Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا اور اسرائیل ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں،ایران کی امریکا سے مذاکرات کی خبریں ’بے بنیاد‘ قرار

    امریکا اور اسرائیل ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں،ایران کی امریکا سے مذاکرات کی خبریں ’بے بنیاد‘ قرار

    ایران نے منگل کی علی الصباح اسرائیل کے مختلف علاقوں پر متعدد میزائل حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو نقصان پہنچا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی حملوں کے دوران تل ابیب سمیت اسرائیل کے مختلف حصوں میں ایئر ریڈ سائرن بج اٹھے، جہاں انٹر سیپٹرز کے ذریعے میزائلوں کو روکتے ہوئے دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں، اسرائیلی فوج نے بھی ان حملوں کی تصدیق کی ہےایک حملے میں شمالی ا سرائیل میں واقع میزائل کے ٹکڑے گھروں سے ٹکرانے سے نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    ایران کے میزائل حملے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی نظام پر پانچ دن کے لیے حملے روکے جانے کے اعلان کے بعد کیے گئے ہیں، جس کا حوالہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی مفید اور مثبت بات چیت کے طور پر دیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں مکمل اور جامع جنگ بندی کے سلسلے میں بہت مثبت اور مفید گفتگو ہوئی ہے اسی بنیاد پر ایران کے توانائی کے نظام پر حملے کا منصوبہ پانچ دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے، ان کے اعلان کے بعد عالمی مالیاتی مارکیٹس میں بہتری دیکھنے میں آئی، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے گر گئیں، جبکہ شیئر مارکیٹس میں اضافہ ہوا۔

    تاہم یہ فوائد منگل کو اس وقت خطرے میں پڑ گئے جب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے،انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں سراسر جھوٹ ہیں،امریکا اور اسرائیل ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں اور اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ایسی بے بنیاد خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔

    ایران کی ایلیٹ فورس انقلابی گارڈز نے بھی اعلان کیا کہ وہ امریکی اہداف پر تازہ حملے کر رہے ہیں، اور صدر ٹرمپ کے بیانات کو نفسیاتی حربے قرار دے چکے ہیں۔

    دوسری جانب مغربی میڈیا سے اطلاعات سامنے آئیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصر نے ثالثی کی پیشکش کی، جس کے لیے رواں یا آئندہ ہفتے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اہم بیٹھک لگنے کا امکان ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کم کرانے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہوگیا ہے اس سلسلے میں پاکستان نے اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر پیش کیا ہے جہاں آئندہ دنوں میں اہم ملاقاتیں متوقع ہیں، مذاکرات میں ایران کی نمائندگی ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔

  • اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان نے ایک بار پھر سفارتکاری اور مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارتکاری کی وکالت کی ہے اور یہی مؤقف اب بھی برقرار ہے-

    بیان میں کہا گیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا پاکستان، ترکیہ اور مصر کی جانب سے سفارتی سطح پر کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ خطے کے اہم ممالک امریکا اور ایران کےدرمیان تناؤ کم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں اور مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اسی ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے مذاکرات میں ایران کی نمائندگی ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔

  • نیو یارک، نیو جرسی اور اٹلانٹا کے ائیرپورٹس پر آئس اہلکار تعینات

    نیو یارک، نیو جرسی اور اٹلانٹا کے ائیرپورٹس پر آئس اہلکار تعینات

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک، نیو جرسی اور اٹلانٹا کے ائیرپورٹس پر آئس اہلکار تعینات کردیے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے نیو یارک، نیو جرسی اور اٹلانٹا کے ائیرپورٹس پر آئس اہلکار تعینات کردیے جو گرفتاریاں بھی کریں گےائیرپورٹس پرتعینات آئس اہلکار ہجوم کو کنٹرول کرنے میں مدد دیں گے۔

    دوسری جانب امریکی سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر نے امریکی ائیرپورٹس پر آئس اہلکاروں کی تعیناتی امریکی صدر کا خوفناک آئیڈیا قراردیا،انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ائیرپورٹس کو زیادہ محفوظ نہیں بنائے گا کیونکہ جہاں آئس اہلکار جاتے ہیں وہاں پریشانی آتی ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز،انڈیکس بلندیوں پر

    انہوں نے اپنے بیان میں خاص طور پر صومالیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ ایئرپورٹس کو محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی تقریباً 5 ہفتوں سے نئی فنڈنگ سے محروم ہے، جس کے باعث جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن جاری ہے اس صورت حال میں ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) کے اہلکار بغیر تنخواہ کام کرنے پر مجبور ہیں، جس سے عملے کی کمی اور ایئرپورٹس پر طویل قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں، ریپبلکنز نے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی فنڈنگ بحال کرنے پر زور دیا ہے جب کہ ڈیموکریٹس ٹی ایس اے جیسے اداروں کے لیے علیحدہ فنڈنگ کی حمایت کر رہے ہیں، جس میں امیگریشن آپریشنز شامل نہ ہوں۔

    مودی سرکار کی ترجیحات میں بھارتی عوام کے مفاد کی بجائے ’اسرا ئیل نوازی‘شامل

    دریں اثنا ایلون مسلک نے پیشکش کی ہے کہ وہ اس تعطل کے دوران ٹی ایس اے اہلکاروں کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، رپورٹس کے مطابق امریکا کے بڑے ایئرپورٹس، جن میں ہیوسٹن، اٹلانٹا، نیو اورلینز اور فلاڈیلفیا شامل ہیں، شدید تاخیر کا شکار ہیں، جہاں بعض مقامات پر سیکیورٹی چیک کے لیے انتظار کا دورانیہ تین گھنٹے سے تجاوز کر گیا ہے۔

  • ایران کیساتھ جنگ:ٹرمپ آگے چٹان پیچھے کھائی والی صورتحال میں پھنس چکے ہیں،سابق سیکرٹری دفاع

    ایران کیساتھ جنگ:ٹرمپ آگے چٹان پیچھے کھائی والی صورتحال میں پھنس چکے ہیں،سابق سیکرٹری دفاع

    امریکا کے سابق سیکرٹری دفاع اور سابق سی آئی اے ڈائریکٹر لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آگے چٹان پیچھے کھائی والی ایک انتہائی مشکل صورتحال میں پھنس چکے ہیں-

    برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں لیون پنیٹا نے ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹھوس منصوبہ بندی کے بجائے محض قیاس آرائیوں اور غیر حقیقت پسندانہ سوچ پر انحصار کر رہے ہیں، ٹرمپ کو یہ غلط فہمی ہے کہ ان کے بیانات خود بخود حقیقت میں تبدیل ہو جائیں گے، جو کہ ایک غیر سنجیدہ طرزِ عمل ہے، ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنانا ایک بڑی اسٹریٹجک غلطی تھی، کیونکہ اس کے نتیجے میں عوامی بغاوت کے بجائے زیا دہ سخت مؤقف رکھنے والی قیادت سامنے آئی ہے، جس سے تنازع مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

    لیون پنیٹا نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ امریکی انتظامیہ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے ممکنہ خطرے کے لیے پیشگی تیاری نہیں کی، حالانکہ یہ مسئلہ ماضی میں قومی سلامتی کے اجلاسوں میں بارہا زیر بحث آتا رہا ہے اور اس کے عالمی تیل منڈی پر سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں امریکا کے پاس محدود آپشنز رہ گئے ہیں ایک طرف ایران آبنائے ہرمز پر دباؤ بڑھا رہا ہے جس سے جنگ بندی مشکل ہو گئی ہے، جبکہ دوسری جانب اگر امریکا ایرانی ساحلی دفاعی نظام کو نشانہ بناتا ہے اور تیل بردار جہازوں کو راستہ فراہم کرتا ہے تو اس سے جنگ میں مزید شدت اور جانی نقصان کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

    سابق امریکی سیکرٹری دفاع نے موجودہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مضبوط اور خودمختار عہدے دار کے بجائے صرف صدر کے حامی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    لیون پنیٹا نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ امریکی انتظامیہ جنگی مناظر اور ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشوں کی منتقلی کو تشہیری مقاصد اور فنڈ ریزنگ کے لیے استعمال کر رہی ہے، جو کہ غیر مہذب عمل ہے،ایران میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر امریکی حملے پر معافی نہ مانگنا بھی عالمی سطح پر امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اس سے منفی تاثر مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

  • اسرائیلی اور امریکی ڈیفنس سسٹم ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام ،اسرائیلی میڈیا

    اسرائیلی اور امریکی ڈیفنس سسٹم ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام ،اسرائیلی میڈیا

    ایران نے اسرائیل پر ایک بار پھر میزائلوں کی بارش کر دی ان حملوں کی وجہ سے اسرائیل میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات ہیں –

    اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی ڈیفنس سسٹم ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہےایران کی جانب سے تازہ میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں متعدد مقامات پر دھماکوں کے بعد ملبہ گرنے سے نقصان ہوا ہے ایران نے کلسٹر بموں سے لیس میزائلوں سے بھی حملہ کیا، درجنوں عمارتیں ملیا میٹ ہونے کے بعد اسرائیلی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا-

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائلوں کو روکنے کیلئے فضائی دفاعی نظام متحرک کردیا ہے اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل رہائشی علاقوں میں گرے ہیں جس سے گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے ایرانی حملوں میں اب تک 10 اسرائیلی ہلاک اور 180 زخمی ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب ایران کے ساحلی شہر بندرعباس کے ریڈیو اسٹیشن پر امریکا کی جانب سے فضائی حملہ کیا گیا ہے، جس میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا ہےایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملے میں سویلین انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، ایران کے شہر ارومیہ میں فضائی حملے سے رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں،ملبے تلے دبے افرادکونکالنے کیلئے ریسکیوٹیموں کا آپریشن جاری ہے۔

  • ایران سے جنگ،سوئٹزرلینڈ نے امریکا کو اسلحے کی برآمدات روک دیں

    ایران سے جنگ،سوئٹزرلینڈ نے امریکا کو اسلحے کی برآمدات روک دیں

    سوئٹزرلینڈ نے ایران جنگ کے دوران اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکا سمیت جنگ میں شامل ممالک کو اسلحے کی برآمدات معطل کر دی ہیں۔

    سوئس حکومت کے مطابق یہ فیصلہ عالمی قوانین اور غیر جانبداری کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے تاکہ جاری تنازع میں کسی فریق کی حمایت سے گریز کیا جا سکے دوسری جانب سری لنکا نے بھی امریکی جنگی طیاروں کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے سری لنکن صدر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ امریکا نے دو جنگی طیاروں کی تعیناتی کے لیے درخواست کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا۔

    ادھر چین نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے فرانس کے ساتھ مل کر سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اسی سلسلے میں ترکیہ کے وزیر خارجہ نے ترک صدر کا پیغام اماراتی امیر تک پہنچاتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفار تکاری کو ترجیح دینے کی اپیل کی ہے۔

    پی ایس ایل 11 بغیر تماشائیوں کے کرانے اور افتتاحی تقریب منسوخ کرنے کا اعلان

    ماہرین کے مطابق مختلف ممالک کی جانب سے غیر جانبداری اور سفارتی کوششوں میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی سطح پر اس تنازع کو پھیلنے سے روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    شاہ عبدالعزیز کا تاریخی محل سیاحوں اور عوام کے لیے کھول دیا گیا

  • امریکی ویب سائٹ کا جنگ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ رابطوں کا انکشاف

    امریکی ویب سائٹ کا جنگ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ رابطوں کا انکشاف

    ایک امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود بالواسطہ رابطے اب بھی جاری ہیں۔

    ویب سائٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات تو ختم ہو چکے ہیں، تاہم قطر، مصر اور برطانیہ ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں امریکا ایران سے یورینیم افزودگی کے پروگرام کے خاتمے کے ساتھ ساتھ پانچ سال کے لیے میزائل پروگرام محدود کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، دوسری جانب ایران جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ طلب کر رہا ہے،ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران کے منجمد اثاثے واپس کر دے تو ہرجانے کے مطالبے پر پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق بالواسطہ سفارتکاری اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے کسی نہ کسی سطح پر رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    قطر میں ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ

    سعود ی عرب کی ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت

    عالمی یومِ آب:صدر مملکت کا بھارت کا مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر تشویش

  • ٹرمپ کی  ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کی مہلت

    ٹرمپ کی ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کی مہلت

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی اور سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال نہ کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔

    اپنے تازہ بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا مرحلہ وار ایران کے اہم پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کا آغاز بڑے بجلی گھروں سے ہوگا، واشنگٹن اس معاملے میں کسی تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

    ٹرمپ کے بیان پر ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نوعیت کی کوئی کارروائی کی گئی تو مشرق وسطیٰ میں امریکی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

    یاد رہے کہ ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک، توانائی کے انفراسٹرکچر اور آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والی شپنگ کو نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہو کر معطل ہو چکی ہے، اور عالمی منڈی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    یو اے ای کے صدر کا امارات میں تمام افراد کو خصوصی ایس ایم ایس

    امریکی صدر نے ایک اور موقع پر میڈیا پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے، جبکہ بعض رپورٹس اس کے برعکس تاثر دے رہی ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے امریکی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کو نقشے سے مٹا چکا ہے، انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا ایران میں اپنے اہداف کئی ہفتے پہلے ہی حاصل کر چکا ہے، ایرانی قیادت ختم ہو چکی ہے جبکہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ بھی تباہ ہو چکی ہیں،ایران کے پاس اب دفاع کے لیے کچھ باقی نہیں بچا اور وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس وقت کسی معاہدے کے خواہاں نہیں۔

    فضا علی نے دوسری شادی کر لی

    واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں محدود کرنے پر غور کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے ممالک کو اپنی سکیورٹی خود یقینی بنانا چاہیے۔

  • ٹرمپ کا امریکی ایئرپورٹس پر امیگریشن فورسز تعینات کرنے کا اعلان

    ٹرمپ کا امریکی ایئرپورٹس پر امیگریشن فورسز تعینات کرنے کا اعلان

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایئرپورٹس پر امیگریشن فورسز تعینات کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    ہفتے کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پرجاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبر دار کیا کہ اگر ڈیموکریٹس نے بجٹ معاہدہ نہ کیا تو وہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) اہلکار ایئرپورٹس پر تعینات کیے جائیں گے، جو غیر قانونی تارکین وطن کو فوری طور پر گرفتار کریں گے،بیان میں خاص طور پر صومالیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ ایئرپورٹس کو محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی تقریباً 5 ہفتوں سے نئی فنڈنگ سے محروم ہے، جس کے باعث جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن جاری ہے اس صورت حال میں ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) کے اہلکار بغیر تنخواہ کام کرنے پر مجبور ہیں، جس سے عملے کی کمی اور ایئرپورٹس پر طویل قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں، ریپبلکنز نے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی فنڈنگ بحال کرنے پر زور دیا ہے جب کہ ڈیموکریٹس ٹی ایس اے جیسے اداروں کے لیے علیحدہ فنڈنگ کی حمایت کر رہے ہیں، جس میں امیگریشن آپریشنز شامل نہ ہوں۔

    ٹرمپ کا امریکی ایئرپورٹس پر امیگریشن فورسز تعینات کرنے کا اعلان

    دریں اثنا ایلون مسلک نے پیشکش کی ہے کہ وہ اس تعطل کے دوران ٹی ایس اے اہلکاروں کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے تیار ہیں امریکا کے بڑے ایئرپورٹس، جن میں ہیوسٹن، اٹلانٹا، نیو اورلینز اور فلاڈیلفیا شامل ہیں، شدید تاخیر کا شکار ہیں، جہاں بعض مقامات پر سیکیورٹی چیک کے لیے انتظار کا دورانیہ تین گھنٹے سے تجاوز کر گیا ہے۔

    بھارتی وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ

  • پاکستان  اور چین سمیت 5 ممالک امریکا کے لیے خطرہ قرار

    پاکستان اور چین سمیت 5 ممالک امریکا کے لیے خطرہ قرار

    واشنگٹن میں قومی سلامتی کے حوالے سے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی ایک اہم ترین بریفنگ کے دوران پاکستان، روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کو امریکا کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

    امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر بتایا کہ یہ پانچوں ممالک اپنے روایتی میزائلوں کو ایٹمی صلاحیت سے لیس کرنے میں مصروف ہیں، اس رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسلام آباد مبینہ طور پر ایسے بین البراعظمی میزائل تیار کر رہا ہے جو براہ راست امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے چین اور روس اس وقت امریکا کے لیے سب سے بڑے اور براہ راست چیلنج بن کر ابھرے ہیں کیونکہ وہ ایسا جدید دفاعی نظام تیار کر رہے ہیں جو امریکی سیکیورٹی کو ناکام بنا سکتا ہے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے میدان میں بھی چین امریکا کا سخت ترین حریف ثابت ہو رہا ہے۔

    امریکا کا ایران کے خلاف مزید فوجی تعیناتی پر غور

    دوسری جانب شمالی کوریا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے میزائل پہلے ہی امریکا تک پہنچنے کی طاقت رکھتے ہیں، جبکہ ایران کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے بین البراعظمی میزائل بنانے کے پروگرام اور جوہری صلاحیت کو حالیہ حملوں کے ذریعے کافی حد تک ختم کر دیا گیا ہے۔

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے تلسی گبارڈ نے بتایا کہ اگرچہ ایران کی فوجی طاقت اور قیادت کو حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے لیکن وہ اب بھی خطے میں موجود اپنے ساتھیوں کی مدد سے امریکی مفادات پر حملے کرنے کی پوزیشن میں ہے 2025 میں ہونے والی کارروائیوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو پیچھے دھکیل دیا ہے تاہم خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ موقع ملنے پر ایرانی حکومت دوبارہ اپنے میزائل اور ڈرون فورس کو کھڑا کر نے کی کوشش کرے گی۔

    قطر کا ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم

    سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے قانون سازوں کو بتایا کہ اگر ایران کی فوجی سرگرمیوں کو نہ روکا جاتا تو وہ تین ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا تھا، جس کا مطلب ہے کہ ایرانی میزائل یورپ کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنا سکتے تھے اگر ایران اپنی ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھتا تو وہ براہ راست امریکہ کو دھمکانے کی پوزیشن میں بھی آ سکتا تھا۔

    سماعت کے دوران جب ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے یہ سوال پوچھا کہ کیا ایران اگلے چھ ماہ کے اندر امریکا تک پہنچنے والے میزائل بنا سکتا تھا، تو سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے اس کا کوئی واضح وقت نہیں بتایا انہوں نے سینیٹر کے خدشات کو درست تو قرار دیا لیکن یہ نہیں کہا کہ ایران کو ایسا کرنے میں کتنا عرصہ درکار ہوتا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے ایران کی صلاحیتوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاہم وہ کسی حتمی تاریخ پر بات کر نے سے گریز کر رہے ہیں۔

    بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع

    دوسری جانب ایک دلچسپ انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے بند کمرہ بریفنگ میں کانگریس کے عملے کو بتایا تھا کہ ان کے پاس ایسے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے کہ ایران امریکا پر کسی بڑے حملے کی فوری تیاری کر رہا تھا۔

    اس دوران امریکی سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں اور ارکان پارلیمنٹ نے اس جنگ کے معاشی اثرات اور امریکی ٹیکس گزاروں کے اربوں ڈالرز کے اخراجات پر تشویش کا اظہار کیا ہے تلسی گبارڈ نے سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اس وقت مختلف بیرونی ممالک کے ساتھ ساتھ شدت پسند نظریات سے بھی شدید خطرات کا سامنا ہے، انتہا پسند گروہ اب بھی متحرک ہیں اور شریعت کی بنیاد پر خلافت کے قیام کا نظریہ پھیلا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں،یہ مخصوص نظریہ مغربی طرز زندگی اور جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے-

    ایرانی کا جوابی وار جاری،تل ابیب پرمیزائل حملے،عمارت،گاڑیاں تباہ،خوف و ہراس