Baaghi TV

Tag: امریکا

  • وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، مشکوک مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار

    وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، مشکوک مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار

    ’وائٹ ہاؤس‘ کے قریب فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے، جس میں ایک مشکوک مسلح شخص کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔

    امریکی خفیہ ادارے ’سیکرٹ سروس‘ نے پیر کے روز جاری بیان میں بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے قریب تعینات اہلکاروں کا ایک مسلح اور مشکوک شخص سے سامنا ہوا جس نے اہلکاروں پر فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں زخمی ہو گیا،اس واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں تھوڑی دیر کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔

    سیکرٹ سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو کوئن نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے بیرونی حصوں پر گشت کرنے والے اہلکاروں نے ایک ایسے شخص کی نشاندہی کی جو مشکوک لگ رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے پاس اسلحہ ہے جب سیکرٹ سروس کے افسران اس شخص کے قریب پہنچے تو وہ تھوڑی دیر کے لیے پیدل بھاگا اور اس نے اہلکاروں کی سمت میں گولی چلائی، اس کے بعد سیکرٹ سروس نے مشتبہ شخص پر جوابی فائرنگ کی جس سے وہ زخمی ہو گیا اور اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    میتھو کوئن نے انکشاف کیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا قافلہ اس واقعے سے کچھ ہی دیر پہلے اس علاقے سے گزرا تھا، تاہم ابھی تک ایسے کوئی اشار ے نہیں ملے کہ مشتبہ شخص کا ارادہ نائب صدر کے قافلے تک پہنچنا تھا اس واقعے کے دوران ایک کم عمر راہگیر بھی مشتبہ شخص کی گولی کا نشانہ بنا لیکن اسے کوئی جان لیوا چوٹ نہیں آئی اور اس کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔

    مشتبہ شخص وائٹ ہاؤس کی حدود کے اندر موجود نہیں تھا بلکہ باہر تھا، حملہ آور کا رخ صدر کی طرف تھا یا نہیں، اس وقت میں نہیں جانتا لیکن ہم جلد ہی اس کا پتہ لگا لیں گے مشتبہ شخص سے اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے۔

  • ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے درکار وقت میں تبدیلی نہیں آئی،امریکی  انٹیلیجنس

    ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے درکار وقت میں تبدیلی نہیں آئی،امریکی انٹیلیجنس

    امریکی انٹیلیجنس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار وقت میں پچھلے سال کے مقابلے میں اب بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے،حالانکہ گزشتہ سال ماہرین کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے اس عمل کو ایک سال تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق یہ اندازے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی دو ماہ کی جنگ کے باوجود وہیں برقرار ہیں، جبکہ اس جنگ کا ایک بڑا مقصد ایران کو ایٹمی بم بنانے سے روکنا تھا28 فروری سے جاری حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں زیادہ تر ایران کے روایتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم اسرائیل نے چند اہم ایٹمی تنصیبات پر بھی حملے کیے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ماہرین کا ماننا ہے کہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے وقت میں تبدیلی نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایران کے ایٹمی پروگرام میں کوئی بڑی رکاوٹ ڈالنی ہے تو اس کے لیے تہران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرنا یا وہاں سے ہٹانا ضروری ہوگا۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ امریکا کا مقصد یہ ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

    اس سے قبل انٹیلی جنس اداروں کا خیال تھا کہ ایران 3 سے 6 ماہ میں ایٹمی بم بنا سکتا ہے، لیکن جون میں نطنز، فردو اور اصفہان کی ایٹمی تنصیبات پر امر یکی حملوں کے بعد یہ اندازہ 9 ماہ سے 1 سال تک بڑھا دیا گیا تھاتاہم اقوام متحدہ کے ایٹمی نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش معطل ہونے کی وجہ سے 60 فیصد تک افزودہ 440 کلوگرام یورینیم کے ٹھکانے کی تصدیق نہیں کر سکا، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اصفہان میں زیر زمین سرنگوں میں چھپا یا گیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں آپریشن مڈ نائٹ ہیمر نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر دیا تھا، وہیں آپریشن ایپک فیوری نے ایران کے اس دفاعی صنعتی ڈھانچے کو ختم کر دیا جسے وہ اپنے ایٹمی پروگرام کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے تھے ،صدر ٹرمپ نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور وہ محض باتیں نہیں کرتے۔

    اگرچہ اسرائیل نے ایٹمی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، لیکن امریکا نے زیادہ توجہ ایران کی فوجی طاقت اور قیادت پر مرکوز رکھی ہےسابق امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس جائزوں میں تبدیلی نہ آنا حیران کن نہیں ہے کیونکہ حالیہ حملوں میں ایٹمی تنصیبات کو ترجیح نہیں دی گئی، جہاں تک ہمیں معلوم ہے، ایران کے پاس اب بھی تمام ایٹمی مواد موجود ہے جو غالباً ایسی گہری زیر زمین جگہوں پر ہے جہاں امریکی بموں کی رسائی نہیں ہے۔

    دوسری جانب سابق انسپکٹر ڈیوڈ البرائٹ کا ماننا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی ایٹمی سائنس دانوں کے قتل نے تہران کی بم بنانے کی صلاحیت کو مشکوک بنا دیا ہے سب اس بات پر متفق ہیں کہ علم کو بمباری سے ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن کام کرنے کی مہارت کو ضرور تباہ کیا جا سکتا ہے۔

  • ایران پر  امریکا یا اسرائیل کی جانب سے24 گھنٹوں میں حملے کا امکان ہے،امریکی میڈیا

    ایران پر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے24 گھنٹوں میں حملے کا امکان ہے،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا اور برطانوی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا اور اسرائیل کے ایران پر اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں حملے کا شدید امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے ایک عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ اگلے 24 گھنٹے انتہائی اہم ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر کسی بھی وقت حملہ متوقع ہے حالیہ واقعات نے صورتحال کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں اب ایک مربوط فوجی جواب پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

    یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ عرب امارات کے علاقے فجیرہ میں ایک تیل کی تنصیب پر ڈرون حملہ ہوا اور دبئی کی فضاؤں میں میزائلوں کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق 50 سے زائد ایرانی اہداف نشانے پر ہیں، جبکہ امریکی سینٹ کام نے پہلے ہی 6 ایرانی کشتیاں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے،ایران میں بیلسٹک میزائل لانچنگ سائٹس اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ایرانی پاسداران انقلاب نے کسی بھی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دینے کی تیاری کر رکھی ہے،اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں ایران کے وسطی اور مغربی حصوں میں 140 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔

    اسی حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایرانی فورسز کی سات کشتیاں تباہ کی ہیں جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہی تھیں ایران نے جنوبی کوریا کے مال بردار جہاز سمیت دیگر غیر متعلقہ ممالک کے جہازوں پر حملے کیے ہیں، اب شاید وقت آ گیا ہے کہ جنوبی کوریا بھی ہمارے مشن کا حصہ بن جائے۔

    صدر ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے سخت وارننگ دی کہ اگر ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا تو انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا اب صرف دو ہی راستے بچے ہیں، یا تو مذاکرات کے ذریعے معاہدہ ہو جائے یا پھر مکمل فوجی کارروائی کی طرف واپسی ہو۔

    اس کشیدگی کے معاشی اثرات بھی پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں آبنائے ہرمز جو کہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، وہاں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اسٹاک مارکیٹس مندی کا شکار ہیں، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحری راستہ بند رہا تو امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں پانچ ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہیں۔

  • ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے،ایرانی میڈیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے،ایرانی میڈیا

    ایران کی نیوز ایجنسی ’فارس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ جزیرہ جاسک کے قریب دو میزائلوں نے ایک امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے، یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب امریکی جہاز نے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے رکنے کے انتباہ کو نظر انداز کیا۔

    یہ مبینہ حملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے پیر سے ’پروجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس مشن کے لیے 15 ہزار فوجی اہلکار، 100 سے زائد طیارے، جنگی جہاز اور ڈرونز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی جہاز پر میزائل حملے میں نقصانات کی تاحال تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں امریکی صہیونی ڈسٹرائزر کے داخلے کو روک دیا ہے۔

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری فورسز نے ایک سخت اور فوری وارننگ کے ذریعے امریکی جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا ہے،دوسری جانب سینئر امریکی عہدیدار نے امریکی جہاز کا ایرانی میزائل کا نشانہ بننے کی خبر کی تردید کر دی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ترجمان ایرانی افواج کا کہنا تھا کہ تمام تجارتی بحری جہاز اور آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز میں ہم سے رابطے کے بغیر نقل و حرکت نہ کریں، امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کے قریب بھی نہ جائےیرانی افواج کی جانب سے کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو مکمل طور پر سنبھالے ہوئے ہیں، آبنائے ہرمز میں نیوی گیشن ایرانی مسلح افواج سے رابطے میں رہ کر کی جائے۔

    ایرانی فوجی کمانڈر میجر جنرل علی عبداللّٰہی نے غیر ملکی بحری بیڑوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ تجارتی جہازوں کی حفاظت کے بہا نے آبنائے ہرمز میں داخل نہ ہوں،ا مریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے حملے نے عالمی تجارت اور معیشت کی سلامتی کو خطر ے میں ڈال دیا ہے۔

    میجر جنرل علی عبداللّٰہی نے کہا کہ شرپسند امریکا کے حامیوں کو محتاط رہنا چاہیے اور ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے ناقابلِ تلافی پچھتاوا ہو، کیونکہ امریکا کی جارحا نہ کارروائیوں کا نتیجہ حالات کو مزید پیچیدہ بنانے اور بحری جہازوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔

  • ایران نے  امریکا کو 3 مراحل پر مشتمل ایک تازہ امن تجویز بھجوادی

    ایران نے امریکا کو 3 مراحل پر مشتمل ایک تازہ امن تجویز بھجوادی

    ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو 3 مراحل پر مشتمل ایک تازہ امن تجویز بھجوائی ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور 2026ء کی جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اس تین مرحلے پر مشتمل منصوبے میں اسرائیل سمیت تمام فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کا عہد شامل ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر لگی امریکی پابندیوں کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سمندری بارودی سرنگوں کو ہٹانے کی ذمہ داری تہران قبول کرے گا۔

    دوسرے مرحلے کے تحت ایران کو ایک مخصوص مدت کے بعد 3.6 فیصد تک یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم یہ ”زیرو اسٹوریج“ اصول کے تحت ہوگا جس کا مطلب ہے کہ افزودہ شدہ مواد کا ذخیرہ نہیں کیا جائے گااس مرحلے میں ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کو ختم کرنے یا نقصان پہنچانے کی کسی بھی شرط کو مسترد کر دیا ہے۔

    تجویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل، ایران اور اس کے اتحادیوں پر حملوں سے گریز کریں گے اور بدلے میں ایران بھی کوئی جوابی کارروائی نہیں کرے گا، جبکہ پابندیوں میں نرمی کے طور پر ایران کے منجمد فنڈز کو مرحلہ وار جاری کیا جائے گا۔

    آخری اور تیسرے مرحلے میں تہران نے اپنے عرب پڑوسیوں کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات اور پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک جامع علاقائی سلامتی کے نظام کی تشکیل کی تجویز دی ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق یہ تجاویز پاکستان کے توسط سے امریکا کو بھیجی گئی ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر ان تجاویز کو "ناکافی” یا "ناقابل قبول” قرار دیا ہےپاکستان اس معاملے میں "بیک ڈور ڈپلومیسی” کے ذریعے سرگرم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے،یہ نئی پیش رفت اپریل 2026ء میں قائم ہونے والی جنگ بندی کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کیا تھا-

  • امریکی صدر کی کابینہ کے ہمراہ اے آئی سے تیار تصویر کے انٹرنیٹ پر چرچے

    امریکی صدر کی کابینہ کے ہمراہ اے آئی سے تیار تصویر کے انٹرنیٹ پر چرچے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کردہ کئی تصاویر شیئر کیں، جن میں سے ایک تصویر انٹرنیٹ پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں 79 سالہ صدر ٹرمپ اپنے کابینہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ واشنگٹن ڈی سی کے تاریخی لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول میں بغیر شرٹ کے آرام کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    یہ تصویر ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر 2 دن قبل مقامی وقت کے مطابق 11 بج کر 3 منٹ پر بغیر کسی کیپشن کے پوسٹ کی گئی، وائرل ہونے والی اس مصنوعی تصویر میں صدر ٹرمپ کو سنہری رنگ کے ہوا سے بھرے صوفے پر لیٹے، مسکراتے اور انگوٹھے کا اشارہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے،ٹرمپ کے ساتھ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر داخلہ ڈوگ برگم بھی تالاب میں موجود ہیں، تصویر کے دائیں جانب ایک نامعلوم خاتون بھی نظر آ رہی ہیں-

    یہ پوسٹ صدر ٹرمپ کی 42 منٹ تک جاری رہنے والی تصاویر کی سیریز کا حصہ تھی، اس دوران انہوں نے رات 11:03 سے 11:45 کے درمیان کل 11 اے آئی تصاویر شیئر کیں، جن میں ایک تصویر ماؤنٹ رشمور پر ان کے چہرے کی بھی تھی،یہ تصویر دیکھنے میں عجیب لگ سکتی ہے، لیکن اس کا پس منظر اہم ہے، لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول اس وقت صدر ٹرمپ کے حکم پر 1.5 ملین ڈالر کی تزئین و آرائش کے عمل سے گزر رہا ہے، جس کی نگرانی وزیر داخلہ ڈوگ برگم کر رہے ہیں۔

    اس منصوبے کا مقصد تالاب کی گرینائٹ فاؤنڈیشن میں رساؤ کو ٹھیک کرنا اور 4 جولائی کو امریکا کی 250 ویں سالگرہ سے پہلے اسے امریکی پرچم جیسے نیلے رنگ کی نئی کوٹنگ دینا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ وزیر داخلہ ڈوگ برگم اور میں لنکن میموریل اور واشنگٹن مونیومنٹ کے درمیان واقع اس انتہائی گندے ریفلیکٹنگ پول کو ٹھیک کرنے پر کام کر رہے ہیں، انہوں نے تالاب کی موجودہ خراب حالت کا ذمہ دار پچھلی انتظامیہ کو ٹھہرایا ہے۔

  • امریکا نے ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا

    امریکا نے ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا

    امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش پر تحویل میں لیا گیا ایرانی جہاز عملے سمیت ایران واپسی کے لیے پاکستان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز کا کہنا ہے کہ آج امریکی افواج نے ایم وی توسکا کے 22 عملے کے ارکان کو وطن واپسی کے لیے پاکستان منتقل کر دیا ہے، مزید 6 افراد کو گزشتہ ہفتے ہی ایک علاقائی ملک منتقل کر دیا گیا تھا، ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ 6 افراد عملے کے بعض ارکان کے اہلِ خانہ تھے۔

    کیپٹن ہاکنز کے مطابق توسکا جہاز کی تحویل بھی اس کے اصل مالک کو واپس کی جا رہی ہے، کیونکہ اسے گزشتہ ماہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کے دوران روکا اور ضبط کیا گیا تھا۔

    امریکی حکام کے مطابق 19 اپریل کو جب توسکا کے عملے نے امریکی بحری جہازوں کی جانب سے دی گئی 6 گھنٹے کی وارننگ کو نظر انداز کیا تو ایک امریکی ڈسٹرائر نے جہاز کے انجن روم پر متعدد گولے داغے،بعد ازاں امریکی میرینز نے جہاز پر چڑھائی کر کے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔

  • امریکی وزیر خارجہ  روم اور ویٹیکن کا دورہ کریں گے

    امریکی وزیر خارجہ روم اور ویٹیکن کا دورہ کریں گے

    امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو اس ہفتے اٹلی کے دارالحکومت روم اور ویٹیکن کا دورہ کریں گے-

    اطالوی حکومتی ذریعے کے مطابق مارکو روبیو، جو خود بھی کیتھولک ہیں،ویٹیکن کے سیکریٹری آف اسٹیٹ پیٹرو پیرولن اور اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی سے ملاقات کریں گےاطالوی میڈیا کے مطابق وہ اپنے دورے کے دوران وزیر دفاع گویڈو کروسیٹو سے بھی ملاقات کریں گے،یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چند ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پوپ لیو چہاردہم کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ سامنے آیا تھا یہ دورہ امریکا اور ویٹیکن کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ پوپ لیو چہاردہم نے امریکا کی ایران کے خلاف پالیسی اور جنگی بیانات پر تنقید کی تھی، جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل دیا تھا،پوپ لیو چہاردہم نے 7 اپریل کو ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں کو ‘ناقابل قبول’ قرار دیتے ہوئے امن کی اپیل کی تھی، جس کے جواب میں ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوپ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی پالیسیوں کو کمزور قرار دیا۔

    دوسری جانب اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے پوپ کے حق میں بیان دیتے ہوئے ٹرمپ کی تنقید کو ‘ناقابل قبول’ کہا، جس پر ٹرمپ نے میلونی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی قیادت پر سوال اٹھایا ذرائع کے مطابق مارکو روبیو کا یہ دورہ دونوں فریقین کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کی ایک اہم سفارتی کوشش سمجھا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر امریکا، یورپ اور ویٹیکن کے تعلقات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • ایران نے مذاکرات کیلئےامریکا کو  14 نکاتی نئی جوابی تجاویز بھیج دیں

    ایران نے مذاکرات کیلئےامریکا کو 14 نکاتی نئی جوابی تجاویز بھیج دیں

    ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو اپنے 14 نکاتی جوابی تجاویز بھیج دیں-

    ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو اپنے 14 نکاتی جوابی تجاویز بھیجی ہیں، جو امریکی 9 نکاتی جنگ بندی تجویز کے جواب میں پیش کی گئی ہیں ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ تجاویز "جنگ بندی” کی بجائے "جنگ کے مکمل خاتمے” پر مرکوز ہیں، جس کے لیے امریکا کو ایرانی اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے سمیت سخت شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا نے اپنی تجویز میں 2 ماہ کی جنگ بندی کی درخواست کی تھی، تاہم ایران نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام مسائل کو 30 دن کے اندر حل کیا جائے اور جنگ بندی میں توسیع کے بجائے جنگ کے خاتمے پر توجہ دی جائے۔

    ایران کی جانب سے پیش کی گئی 14 نکاتی تجویز میں متعدد اہم امور شامل ہیں، جن میں دوبارہ جارحیت نہ کرنے کی ضمانت، ایران کے اطراف سے امریکی افواج کا انخلا، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی اور معاشی پابندیوں کا فوری خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، ہرجانے کی ادائیگی، پابندیوں کا خاتمہ اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ شامل ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے طریقہ کار کی تجویز بھی ایرانی منصوبے کا حصہ ہے اور ایران اس وقت اپنی تجاویز پر امریکا کے باضابطہ ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے جمعرات کو امریکا کو 14 نکاتی نظرثانی شدہ تجویز پیش کی ہے۔

    اس تجویز سے آگاہ دو ذرائع کے مطابق اس میں ایک ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے جس کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران و لبنان میں جنگ کے مستقل خاتمے پر معاہدہ کیا جائے گا۔ ایرانی تجویز کے مطابق اس ابتدائی معاہدے کے بعد مزید ایک ماہ کی بات چیت کا آغاز کیا جائے گا تاکہ جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

    صدر ٹرمپ کو جمعرات کے روز امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے نئے منصوبوں پر بریفنگ دی۔ اس کے بعد کوپر خطے کے دورے پر روانہ ہوئے اور ہفتے کے روز بحیرہ عرب میں موجود امریکی بحری جہاز یو ایس ایس ٹرپولی پر تعینات اہلکاروں سے ملاقات کی۔

    جمعے کو صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ وہ ایرانی تجویز سے مطمئن نہیں ہیں، تاہم ہفتے کے روز پام بیچ سے میامی روانگی سے قبل انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ پرواز کے دوران اس کا جائزہ لیں گے ایران نے ابھی تک اپنے اقدامات کی مکمل قیمت ادا نہیں کی اور ضرورت پڑنے پر اس کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر دوبارہ حملے خارج از امکان نہیں ہے۔

  • ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں،ٹرمپ

    ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں، ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑی قیمت ادا نہیں کی۔

    ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے، آبنائے ہرمز کی ناکا بندی انتہائی دوستانہ ہے مجھے ایران سے ڈیل کی تجویز سے آگاہ کر دیا گیا ہے، مجھے اس تجویز کے اصل الفاظ سے جلد آگاہ کیا جائے گا، جلد ہی جائزہ لوں گا، یہ سوچ نہیں سکتا کہ ایران کی تجاویز قابل قبول ہوں گی، کہ انہوں نے گزشتہ 47 سالوں میں انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی کوئی بڑی قیمت ادا نہیں کی ہے۔ جرمنی سے 5 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکاروں کو نکال رہے ہیں۔

    دوسری جانب عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے بعد اپنے نئے ہدف کے طور پر کیوبا کا نام لیا ہے اور امریکی جنگی پالیسی پر کھل کر گفتگو کی ہے فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران جنگ کے بعد واپسی پر امریکی بحریہ کا ایک بڑا طیارہ بردار جہاز کیوبا کے ساحل کے قریب تعینات کیا جا سکتا ہے، جنگی بحری بیڑے کی تعیناتی کی وجہ سے کیوبا خود ہی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجائے گا اور امریکا اس ملک کا کنٹرول سنبھال لے گا۔ یہ سب بہت جلد ممکن ہے۔