Baaghi TV

Tag: امریکا

  • وزیرِاعظم بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت  کیلئےواشنگٹن پہنچ گئے

    وزیرِاعظم بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کیلئےواشنگٹن پہنچ گئے

    پرائم منسٹر آفس (میڈیا ونگ) کے مطابق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شرکت کی دعوت پر اپنے دورہ امریکا کے سلسلے میں واشنگٹن پہنچ گئے ہیں۔

    نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی پاکستانی وفد میں وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں،وزیرِ اعظم آج واشنگٹن میں منعقدہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کریں گے دورے کے دوران اعلیٰ امریکی حکام کے ساتھ وزیرِ اعظم کی ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

    وزیرِ اعظم کا دورۂ امریکا عالمی امن کے قیام کے لیے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی رکنیت، عالمی امن کے فروغ میں پاکستان کے مؤثر کردار اور ملک کی بڑھتی ہوئی سفارتی کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

    https://x.com/GovtofPakistan/status/2024333519166599194?s=20

  • چین کا مبینہ خفیہ ایٹمی دھماکا، امریکا کی مزید تفصیلات جاری ،چین کا سخت ردعمل

    چین کا مبینہ خفیہ ایٹمی دھماکا، امریکا کی مزید تفصیلات جاری ،چین کا سخت ردعمل

    چین کا مبینہ خفیہ ایٹمی دھماکا، امریکا نے مزید تفصیلات جاری کردیں-

    عالمی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار کرسٹوفر یو نے انکشاف کیا ہے کہ چین نے جون 2020 میں اپنی ایٹمی تجربہ گاہ لوپ نور میں ایک خفیہ زیر زمین ایٹمی دھماکا کیا تھا ان کا دعویٰ ہے کہ قازقستان میں نصب زلزلے کی پیمائش کرنے والے آلات نے اس دھماکے کو ریکارڈ کیا تھا جس کی شدت 2.75 تھی۔

    ایٹمی انجینئرنگ میں مہارت رکھنے والے کرسٹوفر یو نے واشنگٹن میں ہونے والی ایک حالیہ تقریب کے دوران بتایا کہ ڈیٹا کو دیکھنے کے بعد اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ یہ کوئی معمولی دھماکا یا زلزلہ ہو، بلکہ یہ زلزلہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا کہ ایک ایٹمی تجربے کے نتیجے میں ہوتا ہے چین نے اس دھماکے کو چھپانے کے لیے اسے ایک بڑے زیر زمین کمرے میں سرانجام دیا تاکہ زمین میں پیدا ہونے والی لہروں کی شدت کو کم کیا جا سکے اور دنیا کو پتہ نہ چل سکے۔

    دوسری جانب دنیا بھر میں ایٹمی دھماکوں کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی ادارے ’سی ٹی بی ٹی او‘ نے اس معاملے پر محتاط موقف اختیار کیا ہے ادار ے کے سربراہ رابرٹ فلائیڈ کا کہنا ہے کہ ان کے سسٹم نے اس دن دو چھوٹے جھٹکے محسوس کیے تھے لیکن وہ اتنے معمولی تھے کہ صرف ان کی بنیا د پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ایٹمی دھماکا ہی تھا ان کی مشینیں ایک خاص حد سے بڑے دھماکے کی ہی تصدیق کر سکتی ہیں اور یہ واقعہ اس حد سے بہت نیچے تھا اس لیے فی الحال سائنسی بنیادوں پر امریکی دعوے کی مکمل تصدیق کرنا مشکل نظر آتا ہے۔

    چین نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور اسے امریکا کی سیاسی چال قرار دیا ہے۔

    واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بالکل بے بنیاد ہیں اور امریکا محض اپنے ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کے لیے بہانے تراش رہا ہے وہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہے اور امریکا خود اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنے کے لیے دوسروں پر انگلیاں اٹھا رہا ہے۔

    چین نے آخری بار باضابطہ طور پر 1996 میں ایٹمی تجربہ کیا تھا اور وہ تب سے ایٹمی تجربات پر پابندی کے عالمی معاہدے پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس ساری صورتحال کے پیچھے ایک بڑی وجہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کو محدود کرنے والا وہ معاہدہ ہے جو حال ہی میں ختم ہوا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ چین بھی امریکا اور روس کے ساتھ مل کر ایک نئے ایٹمی معاہدے کا حصہ بنے، لیکن چین اس سے انکار کر رہا ہے چین کا کہنا ہے کہ اس کے پاس امریکا اور روس کے مقابلے میں بہت کم ایٹمی ہتھیار ہیں، اس لیے اسے اس معاہدے میں شامل کرنا درست نہیں۔

    دوسری طرف امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کا دعویٰ ہے کہ چین تیزی سے اپنے ایٹمی ہتھیار بڑھا رہا ہے اور 2030 تک اس کے پاس ایک ہزار سے زیادہ ایٹمی وار ہیڈز ہو سکتے ہیں۔

  • امریکا نے مزید لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ پہنچا دیے

    امریکا نے مزید لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ پہنچا دیے

    اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید درجنوں لڑاکا طیارے تعینات کر دیے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان طیاروں میں ایف 35، ایف 16 اور ایف 22 شامل ہیں، جبکہ فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکر طیاروں کی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی ہے اس پیش رفت کو خطے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

    دریں اثنا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو تباہ کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ایران دباؤ میں آنے والا نہیں اور اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا۔

    دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ختم ہوگیا ہے یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں جاری ہیں اور دونوں ممالک کے نمائندوں نے کئی اہم امور پر بات چیت کی۔

    ہندوستان میں نبی کریم ﷺ کے دور میں بننے والی پہلی مسجد

    مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ رہنما اصولوں پر مفاہمت ہوئی ہے، تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھی ہے لیکن حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید تفصیلی مذاکرات ضروری ہیں۔

    امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران آئندہ دو ہفتوں میں اپنے جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی تجاویز پیش کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو کم کیا جا سکے امریکی حکام نے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا ذکر کیا، تاہم یہ بھی کہا کہ کئی اہم نکات پر ابھی مزید بات چیت ہونا باقی ہے۔

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ سے متعلق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ بات چیت بعض صورتوں میں تعمیری رہی، تاہم ابھی اہم اختلافات موجود ہیں فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تہران تاحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ بعض ریڈ لائنز پر بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔

    بلوچستان میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں، 14 دہشت گرد جہنم واصل

    جے ڈی وینس نے ریڈ لائنز کی تفصیل بیان کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کسی حل کی تلاش میں سنجیدگی سے کوشاں ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کی بنیادی خواہش یہ ہے کہ ایران کسی بھی ذریعے سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ نائب صدر نے یہ بھی بتایا کہ دونوں ممالک آئندہ ملاقات پر متفق ہو چکے ہیں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں انہوں نے واضح کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا بالکل خواہاں نہیں اور اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے ایران اپنا پرامن جوہری پروگرام کبھی ختم نہیں کرے گا، تاہم اگر کوئی ملک یا عالمی ادارہ تصدیق کرنا چاہے تو ایران اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے،جاری مذاکرات کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن نوعیت کا ہے ایران بات چیت کے ذریعے اپنے مؤقف کو واضح کرنا چاہتا ہے تاکہ شکوک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔

    بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

  • امریکا کا ایران کے خلاف عسکری تیاریوں میں نمایاں اضافہ،یومیہ 800 فضائی حملے کرنے کی صلاحیت

    امریکا کا ایران کے خلاف عسکری تیاریوں میں نمایاں اضافہ،یومیہ 800 فضائی حملے کرنے کی صلاحیت

    امریکا نے ایران کے خلاف یومیہ 800 فضائی حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔

    برطانوی نشریاتی اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ صلاحیت کسی بھی ممکنہ ایرانی ردعمل کو مؤثر طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے کافی سمجھی جا رہی ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی جنگی ساز و سامان کی موجودگی میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے امریکی بحری بیڑا، جس میں طیارہ بردار جہاز اور جدید جنگی سازوسامان شامل ہے، ایرانی ساحل کے مزید قریب پہنچ چکا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق پہلے یہ فاصلہ تقریباً 700 کلومیٹر تھا جو اب کم ہو کر 240 کلومیٹر رہ گیا ہے، جس سے کشیدگی میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران مذاکرات کی خواہش رکھتا ہے اور وہ خود بھی بالواسطہ طور پر اس عمل میں شامل رہیں گے۔

    باجوڑ میں چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کا حملہ، 11 سیکیورٹی اہلکار شہید، 12 خوارج ہلاک

    تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جانب عسکری دباؤ بڑھایا جا رہا ہے تو دوسری جانب سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ خطے میں ہر نئی پیش رفت کو نہایت باریکی سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ کسی بھی غلط اندازے کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس:اسحاق ڈار غزہ کا مقدمہ پیش کریں گے

  • بی ایل اے کی کارروائیاں  چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ  بن رہی ہیں،امریکا

    بی ایل اے کی کارروائیاں چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ بن رہی ہیں،امریکا

    امریکا کے ریٹائرڈ آرمی کرنل اور سابق کمیونیکیشن ڈائریکٹر جو بکینو (Joe Buccino) نے کہا ہے کہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ بن رہی ہیں-

    امریکی کرنل جو بکینو نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی حالیہ کارروائیوں نے ظاہر کیا ہے کہ یہ گروہ اب روایتی علیحدگی پسند تنظیم کے بجائے جدید دہشتگردانہ طریقوں پر عمل پیرا ہے بی ایل اے کے ہدف عام شہری، تعلیمی ادارے، ٹرانسپورٹ اور اہم بنیادی ڈھانچے پر مرکوز ہیں، جبکہ مقامی عوام کے زیادہ تر مطالبات روزگار، بہتر گورننس اور سیکیورٹی سے متعلق ہیں، سروے اور تحقیقی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ بلوچستان کے لوگ قومی شناخت کے حامی ہیں اور علیحدگی کے خواہاں نہیں،31 جنوری کو بلوچستان میں کیے گئے ہم آہنگ حملوں میں درجنوں شہری اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

    سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی پولیس کاشانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن

    امریکی کرنل نے اپنے تجزیے میں زور دیا کہ بی ایل اے کی کارروائیاں نہ صرف امن اور ترقی کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ علاقے میں اقتصادی منصوبوں، خاص طور پر چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ بھی بن رہی ہیں۔

    نیپرا نے سولر پالیسی 2026 میں ترمیمی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

  • مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناسکتا ہے، سی این این

    مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناسکتا ہے، سی این این

    امریکا نے ایران کے ساتھ منگل کو جنیوا میں متوقع اہم مذاکرات سے قبل مشرق وسطیٰ میں فضائی اور بحری وسائل کی بڑی تعیناتی شروع کر دی ہے۔

    سی این این کے مطابق اس اقدام کا مقصد تہران کو دباؤ میں رکھنا اور اگر ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوری ضرب لگانے کے متبادل تیار رکھنا ہے، مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں موجود امریکی فضائیہ کے وسائل، بشمول ریفولنگ ٹینکر اور فائٹر جیٹس، مشرق وسطیٰ کے قریب منتقل کیے جا رہے ہیں علاوہ ازیں، امریکا خطے میں فضائی دفاعی نظام بھی فراہم کر رہا ہے اور بعض فوجی یونٹس کے قیام کے احکامات بڑھا دیے گئے ہیں حالیہ ہفتوں میں درجنوں امریکی کارگو پروازوں کے ذریعے سامان اردن، بحرین اور سعودی عرب پہنچایا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں امریکا کی جانب سے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر جبکہ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوں گےامریکی انتظامیہ کو یہ واضح نہیں ہے کہ اگر ایرانی حکومت کو ہٹا دیا گیا تو کون اقتدار سنبھالے گا ممکنہ طور پر اسلامی انقلابی گارڈز کسی بھی قیادت کے خلا کو پر کر سکتے ہیں، لیکن صورتحال غیر یقینی ہے۔

    سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے خطے میں بحری اور فضائی طاقتیں تعینات کر دی ہیں، جس میں 2 طیارہ بردار بحری بیڑے، ایف-15 اور ایف-35 جیٹس شامل ہیں، تاکہ اگر حملے کی ضرورت پڑی تو وسیع پیمانے پر کارروائی ممکن ہو، ممکنہ اہداف میں اسلامی انقلابی گارڈز کے ہیڈکوارٹر اور دیگر فوجی تنصیبات شامل ہیں۔

    ایرانی فوج نے بھی جنیوا مذاکرات سے پہلے مشقیں بڑھا دی ہیں انقلابی گارڈز نے 3 ایرانی جزیروں کے دفاع کا اعلان کیا، جو متحدہ عرب امارات کے ساتھ طویل سرحدی تنازع کا حصہ ہیں ایرانی چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے امریکی حملے کی صورت میں سخت نتائج کی وارننگ دی ہےخطے کے عرب اتحادی اور اسرائیل بھی امریکی کارروائی پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، جبکہ ایران مذاکرات کے باوجود اپنی فوجی تیاری جاری رکھے ہو ئے ہے۔

  • امریکا نے بحرہند میں ایک اورتیل بردار جہاز روک لیا

    امریکا نے بحرہند میں ایک اورتیل بردار جہاز روک لیا

    امریکی افواج نے بحر ہند میں ایک تیل بردار جہاز کو روک لیا، جو کیریبین میں عائد امریکی ناکہ بندی سے بچ کر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    پینٹاگون کے مطابق پانامہ کے پرچم تلے چلنے والا جہاز ویرونیکا III نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا سے وابستہ پابندی شدہ بحری جہازوں کے خلاف لگائی گئی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کی امریکی فورسز نے اس جہاز کا کیریبین سے بحر ہند تک تعاقب کیا اور بالآخر اسے روک لیا اس موقع کی ویڈیو بھی جاری کی گئی، جس میں امریکی اہلکار ہیلی کاپٹر کے ذریعے جہاز پر اترتے دکھائی دیتے ہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق وینزویلا کئی برسوں سے تیل پر امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور خام تیل عالمی منڈی تک پہنچانے کے لیے نام نہاد “شیڈو فلیٹ” استعمال کی جاتی رہی ہے ویرونیکا III نے 3 جنوری کو وینزویلا چھوڑا تھا اور اس پر تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل اور فیول آئل موجود تھا ٹینکر ٹریکنگ اداروں کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ماضی میں روسی، ایرانی اور وینزویلا کے تیل کی ترسیل میں بھی استعمال ہو چکا ہے۔

    گزشتہ ہفتے اسی طرز پر اکیلا II نامی ایک اور جہاز کو بھی روکا گیا تھا امریکی حکام کے مطابق اب تک کم از کم نو بحری جہاز تحویل میں لیے جا چکے ہیں، تاہم عالمی سطح پر پابندی شدہ ایسے جہازوں کی تعداد کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے حال ہی میں کہا کہ وینزویلا سے ضبط کیے گئے تیل کی فروخت سے ایک ارب ڈالر سے زائد رقم حاصل ہو چکی ہے، جبکہ آئندہ مہینوں میں مزید اربوں ڈالر متوقع ہیں۔

    دوسری جانب پاناما میری ٹائم اتھارٹی نے بتایا ہے کہ ویرونیکا III کو دسمبر 2024 میں پاناما کے رجسٹر سے خارج کر دیا گیا تھا پینٹاگون نے واضح نہیں کیا کہ آیا اس جہاز کو باضابطہ طور پر امریکی تحویل میں لیا گیا ہے یا نہیں، تاہم کہا گیا ہے کہ مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔

    ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں امریکا کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد پابندیوں پر عمل درآمد یقینی بنانا اور وینزویلا کی تیل برآمدات کو محدود کرنا ہے ان اقدامات کو عالمی بحری تجارت اور خطے کی سیاست پر اثر انداز ہونے والی پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے،روئٹرز

    امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے،روئٹرز

    برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایران کے خلاف ہفتوں پر محیط ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان ماضی کے مقابلے میں بدترین کشیدگی کا باعث ہوسکتی ہے۔

    روئٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عہدیداروں نے اس منصوبے کی حساسیت کے پیش نظر شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط بتایا کہ امریکی فوج تیاریوں میں مصروف ہے اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کا حکم دیا جاتا ہے تو اس پر عمل درآمد کیا جائے گاعہدیداروں نے اس اقدام کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارت کاری کے عمل کو خطرات قرار دیا۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت جاری منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے اور ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس مہم میں امریکی فوج صرف ایرانی جوہری تنصیبات ہی نہیں بلکہ ایرانی ریاست اور سلامتی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے مخصوص تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔

    مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ امریکا کو ایران کے جوابی حملے کا خدشہ ہے اور اس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ ساتھ دونوں جانب سے جوابی حملوں اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے ایران پر حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق سوال وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی سے کیا گیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں، وہ کسی بھی مسئلہ پر مختلف پہلوؤں پر خیالات سنتے ہیں لیکن حتمی فیصلہ اس بنیاد پر کرتےہیں کہ ہمارے ملک اور قومی سلامتی کے لیے کیا بہترین ہے۔

    دوسری جانب پینٹاگون نے اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا ہے تاہم امریکا نے گزشتہ برس دو ایئرکرافٹ کیریئرز بھیج دیے تھے جب جون میں ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہرین کا خیال ہے امریکی فوج کو ایران کے خلاف اس طرح کے آپریشن سے کہیں زیادہ خطرات کا سامنا ہوگا کیونکہ ایران کے پاس میزائل کا وسیع ذخیرہ موجود ہے اور ایران کے جوابی حملوں میں خطے کا تنازع وسیع ہونے کا خدشہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو مسلسل حملوں کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے بمباری کی دھمکی بھی دی تھی اور جمعرات کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا سفارتی حل کے برعکس اقدام انتہائی دلخراش ہوگا۔

    ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر حملوں کی صورت میں وہ امریکا کے کسی بھی فوجی مرکز پر حملہ کرسکتے ہیں امریکا کے فوجی بیسز پورے مشرق وسطیٰ میں بشمول اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ترکیے میں موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا عمان کی ثالثی میں منگل کو جنیوا میں مذاکرات کریں گے جہاں امریکی نمائندہ اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر شریک ہوں گے۔

  • امریکی ناظم الامور   امریکا-پاکستان کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم

    امریکی ناظم الامور امریکا-پاکستان کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم

    امریکی ناظم الامور نیٹالی اے بیکرنے صبح کی کافی کے دوران اپنی ذاتی زندگی اور کام کے بارے میں کچھ دلچسپ باتیں شیئر کیں۔

    نیٹالی اے بیکر نے کہا کہ سفارتی مصروفیات کے باوجود عوام کے قریب رہنا پسند کرتی ہوں۔ امریکی ناظم الامورنے نئے سلسلے NBExplores Pakistan ‘ کے آغاز کا بھی اعلان کیا،نیٹالی بیکر نے پاکستانی عوام سے اپنے تعلق کو "دل سے قریب” قرار دیا انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کاروبارکرنے والی امریکی کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ اجلاس کی تیاری کر رہی ہوں، امریکی کمپنیاں پاکستان میں روزگا رکے مواقع پیدا کریں گی پاکستان بھرمیں لنکن کارنرکے ذریعے امریکامیں تعلیم اور ثقافت کے حوالے سے آگاہی فراہم کررہے ہیں،م یں عربی، ہسپانو ی ،کچھ فارسی اور تھوڑی تھوڑی اردوبھی بول لیتی ہوں۔

  • معمولی حملہ بھی جنگ سمجھا جائے گا،ایران کا انتباہ

    معمولی حملہ بھی جنگ سمجھا جائے گا،ایران کا انتباہ

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی محدود فوجی کارروائی کو بھی جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا۔

    تہران میں اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی شمخانی نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی محدود فوجی کارروائی کو بھی جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا، ایران کی میزائل صلاحیت ملک کی ریڈ لائن ہے اور اسے کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا، ایران اپنی دفاعی صلاحیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا امریکا کو چاہیے کہ وہ دھمکیوں کے بجائے سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے –

    ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدامات اور خطے میں ایک اور بحری بیڑے کی تعیناتی کا عندیہ دیا تھا ملک کی دفاعی اور میزائل صلاحیت قومی سلامتی کا اہم حصہ ہے اور اس پر کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔