Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ایران نے اسرائیل اورامریکا پر  400میزائل داغ دیئے، تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ

    ایران نے اسرائیل اورامریکا پر 400میزائل داغ دیئے، تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ

    ایران کے اسرائیل اورامریکا پر وارجاری، صرف 40 منٹ کے دوران 400 میزائل داغ دیے،کویت، اردن، بحرین میں بھی امریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنایا گیا-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اسرائیل پر حملوں کی ایک اور بڑی لہر میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں اور کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی شہر میں خطرے کے سائرن طویل وقت تک بجتے رہے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    اسرائیلی ذرائع کے مطابق بنی براک کے علاقے میں حملوں کے نتیجے میں کم از کم 12افراد زخمی ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران زخمیوں کی تعداد 2 سو تک پہنچ گئی ہے ایران نے حدیرہ میں واقع ایک بڑے پاور پلانٹ کو بھی میزائل حملے میں نشانہ بنایا، جس کے باعث وہاں آگ بھڑک اٹھی، یہ ایک ہی دن میں ہونے والا پانچواں بڑا حملہ تھاایران نے 40 منٹ کے دوران سینکڑوں میزائل داغے۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، اور کویت، اردن اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے گئے ہیں تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    عرب ممالک کی جانب سے دفاعی کارروائیوں کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ایران سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ سعودی عرب نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے بیلسٹک میزائل کو ناکام بنانے کا اعلان کیا، عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ 20 سے زائد ڈرونز کو مار گرایا گیا۔

    اُدھر لبنان سے حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جس کے نتیجے میں شمالی شہر کرمیل میں دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ مقامی اسپتالوں میں متعدد زخمیوں کو منتقل کیا گیا،لبنانی فوج کے مطابق ایرانی میزائلوں کے کچھ حصے لبنانی علاقے میں گرے ہیں، لبنان ان حملوں کا ہدف نہیں تھا میزائلوں کو راستے میں روکنے کی کوشش کی گئی جس کے بعد ان کا ملبہ مختلف علاقوں میں گرا۔

  • امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی، 2000 پیراٹروپرز روانہ

    امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی، 2000 پیراٹروپرز روانہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکا نے اپنے فوجی دستوں میں مزید اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق تقریباً 2 ہزار امریکی فوجی، جو 82ویں ایئربورن ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں، خطے کی جانب روانہ کیے جا رہے ہیں تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مزید فوجی آپشنز فراہم کیے جا سکیں یہ فوجی ایک خاص یونٹ “’امیڈیٹ ریسپانس فورس‘ کا حصہ ہیں، جو دنیا کے کسی بھی حصے میں 18 گھنٹوں کے اندر تعینات ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اس دستے میں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل برینڈن ٹیگٹمیئر سمیت سینئر افسران اور تقریباً دو بٹالین شا مل ہیں، جن میں ہر ایک میں لگ بھگ آٹھ سو اہلکار موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید فوجی بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق پہلے ہی تقریباً 4500امریکی میرینز خطے کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، جس کے بعد حالیہ تعیناتی کے ساتھ کل اضافی فوجیوں کی تعداد تقریباً 7000تک پہنچ گئی ہے مجموعی طور پر اس وقت مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ 50 ہزار فوجی ’ایپک فیوری‘ نامی آپریشن کا حصہ ہیں ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان نئے فوجیوں کو مشرقِ وسطیٰ کے کس مقام پر تعینات کیا جائے گا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے مقامات پر رکھا جائے گا جہاں سے ایران تک فوری رسائی ممکن ہو۔

    ماہرین کے مطابق ان فوجیوں کو ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز ’خارگ جزیرے‘ پر ممکنہ کارروائی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں امریکی فضائی حملے بھی کیے گئے تھے اسی دوران مزید امریکی میرینز بھی خطے میں پہنچنے والے ہیں، جنہیں آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کو محفوظ بنا نے یا دیگر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیراٹروپرز تیزی سے تعینات ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس بھاری اسلحہ اور بکتر بند گاڑیاں کم ہوتی ہیں، اس لیے ممکنہ طور پر انہیں دیگر فوجی یونٹس کے ساتھ مل کر استعمال کیا جائے گا۔

  • ایران امریکا جنگ: پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،خالد مقبول صدیقی

    ایران امریکا جنگ: پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،خالد مقبول صدیقی

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات اب پاکستان تک پہنچ چکے ہیں، اور موجودہ صورتحال میں پوری قوم کو متحد اور ذہنی طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ ہمارے دروازے تک پہنچ چکی ہے اور اس کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا مکمل اندازہ ابھی نہیں لگایا جا سکتا،پاک فوج اور حکومت نے اس صورتحال میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ایم کیو ایم حکومت کی تمام کاوشوں کے ساتھ کھڑی ہےپاک فوج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پوری قوم اس کے شانہ بشانہ ہے۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں اتحاد کا مظاہرہ کریں اور ذہنی طور پر ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہیں پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات، حتیٰ کہ لاک ڈاؤن جیسے آپشن پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی بہتری کے لیے آئینی و انتظامی اصلاحات ضروری ہیں۔

    انہوں نے 28ویں آئینی ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے فوری طور پر لایا جائے اور اس کے ذریعے عوام کو بااختیار بنانے کے اقدامات کیے جا ئیں، ایم کیو ایم نے حکومت کی حمایت کے لیے کوئی مطالبہ نہیں کیاسیاسی جماعتیں عوام کو اختیارات دینے کے لیے تیار ہیں، اور وہ خود بھی چاہتے ہیں کہ اپنے حصے کا اختیار عوام کو منتقل کیا جائے،ملک میں بلدیاتی نظام کا نفاذ ضروری ہے اور صرف آئین کے آرٹیکل 140-اے پر عملدرآمد ہونا چاہیے تاکہ کراچی سمیت تمام شہروں کو ان کا حق مل سکے۔

  • صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا الزام وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر  عائد کر دیا

    صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا الزام وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر عائد کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے ان کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ کا آپشن اپنانے پر اکسایا۔

    ریاست ٹینیسی کے شہر ممفیس میں عوامی تحفظ کے حوالے سے منعقدہ ایک گول میز کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ پیٹ ہیگسیتھ ان ابتدائی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن اختیار کرنے کی حمایت کی، تاکہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران ایک بڑا مسئلہ ہے، جو ان کے بقول کئی دہائیوں سے دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اور اب ایٹمی صلاحیت کے قریب پہنچ چکا ہے، وزیر دفاع نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    امریکی حکام کے مطابق 28 فروری 2026 کو امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کیا امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعداد و شمار کے مطابق اس دوران ایران میں 9 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 140 سے زیادہ بحری جہاز تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے ان کارروائیوں میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

  • ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے،مذاکرات کی بات پر ایران کا جوابی وار

    ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے،مذاکرات کی بات پر ایران کا جوابی وار

    ایرانی فوج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہونے کا دعویٰ مسترد کردیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے ٹرمپ ایک طرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب زمینی حقا ئق مختلف ہیں طنزیہ انداز میں کہا کہ ”کیا آپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں؟ امریکا جس اسٹریٹجک طاقت کا دعویٰ کرتا تھا، وہ اب اسٹریٹجک ناکامی میں بدل چکی ہے، اور ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے۔

    اس سے قبل بھی ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ویڈیو پیغام میں ٹرمپ کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہائے ٹرمپ، آپ کو برطرف کیا جاتا ہے، آپ اس جملے سے واقف ہیں“، جو ٹرمپ کے مشہور جملے کی طرف اشارہ تھا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضا مند ہے، ایران میں نئی قیادت معاہدہ کرنے جا رہی ہے، ایران اس بار سمجھداری سے بات کر رہا ہے، اس نے ہمیں تیل اور گیس سے متعلق بہت بڑا تحفہ دیا۔

  • ایرانی  پاسدارانِ انقلاب  کااسرائیل اور امریکی اڈوں کیخلاف حملوں کی 80 ویں لہر شروع کرنے کا اعلان

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کااسرائیل اور امریکی اڈوں کیخلاف حملوں کی 80 ویں لہر شروع کرنے کا اعلان

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف حملوں کی 80 ویں لہر شروع کر دی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے ایرانی خبر ایجنسی فارس کے ذریعے جاری کئے گئے اعلان کے مطابق اس نئی کارروائی میں اسرائیل کے شمالی شہر صفد میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ تل ابیب، کریات شمونہ اور بنی براک میں بھی مختلف اہداف پر میزائل حملے کیے گئے، ایران نے خطے میں موجود امریکی فو جی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا، جن میں کویت، اردن اور بحرین میں واقع تنصیبات شامل ہیں۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے جاری کشیدگی کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسرائیل اور امریکا کی طرف سے بھی جوابی کارروائیاں جاری ہیں، جس کے باعث خطے میں صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

  • بھارتی ساکھ اور خطے میں بھارتی اجارہ داری کا بیانیہ ختم ہوگیا،بھارتی میڈیا

    بھارتی ساکھ اور خطے میں بھارتی اجارہ داری کا بیانیہ ختم ہوگیا،بھارتی میڈیا

    عالمی سفارت کاری میں پاکستان کی کامیابی نے بھارت کو تنہا کردیا اور مودی سرکار کی پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی برباد ہوگئی۔

    بھارتی خبر رساں ادارے نے ہی مودی سرکار کو آئینہ دکھادیا اورکہا کہ بھارتی ساکھ اور خطے میں بھارتی اجارہ داری کا بیانیہ ختم ہوگیا ہے اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا نریندر مودی نے بھارتی خارجہ پالیسی کا مذاق بنادیا، وہ صرف امریکا اور اسرائیل کے کہنے پر چلیں گے کانگریس کے رہنما پون کھیڑا نے طنز کیا کہ بی جے پی ایک فرضی دھورندر پر بغلیں بجارہی ہے جب کہ پاکستان ایک اہم عالمی موڑ پر سفارتی میز پر اپنی جگہ بنارہا ہے۔

    دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جیمز ڈیود وینس (جے ڈی وینس) ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں، امریکی نائب صدر پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کی قیادت کریں گے اور ان کے ہمراہ امور برائے مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیف وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد اور ان کے خصوصی مشیر جیرڈ کُشنر بھی موجود ہوں گے، جو اس سے قبل بھی ایران کے ساتھ ابتدائی بات چیت میں شامل رہ چکے ہیں۔

  • پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات، امریکی نائب صدر اور ٹرمپ کے داماد سمیت وفد اسلام آباد روانہ

    پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات، امریکی نائب صدر اور ٹرمپ کے داماد سمیت وفد اسلام آباد روانہ

    امریکا کے نائب صدر جیمز ڈیود وینس (جے ڈی وینس) ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کی قیادت کریں گے اور ان کے ہمراہ امور برائے مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیف وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد اور ان کے خصوصی مشیر جیرڈ کُشنر بھی موجود ہوں گے، جو اس سے قبل بھی ایران کے ساتھ ابتدائی بات چیت میں شامل رہ چکے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس کو ان مذاکرات کے لیے مکمل اختیارات دے دیے ہیں، جس سے اس عمل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران میں ”درست لوگوں“ سے بات کر رہا ہے اور مذاکرات میں پیش رفت کے آثار موجود ہیں مارکو روبیو اور جے ڈی وینس سمیت کئی اہم شخصیات اس عمل کا حصہ ہیں، جبکہ ان کے مطابق ایران کی نئی قیادت معاہدے کی جانب بڑھ رہی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت میں ایک بڑی رکاوٹ وہاں کے مواصلاتی نظام کی خرابی ہے، جس کے باعث رابطہ مشکل ہو گیا ہےامریکا ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے روکنے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ انہوں نے ایران کی موجودہ صورتحال کو ایک بڑی تبدیلی قرار دیا ہے۔

    ادھر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے اجلاس میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے حل کے لیے پاکستان کی میزبانی میں ممکنہ مذاکرات پر غور کیا گیا۔

    بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کی رضامندی سے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے جاری تنازع کے جامع حل کے لیے سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے اور پاکستان اس عمل میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرے گا۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سفارتی سطح پر رابطے تیز کر دیے ہیں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کی اور مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش سے آگاہ کیا، جس پر ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد جواب دینے کی یقین دہانی کرائی، اس کے علاوہ اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات اور مصر کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دینا ضرو ر ی ہے۔

    دوسری جانب ایران اور چین کے درمیان بھی رابطے جاری ہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ بات چیت ہمیشہ جنگ سے بہتر ہوتی ہے اور تمام فریقین کو امن کے ہر ممکن موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے،جس پر عباس عراقچی نے کہا کہ ایران عارضی نہیں بلکہ ایک جامع اور مستقل جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے۔

  • ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادہ،امریکی میڈیا

    ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادہ،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادہ ہو گیا ہے-

    امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنانے کے لیے تمام ضروری ضمانتیں دینے پر تیار ہے، تاہم وہ جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے اپنے حق کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

    رپورٹس میں ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان رابطے ہوئے ہیں، تاہم یہ رابطے ابھی باضابطہ مذاکرا ت کی سطح تک نہیں پہنچے، ذرائع کے مطابق ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور پائیدار تجاویز سننے پر آمادہ ہے۔

    ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر غور تجاویز صرف جنگ بندی تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے مکمل خاتمے کے لیے ایک جامع معاہدے پر بھی غور کیا جا رہا ہے اس سلسلے میں مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ بھی جاری ہے،ایرانی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کو بنیادی شرط کے طور پر شامل ہونا چاہیے-

    رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکا سے براہ راست ملاقات یا بات چیت کی کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی، تاہم وہ ایسے ممکنہ معاہدے پر غور کر سکتا ہے جس میں اس کے قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

  • ٹرمپ ایران سے مذاکرات عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے: سابق امریکی عہدیدار

    ٹرمپ ایران سے مذاکرات عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے: سابق امریکی عہدیدار

    امریکا کے سابق نائب معاون وزیر خارجہ جوئل روبن نے کہا ہے کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو۔

    جوئل روبن نے منگل کو امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں ہوگی اگر امریکا ایرانی حکام سے رابطے میں ہو ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات بحال ہونے کا دعویٰ ممکنہ طور پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو، صدر ٹرمپ اس بات سے آگاہ ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے وہ اس صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔

    سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے سابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی مشیر جیسمین ایل جمال نے کہا ہے کہ ایران کو اس وقت امریکا پر زیادہ برتری حاصل ہو چکی ہے کیونکہ وہ پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہےایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے باعث وہ کسی بھی نئے مذاکرات میں زیادہ مضبوط حیثیت کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، ایرا ن ممکنہ طور پر مذاکرات میں سیکیورٹی ضمانتوں جیسے مطالبات سامنے رکھ سکتا ہے اور یہ بھی یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اس کا نظام ایران کی سرزمین سے جڑا رہے، ایران کے پاس یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ اگر اسے اشتعال دلایا جائے تو وہ پورے خطے میں افراتفری پھیلا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کے توانائی انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکی دی تھی جس کے فوراً بعد تہران کے ساتھ نئی بات چیت کے آغاز کا دعویٰ کیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے حملوں کو مؤخر کرنے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔