Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ایران میں خانہ جنگی کا منصوبہ،امریکا کا عراقی کرد رہنماؤں سے رابطہ

    ایران میں خانہ جنگی کا منصوبہ،امریکا کا عراقی کرد رہنماؤں سے رابطہ

    ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد خطے کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور اب امریکا ایرانی کرد رہنماؤں سے رابطے بڑھا رہا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ایرانی کرد مسلح گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد ایران میں عوامی بغاوت کو ہوا دینا بتایا جا رہا ہے ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی اپوزیشن گروپوں اور عراق کے کرد رہنماؤں سے ممکنہ فوجی تعاون کے حوالے سے سرگرم رابطے شروع کر رکھے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی کرد مسلح گروہوں کے ہزاروں جنگجو عراق اور ایران کی سرحد کے ساتھ سرگرم ہیں، جن کی بڑی تعداد عراق کے کردستان ریجن میں موجود ہے حالیہ دنوں میں ان میں سے کئی گروہوں نے بیانات جاری کیے ہیں جن میں ممکنہ کارروائیوں کا اشارہ دیا گیا اور ایرانی فوجی اہلکاروں کو حکومت سے الگ ہونے کی اپیل بھی کی گئی۔

    آبنائے ہرمز سے ایک بوند تیل نہیں جانے دیں گے: ایرانی پاسداران انقلاب

    دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی ان گروہوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور منگل کے روز دعویٰ کیا کہ کرد فورسز کو درجنوں ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا، سی آئی اے کی جانب سے ایرانی کرد گروہوں کی مبینہ حمایت کا آغاز جنگ شروع ہونے سے کئی ماہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔

    اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز عراقی کرد رہنماؤں مسعود بارزانی اور بافل طالبانی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی امریکی حکام کے مطابق اس گفتگو میں ایران میں جاری امریکی فوجی کارروائی اور مستقبل میں امریکا اور کرد قیادت کے ممکنہ تعاون پر بات کی گئی۔

    کوہاٹ میں تیل وگیس کے بڑے ذخائر دریافت

    امریکی خبر رساں ادارے ایکسوس نے بھی اس رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ گفتگو ایران پر امریکی حملے کے ایک روز بعد ہوئی، تاہم اس کی تفصیلا ت منظرِ عام پر نہیں آئیں، یہ رابطہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مشورے پر کیا گیا۔

    سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایرانی کردستان کی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ حجری سے بھی رابطہ کیا، جن کی جماعت کو ماضی میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے نشانہ بنایا تھا۔

  • سعودی عرب کی ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ایرانی حملےکی شدید مذمت

    سعودی عرب کی جانب سے ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ایرانی حملےکی شدید مذمت کی گئی ہے۔

    ترجمان سعودی وزارت دفاع کے مطابق سعودی عرب نے بدھ کے روز 9 ڈرونز فضا میں ہی تباہ کردیے، ایک ڈرون مشرقی علاقے اور 2 کروز میزائل الخُرج گورنریٹ میں تباہ کیےگئے اس کے علاوہ سعودی وزارت خارجہ نے ریاض میں امریکی سفارت خانے پرایرانی حملےکی شدید مذمت کی۔

    ادھر امریکی وزیر خارجہ نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے فون پرگفتگو کی اور ایرانی خطرات، علاقائی استحکام اورخطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

    ایرانی وزیر خارجہ اور کرد رہنما بافل طالبانی میں ٹیلیفونک رابطہ

    دوسری جانب سعودی عرب میں ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر پاکستانی سفارتخانے نے نئی ایڈوائزری جاری کردی۔

    پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر سفارتخانے سے رابطہ کریں، سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں، بالخصو ص وزٹ ویزا یا عمرہ کی ادائیگی کے لیے آنے والے افراد کی سہولت کے لیے ہنگامی رابطہ نمبرز جاری کر دیے گئے ہیں۔

    سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر پاکستانی شہری لینڈ لائن نمبرز 966126689149 اور 966126692371 پر رابطہ کر سکتے ہیں شہری موبائل نمبرز 966563870732 اور 966542099348 پر بھی سفارتخانے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

    رجیم چینج کی کوشش ہوئی تو اسرائیلی جوہری مرکز ہمارا ہدف ہو گا،ایران

    سفارتخانے کے مطابق تمام سعودی ایئرپورٹس پر بھی پاکستانی سفارتخانے کا عملہ تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاکستانی شہریوں کی رہنمائی اور مدد کی جا سکےسفارتخانے نے پاکستانیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صورتحال کے پیش نظر جاری ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی مشکل کی صورت میں فوری رابطہ کریں۔

  • ایرانی وزیر خارجہ اور کرد رہنما بافل طالبانی میں ٹیلیفونک رابطہ

    ایرانی وزیر خارجہ اور کرد رہنما بافل طالبانی میں ٹیلیفونک رابطہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراق کے کرد رہنما اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے سربراہ بافل طالبانی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا-

    ترک خبر رساں ایجنسی ’انا دولو‘ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراق کے کرد سیاسی رہنما اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے سربراہ بافل طالبانی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران اور عراق کی مشترکہ سرحد کے قریب مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں اور سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،گفتگو کے دوران بافل طالبانی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر ہلاک ہونے والے افراد کی ہلاکت پر تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا، جنہیں ایرانی بیان میں ’امریکی اور صہیونی جرم‘ کا نشانہ قرار دیا گیا۔

    رجیم چینج کی کوشش ہوئی تو اسرائیلی جوہری مرکز ہمارا ہدف ہو گا،ایران

    ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے سرحدی علاقوں میں “دہشت گرد نقل و حرکت” کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان موجود سیکیورٹی مفاہمتوں کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا بافل طالبانی نے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں جانب تعاون اور رابطہ کاری کے ذریعے کسی بھی ممکنہ عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمی کو روکا جا سکتا ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق گفتگو میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مشترکہ سرحد پر امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا۔

    "آپریشن غضب للحق” ، سرحد پار گونجتی شاہینوں کی پرواز اور فیصلہ کن پیغام،تحریر:جان محمد رمضان

  • جیفری ایپسٹین کے سائنسدانوں سے تعلقات ؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات

    جیفری ایپسٹین کے سائنسدانوں سے تعلقات ؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات

    محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے 3 ملین سے زائد صفحات پر مشتمل جیفری ایپسٹین کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مشہور فنانسر اور بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم کے مرتکب ایپسٹین نے سائنسی حلقے سے روابط قائم کرنے کی کوشش کی۔

    ان دستاویزات میں سائنٹفک امریکن نامی معروف سائنسی جرنل کے حوالے کم از کم 260 مرتبہ دیکھے گئے، جبکہ نیشنل جیوگرافک تقریباً 200 دستاویزات میں شامل تھاایپسٹین اور اس کی سابقہ ساتھی گیسلین میکس ویل نے سائنس میگزین سیڈ کے بورڈ میں بھی جگہ لی تھی، جس کا ذکر 78 دستاویزات میں آیا۔

    اس کے علاوہ، کئی معروف سائنسدان جیسے اسٹیفن ہاکنگ، لیسا رینڈل، جارج چرچ، ڈینی ہلس، مارٹن نوواک، لارنس کراس، نیتھن وولف ایپسٹین کے ساتھ کسی نہ کسی طور جڑے رہے۔ کوئی بھی سائنسدان ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کے لیے مجرمانہ طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

    ایرانی حملے:پہلے 4 دنوں میں امریکی فوجی اثاثوں کو قریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان

    ڈاکٹر رینڈل کے مطابق، وہ ایپسٹین کے ذاتی اور مالی تعاون سے متاثر نہیں ہوئیں۔ اسی طرح، ڈینی ہلس، مارٹن نوواک اور دیگر سائنسدانوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایپسٹین کا سائنٹفک امریکن کے ادارتی مواد پر کوئی اثر نہیں تھا۔

    دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایپسٹین نے سائنسدانوں کے ساتھ متعدد پیشکشیں کیں، جن میں مصنوعی ذہانت، بایو سائنس اور حتیٰ کہ نسلی سائنس جیسے متنازع موضوعات شامل تھے۔ ایپسٹین نے سائنسدانوں کو مالی امداد بھی فراہم کی، جس میں ہارورڈ یونیورسٹی، ایم آئی ٹی اور سانٹا فی انسٹیٹیوٹ شامل تھے۔

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کا خدشہ،وزیراعظم کو خط

    سائنٹفک امریکن کے سابق ایڈیٹر ماریئٹ ڈی کرِسٹینا نے واضح کیا کہ ایپسٹین نے کبھی بھی میگزین کی اشاعت یا انتخاب میں مداخلت نہیں کی، اور اس کے دورے صرف سیکھنے اور تحقیق کے مقصد کے لیے تھے۔

    واضح رہے کہ ایپسٹین 2019 میں وفاقی جیل میں انتقال کر گئے، لیکن ان کے سائنسدانوں اور میڈیا کے ساتھ تعلقات کے اثرات آج بھی زیرِ بحث ہیں، اور یہ معاملہ سائنس اور اخلاقیات کے دائرے میں اہم سوالات کھڑا کر رہا ہےیہ دستاویزات متعدد سائنسدانوں کا ذکر کرتی ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ لازماً ایپسٹن کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے یا ان سے آگاہ تھے تعلیمی اور اخلاقی نقطہ نظر سے ان سائنسدانوں کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    بل کلنٹن کے ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی گفتگو سے متعلق اہم انکشافات

  • ایرانی حملے:پہلے 4 دنوں میں امریکی فوجی اثاثوں کو قریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان

    ایرانی حملے:پہلے 4 دنوں میں امریکی فوجی اثاثوں کو قریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان

    ایران کے حملوں کے پہلے 4 دنوں میں امریکی فوجی اثاثوں کو قریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے، جس میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز، F-15E اسٹرائیک ایگل طیارے اور ریڈار سسٹمز شامل ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اہم نقصانات میں شامل ہیں:

    AN/FPS-132 ایرلی وارننگ ریڈار، القاعدہ ایئر بیس، قطر: $1.1 بلین
    تین F-15E سٹرائیک ایگل کو کویتی فضائی دفاع کی دوستانہ فائر میں نقصان: $282 ملین
    2 سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز AN/GSC-52Bs، بحرین: $20 ملین
    AN/TPY-2 THAAD ریڈار، متحدہ عرب امارات: $500 ملین

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کا خدشہ،وزیراعظم کو خط

    ایران نے کم از کم 7 امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں شامل ہیں: بحرین میں 5ویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر، کویت کے کیمپ عریفجان اور کیمپ بیورنگ، عراق میں اربیل بیس، دبئی میں جبل علی پورٹ، اور قطر کا القاعدہ ایئر بیس۔

    سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارت خانے بھی حملوں کی زد میں آئے سعودی عرب میں ریاض میں امریکی سفارتخانہ پر 2 ڈرون حملے، کویت سٹی میں امریکی سفارتخانہ پر ڈرون اور میزائل حملے، دبئی میں امریکی قونصل خانہ پر ڈرون سے آگ لگی، تاہم فوری قابو پایا گیا۔

    بل کلنٹن کے ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی گفتگو سے متعلق اہم انکشافات

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی یہ کارروائیاں امریکی فوجی اور سفارتی تنصیبات پر بھاری نقصان اور تناؤ پیدا کر رہی ہیں، جبکہ امریکی عملہ اور سفارتی اہلکاروں کی حفاظت کے اقدامات جاری ہیں۔

  • ایران پر آئندہ چند روز میں مزید تباہ کن حملے ہوسکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

    ایران پر آئندہ چند روز میں مزید تباہ کن حملے ہوسکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

    امریکی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر مزید تباہ کن حملوں کی تیاری کی جا رہی ہے-

    امریکہ کے وزیرخارجہ مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں پر دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں مزید تباہ کن حملے ہوسکتے ہیں مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہری فوری طور پر اپنے قریبی سفارتخانوں سے رابطہ کریں تقریباً 1600 امریکی شہریوں نے خطے سے انخلاء کے لیے مدد طلب کی ہے۔

    مارکو روبیو نے انکشاف کیا کہ ایک امریکی قونصلیٹ کے احاطے اور پارکنگ ایریا میں ڈرون گرایا گیا، جبکہ امریکی سفارتی دفاتر براہِ راست حملوں کی زد میں ہیں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران خطے میں امریکی سفارتخانوں کو نشانہ بنا رہا ہے ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،اگر ایرانی رجیم کو جوہری طاقت مل گئی تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔

    سعودی عرب کی متبادل سپلائی روٹ سے پاکستان کو تیل فراہمی کی یقین دہانی

    انہوں نے کہا کہ ہم ایران کو بیلسٹک میزائلوں کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے اور امریکی سینٹ کام ایرانی میزائل صلاحیت کو تباہ کرنے میں مصروف ہے دنیا کی دو طاقتور ترین فضائیہ اس مشترکہ آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں اور امریکہ اپنے مقاصد کے حصول تک کارروائیاں جاری رکھے گا ایرانی جوہری صلا حیت ، میزائل پروگرام اور بحریہ امریکی اہداف میں شامل ہیں اور ان میں سے تین بڑے اہداف تقریباً حاصل کیے جا چکے ہیں۔

    نئے سپریم لیڈر کا انتخاب:ایران نے اسرائیلی دعویٰ مسترد کر دیا

    مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درست وقت کا انتخاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا اگر اس وقت اقدام نہ کیا جاتا تو مستقبل میں ایران کو روکنا مشکل ہو سکتا تھا فضائی حدود کی بندش سے کچھ چیلنجز ضرور درپیش ہیں، تاہم مشترکہ آپریشن اسی لیے کیا گیا تاکہ اہداف کو کامیابی سے حاصل کیا جا سکے۔

  • امریکہ کا  نان ایمرجنسی عملے کو کراچی، لاہور میں  قونصل خانے چھوڑنے کا حکم

    امریکہ کا نان ایمرجنسی عملے کو کراچی، لاہور میں قونصل خانے چھوڑنے کا حکم

    امریکہ نے نان ایمرجنسی عملے کو کراچی، لاہور میں قونصل خانے چھوڑنے کا حکم دے دیا-

    امریکہ نے دہشت گردی اور اغوا کے خطرات سمیت پورے پاکستان میں بڑھتے ہوئے سیکورٹی خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے، نان ایمرجنسی اہلکاروں کو کراچی اور لاہور میں اپنے قونصل خانے خالی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں میں اب تک مجموعی طور پر 20 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جس کے بعد حکومت نے ملک بھر میں بڑے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہےکراچی، لاہور اور اسلام آباد میں امریکی سفارتی مشنز کی سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے قونصل خانے کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    گھر سے سودا لینے کیلئے جانے والے 14 سالہ بچے کیساتھ زیادتی، ملزم گرفتار

    امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز کراچی میں امریکی قونصل خانے پر مظاہرین کے حملے کے دوران وہاں تعینات امریکی میرینز نے فائرنگ کی ہے۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی حکام کے مطابق اتوار کو مظاہرین نے قونصل خانے کی بیرونی دیوار توڑ دی تھی، جس کے بعد سیکیورٹی پر مامور میرینز نے فائرنگ کی، واضح نہیں میرینز کی گولیاں کسی کو لگیں یا اس سے کوئی ہلاکت ہوئی اس ہنگامہ آرائی کے دوران اب تک 10 افراد کی جاں بحق کی تصدیق ہو چکی ہے تاہم، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ہلاکتیں میرینز کی گولیوں سے ہوئیں یا وہاں موجود نجی سیکیورٹی گارڈز اور مقامی پولیس کی فائرنگ سے۔

    خطے کی‌صورتحال: وزیراعظم ہاؤس میں سیاسی جماعتوں اور اراکین پارلیمنٹ کو ان کیمرا بریفنگ

    مشتعل مظاہرین ‘امریکا مردہ باد’ کے نعرے لگا رہے تھے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مظاہرین کی جانب سے قونصل خانے پر فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں اندر سے گولیاں چلائی گئیں۔ کراچی پولیس کے ایک عہدیدار نے بھی تصدیق کی ہے کہ فائرنگ قونصل خانے کی حدود کے اندر سے کی گئی۔

    صوبائی حکومت کے ترجمان سکھدیو اسرداس ہیمنانی نے سیکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ فائرنگ کرنے والے اہلکار کس ادارے سے تعلق رکھتے تھے۔

    یو اے ای میں پاکستانی سفارتخانے کی سروسز معطل

  • امریکا میں مالیاتی اداروں کو سائبر حملوں کا خدشہ ،ہائی الرٹ

    امریکا میں مالیاتی اداروں کو سائبر حملوں کا خدشہ ،ہائی الرٹ

    امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد امریکی مالیاتی خدمات کا شعبہ ممکنہ سائبر حملوں کے خدشے کے پیش نظر ہائی الرٹ پر چلا گیا ہے۔

    گزشتہ ہفتے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اس صورتِ حال نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران سے منسلک عناصر امریکی مالیاتی نظام کو سائبر حملوں کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    ماہرین اور صنعت سے وابستہ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جغرافیائی تنازعات کے دوران عموماً سائبر خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے، اسی لیے مالیاتی ادارے اپنے نظام کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔

    مالیاتی خدمات کا شعبہ امریکا کے اہم بنیادی ڈھانچے کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جس میں ادائیگیوں کا نظام، کلیئرنگ اور سیٹلمنٹ سسٹمز، تجارتی پلیٹ فارمز اور ٹریژری مارکیٹس شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شعبہ سائبر حملہ آوروں کے لیے ایک اہم ہدف تصور کیا جاتا ہےصنعت سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق سائبر سیکیورٹی پہلے ہی اس شعبے کی اولین ترجیح رہی ہے۔

    دبئی میں امریکی قونصل خانے پر ڈرون حملہ، آگ بھڑک اٹھی

    روئٹرز کے مطابق مالیاتی صنعت کی نمائندہ تنظیم سِفما کے منیجنگ ڈائریکٹر ٹوڈ کلیس مین کا کہنا ہے کہ صنعت ہر وقت سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار رہتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی کے خدشات بڑھ جائیں، موجودہ صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ امریکی سرمایہ جاتی منڈیوں کی سالمیت اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے سِفما ہر سال ایک مشق بھی منعقد کرتی ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ مالیاتی ادارے بڑے سائبر ہنگامی حالات میں بھی کام جاری رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔

    بینکاری شعبے کے ایک اور سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ بینک سائبر حملوں کے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور انہیں ایسے حملوں کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔

    امریکی انٹیلی جنس کی ایک حالیہ رپورٹ، جس کے بارے میں برطانوی خبر رساں ادارے نے پیر کو خبر دی تھی کہ ایران سے وابستہ ہیکٹیوسٹ گروپس امریکی نیٹ ورکس پر کم درجے کے سائبر حملے کر سکتے ہیں ان حملوں میں ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سروس یعنی ڈی ڈوس حملے شامل ہو سکتے ہیں، جن میں کسی سرور پر بیک وقت بہت زیادہ انٹرنیٹ ٹریفک بھیج کر اسے مفلوج کر دیا جاتا ہے۔

    ریاض میں سی آئی سینٹر پر ڈرون حملہ

    کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی مارننگ اسٹار ڈی بی آر ایس نے بھی خبردار کیا ہے کہ عالمی بینکوں اور اثاثہ جاتی منیجروں کے لیے سب سے بڑے خطرات بالواسطہ ہو سکتے ہیں، جیسے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ یا قرض لینے والوں کو درپیش جھٹکے، تاہم ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ سائبر خطرات میں اضافہ خارج از امکان نہیں اور ایران مغربی اداروں بشمول بینکوں کے خلاف سائبر سرگرمیاں بڑھا سکتا ہے۔

    امریکی سرمایہ کاری بینک لازارڈ کی جغرافیائی مشاورتی ٹیم نے بھی اس ہفتے سائبر خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ ٹیم کے مطابق ایران نے ماضی میں تجارتی اہداف، جن میں مالیاتی نظام بھی شامل ہے، کے خلاف اپنی سائبر صلاحیتوں کے استعمال کا مظاہرہ کیا ہے۔

    فنانشل سروسز انفارمیشن شیئرنگ اینڈ اینالیسس سینٹر کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں مالیاتی خدمات کا شعبہ ڈی ڈوس حملوں کا سب سے بڑا ہدف رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حماس اسرائیل اور روس یوکرین جنگوں کے دوران ہیکٹیوزم میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

    ایران کا اسرائیل کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز سے تازہ حملہ

    اگرچہ حالیہ برسوں میں کسی بڑے دشمنانہ سائبر حملے کے باعث پورا مالیاتی نظام مفلوج نہیں ہوا، تاہم چھوٹے پیمانے کے ڈی ڈوس اور رینسم ویئر حملوں نے مارکیٹ کے بعض حصوں کو متاثر ضرور کیا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں نگرانی اور تیاری ہی ممکنہ نقصانات سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے۔

  • دبئی میں امریکی قونصل خانے پر ڈرون حملہ، آگ بھڑک اٹھی

    دبئی میں امریکی قونصل خانے پر ڈرون حملہ، آگ بھڑک اٹھی

    متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں واقع امریکی قونصل خانے کے قریب زور دار دھماکوں کے بعد آگ اور دھویں کے بادل دیکھے گئے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق ریاستہائے متحدہ امریکہ کا قونصل خانہ دبئی کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد عمارت کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ آسمان پر سیاہ دھواں بلند ہوتا دیکھا گیا۔

    تاہم دبئی میڈیا آفس نے تصدیق کی ہے کہ ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ پر فوری طور پر قابو پا لیا گیا حکام کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، متعلقہ اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیر ے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ فضائی نگرانی بھی سخت کر دی گئی ہے۔

    ریاض میں سی آئی سینٹر پر ڈرون حملہ

    ایران کا اسرائیل کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز سے تازہ حملہ

    خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ ایران کے سپریم لیڈر منتخب، اسرائیلی میڈیا

  • امریکا کا پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات تباہ کرنے کا دعویٰ

    امریکا کا پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات تباہ کرنے کا دعویٰ

    امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے چوتھے روز بھی جاری ،امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق کارروائیوں کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم ان دعوؤں کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے وہ ایرانی حکومت کی جانب سے لاحق قریبی خطرات کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھے گی۔

    اس سے قبل سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران میں 1,250 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا اور 11 ایرانی جہاز تباہ کیے۔

    کراچی پولیس کا ٹرمپ،نیتن یاہو،مودی پر مقدمے سے انکار،شہری عدالت پہنچ گیا

    امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جوابی کارروائیوں میں اب تک 6 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے تمام ہلاکتیں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر کویت میں ہونے والے حملوں کے دوران ہوئیں-

    آپریشن غضب للحق:خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ناکام حملے،جوابی کارروائی میں 67 افغان طالبان ہلاک