Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ایرانی حملے: امریکی فوجی اڈوں کو   نقصان بتائے گئے نقصان سے زیادہ ہونے کا انکشاف

    ایرانی حملے: امریکی فوجی اڈوں کو نقصان بتائے گئے نقصان سے زیادہ ہونے کا انکشاف

    مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں سے متعلق حالیہ رپورٹس (اپریل 2026) نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے امریکی اڈوں اور فوجی آلات کو سرکاری طور پر ظاہر کیے جانے والے نقصان سے کہیں زیادہ "وسیع” نقصان پہنچایا ہے۔

    امریکا-اسرائیل-ایران جنگ کے دوران ایرانی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والا نقصان بتائے گئے نقصان سے زیادہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے،پریس ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع این بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے جوابی حملوں نے اس سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے جتنا کہ امریکی حکام کی جانب سے عوامی سطح پر ظاہر کیا گیا۔

    این بی سی نیوز اور دیگر ذرائع کی رپورٹس کے مطابق،خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور آلات کو مناسب فضائی دفاعی نظام ہونے کے باوجود ایرانی فضائی حملوں کے باعث شدید نقصان پہنچا ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی مرمت پر اربوں ڈالر لاگت آ سکتی ہے ایران کے جوابی حملوں نے مشرق وسطیٰ کے 7 ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کے اہم اثاثوں کو نشانہ بنایا،حملوں میں گودام، کمانڈ ہیڈکوارٹر، طیاروں کے ہینگر، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، رن وے، اور ہائی اینڈ ریڈار سسٹم (بشمول THAAD سسٹم) کو شدید نقصان پہنچا، ایران نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کیلیے میزائلوں، ڈرونز اور یہاں تک کہ جنگی طیاروں کا استعمال کیا۔

    امریکی حکام نے نجی طور پر اعتراف کیا ہے کہ تباہی اتنی زیادہ ہے کہ اس کی مرمت پر اربوں ڈالر لگ سکتے ہیں ایک واقعے میں، ایرانی ایف-5 لڑاکا طیارے نے امریکی فضائی دفاعی نظام (air defense systems) کو چکمہ دے کر حملہ کیا پینٹاگون نے عوامی سطح پر نقصانات کی مکمل تفصیلات شیئر نہیں کی ہیں، جس پر امریکی قانون سازوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے کویت اور دیگر مقامات پر امریکی اڈے اس حد تک متاثر ہوئے کہ کچھ سہولیات ناقابل استعمال ہو گئیں۔

    رپورٹ میں تین سرکاری حکام، کانگریس کے دو معاونین اور معاملے سے باخبر ایک اور شخص سمیت متعدد ذرائع کے حوالے دیے گئے پچھلی رپورٹس میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں امریکا کو جدید ترین فوجی ساز و سامان سے ہاتھ دھونا پڑا جس میں قطر میں واقع العدید فوجی اڈے پر نصب ایک ارب ڈالر مالیت کا ریڈار سسٹم بھی شامل ہے۔

  • ٹرمپ کی موجودگی میں  فائرنگ کا واقعہ، ملزم پر آج فرد جرم عائدکی جائےگی

    ٹرمپ کی موجودگی میں فائرنگ کا واقعہ، ملزم پر آج فرد جرم عائدکی جائےگی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں کارسپونڈنگ ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حملہ آور کا ممکنہ ہدف امریکی صدر تھے۔

    قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل نے کہا ایسا لگتا ہے ملزم نے اکیلے کارروائی کی اور وہ ہوٹل میں ہی مقیم تھا اور حکومتی عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کررہا، پیر کو اس پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    امریکی میٖڈیا کے مطابق مشتبہ حملہ آور کی شناخت کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے 31 سال کے Cole Tomas Allen کے طور پر ہوئی، مبینہ حملہ آور نے حکام کو بتایا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا دوسری جانب ایف بی آئی کی جانب سے کیلیفورنیا کےعلاقے ٹورینس میں گرفتارملزم کے گھر اور اطراف میں تحقیقات شروع کردی گئی۔

  • ‘ایک ریپسٹ کو اجازت نہیں دوں گا کہ  اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے، کول ٹامس ایلن

    ‘ایک ریپسٹ کو اجازت نہیں دوں گا کہ اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے، کول ٹامس ایلن

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے پر حملے کے ایک روز بعد امریکی حکام اس معمہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ایک معزز استاد اور گیم ڈویلپر نے اچانک تشدد کا راستہ کیوں اختیار کیا۔

    31 سالہ کول ٹامس ایلن نے حملے سے قبل اپنے خاندان کو ایک تحریری پیغام بھیجا تھا جس میں اس نے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اس خط میں ایلن نے لکھا کہ میں ان تمام لوگوں سے معذرت چاہتا ہوں جن کے اعتماد کو میں نے ٹھیس پہنچائی، میں معافی کی امید نہیں رکھتا۔

    کول ٹامس ایلن نے اپنے پیغام میں خود کو ایک وفاقی حملہ آور قرار دیا اور صدر ٹرمپ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیاکول ایلن نے اپنے مبینہ ٹرمپ مخالف خط میں کسی اہلکار یا صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر لکھا کہ میں اب اس بات کی مزید اجازت نہیں دوں گا کہ ایک بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث شخص، زانی اور غدار اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ’سی بی ایس نیوز‘ کے پروگرام ’60 منٹس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے خلاف جنسی تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کے بیان کو ایک ’انتہا پسندانہ‘ منشور قرار دیا، ملزم کے بیانات پڑھ کر سنانے پر انہوں نے صحافیوں کو ’خوفناک افراد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ہاں، اس نے یہ لکھا ہے میں زانی نہیں ہوں میں نے کسی کا ریپ نہیں کیا۔

    جب انٹرویو لینے والے نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا ان کے خیال میں ملزم کا اشارہ ان کی طرف تھا؟ تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا نہیں ہوں، معاف کیجیے گا، معاف کیجیے گا، میں پیڈوفائل نہیں ہوں آپ ایک بیمار ذہن کے آدمی کی لکھی ہوئی بکواس پڑھ رہے ہیں؟ میرا نام ان تمام چیزوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا جن سے میرا کوئی لینا دینا نہیں، میں مکمل طور پر بے گناہ ثابت ہوا تھا۔

    پولیس کی تحقیقات کے مطابق ایلن نے حالیہ برسوں میں بائیں بازو کی سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی تھی اور وہ لاس اینجلس میں سرگرم تھااس کی بہن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا کہ وہ اکثر انتہا پسندانہ بیانات دیتا تھا اور اس نے قانونی طور پر اسلحہ خرید کر باقاعدہ مشق بھی شروع کر دی تھی۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق کول ٹامس ایلن لاس اینجلس سے ٹرین کے ذریعے شکاگو اور پھر واشنگٹن پہنچا، جہاں اس نے اسی ہوٹل میں قیام کیا جہاں صدر ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام کی تقریب ہونی تھی۔

    ملزم کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو وہ ایک انتہائی ذہین اور ہمدرد نوجوان کے طور پر سامنے آتا ہے اس نے 2017 میں مشہور تعلیمی ادارے کالٹیک سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی اور طالب علمی کے دور میں وہ وہیل چیئر کے لیے ہنگامی بریک کا نمونہ تیار کرنے پر خبروں کی زینت بھی بنا تھا۔

    وہ ایک نجی تعلیمی ادارے میں پڑھاتا تھا جہاں اسے دسمبر 2024 میں بہترین استاد کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ایک فری لانس گیم ڈویلپر بھی تھا اور اس کا تیار کردہ ایک گیم انٹرنیٹ پر فروخت کے لیے دستیاب ہے ملزم نے اپنے پیغام میں یہ دلیل بھی دی کہ اس کا اقدام مسیحی اقدار کے خلاف نہیں ہے، اس نے لکھا کہ جب کوئی دوسرا مظلوم ہو تو خاموش رہنا مسیحی رویہ نہیں بلکہ ظالم کے جرائم میں شریک ہونا ہے۔

    ایلن کے بھائی نے جب یہ پیغام موصول کیا تو اس نے فوری طور پر پولیس کو تشویش سے آگاہ کیا، لیکن تب تک ملزم اپنی کارروائی شروع کر چکا تھا۔
    تفتیشی اداروں کو معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے اکتوبر 2023 اور اگست 2025 میں قانونی طور پر پستول اور شاٹ گن خریدی تھی جس کے لیے اس کا باقاعدہ بیک گراؤنڈ چیک بھی کیا گیا تھا۔

    اس وقت ایف بی آئی اور دیگر ادارے ملزم کے سوشل میڈیا اور خاندانی روابط کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ اس کے اصل محرکات کو سمجھا جا سکے جسے صدر ٹرمپ نے مسیحی مخالف قرار دیا ہےملزم کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اس کے والد ایک ملنسار شخص ہیں اور انہوں نے کول کو چند روز قبل ہی علاقے میں دیکھا تھا، لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ خاموش رہنے والا نوجوان اتنے بڑے پرتشدد منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

  • صدر ٹرمپ نے پاکستان میں موجود امریکی صحافی کو بھی واپس بلالیا

    صدر ٹرمپ نے پاکستان میں موجود امریکی صحافی کو بھی واپس بلالیا

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دورہ فی الحال منسوخ ہونے کے باعث صدر ٹرمپ نے امریکی صحافی کو بھی امریکا واپس آنے کا کہہ دیا۔

    نیو یارک پوسٹ سے منسلک صحافی کیٹلن ڈورن بوس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیکسٹ پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کردیا، جس میں انہیں مختصر طور پر کہا گیا کہ گھر واپس آ جاؤ۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد بھیجے جانے والے امریکی وفد کا دورہ منسوخ کر دیا ہے،انہوں نے کہاکہ یہ دورہ ان کے مطابق وقت کے ضیاع کے مترادف تھا، کیونکہ بہت زیادہ وقت سفر میں صرف ہو رہا تھا اور کام کا بوجھ بھی زیادہ ہے۔

    صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کا اسلام آباد جانے کا دورہ منسوخ کر دیا ہے جو ایرانی وفد سے ملاقات کے لیے طے تھا ایرانی قیادت کے اندر شدید اختلافات اور کنفیوژن پائی جاتی ہے اور یہ واضح نہیں کہ اصل میں قیادت کون کر رہا ہے ہ اگر ایرانی فریق بات کرنا چاہتا ہے تو براہ راست رابطہ کرے۔

  • مذاکرات میں ناکامی کا ڈر ،روبیو  جان بوجھ کر ایران جیسے پیچیدہ  معاملے سے فاصلہ رکھ رہے ہیں،برطانوی اخبار

    مذاکرات میں ناکامی کا ڈر ،روبیو جان بوجھ کر ایران جیسے پیچیدہ معاملے سے فاصلہ رکھ رہے ہیں،برطانوی اخبار

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو اہم عالمی معاملات خصوصاً ایران جنگ سے پیدا ہونے والے بحران میں غیر معمولی طور پر پس منظر میں نظر آ رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اپنے داماد جیراڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو پاکستان بھیج رہے ہیں جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس بھی گزشتہ دنوں اسلام آباد میں بات چیت کی قیادت کرتے رہے تاہم اس تمام عمل میں مارکو روبیو کی عدم موجو دگی نمایاں رہی، اگرچہ روبیو کو ٹرمپ کی انتظامیہ میں وفادار ساتھی سمجھا جاتا ہے لیکن اہم خارجہ پالیسی فیصلوں میں ان کا کردار محدود دکھائی دیتا ہے، ان کا زیادہ فوکس لاطینی امریکا پر رہا ہے جبکہ ایران جیسے بڑے بحران میں دیگر شخصیات کو آگے رکھا جا رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق روبیو جان بوجھ کر ایران جیسے پیچیدہ اور غیر مقبول معاملے سے فاصلہ رکھ رہے ہیں تاکہ ممکنہ ناکامی کا بوجھ ان پر نہ آئے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ مستقبل میں صدارتی امیدوار بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔

    ہینری کسنجر کے بعد روبیو واحد شخصیت ہیں جو بیک وقت دو اہم عہدوں پر فائز ہیں تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے اختیارات اور اثر و رسوخ اس تاریخی مثال کے مقابلے میں کم دکھائی دیتے ہیں۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روبیو ہر اہم قومی سلامتی کے معاملے میں شامل ہوتے ہیں لیکن فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عملی طور پر ٹرمپ انتظامیہ میں خارجہ پالیسی کا انداز بدل چکا ہے جہاں روایتی سفارت کاری کے بجائے مخصوص ایلچیوں اور محدود حلقے پر زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان کا دور ہ مفید رہا،عباس عراقچی

    پاکستان کا دور ہ مفید رہا،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ کہا کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکا واقعی سفارتکاری کے ذریعے تنازع حل کرنے میں سنجیدہ ہے یا نہیں-

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے سہہ ملکی سفارتی دورے کے دوسرے مرحلے میں عمان پہنچ گئے ہیں جہاں وہ خطے کی صورتحال اور جاری کشیدگی پر اہم ملاقاتیں کریں گے عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کا پاکستان کا دور ہ بہت مفید رہا،انہوں نے نے پاکستان کی خطے میں امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی برادرانہ کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران ان اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہےتاہم انھوں نے امریکا کے کردار پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکا واقعی سفارتکاری کے ذریعے تنازع حل کرنے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔

    واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل صدر ٹرمپ نے اپنے وفد کے دورۂ پاکستان کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بے مقصد اور وقت کے ضیاں کے لیے وفد کو 18 گھنٹے کے سفر پر نہیں بھیج سکتا ایران کو ہم سے بات کرنا ہوگی تو کال کرسکتا ہے ایران میں فیصلے کون کر رہا ہے، اس کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔

  • پاکستان کی  پس پردہ سفارتی کوششوں کے کچھ مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں،مبشر لقمان

    پاکستان کی پس پردہ سفارتی کوششوں کے کچھ مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں،مبشر لقمان

    پسنئیر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ پاکستان دو متحارب ممالک کے درمیان واحد راستہ ہے امید ہے جنگ جلد ختم ہو جائے گی-

    مبشر لقمان منے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ ایک دو روز میں پاکستان واپس آسکتے ہیں پاکستان کی جانب سے پس پردہ سفارتی کوششوں کے کچھ مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں کچھ لوگوں کے دعووں کے برعکس انہوں نے امریکی وفد سے ملاقات نہیں کی جبکہ پاکستان دو متحارب ممالک کے درمیان واحد راستہ ہے امید ہے جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔

    امریکا،ایران مذاکرات: صدر ٹرمپ نے امریکی وفدکا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور سے قبل عین وقت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےاپنے مذاکراتی وفد کو پاکستان کے دورے سے روک دیا ہے۔

    ہفتے کے روز ’فاکس نیوز‘ کی صحافی عائشہ حسنی سے گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اب ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں جارہے ہیں اس جنگ میں امریکا کا پلڑا بھاری ہے، اس لیے امریکی وفد کا 18 گھنٹے کی طویل مسافت طے کر کے پاکستان جانا سود مند نہیں ہے، ایرانی جب چاہیں ہمیں کال کرسکتے ہیں ہمارے لوگ روانگی کی تیاری کر رہے تھے، میں نے کچھ دیر قبل انہیں یہ کہہ کہ روک دیا ہے کہ آپ بے مقصد باتوں کے لیے اتنی طویل مسافت کا سفر نہ کریں،ہمارے پاس تمام ’کارڈز‘ موجود ہیں، وہ جب چاہیں ہمیں کال کر سکتے ہیں’۔

    ایرانی وزیرخارجہ اسلام آباد سے عمان روانہ

    دوسری جانب پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتوں کے بعد اسلام آباد سے مسقط روانہ ہوگئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کا وفد نور خان ائیربیس سے واپس روانہ ہوا، اس موقع پر پاکستانی اعلیٰ حکام، ایرانی سفیر اور ایرانی سفارت خانہ کے عہدید ارو نے وفد کو الوداع کہا، ایرانی وزیر خارجہ عمان کے دارالحکومت مسقط کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے جہاں روسی حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔

  • امریکا،ایران مذاکرات: صدر ٹرمپ نے امریکی وفدکا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا

    امریکا،ایران مذاکرات: صدر ٹرمپ نے امریکی وفدکا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا

    امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور سے قبل عین وقت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےاپنے مذاکراتی وفد کو پاکستان کے دورے سے روک دیا ہے۔

    ہفتے کے روز ’فاکس نیوز‘ کی صحافی عائشہ حسنی سے گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اب ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں جارہے ہیں اس جنگ میں امریکا کا پلڑا بھاری ہے، اس لیے امریکی وفد کا 18 گھنٹے کی طویل مسافت طے کر کے پاکستان جانا سود مند نہیں ہے، ایرانی جب چاہیں ہمیں کال کرسکتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے لوگ روانگی کی تیاری کر رہے تھے، میں نے کچھ دیر قبل انہیں یہ کہہ کہ روک دیا ہے کہ آپ بے مقصد باتوں کے لیے اتنی طویل مسافت کا سفر نہ کریں،ہمارے پاس تمام ’کارڈز‘ موجود ہیں، وہ جب چاہیں ہمیں کال کر سکتے ہیں’۔

    واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی تھی کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد جائیں گےایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ہفتے کے روز اسلام آباد پہنچے تھے انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں اور عمان روانہ ہوگئے۔

  • ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پرعوامی حمایت میں اضافہ

    ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پرعوامی حمایت میں اضافہ

    امریکا میں ایک نئے عوامی جائزے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی حمایت اکثریت کر رہی ہے-

    امریکی میگزین ’نیوز ویک‘ کے مطابق امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پرعوامی حمایت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن موجودہ سیاسی حالات میں اس کے عملی امکانات اب بھی محدود ہیں ایک حالیہ عوامی جائزے کے مطابق 55 فی صد افراد صدر کے مواخذے کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 37 فی صد اس کی مخالفت کرتے ہیں آزاد حیثیت کے ووٹرز میں بھی 50 فیصد نے مواخذے کی حمایت کی، جبکہ 28 فیصد اس کے خلاف رہے۔

    جائزے میں شامل حکمران جماعت کے حامیوں میں سے 21 فی صد نے مواخذے کی حمایت کی، تاہم 72 فی صد نے اس کی مخالفت کی یہ سروے اپریل 2026 کے وسط میں 1514 افراد سے کیا گیا جس میں آزاد حیثیت رکھنے والے ووٹرز کی بڑی تعداد نے بھی مواخذے کی حمایت کی۔

    سیاسی ماہرین کے مطابق عوامی سطح پر عدم اطمینان کے باوجود مواخذہ ایک مشکل عمل ہے کیونکہ ایوان نمائندگان میں ریپبلکن جماعت کو اکثریت حاصل ہے اور اس جماعت کے کسی رکن نے مواخذے کی حمایت کا عندیہ نہیں دیا عوام سیاسی کشمکش سے تھک چکے ہیں اور مواخذے کا عمل ایوان نمائندگان سے آگے بڑھنا مشکل ہو سکتا ہے سینیٹ میں صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جو موجودہ حالات میں ممکن نظر نہیں آتی۔

    پیشگوئی کرنے والے مالیاتی اندازوں کے مطابق 2027 سے پہلے صدر کے مواخذے کا امکان تقریباً 13 فی صد ہے، جب کہ 2028 سے پہلے اس امکان میں اضافہ ہو کر تقریباً دو تہائی تک جا سکتا ہے تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ وسط مدتی انتخابات میں یہ معاملہ اہم سیاسی موضوع بن سکتا ہے، خصوصاً اگر ڈیموکریٹک جماعت کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اگرچہ ڈیموکریٹک جماعت کے اندر مواخذے کے لیے دباؤ موجود ہے، تاہم سینیٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کیے بغیر صدر کو عہدے سے ہٹانا ممکن نہیں، جس سے یہ عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے اس معاملے کو کم اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مخالف جماعت طویل عرصے سے مواخذے کی بات کر رہی ہے، تاہم اس کے لیے درکار سیاسی حمایت موجود نہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ مواخذے کی مسلسل بحث آئندہ انتخابات میں سیاسی حکمت عملی کو متاثر کر سکتی ہے اور جماعتوں کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔

  • امریکا ایران مذاکرات: اسلام آباد میں ہونے والا تبلیغی جماعت کا اجتماع موخر

    امریکا ایران مذاکرات: اسلام آباد میں ہونے والا تبلیغی جماعت کا اجتماع موخر

    ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث اسلام آباد میں ہونے والا تبلیغی جماعت کا اجتماع ایک ہفتے کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے،اس حوالے سے رائیونڈ کی شوریٰ کے اراکین اور بزرگوں نے ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مشاورت کی،مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اجتماع کو ایک ہفتے کے لیے ملتوی کیا جائے،اب یہ اجتماع یکم، 2 اور 3 مئی کو جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے روز مسجد ابو القاسم، اسلام آباد میں منعقد ہوگا،اس سے قبل یہ اجتماع 24،25 اور 26 اپریل کو منعقد ہونا تھا۔