Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا، ایران امن معاہدے کا مجوزہ مسودہ منظر عام پر آگیا

    امریکا، ایران امن معاہدے کا مجوزہ مسودہ منظر عام پر آگیا

    عرب میڈیا العربیہ نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے مجوزہ معاہدے کے حتمی مسودے کی تفصیلات جاری کر دیں۔

    العریبیہ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع اور اہم آبی گزر گاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز شامل ہے مسودے کے مطابق امریکا ایران پر عائد پابندیاں اور ناکہ بندی ختم کرے گا، جبکہ دونوں ممالک جنگ بندی کی 60 روزہ توسیع کے دوران ایران کے افزودہ یورینیئم سے متعلق مذاکرات کریں گے۔

    مسودے میں تمام فریقوں کو فوری طور پر جارحانہ فوجی کارروائیاں روکنے کا پابند بنانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ معاہدے پر عمل درآمد کے دوران کسی بھی قسم کے فوجی حملے سے گریز کیا جائے گا،جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں تنازع کو ثالثی اور رابطہ کاری کے ایک متفقہ نظام کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

    رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان امن تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں-

    دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک خصوصی مونتاج ویڈیو نشر کی ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق بار بار کیے گئے دعوؤں کو یکجا کیا گیا۔

    سی این این کے معروف میزبان اینڈرسن کوپر نے پروگرام کے دوران کہا کہ ٹرمپ ایک بار پھر ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں، تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انہوں نے ایسی بات کی ہو،ٹرمپ اب تک کم از کم 39 مرتبہ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ یا مفاہمت ہونے والی ہے یا اس کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

    سی این این کی جانب سے نشر کیے گئے ویڈیو مونتاج میں مختلف اوقات میں ٹرمپ کے وہ بیانات شامل کیے گئے جن میں انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات، امن معاہدے اور سفارتی پیش رفت کے بارے میں امید ظاہر کی تھی، حالیہ دنوں میں بھی ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک مضبوط اور موثر معاہدہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور جلد پیشرفت متوقع ہے۔

    تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے متعدد دعوے کیے گئے تھے لیکن ان میں سے کئی عملی نتائج تک نہیں پہنچ سکے دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں میں پیش رفت کے امکانات موجود ہیں اور مذاکرات کا عمل جاری ہے۔

    سی این این کی رپورٹ اور اینڈرسن کوپر کے تبصرے نے امریکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا ایران کے حوالے سے ٹرمپ کے تازہ دعوے اس بار حقیقت کا روپ دھار سکیں گے یا نہیں۔

  • امریکا کا آبنائے ہرمز میں 2 ایرانی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    امریکا کا آبنائے ہرمز میں 2 ایرانی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز کے قریب دو ایرانی حملہ آور ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ ڈرونز ممکنہ طور پر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھےعہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واقعے کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر نئے فوجی حملوں کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور آئندہ چند روز میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب ایران نےکہا ہے کہ تاحال کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق معاہدے کا بیشتر متن تیار ہو چکا تھا، لیکن امریکا کی جانب سے نئی شرائط سامنے آنے کے بعد معاملات پیچیدہ ہو گئے ایران نے ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا، جبکہ ایرانی خبر رساں ادارے نے نشاندہی کی ہے کہ صدر ٹرمپ گزشتہ دو ماہ میں متعدد بار ایسے دعوے کر چکے ہیں۔

  • صحافی اغوا کیس: امریکی عدالت نے سابق طالبان کمانڈر کو 42 سال قید کی سزا سنادی

    صحافی اغوا کیس: امریکی عدالت نے سابق طالبان کمانڈر کو 42 سال قید کی سزا سنادی

    واشنگٹن، سابق افغان طالبان کمانڈر حاجی نجیب اللہ کو 42 سال قید کی سزا سنا دی گئی-

    امریکی وفاقی پروسیکیوٹرز نے منگل 9 جون کو اعلان کیا کہ نجیب اللہ نے 2008 میں امریکی صحافی ڈیوڈ روہڈ، ان کے افغان مترجم اور ڈرائیور کے اغوا میں براہِ راست کردار ادا کیا تھا طالبان کمانڈر حاجی نجیب اللہ کو امریکی صحافی اور شہریوں کو یرغمال بنانے پر سزا ہوئی، نجیب اللہ پر افغانستان اور پاکستان میں امریکی فوجیوں اور شہریوں پر حملوں کا جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی، حاجی نجیب اللہ 2008 اور 2009 میں امریکی صحافی اور 2 افغان شہریوں کے اغوا میں ملوث تھا مجرم نجیب اللہ نے گذشتہ سال عدالت کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا-

    عدالتی دستاویزات کے مطابق، تینوں افراد کو افغانستان اور پاکستان میں واقع مختلف ٹھکانوں میں 7 ماہ سے زائد عرصے تک قید رکھا گیا،اغوا کاروں نے رہائی کے بدلے تاوان اور متعدد طالبان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا،پروسیکیوٹرز کے مطابق دورانِ قید مغویوں کو ’زندہ ہونے کے ثبوت‘ کے طور پر ویڈیوز ریکارڈ کرنے پر مجبور کیا گیا، جن میں طالبان جنگجو انہیں ہتھیاروں کے ساتھ دھمکاتے رہے۔

    امریکی قائم مقام اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گاامریکی محکمہ انصاف کے مطابق نجیب اللہ افغانستان کے صوبہ وردک میں طالبان کا کمانڈر تھا اور خودکش حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا،ق وہ امریکی افواج پر حملوں میں بھی ملوث تھا-

  • اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو،ایران کا امریکا کو انتباہ

    اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو،ایران کا امریکا کو انتباہ

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری بیان میں امریکا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ میدان جنگ میں شکست کے باوجود امریکا ہمارے عزم کو آزما رہا ہے، اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو، ہماری طاقتور افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا جواب دیے بغیر نہیں رہیں گی کیونکہ خلیج فارس کی تاریخ مداخلت کے عبرتناک انجام سے بھری پڑی ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے خطے میں موجود تمام بیرونی طاقتوں کو نکل جانے کا مشورہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ایران کے قریب موجود غیرملکی افواج مسلسل خطرے میں ہیں اور خطرات کو کم کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ غیرملکی افواج یہاں سے نکل جائیں کیونکہ آبنائے ہرمز کوئی بین الاقوامی علاقہ نہیں بلکہ یہ ایران اور عمان کا مشترکہ علاقہ ہے۔

  • امریکا کی ایران پر بمباری، جواباً امریکی بحری بیڑے پر ایرانی ڈرون حملہ

    امریکا کی ایران پر بمباری، جواباً امریکی بحری بیڑے پر ایرانی ڈرون حملہ

    امریکی افواج نے اپنے جدید ترین اپاچی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران پر رات گئے شدید فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں جس کے جواب میں ایران نے بھی بحرین میں امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایرانی وقت کے مطابق رات ساڑھے بارہ بجے کی جانے والی اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے ایک باقاعدہ بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف یہ دفاعی حملے امریکی صدر کی ہدایت پر اپنے دفاع میں کیے۔

    سینٹرل کمانڈ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا یہ مشن ایران کے خلاف بلااشتعال متناسب ردعمل ہے اور اب یہ فضائی حملے مکمل کر لیے گئے ہیں، ان حملوں میں خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا ہے امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کے مختلف حصوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    ایرانی اور روسی میڈیا کے مطابق ایرانی صوبے ہرمزگان کے مشرقی علاقوں، ساحلی شہر سیریک، بندر عباس اور ایرانی جزیرے قشم سمیت آبنائے ہرمز کے ارد گرد چھ دھماکے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملوں سے سیریک میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو نقصان پہنچا ہے اور دو واٹر ٹینک بھی تباہ ہوئے ہیں، تاہم اب جنوبی ایران میں صورتحال اطمینان بخش ہے۔

    دوسری جانب ایران نے بھی ان امریکی حملوں کا فوری اور سخت جواب دیا ہے ایرانی فوجی کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی جنوبی ایران میں امریکی جارحیت کے جواب میں کی گئی ہے اور ہم نے خطے میں بعض امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    اس جوابی کارروائی کے تحت ایران نے بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ یعنی پانچویں بحری بیڑے پر ڈرون حملہ کیا ہے، جبکہ عرب اور روسی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایران نے جم کے علاقے میں امریکا کا ایک انتہائی مہنگا اور جدید ایم کیو نائن ڈرون بھی تباہ کر دیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے واشنگٹن کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی جارحیت برقرار رہی تو اس کا اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا، اس سنگین فوجی ٹکراؤ کے بعد دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں لیکن حیران کن طور پر سفارتی دروازے اب بھی کھلے دکھائی دے رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جاری اپنے ایک بیان میں صورتحال کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہمارا انتہائی جدید اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا اور ہم نے اس کا جواب دیا جو بہت مضبوط اور طاقتور ہے، ایران کو جواب دینا بہت ضروری تھا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ان تازہ حملوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جاری امن ڈیل پر کوئی برا اثر نہیں پڑا ہے وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیل کے معاملے پر ابھی کچھ نہیں بدلا اور ایران سے ڈیل اب بھی قریب ہے۔

    اسی سلسلے میں امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران سے ڈیل اگلے ہفتے ممکن ہے، اور ایسا بھی ہو سکتا ہے اس میں کئی ماہ بھی لگ جائیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ ایران سے معاہدے پر دو سے تین دن میں دستخط ہو سکتے ہیں اس کے برعکس، ایرانی قیادت نے امریکی حملوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

  • ایران کے ساتھ معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے،ٹرمپ

    ایران کے ساتھ معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کی صبح صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کو روکنے پر اتفاق کے بعد بھی امریکا اور ایران کی بات چیت جاری رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک باضابطہ معاہدے کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے امید ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے اور معاملات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا کے ساتھ تعلقات فوری طور پر معمول پر آ جائیں گے، تاہم ان کے مطابق ایران معا ہدے میں دلچسپی رکھتا ہے اور سفارتی حل کی طرف پیش رفت ممکن ہے اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایک باضابطہ اور دستخط شدہ دستاویز موجود ہوگی جو ان کے بقول فوجی کارروائی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوگی۔

    امریکی صدر نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر امریکا چاہے تو بمباری کرنا بہت آسان ہے اور چند ہفتوں کی کارروائی میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، تاہم وہ ایسا نہیں چاہتے اگر چند ہفتے بمباری کی جائے تو مخالف فریق کے پاس کچھ باقی نہیں بچے گا، جبکہ اس کے برعکس آبنائے ہرمز مہینوں تک بند رہ سکتی ہےایسی صورتحال میں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہو سکتا ہے اور کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا کا اصل مقصد جنگ نہیں بلکہ ایسا معاہدہ ہے جو خطے میں استحکام اور دیرپا حل فراہم کرے-

  • پاکستان نے  رابطہ کاری اور سفارتی پیغامات کی ترسیل میں اہم کردار ادا کیا،امیر سعید

    پاکستان نے رابطہ کاری اور سفارتی پیغامات کی ترسیل میں اہم کردار ادا کیا،امیر سعید

    اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید نے کہا ہے کہ پاکستان نے رابطہ کاری اور سفارتی پیغامات کی ترسیل میں اہم کردار ادا کیا-

    اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر امیر سعید کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے مجوزہ مسودے اور دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے کیا گیا، جس نے رابطہ کاری اور سفارتی پیغامات کی ترسیل میں اہم کردار ادا کیا، امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق حتمی مسودے پر بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی تک کسی حتمی اتفاق رائے تک نہیں پہنچا جا سکا، مجوزہ حتمی مسودے میں خطے کے تمام متعلقہ علاقوں کو شا مل کیا جائے گا، جبکہ لبنان سمیت دیگر خطوں سے متعلق امور بھی دستاویز کا حصہ ہوں گے تاکہ ایک جامع اور پائیدار فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔

    دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کسی بھی بحری ناکا بندی کو دشمن کی ایک اور شکست میں تبدیل کر دے گا مفا ہمتی یادداشت سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات متفقہ نکات کے برعکس تھے موجودہ صورت حال سے واضح ہے کہ امریکا نہ جنگ بندی چاہتا ہےاور نہ ہی مذاکرات کا خواہاں ہے، ایران کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کا قیام ہےایران کو مخالف فریق پر بھروسہ نہیں ، تاہم ملک اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گا۔

  • گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات

    گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے گورنر ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری، ترقیاتی تعاون اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا میں معدنیات، سیاحت، توانائی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا گیا، جبکہ صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی تعاون بڑھانے کے امور بھی زیر بحث آئےفریقین کے درمیان قبائلی اضلاع اور خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی اسکالرشپس کے فروغ پر بھی گفتگو ہوئی اس موقع پر پاکستان اور امریکا کے درمیان خیبرپختونخوا میں ترقیاتی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔

    ملاقات میں توانائی، سیاحت اور انسانی وسائل کی ترقی کے نئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ صوبے میں پائیدار ترقی کے لیے نجی شعبے اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے کردار کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا،ملاقات میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔

    اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے کہاکہ صوبہ قیمتی اور نایاب معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور یہاں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں انہوں نے امریکی سرمایہ کاروں کو معدنیات، سیاحت، توانائی اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔

    ملاقات میں خیبرپختونخوا کے نوجوانوں میں موجود کھیلوں کے ٹیلنٹ کے فروغ پر بھی بات چیت ہوئی، گورنر نے بتایا کہ خیبر کرکٹ لیگ کا انعقاد جولائی میں کیا جا رہا ہے فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حجم میں اضافے کے لیے تجارتی وفود کا تبادلہ ناگزیر ہے۔

    امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو جدید تربیت اور ہنر کی فراہمی میں دلچسپی کا اظہار کیا انہوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی پر گورنر خیبرپختونخوا کو مبارکباد بھی دی اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو زرداری اور پارٹی کارکنان کی مؤثر انتخابی مہم کے باعث پیپلز پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی۔

    ملاقات کے اختتام پر گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیا۔

  • امریکا میں اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیوں پر تشویش

    امریکا میں اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیوں پر تشویش

    امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے انٹیلیجنس ادارے نے اسرائیلی جاسوسی سرگرمیوں سے لاحق خطرے کی درجہ بندی بڑھا کر ’کریٹیکل‘ یعنی بلند ترین سطح پر کر دی ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز اور اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی نے حالیہ ہفتوں میں ایک داخلی جائزہ رپورٹ تیار کی ہے جس میں اسرائیل کی انسانی اور تکنیکی جاسوسی صلاحیتوں کو ’کریٹیکل‘ قرار دیا گیا ہےیہ جائزہ 7 صفحات پر مشتمل دستاویز اور ایک تفصیلی چارٹ پر مبنی ہے، جس میں امریکی حکام کے خلاف ممکنہ انٹیلیجنس سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے،یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور لبنان کے معاملات پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات اور کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی انسدادِ جاسوسی حکام اسرائیلی سرگرمیوں پر بڑھتی ہوئی تشویش رکھتے ہیں، خصوصاً ان کوششوں پر جو ایران اور لبنان کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی سازی اور اندرونی مشاورت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں، بعض اعلیٰ امریکی عہدیداروں کو بھی ممکنہ نگرانی کے اہداف میں شامل قرار دیا گیا ہے۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیوں کی شدت غیر معمولی رہی ہے اگرچہ اتحادی ممالک کے درمیان محدود پیمانے پر جاسوسی کوئی غیر معمولی بات نہیں، تاہم حالیہ سرگرمیاں معمول کی سفارتی حدود سے آگے جاتی دکھائی دیتی ہیں۔

    دوسری جانب پینٹاگون نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے این بی سی نیوز سے گفتگو میں رپورٹ کو مکمل طور پر غلط قرار دیا، واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے بھی ان دعوؤں کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیوں کا رخ اس کے دشمنوں کی جانب ہوتا ہے، اتحادیوں کی جانب نہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں ایک غیر معمولی پیشرفت ہوگی، کیونکہ دونوں ممالک طویل عرصے سے قریبی دفاعی اور انٹیلیجنس شراکت دار سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم سرکاری سطح پر ان دعوؤں کی تصدیق نہ ہونے کے باعث معاملہ تاحال میڈیا رپورٹس اور غیر مصدقہ ذرائع تک محدود ہے۔

  • امریکی ملازمتی ویزوں کاحصول، بڑے پیمانے پربھارتیوں کی درخواستیں اور ڈگریاں جعلی نکلیں

    امریکی ملازمتی ویزوں کاحصول، بڑے پیمانے پربھارتیوں کی درخواستیں اور ڈگریاں جعلی نکلیں

    امریکا میں عارضی ملازمت کا خصوصی ایچ ون بی ویزا حاصل کرنے کے لیے بھارتی شہریوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی اور فراڈ سامنا آیا ہے-

    امریکی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سال 2015 سے اب تک امریکا میں کل 70 لاکھ ایچ ون بی ویزا درخواستیں پراسس کی گئی ہیں، جن میں سے حیرت انگیز طور پر 70 فیصد درخواستیں اکیلے بھارتی شہریوں کی طرف سے جمع کرائی گئی تھیں،رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت سے اس ویزا کے لیے درخواست دینےوالے 80 سے 90 فیصد افراد یا تو مکمل طور پر جعلی دستاویزات کےحامل پائے گئے یا پھر وہ اس مخصوص ملازمت کے لیے مطلوبہ اہلیت اور معیار پر پورا ہی نہیں اترتے تھے۔

    تحقیقات کے دوران یہ پریشان کن انکشاف بھی سامنے آیا کہ بھارت میں قائم کئی جامعات باقاعدہ طور پر جعلی ڈگریوں کے دھندے اور غیر قانونی کار و بار میں ملوث ہیں اس حوالے سے ایک ایسی یونیورسٹی کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جس نے اکیلے کم سے کم 36 ہزار جعلی ڈگریاں جاری کر کے ریکارڈ قا ئم کیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا کا یہ مخصوص ویزا ان غیر ملکی ماہرین کو دیا جاتا ہے جنہیں امریکی کمپنیاں کچھ خاص شعبوں میں عارضی طور پر ملازمت کے لیے اپنے پاس بلانا چاہتی ہیں۔