Baaghi TV

Tag: امریکا

  • پابندیوں کی خلاف ورزی پر ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی افواج نے غیر فعال کر دیا،سینٹکام

    پابندیوں کی خلاف ورزی پر ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی افواج نے غیر فعال کر دیا،سینٹکام

    امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پرچم والے ایک خالی آئل ٹینکر کو امریکی افواج نے غیر فعال کر دیا۔

    سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایم ٹی حسنا نامی ٹینکر بین الاقوامی پانیوں میں ایران کی جانب سفر کر رہا تھا اور اس کا رخ ایک ایرانی بندرگاہ کی طرف تھا، امریکی افواج نے جہاز کو متعدد بار وارننگ جاری کی اور عملے کو آگاہ کیا کہ وہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

    سینٹ کام کے مطابق جب ٹینکر کے عملے نے ہدایات پر عمل نہ کیا تو امریکی بحریہ کے طیارے نے کارروائی کرتے ہوئے جہاز کے اسٹیئرنگ سسٹم کو نشانہ بنایا، جس کے باعث ٹینکر اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا،یہ طیارہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن سے پرواز کرکے آیا تھا۔

  • ایران کے فضائی حملوں میں فوجی تنیبات کو حکومتی دعوؤں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ، واشنگٹن پوسٹ

    ایران کے فضائی حملوں میں فوجی تنیبات کو حکومتی دعوؤں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ، واشنگٹن پوسٹ

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے فضائی حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو امریکی حکومت کے دعوؤں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ہے-

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز سے اب تک ایرانی فضائی حملوں میں کم از کم 15 امریکی فوجی اڈوں پر 228 عمارتوں اور فوجی ساز و سامان کو نقصان پہنچا، جن میں 217 عمارتیں اور 11 فوجی اثاثے شامل ہیں، متاثر ہونے والی تنصیبات میں ہینگرز، بیرکس، ایندھن کے ذخائر، طیارے، ریڈار سسٹمز، مواصلاتی آلات اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ نقصانات کی یہ سطح امریکی حکومت کے عوامی سطح پر دیے گئے بیانات اور اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس سے کہیں زیادہ ہے تاہم وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق زیادہ تر نقصان بحرین میں امریکی بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر اور کویت کے تین فوجی اڈوں پر ہوا، جہاں حملے زیادہ شدت کے ساتھ کیے گئے ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ان مقامات کو ممکنہ طور پر اس لیے نشانہ بنایا گیا کیوں کہ وہاں سے کارروائیاں کی جا رہی تھیں بحرین اور کویت میں پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام تباہ ہوئے جب کہ بحرین میں نیول سپورٹ ایکٹیویٹی کے مقام پر سیٹلائٹ ڈش کو بھی نقصان پہنچا۔

    اس کے علاوہ اردن اور متحدہ عرب امارات میں تھاڈ ریڈار سسٹمز کو بھی نشانہ بنایا گیا سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایک E-3 سینٹری طیارہ تباہ ہوا جب کہ ایک ایندھن بردار طیارہ بھی ضائع ہوا بحرین میں نیول سپورٹ ایکٹیویٹی کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو فلوریڈا منتقل کرنا پڑا جب کہ بعض امریکی حکام کے مطابق مستقبل میں خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی واپسی کا امکان کم ہو سکتا ہے۔

    بعض خلیجی ممالک نے اپنی سرزمین سے امریکی جارحانہ کارروائیوں کی اجازت نہیں دی تاہم بحرین اور کویت کے اڈے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جس کی ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہاں سے HIMARS جیسے امریکی راکٹ سسٹمز کے ذریعے ایران پر حملے کیے جارہے تھے یہ جائزہ صرف دستیاب سیٹلا ئٹ تصاویر پر مبنی جزوی تخمینہ ہے اور اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔

  • سی این این کے بانی ٹیڈ ٹرنر انتقال کر گئے

    سی این این کے بانی ٹیڈ ٹرنر انتقال کر گئے

    امریکا کے معروف میڈیا صنعت کار اور عالمی خبررساں ادارے سی این این کے بانی ٹیڈ ٹرنر 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    ادارے نے بدھ کے روز ان کے انتقال کی تصدیق کی،ٹیڈ ٹرنر طویل عرصے سے لیوی باڈی ڈیمنشیا نامی بیماری میں مبتلا تھے، جو ایک اعصابی عارضہ ہے۔

    1938 میں امریکی ریاست اوہائیو کے شہر سن سنناٹی میں پیدا ہونے والے ٹرنر نے اپنے والد کے انتقال کے بعد خاندانی کاروبار سنبھالا اور اسے وسعت دی،بعد ازاں انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے شعبے میں قدم رکھا اور ایک چھوٹے اسٹیشن کو خرید کر میڈیا سلطنت کی بنیاد رکھی، ان کی کامیابی نے دنیا بھر میں 24 گھنٹے نیوز چینلز کے قیام کی راہ ہموار کی، جن میں فاکس نیوز اور دیگر بین الاقوامی نیٹ ورکس شامل ہیں ٹیڈ ٹرنر کو جدید نشریاتی صحافت کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔

    ٹیڈ ٹرنر نے 1980 میں سی این این قائم کر کے ٹیلی وژن صحافت میں انقلاب برپا کیا یہ امریکا کا پہلا 24 گھنٹے خبروں کا چینل تھا، جس نے مسلسل براہِ راست نشریات کا تصور متعارف کرایا ان کے اس اقدام نے عالمی میڈیا کا نقشہ بدل دیا اور خبر رسانی کو ہر لمحہ جاری رکھنے کی روایت کو جنم دیا سی این این کو عالمی شہرت 1990-91 کی خلیج جنگ کی کوریج سے ملی، جب اس کے نمائندوں نے میدانِ جنگ سے براہِ راست رپورٹس نشر کیں بعد ازاں سوویت یونین کا انہدام اور تیانانمن اسکوائر احتجاج جیسے اہم واقعات کی کوریج نے بھی ادارے کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات، تل ابیب میں شدید تشویش

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات، تل ابیب میں شدید تشویش

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری میں ممکنہ پیش رفت نے تل ابیب میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اسرائیلی قیادت کو خدشہ ہے کہ کسی حتمی معاہدے کی صورت میں امریکا ایران کو اہم رعایتیں دے سکتا ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کے روز امریکی انتظامیہ کے حکام کے ساتھ بات چیت کی ہے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی تازہ ترین پیش رفت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکےایک اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ ان رابطوں کا مقصد یہ جاننا ہے کہ اس وقت مذاکرات میں کن نکات پر بات چیت ہو رہی ہے اور کون سی تجاویز زیر غور ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکا معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے آخری مرحلے میں ایران کو بعض اہم رعایتیں دے سکتا ہے خاص طور پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے امکانات اسرائیلی خدشات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

    ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو معمول کے مطابق امریکی حکام سے رابطے میں رہتے ہیں تاکہ مذاکرات کی صورتِ حال سے آگاہ رہیں اسرائیل کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا نے انہیں کسی غیر متوقع صورتِ حال سے دوچار نہیں کیا۔

    ایک اور اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ نیتن یاہو مسلسل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رابطے میں ہیں، اور ان مذاکرات میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی بنیادی شرائط پر قائم ہیں، جن میں سب سے اہم ایران کے جوہری مواد کا خاتمہ ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیل کی تشویش یہ بھی ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے میزائل پروگرام اور اس کے علاقائی اتحادی نیٹ ورک پر سخت پابندیاں برقرار رہیں، اوراسرائیلی فوج کو خطے میں خطرات کے خلاف کارروائی کی آزادی بھی حاصل رہے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ایران معاہدہ قبول کر لے تو جنگ ختم ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی تاہم انہوں نے بھی خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے انکار کی صورت میں شدید حملے کیے جائیں گے۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بیان میں کہا کہ تہران امریکا کی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے جس کا مقصد دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے ان تجاویز پر غور کے بعد ایران اپنی رائے ثالث ملک پاکستان کو پہنچائے گا۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان  معاہدے کی خبریں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

    امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی خبریں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

    امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے قریب پہنچنے اور ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی عارضی معطلی کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوا عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 12 فیصد تک کمی رپورٹ کی گئی ہے۔

    برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 97 ڈالر تک آ گئی ہے، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 90 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ اسی طرح یو اے ای کے مربن خام تیل کی قیمت بھی 99 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی ہے۔

  • وائٹ ہاؤس میں بہت فرسٹریشن ہے، ہر کوئی منتظر ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہو،امریکی صحافی

    وائٹ ہاؤس میں بہت فرسٹریشن ہے، ہر کوئی منتظر ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہو،امریکی صحافی

    امریکی اخبار نیویارک پوسٹ سے وابستہ اور وائٹ ہاؤس کوریج پر مامور امریکی صحافی کیٹلِن ڈورنبوس نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بہت فرسٹریشن ہے، ہر کوئی منتظر ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہو، دونوں ممالک امریکا اور ایران اس بات کے لیے تیار ہیں کہ جنگ ختم ہو لیکن ہمیں ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

    نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں کیٹلن نے کہاکہ وائٹ ہاؤس اس معاملے میں آگے بڑھ رہا ہے اور حال ہی میں امریکا نے نئے مشن کا اعلان کیا ہے جسے ’پراجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا گیا ہے، جس کا اس تنازعے سے تعلق تو نہیں لیکن اس کا فوکس آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر ہے، اُمید ہے ہم اس کے بارے میں کچھ پیش رفت دیکھیں گے اِس موقع پر یا مستقبل قریب میں مجھے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی کوئی توقع نہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ امن جلد قائم نہیں ہو گا بلکہ چیزیں مختلف طریقے سے ہوں گی جس طرح سے واقعات ارتقائی مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

    مذاکرات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یقیناً سب سے بڑی چیز جو مذاکراتی عمل نے حاصل کی ہے وہ جنگ بندی ہے اب ہم ایک دوسرے پر بمبار ی نہیں کررہے، ہم نسبتاً کسی حد تک امن قائم رکھے ہوئے ہیں، جنگ بندی پہلے ہی ہو چکی ہے اور صدر ٹرمپ دو ہفتے قبل کہہ چکے ہیں کہ جنگ بندی قائم رہے گی اور اِس کی کوئی آخری تاریخ نہیں لیکن جنگ اسی وقت ختم ہوگی جب کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔

    ایران کے ساتھ جنگ کے بارے میں امریکی عوام کی رائے کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میرے لے عام آدمی کی بات کرنا خاصا مشکل ہے کیونکہ عام لوگوں کی رائے مختلف ہے کچھ لوگ جنگ کی حمایت کرتے ہیں اور کچھ لوگ جنگ کے خلاف ہیں، جبکہ کچھ لوگ جنگ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، اور ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پریشان ہے-

    کیٹلِن ڈورنبوس نے کہاکہ پاکستان بطور ثالث اب بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور یہ کردار کتنا مؤثر ہے یقیناً پاکستان کو اب بھی ایک بہت اہم کردار نبھانا ہے، پاکستان وہ ثالث ہے جو دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کررہا ہے امریکا اور ایران براہ راست تو بات چیت نہیں کررہے بلکہ پاکستان کے ذریعے بات چیت کررہے ہیں اور یہ کردار مستقبل میں جاری رہے گا، خاص طور پر ایسے حالات میں جب ہم ایک دوسرے پر بمباری نہیں کر رہے ہوں گے۔

    کیٹلِن ڈورنبوس نے کہاکہ میں نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران لوگوں کے کھلے بازو دیکھے، اچھی میزبانی کا تجربہ کیا، لوگوں کی فیاضی اور گرم جوشی دیکھی، اور یہ دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ پاکستان بین الاقوامی معاملات میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ یہ پاکستانیوں کی اچھی فطرت ہے،’یہ بہت ہی خوشگوار تجربہ تھا اور میں نے ہر چیز کا لطف لیا خواہ وہ لوگوں کے ساتھ مِلنا جلنا ہو یا یہاں کی ثقافت کے بارے میں جاننا اور یہ میری توقعات سے کہیں بڑھ کے تجربہ تھا میرا خیال ہے میں جلد پاکستان واپس آؤں گی، غالباً چھٹیاں گزارنے، شاید اِسی سال آؤں کیونکہ میرا پہلا دورہ بہت شاندار رہا۔

  • ایران نے شرائط نہ مانیں تو مزید شدت سے حملے کریں گے،ٹرمپ

    ایران نے شرائط نہ مانیں تو مزید شدت سے حملے کریں گے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران کی جانب سے شرائط نہ مانی گئیں تو مزید شدت سے حملے کریں گے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہاکہ اگر ایران نے معاہدے پر رضامندی ظاہر کردی تو آپریشن ایپک فیوری ختم ہو جائےگا، اور آبنائے ہرمز کو سب کے لیے کھول دیا جائےگا، اگر ایران معاہدے پر رضامند نہ ہوا تو دوبارہ ہونے والے حملے پہلے سے مزید شدید اور طاقتور ہوں گے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے میں پیشرفت کی خوشخبری سناتے ہوئے آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ روکنے کا اعلان کیا تھا،کہا تھا کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی درخواست اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیشرفت کے بعد بحیرۂ ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جبکہ ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف مہم کے دوران امریکا کو ’بڑی فوجی کامیابی‘ حاصل ہوئی ہے،ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے کا 14 نکاتی فارمولا تیار،امریکی میڈیا

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے کا 14 نکاتی فارمولا تیار،امریکی میڈیا

    امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت (MOU) تیار کر لی گئی ہے۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور ایٹمی مذاکرات کے لیے ایک مختصر مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کے بہت قریب پہنچ چکا ہےرپورٹ میں دو امریکی حکام اور باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فریقین اس وقت معاہدے کے اتنے قریب ہیں جتنا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کبھی نہیں رہے۔

    امریکا کو توقع ہے کہ اگلے 48گھنٹوں کے دوران ایران کئی اہم نکات پر اپنا جواب دے گا، تاہم رپورٹ میں خبردار بھی کیا گیا ہے کہ ابھی تک کسی حتمی بات پر اتفاق نہیں ہوا ہےاس14 نکات پر مشتمل ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت کے لیے امریکی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر براہ راست اور ثالثوں کے ذریعے ایرانی حکام سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی موجودہ شکل کے تحت خطے میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا جائے گا اور 30 دن کا ایک ایسا دورانیہ شروع ہوگا جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے، ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے اور امریکی پابندیاں ختم کرنے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوگی اس30 دن کے عرصے کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر ایرانی پابندیاں اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی بتدریج ختم کر دی جائے گی۔

    ایکسیوس کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے اس حوالے سے واضح کیا کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو امریکی افواج دوبارہ ناکہ بندی کرنے یا فوجی کارروائی شروع کرنے کا اختیار رکھیں گی اس معاہدے کی دیگر اہم شرائط میں ایران کی جانب سے ایٹمی افزودگی روکنے کا عزم، امریکا کی طرف سے پابندیوں کا خاتمہ، منجمد ایرانی فنڈز کی واپسی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے آمد و رفت پر دونوں اطراف سے پابندیاں اٹھانا شامل ہے۔

    خبر کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر اپنا اعلیٰ افزودہ یورینیئم ملک سے باہر منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ایک تجویز کے مطابق یہ مواد امریکا منتقل کیا جا سکتا ہے، جو کہ تہران کی سابقہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے اس کے بدلے میں امریکا ایران کے منجمد اربوں ڈالرز ریلیز کرے گا اور پابندیوں میں بتدریج نرمی کی جائے گی۔

    وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ ایرانی قیادت اس وقت مختلف دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صورتِ حال کو ’انتہائی پیچیدہ اور تکنیکی‘ قرار دیا ہے، اگرچہ انہوں نے سفارتی حل کی اُمید ظاہر کی، لیکن ساتھ ہی ایرانی قیادت کے بعض حصوں پر سخت تنقید بھی کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعتماد کی فضا ابھی مکمل بحال نہیں ہوئی۔

    یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی افواج بحری محاصرہ دوبارہ بحال کرنے اور فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہیں،جبکہ ایران نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ امن معاہدہ صرف اسی صورت میں قبول کرے گا جب وہ منصفانہ ہوگا۔

    واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے شروع کیے گئے بحری مشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو بھی روک دیا ہے، جس کی وجہ سے ایک ماہ پرانی جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی تھی اگرچہ وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ نے ابھی تک اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، لیکن اس خبر کے سامنے آتے ہی امریکی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

  • ٹرمپ کے پروجیکٹ فریڈم’ کو ایران نے  ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ قرار دیا

    ٹرمپ کے پروجیکٹ فریڈم’ کو ایران نے ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ قرار دیا

    ‘پروجیکٹ فریڈم’ (Project Freedom) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو نکالنے اور بحری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے شروع کیا گیا ایک نیا فوجی اور سفارتی اقدام ہے، تاہم ایران نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

    امریکی ٹی وی چینل ’سکائی نیوز‘ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت امریکی فوجی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں، صدر ٹرمپ کے مطابق اس آپریشن کا آغاز گزشتہ روز صبح کیا گیا، جس کا مقصد خطے میں تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔

    دوسری جانب ایران نے اس منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ قرار دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔

    ایرانی ردعمل کے باوجود امریکی فوج نے منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھتے ہوئے اس کی مزید تفصیلات بھی جاری کی ہیں امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس آپریشن میں 100 سے زائد زمینی اور بحری فضائی اثاثے شامل ہیں، جن میں ایف-16 لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں، اس مشن کے تحت 15 ہزار امریکی فوجی تعینات کیے جائیں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جدید جنگی پلیٹ فارمز دفاعی نوعیت کے اس آپریشن کے دوران امریکی افواج کے تحفظ کے ساتھ ساتھ تجارتی جہازوں کے دفاع میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے، تاکہ عالمی تجارت کے اہم سمندری راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔

  • ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 67 فیصد امریکیوں کا عدم پسندیدگی کا اظہار

    ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 67 فیصد امریکیوں کا عدم پسندیدگی کا اظہار

    امریکی خبر رساں ادورں ’واشنگٹن پوسٹ‘، ’اے بی سی نیوز‘ اور اپسوس کے مشترکہ سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، اور ان کے خلاف عدم پسندیدگی کی شرح 62 سے 67 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے حالیہ پول کے مطابق، 62 فیصد امریکی ٹرمپ کی صدارت سے غیر مطمئن ہیں، جو ان کے دو ادوارِ صدارت میں سب سے بلند ترین سطح ہے دیگر رپورٹس میں یہ شرح 67 فیصد تک بھی بتائی گئی ہے، ایران کے ساتھ حالیہ جنگی کشیدگی اور معاشی مسائل کے بعد، 66 فیصد امریکیوں نے ایران کے معاملے پر ان کی پالیسی کو ناپسند کیا ہے۔

    رائٹرز/ایپسوس سروے کے مطابق، معاشی محاذ پر بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی وجہ سے ان کی ریٹنگ میں نمایاں کمی آئی ہے جہاں صرف 23 فیصد امریکی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے ان کے اقدامات سے خوش ہیں، جبکہ 76 فیصد نے ان کی معاشی پالیسیوں پر ناگواری کا اظہار کیا ہے سروے میں شامل دو تہائی (تقریباً 66 فیصد) امریکیوں کا ماننا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے-

    واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے سروے کے مطابق، 59 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی ذہنی صلاحیت اور 55 فیصد نے جسمانی صحت کو قیادت کے تقاضوں کے مطابق نامناسب قرار دیا اس سیاسی صورتحال نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی برتری کو خطرے میں ڈال دیا ہے، 71 فیصد عوام صدر ٹرمپ کو دیانتدار اور قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے۔

    انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں بشمول نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی عوامی سطح پر منفی ریٹنگ کا سامنا ہے وزیر دفاع ہیگسیتھ نے حال ہی میں دفاعی بجٹ کو ایک ٹریلین سے بڑھا کر ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کی 65 فیصد عوام نے مخالفت کی ہے۔

    سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور نے نوٹ کیا کہ عوامی رائے میں تبدیلی کی ایک وجہ جنگی حالات اور معاشی دباؤ ہے اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے اندر اب بھی 65 فیصد اراکین ٹرمپ کی قیادت کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، لیکن آزاد ووٹرز میں ان کی مقبولیت میں کمی پارٹی کے لیے آنے والے انتخابات میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہےیہ صورتحال نومبر 2026ء میں ہونے والے وسط مدتی (Midterm) انتخابات سے قبل ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے شدید سیاسی مشکلات کا پیش خیمہ سمجھی جا رہی ہے-