Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    اڈانی گروپ کے سربراہ گوتم اڈانی ایک بار پھر تنازعات کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اربوں ڈالر کی رشوت دی اور سرکاری افسران کے ساتھ ساتھ امریکی سرمایہ کاروں کو دھوکہ دیا۔ اس حوالے سے ان کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، اور گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔

    اڈانی کے وارنٹ جاری ہونے پر وائٹ ہاؤس کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے،وائٹ ہاؤس کی ترجمان، کرائن جین پیئر نے کہا ہے کہ "ہم اڈانی پر لگائے گئے الزامات سے آگاہ ہیں۔ ان الزامات کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے ہمیں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور محکمہ انصاف سے رجوع کرنا ہوگا۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات مضبوط ہیں اور یہ تعلقات مستقبل میں بھی برقرار رہیں گے۔

    نیویارک کی فیڈرل کورٹ میں ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی سمیت آٹھ افراد پر اربوں روپے کے فراڈ اور رشوت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ کے اٹارنی کے دفتر کا کہنا ہے کہ اڈانی نے ہندوستان میں شمسی توانائی سے متعلق ایک معاہدہ حاصل کرنے کے لیے حکام کو 265 ملین ڈالر (تقریباً 2200 کروڑ روپے) کی رشوت دی۔

    اڈانی گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف الزامات ہیں اور جرم ثابت ہونے تک ملزمان بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔ گروپ کے مطابق، امریکی محکمہ انصاف اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے الزامات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

    یہ مقدمہ اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور ایک دیگر کمپنی سے متعلق ہے، جو 24 اکتوبر 2024 کو درج کیا گیا تھا۔ بدھ کو ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی سمیت دیگر افراد پر الزامات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو جھوٹ بول کر فنڈز اکٹھے کیے۔ عدالت نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

    امریکا میں کاروائی،اڈانی گروپ کا مؤقف بھی آ گیا

    راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

  • اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ جاری،عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے، یورپی یونین

    اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ جاری،عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے، یورپی یونین

    یورپی یونین خارجہ پالیسی چیف جوزف بوریل نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔

    باغی ٹی وی: جوزف بوریل نے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یواف گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ سیاسی نہیں ہے عدالتی فیصلے کا نفاذ یورپی یونین کے تمام ممالک پر لازم ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کے وارنٹ جاری ہونے پر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی اپنے بیان میں عالمی فوجداری عدالت کی فیصلے کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت احتساب کا دائرہ اسرائیل کے تمام مجرم رہنماؤں تک بڑھائے۔

    نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر فرانس کی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ فرانس کا ردعمل عدالت کےاصولوں کےمطابق ہوگا،جبکہ اردن کے وزیر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو اور گیلنٹ کی گرفتاری کے آئی سی سی کے فیصلے پر عمل اور اس کا احترام ہونا چاہیے، فلسطین کے لوگ انصاف کے حق دار ہیں۔

    دوسری جانب امریکا نے عالمی عدالت کی جانب سے اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیردفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔

    روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ عالمی عدالت کی جانب سے اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیردفاع یوو گیلنٹ کے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری کو امریکا نے مسترد کردیا ہے امریکا بنیادی طور پر عالمی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے، جس میں اسرائیل کے اعلیٰ حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں ہمیں گہری تشویش ہے کہ پروسیکیوٹر فوری طور پر وارنٹ گرفتاری چاہتے ہیں اور اس فیصلے کا باعث بننے والے عمل کی غلطیوں کو پیچیدہ کر رہے ہیں، امریکا اپنے شراکت داروں کے ساتھ اگلے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کر رہا ہے۔

    خیال رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے آج اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

  • بھارتی بزنس ٹائیکون گوتم اڈانی پر امریکا میں فرد جرم عائد

    بھارتی بزنس ٹائیکون گوتم اڈانی پر امریکا میں فرد جرم عائد

    بھارتی معروف بزنس ٹائیکون، امیر ترین شخصیت گوتم اڈانی، ان کے بھتیجے ساگر اڈانی اور دیگر پر امریکی پراسیکیوٹرز نے بھارتی سرکاری اہلکاروں کو رشوت دینے اور سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ امریکی شہر بروکلین، نیویارک میں درج مقدمے میں اڈانی اور ان کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارتی حکومت سے شمسی توانائی کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے دو سو پچاس ملین ڈالر رشوت دی۔

    امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ برائے مشرقی نیویارک کے دفتر میں ایک اہم کیس سامنے آیا جس میں بھارتی کاروباری گروپ سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔امریکی گرینڈ جیوری نے گوتم ایس اڈانی، ساگر آر اڈانی، وینیت ایس جین، رنجیت گپتا، سائریل کابانیز، سوربھ اگروال، دیپک ملہوترا، اور روپیش اگروال کے خلاف فرد جرم پیش کی ہے۔الزامات میں بھارتی حکومتی اہلکاروں کو رشوت دے کر قابل منافع شمسی توانائی کے معاہدے حاصل کرنا۔ امریکی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو کمپنی کی انسداد رشوت پالیسیوں کے حوالے سے گمراہ کرنا۔امریکی حکومت کی تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش شامل ہیں،الزامات امریکی قوانین کے مختلف دفعات سیکیورٹیز فراڈ،منی لانڈرنگ،تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنا،رشوت ستانی کے الزامات کے تحت عائد کیے گئے ہیں،

    یہ کیس بھارت میں ایک قابل تجدید توانائی کمپنی اور اس کی کینیڈین شراکت دار کے مبینہ غیر قانونی کاموں پر مبنی ہے، جس میں بھارتی حکومتی اہلکاروں سے شمسی توانائی کے بڑے معاہدے حاصل کرنے کے لیے رشوت دی گئی۔ مزید برآں، کمپنی نے اپنے مالی معاملات کے حوالے سے امریکی سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا اور تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی۔ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ملزمان کو بھاری مالی جرمانوں، جائداد ضبطی، اور طویل مدتی قید کا سامنا ہو سکتا ہے۔یہ کیس بھارت اور امریکہ کے درمیان کاروباری تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، خاص طور پر قابل تجدید توانائی کے شعبے میں۔

    امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق اڈانی گروپ نے 3 بلین ڈالر کے قرضے اور بانڈز حاصل کرنے کے لیے اپنی بدعنوانی کو چھپایا۔ کیس کی تفصیلات میں کہا گیا کہ ملزمان نے امریکی سرمایہ کاروں کو جھوٹے دعوؤں کے ذریعے راغب کیا اور رشوت کی ادائیگی کو پوشیدہ رکھا،نیویارک کے بروکلین میں پراسیکیوٹرز نے بدھ کے روز الزام عائد کیا کہ اڈانی اور دیگر ملزمان نے امریکی سرمایہ کاروں سے فنڈز اکٹھا کرنے کے منصوبے کے بارے میں جھوٹ بولا۔ پانچ نکاتی فرد جرم میں ساگر آر اڈانی، وینیت ایس جین اور دیگر افراد، جو امریکہ، سنگاپور اور ہندوستان میں مقیم ہیں، ایک آسٹریلوی شہری اور آندھرا پردیش کے ایک سرکاری اہلکار، جن کی عدالتی دستاویزات میں ’فارن آفیشل 1‘ کے طور پر شناخت کی گئی ہے، پر امریکی وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔ایسٹ ڈسٹرکٹ آف نیویارک کے امریکی اٹارنی بریون پیس نے بیان میں کہا، ملزمان نے ہندوستانی سرکاری حکام کو رشوت دینے کے لیے ایک پیچیدہ منصوبہ تیار کیا تاکہ اربوں ڈالر کے معاہدے حاصل کیے جا سکیں۔

    بلومبرگ کے مطابق، امریکی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے تھے کہ آیا اڈانی گروپ نے رشوت دی اور کمپنی کے ارب پتی بانی کے طرزِ عمل میں بھی بدعنوانی شامل تھی۔ ملزمان نے انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے الیکٹرانک شواہد مٹا دیے اور جسٹس ڈیپارٹمنٹ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) اور ایف بی آئی کے نمائندوں سے جھوٹ بولا۔ ایس ای سی نے ایک علیحدہ دیوانی مقدمہ بھی دائر کیا۔پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اڈانی خاندان اور اڈانی گرین انرجی کے سابق سی ای او وینیت جین نے قرضوں اور بانڈز کی شکل میں 3 بلین ڈالر سے زیادہ رقم اکٹھی کی، جبکہ اپنی بدعنوانی کو قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں سے چھپایا۔فرد جرم کے مطابق، کچھ سازشی افراد نے نجی طور پر گوتم اڈانی کے لیے ’نومرو اونو‘ اور ’بِگ مین‘ جیسے کوڈ نام استعمال کیے، جبکہ ساگر اڈانی مبینہ طور پر اپنے موبائل فون کے ذریعے رشوت سے متعلق تفصیلات کا پتہ لگاتے رہے۔

    کیس اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور ایک دوسری کمپنی کے درمیان 12 گیگا واٹ شمسی توانائی ہندوستانی حکومت کو فروخت کرنے کے معاہدے کے گرد گھومتا ہے۔ امریکی فرد جرم کے مطابق، انہوں نے وال اسٹریٹ کے سرمایہ کاروں کو کئی ارب ڈالر کے اس منصوبے میں شامل کرنے کے لیے جھوٹے ریکارڈز بنائے، جبکہ بھارت میں حکومتی عہدیداروں کو 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رشوت دی یا دینے کا منصوبہ بنایا۔اسی دوران، ایک دیگر دیوانی کارروائی میں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے اڈانی اور دو دیگر ملزمان پر امریکی سیکیورٹیز قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ ریگولیٹر مالی جرمانے اور دیگر پابندیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایس ای سی کے انفورسمنٹ ڈویژن کے قائم مقام ڈائریکٹر سنجے وادھوا نے اے پی کو بتایا کہ گوتم اور ساگر اڈانی پر الزام ہے کہ انہوں نے سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلا کر اپنی کمپنی کے بانڈ خریدنے پر آمادہ کیا کہ نہ صرف اڈانی گرین کے پاس ایک مضبوط اینٹی برائبری کمپلائنس پروگرام موجود تھا بلکہ کمپنی کی اعلیٰ انتظامیہ نے کبھی رشوت دینے کا وعدہ نہیں کیا اور نہ کرے گی۔

    ایس ای سی نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف مقدمہ اینٹی فراڈ قوانین کی خلاف ورزی پر دائر کیا ہے، جس میں مستقل پابندیاں، جرمانے، اور افسران و ڈائریکٹرز کے عہدوں پر پابندیاں شامل ہیں۔ اسی طرح، سائریل کبینیس کے خلاف مقدمہ FCPA کی خلاف ورزی پر دائر کیا گیا ہے۔اس مقدمے کی تحقیقات میں امریکی محکمہ انصاف، ایف بی آئی، اور دیگر اداروں کی مدد شامل ہے۔ مقدمات امریکی ریاست نیویارک کے مشرقی ڈسٹرکٹ کی عدالت میں دائر کیے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ افراد پر کریمنل چارجز بھی عائد کیے گئے ہیں۔یہ مقدمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ SEC اور امریکی حکام عالمی سطح پر کارپوریٹ شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔

  • امریکا نے غزہ میں سیزفائر کی قرارداد چوتھی مرتبہ ویٹو کردی

    امریکا نے غزہ میں سیزفائر کی قرارداد چوتھی مرتبہ ویٹو کردی

    نیویارک: امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کی قرارداد چوتھی مرتبہ ویٹو کردی۔

    باغی ٹی وی : سلامتی کونسل کے 10 منتخب ممالک نے غزہ جنگ بندی کی قرارداد پیش کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ غزہ میں غیر مشروط، فوری اور مستقل جنگ بندی کی جائے،غزہ میں غیر مشروط جنگ بندی کی قرارداد کے حق میں 10 منتخب ممالک کے علاوہ 4 مستقل ممالک نے بھی ووٹ دیا تاہم امریکا نے قرار داد کو ویٹو کردیا-

    اقوام متحدہ میں امریکا کے مستقل مندوب رابرٹ وُڈ نے کہا کہ ہم ایسی کسی بھی قرارداد کی حمایت نہیں کرسکتے جس کے ذریعے اسرا ئیلی یرغمالیوں کی رہائی یقینی نہ بنائی گئی ہو،سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے امریکی مندوب نے کہا کہ اس قرارداد کی منظوری سے حماس کے حوصلے بلند ہوتے امریکا پہلے ہی وضاحت کرچکا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کی کسی بھی غیر مشروط قرارداد کی کسی صورت حمایت نہیں کرے گا۔

    واضح رہے کہ امریکا 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران پہلےبھی 3 بار جنگ بندی کی قراردادوں کو ویٹو کر چکا ہے، غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد 11 بار پیش کی جاچکی ہے۔

    غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک تقریباً 44 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں 17 ہزار 400 سے زائد بچے ہیں یوں گزشتہ ایک سال کے دوران غزہ میں ہر 30 منٹ میں ایک بچہ اسرائیلی حملوں کی زد میں آکر شہید ہوا۔

  • ہمارے شہریوں کو قتل اور یرغمال بنانے میں ملوث حماس رہنما ہمارے حوالے کئے جائیں،امریکا

    ہمارے شہریوں کو قتل اور یرغمال بنانے میں ملوث حماس رہنما ہمارے حوالے کئے جائیں،امریکا

    واشنگٹن:امریکی ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ حماس امریکی شہریوں کے قتل اور یرغمال بنانے کے جرم میں ملوث ہے اس لیے یہ رہنما جہاں بھی ہوں، ہمارے حوالے کیے جائیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ترجمان میتھیو ملر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ حماس کے رہنماؤں کی قطر سے ترکیہ منتقلی کی تردید کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں،تاہم امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے حماس رہنماؤں کی قطر سے ترکیہ منتقل ہونے کی خبر کی تصدیق سے بھی گریز کیا۔

    میتھیو ملر نے مزید کہا کہ حماس ایک دہشتگرد تنظیم ہے جس نے کئی امریکیوں کو قتل کیا اور اب بھی 7 امریکیوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے تو جہاں تک یہ بات ہے کہ حماس کے رہنما ترکی میں ہیں یا کسی اور ملک میں ہیں تو دیکھیں ان میں سے کئی لوگوں پر امریکا نے فرد جرم عائد کر رکھی ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کو امریکا کے حوالے کیا جانا چاہئیے، امریکا نے ترک حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ حماس کے ساتھ مزید اس طرح معاملات نہیں چل سکتے، جیسے چل رہے تھے ہم اس پر یقین نہیں رکھتے کہ ایک دہشتگرد تنظیم کے رہنما کہیں بھی آرام سے رہ رہے ہوں۔

    ہم نے مل کر پولیو جیسے چیلنج کو شکست دینی ہے، وزیراعظم

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں حماس کی فوجی طاقت ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں حماس کی فوجی طاقت ختم کردی، جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ میں حماس کی حکمرانی نہیں ہوگی ہمارے یرغمالیوں کو نقصان پہنچانے والوں سے بدلہ ضرور لیں گے،نیتن یاہو نے یرغمالیوں کو بحفاظت نکال لانے پر ہر یرغمالی کے عوض 50 لاکھ ڈالر دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    جو بائیڈن کا یوکرین کو روس کیخلاف اینٹی پرسنل لینڈ مائنز استعمال …

  • جو بائیڈن  کا یوکرین کو روس کیخلاف اینٹی پرسنل لینڈ مائنز   استعمال کرنے کا اجازت کا امکان

    جو بائیڈن کا یوکرین کو روس کیخلاف اینٹی پرسنل لینڈ مائنز استعمال کرنے کا اجازت کا امکان

    واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے بدھ کے روز کہا کہ بائیڈن انتظامیہ یوکرین کو امریکی فراہم کردہ اینٹی پرسنل لینڈ مائنز استعمال کرنے کی اجازت دے گی تاکہ وہ روسی افواج کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھ سکے۔

    باغی ٹی وی : لاوس کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، آسٹن نے کہا کہ یہ پالیسی میں تبدیلی روس کی بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی کے پیش نظر کی گئی ہے روسی زمینی افواج اب میدان جنگ میں زیادہ سرگرم ہیں، جو پہلے سے محفوظ بکتر بند گاڑیوں کے بجائے میدان میں براہ راست موجود ہیں، اس صورت حال میں یوکرین کو ایسے ہتھیاروں کی ضرورت ہے جو روسی افواج کی پیش قدمی کو سست کر سکیں۔

    آسٹن نے مزید کہا کہ وہ بارودی سرنگیں جو ہم فراہم کرنے پر غور کر رہے ہیں، وہ ایسی ہوں گی جنہیں مستقل نہیں سمجھا جا سکتا، ہم ان کے خود کار طریقے سے فعال یا تباہ ہونے کے وقت کو کنٹرول کر سکتے ہیں، جو انہیں آخرکار زیادہ محفوظ بناتا ہے بجائے ان ہتھیاروں کے جو وہ خود تیار کر رہے ہیں۔

    روس کیخلاف امریکی میزائل استعمال کرنے کی یوکرین کی درخواست منظور

    اینٹی پرسنل لینڈ مائنز کیا ہیں؟

    لینڈ مائن یا بارودی سرنگ ایسا دھماکا خیز مواد ہوتا ہے جو زمین کے نیچے چھپا ہوتا ہے اور دشمن کی فوج کے قریب آنے پر پھٹتا ہے ان میں سے کچھ مائنز ٹینکوں کو تباہ کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں جو اینٹی ٹینک مائنز کہلاتی ہیں جبکہ فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والی مائنز کو اینٹی پرسنل مائنز کہا جاتا ہے۔

    روس پر یوکرائنی حملوں کی امریکی منظوری تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی …

    ان بارودی سرنگوں کا استعمال مختلف مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے جن میں فوجی تنصیبات کی حفاظت، دشمن پر گھات لگانا اور دشمن کی پیش قدمی کے راستوں کو محدود کرنا شامل ہےکچھ لینڈ مائنز کا آپریشن محدود وقت کے لیے ہوتا ہے اور ایک خاص مدت کے بعد وہ کام کرنا بند کر دیتی ہیں، لیکن کچھ مائنز کئی دہائیوں تک خطرہ بنی رہتی ہیں۔

    کیا بارودی سرنگوں کا استعمال قانونی ہے؟

    1997 میں منظور ہونے والے اینٹی پرسنل مائن بین کنونشن (اوٹاوا معاہدہ) کے تحت 150 سے زائد ممالک نے لینڈ مائنز کے استعمال، پیداوار، ذخیرہ کرنے اور منتقلی پر پابندی عائد کرنے کا عہد کیا ہے تاہم، امریکا، روس اور چین جیسے کچھ بڑے طاقتور ممالک اس معاہدے کے دستخط کنندہ نہیں ہیں، یوکرین اگرچہ اس معاہدے کا دستخط کنندہ ہے مگر جنگی ضروریات کے پیش نظر یوکرین اس معاہدے سے نکل سکتا ہے۔

    امریکا کا یوکرین کو میزائل کے استعمال کی اجازت،روس کا سخت ردعمل

  • روس کے بڑے حملے کا خطرہ،امریکا کا یوکرین میں سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان

    روس کے بڑے حملے کا خطرہ،امریکا کا یوکرین میں سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان

    کیف: امریکا نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بڑے حملے کے خطرے کے پیش نظر اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکا سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کی اجازت ملنے کے بعد ایک طرف روس نے اپنی نیوکلئیر ڈاکٹر ا ئن تبدیل کرلی ہے تو دوسری جانب اجازت ملتے ہی یوکرین نے روس پر امریکی ساختہ میزائلوں سے حملہ کردیا، روس نے چھ میزائلوں میں سے پانچ کو تباہ کردیا۔

    روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جنگ کے ایک ہزار دن پورے ہونے پر یوکرین نے روس کے برائنسک علاقے میں امریکی ساختہ ATACMS میزائل داغے ہیں،یہ حملہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے کیف کو روس کے اندر اہداف کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی ہتھیاروں کے استعمال کے لیے گرین لائٹ دیے جانے کے صرف دو دن بعد ہوا۔

    پاکستان اور چین کی مشترکہ تربیتی فوجی مشقوں کا آغاز ہوگیا

    یہ پہلا موقع ہے جب یوکرین نے روس کے اندر گہرائی میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی ہتھیاروں کا استعمال کیا، روسی وزارت دفاع نے بتایا کہ منگل کو مقامی وقت کے مطابق رات 3:25 بجے یوکرین نے برائنسک میں ایک تنصیب پر چھ بیلسٹک میزائل فائر کیے، حملے میں امریکی ساختہ ATACMS میزائل استعمال کیے گئے تھے۔

    روسی فضائی دفاع نے کہا کہ انہوں نے پانچ میزائلوں کو مار گرایا اور ایک سے معمولی نقصان پہنچا، تباہ شدہ میزائل کے ٹکڑے فوجی تنصیب کی سرزمین پر گرے، جس سے آگ لگ گئی جسے اب تک بجھا دیا گیا ہے اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

    یوکرین کا روس پر امریکی ساختی میزائل سے پہلا حملہ، تیسری جنگ عظیم کا خدشہ

    یوکرین کو طویل فاصلے تک وار کرنےوالے امریکی میزائل روس پر داغنے کی اجازت دیئےجانے کے بعد اب روس کی طرف سے بھی بھرپور کارروائی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہےروس کے صدر ولادیمیر پوٹن کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکا اور فرانس کے جدید ترین ہتھیاروں سے روس میں بہت اندر تک حملے کیے گئے تو بھرپور جوابی کارروائیاں کی جائیں گی۔

  • نواز شریف ، اسحاق ڈار کا معاشی استحکام میں اہم کردار، تجزیہ : شہزاد قریشی

    نواز شریف ، اسحاق ڈار کا معاشی استحکام میں اہم کردار، تجزیہ : شہزاد قریشی

    امریکہ کے نومنتخب صدر ٹرمپ امریکی معیشت جو پہلے ہی مستحکم ہے وہ امریکی معیشت کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیتے رہے الیکشن کے دوران وہ امریکی عوام کو مزید خوشحال بنانے روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیتے دنیا کی سپر پاور کے صدر ٹرمپ جانتے ہیں کہ اگر امریکہ معاشی مستحکم ہوگا تو وہ دنیا پر حکمرانی کر سکیں گے۔ پاکستان میں نوازشریف کو جب بھی اقتدار ملا ان کی توجہ کا مرکزملکی معیشت ہی رہی آپ نوازشریف سے سیاسی اختلافات کر سکتے ہیں ایسا بھی نہیں کہ نوازشریف کسی ولی یا فرشتے کا نام ہے تاہم ان کی توجہ کا مرکز ملکی معیشت کے ساتھ ہے۔ بیروزگاری کے خاتمے، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پاکستان کے عوام کے لئے جدید سہولتیں فراہم کرنے ، جس میں موٹر ویز جدید ایئرپورٹ اور بہت سے میگا پراجیکٹ شامل ہیں موجودہ وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا معیشت کو مستحکم کرنے میں بڑا کردار رہا۔ نوازشریف کے دور حکومت میں معیشت کو ملکی اور بین الاقوامی ماہرین اقتصادیات بھی سراہتے رہے لیکن بدقسمتی سے ان کی حکومت کے خلاف ملک کے اندر ایسی ایسی سازشیں ہوئیں ترقی کرتا پاکستان دوبار کمزور معیشت کی حذف جانے لگا اور عوام کے لئے بنیادی مسائل کھڑے ہوتے رہے۔ نوازشریف کے دور حکومت میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پاکستان عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ پھر ہنستے بستے عوام اور پاکستان کی مضبوط ترین معیشت کو کمزور کرنے اور نوازشریف کی حکومت کیخلاف دھرنوں کاآغاز ہوا عالمی دین طاہر القادری اور عمران خان کی شکل میں جلسے جلوس دھرنے دیئے گئے اس وقت کی عدلیہ کے ججوں نے اہم کردار ادا کیا اور مستحکم معیشت کے حامل پاکستان اور عوام ایک بار پھر کھائی میں جاگرے تادم تحریر پاکستان کی معیشت مستحکم نہ ہو سکی جس کا خمیازہ پاکستان بطور ریاست اور عوام بھگت رہے ہیں موجودہ امریکی الیکشن میں معیشت سب سے اہم موضوع تھا۔ بدقسمتی سے پاکستان کی عوام کو گمراہ کردیا گیا نوازشریف کو جب جب اقتدار ملا انہوں نے اپنی توجہ معیشت پر دی آج امریکی صدر کی توجہ بھی معیشت پر ہے جنگوں پر نہیں سوال یہ ہے کہ چند لوگوں نے اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کی خاطر پاکستان کے مفادات کو پس پشت کیوں ڈال دیا؟-

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • روس پر یوکرائنی حملوں کی امریکی منظوری  تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے،تجزیہ نگار

    روس پر یوکرائنی حملوں کی امریکی منظوری تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے،تجزیہ نگار

    واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے بائیڈن انتظامیہ کو تناؤ میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا جو روس پر یوکرائنی حملوں کی امریکی منظوری کے بعد تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر بائیڈن انتظامیہ پر تناؤ پھیلانے کا الزام لگا رہے ہیں جو جنوری میں ان کے والد کی وائٹ ہاؤس واپسی سے پہلے "عالمی جنگ 3” کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر جو بائیڈن نے یوکرین کی فوج کو روسی سرزمین کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کی اجازت دی تھی، یہ ایک ایسا اقدام ہے جو امریکہ اور روس کے درمیان تناؤ کو بڑھا سکتا ہے، یوکرین آنے والے دنوں میں اپنے پہلے طویل فاصلے تک حملے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے-

    امریکہ کا یہ اقدام نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے 20 جنوری کو اقتدار سنبھالنے سے محض دو ماہ قبل سامنے آیا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی طرف سے کئی مہینوں کی درخواستوں کے بعد امریکہ نے یوکرین کی فوج کو روسی فوج کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دی-

    ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے اتوار کو کہا کہ یوکرین کے لیے امریکی حمایت بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے جنوری میں ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے سے پہلے ایک بڑا تنازعہ شروع کرنے کی کوشش ہے46 سالہ ٹرمپ جونیئر نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ دفاعی اسٹیبلشمنٹ کا مقصد تنازعہ کو بڑھا کر ان کے والد کی آئندہ صدارت کو غیر مستحکم کرنا ہے،”ایسا لگتا ہے کہ ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس
    اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ وہ تیسری عالمی جنگ شروع کر دیں اس سے پہلے کہ میرے والد کو امن قائم کرنے کا موقع ملے-

    دوسری جانب سابق امریکی فوجی سربراہوں اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کا یوکرین کو روس کے اندر اہداف کو امریکی فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کی اجازت دینے کا فیصلہ ایک وسیع جنگ کو جنم دے سکتا ہے اور مزید خونریزی کا باعث بن سکتا ہے۔

    ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل رابرٹ میگنیس نے کل خبردار کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس آمد سے چند ہفتے قبل کیف کو امریکہ کے ATACMS راکٹوں کو محدود صلاحیت میں بھی استعمال کرنے کی اجازت دینا ‘پیوٹن کو مشتعل اور ممکنہ طور پر جنگ کو وسیع کر دے گا’۔

    انہوں نے کہا کہ ‘مجھے لگتا ہے کہ یہ پیوٹن کو مشتعل کرنے والا ہے، جو کہ پریشانی کا باعث ہے اے ٹی اے سی ایم ایس واضح طور پر کوئی بڑا فرق نہیں ڈالنے والا ہے، لیکن یہ کیا کرے گا مسٹر ٹرمپ کو جب وہ صدر کا عہدہ سنبھال رہے ہیں تو بہت خراب صورتحال میں ہے،بائیڈن انتظامیہ ایک انتہائی خراب صورتحال کو بڑھا رہی ہے-

    بائیڈن کا فیصلہ، جو امریکی پالیسی میں ڈرامائی یو ٹرن کا اشارہ دیتا ہے، اس وقت سامنے آیا ہے جب روسی اور یوکرائنی افواج ٹرمپ کی اوول آفس واپسی سے قبل زیادہ سے زیادہ علاقہ حاصل کرنے کے لیے لڑ رہی ہیں، اس خدشے کے درمیان کہ منتخب صدر جنگ بندی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے طویل عرصے سے اپنے مغربی اتحادیوں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ اپنے ملک کو روس کے اندر گہرائی تک فوجی اہداف پر حملہ کرنے کی اجازت دیں، یہ کہتے ہوئے کہ پابندی نے کیف کے لیے اپنے شہروں اور بجلی کے گرڈ پر روسی حملوں کو روکنے کی کوشش کرنا ناممکن بنا دیا ہے، لیکن کیف کے مغربی حمایتیوں نے اس خدشے کے درمیان ان کی درخواستوں کی مزاحمت کی تھی کہ ایسا کرنے سے پوٹن کی جانب سے طے کردہ ‘سرخ لکیر’ کو عبور کر لیا جائے گا۔

    فروری کو روس کے حملے کے تین سال مکمل ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں یوکرائنی شہریوں کی متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔ 78 سالہ ٹرمپ نے تنازع ختم کرنے کا عہد کیا ہے۔ اس ماہ اپنی انتخابی کامیابی کے بعد، نو منتخب صدر نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور روسی رہنما ولادیمیر پوٹن دونوں سے بات چیت کی۔

    میل آن لائن کی وار آن ٹیپ یوٹیوب سیریز کے میزبان کرس پلیزنس نے کہا: ‘بائیڈن کا فیصلہ یوکرین کے باشندوں کی مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ وہ پوٹن کی فوج کو بھاری جانی نقصان پہنچا سکیں۔

    ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے اور امن کو نافذ کرنے کی کوشش کرنے سے پہلے یہ دونوں طرف خونریزی کا باعث بن سکتا ہے۔ اتنا خون بہنے کے بعد دونوں فریق مذاکرات پر آمادہ ہوں گے یا نہیں یہ دیکھنا باقی ہے۔’

    امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی پہلی بڑی تقریر میں ٹرمپ نے روس اور یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے اپنے عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ٹرمپ نے کہا کہ "ہم مشرق وسطیٰ پر کام کرنے جا رہے ہیں، اور ہم روس اور یوکرین پر بہت محنت کرنے جا رہے ہیں، اسے روکنا ہو گا۔”

    صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران کہا ہے، وہ واحد شخص ہیں جو امن مذاکرات کے لیے دونوں فریقوں کو اکٹھا کر سکتے ہیں، اور جنگ کے خاتمے اور قتل و غارت کو روکنے کے لیے کام کر سکتے ہیں،ٹرمپ نے ابھی تک جنگ کو ختم کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی کے حوالے سے مخصوص تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں۔

  • امریکا میں آرگینک گاجروں کے استعمال سے انفیکشن،1شخص ہلاک درجنوں بیمار

    امریکا میں آرگینک گاجروں کے استعمال سے انفیکشن،1شخص ہلاک درجنوں بیمار

    امریکا میں آرگینک گاجروں کے استعمال سے چھوٹی آنت کا انفیکشن پھوٹ پڑا،ایک شخص ہلاک جبکہ درجنوں بیمار ہو گئے-

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق آرگینگ گاجریں کھانے سے چھوٹی آنت کے انفیکشن ای کولی کا شکار ہوکر ایک شخص ہلاک جبکہ درجنوں بیمار ہوگئے انفیکشن سے امریکا کی 18 ریاستیں متاثر ہوئیں اور اب مارکیٹوں سے آرگینگ گاجروں کے مشہور برانڈز کی مصنوعات ہٹا لی گئیں ہیں، یہ آرگینک گاجریں 14 اگست سے 23 اکتوبر تک فروخت کی گئیں، انفیکشن سے متاثرہ افراد میں سے زیادہ تر نیو یارک، منیسوٹا اور واشنگٹن کے رہائشی ہیں، سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول نے لوگوں کو متاثرہ گاجروں کو پھینک دینے کی ہدایت کی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکا میں نجی فاسٹ فوڈ چین کے مشہور برگر سے ایکولی پھیلنے لگا تھا جس کے باعث ایک شخص ہلاک اور 100 سے زائد بیمار ہوگئے تھے۔