Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ٹرمپ نے سی آئی اے سربراہ،اسرائیل میں سفیر کی نامزدگی کر دی

    ٹرمپ نے سی آئی اے سربراہ،اسرائیل میں سفیر کی نامزدگی کر دی

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ سمیت مشرق وسطیٰ کیلئے ایلچی اور اسرائیل میں اپنے سفیر کے کیلئے نامزدگیاں کردی ہیں

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی انتخابی مہم کے ڈونر اور رئیل اسٹیٹ ٹائیکون اسٹیووٹکوف کو مشرق وسطیٰ کیلئے خصوصی ایلچی نامزد کیا گیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسٹیو وٹکوف امن کیلئے ایک ان تھک آواز ہوں گے اور ہم سب کیلئے فخر کا باعث بنیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کیلئے ایلچی نامزد ہونے والے 67 سالہ اسٹیووٹکوف کو اس سے قبل باضابطہ سفارت کاری یا خارجہ پالیسی کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مغربی کنارے کے وجود سے انکاری اور حماس سے جنگ بندی کے مخالف اسرائیل نواز سابق گورنر مائیک ہکابی جان کو اسرائیل کیلئے امریکی سفیرنامزد کیا گیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مائیک ہکابی بہترین پبلک سرونٹ اور گورنر رہ چکے ہیں، وہ اسرائیل سے محبت کرتے ہیں اور اسرائیل کے لوگ انہیں چاہتے ہیں،مائیک ہکابی کی بیٹی سارہ ہکابی سینڈرز اس وقت امریکی ریاست ارکنساس کی گورنر ہیں، وہ 2017 سے 2019 تک ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری بھی رہ چکی ہیں۔

    ٹرمپ کی جانب سے سابق ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس جان ریٹکلیف کو امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ڈائریکٹر نامزد کیا گیا ہے،ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2020 سے 2021 کے دوران جان ریٹکلیف کو نیشنل انٹیلی جنس کا ڈائریکٹر مقرر کیے جانے کے بعد ان پر تنقید کی جا رہی تھی کہ صدر ٹرمپ انٹیلی جنس ایجنسی کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کر رہے ہیں،ڈونلڈ کی نئی انتظامیہ میں جیوئش امریکن لی زیلڈین انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے سربراہ ہوں گے، زیلڈین نے بائیڈن کے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق قانون کی مخالفت میں ووٹ ڈالا تھا۔

    واضح رہے کہ 5 نومبر 2024 کو امریکا میں ہونے والے عام انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس کو شکست دیکر دوسری مرتبہ امریکا کے صدر منتخب ہوگئے تھے،ٹرمپ 20 جنوری کو امریکا کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے

    ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت پہلی سے بالکل مختلف

    ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

  • پاکستان میں امریکا سے روئی کی درآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    پاکستان میں امریکا سے روئی کی درآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    چیئرمین کاٹن جنرز فورم، احسان الحق نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکا سے روئی کی درآمدات میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، گزشتہ ہفتے امریکا سے 72 ہزار بیلز کی درآمدی معاہدے ہوئے ہیں، اور اس سال پاکستان امریکی روئی کا دنیا میں سب سے بڑا خریدار بن گیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس سال پاکستان نے 30 لاکھ بیلز سے زائد روئی کے درآمدی معاہدے مکمل کیے ہیں۔ احسان الحق کے مطابق، پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں کمی اور معیاری روئی کی محدود دستیابی کی وجہ سے درآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم نے یہ بھی بتایا کہ روئی کی قیمت میں 200 روپے کا اضافہ ہوا ہے، اور اب اس کی قیمت 18 ہزار 200 روپے فی من تک پہنچ چکی ہے۔

    پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں کمی اور معیاری روئی کی قلت نے ملک کو غیر معمولی طور پر روئی کی درآمدات بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ امر پاکستان کی معیشت اور زراعت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ امریکا سے روئی کی خریداری کا ریکارڈ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر کپاس کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ساتھ ہی اس کی قیمتوں میں اضافے کا بھی سامنا ہے۔ یہ صورتحال مقامی کاٹن جنرز کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ بڑھتی ہوئی قیمتیں انہیں مزید چیلنجز میں مبتلا کر سکتی ہیں۔

    چیمپئنز ٹرافی،بھارت کا انکار،پاکستان کیا کرے گا؟

    چیمپئینز ٹرافی:ایونٹ کی منسوخی کی اطلاعات پر پی سی بی کا موقف سامنے آ گیا

    چیمپئنزٹرافی: بھارتی ٹیم کے کپتان روہت شرما کا بیان سامنے آگیا

  • ٹرمپ کا میڈیا کے خلاف کارروائی کا عندیہ

    ٹرمپ کا میڈیا کے خلاف کارروائی کا عندیہ

    صدر منتخب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور میں میڈیا کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا

    امریکہ کے نومنتخب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں میڈیا کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو جیل میں ڈالنے، نشریاتی لائسنسز منسوخ کرنے اور میڈیا اداروں کے خلاف متعدد مقدمات درج کرانے کا منصوبہ ظاہر کیا ہے۔ یہ حکمت عملی وہ پہلے بھی استعمال کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

    ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں باقاعدگی سے صحافیوں سے الجھتے ہوئے، میڈیا کو "عوام کا دشمن” قرار دیا اور سرکاری بریفنگز سے صحافیوں کو باہر نکال دیا۔ حالیہ مہینوں میں اپنے انتخابی مہم کے دوران، ٹرمپ نے میڈیا پر حملہ کرنے کے لیے متشدد اور جارحانہ بیانات دیے، اور حال ہی میں ایک عوامی اجتماع میں کہا کہ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اگر صحافیوں کو گولی مار دی جائے۔ ان بیانات نے یہ خوف پیدا کیا ہے کہ ٹرمپ حکومت کے وسائل کو آزاد صحافت کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    یورپ میں آمرانہ قیادت پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دوسرے دور میں، جہاں انہیں اپنے وفاداروں کی حمایت حاصل ہوگی اور نگرانی کے کم تر عوامل ہوں گے، وہ امریکہ میں آزاد صحافت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔بین الاقوامی صحافیوں کے مرکز کی صدر، شارون موشاوی نے کہا کہ ایسے ممالک جہاں آزاد صحافت کو ختم کیا گیا، وہاں یہ عمل ایک ہی اقدام سے نہیں ہوتا۔ "یہ ایک ہی بات نہیں ہے، یہ نہیں ہوتا کہ ‘ہم صحافیوں کو جیل میں ڈالیں گے’۔”

    دنیا کے مختلف حصوں میں آمرانہ حکومتوں جیسے روس، ہنگری، بھارت اور حالیہ دنوں میں پولینڈ نے آزاد میڈیا پر پابندیاں لگائیں اور اختلاف رائے کو دبایا۔ ٹرمپ نے ان ممالک کے رہنماؤں کی اکثر تعریف کی ہے، خاص طور پر ہنگری کے دائیں بازو کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان کی۔شارون موشاوی نے کہا، "یہ ہزاروں چھوٹے حملوں کی موت ہے، یہ متعدد زاویوں سے حملے ہوتے ہیں

    ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت پہلی سے بالکل مختلف

    ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

    روسی صدر کی ٹرمپ کو کال،تعلقات بحال کرنے کو تیار ہیں،پیوٹن

    بھارت میں روپوش حسینہ واجد کی ٹرمپ کو مبارک

    ٹرمپ کی ٹیم کی اگلے ہفتے جوبائیڈن سے ملاقات متوقع

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

  • ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت پہلی سے بالکل مختلف

    ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت پہلی سے بالکل مختلف

    ٹرمپ کی دوسری مدت، پہلی مدت سے بالکل مختلف ہوگی

    ری پبلکن پارٹی اب مکمل طور پر ٹرمپ کی ہو چکی ہے اور اس کے مخالفین کو ہمیشہ کے لیے کنارے لگا دیا گیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ اوول آفس میں داخل ہوں گے۔ انہیں اپنے پہلے دور کے تجربے کے ساتھ ساتھ اس بات کا گہرا غصہ بھی ہے کہ کس طرح انہوں نے محسوس کیا کہ نظام نے ان کے ساتھ نا انصافی کی۔”امریکہ نے ہمیں بے مثال اور طاقتور مینڈیٹ دیا ہے”، ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا۔ انہوں نے اپنی دوسری مدت کے بارے میں اپنی حکمت عملی یوں بیان کی: "میں ایک سادہ نعرے کے تحت حکومت کروں گا،

    ٹرمپ کی دوسری مدت میں صورتحال کیسے مختلف ہو سکتی ہے؟
    وہ شخصیات جو کبھی ٹرمپ کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، اب ان کا ساتھ چھوڑ چکی ہیں۔ ان کی جگہ اب ایسے مشیر اور حکام آئے ہیں جو ٹرمپ کو چیک کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ٹرمپ نے اخلاقی معاہدوں پر دستخط کرنے سے انکار کیا ہے جس کے تحت ان کی مہم بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ منتقلی کے عمل میں تعاون کرتی۔ اس تاخیر کی وجہ ٹرمپ کی وفاقی ایجنسیوں سے گہری عدم اعتماد ہے، خاص طور پر ان ایجنسیوں کے بارے میں جو ان کے اپنے وفاداروں کے تحت نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ٹیم کو قومی سلامتی کے بریفنگز اور منتقلی کے عمل کے لیے درکار فنڈز تک رسائی نہیں مل سکی۔وہ ری پبلکن جو ٹرمپ کے مخالف تھے، اب یا تو ریٹائر ہو چکے ہیں یا انتخاب میں ہار چکے ہیں۔ ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ کانگریس اور کابینہ کی تصدیق کے روایتی عمل کو نظر انداز کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ ٹرمپ نے کئی امیدواروں سے یہ پوچھا ہے کہ کیا وہ ایڈہاک سکریٹری کے طور پر کام کرنے کو تیار ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس سے انہیں مزید لچک ملے گی اگر وہ بعد میں اپنے فیصلے تبدیل کرنا چاہیں۔

    ٹرمپ کے پہلے دور کے بعد سے وفاقی عدالتوں میں اہم تبدیلیاں آئی ہیں، خاص طور پر سپریم کورٹ میں جہاں اب ایک قدامت پسند اکثریت ہے جو وہ فیصلے برقرار رکھ سکتی ہے جو ٹرمپ کے پہلے دور میں عدالت کے ذریعہ رد کر دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ، سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد ٹرمپ کو یہ فائدہ بھی حاصل ہے کہ اب صدور اپنے عہدے کے دوران کیے گئے سرکاری اقدامات میں قانونی تحفظ رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ اپنی موجودہ قانونی مشکلات سے زیادہ تر چھٹکارا حاصل کر لیں گے، یا کم از کم ان میں سے بیشتر مقدمات سے بچ سکیں گے۔

    ٹرمپ کی دوسری مدت یقیناً پہلی سے مختلف ہو گی، اور یہ تبدیلیاں امریکی سیاست میں دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

    ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

    روسی صدر کی ٹرمپ کو کال،تعلقات بحال کرنے کو تیار ہیں،پیوٹن

    بھارت میں روپوش حسینہ واجد کی ٹرمپ کو مبارک

    ٹرمپ کی ٹیم کی اگلے ہفتے جوبائیڈن سے ملاقات متوقع

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

  • ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں پہلی بڑی تقرری کا اعلان کر دیا

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کی منیجر اور ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے والی سوزن وائلز کو وائٹ ہاؤس کا چیف آف اسٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے،رپورٹ کے مطابق، 67 سالہ سوزن وائلز پہلی خاتون ہوں گی جنہیں وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف کا عہدہ حاصل ہوگا۔

    وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف کا عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ یہ صدر کی انتظامیہ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ چیف آف اسٹاف کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کو منظم طریقے سے کام کرنے کے لئے رہنمائی فراہم کرے اور ان کی نگرانی کرے،چیف آف اسٹاف امریکی صدر کی مصروفیات کا شیڈول بھی طے کرتا ہے اور دیگر حکومتی و انتظامی اداروں کے ساتھ رابطے کا کام بھی سرانجام دیتا ہے۔

    امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انتخابی مہم کی مینیجر سوزن وائلز ان کے وائٹ ہاؤس میں چیف آف اسٹاف کے طور پر کام کریں گی جب وہ دفتر سنبھالیں گے۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہوں گی۔ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا، "سوزن وائلز نے میری انتخابی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا، خصوصاً 2016 اور 2020 کی مہمات میں، اور وہ امریکی تاریخ کی سب سے بڑی سیاسی کامیابیوں میں سے ایک کا حصہ رہی ہیں۔ سوزن وائلز مضبوط، ذہین، جدید سوچ رکھنے والی اور ہر جگہ عزت و توقیر کی حامل ہیں۔ سوزن وائلز مزید محنت سے ‘امریکہ کو عظیم بنائیں’ کے مشن کو آگے بڑھائیں گی۔ انہیں پہلی خاتون چیف آف اسٹاف ہونے کا اعزاز ملنا ایک شاندار بات ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ ہماری قوم کو فخر کا باعث بنائیں گی۔”

    سوزن وائلز کے بارے میں:
    سوزن وائلز ، جو کہ مرحوم NFL براڈکاسٹر پیٹ سمرال کی بیٹی ہیں، فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی ایک تجربہ کار سیاسی مشیر ہیں اور ٹرمپ کے قریبی حلقے کی ایک طویل مدتی رکن ہیں۔ انہوں نے 2020 میں فلوریڈا میں ٹرمپ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا اور بعد میں ان کے عہدے کے بعد چیف آف اسٹاف کے طور پر بھی کام کیا۔ سوزن وائلز نے 2024 کی مہم کے دوران ٹرمپ کے انتخابی عمل کو کامیاب بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جسے سیاسی تجزیہ کاروں نے ٹرمپ کی اب تک کی سب سے مربوط اور منظم مہم قرار دیا۔

    انتخابی رات کے دوران ٹرمپ نے اپنے خطاب میں سوزن وائلز کا ذکر کیا، حالانکہ سوزن وائلز نے عوام کے سامنے آ کر خطاب کرنے سے گریز کیا۔ ان کی خاموشی اور پس منظر میں رہنے کی عادت نے انہیں ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کے درمیان مقبول بنا دیا۔

    سی این این نے آج اس بات کی اطلاع دی کہ سوزن وائلز نے چیف آف اسٹاف کا عہدہ قبول کرنے سے پہلے ٹرمپ سے کچھ شرائط رکھی تھیں، جن میں سب سے اہم یہ تھی کہ وہ وائٹ ہاؤس میں صدر تک رسائی کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری سنبھالیں گی۔ ٹرمپ کی پہلی مدت میں، ان کے چیف آف اسٹاف یہ نہیں روک پائے تھے کہ غیر رسمی مشیر، خاندان کے افراد، دوست اور دیگر افراد وائٹ ہاؤس میں آ کر صدر سے ملاقات کریں۔

    امریکی نومنتخب نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو اس فیصلے کو "عظیم خبر” قرار دیتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سوزن وائلز وائٹ ہاؤس میں "ایک قیمتی اثاثہ” ثابت ہوں گی۔

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

  • ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

    امریکی صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی کامیابی: شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آ سکتی ہے

    امریکہ میں 2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد برطانیہ کے شہزادہ ہیری کی خفیہ امیگریشن فائل منظر عام پر آ سکتی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے اب تک اس فائل کی ریلیز کو روکے رکھا تھا، لیکن ٹرمپ کی جیت کے بعد یہ معاملہ دوبارہ سرخیوں میں آ سکتا ہے۔

    شہزادہ ہیری اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران بڑھنے لگے تھے، جب میگھن مارکل نے ٹرمپ کو عورت دشمن قرار دیا تھا اور جواب میں ٹرمپ نے میگھن کو "گھٹیا” قرار دیا تھا۔ اس کے بعد، ٹرمپ نے 2017 میں کہا تھا کہ اگر وہ دوبارہ صدر بنے تو شہزادہ ہیری کو حمایت نہیں دیں گے کیونکہ اس نے ملکہ الزبتھ دوم کے ساتھ بے وفائی کی ہے۔ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر شہزادہ ہیری نے اپنی امیگریشن درخواست میں جھوٹ بولا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    شہزادہ ہیری کی امریکی امیگریشن درخواست پر سوالات اُس وقت اُٹھے جب 2023 میں اُنہوں نے اپنی یادداشت "Spare” میں منشیات کے استعمال کا اعتراف کیا۔ امریکی امیگریشن کے قوانین کے مطابق، منشیات کا استعمال امریکی شہریت حاصل کرنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے، اور اس بارے میں معلومات درخواست میں فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔دائیں بازو کے تھنک ٹینک "ہیریٹج فاؤنڈیشن” کا دعویٰ ہے کہ منشیات کا تفریحی استعمال امریکی شہریت کے لیے نااہلی کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکی محکمہ داخلی سلامتی نے شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائلز کی ریلیز سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد ہیریٹج فاؤنڈیشن نے اس فیصلے کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جو ابھی اپیل میں ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق، شہزادہ ہیری کو بائیڈن انتظامیہ کی مکمل حمایت حاصل ہے، لیکن ٹرمپ کی کامیابی کے ساتھ، یہ ممکن ہے کہ وہ شہزادہ ہیری کی امیگریشن درخواست پر دوبارہ غور کریں یا اس کے ریکارڈز منظر عام پر لے آئیں۔ہیریٹج فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ شہزادہ ہیری کے ریکارڈز کی منظر عام پر آنے سے یہ پیغام جائے گا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔

    شہزادہ ہیری کے امیگریشن کیس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جس میں نہ صرف برطانوی شاہی خاندان کی نجی زندگی شامل ہے بلکہ امریکی امیگریشن پالیسی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے سخت امیگریشن قوانین کا حامی ہونا اور ہیری کی ممکنہ امیگریشن فائلز کا منظر عام پر آنا ایک بڑی سیاسی اور قانونی تبدیلی کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس معاملے پر بائیڈن انتظامیہ کا موقف ایک طرف جبکہ ٹرمپ کے امیگریشن قوانین پر سخت موقف کا فیصلہ ایک اہم موڑ ہوگا، جس سے بین الاقوامی سطح پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

  • نائن الیون حملوں کے مبینہ ملزم خالد شیخ کا مفاہمتی معاہدہ بحال

    نائن الیون حملوں کے مبینہ ملزم خالد شیخ کا مفاہمتی معاہدہ بحال

    امریکی ملٹری جج نے نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر افراد کے پلی بارگین ایگریمنٹس بحال کر دیے

    واشنگٹن: امریکا کے ایک ملٹری جج نے نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر دو ملزمان کے ساتھ طے شدہ پلی بارگین ایگریمنٹس (مفاہمتی معاہدے) کو بحال کرنے کا حکم دیا ہے، جو کہ تین ماہ قبل امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے ختم کر دیے تھے۔ ان معاہدوں کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ سزائے موت کی سزا کو ختم کرنے کی راہ ہموار کرتے ہیں،

    گوانتاانامو بے میں ایک فوجی جج نے فیصلہ دیا کہ 9/11 حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور اس کے دو ساتھیوں کے لیے درخواستوں کے معاہدے قانونی اور درست ہیں، جس کے نتیجے میں ان افراد کو ممکنہ طور پر سزائے موت سے بچنے کا موقع مل سکتا ہے، بشرطیکہ وہ عمر قید کی سزا قبول کریں۔ایئر فورس کے کرنل میتھیو مک کال نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امریکی وزیر دفاع لوئڈ آسٹن کے پاس ان معاہدوں کو منسوخ کرنے کا اختیار نہیں تھا، جیسا کہ 2 اگست کو پینٹاگون کی جانب سے ان معاہدوں کے اندراج کے بعد آسٹن نے انہیں کالعدم کر دیا تھا۔خالد شیخ محمد اور اس کے دو اہم ساتھی، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الہوسوی نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی تھی کہ وہ 2,976 افراد کے قتل اور دیگر الزامات میں قصوروار قرار پائیں گے، اس کے بدلے میں ان کے خلاف سزائے موت کی سزا ختم کر دی جائے گی۔ یہ معاہدے ان افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کی ایک اہم پیش رفت تھی، تاہم انہیں متنازعہ قرار دیا گیا۔ معاہدوں کے اعلان کے فوراً بعد آسبن نے انہیں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    آسٹن نے اس فیصلے کے بارے میں ایک یادداشت میں کہا تھا کہ "میرے لیے یہ فیصلہ کرنا ضروری تھا کہ ملزمان کے ساتھ مقدمے سے پہلے کی کارروائیوں میں میں خود کو ذمہ دار سمجھوں”۔ تاہم، جج مک کال نے بدھ کے روز کہا کہ آسٹن کا یہ فیصلہ دیر سے آیا تھا اور انہوں نے اس بنیاد پر کہ آسٹن کو اس کیس پر اتنی وسیع اختیار حاصل نہیں تھا، ان معاہدوں کو برقرار رکھا۔9/11 کے متاثرین کے خاندانوں میں ان معاہدوں پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض خاندانوں نے ان معاہدوں کی حمایت کی ہے، جب کہ کچھ اس بات پر مصر ہیں کہ مقدمہ ٹرائل کی صورت میں چلے اور ان افراد کو سزائے موت دی جائے۔امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے متاثرین کے خاندانوں کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ان معاہدوں سے انہیں اگلے سال کی سزا کی سماعت میں اپنے پیاروں کے ساتھ ہونے والے حملے کے اثرات پر بات کرنے کا موقع ملے گا، اور وہ القاعدہ کے حملے میں ان کے کردار اور محرکات کے بارے میں سوالات بھی پوچھ سکیں گے۔

    اس فیصلے سے یہ واضح ہوا کہ اب نائن الیون حملوں میں ملوث تینوں ملزمان خالد شیخ محمد، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوزی کے خلاف مقدمات کا کوئی منطقی نتیجہ نکلنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے ان کیسز کو کئی سالوں تک التوا میں رکھا گیا تھا اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کی سماعت کو آگے نہیں بڑھایا جا رہا تھا۔

    امریکی عہدیداروں نے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے کہ ملٹری جج نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ تینوں ملزمان کے مقدمات کے لیے جو ایگریمنٹس کیے گئے تھے وہ بالکل درست اور قابلِ نفاذ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ان ملزمان کے مقدمات کسی منطقی انجام کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ استغاثہ کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ ایسا کریں گے یا نہیں۔امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان میجر جنرل پیٹ رائیڈر نے اس فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ "ہم اس فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور فی الحال اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔”

    نائن الیون حملوں کے تین ملزمان خالد شیخ محمد، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوزی اس وقت گوانتا نامو بے جیل میں قید ہیں، جہاں انہیں طویل عرصے سے قید رکھا گیا ہے۔ ان ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2001 میں ہونے والے نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی، جس کے نتیجے میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔طویل عرصے سے جاری قانونی کارروائیوں اور تشویشات کے باوجود، ملٹری جج کا حالیہ فیصلہ ان مقدمات کو ایک نئے موڑ پر لے آیا ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا استغاثہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا یا نہیں۔

  • امریکی  انتخابات:مشی گن اور پنسلوینیا میں دو امریکن پاکستانی خواتین  کو شکست کا سامنا

    امریکی انتخابات:مشی گن اور پنسلوینیا میں دو امریکن پاکستانی خواتین کو شکست کا سامنا

    واشنگٹن: امریکی عام انتخابات میں مشی گن اور پنسلوینیا سے الیکشن لڑنے والی دونوں امریکن پاکستانی خواتین کو شکست کا سامنا کرنا پڑا-

    باغی ٹی وی : پاکستانی نژاد امریکی عائشہ فاروقی نے ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا اور مشی گن ایوان نمائندگان کے لیے ان کا حلقہ 57 تھا جب کہ ان کا مقابلہ ری پبلکن امیدوار تھامس کہن سے تھا جو اس حلقے کے منتخب رکن اسمبلی ہیں، انتخابات میں عائشہ فاروقی کو 20 ہزار 2 ووٹ ملے اور ان کے حریف تھامس کہن 26 ہزار 749 ووٹ لے کر فاتح قرار پائے۔

    پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے اگست میں ہونے والی پرائمری میں عائشہ فاروقی کو 4537 ووٹ ملے تھے جب کہ ان کے حریف ٹیلر فاکس 14 سو89 ووٹ لے پائے تھے۔

    عائشہ فاروقی فارمنگٹن ہائی اسکول اور یونیورسٹی آف مشی گن سے تعلیم یافتہ ہیں، وہ بطور اٹارنی اور فلم میکر بھی کام کر چکی ہیں جب کہ عائشہ مک کومب کاؤنٹی بلیک کاکس اور مسلم یہودی ایڈوائزری کاؤنسل کی رکن بھی ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی وفاق کی ترجیحات میں شامل ہے، عطاءاللہ …

    دوسری جانب مریم صبیح نے پنسلوینیا میں ایوان نمائندگان کے حلقہ 131 سے الیکشن لڑا اور ان کا مقابلہ میلو مک کینزی سے تھا جو اس حلقہ سے ایوان کی رکن ہیں انتخابات میں مک کینزی کو 22 ہزار 140 ووٹ ملے جو 58.3 فیصد ہے جب کہ مریم صبیح 15 ہزار 816 ووٹ لے سکیں۔

    ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے اس حلقے میں انہیں ڈیموکریٹک پارٹی رکن جے سانتوس کا سامنا ہوا تھا، مریم نے 4 ہزار 171 ووٹ لیے تھے جبکہ سانتوس 1593 ووٹ لے پائے تھے۔

    مریم صبیح رٹگرز یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں اور انہوں نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا ہوا ہے جب کہ وہ بطور صحافی بھی کام کرچکی ہیں۔

    آئی جی اسلام آباد سمیت 500 اہلکاروں کیخلاف پختونخوا ہاؤس حملے کی ایف آئی …

  • ووٹنگ میں حصہ کیوں نہیں لیا،خاتون کامنگیتر سے منگنی توڑ نے پر غور

    ووٹنگ میں حصہ کیوں نہیں لیا،خاتون کامنگیتر سے منگنی توڑ نے پر غور

    امریکی خاتون نے 47 ویں صدارتی انتخابات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر دلچسپ سوال پوچھ کر نئی بحث چھیڑ دی۔

    باغی ٹی وی:اس وقت امریکا میں 47 ویں صدارتی انتخابات کے سرکاری نتائج کے بعد ری پبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے 294 نشستوں کے ساتھ اپنی جیت کا اعلان کر دیا ہے،ایسے میں ایک خاتون نے امریکی بحث و مباحثے کی ویب سائٹ ریڈیٹ پر سوال کیا ہے کہ کیا مجھے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے والے اپنے منگیتر سے منگنی توڑ دینی چاہیے؟

    خاتون نے لکھا کہ میں فلوریڈا میں رہتی ہوں، میرے ہونے والے شوہر نے ووٹ دینے سے اس لیے انکار کر دیا کیونکہ وہ کسی بھی امیدوار کو پسند نہیں کرتا تھا، ہم دونوں ہم عمر ہیں، ہم سیاست سے متعلق نظریات پر ہم خیال ہیں لیکن پھر بھی اس (منگیتر) کا یہ اقدام مجھے مستقبل کے حوالے سے خوفزدہ کر رہا ہے کہ مستقبل میں ہمارے حقوق محدود ہو سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کے عہدہ سنبھالے سے پہلے وائٹ ہاؤس کا یوکرین کو امداد بھیجنے کافیصلہ

    elections
    مذکورہ پوسٹ پر ہزاروں صارفین نے خاتون کے حق میں ووٹ دیئے ہیں جبکہ کئی صارفین کمنٹ سیکشن میں تبصرہ کرتے ہوئے بھی ان کے فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں،بعض صارفین کا کہنا ہے کہ ووٹ دینا یا نہ دینا ایک ذاتی فیصلہ ہے اس سے تعلقات متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

  • ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت صرف ریئلٹی ٹی وی اسٹار اور رنگین مزاج ارب پتی کے طور پر ہی نہیں، بلکہ ایک پلے بوائے کے طور پر بھی رہی ہے۔ ٹرمپ نے تین شادیاں کیں اور ان پر 26 خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات کا الزام بھی عائد ہو چکا ہے

    ٹرمپ کی دوسری بیوی نے ان کے افیئرز کے باعث طلاق لی، جبکہ تیسری بیوی کی موجودگی میں ٹرمپ کا تعلق ایک پورن اسٹار سے رہا،ڈونلڈ ٹرمپ کے پانچ بچے ہیں، جن میں پہلی بیوی سے تین، دوسری اور تیسری بیوی سے ایک ایک بچہ ہے، وہ حسین ماڈلز کے ساتھ گھومتے رہے اور شاندار عملے کی خدمات حاصل کرتے رہے، جن میں ایک سابقہ ملکہ حسن بھی ان کی سیکرٹری رہی،78 سالہ ٹرمپ 1996 سے 2016 تک مس یونیورس نامی مقابلہ حسن کی تنظیم کے مالک رہے، ان پر 1970 سے اب تک کم از کم 26 خواتین نے جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا گیا ہے، نومنتخب صدر ٹرمپ نے تین شادیاں کی ہیں،ٹرمپ کی پہلی شادی 1977 میں چیک ماڈل اور ایتھلیٹ ایوانا زیلنیکووا سے ہوئی، جن سے تین بچے ڈونلڈ جونیئر، ایوانکا اور ایرک ہیں۔ 1990 میں اس شادی کا اختتام ایک بہت مہنگی طلاق پر ہوا کیونکہ ایوانا کو ٹرمپ کے رومانوی تعلقات کا علم ہو گیا تھا،1993 میں ٹرمپ نے اداکارہ مارلا میپلز سے شادی کی، جن سے ایک بیٹی ٹفنی ہے، اور یہ شادی 1999 میں طلاق پر ختم ہوئی،ٹرمپ نے 2005 میں سلووینیا سے تعلق رکھنے والی اپنی موجودہ بیوی میلانیا ناس سے شادی کی، اور ان کا ایک بیٹا بیرن ولیم ٹرمپ ہے۔

    ٹرمپ پر جنسی نوعیت کے الزامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، دو مختلف عدالتوں میں جیوری نے فیصلہ سنایا کہ ٹرمپ مصنفہ ای جین کیرول کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات کی تردید کر کے ہتک عزت کے مرتکب ہوئے ہیں، اور انہیں مجموعی طور پر 88 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا، جس کے خلاف وہ اپیل کر چکے ہیں،ٹرمپ کا ایک اور تنازعہ سٹورمی ڈینیئل نامی سابق پورن اداکارہ سے بھی جڑا ہے، جن کا دعویٰ ہے کہ 2006 میں ٹرمپ نے ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا، اور پھر جب ٹرمپ صدارتی امیدوار بنے تو اپنے وکیل مائیکل کوہن کے ذریعے ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر اس شرط پر ادا کیے کہ وہ اس تعلق کو ظاہر نہیں کریں گی۔ اس ادائیگی کو چھپانے کے الزام میں ٹرمپ کو مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔

    دوسری جانب بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق، جون 2024 تک ڈونلڈ ٹرمپ کی دولت 21 کھرب 40 ارب پاکستانی روپے (7 ارب 70 کروڑ امریکی ڈالر) تک پہنچ چکی ہے، جس کے بعد وہ امریکہ کی تاریخ کے امیرترین صدر بن گئے ہیں،اس سے پہلے، جان ایف کینیڈی 1 ارب 30 کروڑ ڈالر کی دولت کے ساتھ سب سے امیر صدر سمجھے جاتے تھے،ٹرمپ کی دولت میں گولف کورسز، عالیشان رہائشی جائیدادیں، شراب خانے اور 1991 کا بوئنگ 757 طیارہ شامل ہیں جسے "ٹرمپ فورس ون” کہا جاتا ہے۔ وہ امریکی تاریخ کے واحد صدر ہیں جنہیں کانگریس نے دو بار مواخذے کا سامنا کیا،گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کو تاریخ کا بدترین امریکی صدر قرار دیا گیا ہے۔ وہ امریکی تاریخ کے سب سے بوڑھے صدر بھی ہیں، جو 20 جنوری 2025 کو 78 سال اور 221 دن کی عمر میں حلف اٹھائیں گے، ان سے پہلے، موجودہ صدر جوبائیڈن نے 78 سال اور 61 دن کی عمر میں حلف اٹھایا تھا۔

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد