اعلان کیا ہے،پی ٹی آئی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی میئر کے انتخاب میں جماعت اسلامی کے امیدوار کو سپورٹ کرے گی پیپلز پارٹی میئر کراچی کے انتخابی عمل میں پری پول رگنگ کر رہی ہے، پیپلز پارٹی منتخب بلدیاتی نمائندگان کو سندھ پولیس کے ذریعے اغوا کر رہی ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا کہ جو پیپلز پارٹی 4 بار بلدیاتی انتخاب سے پیچھے بھاگی وہ اجلت میں میئر کا انتخاب کروانا چاہتی ہے، بلدیاتی نمائندگان کی حلف برداری سے پہلے ان کو اغوا کیا جارہا ہے، پی ٹی آئی اس معاملے پر عدالت سے بھی رجوع کر چکی ہے،میئر کا انتخاب شفاف طریقہ کار سے ہونا چاہیے، پیپلز پارٹی نے چور دروازے سے میئر کے انتخاب کا راستہ بنایا، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نہیں چاہتی کہ عوامی مینڈیٹ قبول کیا جائے۔

    ملیکہ بخاری اور علی محمد خان کی دوبارہ گرفتاری پراسلام آباد پولیس کا لاعلمی کا …

  • نگران حکومت کو کام سے روکنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    نگران حکومت کو کام سے روکنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں نگران حکومت کو کام سے روکنے اور غیر آئینی قرار دینے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس شاہد کریم نے درخواستوں پر سماعت کی .عدالت نے وفاقی حکومت سمیت گورنر پنجاب کو نوٹس جاری کردئیے۔ عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی ۔عدالت نے استفسار کیا کہ اگر الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوتا تو حکومت کون چلائے گا ۔ وکیل نے کہا کہ الیکشن نہ ہونے کی صورت میں سابق وزیراعلی ہی برقرار رہیں گے۔حکومت جان بوجھ کر الیکشن نہیں کروا رہی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعدآ 90 روز میں الیکشن لازمی کروانے ہوتے ہیں ۔عدالت نگران حکومت کو کام سے روکنے کے احکامات جاری کرے ۔عدالت نگران حکومت کو غیر آئینی قرار دے ۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں قومی اسمبلی کے حلقہ 108 میں ضمنی الیکشن رکوانے کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے درخواست پر الیکشن کمیشن سمیت فریقین سے 28 مئی جواب طلب کرلیا ،عدالت نے اسی نوعیت کی تمام درخواستیں یکجا کرنے کا حکم دیدیا ،جسٹس شاہد کریم نے پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کی درخواست پر سماعت کی ،فرخ حبیب کی درخواست میں سیکرٹری الیکشن کمیشن، سیکرٹری کیبنٹ اور قومی اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے ،فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کی میعاد ختم ہونے سے 120 دن قبل ضمنی انتخاب نہیں ہو سکتا، قومی اسمبلی کے حلقہ 108 میں الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا ہے، قومی اسمبلی کے حلقہ 108 میں الیکشن روکنے کا حکم دیا جائے،

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہوئی ہے

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

  • پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کو الیکشن کمیشن میں پارٹی عہدے سے ہٹانے کی کاروائی کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی کر دی گئی

    عدالت نے عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کو مزید دلائل کے لئے طلب کرلیا ،جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حیرت ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کیوں عمران خان کی درخواست پر فیصلہ نہیں کر رہی ۔علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کسی بھی ممبر اسمبلی کے خلاف ریفرنس دائر کر سکتا ہے، الیکشن کمیشن براہ راست کسی کو نا اہل نہیں کر سکتا ،یہاں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عمران خان کو نا اہل کر دیا گیا ۔الیکشن کمیشن کا کام ملک اور صوبوں میں الیکشن کرانا ہے، اعلی عدالتوں کے فیصلوں کے تحت الیکشن کمیشن کا رول محدود ہے،الیکش لا بھی الیکشن کمیشن کو نا اہل قرار دینے کی پاور نہیں دیتا

    دوران سماعت عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل شہزاد شوکت کو مداخلت سے روک دیا، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب اپکی باری آئے گی تب دلائل دیں ،عدالت نے کیس کی سماعت یکم جون تک ملتوی کردی عدالت نے فریقین کے وکلاء سے آئندہ سماعت پر مزید دلائل طلب کر لیے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں میں موقف اپنایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو 21 اکتوبر 2022 کو این اے 95 میانوالی سے نااہل کیا تھا نااہل شخص کا سیاسی جماعت کا سربراہ ہونا خلاف قانون ہے لہٰذا انہیں پارٹی چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کیا جائے

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی الیکشن کمیشن نےعمران خان کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا تھا،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا یہ ایسی چوری ہے جس میں مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی سب کچھ ثابت ہے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • چیف الیکشن کمشنر کو دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد پیش

    چیف الیکشن کمشنر کو دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد پیش

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی وزیراعلیٰ آفس آمد، نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے خیرمقدم کیا

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا بریفنگ اجلاس ہوا،اجلاس میں 9 مئی کے دہشت گردی کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور پاک فوج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا،چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کو ایک سیاسی جماعت کے 9 مئی کے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد پیش کئے گئے بریفنگ اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کو تصاویر، ویڈیوز اور میسجنگ کے ثبوت بھی پیش کئے گئے

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو ایک سیاسی جماعت نے پوری پاکستانی قوم کو شرمسار کیا ،عسکری تنصیبات پر حملے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کئے گئے۔ جیو فینسنگ کے ذریعے حملہ آوروں اور زمان پارک میں موجود سیاسی لیڈرشپ کے درمیان رابطوں کے ثبوت سامنے آئے ہیں۔سیاست کی آڑ میں گھناؤنا کھیل کھیلا گیا اور ابتدائی تخمینے کے مطابق 600 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی کی قیادت میں پنجاب حکومت نے موجودہ صورتحال کے تناظر میں عوام کے تحفظ کیلئے بہترین اور جرأتمندانہ اقدامات کئے ہیں۔پنجاب حکومت کی ٹیم سے مطمئن ہوں کہ وہ اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کر رہی ہے۔الیکشن کمیشن کا مقصد آزادانہ، منصفانہ اور پرامن عام انتخابات کرانا ہے۔ہمارا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں اور نہ کوئی سیاسی مقصد ہے ہمیشہ میرٹ پر فیصلے کئے ہیں، نگران حکومت بھی غیر جانبدار ہے اور فری اینڈ فیئر الیکشن اس کا مینڈیٹ ہے۔ عام انتخابات کے لئے سکیورٹی اقدامات کا دوبارہ جائزہ لیں گے۔الیکشن کمیشن پنجاب حکومت کو فری اینڈ فیئر الیکشن کے لئے ہرممکن سپورٹ کرے گا۔آپ کو کسی بھی دباؤ میں آنے کی ضرورت نہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں

    اجلاس میں پنجاب میں عام انتخابات کے انعقاد کے لئے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور موجودہ حالات کے تناظر میں سکیورٹی انتظامات پر از سر نو نظرثانی کرنے پر اتفاق کیا گیا چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کو 9 مئی کو پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں بریفنگ دی گئی انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے 9 مئی کو جناح ہاؤس اور دیگر عسکری تنصیبات پر حملوں کی تفصیلات سے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کو آگاہ کیا ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے دہشت گردوں کے حملوں سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا کہ مجموعی طور پر 3 روز میں 256 تشدد کے واقعات ہوئے فوجی تنصیبات اور مقامات کو خصوصی طو رپر نشانہ بنایا گیا پولیس سمیت دیگر اداروں کی 108 گاڑیوں اور 23 عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ پرتشدد واقعات میں 5 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 127 پولیس افسران و جوان اور 15 شہری زخمی ہوئے۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ممبر سندھ نثار احمد درانی، ممبر بلوچستان شاہ محمد جتوئی، ممبر کے پی کے جسٹس (ر)اکرام اللہ خان، ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ، سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان عمر حمید خان، سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان ظفر اقبال حسین،صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب سعید گل بھی اس موقع پر موجود تھے

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • توہین الیکشن کمیشن کیس: عمران خان ذاتی حیثیت میں طلب

    توہین الیکشن کمیشن کیس: عمران خان ذاتی حیثیت میں طلب

    الیکشن کمیشن نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان کو 23 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی :عمران خان، فواد چوہدری،اسد عمرکے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت الیکشن کمیشن میں ہوئی ممبر نثار درانی کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے سماعت کی۔ وکیل انور منصور نے اسد عمر کی گرفتاری سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ سے الیکشن کمیشن کے وکیل نے التواء مانگ لیا تھا-

    ظل شاہ قتل کیس:تحریک انصاف کے 6 رہنماؤں کی عبوری ضمانت خارج کردی

    بنچ نے استفسار کیا کہ عمران خان کیوں پیش نہیں ہوئے؟ جس پر معاون وکیل نے کہا کہ عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ میں آج پیش ہونا ہے، عمران خان کے وکیل فیصل چودھری بھی مقدمات میں مصروف ہیں۔

    ممبر خیبرپختونخوا جسٹس اکرام خان نے کہا کہ آپ نے گزشتہ سماعت پر بھی وکالت نامہ نہیں جمع کرایا تھا، بغیر وکالت نامہ آپ کا مؤقف نہیں سن سکتےممبر سندھ نثار درانی نے کہاکہ آپ لوگ اس کارروائی کو بہت ہلکا لے رہے ہیں۔

    ممبر بلوچستان نے کہا کہ عمران خان کو طلبی کا حکم دیا گیا تھا وہ کہاں ہیں؟ معاون وکیل نے بتایا کہ عمران خان کے وکیل آ کر دلائل دیں گے۔

    فرخ حبیب کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    الیکشن کمیشن نےکہاکہ لاہورہائیکورٹ نےعمران خان کے وارنٹ معطل کرکے پیش ہونےکا حکم دیا تھا، کیس پرعمران خان کے اعتراضات ہیں تو پہلی فرصت میں سنیں گے،الیکشن کمیشن نے ہدایت کی کہ فیصل چوہدری سے رابطہ کرکے آگاہ کریں وہ کب آئیں گے۔

    ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ فواد چوہدری گرفتار ہیں اس لیے ان کی حد تک پیش نہ ہونا ٹھیک ہے، جو درخواستیں دی گئی ہیں ان پر تو دلائل دیں تاکہ نمٹائی جا سکیں، اسد عمر کے اعتراضات پر تو دلائل دیں ہائیکورٹ نے کارروائی سے تو نہیں روکا۔

    عمران خان کی دو مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع

    وکیل انور منصور نے مؤقف اپنایا کہ سندھ ہائیکورٹ میں سماعت مکمل ہونے دیں،جو اعتراضات کمیشن میں اٹھائے ہیں وہی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں ممبر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ سماعت پر بھی آخری موقع دیا تھا، کیوں نہ عمران خان کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیں؟ جس پر معاون وکیل کا کہنا تھا کہ میں نے کمیشن کو آگاہ کرنا تھا۔

    الیکشن کمیشن نے عمران خان کو 23 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

    عمران خان کی گرفتاری پر توہین عدالت کیس کی سماعت ملتوی

  • پنجاب انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی

    پنجاب انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں پنجاب انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نظر ثانی درخواست پر چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ اڑھے بارہ بجےسماعت کرے گا۔ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی بینچ میں شامل ہیں۔

    مسلم لیگ نواز کے بعد اے این پی نے بھی پی ڈی ایم احتجاج …

    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم پر نظر ثانی دائر کررکھی ہے جس میں موئقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ انتخابات کی تاریخ کا حکم نہیں دے سکتی، عدالت نے تاریخ دیکر اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

    دریں اثنا سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات نہیں ہوسکے، 4 اپریل کو سپریم کورٹ نے 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔

    ملک میں ایک ہی دن انتخابات کرانے سے متعلق سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے مذاکراتی عمل کیلئے کوئی ڈائریکشن نہیں دی، پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم نامہ برقرار رہے گا سپریم کورٹ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکراتی عمل کو سراہتی ہے۔ سیاسی جماعتیں انتخابات ایک دن کرانے پر متفق ہوتی ہیں تو یہ قابلِ ستائش عمل ہے عدالت واضح کرتی ہے کہ مذاکراتی عمل میں عدالت کا کوئی کردار نہیں۔

    سپریم کورٹ کو بلیک میل کرنے کا عوامی قوت سے جواب دیا جائےگا،پی ٹی آئی

    واضح رہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 14 مئی کو پنجاب بھر میں انتخابات کرانے کا حکم دے رکھا تھا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے 4 اپریل کے فیصلے کو عدالت عظمٰی میں چیلنج کیا گیا تھا دوسری طرف پاکستان پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آج بروز پیر سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو پیغام میں کہا تھا کہ احتجاج ضرور کریں مگر مقام تبدیل کرلیں ، رانا ثنا اور اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ دھرنا پرامن ہوگا، ایک گملا بھی نہیں ٹوٹے گا، دھرنے کے مقام کا تعین صبح کیا جائے گا۔

    نیوکراچی:نامعلوم افراد کی فائرنگ سے بچےسمیت 3 افراد زخمی

    مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ اعلان کرچکے ہیں ، فیصلہ اب عوام کی عدالت میں ہوگا ، فضل الرحمان نے تمام سیاسی جماعتوں کو دھرنے میں شرکت کی دعوت دی ہےاسلام آباد میں پی ڈی ایم کے دھرنے میں شرکت کے لیے ملک بھر سے قافلے رواں دواں ہیں مسلم لیگ ن کے جلوس کی قیادت مریم نواز کریں گی ، پاکپتن اور ملتان سے ن لیگ کے قافلے بھی چل پڑے جبکہ پشاور سے ن لیگ کا قافلہ صبح 8 بجے اور پنڈی سے صبح 10 بجے اسلام آباد کے لیے نکلے گا جے یو آئی ایف کے علاوہ، مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی،عوامی نیشنل پارٹی احتجاج میں شرکت کا اعلان کر چکی ہیں ۔

    عمران خان حکومت سے محاذ آرائی روک دے۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کا مطالبہ

  • سندھ کے 24 اضلاع کی 63 نشستوں پر ضمنی انتخابات کیلئے پولنگ جاری

    سندھ کے 24 اضلاع کی 63 نشستوں پر ضمنی انتخابات کیلئے پولنگ جاری

    کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے 24 اضلاع کی 63 نشستوں پر ضمنی بلدیاتی الیکشن کیلئے پولنگ جاری، پولنگ کا عمل صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک بلاتعطل جاری رہے گا۔

    باغی ٹی وی : کراچی کے 7 اضلاع میں 11 یوسیز اور 15 وارڈز کی 26 نشستوں پر جبکہ دیگر 17 اضلاع میں 37 نشستوں پر پولنگ جاری ہے،حیدر آباد میں ممبر ڈسٹرکٹ کونسل، چیئرمین، وائس چیئرمین اور جنرل کونسل کی نشستوں پر پولنگ ہو رہی ہے-

    وادی ہنزہ میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی کے ضلع وسطی میں نیو کراچی ٹاؤن کی 2 اور نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کی 1 یوسی میں ضمنی انتخاب ہو رہا ہے، ضلع کورنگی، لانڈھی اور شاہ فیصل ٹاؤن کی ایک ایک یوسی پر بھی ضمنی انتخاب جاری ہےضلع غربی میں اورنگی کی 2 اور مومن آباد کی 1 یوسی میں ضمنی انتخاب ہو رہا ہے جبکہ کیماڑی میں بلدیہ ٹاؤن کی یوسی نمبر 2 اور جنوبی میں لیاری ٹاؤن کی یو سی نمبر 2 میں پولنگ جاری ہے۔

    کراچی کے ضلع وسطی کی3 نشستوں پر 33، ضلع کورنگی کی 3 نشستوں پر 24 اور ضلع غربی کی 3 نشستوں پر41 امیدوار مدِ مقابل ہیں ضلع کیماڑی کی یو سی 2 بلدیہ پر9 اور ضلع جنوبی کی یو سی 2 لیاری پر 12 امیدوار مدِ مقابل ہیں ضلع سینٹرل کی 3 یوسیز میں 80 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں جن میں سے 44 حساس قرار دیے گئے ہیں اور یہاں مجموعی ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 25 ہزار 995 ہے۔

    ضلع کیماڑی کی یو سی 2 بلدیہ میں 14 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور تمام کو حساس قرار دیا گیا ہے، یہاں مجموعی ووٹرز کی تعداد 17 ہزار 796 ہے۔

    افغان وزیر خارجہ کا پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام

    جیکب آباد، کشمور، شکارپور، نواب شاہ، سانگھڑ، مٹیاری، ٹنڈوالہیار اور جامشورو میں ایک ایک نشست پر پولنگ جاری جبکہ گھوٹکی، سکھر، خیرپور، بدین اور سجاول میں دو، دو نشستوں پرنوشہروفیروز، دادو اورٹھٹہ میں تین، تین نشستوں جبکہ حیدرآباد میں ضمنی بلدیاتی الیکشن کے سلسلے میں دس نشستوں پر پولنگ جاری ہے-

    اس موقع پر کراچی میں پولیس کے 7 ہزار سے زائد اہلکار سکیورٹی پر مامور ہیں جبکہ 24 اضلاع میں 292 پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس اور 157 حساس قرار دیے گئے ہیں الیکشن کیلیے مجموعی طور پر449 پولنگ اسٹیشنز اور ایک ہزار 586 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں 302 پولنگ اسٹیشنز پر 2 ہزار750 کے قریب پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔

    کوئیک رسپانس فورس میں 476 اہلکار شامل ہوں گے، ایک ہزار900 کے قریب پولیس اہلکار ریزرو پولیس کے طور پرموجود ہوں گے۔ مجموعی طور پر 172 مختلف عمارتوں میں انتخابات کا عمل ہوگا الیکش کمیشن دفاتر پر271 پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں گے جبکہ شہر بھر میں 6 ہزار707 پولیس اہلکار الیکشن ڈیوٹی پر ہوں گے۔ 134 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

    کنگ چارلس کی تاجپوشی:ننھی گلوکارہ نوریمہ ریحان پاکستان کی نمائندگی کریں گی

    یاد رہے کہ ممبر ڈسٹرکٹ کونسل، چیئرمین، وائس چیئرمین اور جنرل کونسل کی نشستوں پر امیدواروں کے انتقال سمیت دیگر وجوہات پر الیکشن نہیں ہوسکے تھے-