Baaghi TV

Tag: امریکا

  • تجارتی جنگ یا ٹیرف وار میں کوئی فاتح نہیں ہوتا،چین

    تجارتی جنگ یا ٹیرف وار میں کوئی فاتح نہیں ہوتا،چین

    چین نے کہا ہے کہ امریکہ اگر اسی طرح سے ’ٹیرف نمبر گیم‘ کھیلتا رہا تو وہ واشنگٹن کے ان اقدامات پر توجہ نہیں دے گا۔

    باغی ٹی وی : چین نے امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "دھمکیوں اور بلیک میلنگ” سے معاملات حل نہیں ہوں گے، اگر امریکا واقعی بات چیت سے مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے تو برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کرے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ چین لڑنا نہیں چاہتا، مگر لڑائی سے ڈرتا بھی نہیں، انہوں نے واضح کیا کہ "تجارتی جنگ یا ٹیرف وار میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔

    کراچی میں دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کے داخلہ پر دفعہ 144 نافذ

    چین کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اگر امریکہ ’ٹیرف کے اعداد و شمار کا کھیل‘ کھیلتا رہا تو چین اس پر کوئی توجہ نہیں دے گا،واشنگٹن نےٹیرف کو "غیر معقول حد تک ہتھیار بنا دیا ہے اس کے باوجود چین نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ان اقدامات کو نظر انداز کرے گا اور اپنے موقف پر قائم رہے گا یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب وائٹ ہاؤس نے وضاحت دی کہ چین کو اس کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں 245 فیصد تک کے ٹیرف کا سامنا ہے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی پانچ روزہ دورے پر چین جائیں گے

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کو جاری کردہ ایک فیکٹ شیٹ میں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ چین کے کل محصولات میں تازہ ترین 125 فیصد کا جوابی ٹیرف، معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے 20 فیصد کا ٹیرف اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں سے نمٹنے کے لیے مخصوص اشیا پر 7.5 فیصد سے 100 فیصد تک کے ٹیرف شامل ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتے قبل تمام ممالک پر اضافی ٹیرف کا اعلان کیا تھا، لیکن اچانک درجنوں ممالک کے لیے زیادہ ’جوابی ٹیرف‘ واپس لے لیے، جبکہ چین پر سخت محصولات برقرار رکھے، بیجنگ نے اس کے ردعمل میں امریکی اشیا پر اپنی محصولات بڑھا دیں اور مذاکرات کی کوئی کوشش نہیں کی، جس کے بارے میں بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ صرف باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر ہی ہو سکتے ہیں۔

    ٹک ٹاک بناتے ہوئے ٹرین کی زد میں آکر 2 طالبات جاں بحق

    گذشتہ ہفتے، چین نے عالمی تجارتی تنظیم ( ڈبلیو ٹی او) میں ایک نئی شکایت بھی درج کروائی ہے جس میں امریکی ٹیرف پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے واشنگٹن پر عالمی تجارتی ادارے کے قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

    اس ہفتے، چین نے غیر متوقع طور پر ایک نئے تجارتی مذاکرات کار کو مقرر کیا ہے جو بڑھتے ہوئے ٹیرف کے تنازعے کو حل کرنے کے لیے کسی بھی بات چیت میں کلیدی کردار ادا کرے گااور اس نے تجارتی زار وانگ شووین کو ہٹا کر اپنے ڈبلیو ٹی او کے ایلچی لی چینگ گانگ کو مقرر کیا ہے۔

    جوڈیشل کمیشن اجلاس: آئینی بینچ میں دو نئے ججز کا اضافہ

    واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے لیکن بیجنگ کو پہل کرنا چاہیے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے ٹرمپ کا بیان پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا، "گیند اب چین کے کورٹ میں ہے، ہمیں ڈیل کرنے کی ضرورتمہاجرین کی باعزت واپسی کے لیے پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون ناگزیر ہے،افغان وزیر تجارت نہیں، چین کو ہے۔

    دوسری جانب امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ٹیرف سے متعلق مذاکرات کو اپنے تجار تی شراکت داروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ انہیں چین کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو محدود کرنے پر مجبور کیا جائے۔

    جوڈیشل کمیشن اجلاس: آئینی بینچ میں دو نئے ججز کا اضافہ

    رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد مختلف ممالک سے یقینی دہانی لینا ہے کہ وہ ٹیرف میں کمی کے بدلے میں چین کو معاشی میدان میں تنہا کرنے پر امریکہ کا ساتھ دیں گےامریکی حکام 70 سے زیادہ ممالک کے ساتھ ہونے والے ٹیرف مذاکرات کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان ممالک سے کہا جائے گا کہ وہ چینی مصنوعات کو اپنی سرحدوں سے گزرنے کی اجازت نہ دیں اور چین کے سستے صنعتی سامان کو اپنی مارکیٹ کا حصہ نہ بننے دیں۔

    حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کا ایک اور موقع ضائع کر دیا ،شاہد خاقان عباسی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کئی ایسے ممالک پر اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا جن میں اس کے حریف بھی شامل تھے اور شراکت دار بھی جبکہ پسماندہ ممالک کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا تھاصدر ٹرمپ کے ٹیرف کے جواب میں چین نے امریکی اشیا پر 125 فیصد برآمدی ڈیوٹی عائد کر دی ہے جس کے بعد دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔

  • امریکا کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز بھی ہوسکتے ہیں اور بے نتیجہ بھی، ایرانی سپریم لیڈر

    امریکا کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز بھی ہوسکتے ہیں اور بے نتیجہ بھی، ایرانی سپریم لیڈر

    تہران: ایرانی سپریم لیڈرنے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات ابتدائی طور پر ’ٹھیک طریقے سے‘ انجام پائے ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ مذاکرات نتیجہ خیز بھی ہوسکتے ہیں اور بے نتیجہ بھی۔

    باغ ٹی وی : ایران اور امریکا کے درمیان عمان میں مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا بیان سامنے آگیا،امریکہ ایران جوہری مذاکرات سے متعلق ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا ہے کہ ہم نہ ہی بہت زیادہ پرامید اور نہ ہی بہت زیادہ ناامید ہیں ابتدائی مرحلے میں بات چیت اچھی رہی، یہ تو ہے کہ ہمیں دوسری جانب سے شکوک وشبہات ہیں ہم اچھی طرح جانتے ہیں یہ کون ہیں، اس لیے ان پر بھروسہ نہیں کرسکتے ہمیں اپنی صلاحیتوں پر تو یقین ہے ہم جانتے ہیں کہ ہم بہت کچھ کرسکتے ہیں۔

    قانون سازوں سے ملاقات میں آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ وہ بدترین دشمن کے ساتھ مذاکرات سے مطمئن ہیں لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ یہ بلآخر بے نتیجہ ثابت ہوسکتے ہیں اس معاملے کو ایران کے مستقبل سے جوڑنے سے گریز کیا جائے بلآخر معاہدہ ایسا عمل تھا جسے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس پر پہلے مرحلے میں بہتر عمل درآمد کیا گیا۔

    مالدیپ میں اسرائیلی پاسپورٹ کے حامل افراد کے داخلے پر پابندی عائد

    اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان 1979 کے انقلاب کے بعد سے سفارتی تعلقات منقطع ہیں لیکن دونوں ملکوں نے حالیہ بات چیت کو ’تعمیری‘ قرار دیا ہے، ایران کا کہنا ہے کہ مذاکرات اب بھی ’بالواسطہ‘ ہیں اور عمان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں۔

    مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ بات چیت کا پہلا دور ختم ہوگیا، بات چیت تعمیری اور مثبت ماحول میں ہوئی، بات چیت ختم ہونے سے پہلے ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مختصر بات ہوئی۔

    اسلام آباد سمیت ملک کے بعض حصوں میں بارش کی پیشگوئی

    واضح رہے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ مسئلے کو بات چیت سے حل کیا جائے گا، تاہم ایران کو ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی،تاہم گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی اور ایرانی قیادت کو ’انتہا پسند‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، دوسر ی جانب ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد اور خاص طور پر توانائی کی پیداوار کے لیے ہے۔

    اوورسیز پاکستانیوں کو فائلر تصور کیا جائے گا، ہم آپ کوجتنی مراعات دیں وہ کم ہیں،وزیراعظم

  • سوشل میڈیا پر یہود مخالف مواد شیئر  کرنیوالوں کو امریکا کا ویزا نہیں ملے گا،امریکی امیگریشن حکام

    سوشل میڈیا پر یہود مخالف مواد شیئر کرنیوالوں کو امریکا کا ویزا نہیں ملے گا،امریکی امیگریشن حکام

    واشنگٹن: امریکی امیگریشن حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ افراد جو سوشل میڈیا پر یہود مخالف مواد شیئر کرتے ہیں، انہیں امریکا کا ویزا یا رہائشی اجازت نامہ جاری نہیں کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی :صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حماس کے اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد غزہ پر امریکی اتحادی اسرائیل کے تباہ کن فوجی حملے پر فلسطینیوں کے حامی مظاہروں کو روکنے کی کوشش کی ہے۔

    محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے بیان میں کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ امریکا آکر آئین کی پہلی ترمیم کا سہارا لے کر یہود دشمنی اور دہشت گردی کی حمایت کرے گا تو وہ غلط فہمی میں ہے ایسے افراد کو امریکا میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گاسوشل میڈیا پر حماس، حزب اللہ یا حوثی جیسےگروہوں کی حمایت میں پوسٹس کرنے والے افراد کی سرگرمیوں کو ویزا اور گرین کارڈ جاری کرنے میں منفی عنصر تصور کیا جائے گا۔

    پاکستان کے کئی شہروں میں کے ایف سی پر حملے

    یہ پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور امریکا میں طلبا کے ویزوں اور مستقل رہائش کی درخواستوں پر لاگو ہوگی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ وہ پہلے ہی تقریباً 300 افراد کے ویزے منسوخ کر چکے ہیں۔

    متاثرہ افراد کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے کبھی یہودیوں سے نفرت کا اظہار نہیں کیا، بلکہ وہ صرف مظاہروں میں موجود تھے سب سے نمایاں واقعہ نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے طالبعلم محمود خلیل کی ملک بدری کا ہے جو امریکا کا مستقل رہائشی تھا۔

    شاہ رخ خان کے ساتھ موازنہ،اروشی روٹیلا کو اداکار کے مداحوں نے آڑے ہاتھوں لے لیا

    یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی نئی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد ایسے غیر ملکیوں کو امریکا میں داخل ہونے سے روکنا ہے جو یہود دشمن سرگرمیوں یا دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتے ہیں جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد یونیورسٹیوں کو وفاقی فنڈنگ سے بھی محروم کر دیا ہے، جن پر غزہ تنازعے کے دوران مظاہروں میں یہود دشمنی کو روکنے میں ناکامی کا الزام ہے۔

    مزید 11 آئی پی پیز کا ٹیرف میں کمی کیلئے نیپرا سے رجوع

  • حکومت امریکا کیساتھ بہتر تجارتی روابط کیلئے ایک جامع حکمت عملی پر کام کر رہی ہے،وفاقی وزیر تجارت

    حکومت امریکا کیساتھ بہتر تجارتی روابط کیلئے ایک جامع حکمت عملی پر کام کر رہی ہے،وفاقی وزیر تجارت

    اسلام آباد: امریکی حکومت کی جانب سے پاکستانی برآمدات پر 29 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا جس کے پیش نظر وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔

    باغی ٹی وی :وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے امریکی ٹیرف پالیسیوں سے پیدا ہونے والے خدشات کے پیش نظر مختلف برآمدی شعبوں سے تعلق رکھنے والے برآمد کنندگان کے ساتھ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں ٹیکسٹائل، گارمنٹس، لیدر، سرجیکل آلات، خدمات، پھل و سبزیاں، چاول، جوتے اور دیگر برآمدی صنعتوں کے نمائندگان شریک ہوئے۔

    وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ ہماری تجارتی ٹیمیں اور امریکا میں موجود سفارت کار متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ پاکستان کے خدشات مؤثر طریقے سے پہنچائے جا سکیں، اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ عالمی تجارتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر ہم آہنگی ضروری ہے۔

    وزیر تجارت جام کمال خان نے اس موقع پر وزارت تجارت کے فعال کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ حکومت امریکا کے ساتھ بہتر تجارتی روابط کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر کام کر رہی ہے تاکہ باہمی مفاد پر مبنی نتائج حاصل کیے جا سکیں، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نجی شعبہ اس حکمت عملی کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔

    وزیر تجارت نے برآمد کنندگان سے تجاویز اور سفارشات طلب کیں تاکہ ایک مضبوط اور قابلِ عمل پالیسی مرتب کی جا سکے،نجی شعبے نے وزیر تجارت کی قیادت میں حکومت کی بروقت اور فعال کوششوں کو سراہا اور اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت میں شامل کرنے کے حکو متی عزم کی تعریف کی۔

  • امریکا سمیت مختلف ممالک میں ٹرمپ کیخلاف مظاہرے

    امریکا سمیت مختلف ممالک میں ٹرمپ کیخلاف مظاہرے

    نیویارک: امریکا سمیت مختلف ممالک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے۔

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرین نے واشنگٹن، نیویارک، ہیوسٹن، فلوریڈا، کولوراڈو اور لاس اینجلس سمیت دیگر مقامات پر احتجاجی ریلیاں نکالیں "Hands Off!” کے عنوان سے ہونے والے اس احتجاج نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی جس میں عوام نے حکومتی اقدامات کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

    عالمی میڈیا کے مطابق صرف نیویارک میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے جبکہ واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل مال پر 20,000 سے زائد مظاہرین نے شرکت کی، ملک کی تمام 50 ریاستوں کے علاوہ کینیڈا اور میکسیکو میں بھی تقریباً 1,200 احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔

    سی آئی ڈی کے مرکزی کردار اے سی پی پردیومن اب اس دنیا میں نہیں رہے

    مظاہرین نے امیگریشن پالیسیوں، تجارتی محصولات، تعلیمی بجٹ میں کٹوتیوں اور ایلون مسک کی سربراہی میں محکمہ حکومتی کارکردگی کی جانب سے وفاقی ملازمتوں میں کی گئی 200,000 سے زائد کٹوتیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

    یورپ میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے برلن، فرینکفرٹ، پیرس، اور لندن میں مقیم امریکی شہریوں نے احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی، برلن میں ٹیسلا کے شوروم کے باہر مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "ایلون، چپ رہو، کسی نے تمہیں ووٹ نہیں دیا” جیسے نعرے درج تھے۔

    پی ایس ایل 10: کمنٹری پینل کا اعلان ہوگیا،کمنٹری مکمل اردو میں ہو گی

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ امریکا میں جمہوریت کی بحالی، عوامی مفادات کی حفاظت اور "طاقتور افراد کے ذریعے پالیسی سازی” کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوئے ہیں ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت فوری طور پر ان عوام دشمن پالیسیوں کو واپس لے اور حقیقی نمائندہ نظام کو بحال کرے۔

  • امریکا نے جنوبی سوڈان کے شہریوں کے تمام ویزے منسوخ کر دیئے

    امریکا نے جنوبی سوڈان کے شہریوں کے تمام ویزے منسوخ کر دیئے

    واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی سوڈان سے تعلق رکھنے والے تمام پاسپورٹ ہولڈرز کے امریکی ویزے فوری طور پر منسوخ کیے جا رہے ہیں-

    باغی ٹی وی:”دی گارڈین” کے مطابق واشنگٹن جنوبی سوڈانی پاسپورٹ رکھنے والوں کے تمام ویزے منسوخ کر رہا ہے اور نئے آنے والوں کو روک رہا ہے، سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز کہا کہ افریقی ملک امریکہ سے نکالے گئے اپنے شہریوں کو قبول نہیں کر رہا ہے۔

    روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ "جنوبی سوڈانی پاسپورٹ رکھنے والوں کے پاس موجود تمام ویزوں کو منسوخ کرنے اور داخلے کو روکنے کے لیے مزید اجراء کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے”۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 جنوری کو امیگریشن مخالف پلیٹ فارم پر مہم چلانے کے بعد وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد سے یہ پہلا ایسا اقدام تھا جس میں کسی مخصوص ملک کے تمام پاسپورٹ ہولڈرز کو الگ کیا گیا تھا۔

    مارک روبیو نے واضح کیا کہ اگر کوئی غیر ملکی شہری امریکا سے بے دخل کیا جائے تو اس کا ملک اُسے واپس لینے کا پابند ہے، تاہم جنوبی سوڈان کی عبوری حکومت نے اس اصول کی خلاف ورزی کی جس پر یہ سخت قدم اٹھایا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اب جنوبی سوڈان کے شہریوں کو امریکا کے نئے ویزے بھی جاری نہیں کیے جائیں گے جنوبی سوڈان اگر امریکا سے مکمل تعاون کرے گا تو اس پالیسی پر نظرثانی کی جا سکتی ہے،جنوبی سوڈان امریکا سے فائدے اٹھانا بند کرے، اور بین الاقوامی ذمہ دار یوں کو سمجھے۔

    دنیا کا سب سے نیا ملک اور غریب ترین ملک جنوبی سوڈان اس وقت سیاسی رہنماؤں کے درمیان تناؤ کا شکار ہے کچھ مبصرین کو خانہ جنگی کی تجدید کا خدشہ ہے جس میں 2013 اور 2018 کے درمیان 400,000 افراد ہلاک ہوئے جنوبی سوڈانی شہریوں کو ٹرمپ کے پیشرو جو بائیڈن کی انتظامیہ کی طرف سے "عارضی تحفظ یافتہ درجہ” (TPS) دیا گیا تھا، اس عہدہ کی میعاد 3 مئی 2025 کو ختم ہو رہی تھی۔

    امریکہ TPS دیتا ہے، جو لوگوں کو ملک بدری کے خلاف ڈھال بناتا ہے، ایسے غیر ملکی شہریوں کو جو جنگ، قدرتی آفات یا دیگر "غیر معمولی” حالات کی وجہ سے بحفاظت وطن واپس نہیں جا سکتے.محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ستمبر 2023 میں کہا کہ TPS پروگرام کے تحت امریکہ میں تقریباً 133 جنوبی سوڈانی تھے، جن میں سے مزید 140 درخواست دینے کے اہل تھے۔

    لیکن ٹرمپ وائٹ ہاؤس نے جنوری میں 600,000 سے زیادہ وینزویلا کے تحفظ کو منسوخ کرتے ہوئے TPS کے عہدوں کو ختم کرنا شروع کر دیا ہے۔

    اس ہفتے ایک وفاقی جج نے حکومت کے ان دعوؤں پر سوال اٹھانے کے بعد اس فیصلے کو روک دیا کہ امریکہ میں وینزویلا کی اکثریت مجرم ہے پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق، مارچ 2024 تک امریکہ میں 1.2 ملین افراد ٹی پی ایس کے اہل یا حاصل کرنے والے تھے، جن میں وینزویلا کے لوگ سب سے بڑے گروپ میں شامل تھے۔

    ٹرمپ انتظامیہ کا جنوبی سوڈان سے الگ ہونا بھی افریقیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بعد اس کی جنوبی سرحد کے ذریعے امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کے بعد سامنے آیا ہے – جو یورپ میں خطرناک راستوں کا متبادل ہے۔

  • ٹرمپ  انتظامیہ کا پہلا دورہ پاکستان آئندہ ہفتے

    ٹرمپ انتظامیہ کا پہلا دورہ پاکستان آئندہ ہفتے

    اسلام آباد: ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد امریکی انتظامیہ کا پہلا دورہ پاکستان آئندہ ہفتے ہوگا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار سمیت امریکی وفد اگلے ہفتے پاکستان آئے گا، ٹرمپ انتظامیہ سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تعاون پر بات ہوگی امریکی وفد پاکستان منرلز انوسٹمنٹ فورم میں شرکت کرے گا، وفد 8 سے 10 اپریل تک کانفرنس میں شرکت کرے گا،امریکی انتظامیہ سے پاکستان میں امریکی کاروبار کے مواقع بڑھانے پر بھی بات ہوگی اس کے علاوہ وفد سینئر پاکستانی حکام سے بھی ملاقات کرے گا، ملاقات میں اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنے پر بات ہوگی۔

  • ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرینی باشندوں کو غلط ای میل بھیج دی

    ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرینی باشندوں کو غلط ای میل بھیج دی

    واشنگٹن: امریکی حکومت نے غلطی سے یوکرین کے پناہ گزینوں کو ایک ای میل بھیج دی جس میں کہا گیا کہ ان کی حیثیت منسوخ کر دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کے شروع کردہ پروگرام کے تحت روس کے حملے کے بعد امریکہ فرار ہونے والے یوکرینی باشندوں کو حال ہی میں کہا گیا تھا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر ملک چھوڑ دیں،یوکرین کے لیے یونائٹنگ کہلانے وا لے اس پروگرام نے یوکرین کے باشندوں کو امریکی اسپانسر کی مالی مدد سے دو سال تک عارضی طور پر امریکا میں رہنے کی اجازت دی، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے تحت حالیہ تبدیلیوں نے ان مہاجرین کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی۔

    اس حوالے سے محکمہ داخلی سلامتی کے ترجمان نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ای میل غلطی سے بھیجی گئی اور 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد بنایا گیا یوکرینی پیرول پروگرام ختم نہیں کیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کتنے یوکرینی باشندوں کو ای میل مو صول ہوئی۔

    محکمہ داخلی سلامتی نے جمعہ کو ایک فالو اپ نوٹ میں انہیں مطلع کیا کہ یہ حکم غلطی سے بھیجا گیا تھا اور ”آپ کے پیرول کی اصل جاری کردہ شرائط میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

    روئٹرز نے گذشتہ ماہ اطلاع دی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ روس کے حملے سے فرار ہونے والے تقریباً 240,000 یوکرینیوں کی عارضی قانونی حیثیت کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے تحت یوکرینی باشندوں کا جو استقبال کیا گیا تھا، اس طرح کا اقدام اس کے برعکس ہو گا۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ  امریکی سرمایہ کاروں کو دلاسے دینے لگے

    ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سرمایہ کاروں کو دلاسے دینے لگے

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درجنوں ممالک کی درآمدی اشیا پر ٹیرف عائد کرکے جس تجارتی جنگ کو چھیڑا ہے وہ خود امریکی سرمایہ کاروں کے گلے آگئی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو سرمایہ کاروں کو وضاحت دینا پڑ گئی-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ کے ٹیرف عائد کرنے کے سب سے زیادہ منفی اثرات کا سامنا خود امریکیوں کو کرنا پڑ رہا ہے صرف 2 روز میں امریکی اسٹاک ایکسچینج میں 5 سال کی بدترین مندی دیکھنے میں آئی اور سرمایہ کاروں کی 60 کھرب ڈالر سے زائد رقم ڈوب گئی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے سنگین صورت حال اور امریکیوں کی ناراضگی کو بھانپتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنی پالیسی کی دفاع میں آگئے کہا کہ ہم اب مزید نہ بیوقوف بنیں گے اور نہ ہی بے بسی کے ساتھ تضحیک کا سامنا کریں گے یہ اقتصادی انقلاب ہے، ہم امریکا میں پہلے سے کہیں زیادہ روزگار اور کاروبار واپس لا رہے ہیں اور ہم یہ جنگ جیتیں گے اپیل کی کہ تھوڑا صبر کریں یہ (تجارتی جنگ) اتنا آسان نہیں ہوگا لیکن اس کا اختتام تاریخی ہوگا۔

    واضح رہے کہ 2 روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین سمیت درجنوں ممالک پر ٹیکس عائد کیے تھے جس کے جواب میں چین نے بھی جوابی ٹیکسز عائد کیے ہیں۔

  • امریکی صدر کا رقم کے عوض’گولڈ کارڈ’ ویزا متعارف

    امریکی صدر کا رقم کے عوض’گولڈ کارڈ’ ویزا متعارف

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ” گولڈ کارڈ” ویزا متعارف کرادیا ہے، ایک رہائشی اجازت نامہ $5 ملین میں ملے گا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق یہ کارڈ دراصل گرین کارڈ کا ایک مہنگا ورژن ہے جسے صدر ٹرمپ نے سرمایہ داروں، کاروباری شخصیات اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے والوں کو امریکا آمد کی ترغیب دینے کے لیے متعارف کرایا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک پروٹو ٹائپ پکڑے ہوئے جس پر ان کے چہرے پر "دی ٹرمپ کارڈ” لکھا ہوا تھا۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ خصوصی ویزا ممکنہ طور پر "دو ہفتوں سے بھی کم وقت میں” دستیاب ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس کا پہلا خریدار میں ہوں۔

    امریکی صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ 5 ملین ڈالر کی مالیت کے اس گولڈن ریذیڈنسی کارڈ کی آمدنی سے امریکا کا قومی خسارہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ارب پتی سابق رئیل اسٹیٹ ٹائیکون، جنہوں نے لاکھوں غیر دستاویزی تارکین وطن کی ملک بدری کو اپنی دوسری مدت کے لیے ترجیح بنایا ہے، نے کہا کہ نیا کارڈ انتہائی قیمتی امریکی شہریت کا راستہ ہوگا۔خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے فروری میں کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ کو "شاید ایک ملین” کارڈ فروخت کرنے کی امید ہے۔ اور اس بات کو مسترد نہیں کیا کہ روسی ارب پتی بھی اہل ہو سکتے ہیں۔

    رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ ،قرضوں کے حجم میں مزید اضافہ

    ریڈ بک کے انتہائی مطلوب ملزم انسانی اسمگلر سمیت 3 ایجنٹس گرفتار

    ملتان سلطانزنے پی ایس ایل 10 کی تیاری کے لیے کیمپ لگا لیا

    امریکی ٹیرف،عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر گئیں

    نیپال میں زلزلہ،شدت 5 ریکارڈ کی گئی