Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

    امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

    ٹرمپ انتظامیہ نے سرکردہ AI ڈویلپرز سے کہا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر سرکاری سائبرسیکیوریٹی ٹیسٹوں کے لیے اپنے انتہائی قابل ماڈلز کو عوام کے سامنے پیش کرنے سے پہلےوفاقی حکومت کو پیش کریں، ایک ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق، کیونکہ واشنگٹن میں طاقتور نئے AI سسٹمز جیسے کہ Anthropic’s Mythos پر سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی مکمل عوامی ریلیز سےپہلے وفاقی حکومت کو ان تک رسائی فراہم کریں تاکہ ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

    اس حکم نامے کے مطابق کمپنیوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر ایک بینچ مارکنگ عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جس کے ذریعے ماڈلز کی ’اعلیٰ سائبر صلاحیتوں‘ کا جائزہ لیا جائے گا،اور یہ طے کیا جائے گا کہ آیا انہیں ’کورڈ فرنٹیئر ماڈل‘ قرار دیا جانا چاہیے یا نہیں۔

    اس کے علاوہ کمپنیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی وسیع پیمانے پر ریلیز سے 30 روز قبل حکومت کو ان تک رسائی دیں حکم نامہ حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ ان ’قابلِ اعتماد شراکت داروں‘ کے انتخاب میں معاونت کرے جنہیں ابتدائی رسائی فراہم کی جائے گی اس شق کو اس طرح نہیں سمجھا جائے گا کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز، بشمول فرنٹیئر ماڈلز، کی تیاری، اشاعت، اجرا یا تقسیم کے لیے لازمی لائسنسنگ، پیشگی منظوری یا اجازت نامے کا نظام نافذ کر رہی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے یہ حکم نامہ نجی طور پر دستخط کیا، چند ہفتے قبل انہوں نے معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک دستخطی تقریب ملتوی کر دی تھی اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ انہیں مجوزہ حکم نامے کے بعض پہلو پسند نہیں آئے تھے۔

    یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کی ترقی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے پیر کے روز اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اعلان کیا کہ اس نے ابتدائی عوامی حصص فروخت کے لیے خفیہ طور پر امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں درخواست جمع کرا دی ہے جبکہ اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی بھی رواں سال ممکنہ شیئرز کی پیشکش کی تیاری کر رہی ہے۔

    دوسری جانب ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس، جو ان کی اے آئی لیبارٹری اسپیس ایکس اے آئی کی مالک بھی ہے، ممکنہ طور پر ان دونوں کمپنیوں سے پہلے اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہو سکتی ہے اطلاعات کے مطابق اس کی مارکیٹ ویلیو ایک کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

    مصنوعی ذہانت کی بدولت غیرمعمولی ترقی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی صنعت نے وائٹ ہاؤس کی اے آئی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا ہےسرمایہ کار ڈیوڈ سیکس، جو ایلون مسک کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، رواں سال کے آغاز تک وائٹ ہاؤس کے پہلے ’کرپٹو اور اے آئی زار‘ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکس، مسک اور مارک زکربرگ نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کرکے ایک سابقہ اے آئی حکم نامے کی مخالفت کی تھی جس پر صدر دستخط کرنے والےتھےیہ نیا حکم نامہ اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب اینتھروپک نے رواں سال کلاؤڈ مائتھوس پری ویو نامی ایک ایسا ماڈل متعارف کرایا جسے سافٹ ویئر میں کمزوریوں اور سیکیورٹی نقائص کی نشاندہی میں غیرمعمولی مہارت حاصل ہے۔

    کمپنی نے ابتدا میں اس ماڈل کو ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ نامی سائبر سیکیورٹی اقدام کے تحت محدود تعداد میں اداروں کو فراہم کیا تھا، جسے منگل کے روز مزید وسعت دی گئی مائتھوس کی رونمائی کے بعد اینتھروپک کے نمائندوں کی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، جن میں وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ شامل ہیں، سے متعدد اہم ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

    ٹرمپ کے حکم نامے میں مختلف سرکاری ہدایات اور رہنما اصول مرتب کرنے کے لیے کئی ٹائم فریمز دیے گئے ہیں۔ خصوصاً امریکی محکمہ دفاع کو اپنے معلوماتی نظاموں کے سائبر دفاع کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم محکمہ دفاع نے اینتھروپک کے جدید اے آئی ماڈلز سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، مائتھوس کی ریلیز سے کچھ عرصہ قبل محکمہ نے کمپنی کو ’سپلائی چین رسک‘ قرار دیا تھا، اس درجہ بندی کے تحت اینتھروپک کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ تصور کیا جاتا ہے اور دفاعی ٹھیکیداروں کو محکمہ دفاع کے ساتھ اپنے کام میں کمپنی کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے۔

  • قشم جزیرےپر امریکی حملے، پاسداران انقلاب کا بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    قشم جزیرےپر امریکی حملے، پاسداران انقلاب کا بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا، آج صبح سویرے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں –

    آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے،دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔

    امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی اہداف پر کامیاب میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ایئربیس اور وہاں موجود ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے اور انہوں نے ایک بحری جہاز کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے.

    ایران نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر اور ایئربیس کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا،ایرانی فورسز کا یہ بھی مؤقف ہے کہ جزیرہ قشم میں ان کے کمیونیکیشن ٹاور پر امریکا نے حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں انہوں نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا.

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے مکمل طور پر ناکام بنا دیے ہیں ایران نے دو میزائل کویت کی طرف داغے تھے جو راستے میں ہی گر گئے، جبکہ بحرین پر داغے گئے تین میزائلوں کو امریکا اور بحرین کی فورسز نے فضا میں ہی مار گرایا، ایران نے تین ڈرون حملے تجارتی بحری جہازوں پر بھی کیے جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔

    امریکی حکام نے اپنی کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی جزیرے قشم پر جوابی حملے کیے ہیں جہاں امریکی فورسز نے ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے،یہ حملے ایران کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں.

    اس فضائی جھڑپ سے پہلے امریکا نے بوٹسوانا کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ آئل ٹینکر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جا رہا تھا.

  • گوگل کا  3 کروڑ 20 لاکھ  مچھروں کو امریکی فضا میں چھوڑنے کا منصوبہ

    گوگل کا 3 کروڑ 20 لاکھ مچھروں کو امریکی فضا میں چھوڑنے کا منصوبہ

    گوگل نے امریکی حکومت سے کیلیفورنیا اور فلوریڈا میں آئندہ دو برس کے دوران مجموعی طور پر 3 کروڑ 20 لاکھ مخصوص نر مچھر چھوڑنے کی اجازت طلب کی ہے اس منصوبے کا مقصد ایسے مچھروں کی تعداد کم کرنا ہے جو خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) اس درخواست کا جائزہ لے رہی ہے۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق گوگل ہر سال 1 کروڑ 60 لاکھ مچھر دونوں ریاستوں میں چھوڑنا چاہتی ہے اس حوالے سے عوامی رائے لینے کا عمل 5 جون تک جاری رہے گا، جس کے بعد ایجنسی فیصلہ کرے گی کہ کمپنی کو تجرباتی اجازت نامہ دیا جائے یا نہیں، گوگل کا یہ منصوبہ “ڈی بگ“ پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت کمپنی جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں کی مدد سے بیماری پھیلانے والے مچھروں کی آبادی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہےمچھر دنیا کے خطرناک ترین حشرات میں شمار کیے جاتے ہیں کیونکہ یہ ڈینگی، زیکا، ویسٹ نائل وائرس، چکن گونیا اور ملیریا جیسی بیماریوں کو انسانوں تک منتقل کرتے ہیں۔

    کمپنی کے مطابق اس منصوبے میں صرف نر مچھر استعمال کیے جائیں گے نر مچھر نہ انسانوں کو کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ایک بیکٹیریا ”وولباخیا“ کو شامل کیا جاتا ہے جب ایسا نر مچھر جنگلی مادہ مچھر کے ساتھ ملاپ کرتا ہے تو مادہ کے انڈے نہیں نکلتے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ مچھروں کی آبادی کم ہوتی جاتی ہے۔

    گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی طریقے، جیسے کیڑے مار ادویات کا استعمال، بعض اوقات ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی افادیت بھی کم ہو سکتی ہے اسی طرح مچھروں کی افزائش کے تمام مقامات تلاش کرنا اور ختم کرنا بھی آسان نہیں ہوتا ،رواں سال کے آغاز میں گوگل نے ڈی بگ پروگرام کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

    ماہرین کے مطابق گوگل جس طریقہ کار کو استعمال کر رہی ہے وہ مکمل طور پر نیا نہیں ہے۔ ”سٹرائل انسیکٹ ٹیکنیک“ یا جراثیم سے پاک کیڑوں کی تکنیک کئی دہائیوں سے مختلف نقصان دہ حشرات کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہر ایرک کاراگاتا کے مطابق وولباخیا بیکٹیریا کی مدد سے مچھروں کی افزائش روکنے کا طریقہ تقریباً 15 برس سے استعمال ہو رہا ہے۔

    فی الحال گوگل اپنی توجہ ایڈیز ایجپٹی نامی مچھر پر مرکوز کیے ہوئے ہے، جو ڈینگی، زیکا، پیلا بخار اور چکن گونیا کے زیادہ تر کیسز پھیلانے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے کمپنی کے انجینئرز اور سائنس دان ڈیٹا اینالیٹکس، سینسرز اور اے آئی کی مدد سے ایسے خودکار نظام تیار کر رہے ہیں جو نر اور مادہ مچھروں میں درست فرق کر سکیں اور مطلوبہ تعداد میں نر مچھروں کو مناسب مقامات پر چھوڑ سکیں۔

    ڈی بگ پروگرام کو سنگاپور میں بھی کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، جو اس منصوبے کا پہلا بین الاقوامی تحقیقی مرکز تھا گوگل کے مطابق سنگاپور میں لاکھوں نر وولباخیا مچھروں کو چھوڑنے کے بعد ایڈیز ایجپٹی مچھروں کی آبادی میں 80 سے 90 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جبکہ 6 سے 12 ماہ کے اندر ڈینگی کے واقعا ت میں 70 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ان نتائج کے بعد کمپنی نے سنگاپور میں اپنے پروگرام کو مزید وسعت دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    ڈی بگ پروگرام کے سربراہ لائنس اپسن کا کہنا ہے کہ سنگاپور میں حاصل ہونے والے نتائج نے کمپنی کو مزید علاقوں تک اس منصوبے کو پھیلانے کا اعتماد دیا ہے، خاص طور پر ایشیا میں جہاں دنیا کے تقریباً 70 فیصد ڈینگی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی حتمی منظوری کے بعد ہی اس منصوبے کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ اگر اجازت مل جاتی ہے تو یہ منصوبہ بیماری پھیلانے والے مچھروں پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔

  • ایران اورپاکستان کی مذمت، ٹرمپ کی اظہار برہمی کے بعد نیتن یاہو نے لبنان پر حملے روک دیے

    ایران اورپاکستان کی مذمت، ٹرمپ کی اظہار برہمی کے بعد نیتن یاہو نے لبنان پر حملے روک دیے

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا قابلِ افسوس اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیاں نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں، انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

    پاکستانی مندوب نے کہا کہ معصوم شہریوں کے جان و مال کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

    عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ خطے میں پائیدار امن کا قیام صرف مذاکرات، سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، انہوں نےفریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی اپیل کی،پاکستان کے مستقل مندوب نے اس عزم کا اعاد ہ کیا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت جاری رکھے گا۔

    اسی دوران، سفارتی کوششوں کے سلسلے میں ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر را بطہ کیا ہےایرانی وزیر خارجہ نے لبنان میں جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتےہوئے سفارتکاری میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا، انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان سے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی درخواست کی.

    اس گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ کو موجودہ صورتحال پر پاکستان کی گہری تشویش سے آگاہ کیااسحاق ڈار نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور موجودہ مفاہمت کو محفوظ بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کا تسلسل خطے میں مزید کشیدگی اور بحران سے بچنے کے لیے انتہائی ضروری ہے.

    اس معاملے پر ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی بھی اپنے ملک کا مؤقف سامنے لائے ہیں،انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے، کسی ایک محاذ پر کارروائی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی ،ایرانی وزیرخارجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی پر نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی.

    دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے.

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر انتہائی تلخ لہجے میں بات کی اور انہیں پاگل کے ساتھ ساتھ ناشکرا بھی قرار دیا، صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیروت پر حملے کیے تو اسرائیل دنیا میں مزید تنہا ہوجائے گا.

    ٹرمپ نے نیتن یاہو سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے، میں تمہاری چمڑی بچا رہا ہوں اور ہر شخص اب تم سے نفرت کرتا ہے، ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرتا ہےاس گفتگو کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے ایک مختلف اور پرامید بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو سے بڑی مثبت بات چیت ہوئی ہے، اب کوئی فوج بیروت نہیں جارہی، اور جو فوجی راستے میں تھے انہیں واپس بھیج دیا گیا ہے،میں نے اپنے نما ئندوں کے ذریعے حزب اللہ سے بھی بہت اچھی گفتگو کی، حزب اللہ بھی تمام تر فائر بندی پر راضی ہے، اب نہ اسرائیل ان پر حملہ کرے گا، نہ وہ اسرائیل پر حملہ کریں گے.

    پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک انتہائی مفید ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے، جس میں لبنان کی صورت حال اور جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق اس گفتگو کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اسرائیلی فوج بیروت میں داخل نہیں ہوگی اور جو فوجی دستے روانہ ہوچکے تھے انہیں انہیں بھی واپس بلا لیا گیا ہے اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے ان کا حزب اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھا رابطہ ہوا، جس میں فائرنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل کو نشانہ نہیں بنائے گا۔

    امریکی صدر نے اپنے بیان میں اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم اسرائیلی حکومت، حزب اللہ یا دیگر متعلقہ فریقوں کی جانب سے اس دعوے کی فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

  • امریکا  میں شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کر کے خودکشی کر لی

    امریکا میں شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کر کے خودکشی کر لی

    امریکی ریاست آئیووا (Iowa) کے مشرقی شہر مسکاٹائن (Muscatine) میں ایک مسلح شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔

    مسکاٹائن پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی تحقیقاتی بیان کے مطابق بظاہر یہ ہولناک واقعہ ایک “گھریلو تنازع” کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم تاحال اس قتلِ عام کی اصل اور قطعی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی جب پولیس افسران جائے وقوعہ پر پہنچے تو انہیں ایک رہائش گاہ کے اندر سے 4 افراد کی لاشیں ملیں جنہیں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔

    پولیس چیف نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ اگرچہ مشتبہ قاتل پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی فرار ہو چکا تھا، لیکن جلد ہی اس کی شناخت 52 سالہ ریان ویلیس میک فارلینڈ کے نام سے کر لی گئی پولیس نے ملزم کا پیچھا کیا اور اسے شہر کے دریا کنارے واقع پل کے پاس ڈھونڈ نکالا، جب پولیس افسر ان اس سے بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تو اس نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

    پولیس چیف کے مطابق ملزم کی خودکشی کے بعد جب مزید شواہد اور معلومات سامنے آئیں تو پولیس نے تلاشی کے دوران مزید دو مردوں کی لاشیں برآمد کیں جنہیں ملزم نے نشانہ بنایا تھا ان میں سے ایک لاش قریبی گھر اور دوسری ایک کاروباری مرکز سے ملی تمام مقتولین مبینہ طور پر حملہ آور کے خاندان کے ہی ارکان تھے جن کی تاحال باقاعدہ شناخت پبلک نہیں کی گئی، تاہم ایک امریکی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق مقتولین میں کم از کم دو بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہونے والے حملہ آور کا ماضی میں بھی مجرمانہ ریکارڈ موجود تھا، تاہم اس کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ مسکاٹائن تقریباً 24 ہزار کی آبادی پر مشتمل ایک ساحلی شہر ہے جو ریاست آئیووا کے دارالحکومت ڈیس موئنز سے 155 میل مشرق میں واقع ہے۔

  • تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی تاخیر اور کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت مزید اضافے کے بعد 94.29 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے، امریکی خام تیل کی فی بیرل قیمت بھی مزید بڑھ گئی ہے امریکی خام تیل کے نرخ 91.41 ڈالر فی بیرل ہو گئے ہیں، اماراتی تیل مربان کی قیمت بھی مزید اضافے کے بعد 94.43 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

    ماہرین نے آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ظاہر کیا ہے، واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں بھی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، چند دن قبل حکومت نے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔

    توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی خام تیل پر بھاری پریمیم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی خریدار شدید اضطراب کے عالم میں مشرقِ وسطیٰ سےباہر متبادل سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،کیونکہ خلیج فارس میں شپنگ کےراستے مکمل طور پر بند ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کشیدگی میں اس اچانک اضافے نے مالیاتی اسکرینوں پر ایک واضح تضاد پیدا کر دیا ہے۔

  • حقِ دفاع سے متعلق یورپی یونین کے بیان پرایران کا سخت ردعمل

    حقِ دفاع سے متعلق یورپی یونین کے بیان پرایران کا سخت ردعمل

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران کے حقِ دفاع سے متعلق یورپی یونین کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’منافقانہ اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا ہے۔

    اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ یورپی یونین کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے،ایسے ممالک کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں جو غیرقانونی حملوں کے جواب میں اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہیں،یورپی یونین کو ان ممالک پر تنقید بند کرنی چاہیے جو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایسے فوجی اڈوں اور عسکری وسائل کو نشانہ بنانا، جو کسی ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہوں، حقِ دفاع کے دائرے میں آتا ہے ہر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین، فضائی حدود یا وسائل کو کسی دوسرے ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اعتماد کے فقدان اور لبنان کے حوالے سے امریکا اور اسرائیل کی مسلسل بد لتی ہوئی پالیسیوں نے سفارتی عمل کو سست کر دیا ہے موجودہ حالات میں لبنان میں جنگ بندی انتہائی اہم ہے لبنان میں جنگ بندی، امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق کسی بھی ممکنہ معاہدے کا لازمی اور بنیادی حصہ ہونی چاہیے۔

  • امریکا جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا،قالیباف

    امریکا جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا،قالیباف

    ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکا پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کردیا-

    محمد باقر قالیباف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا جاری رہنا اور لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکا جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا امریکا نہ صرف ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں اور ناکہ بندی کو برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ اپنے اتحادی اسرائیل کو لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھانے سے بھی نہیں روک رہا۔

    قالیباف نے اپنے پیغام میں کہا کہ بحری ناکہ بندی اور لبنان میں صہیونی حکومت کے جنگی جرائم میں اضافہ، امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی عدم پاسداری کا واضح ثبوت ہیں ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور بالآخر اس کے نتائج سامنے آتے ہیں، وقت آنے پر تمام معاملات واضح ہو جائیں گے۔

    قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران، امریکا، اسرائیل اور لبنان سے متعلق صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

  • پاسدارانِ انقلاب کا ایران پر حملوں میں استعمال ہونیوالے فضائی اڈے پر حملہ

    پاسدارانِ انقلاب کا ایران پر حملوں میں استعمال ہونیوالے فضائی اڈے پر حملہ

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایرواسپیس فورس نے ایک ایسے فضائی اڈے (ایئر بیس) کو نشانہ بنایا ہے، جسے مبینہ طور پر امریکا نے جزیرہ سیریک پر ایک ٹیلی کام ٹاور پر حملے کے لیے استعمال کیا تھا۔

    برطانوی نشریاتی ادارے رائٹرز کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے سرکاری بیان میں اس فضائی اڈے کے عین محلِ وقوع (لوکیشن) کی وضاحت نہیں کی، تاہم یہ کارروائی دونوں ممالک کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کی گئی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یہ جوابی کارروائی ہرمزگان صوبے کے جزیرہ سیریک پر امریکی حملے کے چند گھنٹوں بعد عمل میں لائی گئی اور اس آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کیا گیا پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یہ انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے کہ اگر اس قسم کی جارحیت دوبارہ دہرائی گئی تو اس کا مزید سخت جواب دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے اور کویت کی جانب سے بھی اپنی فضائی حدود میں میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

  • ایران نے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا، امریکی میڈیا

    ایران نے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا، امریکی میڈیا

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد تباہ ہونے والے اپنے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا ہے۔

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے تباہ شدہ زیرِ زمین میزائل تنصیبات تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے لیے تیزی سے کام کیا اور بھاری مشینری، بلڈوزرز اور ڈمپ ٹرکوں کی مدد سے بند سرنگوں اور راستوں کو کھول دیا امریکا اور اسرائیل نے جنگ کے دوران ایران کے زیرِ زمین میزائل اڈوں کے داخلی راستے تباہ کرکے اس کی میزائل صلاحیت محدود کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے متعدد مقامات پر بحالی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

    سی این این کے مطابق ایران نے 18 زیرِ زمین میزائل تنصیبات پر حملوں کے بعد بند ہونے والے 69 میں سے 50 سرنگی راستے دوبارہ کھول دیے ہیں، جبکہ کئی تباہ شدہ سڑکیں بھی مرمت یا دوبارہ تعمیر کر دی گئی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دوبارہ کشیدگی یا حملے شروع ہوئے تو ایران اب بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    جیمز مارٹن سینٹر فار نان پرولیفریشن اسٹڈیز سے وابستہ تجزیہ کار سیم لیئر کے مطابق ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں میزائل موجود ہیں اور جب تک لانچرز اور عملہ موجود ہے، ایران میزائل فائر کرتا رہ سکتا ہے،ایران کی زیرِ زمین تنصیبات کئی سو میٹر گہری چٹانوں کے نیچے قائم ہیں، جس کی وجہ سے انہیں مکمل طور پر تباہ کرنا آسان نہیں۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جنگ کے دوران ایران مسلسل خطرات کے باوجود سرنگوں کی کھدائی اور بحالی میں مصروف رہا، جبکہ امریکا اور اسرائیل اکثر ان مشینوں کو بھی نشانہ بناتے رہے جو ملبہ ہٹانے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کے دوران بارہا ایران کے میزائل پروگرام کو بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ایران کی میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کرنا جنگ کے اہم اہداف میں شامل بتایا تھا۔

    دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے سی این این کی رپورٹ پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ترجمان شان پارنل نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے اور وہ کسی بھی وقت کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے ماہرین کا اندازہ ہے کہ ایران کے پاس اب بھی تقریباً 1000 میزائل زیرِ زمین تنصیبات میں محفوظ موجود ہیں، جبکہ ایران کا میزائل نیٹ ورک بڑی حد تک دوبارہ فعال ہو چکا ہے۔