Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے، روس کا شدیدردعمل

    ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے، روس کا شدیدردعمل

    روس نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو بین الاقوامی قانون اور ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جارحیت دانستہ، اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اور بلااشتعال مسلح جارحیت ہے، ایک آزاد ریاست کے خلاف جارحیت بین الااقوامی قانون کے بنیادی اصولوں اور ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے یہ اقدام قابل مذمت ہے اور یہ حملے ایک بار پھر مذاکراتی عمل کی بحالی کی آڑ میں کیے جا رہے ہیں، جس کا ظاہری مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کے گرد صورت حال کو طویل المدت بنیادوں پر معمول پر لانا بتایا جا رہا تھا۔

    روسی وزارت خارجہ نے بتایا کہ روس کو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں کہ اسرائیل ایران کے ساتھ فوجی تصادم میں دلچسپی نہیں رکھتا، بین الاقوامی برادری، بشمول اقوام متحدہ کی قیادت اور آئی اے ای اے کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ان غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا معروضی اور غیرجانب دارانہ جائزہ پیش کریں، وا شنگٹن اور تل ابیب ایک بار پھر ایسے خطرناک راستے پر گامزن ہو گئے ہیں جو خطے کو انسانی، معاشی اور ممکنہ طور پر تابکاری آفت کی طرف تیزی سے دھکیل رہا ہے۔

    ایران کے ایک بار پھر دبئی پر میزائل حملے

    روس کے مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے عزائم واضح ہیں اور کھلے عام بیان کیے جا چکے ہیں کہ وہ ایک ایسی ریاست کے آئینی نظام کو توڑنا اور اس کی قیادت کو ہٹانا چاہتے ہیں جسے وہ ناپسندیدہ سمجھتے ہیں کیونکہ اس نے طاقت اور بالادستی کے دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کیا ہے امریکا اور اسرائیل اپنی کارروائیوں کو اس مبینہ تشویش کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا چاہتے ہیں لیکن آئی اے ای اے کی نگرانی میں چلنے والی جوہری تنصیبات پر بم باری ناقابل قبول ہے۔

    روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ روس فوری طور پر سیاسی اور سفارتی راستے پر واپسی کا مطالبہ کرتا ہے اور ہمیشہ کی طرح بین الاقوامی قانون، باہمی احترام اور مفادات کے متوازن خیال پر مبنی پرامن حل کے فروغ میں مدد کے لیے تیار ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، حملوں کی شدید مذمت

  • مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی :8 ممالک کی فضائی حدود بند

    مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی :8 ممالک کی فضائی حدود بند

    ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔

    مشرقی وسطیٰ میں صورتحال نے یورپ اور ایشیا کے درمیان فضائی راستوں کو شدید متاثر کیا ہے اور دنیا بھر کی بڑی فضائی کمپنیوں کو پروازیں منسوخ، معطل یا متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑا ہے،فضائی حدود بند کرنے والے ممالک میں ایران، اسرائیل، عراق، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور شام شامل ہیں۔

    امارات ایئرلائن نے دبئی ہوائی اڈے سے اپنی پروازیں معطل کر دیں، جبکہ فلائی دبئی کی سروسز بھی فضائی حدود کی بندش سے متاثر ہوئیں قطر ایئرویز نے عارضی طور پر پروازیں روک دیں، اور عمان ایئر نے بغداد کے لیے پروازیں معطل کر دیں، کویت ایئرویز نے ایران کے لیے تمام پروازیں بند کر دیں،پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر روک دیں۔

    ایمریٹس نے بھی دبئی آنے اور جانے والی اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ ایئر لائن نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے تازہ ترین صورتحال ضرور چیک کریں متاثرہ مسافروں کو ری بکنگ، رقم کی واپسی یا متبادل سفری انتظامات کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

    ورجن اٹلانٹک نے بھی لندن ہیتھرو سے دبئی جانے والی اپنی پرواز منسوخ کر دی ہے جبکہ کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا، مالدیپ اور سعودی عرب جانے والی پروازوں کو متبادل راستوں کے باعث زیادہ وقت لگ سکتا ہےاسی طرح برٹش ایئر ویز نے تل ابیب اور بحرین کے لیے اپنی پروازیں بدھ تک منسو خ کر دی ہیں جبکہ عمان جانے والی پرواز بھی معطل کر دی گئی ہیں۔

    ہنگامی صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لندن سے دوحہ جانے والی ایک پرواز کو منزل کے قریب پہنچ کر واپس موڑ دیا گیاوزز ایئر نے اسرائیل، دبئی، ابوظہبی اور عمان کے لیے تمام پروازیں فوری طور پر معطل کر دی ہیں جبکہ سعودی عرب کے لیے اس کی پروازیں منگل تک منسوخ رہیں گی۔

    ان کے علاوہ ایئر انڈیا، لفتھانسا اور ترکش ایئرلائنز نے بھی مشرقِ وسطیٰ کے لیے متعدد پروازیں منسوخ یا محدود کرنے کا اعلان کیا ہے ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ وہ خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی فضائی حدود محفوظ قرار دی جائیں گی، پروازوں کا شیڈول مرحلہ وار بحال کر دیا جائے گا۔

    ترک ایئرلائنز اور دیگر ترک فضائی کمپنیوں نے ایران، عراق، شام، لبنان، اردن، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کے لیے متعدد پروازیں منسوخ کر دیں۔

    جرمن، فرانسیسی، برطانوی اور نیدرلینڈز کی بڑی فضائی کمپنیوں نے تل ابیب، دبئی، بیروت، ریاض اور دیگر شہروں کے لیے پروازیں منسوخ یا معطل کر دیں، جبکہ بعض پروازوں کو دورانِ سفر واپس موڑنا پڑا۔

    بھارت کی قومی فضائی کمپنی نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے تمام پروازیں معطل کر دیں اور دہلی سے تل ابیب جانے والی پرواز کا رخ موڑ دیا۔ جاپان کی قومی فضائی کمپنی نے ٹوکیو سے دوحہ کی سروس منسوخ کر دی، جبکہ دیگر بھارتی فضائی کمپنیوں نے بھی ممکنہ خلل سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔

    قومی ایئر لائن نے بھی خلیجی ممالک کے لیے اپنا فضائی آپریشن فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہےاعلامیے میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات، بحرین، دوحہ اور کویت کے لیے شیڈول تمام پروازیں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں یہ معطلی ابتدائی طور پر اتوار کی شام تک یا خطے میں فضائی حدود کی بحالی تک برقرار رہے گی سعودی عرب کے لیے پروازیں بدستور جاری رہیں گی تاہم حفاظتی وجوہات کی بنا پر ان کا روٹ تبدیل کر دیا گیا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث متعدد پروازیں کراچی منتقل کر دی گئی ہیں جس کے باعث جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈائیورٹڈ فلائٹس کا دباؤ بڑھ گیا ہےایئرپورٹ ذرائع کے مطابق کراچی ایئرپورٹ پر پارکنگ اسپیس عارضی طور پر دستیاب نہیں رہی۔

    انتظامیہ کی جانب سے ایئرلائنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ڈائیورژن سے قبل جناح ٹرمینل انتظامیہ سے رابطہ کیا جائے، جبکہ ڈائیورٹڈ پروازوں کے لیے پیشگی کوآرڈینیشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہےصورتحال کے پیشِ نظر دو گھنٹوں کے لیے نیا نوٹم جاری کر دیا گیا ہے ذرائع کے مطابق مختلف ایئرلائنز کی تین بین الاقوامی پروازیں صرف ایندھن بھروانے کے لیے کراچی ایئرپورٹ پر اتریں، جو ری فیولنگ کے بعد روانہ ہو گئیں۔

    ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود کی بندش سے عالمی فضائی نظام میں شدید خلل پیدا ہوا ہے اور مسافروں کو طویل تاخیر اور منسوخیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے صورتحال کے پیشِ نظر فضائی کمپنیاں مسلسل اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہیں۔

  • امریکی اسرائیلی حملے کے بعد خامنہ ای کے محفوظ کمپاؤنڈ کی تصویر سامنے آ گئی

    امریکی اسرائیلی حملے کے بعد خامنہ ای کے محفوظ کمپاؤنڈ کی تصویر سامنے آ گئی

    تہران: ایران میں سپریم کمانڈر خامنہ ای کے محفوظ کمپاؤنڈ پر امریکی اسرائیلی حملہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کمپاؤنڈ کی ایک سیٹلائٹ تصویر سامنے آئی ہے۔

    فارس خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران کے اعلیٰ حکام ’’مکمل طور پر خیریت‘‘ سے ہیں، جن میں صدر مسعود پیزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور سیکیورٹی امور کے سربراہ علی لاریجانی شامل ہیں اگرچہ اسرائیلی ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صدر اور ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا اور حملے میں کامیابی حاصل کی، تاہم ملک کے اندر سرکاری ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکومتی عہدیداران، بشمول مسلح افواج کے سربراہان، مکمل طور پر خیریت سے ہیں۔

    iran

    ایک امریکی اہلکار نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ ایران پر فضا اور سمندر سے ’’وسیع‘‘ حملے جاری رکھے گا، اہلکار نے کہا کہ امریکی-اسرائیلی حملوں کا مقصد ایرانی سیکیورٹی اپریٹس کو ختم کرنا ہے اور یہ فی الحال ایران کے اندر اہداف تک محدود ہے-

  • امریکا کا ایران پر حملے جاری رکھنے کااعلان

    امریکا کا ایران پر حملے جاری رکھنے کااعلان

    امریکا نے ایران پر وسیع حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    اعلیٰ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران پر فضا اور سمندر دونوں راستوں سے وسیع پیمانے پرحملے جاری رکھیں گے ، امریکا اور اسرائیل کے حملوں کا مقصد ایرانی سکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے،فی الحال یہ کارروائیاں صرف ایران کے اندر موجود اہداف تک محدود ہیں ، امریکی فضائیہ ایران پر حملوں میں شریک ہے ، امریکی فوج ایران پر اسرائیلی فوج کے ساتھ ملکر کارروائی کر رہی ہے۔

    دوسری جانب آئی ڈی ایف کے ایک افسر سٹیو کوہن نے ریپبلک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نہ صرف مغرب کی جانب سے بلکہ ہندوستان کی جانب سے بھی ایران کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں،ہندوستان کو قریبی اتحادی قرار دیتے ہوئے انہوں نے یہ بھی اظہار کیا کہ اسرائیل میں ہندوستانی وزیر اعظم کی میزبانی کرنا خوشی کی بات ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے اعلیٰ کمانڈروں کے علاوہ درجنوں شہری بھی شہید ہوئے ہیں۔

  • امریکا اور اسرائیل کا ایرانی اسکول پر حملہ ، 53 طالبات شہید،درجنوں زخمی

    امریکا اور اسرائیل کا ایرانی اسکول پر حملہ ، 53 طالبات شہید،درجنوں زخمی

    ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر بمباری کی خبر نے سب کو تشویش میں مبتلا کردیا۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملے کے وقت اسکول میں تقریباً 170 طالبات موجود تھیں فضائی حملے کے نتیجے میں اب تک کم از کم 53 افراد جاں بحق اور تقریباً 60 زخمی ہوئے ہیں جن میں طالبات اور اسکول کا عملہ بھی شامل ہےہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیل نے صبح کے وقت اسکول کو براہِ راست نشانہ بنایا ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور زخمیوں کو نکالنے میں مصروف ہیں،واقعے کے بعد امدادی اداروں اور طبی ٹیموں کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچا دیا گیا جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے ملبے تلے متعدد طالبات اور عملے کے افراد دبے ہوئے ہیں جنھیں نکالنے کا کام جاری ہے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے اس حملے کے بارے میں فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا تاہم اسرائیلی فوج نے ایرانی شہریوں سے فوجی تنصیبات اور اڈوں سے دور چلے جانے کا کہا تھا۔

  • ایران کی جانب سے  کنگ فہد ایئر بیس  اور امریکی طیارہ بردار جہاز  پرحملے کی اطلاعات

    ایران کی جانب سے کنگ فہد ایئر بیس اور امریکی طیارہ بردار جہاز پرحملے کی اطلاعات

    ایران کی جانب سے مختلف عرب ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،ایران نے بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جب کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں بھی دھماکا سنا گیا۔

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے سعودی عرب کے اہم فضائی اڈے کنگ فہد ایئر بیس پر راکٹ حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، ذرائع کے مطابق حمللے کے بعد سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا دوسری جانب یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ بحرِ ہند میں ایران نے امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر میزائلوں سے حمللہ کیا۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق ایران نے یواےای میں الدفرا ائیربیس، بحرین میں بحری ائیربیس کو نشانہ بنانےکی تصدیق کی ہےیو اےای کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی میزائل حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ یو اے ای نے متعدد ایرانی میزائلوں کو روک دیا۔

    متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ یہ حملہ قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، متحدہ عرب امارات اس جارحیت کا جواب دینے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔

  • امریکا،اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ہے،امیر جماعت اسلامی

    امریکا،اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ہے،امیر جماعت اسلامی

    جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کا مل کر ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ہے اور پورے خطے کو جنگ میں جھونکا جا رہا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نےایکس پر بیان میں کہا کہ ایک مرتبہ پھر امریکہ نے مذاکرات کو دھوکے کے طور پر استعمال کیا حافظ نعیم الرحمان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا “بورڈ آف پیس” دراصل “بورڈ آف وار” ہےامریکہ اور اسرائیل نے اپنے شیطانی مقاصد کے لیے پورے مشرقِ وسطیٰ کو خطرے میں ڈال دیا ہے، مسلم حکمرانوں کو آنکھیں کھولنا ہوں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 25 سال میں امریکی سرپرستی میں کئی مستحکم مسلم ممالک کو جارحیت کا نشانہ بنا کر انتشار پھیلایا گیا اور پاکستانی حکمران بھی یہ سبق یاد رکھیں کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں-

    واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملہ کردیا ہے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر بھی میزائل داغے ہیں۔

  • جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق بڑی غلطی ،بل گیٹس نے فلاحی تنظیم کے عملے سے معذرت کرلی

    جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق بڑی غلطی ،بل گیٹس نے فلاحی تنظیم کے عملے سے معذرت کرلی

    بل گیٹس نے بدنام زمانہ مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلق کو ’بڑی غلطی‘ قرار دیتے ہوئے اپنی فلاحی تنظیم کے عملے سے معذرت کرلی ہے۔

    امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق بل گیٹس نے ایک داخلی اجلاس میں اعتراف کیا کہ ایپسٹین سے ملاقاتوں نے گیٹس فاؤنڈیشن کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور منفی تاثر پیدا کیا ایپسٹین کے ساتھ وقت گزارنا ایک بہت بڑی غلطی تھی میں اس غلطی کے باعث متاثر ہونے والے تمام افراد سے معذرت خواہ ہوں۔

    بل گیٹس نے وضاحت کی کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی یا غیر اخلاقی کام نہیں کیا اور نہ ہی ایپسٹین کی متاثرہ خواتین سے کبھی رابطہ رکھا متنازع تصاویر درا صل ایپسٹین کے دفتر میں لی گئیں، جہاں انہیں عملے کے ساتھ تصویر بنوانے کی درخواست کی گئی تھی ان کی ایپسٹین سے پہلی ملاقات 2011 میں ہوئی جبکہ 2013 سے ان کی سابقہ اہلیہ میلِنڈا فرانسیسی گیٹس نے اس تعلق پر تحفظات کا اظہار کرنا شروع کر دیا تھا انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کی سابقہ اہلیہ کے خدشات درست ثابت ہوئے۔

    ہیٹ ویو اور گلشیئر پگھلنے سے مارچ تا ستمبر سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے

    واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین 2019 میں نیویارک کی حراست میں انسانی اسمگلنگ کے مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے ہلاک ہو گیا تھا، 2008 میں امریکی ریاست فلوریڈا میں وہ کم عمر لڑکی سے جسم فروشی کے الزام میں سزا یافتہ بھی رہ چکا تھا،بل گیٹس نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے اقدامات نے ان کی فلاحی تنظیم کے بنیادی اصولوں سے متصادم تاثر پیدا کیا، جس پر وہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔

    پنجاب بھر میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی

  • امریکی فضائیہ کا ریٹائرڈ پائلٹ چینی فوجی اہلکاروں کو تربیت دینے کے الزام میں گرفتار

    امریکی فضائیہ کا ریٹائرڈ پائلٹ چینی فوجی اہلکاروں کو تربیت دینے کے الزام میں گرفتار

    امریکی فضائیہ کے ایک سابق پائلٹ کو بغیر اجازت چینی فوجی اہلکاروں کو تربیت دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا-

    محکمۂ انصاف کے مطابق 65 سالہ جیرالڈ براؤن کو امریکی ریاست انڈیانا سے گرفتار کیا گیا وہ حال ہی میں چین سے واپس امریکا آئے تھے، جہاں وہ دسمبر 2023 سے مقیم تھے جیرالڈ براؤن پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی محکمۂ خارجہ سے لائسنس حاصل کیے بغیر چینی فضائیہ کے پائلٹس کو جنگی طیاروں کی تربیت فراہم کی،حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کام غیر ملکی افراد کے ساتھ مل کر کیا۔

    فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ایف بی آئی اور اس کے شراکت دار اداروں نے ایک سابق امریکی فضائیہ کے پائلٹ کو گرفتار کیا ہے، جو چینی فوج کے پائلٹس کو تربیت دے رہا تھا۔

    ڈاکٹر طارق میمن کا تبادلہ : وفاقی آئینی عدالت نے واپڈا کو نوٹس جاری کردیا

    حکام کے مطابق براؤن نے امریکی فضائیہ میں 24 سال تک خدمات انجام دیں اس دوران وہ اہم یونٹس کے کمانڈر رہے اور جوہری ہتھیار لے جانے والے نظام کی ذمہ داری بھی سنبھالتے رہےوہ 1996 میں ریٹائر ہوئے، جس کے بعد انہوں نے کارگو پائلٹ کے طور پر کام کیا بعد ازاں وہ ایک امریکی دفاعی ٹھیکیدار کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے اور A-10 اور F-35 طیاروں کی تربیت فراہم کرتے رہے۔

    الزام ہے کہ اگست 2023 میں انہوں نے اسٹیفن نامی ایک چینی شہری کے ساتھ معاہدے کے لیے بات چیت شروع کی، جو اس سے قبل امریکہ میں جاسوسی کے ایک کیس میں 4 سال قید کاٹ چکا ہے۔ براؤن دسمبر 2023 میں تربیت دینے کے لیے چین گئے تھے۔

    اسحاق ڈار او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب روانہ

    ایف بی آئی کے کاؤنٹر انٹیلیجنس شعبے کے ایک عہدیدار رومن نے کہا کہ چینی حکومت امریکی فوج کے موجودہ اور سابق ارکان کی مہارت سے فائدہ اٹھا کر اپنی فوج کو جدید بنا رہی ہے یہ گرفتاری ایک واضح پیغام ہے کہ ایف بی آئی اور اس کے شراکت دار ادارے قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے-

  • امریکی خفیہ ایجنسی نے ایرانی جاسوس بھرتی کرنے کے لیے اشتہار دے دیا

    امریکی خفیہ ایجنسی نے ایرانی جاسوس بھرتی کرنے کے لیے اشتہار دے دیا

    امریکا کی خفیہ ایجنسی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک نئے پیغام میں ایرانی شہریوں کو محفوظ طریقے سے رابطہ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    سی آئی اے نے اپنا فارسی زبان کا پیغام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، انسٹاگرام، فیس بک، ٹیلی گرام اور یوٹیوب پر جاری کیا، یہ پیغام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور امریکا و ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات جار ی ہیں۔

    پیغام میں ایرانی شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ اگر وہ رابطہ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں، دفتری کمپیوٹر یا ذاتی موبائل فون استعمال نہ کریں اور ممکن ہو تو نیا اور عارضی ڈیوائس استعمال کریں، اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور اس بات کا خیال کریں کہ کوئی ان کی اسکرین یا سرگرمی نہ دیکھ سکے،رابطہ کرنے والے افراد اپنی لوکیشن، نام، عہدہ اور ایسی معلومات یا مہارتوں کی تفصیل فراہم کریں جو ادارے کے لیے دلچسپی کا باعث ہوں۔

    سی آئی اے نے مشورہ دیا کہ رابطے کے لیے ایسا قابلِ اعتماد ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک استعمال کیا جائے جس کا صدر دفتر روس، ایران یا چین میں نہ ہو، یا پھر ٹور نیٹ ورک استعمال کیا جائے جو ڈیٹا کو خفیہ بناتا اور صارف کا آئی پی ایڈریس چھپاتا ہے۔

    خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق، سی آئی سے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیایہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حالیہ اسٹیٹ آف دی یونین تقریر میں کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا ممکنہ کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔

    ایران کی جانب سے بارہا کہا گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہاتجزیہ کاروں کے مطابق سی آئی اے کا یہ نیا پیغام سفارتی کوششوں اور ممکنہ دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔