Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ایران ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے،ایران

    ایران ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے،ایران

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ملک ہر ممکن صورتِ حال کے لیے تیار ہے اور امریکا کو اب سفارت کاری یا محاذ آرائی میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا،-

    ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    تہران میں تعینات سفیروں اور غیر ملکی سفارتی مشنز کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران مفادات پر مبنی سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور تنازعات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے اپنی تجویز پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ وہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتا ہے یا محاذ آرائی کو جاری رکھتا ہے ان کا کہنا تھا کہ ایران دونوں راستوں کے لیے تیار ہے تاکہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، تاہم امریکا کے حوالے سے بداعتمادی برقرار ہے۔

    یاد رہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کا تنازع فروری کے آخر میں شروع ہوا تھا اور8 اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے، جب کہ پاکستان اس تنازع میں مؤثر انداز میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تاہم اب تک کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

  • امریکی پابندیاں مسترد،چین کا ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کا اعلان

    امریکی پابندیاں مسترد،چین کا ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کا اعلان

    چین نے ایران سے تیل خریدنے والی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا-

    چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق وزارتِ تجارت نے ہفتے کے روز قانونی حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت چین کی پانچ آئل ریفائنریز پر عائد امریکی پابندیوں کو منسوخ کر دیا ہےا مریکی اقدامات میں ان چینی کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو ایران سے تیل خریدتی ہیں، تاہم چین نے واضح کیا کہ یہ تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی، واشنگٹن کی پابندیاں قانونی حیثیت نہیں رکھتیں اور چین ان پر عمل درآمد نہیں کرے گا۔

    چینی وزارتِ تجارت نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کے یہ اقدامات نہ صرف چینی کمپنیوں کو تیسرے ممالک کے ساتھ معمول کی تجارت سے روکنے کی کوشش ہیں بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہیں چین اقوام متحدہ کی منظوری اور عالمی قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف تمام یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہےچین نے اسی بنیاد پر یہ حکم جاری کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کو نہ تسلیم کیا جائے گا، نہ ان پر عمل کیا جائے گا، اور نہ ہی انہیں نافذ کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکا نے حالیہ برسوں میں ایران کی آمدنی کو محدود کرنے کے لیے ان ریفائنریز اور متعلقہ کمپنیوں پر دباؤ اور پابندیاں بڑھا دی ہیں چین ایران کے تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، جہاں زیادہ تر خام تیل ’ٹی پاٹ ریفائنریز‘ کہلائی جانے والی نجی ریفائنریوں کے ذریعے درآمد کیا جاتا ہے یہ کمپنیاں رعایتی قیمتوں پر ایرانی تیل پر انحصار کرتی ہیں۔

  • ایران جنگ کے اثرات: امریکا کی سستی ترین ایئرلائن کا آپریشن بند کرنے کا اعلان

    ایران جنگ کے اثرات: امریکا کی سستی ترین ایئرلائن کا آپریشن بند کرنے کا اعلان

    امریکا کی مشہور اور سستی ترین فضائی کمپنی ’اسپرٹ ایئرلائنز‘ نے ہفتے کے روز اپنا آپریشن مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے-

    خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران جیٹ فیول کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہوچکا ہے، جس کے باعث پہلے سے مالی مشکلات کا شکار اسپرٹ ایئرلائنز اپنا آپریشن جاری نہ رکھ سکی،امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی حکومت نے کہا ہے کہ کمپنی کو بچانے کے لیے بھرپور کوشش کی، تاہم قرض د ہندگان نے امدادی پیکج مسترد کر دیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 50 کروڑ ڈالر کی امداد کی تجویز دی تھی لیکن ان کے فیصلے کو سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اسپرٹ‘ پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار تھی لیکن ایران جنگ نے ایندھن کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا، وہ کمپنی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ کمپنی نے اپنے بحالی کے منصوبے میں ایندھن کی قیمت کا 2.24 ڈالر فی گیلن تخمینہ لگایا تھا تاہم موجودہ قیمت 4.51 ڈالر تک پہنچ جانے سے تمام تخمینے غلط ثابت ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق کمپنی کے بند ہونے سے تقریباً 15 ہزار ملازمین اور کنٹریکٹرز متاثر ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی ہزاروں مسافر مختلف ایئرپورٹس پر پھنس گئے، جن کی مدد کے لیے دیگر بڑی ایئرلائنز میدان میں آ گئی ہیں۔

    یونائیٹڈ ایئرلائنز، ڈیلٹا ایئر لائنز، جیٹ بلیو اور ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز نے اسپرٹ کے متاثرہ مسافروں کے لیے ٹکٹ کی قیمتوں میں کمی اور خصوصی سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کچھ ایئرلائنز نے ’اسپرٹ‘ کے عملے کو مفت سفر کی سہولت بھی فراہم کرنا شروع کردی ہے تاکہ وہ اپنے گھروں تک پہنچ سکیں۔

    ماہرین کے مطابق اسپرٹ ایئرلائنز کی بندش امریکا کی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں میں اس حجم کی کوئی ایئرلائن بند نہیں ہوئی یہ کمپنی کم قیمت ٹکٹ فراہم کر کے مارکیٹ میں مقابلے کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی تھی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایئرلائن کی بندش سے اس کے حریف اداروں کو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ واقعہ عالمی معیشت اور جنگی حالات کے اثرات کو واضح کرتا ہے۔

  • ایران میں بم ناکارہ بنانے کے دوران دھماکا، پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق

    ایران میں بم ناکارہ بنانے کے دوران دھماکا، پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق

    ایران کے صوبے زنجان میں جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل کے گرائے گئے نہ پھٹنے والے بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کے آپریشن کے دوران دھماکا ہوا ہے، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے ہیں۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کے روز اُس وقت پیش آیا جب خصوصی ڈیمولیشن یونٹس ایک حساس مشن پر کام کر رہے تھے جس کا مقصد امریکا اور اسرائیل کی فضائی کارروائیوں کے بعد علاقے میں موجود نہ پھٹنے والے گولہ بارود کی نشاندہی کرکے ناکارہ بنانا تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کلسٹر بموں اور دیگر بارودی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد زنجان کے وسیع علاقے کو خطرات لاحق ہو گئے تھے اس بارودی مواد کے باعث زرعی زمینوں سمیت تقریباً 1200 ہیکٹر سے زائد رقبہ متاثر ہوا۔

    بیان کے مطابق ان ہی خطرات کے پیش نظر خصوصی یونٹس نے انتہائی احتیاط اور مہارت کے ساتھ بارودی مواد کی تلاش، صفائی اور ناکارہ بنانے کا آپریشن شروع کیا تھا ٹیمیں اپنی ذمہ داریوں میں مصروف تھیں کہ اسی دوران ایک مقام پر بارودی مواد اچانک دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں یہ جانی نقصان ہوا تمام جاں بحق اہلکار تربیت یافتہ، تجربہ کار اور ماہر افراد تھے جو خطے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فرنٹ لائن پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک خصوصی ٹیمیں 15 ہزار سے زائد نہ پھٹنے والے بارودی مواد کو ناکارہ بنا چکی ہیں، تاہم اب بھی کئی علاقوں میں بارودی مواد موجود ہےیہ ہتھیار بین الاقوامی کنونشنز کے تحت ممنوع تصور کیے جاتے ہیں کیوں کہ ان کے چھوٹے چھوٹے حصے برسوں تک خطرہ بنے رہتے ہیں، کلیئرنس آپریشن کے دوران یہ مواد زمین کے نیچے تقریباً تین میٹر گہرائی میں بھی دفن پایا گیا، جس کی نشاندہی اور ناکارہ بنانے کا عمل انتہائی خطرناک تھا۔

  • ایران کا مریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران کا مریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران ک ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے ہفتے کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں خطے کی حالیہ صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جنگ کا امکان موجود ہےماضی گواہ ہے کہ امریکا کسی بھی معاہدے، وعدے یا بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو ایران کی مسلح افواج پوری طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی دفاعی تیاری مکمل ہے اور دشمن کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا فیصلہ کُن اور سخت جواب دیا جائے گا دشمن کی سازشوں کے باوجود ریاست کے تمام ستون ایرانی قیادت کی ہدایات کے مطابق مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت کے اندر شدید اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے اپنی نئی مذاکراتی تجویز جمعرات کو ثالث ملک پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی، تاہم اس کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    دوسری جانب امریکی حکام نے بھی ایرانی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ایسی ترامیم پیش کی ہیں جن کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ مذاکرات کا حصہ بنایا گیا ہے، ان مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیم منتقل نہ کرے اور نہ ہی وہاں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرے۔

    جمعہ کو فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر ایران کے ساتھ جاری جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    دوسری جانب سفارتی محاذ پر پاکستان کی امن کوششوں میں ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے فی الحال ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قیادت کو زیادہ مناسب تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔

  • ایران پاکستان میں مذاکرات کے اگلے دور کے لیے آمادگی ظاہر کر چکا ہے،امریکی میڈیا

    ایران پاکستان میں مذاکرات کے اگلے دور کے لیے آمادگی ظاہر کر چکا ہے،امریکی میڈیا

    امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی سابقہ سخت شرائط میں نرمی اختیار کرلی ہے۔

    وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ بات چیت کی بحالی کے بدلے میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ حملے روکنے کی ضمانت دی جائے جبکہ محاصرہ ختم کرنے کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے پر بات چیت کی پیشکش کی ہے تہران نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ امریکی پابندیوں میں نرمی کے بعد جوہری امور پر مذاکرات کو بعد کے مرحلے میں زیرِ غور لایا جائے، ایران آئندہ ہفتے پاکستان میں مذاکرات کے اگلے دور کے لیے آمادگی ظاہر کر چکا ہے، تاہم اس حوالے سے ایرانی حکام کی جانب سے نہ کوئی تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید سامنے آئی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک دور اسلام آباد میں ہو چکا ہے، جس میں فریقین کسی نکتے پر متفق نہیں ہو سکے تھے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران کے ساتھ فون پر بات چیت جاری ہے، 18 گھنٹے کا سفر کرکے ایسی باتیں کرنے کا فائدہ نہیں جن کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکے۔

  • امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اور پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے تاہم بات چیت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی قیاس آرائی کو اہمیت نہیں دینی چاہیے اور جب تک واضح نتائج سامنے نہ آئیں، اس عمل کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی،ان کے بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے کے ذرائع بدستور فعال ہیں۔

    ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ایرانی عوام کے حقوق کی مکمل ضمانت فراہم نہ کرے ایران کے لیے اصل معیار ٹھوس اور عملی نتائج کا حصول ہے اور اس وقت تک کسی معاہدے کی توثیق نہیں کی جائے گی جب تک قوم کے حقوق کے تحفظ کا مکمل یقین نہ ہو جائے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    ادھر تہران نے بامعنی مذاکرات شروع کرنے سے قبل اپنے منجمد تقریباً 12 ارب ڈالر کے اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور توانائی کی عالمی ترسیل بھی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے-

  • آبنائے ہرمز ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار  کی علامت ہے،ایرانی صدر

    آبنائے ہرمز ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار کی علامت ہے،ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنی سرحدوں اور اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا-

    خلیج فارس کے قومی دن کے موقع پر ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے یہ طاقتیں خطے میں غیر ضروری مداخلت کرکے امن کو نقصان پہنچا رہی ہیں، ایران دشمن ممالک کو اس آبی راستے میں داخل نہیں ہونے دے گا-

    انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز صرف ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار کی علامت ہے اس آبی گزرگاہ کی حفاظت ایران کے لیے انتہائی قومی اہمیت کی حامل ہے اور اس سلسلےمیں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائےگی ایران اپنی سرحدوں اور اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔

  • امید ہے ہمارے نئے ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا،ایران

    امید ہے ہمارے نئے ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا،ایران

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ جلد ہی ایک ایسا نیا ہتھیار دنیا کے سامنے لانے والی ہے جس سے اس کے مخالفین شدید خوفزدہ ہیں۔

    ایرانی بحریہ کے سربراہ شہرام ایرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ بہت جلد اپنے دشمنوں کا سامنا ایک ایسے ہتھیار سے کرے گا جو بالکل ان کے برابر میں موجود ہو گا،مجھے امید ہے اس ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق بحریہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ دشمن نے ایران کے خلاف بلا اشتعال جارحیت کے ذریعے اپنے مقاصد کو کم سے کم وقت میں حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اب ان کا یہ مفروضہ فوجی اکیڈمیوں میں ایک لطیفہ بن چکا ہے ایرانی افواج نے جوابی کارروائیوں کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو سات بار میزائل حملوں سے نشانہ بنایا جس کی وجہ سے وہاں سے طیاروں کی پروازیں عارضی طور پر رک گئیں۔

    شہرام ایرانی نے مزید دعویٰ کیا کہ 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے اب تک ایرانی مسلح افواج نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف پر کم از کم 100 لہروں کی صورت میں جوابی حملے کیے ہیں ان کارروائیوں میں مغربی ایشیا کے وسیع جغرافیائی علاقے میں موجود حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بحریہ کے سربراہ نے کہا کہ امریکا نے ابتدائی ناکامی کے بعد خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے اور مزید تباہ کن بحری جہاز اور میزائل پلیٹ فارم تعینات کیے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ آگے بڑھنے میں ناکام رہے ہیں امریکا کی تمام تر کوششیں ابھی تک رکی ہوئی ہیں اور وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا ہے۔

  • امریکا کا  جیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ سے واپس بلانے کا فیصلہ

    امریکا کا جیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ سے واپس بلانے کا فیصلہ

    امریکا نے یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (سی وی این-78) کو مشرقِ وسطیٰ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیاہے-

    عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے اس جدید طیارہ بردار بحری جہاز کی واپسی کو اسٹریٹجک ترتیبِ نو کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد خطے میں فوجی تعیناتی کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا ہےجیرالڈ فورڈ دنیا کے جدید ترین ایئرکرافٹ کیریئرز میں شمار ہوتا ہے اور اسے حالیہ عرصے میں مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے اظہار کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کو امریکا کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور ممکنہ سفارتی کوششوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی میں کمی کا تاثر بھی دیا جا سکتا ہے تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات محدود رکھی گئی ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تجویز مسترد کرتے ہوئے جوہری معاہدے تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف اپنے مقاصد تقریباً حاصل کر چکے ہیں، اس کے پاس میزائل سازی کی صلاحیت انتہائی کم رہ گئی ہے، ایران کے 82 فیصد میزائل تباہ کر دیئے ہیں، ایران کے پاس کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہیئں۔

    بدھ کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزوس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ پہلے ایران کو جوہری معاہدے پر آمادہ ہونا ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینیٹ کام) نے ایران پر ”مختصر اور طاقتور“ فضائی حملوں کا ایک منصوبہ بھی تیار کیا ہے، جس کا مقصد مذاکرات میں تعطل توڑنا بتایا جا رہا ہے ان ممکنہ حملوں میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے ان حملوں کے بعد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر مجبور کیا جائے گا تاہم تاحال کسی فوجی کارروائی کا باضابطہ حکم جاری نہیں کیا گیا یران کی بحری ناکہ بندی بمباری کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے اور ایران اس صورت حال میں شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔

    امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی تیل کی برآمدات رکنے سے اس کے آئل ذخائر اور پائپ لائنز خطرناک حد تک دباؤ میں ہیں تاہم بعض ماہرین نے اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے تہران ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے معاہدہ چاہتا ہے لیکن امریکا اس وقت تک کوئی نرمی نہیں دکھائے گا جب تک جوہری معاملہ حل نہیں ہوتا۔