Baaghi TV

Tag: امریکا

  • سینیٹر  طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر سینیٹر محمد طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کے لیے امریکا روانہ ہوگئے ہیں۔

    اس ملاقات کی اجازت ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کے حکم پر دی گئی ہے۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود اس سے قبل بھی دو مرتبہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کرچکے ہیں، اور یہ ملاقات ان کی تیسری ملاقات ہوگی۔پہلی ملاقات 2008 میں ہوئی تھی، اس کے بعد دوسری ملاقات 2023 میں ہوئی تھی، اور اب یہ تیسری ملاقات ہونے جا رہی ہے۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت، ان کے ساتھ روا رکھی جانے والی بدسلوکی اور ان کی رہائی کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اس ملاقات کے لیے حکم دیا گیا تھا کہ سینیٹر محمد طلحہ محمود ایک وفد کے ہمراہ امریکا جائیں تاکہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کریں اور ان کی حالتِ زار کے حوالے سے حکومت پاکستان کو آگاہ کریں۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2003 میں گرفتار ہوئیں تھیں اور انہیں 2010 میں امریکا میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت سزا سنائی گئی تھی۔ ان کی گرفتاری اور سزا کے بعد ان کے اہل خانہ اور متعدد انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی فوری رہائی کے لیے مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔سینیٹر محمد طلحہ محمود نے اس ملاقات کے حوالے سے کہا کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی حالت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں گے اور ان کے حق میں آواز اٹھائیں گے تاکہ ان کی رہائی کے لئے عالمی سطح پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ابھی امریکہ روانہ ہو رہا ہوں، عدالت نے وفد تشکیل دیا تھا،ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات ہو گی اور کوشش ہو گی کہ پیشرفت ہو سکے، اللہ تعالیٰ ان سارے معاملات میں ہمیں کامیابی عطا فرمائے،

    عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے امریکا کون کون جائے گا؟رپورٹ عدالت پیش

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی چابی اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کے پاس ہے،مشتاق احمد

    عافیہ کی جان خطرے میں،حکومت واپسی کے اقدامات کرے،ڈاکٹر فوزیہ

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ

    عافیہ صدیقی کیلئے رحم کی اپیل کرتے ہوئے حکومت اتنا ڈر کیوں رہی ہے؟ عدالت

  • امریکا  کی  پاکستان کو   سرمایہ کاری کانفرنس میں  شرکت کی دعوت

    امریکا کی پاکستان کو سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کی دعوت

    کراچی: امریکا نے پاکستانی اداروں اور سرمایہ کاروں کو سلیکٹر یو ایس اے انویسٹمنٹ سمٹ میں شرکت کی دعوت دی ہے-

    باغی ٹی وی: پاکستانی اداروں کو امریکا میں سرمایہ کاری کے لیے سلیکٹ یو ایس اے انویسٹمنٹ سمٹ میں شرکت کی دعوت کراچی میں امریکی قونصلیٹ نے دی ہے یہ ایونٹ 11 سے 14 مئی تک نیشنل ہاربر، میری لینڈ میں منعقعد ہوگا، سلیکٹ یو ایس اے سمٹ میں ہر سال پانچ ہزار سے زائد افراد شریک ہوتے ہیں،ان میں امریکی ریاستوں اور وفاقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے معاشی اداروں کے علاوہ 90 انٹرنیشنل مارکیس کے ڈھائی ہزار سے زائد سرمایہ کار بھی شامل ہوتے ہیں۔

    اس ایونٹ میں شریک ہونے پر پاکستانی سرمایہ امریکا کے انڈسٹری ایکسپرٹس سے مل سکیں گے، امریکی مارکیٹ کے بارے میں زیادہ جان سکیں گے اور کاروبار میں توسیع کے مواقع سے بہتر طور پر مستفید ہونے کے قابل ہوسکیں گے۔

    پیر کو اسلام آباد میں منعقدہ پانچویں پاکستان امریکا بزنس فورم سمٹ میں امریکی ناظم الامور ناٹالی بیکر نے کہا کہ ہم سلیکٹ یو ایس اے کے ذریعے پاکستان کو امریکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ پروگرام امریکا میں بلا واسطہ سرمایہ کاری ممکن بناتا ہے۔

    ناٹالی بیکر کا کہنا تھا کہ سلیکٹ یو ایس اے سمٹ سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایونٹ غیر معمولی موقع ہے اور مجھے امید ہے کہ پاکستانی سرمایہ کار اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے پاکستان کے لیے امریکا سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے پاکستان کی 16 فیصد برآمدات امریکا کے لیے ہوتی ہیں۔ پاکستان میں 80 امریکی ادارے کام کر رہے ہیں ان اداروں ایک لاکھ 20 ہزار افراد براہِ راست ملازم ہیں اور مزید 10 لاکھ افراد کو سپورٹ مل رہی ہے۔

    2021 سے اب تک یو ایس ایڈ پاکستان میں ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کی بلا واسطہ سرمایہ کاری کرچکا ہے اور دو طرفہ تجارت میں 4 کرور 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاج پُرامن ہونا چاہیئے،امریکا

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاج پُرامن ہونا چاہیئے،امریکا

    واشنگٹن: ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے کہا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ ہیں۔

    باغی ٹی وی : واشنگٹن میں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں،پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاج پُرامن ہونا چاہیئے، حکومت پاکستان کو مظاہرین کے ساتھ نرمی اور احترام کے ساتھ نمٹنا چاہیئے۔

    ترجمان امریکی وزارت خارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی نامزد کابینہ کے ارکان کو دھمکیاں ملنے کے حوالے سے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا،انہوں نے کہا کہ ہم منصبوں سے سکھ رہنما کے قتل کی سازش پر باقاعدگی سے بات ہوتی ہے، امریکا شام میں سیاسی عمل کے ذریعے خانہ جنگی کا خاتمہ چاہتا ہے ایران عراق سے جنگجوؤں کے ذریعے شامی صدر کی حمایت کر رہا ہے، لبنان جنگ بندی کو امریکا اور فرانس مانیٹر کررہے ہیں۔

    واضح رہے کہ نومبر 2023 میں امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے سکھ رہنما کے قتل کی سازش کو بے نقاب کیا تھا امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی شہری اور سکھ ایکٹوسٹ گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی منظوری اُس وقت کے ’را‘ چیف سمنت گوئل نے دی تھی۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیوں کا کہنا تھا کہ کرائے کے قاتلوں سے رابطہ را کے افسر وکرم یادیو نے کیا ’را‘ نے قتل کا حکم اُس وقت دیا جب جون 23 میں نریندر مودی امریکا کے دورے پر تھے امریکی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکی ایجنسیوں نے ملزمان کے مودی کے قریبی حلقے سے ممکنہ روابط کے شواہد بھی حاصل کرلیے ہیں، امریکی شہری گرپتونت سنگھ کو قتل کرنے کی بھارتی سازش بے نقاب ہونے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے بھارت کا ہائی پروفائل دورہ منسوخ کردیا تھا۔

  • ٹرمپ نے بھارتی نژاد شہری کو  ایف بی آئی کا سربراہ نامزد کر دیا

    ٹرمپ نے بھارتی نژاد شہری کو ایف بی آئی کا سربراہ نامزد کر دیا

    واشنگٹن: امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی نژاد شہری کشیپ کاش پٹیل کو وفاقی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کا سربراہ منتخب کردیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے سربراہ جیسی اہم اور حساس ذمہ داری کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی نگاہِ انتخاب اپنے وفادار اور اسٹیبلشمنٹ کے ناقد پر ٹھہری ہے،کاش پٹیل بھارتی نژاد شہری ہیں جو پیشے کے اعتبار سے وکیل اور تفتیش کار ہیں، ٹرمپ نے ان کے نام کا اعلان کرتے ہوئے کاش پٹیل کو ’’ امریکا فرسٹ فائٹر‘‘ قرار دیا، کاش پٹیل ایک شاندار وکیل، اور تفتیش کار ہیں جنھوں نے اپنا کیریئر کرپشن کو بے نقاب اور امریکیوں کی حفاظت میں صرف کیا ہے۔

    44 سالہ کشیپ کاش پٹیل متعدد بار اپنےآبائی وطن بھارت کےساتھ گہرے تعلق کا اظہار کرتے آئے ہیں،کشیپ کاش پٹیل نیویا ر ک میں گجراتی والدین کے ہاں پیدا ہوئے تھے جن کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ مشرقی افریقہ میں پلے بڑھے ہیں۔

    کشیپ کاش پٹیل نے یونیورسٹی آف رچمنڈ سے گریجویشن اور لندن کی یونیورسٹی کالج سے انٹرنیشنل لا میں قانون کی ڈگری حاصل کی،وہ قائم مقام سیکرٹری دفاع کرسٹوفر ملر کے سابق چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں، علاوہ ازیں ٹرمپ کے پہلے دور میں صدر کے نائب معاون اور قومی سلامتی کونسل (NSC) میں انسداد دہشت گردی (CT) کے سینئر ڈائریکٹر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔

    کشیپ پٹیل نے اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کئی اولین ترجیحات پر عملدرآمد کی نگرانی کی، جس میں داعش اور القاعدہ کی قیادت کا خاتمہ سمیت متعدد امریکی یرغمالیوں کی محفوظ وطن واپسی شامل تھی،انھوں نے ٹرمپ کی 2016 کی انتخابی مہم اور روس کے درمیان رابطوں کے بارے میں ہاؤس ریپبلکنز کی تحقیقات میں ہاؤس انٹیلیجنس کمیٹی کے سابق سربراہ ڈیوین نونس کے معاون طور پر بھی اہم کردار ادا کیا تھاکشیپ پٹیل کی ٹرمپ کے ساتھ قربت اور اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے دور حکومت ختم ہونے کے بعد مصائب میں گھیرے ٹرمپ نے انہیں اپنے صدارتی ریکارڈ تک رسائی کے لیے نمائندہ نامزد کیا تھا۔

  • روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ  کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا

    روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا

    امریکا کے پاس مہلک ترین بی 83 جوہری ہتھیار ہے، اگر یہ طاقتور ترین نیوکلیئر بم روس، چین اور شمالی کوریا کے دارلحکومتوں پر پھینکا گیا تو ہولناک تباہی ہوگی-

    باغی ٹی وی: امریکی جریدے نیوز ویک نے بی 83 نیو کلیئر بم سے تباہی کا تخمینہ پیش کردیا، جریدے کے مطابق امریکا کا طاقتور ترین نیوکلیئر ہتھیار بی 83 ہے، اس نیوکلیئر بم سے جو شعلہ بلند ہوگا وہ 4 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر محیط ہوگا اور تباہی اس قدر ہوگی کہ 175 اسکوائر کلومیٹر رقبے میں عمارتیں تباہ یا جل جائیں گی۔

    امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کا طاقتور ترین نیوکلیئر بم روس، چین اور شمالی کوریا کے دارلحکومتوں پر پھینکا گیا تو ہولناک تباہی ہوگی، اگر اسے ماسکو پر پھینکا گیا تو 14 لاکھ افراد ہلاک اور 37 لاکھ زخمی ہوں گے،نیوکلیئر بم بیجنگ پر پھینکا گیا تو 15 لاکھ افراد ہلاک اور 37 لاکھ زخمی ہوں گے، اسی طرح اگر یہ بم پیانگ یانگ پر پھینکا گیا تو 13 لاکھ شہری ہلاک اور 11 لاکھ زخمی ہوں گے۔

    جریدے کا کہنا ہے کہ دھماکے کے 211 مربع میل کے اندر موجود افراد جل جائیں گے، دھماکا کئی افراد کی معذوری کا سبب بن سکتا ہے، دھماکے کے 535 مربع میل کے فاصلے پر موجود عمارتوں میں لگے شیشے ٹوٹ سکتے ہیں اور لوگ زخمی ہوسکتے ہیں، امریکا نادانستہ طور پر اپنے اتحادیوں کی پشت پناہی کرنے کے لیے دنیا بھر میں متعدد تنازعات میں ملوث ہے، چین کے ساتھ تجارت سمیت متعدد مسائل پر تناؤ کا بھی سامنا ہے۔

    دوسری جانب روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ کے خدشے کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا اور واضح کیا ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی آزمائش بحال کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے یہ بات امریکی جریدے کی جانب سے روس پر ممکنہ نیوکلیئر حملے سے تباہی کے تخمینے پر ردعمل میں کہی یہ پہلی بار نہیں کہ ایسے واقعات کو ماڈل کیا گیا ہے، یہ خدشات موجود ہیں لیکن روس ہر ممکن کوشش کرے گا کہ ایسی تباہ کن صورتحال سے گریز کیا جائے۔

    نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہر چیز کا انحصار روس پر نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہمارا دشمن کیسے برتاؤ کرتا ہے، اگر وہ اُس صورتحال کی طرف بڑھتے ہیں جس کا روسی نیوکلیئر ڈاکٹرائن میں ذکر کیا گیا ہے تو یہ دشمن پر منحصر ہوگا،اب پہلی بار نیوکلیئر ہتھیاروں کی آزمائش کرنے پر غور کررہا ہے؟ سوال پر نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ یہی سوال اس وقت درپیش ہے اور صورتحال کافی مشکل ہے،اس پر مستقل طور پر غور کیا جارہا ہے۔

  • امریکا نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی

    امریکا نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی

    واشنگٹن: امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے تائیوان کو 385 ملین ڈالر مالیت کے ایف-16 جنگی طیاروں کے پارٹس اور ریڈارز کی فروخت کی منظوری دے دی ہے،جس کی لاگت 385 ملین ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کے مطابق پینٹاگون کی ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے کہا کہ اسلحے کی فروخت 320 ملین ڈالر پر مشتمل ہے، جس میں اسپیئرپارٹس اور ایف-16 جنگی جہازوں کے لیے مدد اور ایکٹیو الیکٹرونیکلی اسکینڈ ایرے رایڈارز اور اس سے منسلک اشیا شامل ہیں،اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے تائیوان کو جدید موبائل سبسکرائیبرآلات کی فراہمی کی اجازت بھی دے دی ہے جس کی لاگت کا تخمینہ 65 ملین ڈالر لگایا گیا ہے اور اس معاہدے کا ٹھیکا جنرل ڈائنامکس کو دیا گیا ہے۔

    تائیوان کی وزارت دفاع نے بیان میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ مذکورہ اسلحے کی فراہمی ایک ماہ کے اندر شروع ہوجائے گی اور ان آلات سے ایف-16 طیاروں کو بحال رکھنے اور قابل اعتماد دفاعی فورسز تشکیل دینے میں مدد ملے گی تائیوان اور امریکا ایک دوسرے کے ساتھ سیکیورٹی شراکت داری مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے، آبنائے تائیوان اور پورے خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کریں گے

    امریکا کی جانب سے تائیوان کو باقاعدہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود اسلحے کی فروخت کے معاہدے کیے جا رہے ہیں، جس پر چین کا سخت ردعمل ہوتا ہے کیونکہ چین کا ماننا ہے کہ تائیوان ان کی ریاست کا ایک حصہ ہےتائیوان آزادی ریاست کا دعویٰ کرتے ہوئے چین کے مؤقف کو مسترد کر رہا ہے،چین نے جمعے کو ایک بیان میں امریکا پر زور دیا تھا کہ وہ تائیوان کے ساتھ اپنے تعلقات پر احتیاط برتیں۔

    واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ تائیوان کو ممکنہ طور پر دو ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فراہم کیا جائے گا، جس میں تائیوان کو پہلی مرتبہ ایڈوانسڈ ڈیفنس میزائل سسٹم فراہم کیا جائے گا جو یوکرین میں جنگ کے دوران آزمایا گیا ہے۔

  • امریکی اور فرانسیسی صدور جلد ہی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کریں گے

    امریکی اور فرانسیسی صدور جلد ہی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کریں گے

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے فرانسیسی ہم منصب عمانویل میکروں کی جانب سے 36 گھنٹوں کے اندر لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان متوقع ہے۔

    باغی ٹی وی : ایک امریکی اہلکار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ صدر بائیڈن منگل کو یہ اعلان کریں گے کہ امریکہ اور فرانس نے لبنان میں جنگ بندی کر دی ہے، جس سے وہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی ختم ہو جائے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ "ہم جنگ بندی کے قریب ہیں، لیکن سب کچھ طے ہونے تک کسی چیز کا اعلان نہیں کیا جائے گا”۔

    فرانسیسی ایوان صدر نے کہا کہ جنگ بندی پر بات چیت میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے یروشلم میں ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ حکومت حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری کے لیے آج منگل کو اہم اجلاس منعقد کررہی ہے۔

    سفارتی حل کے قریب ہونے کے ساتھ اسرائیل نے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر اپنے فضائی حملے تیز کردیے ہیں،اقوام متحدہ میں اسرائیل کے ایلچی ڈینی ڈینن نے کہا کہ اسرائیل کسی بھی معاہدے کے تحت جنوبی لبنان پر حملہ کرنے کی صلا حیت برقرار رکھے گا۔ لبنان نے پہلے بھی زبانی طورپر اسرائیل کو یہ حق دینے پر اعتراض کیا تھا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان خلیج کافی حد تک کم ہو گئی ہے لیکن معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بہت سے معاملات معاہدے کے آخری مراحل سب سے مشکل ہوتے ہیں کیونکہ کانٹے دار معاملات آخر تک رہ جاتے ہیں۔ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں”۔

    سفارتی دباؤ کا مقصد حزب اللہ کو مجبور کرنا ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہےاس نے اکتوبر 2023ء میں غزہ میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد حماس کی حمایت میں شمالی اسرائیل پر حملے شروع کردیے تھے-

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی معاہدے کے متن پر اتفاق کیا ہے لیکن سینیر اسرائیلی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ کابینہ کے منگل کو ہونے والے اجلاس کا مقصد معاہدے کی منظوری دینا ہے۔

    لبنانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر الیاس بو صعب نے روئٹرز کو بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کی طرف سے تجویز کردہ جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے آغاز میں اب کوئی "سنگین رکاوٹیں”باقی نہیں ہیں البتہ اگرنیتن یاہو نے اپنے سوچ بدل دی تو معاہدہ نہیں ہوگا، اس تجویز میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلاء اور سرحدی علاقے میں لبنانی فوج کی باقاعدہ افواج کی تعیناتی کی شرط رکھی گئی ہے، جنگ بندی کی نگرانی کون کرے گا اس پر اختلاف کا ایک نکتہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فرانس سمیت 5 ممالک کی ایک کمیٹی بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے حل کیا گیا جس کی سربراہی امریکہ کر رہا ہے۔

  • جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

    امریکہ میں 86 سال کی سزا کاٹنے والی پاکستانی نیوروسائنٹسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکی حکومت، فیڈرل بیورو آف پریزنس اور متعدد جیل حکام کے خلاف وفاقی عدالت میں ایک جامع مقدمہ دائر کیا ہے۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جانب سے دائر کیا گیا یہ مقدمہ 61 صفحات پر مشتمل ہے اور تقریباً دو ماہ قبل امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ، شمالی ٹیکساس میں دائر کیا گیا۔ اس کی کاپی پاکستانی میڈیا نے حاصل کر لی ہے۔ مقدمے میں ڈاکٹر عافیہ نے جیل کے عملے پر آئینی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان میں جنسی زیادتی، تشدد، طبی سہولتوں کی عدم فراہمی اور مذہبی امتیاز شامل ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ کے وکلاء نعیم ہارون سکھیا، ماریا کری اور کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے شکایت میں ان کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی تفصیلات درج کی ہیں۔ شکایت کے مطابق 2010 میں ایف ایم سی کارسویل میں قید کے آغاز سے ہی انہیں جیل کے عملے اور دیگر قیدیوں کی جانب سے بار بار جنسی حملوں اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔شکایت میں دعویٰ کیا گیا کہ مرد محافظ انہیں تلاشی کے بہانے ہراساں کرتے اور جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے تھے۔ ایک واقعے میں تشدد کی شکایت کرنے پر جیل کے عملے نے ان پر تیزاب پھینکنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

    مقدمے کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو ان کے مذہبی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا۔ انہیں جمعے کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور مذہبی اشیاء ضبط کی گئیں۔ جیل حکام نے ان کے امام سے ملاقات کی درخواستیں بھی مسترد کر دیں۔ ڈاکٹر عافیہ کی شکایت میں ان کے دستاویزی PTSD اور جسمانی بیماریوں کی موجودگی کے باوجود مناسب طبی سہولت فراہم نہ کرنے کو اجاگر کیا گیا۔ وکلاء کے مطابق، یہ امریکی آئین کی آٹھویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔مقدمے میں ایف ایم سی کارسویل جیل کے عملے کی وسیع پیمانے پر بدعنوانی اور خواتین قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے دیگر واقعات کا حوالہ دیا گیا۔

    ڈاکٹر عافیہ کی قانونی ٹیم نے جیوری ٹرائل کا مطالبہ کیا ہے اور ان کے لیے فوری تحفظ، مذہبی رہنمائی تک رسائی اور آزاد طبی دیکھ بھال کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مقدمہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور پاکستان کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

    وکیل نعیم ہارون سکھیا کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ ڈاکٹر عافیہ کے لیے انصاف کا ذریعہ ہے، جبکہ ماریا کری نے کہا کہ یہ تمام مظلوم خواتین کے لیے امید کی کرن ہے۔ کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے اس کیس کے بین الاقوامی اثرات کو اجاگر کیا۔امریکی فیڈرل بیورو آف پریزنس نے اس زیرِ التواء مقدمے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے امریکا کون کون جائے گا؟رپورٹ عدالت پیش

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی چابی اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کے پاس ہے،مشتاق احمد

    عافیہ کی جان خطرے میں،حکومت واپسی کے اقدامات کرے،ڈاکٹر فوزیہ

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ

    عافیہ صدیقی کیلئے رحم کی اپیل کرتے ہوئے حکومت اتنا ڈر کیوں رہی ہے؟ عدالت

  • امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    اڈانی گروپ کے سربراہ گوتم اڈانی ایک بار پھر تنازعات کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اربوں ڈالر کی رشوت دی اور سرکاری افسران کے ساتھ ساتھ امریکی سرمایہ کاروں کو دھوکہ دیا۔ اس حوالے سے ان کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، اور گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔

    اڈانی کے وارنٹ جاری ہونے پر وائٹ ہاؤس کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے،وائٹ ہاؤس کی ترجمان، کرائن جین پیئر نے کہا ہے کہ "ہم اڈانی پر لگائے گئے الزامات سے آگاہ ہیں۔ ان الزامات کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے ہمیں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور محکمہ انصاف سے رجوع کرنا ہوگا۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات مضبوط ہیں اور یہ تعلقات مستقبل میں بھی برقرار رہیں گے۔

    نیویارک کی فیڈرل کورٹ میں ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی سمیت آٹھ افراد پر اربوں روپے کے فراڈ اور رشوت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ کے اٹارنی کے دفتر کا کہنا ہے کہ اڈانی نے ہندوستان میں شمسی توانائی سے متعلق ایک معاہدہ حاصل کرنے کے لیے حکام کو 265 ملین ڈالر (تقریباً 2200 کروڑ روپے) کی رشوت دی۔

    اڈانی گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف الزامات ہیں اور جرم ثابت ہونے تک ملزمان بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔ گروپ کے مطابق، امریکی محکمہ انصاف اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے الزامات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

    یہ مقدمہ اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور ایک دیگر کمپنی سے متعلق ہے، جو 24 اکتوبر 2024 کو درج کیا گیا تھا۔ بدھ کو ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی سمیت دیگر افراد پر الزامات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو جھوٹ بول کر فنڈز اکٹھے کیے۔ عدالت نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

    امریکا میں کاروائی،اڈانی گروپ کا مؤقف بھی آ گیا

    راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

  • اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ جاری،عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے، یورپی یونین

    اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ جاری،عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے، یورپی یونین

    یورپی یونین خارجہ پالیسی چیف جوزف بوریل نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔

    باغی ٹی وی: جوزف بوریل نے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یواف گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ سیاسی نہیں ہے عدالتی فیصلے کا نفاذ یورپی یونین کے تمام ممالک پر لازم ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کے وارنٹ جاری ہونے پر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی اپنے بیان میں عالمی فوجداری عدالت کی فیصلے کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت احتساب کا دائرہ اسرائیل کے تمام مجرم رہنماؤں تک بڑھائے۔

    نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر فرانس کی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ فرانس کا ردعمل عدالت کےاصولوں کےمطابق ہوگا،جبکہ اردن کے وزیر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو اور گیلنٹ کی گرفتاری کے آئی سی سی کے فیصلے پر عمل اور اس کا احترام ہونا چاہیے، فلسطین کے لوگ انصاف کے حق دار ہیں۔

    دوسری جانب امریکا نے عالمی عدالت کی جانب سے اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیردفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔

    روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ عالمی عدالت کی جانب سے اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیردفاع یوو گیلنٹ کے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری کو امریکا نے مسترد کردیا ہے امریکا بنیادی طور پر عالمی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے، جس میں اسرائیل کے اعلیٰ حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں ہمیں گہری تشویش ہے کہ پروسیکیوٹر فوری طور پر وارنٹ گرفتاری چاہتے ہیں اور اس فیصلے کا باعث بننے والے عمل کی غلطیوں کو پیچیدہ کر رہے ہیں، امریکا اپنے شراکت داروں کے ساتھ اگلے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کر رہا ہے۔

    خیال رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے آج اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔