Baaghi TV

Tag: امریکا

  • تہران اور واشنگٹن میں کشیدگی مزید بڑھ گئی،امریکا کا ایران کے فنڈزخلیجی ممالک کو دینے کا فیصلہ

    تہران اور واشنگٹن میں کشیدگی مزید بڑھ گئی،امریکا کا ایران کے فنڈزخلیجی ممالک کو دینے کا فیصلہ

    ٹرمپ انتظامیہ ایران کے منجمد مالی اثاثوں کو خلیجی ممالک کی تعمیرِ نو اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے، جس سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدہ سفارتی مذاکرات مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے کویت اور بحرین پر حملوں کے بعد مزید ڈرونز بھی لانچ کیے ہیں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران کی جانب سے خلیجی اتحادی ممالک کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگائے۔

    امریکی حکام مستقبل میں ہونے والی ممکنہ تباہی کے ازالے کے لیے بھی ایرانی اثاثوں کے استعمال پر غور کر رہے ہیں یہ انکشاف ایک روز بعد سامنے آیا جب ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے سی این این کو انٹرویو میں کہا تھا کہ تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کی ایک اہم شرط امریکا میں منجمد 24 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں کی رہائی ہے۔

    ہفتے کے روز ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی محکمہ خزانہ کن نوعیت کے اثاثوں کا جائزہ لے رہا ہے تاہم استعمال کی گئی اصطلاحات سے یہ تاثر نہیں ملا کہ یہ اقدام صرف منجمد اثاثوں تک محدود ہوگا۔

    مبصرین کے مطابق ایرانی اثاثوں کو خلیجی ممالک کی تعمیرِ نو کے لیے استعمال کرنے کی امریکی تجویز واشنگٹن اور تہران کے درمیان نازک جنگ بندی کے لیے ایک نئی کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ہفتے کے آخر میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ حملوں کا تبادلہ ہوا۔

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات بظاہر تعطل کا شکار ہیں تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ہفتے کے روز تہران پہنچے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے ایک خصوصی خط بھی ساتھ لائے۔

    ادھر امریکی افواج نے ہفتے کی صبح آبنائے ہرمز میں واقع گورک اور جزیرہ قشم کے ایرانی ساحلی ریڈار مراکز پر حملے کیے امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس کارروائی سے قبل ایران کی جانب سے لانچ کیے گئے ایسے ڈرونز مار گرائے گئے تھے جو سمندری آمدورفت کے لیے خطرہ بن رہے تھے،امریکی فوج نے بعد ازاں مزید دو ایرانی حملہ آور ڈرونز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے خطرہ تصور کیے جا رہے تھے۔

    بعد ازاں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہےکویتی فوج کے مطابق ہفتے کے روز اس نے سات بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کیا جو رہائشی علاقوں کے اوپر سے گزرے، جس کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    بحرین میں حملوں کے دوران خطرے کے سائرن بجائے اٹھے تھے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی تھی، کویت اور بحرین دونو ں نے ان حملوں کی مذمت کی تھی،بعد ازاں ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے دونوں ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، تاہم امریکی فوج کا کہنا تھا کہ چھ میزائل راستے میں تباہ کر دیے گئے جبکہ ساتواں اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔

  • امریکا میں فیسٹیول کے دوران فائرنگ، کم از کم 12 افراد زخمی

    امریکا میں فیسٹیول کے دوران فائرنگ، کم از کم 12 افراد زخمی

    امریکی ریاست اوہائیو کے شہر ٹولیڈو میں دو حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد زخمی ہو گئے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک پریس کانفرنس میں پولیس نے بتایا ہے کہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہےمتاثرین کی عمریں 14 سے 61 سال کے درمیان ہیں، اس واقعے میں دو افراد نے ایک دوسرے پر فائرنگ کی۔

    پولیس لیفٹیننٹ ڈین گرکن نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ میں نے (جرائم کے) بہت سے مناظر دیکھے ہیں، لیکن یہ واقعہ حد سے زیادہ سنگین ہے،تفتیش کار متعدد افراد سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں اور کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں-

    ڈپٹی چیف جوزف ہیفرنن نے اسے ایک “انتہائی سرگرم” تحقیقات قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشتبہ افراد کی تلاش تاحال جاری ہے ہیفرنن نے بتایا، ہمارے پاس کچھ شواہد موجود ہیں اور ہم کچھ اہم سراغوں پر کام کر رہے ہیں-

    ٹولیڈو کے ڈائریکٹر پبلک سیفٹی جارج کرال نے عوام سے موبائل فون کی فوٹیج فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ پولیس کو مشتبہ افراد کو تلاش کرنے میں مدد مل سکے میں جانتا ہوں کہ لوگوں کے پاس معلومات موجود ہیں، براہ کرم ہماری مدد کریں تاکہ ہم آپ کی مدد کر سکیں، اس تقریب میں چند سو لوگ موجود تھےیہ ٹولیڈو کے سب سے تاریخی اور معروف تہواروں میں سے ایک ہے، اور یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ اس طرح کے واقعے نے اسے خراب کر دیا۔

    ٹولیڈو پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ایک فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ ‘اولڈ ویسٹ اینڈ فیسٹیول’ کے قریب ایک شخص کو گولی لگنے کی اطلاع پر شام تقریباً 5:37 بجے اہلکاروں کو روانہ کیا گیا ،متعدد زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی طبی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے-

    ‘گن وائلنس آرکائیو’ ویب سائٹ کے مطابق، ٹولیڈو کے واقعے کے علاوہ، رواں سال امریکہ میں بڑے پیمانے پر فائرنگ (ماس شوٹنگ) کے 171 واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں یہ ویب سائٹ بڑے پیمانے پر فائرنگ کی تعریف ایک ایسے واقعے کے طور پر کرتی ہے جس میں حملہ آور کے علاوہ کم از کم چار افراد گولی لگنے سے زخمی یا ہلاک ہوئے ہوں۔

  • ٹرمپ حکومت کی  27 لاکھ زندہ افراد کو مردہ قرار دینے کی تجویز

    ٹرمپ حکومت کی 27 لاکھ زندہ افراد کو مردہ قرار دینے کی تجویز

    امریکا میں ٹرمپ حکومت کی جانب سے 27 لاکھ زندہ افراد کو مردہ قرار دینے کی تجویز سامنے آگئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سینیٹ کمیٹیوں میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا میں مہاجرین کو نکالنے کیلئے شہریوں کو مردہ ظاہر کرنےکا مبینہ منصوبہ سامنے آیا ہے یہ مبینہ منصوبہ ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی کے تحت تیار کیا گیا تھا جس کی قیادت ایلون مسک کر رہے تھے۔

    دوسری جانب سوشل سکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے یہ دعوے رد کردیے ہیں جب کہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے معلومات کے تبادلے کو قومی سلامتی سے جوڑ دیا ہے۔

  • امریکی ملٹری کمپنی میں خوفناک حادثہ

    امریکی ملٹری کمپنی میں خوفناک حادثہ

    تربیتی مشق کے دوران امریکا کی اربوں ڈالر مالیت کی دفاعی کمپنی شیلڈ اے آئی کے فوجی ڈرون سے پیش آنے والے ایک خوفناک حادثے میں رومانیہ کی بحریہ کی خاتون اہلکار دو انگلیاں گنوا بیٹھی۔

    رائٹرز کے مطابق 12 مئی کو امریکی ریاست ٹیکساس کے ساحل کے قریب ایک کشتی پر ہونے والی تربیتی مشق کے دوران رومانیہ کی بحریہ کی ایک خاتون اہلکار کا ہاتھ شیلڈ اے آئی کے وی-بیٹ ڈرون کے پروپیلر میں پھنس گیا۔

    رومانیہ کی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق حادثے میں اہلکار کی دو انگلیاں جسم سے الگ ہوگئیں جبکہ تیسری انگلی فریکچر ہوگئی زخمی اہلکار کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انگلیاں دوبارہ جوڑنے کے لیے دو آپریشن کیے گئے، تاہم بعد میں ان کی حالت مزید خراب ہونے پر انہیں میری لینڈ کے والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق یہ پہلا واقعہ نہیں رائٹرز کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران وی-بیٹ ڈرون 50 سے زائد مرتبہ حادثات کا شکار ہو چکا ہے سابق ملازمین، سرمایہ کاروں اور صنعت سے وابستہ افراد نے دعویٰ کیا کہ کمپنی کئی برسوں سے تکنیکی خرابیوں اور حفاظتی مسائل سے دوچار ہے بعض سابق ملازمین کا الزام ہے کہ جن افراد نے حفاظتی خدشات اٹھائے انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک موقع پر شیلڈ اے آئی کے ایک ملازم اور اس کے بچے کو لے جانے والا سیسنا طیارہ وی-بیٹ ڈرون سے ممکنہ فضائی تصادم سے بچنے کے لیے ہنگامی کارروائی پر مجبور ہوگیا تھاشیلڈ اے آئی نے اپنے تقریباً 10 لاکھ ڈالر مالیت کے وی-بیٹ ڈرون کی بعض تکنیکی خامیوں کو چھپایا تاکہ فوجی معاہدے حاصل کیے جا سکیں۔ اس حوالے سے محکمہ محنت میں ایک شکایت بھی دائر کی گئی ہے۔

    کمپنی نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا حفاظتی ریکارڈ مضبوط ہے اور وی-بیٹ آج بھی اپنی نوعیت کے سب سے زیادہ آزمودہ ڈرونز میں شمار ہوتا ہے۔ کمپنی کے مطابق 2019 سے اب تک یہ ڈرون 18 ہزار گھنٹے سے زائد پروازیں کر چکا ہےرومانیہ کی اہلکار کے زخمی ہونے کا واقعہ کسی تکنیکی خرابی کے باعث نہیں بلکہ مقررہ حفاظتی طریقہ کار کی خلاف ورزی کی وجہ سے پیش آیا۔

    واضح رہے کہ شیلڈ اے آئی نے 2021 میں مارٹن یو اے وی نامی کمپنی خریدنے کے بعد وی-بیٹ ڈرون پروگرام حاصل کیا تھا۔ مارچ 2026 میں ہونے والے سرمایہ کاری کے ایک دور کے بعد کمپنی کی مالیت 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس کے بعد اسے سلیکون ویلی کی بڑی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

  • امریکا اور اسرائیل  ایران کے اندر اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،مجتبیٰ خامنہ ای

    امریکا اور اسرائیل ایران کے اندر اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،مجتبیٰ خامنہ ای

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے، اس لیے اب وہ ایران کے اندر اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    الجزیرہ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ایک تحریری پیغام میں لکھا کہ امریکا کی قیادت میں قائم ظالمانہ نظام ایک مضبوط اور خودمختار ایران کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ انہوں نے اسرائیل کو اسی نظام کی ایک مصنوعی چوکی قرار دیا کہا کہ امریکہ کی قیادت میں سامراج نے پچھلے 80 سالوں میں اسرائیل کے نام سے ایک فوجی اڈہ بنایا ہے۔ اور وہ "گریٹر اسرائیل” یعنی دریائے فرات کے مشرق میں جھوٹے، ناجائز جغرافیہ کی مشرقی سرحد پر ایک مضبوط، آزاد ایران کے وجود کو قبول نہیں کرتے-

    انہوں نے لکھا کہ دشمن میدانِ جنگ میں ناکامی اور گہری رسوائی کا سا منا کرنے کے بعد اب ایک نئی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت وہ ہائبرڈ جنگ کے ذریعے ایرانی عوام کی ثابت قدمی اور حکام کی ممکنہ غلطیو ں کو نشانہ بنا رہا ہے، اس مہم کا بنیادی ہتھیار عوام کے درمیان شکوک و شبہات، مایوسی، خوف اور تقسیم پیدا کرنا ہے۔

    ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ دشمن کی کوشش ہے کہ ایرانی معاشرے کے اندر اختلافات کو ہوا دے کر ملک کو کمزور کیا جائے کوئی بھی ایسا اقدام جو عوام میں بددلی، بدگمانی یا مایوسی کو فروغ دے، درحقیقت ملک اور اس کے عوام کے دشمنوں کی مدد کے مترادف ہےانہوں نے تمام ایرانی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ حالات کا مقابلہ ثابت قدمی، بصیرت اور قومی اتحاد کے ذریعے کریں اور اندرونی اختلافات سے گریز کرتے ہوئے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

  • امریکا اور اتحادیوں کے  چین پر جاسوسی کے سنگین الزامات

    امریکا اور اتحادیوں کے چین پر جاسوسی کے سنگین الزامات

    امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے چین پر جاسوسی کے الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بیجنگ مختلف طریقوں سے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے مشترکہ طور پر چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملازمت کے پلیٹ فارمز اور جعلی نوکریوں کی پیشکش کے ذریعے افراد سے خفیہ اور حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے،چین جعلی پروفائلز اور فرضی کمپنیوں کے ذریعے ایسے افراد کو نشانہ بنا رہا ہے جو سرکاری یا اہم اداروں میں کام کرتے ہیں، تاکہ ان سے معلومات حاصل کی جا سکیں۔

    مغربی انٹیلیجنس اداروں کے مطابق یہ طریقہ کار ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے مختلف ممالک کے سرکاری اور نجی شعبے سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب چین کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم یہ معاملہ عالمی سطح پر سفارتی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

  • ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے ختم نہیں ہوئے، عباس عراقچی

    ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے ختم نہیں ہوئے، عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے منقطع نہیں ہوئے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تبادلہ کیے گئے متن اور تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    لبنانی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج امریکی مفادات یا استعمال ہونے والے مقامات کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایران کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اگر اسرائیل نے بیروت یا لبنان کے کسی حصے پر حملہ کیا تو ایران سخت اور فیصلہ کن ردعمل دے گا۔

    اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے خطے کے متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی ٹیلیفونک رابطے کیے جن میں پاکستان، سعودی عرب، فرانس، ترکی، قطر اور مصر شامل ہیں ان رابطوں میں خطے کی تازہ صورتحال اور کشیدگی میں کمی کے امکانات پر بات چیت کی گئی جبکہ جاپان میں ایرانی سفارت خانے کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں علاقائی امن و سلامتی سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

    ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کا جاری رہنا اس بات کی علامت ہے کہ اگرچہ خطے میں کشیدگی موجود ہے، تاہم سفارتی چینلز مکمل طور پر بند نہیں ہوئے اور کسی ممکنہ مذاکراتی عمل کی گنجائش اب بھی برقرار ہے۔

  • پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں،ترجمان

    پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں،ترجمان

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے مؤقف پر بدستور قائم ہے، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ اختلافات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے چین، برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ بھرپور سفارتی رابطے کیے ہیں، جن کا مقصد علاقائی امن، عالمی تعاون اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنا ہے وزیراعظم پاکستان نے 23 سے 26 مئی کے دوران چین کا اہم دورہ کیا جس میں چینی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

    انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے چین سے واپسی پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی فورم میں شرکت کی اور عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور مشترکہ عالمی مسائل کے حل پر مختلف ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں پرتگال، کولمبیا، کوسٹا ریکا، کیوبا اور انڈونیشیا سمیت متعدد مما لک شامل تھے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ امریکی حکام کے ساتھ بھی اہم رابطے ہوئے جن میں امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی مشیر سے ملاقات شامل ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات، انسداد دہشت گردی اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا امریکی قیادت نے خطے میں امن کی کوششوں خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے اقدامات پر بات چیت کی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں اور مختلف دوست ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے،پاکستان کا موقف واضح ہے کہ خطے کا استحکام مشترکہ ذمہ داری ہے اور تمام فریقین کو تحمل اور مذاکر ات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے حالیہ دنوں میں مصر، ویتنام، ایران اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی ٹیلیفونک رابطے ہوئے جن میں دوطرفہ تعلقا ت اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آٹھواں دور بھی منعقد ہوا جس میں تعاون کے مختلف شعبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا،جبکہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور نے کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈائیلاگ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان منظم اور اعلیٰ سطحی سیاسی رابطوں کا اہم پلیٹ فارم ہے۔

    ترجمان کے مطابق اس اجلاس میں دونوں فریقین نے باہمی تعلقات میں پیش رفت، تعاون کے فروغ اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا یہ ڈائیلاگ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اعلیٰ سطحی سیاسی روابط کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہےاجلاس کے دوران خطے کی صورتحال، بالخصوص مشرق وسطیٰ کے معاملات پر بھی غور کیا گیا اس موقع پر متعدد علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا۔

    مشترکہ بیان میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی، جبکہ مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا گیا۔ بیان میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے اشتعال انگیزی اور مقدس مقامات کی حیثیت متاثر کرنے کی کوششوں کی بھی مذمت کی گئی بیان میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا جس کا دارالحکومت القدس ہو، اور اس مؤقف کو بین الاقوامی قانون اور دو ریاستی حل کے مطابق قرار دیا گیا۔

  • امریکی ثالثی میں مذاکرات ، اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق،مشترکہ اعلامیہ جاری

    امریکی ثالثی میں مذاکرات ، اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق،مشترکہ اعلامیہ جاری

    امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہو گئے دونوں فریق 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کریں گے۔

    امریکی ثالثی میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق جنگ بندی کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا ہےدونوں ممالک نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، حزب اللّٰہ کی جانب سے اسرائیل پر مکمل طور پر حملے بند کیے جائیں گے اور جنوبی لیطانی سیکٹر خالی کرنا ہو گا۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پائلٹ زونز بنائے جائیں گے جن پر لبنانی فوج کا کنٹرول ہو گا، غیر ریاستی عناصر وہاں داخل نہیں ہو سکیں گےاسرائیل اور لبنان نے عزم دہرایا کہ ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں کیے جائیں گے اور جامع معاہدہ کے لیے اقدامات کریں گے۔

  • امریکی خفیہ ایجنسیوں  کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے

    امریکی خفیہ ایجنسیوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے

    امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور امریکی انٹیلی جینس کمیونٹی کی سربراہ تنظیم آفس آف ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جینس (او ڈی این آئی) کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں-

    رائٹرز کے مطابق امریکی حکام اور معاملے سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ دونوں اداروں کے درمیان جھگڑا ایک سال سے زائد عرصے سے جاری ہے، جس سے قومی سلامتی کے اہم معاملات پر تعاون متاثر ہوا ہے یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا ایران تنازع، چین کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں اور روس یوکرین جنگ جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

    اختلافات کی بنیادی وجہ سابق ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جینس تلسی گبارڈ کی جانب سے اپریل 2025 میں قائم کیا گیا ڈائریکٹرز انیشی ایٹو گروپ ہےسی آئی اے کا مؤقف ہے کہ یہ گروپ روایتی انٹیلی جینس شیئرنگ اور معلومات کو عام کرنے کے قواعد سے ہٹ کر کام کر رہا تھا، جبکہ او ڈی این آئی کا کہنا ہے کہ سی آئی اے انہیں ضروری معلومات تک رسائی نہیں دے رہی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق باہمی بداعتمادی کے نتیجے میں سی آئی اے نے نیشنل انٹیلیجینس کونسل (این آئی سی) کی بعض رپورٹس میں اپنا کردار نمایاں طور پر کم کر دیا ہے ایران سے متعلق وہ تجزیاتی رپورٹس بھی متاثر ہوئی ہیں جنہیں جنگی حالات میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

    اختلافات کا آغاز 2025 میں تلسی گبارڈ کے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ہوا، جب انہوں نے صدر کے روزانہ انٹیلی جینس بریف پر زیادہ کنٹرول حاصل کیابعد ازاں ڈائریکٹرز انیشی ایٹو گروپ کے قیام نے دونوں اداروں کے تعلقات مزید خراب کر دیے اس گروپ کا مقصد انٹیلی جینس اداروں میں مبینہ سیاسی اثر و رسوخ کی تحقیقات، سابق صدر جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق دستاویزات کو منظرعام پر لانا، انتخابی ووٹنگ مشینوں کی سکیورٹی اور کووڈ-19 کی ابتدائی تحقیقات کرنا تھا،تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس گروپ کو سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا گیا۔

    مئی 2025 میں تلسی گبارڈ نے نیشنل انٹیلی جینس کونسل کے دو سینئر سی آئی اے افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا تھا، جبکہ اگست میں 37 موجودہ اور سابق حکام کی سکیورٹی کلیئرنس بھی منسوخ کر دی گئی تھی اس اقدام پر بھی شدید تنقید سامنے آئی۔

    گزشتہ ماہ یہ تنازع اس وقت عوامی سطح پر سامنے آیا جب ایک سی آئی اے افسر نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ سی آئی اے نے کووڈ-19 کی ابتدا سے متعلق معلومات تک گروپ کی رسائی محدود کر دی تھی اس معاملے پر انٹیلی جینس کمیونٹی کے انسپکٹر جنرل کے دفتر نے تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔

    دوسری جانب او ڈی این آئی اور وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اور پالیسی سازوں کو بدستور اعلیٰ معیار کی انٹیلی جینس اور تجزیاتی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی قومی سلامتی ٹیم پر مکمل اعتماد ہے۔