Baaghi TV

Tag: انتخابات

  • آزاد کشمیر بلدیاتی انتخابات:نتائج آنے کا سلسلہ جاری:حکمران جماعت کوشکست

    آزاد کشمیر بلدیاتی انتخابات:نتائج آنے کا سلسلہ جاری:حکمران جماعت کوشکست

    مظفرآباد:آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی حکمران جماعت تحریک انصاف کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر بلدیاتی انتخابات: پی ٹی آئی کو مظفر آباد میں شکست، ن لیگ بازی لے گئی

    وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کی اپنی آبائی یونین کونسل میں بھی پی ٹی آئی کو شکست ہوگئی۔ ان کی یو سی میں پیپلز پارٹی جموں و کشمیر کے امیدوار اویس لیاقت 134 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے، پی ٹی آئی امیدوار نے 111 ووٹ حاصل کیے۔

    یوم سندھ ثقافت:صوبے بھرمیں رنگا رنگ تقریبات،سندھ کی صدیوں پرانی ثقافت کا مظہربن…

    راولا کوٹ میں بھی پی ٹی آئی کو بدترین شکست ہوئی ہے۔ راولا کوٹ میونسپل کارپوریشن کی 22 نشستوں میں سے پی ٹی آئی صرف 3 نشستیں جیت سکی ہے۔یوں مظفرآباد کے بعد آزاد کشمیر کے ایک اور بڑے شہر راولا کوٹ میں بھی میئر اپوزیشن سے ہوگا۔ پونچھ ڈویژن میں 12 امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہوچکےہیں۔

    انتخابات کے پہلے مرحلے میں بھی حکمران پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھااس سے پہلے آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں بھی حکمران پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    یوم سندھ ثقافت:صوبے بھرمیں رنگا رنگ تقریبات،سندھ کی صدیوں پرانی ثقافت کا مظہربن…

    آزاد کشمیر بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں دارالحکومت مظفر آباد میں پی ٹی آئی کو شکست ہوئی تھی، پی ٹی آئی میونسپل کارپوریشن مظفرآباد کی 36 میں سے 8 نشستیں جیت سکی جبکہ مسلم لیگ ن 12 وارڈز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی۔

    مظفر آباد کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پیپلز پارٹی کو بھی 7 نشستیں ملی تھیں،7 آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے جبکہ 2 سیٹوں پر مسلم کانفرنس نے کامیابی حاصل کی تھی۔نیلم، جہلم ویلی اور مظفرآباد کے 3 اضلاع کی یونین کونسلز کی 74 میں سے33 نشستوں پر تحریک انصاف کامیاب رہی تھی۔غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پہلے مرحلے میں پیپلز پارٹی 23، مسلم لیگ ن 10 سیٹوں پر کامیاب رہی، 5 پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ مسلم کانفرنس 2 نشستیں جیت سکی تھی۔

  • آزادکشمیر: بلدیاتی انتخابات کاپہلا مرحلہ:غیر حتمی نتائج،ن لیگ کو سبقت حاصل

    آزادکشمیر: بلدیاتی انتخابات کاپہلا مرحلہ:غیر حتمی نتائج،ن لیگ کو سبقت حاصل

    آزادکشمیر: بلدیاتی انتخابات کاپہلا مرحلہ:غیر حتمی نتائج،ن لیگ کو سبقت حاصل،اطلاعات کے مطابق آزادکشمیر میں 31 سال بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے مرحلے میں مظفر آباد کے 3 اضلاع میں پولنگ کے بعد گنتی کا عمل جاری ہے۔

    متنازع ٹوئٹس: اعظم سواتی کیخلاف کراچی، کوئٹہ اور جیکب آباد میں مقدمات درج

    مظفرآباد ڈویژن کے تین اضلاع نیلم، مظفرآباد اور جہلم ویلی میں پہلے مرحلے میں ہونے والے الیکشن کے بعد غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کا سلسلہ جاری ہے۔غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق مطابق 36 میں سے 12 نشستوں پر ن لیگ نے میدان مارلیا۔ تحریک انصاف کے 10، پیپلزپارٹی کے7 جبکہ 7 آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوگئے۔

    قومی اسمبلی کا الیکشن 6 ماہ آگے لے جا سکتےہیں: رانا ثناء اللہ

    خیال رہے کہ 614 نشستوں میں سے 19 کونسلرز بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جبکہ 595 نشستوں پر 31 خواتین سمیت 2 ہزار 750 امیدوار میدان میں ہیں۔مظفرآباد ڈویژن کے تین اضلاع نیلم، مظفرآباد اور جہلم ویلی میں کل 6 لاکھ 97 ہزار 732 ووٹرز ہیں، جن میں سے خواتین ووٹرز کے تعداد 3 لاکھ 21 ہزار 536 ہے۔

    شراب سپلائی کرنیوالے ملزمان کو رہا نہ کرنے پر وزیراعظم آزاد کشمیر آپے سے باہر

    بلدیاتی انتخابات میں تقریباً 2 ہزار 716 امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن میں زیادہ تر تعلق پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ہے۔حکام کے مطابق کہ ایک ہزار 323 پولنگ اسٹیشن میں سے 418 حساس اور 257 انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جہاں بالترتیب 3 اور5 پولیس اہلکار تعینات ہوں گے تاہم دیگر پولنگ اسٹیشن پر2 پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔

  • ملائیشیا:عام انتخابات میں کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کرسکی

    ملائیشیا:عام انتخابات میں کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کرسکی

    کواللمپور:ملائیشیا کے عام انتخابات میں کوئی بھی جماعت حکومت بنانے کیلئے واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکی۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اب مختلف جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کا سوچ رہی ہیں‌

    ملائیشیا کے الیکشن کمیشن کے مطابق انور ابراہیم کے اتحاد پاکاتان ہراپن (پی ایچ) نے 222 رکنی پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ 82 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ سابق وزیراعظم محی الدین یاسین کی پیریکاتن نیشنل (پی این) 73 نشستوں کے ساتھ پیچھے ہے، موجودہ ملائیشین وزیراعظم اسماعیل صابری یعقوب کی حکمران جماعت باریسن نیشنل (BN) اتحاد کو صرف 30 نشستوں پر ہی کامیابی ملی۔

    زیادہ نشستیں جیتنے والے دونوں امیدواروں انور ابراہیم اور محی الدین نے اتوار کو اپنی اپنی کامیابی کا اعلان کردیا حالانکہ نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں میں سے کسی کے پاس حکومت بنانے کے لیے درکار ووٹ نہیں ہیں، حکومت بنانے کیلئے 112 ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔

    ہفتہ کی رات اپنے حامیوں سے خطاب میں انور ابراہیم نے دعویٰ کیا کہ انہیں حکومت بنانے کے لیے پارلیمنٹ کے اراکین کی کافی حمایت حاصل ہے اور وہ بادشاہ کو لکھے گئے خط میں اپنی حمایت کی تفصیل دیں گے، جبکہ محی الدین نے اپنے حامیوں کو یہ بتایا کہ وہ صباح اور سراواک سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ایک اتحاد بنانے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

    الیکشن میں ملائیشیا کے سابق وزیراعظم 97 سالہ مہاتیر محمد 53 سال میں پہلی مرتبہ اپنی پارلیمانی سیٹ ہار گئے۔ مہاتیرمحمد نے دو دہائیوں سے زائد عرصے تک ملائیشیا کے وزیر اعظم کے طور پر کام کیا وہ اپنی پارلیمانی نشست برقرار رکھنے میں ناکام رہے، 1969 کے بعد انتخابات میں مہاتیر کی یہ پہلی شکست ہے۔

  • امریکی وسط مدتی انتخابات؛ پاکستانی امیدوار بھی کامیاب

    امریکی وسط مدتی انتخابات؛ پاکستانی امیدوار بھی کامیاب

    واشنگٹن:امریکا میں ہونے والے وسطِ مدتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے تاہم کچھ حلقوں کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں جن میں کئی پاکستانی نژاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے وسط مدتی الیکشن کے ابتدائی نتائج میں ٹیکساس سے پاکستانی نژاد امریکی شہری سلمان بھوجانی ریاستی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے۔

    اسی طرح ٹیکساس میں ہی پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر سلیمان لالانی کی جیت کا امکان روشن ہے۔ علی سجاد مسلسل تیسری بار بھی آرٹیشیا شہر کے میئر منتخب ہوگئے۔

    ادھر کیلی فورنیا کے ڈسٹرکٹ فورٹی میں پاکستانی نژاد امریکی شہری ڈاکٹر آصف محمود کا ری پبلکنز کے کانگریس یونگ کے ساتھ کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔ ڈاکٹر آصف محمود کے پہلے مسلمان سینیٹر کے طور پر کامیابی کے امکانات بھی ہیں۔

    علاوہ ازیں علی سجاد نے آرٹیشیا شہر کا میئر منتخب ہونے کی ہیٹ ٹرک کرلی۔ انھیں مسلسل تیسری بار فتح ملی۔ ان کا تعلق حکمراں جماعت ڈیموکریٹک سے ہے تاہم ان انتخابات میں ری پبلکنز کے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے امکان ہے۔

    خیال رہے کہ امریکا میں ایوان زیریں کو ایوان نمائندگان اور ایوان بالا کو سینیٹ کہا جاتا ہے اور ان دونوں ایوان کے ارکان کو مجموعی طور پر کانگریس کہا جاتا ہے یعنی کانگریس سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے تمام ارکان پر مشتمل مشترکہ پارلیمنٹ ہے۔

    اس وقت ایوان بالا میں مجموعی 100 نشستوں میں سے 48 حکمراں جماعت کے پاس ہیں اور دو آزاد امیدواروں کی حمایت بھی حاصل ہے جب کہ 50 ہی نشستیں اپوزیشن ری پبلکنز کے پاس ہیں۔

    ایوان زیریں یعنی ایوان نمائندگان میں مجموعی نشستیں 435 ہیں جن میں سے 220 حکمراں جماعت جب کہ 212 ری پبلکنز کو حاصل ہیں 2 نشستیں خالی ہیں اور 6 براہ راست ممبر ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایوان نمائندگاں میں 435 میں سے حکمراں جماعت 188 اور ری پبلکنز 202 نشستوں پر کامیابی سمیٹ لیں گی تاہم اکثریت ثابت کرنے کے لیے 218 نشستوں کی ضرورت ہوگی۔

    اسی طرح سینیٹ کی 35 نشستوں میں سے اکثر پر ری پبلکنز کی جیت کے امکانات ہیں جس کے بعد سینیٹ میں دلچسپ صورت حال ہوجائے گی اور صدر جوبائیڈن کو اپنی پالیسیوں کی منظوری کے لیے اپوزیشن کی سخت مزاحمت کا سامنا ہوگا۔

    واضح رہے کہ امریکا میں ہر دو سال بعد وسط مدتی الیکشن ہوتے ہیں جس میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 نشستوں میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوتی ہے۔

  • امریکہ کی وسطی  ریاستوں میں پولنگ ختم،ووٹنگ کی گنتی شروع

    امریکہ کی وسطی ریاستوں میں پولنگ ختم،ووٹنگ کی گنتی شروع

    امریکہ کی وسطی ریاستوں میں بھی پولنگ ختم ، مغربی ریاستوں میں ووٹنگ جاری ہے-

    باغی ٹی وی : امریکا میں وسط مدتی انتخابات ہو رہے ہیں، مختلف ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے اور ووٹوں کی گنتی شروع ہو چکی ہے۔

    پاکستانی نژاد برطانوی گلوکار زین ملک کا وزیرِاعظم رشی سونک کو بچوں کے اہم مسئلے پرخصوصی خط

    امریکی ریاست پینسلوینیا، اوہایو، نیو یارک، نیو جرسی، ٹیکساس، مشی گن، اور ریاست مین سمیت مختلف ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم اور ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

    جارجیا، ورجینیا، فلوریڈا، ساؤتھ کیرولائنا، اور ورماؤنٹ سمیت نیو ہیمپشائر کے کچھ علاقوں میں بھی پولنگ کا وقت ختم ہو نے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

    پروجیکشن کے مطابق ایوان نمائندگان میں ری پبلکن کو 78اور ڈیموکریٹس کو 34 نشستوں پر برتری حاصل ہے ،پروجیکشنسینیٹ میں ڈیموکریٹس کو 37 جبکہ ری پبلکن کو 36 نشستوں پر برتری ہے-

    ایوان نمائندگان میں ری پبلکن کو 78اور ڈیموکریٹس کو 34 نشستوں پر برتری حاصل ہے ایوان نمائندگان میں ری پبلکن کو 86اور ڈیموکریٹس کو 35 نشستوں پر برتری حاصل ہے جبکہ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو 37 جبکہ ری پبلکن کو 36 نشستوں پر برتری ہے-

    بھارت: دنیا کے امیر ترین مندرکے کتنی دولت؟ ٹرسٹ نے 100 سال بعد اثاثے ظاہر کر دیئے

    سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو 38 جبکہ ری پبلکن کو 38 نشستوں پر برتریہے ایوان نمائندگان میں ری پبلکن کو 112اور ڈیموکریٹس کو 65 نشستوں پر برتری حاصل ہوئی ایوان نمائندگان میں ری پبلکن کو 127اور ڈیموکریٹس کو 72 نشستوں پر برتری حاصل ہوئی-

    واضح رہے کہ متحدہ ریاست ہائے امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 سمیت سینیٹ کی 35 نشستوں، 36 ریاستوں کے گورنروں، ریاستی اسمبلیوں اور مقامی سطح پر عوامی نمائندوں کا انتخاب ہو رہا ہے کئی ریاستوں میں مسلم اور پاکستانی امیدوار بھی قسمت آزما رہے ہیں ڈیموکریٹس جیتے یا ریپبلکن اہم ترین امور پرقانون سازی بھی متاثرہوگی، امیگریشن، جرائم، اسقاط حمل، تعلیم، صحت ہر اشو بیلٹ پر آ گیا۔

    کانگریس میں طاقت کا توازن ری پبلکنز کے پلڑے میں آیا تو ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن مضبوط ہو گی، صدربائیڈن بیک فُٹ پر چلے جائیں گے، ڈیموکریٹس کیلئے صدارتی الیکشن بھی مصیبت بننے کاخدشہ ہے امریکا کے وسط مدتی انتخابات کیلئے ووٹنگ میں ایوان نمائندگان میں ابھی ڈیموکریٹس کی 220 اور ری پبلکنز کی 212 نشستیں ہیں جبکہ 3 نشستیں خالی ہیں۔

    نیوزی لینڈ:51 نمازیوں کوشہید کرنے والے مجرم کی سزا کیخلاف اپیل

    دوسری جانب سینیٹ میں ری پبلکنز کے 50 اور ڈیموکریٹس کے 48 سینیٹرز ہیں، 2 آزاد سینیٹرز کی حمایت ڈیموکریٹس کو حاصل ہے، نیویارک، پنسلوانیا سمیت دس بڑی امریکی ریاستوں میں ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

    واضح رہے کہ انتخابات کیلئے چار کروڑ امریکی شہری پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں، ابتدائی اندازوں کے مطابق ایوان نمائندگان میں ری پبلکنز کی برتری کا امکان زیادہ ہے۔

    علاوہ ازیں امریکی سینیٹ میں پہلی بارمسلمان رکن منتخب کا امکان روشن ہو گیا ہے، پاکستانی امریکن ڈاکٹر آصف محمود کے ایوان نمائندگان کا رکن منتخب ہونے کا امکان پیدا ہو گئے ہیں۔

    کھاریاں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر آصف محمود کا کیلی فورنیا کے ڈسٹرکٹ فورٹی میں ری پبلکن رکن کانگریس یونگ کم سے کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے کنیٹی کٹ میں پاکستانی امریکن ڈاکٹر سعود انور کے تیسری بار ریاستی سینیٹ کا رکن بننے کا امکان ہے۔

    ٹوئٹر نے بھارت میں 90 فیصد سے زائد عملے کو نوکری سے فارغ کر دیا

    ٹیکساس کی اسمبلی میں ڈاکٹر سلیمان لالانی، سلمان بھوجانی بھی الیکش لڑ رہے ہیں جبکہ ٹیکساس ہی سے سہراب گیلانی بھی ایوان کا رکن بننے کے امیدوار ہیں،کیلی فورنیا سے علی سجاد تاج تیسری بار مئیر بننے کی دوڑ میں شامل ہیں جبکہ صبینہ ظفر اور فرح خان ایک بارپھر کونسل کا رکن بننے کی امیدوارہیں۔

    ترک امریکن ڈاکٹر مہمت عوز ریاست پنسلوینیا سے ری پبلکن پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ صومالیہ کی 26 برس کی منا عبدی ریاست مین (Maine) کے ڈسٹرکٹ 95 سے بلامقابلہ منتخب ہو چکی ہیں-

    امریکا میں مسلمانوں کی تعداد 36 لاکھ ہے جو کہ مجموعی آبادی کا محض ایک اعشاریہ ایک فیصد بنتی ہے جبکہ امریکا میں مسلم ووٹروں کی تعداد صرف 12 لاکھ ہے۔

  • امریکا میں وسط مدتی انتخابات، ووٹنگ آج ہو گی،ایلون مسک کا ری پبلکنز کو ووٹ دینے کا مشورہ

    امریکا میں وسط مدتی انتخابات، ووٹنگ آج ہو گی،ایلون مسک کا ری پبلکنز کو ووٹ دینے کا مشورہ

    ٹوئٹر کے نئے سربراہ ایلون مسک نے امریکا میں منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکنز کی حمایت کر دی-

    باغی ٹی وی : ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں آزاد سوچ رکھنے والے ووٹرز کو مشورہ دیا کہ وہ ریپبلکن کانگریس کے لیے ووٹ دیں۔

    ٹوئٹر کی جانب سے سبسکرپشن سروس کو متعارف کرانے کا سلسلہ شروع


    ایلون مسک نے کہا کہ ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس کے حامی کبھی دوسرے فریق کو ووٹ نہیں دیتے، آزاد ووٹرز وہی ہیں جو اصل میں فیصلہ کرتے ہیں کہ سربراہ کون ہوگا۔


    خیال رہے کہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان کی 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں کیلئے ووٹنگ منگل کو ہوگی 36 ریاستوں کے گورنروں کا انتخاب بھی کل ہی ہوگا، ریاستی اسمبلیوں اور مقامی سطح پر بھی کل انتخابات ہوں گے –

    انتخابات کیلئے چار کروڑ امریکی خود یا ڈاک کے ذریعے پہلے ہی ووٹ کاسٹ کر چکے ہیں، ڈیموکریٹس اور ری پبلکن دونوں جماعتیں اپنی اپنی فتح کے دعوے کررہی ہیں ریپبلکنز کو سینیٹ میں اکثریت کیلئے ایک اور ایوان نمائندگان میں اکثریت کیلئے صرف پانچ نشستیں درکار ہیں-

    واضح رہے کہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات کومڈٹرم الیکشن کہا جاتا ہے، یہ صدارتی الیکشن کے ہر دوسال بعد ہوتے ہیں ، جو صدرکی مقبولیت اور غیرمقبولیت یا حکومتی پالیسیوں کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردارادا کرتے ہیں امریکی آئین کے مطابق کانگر یس، انتظامیہ اورعدلیہ ریاست کی تین شاخیں ہیں ، صدر انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے اور اس کا انتخاب ہر چار سال بعد ہوتا ہے۔

    ایلون مسک کے کمپنی سنبھالنے کے بعد ایمبر ہرڈ کا ٹوئٹر سےاکاؤنٹ غائب ہو گیا

    ایوانِ نمائندگان مالیاتی امور، ٹیکسیشن سمیت دیگر قوانین سے متعلق بل پیش کرنے، وفاقی عہدے داروں کے مواخذے جیسے اہم اختیارات رکھتا ہے جبکہ تجارتی اور دیگر بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق اور صدر کی جانب سے نامزدگیوں کی توثیق سینیٹ کرتی ہے۔

    ہر بار ایک تہائی سینیٹرزکا انتخاب ازسرنو ہوتا ہے، اس لیے مدت مکمل ہونے پر سینیٹرز کی تین کلاسز بنائی جاتی ہیں، ان میں سے کلاس اول اوردوم میں تینتیس، تینتیس اور کلاس سوم میں چونتیس سینیٹرز شامل ہیں۔

    اس بار وسط مدتی اتنخابات میں چونتیس سینیٹرز کا انتخاب کیا جائے گا اور اس سال کامیاب ہونے والے کانگریس کے ارکان تین جنوری 2023 سے اپنی ذمےد اریاں نبھائیں گے۔

    ٹوئٹر ملازمین کونکالنے سے امریکا کے وسط مدتی انتخابات پر بھی منفی اثرات پڑنے کا…

  • ضمنی انتخابات کے لیے فوج کی تعیناتی کی منظوری

    ضمنی انتخابات کے لیے فوج کی تعیناتی کی منظوری

    اسلام آباد: کراچی میں ہونے والے بلدیاتی اور گیارہ حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے وزارت داخلہ نے رینجرز، فوج اور ایف سی کی تعیناتی کی منظوری دیدی۔ پاک فوج کوئیک رسپانس فورس کے طور پر تعینات ہو گی جس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ:معاملات مزید خراب ہوسکتے…

    وزارت داخلہ کی طرف سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا، جاری کردہ مراسلہ کے مطابق قومی اسمبلی کے 8 اور پنجاب اسمبلی کے 3 حلقوں میں پاک فوج کوئیک رسپانس فورس کے طور پر تعینات ہوگی رینجرز یا ایف سی کے اہلکار تمام پولنگ سٹیشنز کے باہر تعینات ہونگے۔

    وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ مراسلہ کے مطابق ضمنی انتخابات کے لئے تعیناتیاں 15 تا 17 اکتوبر تک ہونگی، الیکشن کمیشن کی ڈیمانڈ کے مطابق اہلکار فراہم کئے جائیں گے۔

    میری قوم کے بچوں کو اسکولوں میں سیرت النبیﷺ پڑھانے کی ضرورت ہے،عمران خان

    مراسلہ کے مطابق کراچی ڈویژن کے تمام 7 اضلاع میں 23 اکتوبر کو شیڈول بلدیاتی انتخابات کے لئے بھی فوج کیو آر ایف پر ہو گی، سندھ رینجرز کے اہلکار کراچی ڈویژن کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعینات ہونگے، الیکشن کمیشن اجلاس میں وزارت دفاع اور افواج پاکستان کے نمائندے نے فوج ایف سی اور رینجرز تعینات کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

    آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے:وزیرخزانہ اسحاق ڈار

    یاد رہے کہ این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 237 ملیر کراچی ، این اے 239 کورنگی کراچی، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب، این اے 157 ملتان، پی پی 139 شیخوپورہ، پی پی 241 بہاولنگر، پی پی 209 خانیوال میں ضمنی انتخابات 16 اکتوبر کو شیڈول ہیں۔

  • عام انتخابات کی تیاری کریں:عمران خان نےامیدواروں کو شارٹ لسٹ کرنےکا ٹاسک دےدیا

    عام انتخابات کی تیاری کریں:عمران خان نےامیدواروں کو شارٹ لسٹ کرنےکا ٹاسک دےدیا

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارٹی تنظیموں کو عام انتخابات کیلئے امیدواروں کو شارٹ لسٹ کرنے کا ٹاسک دے دیا۔ جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی پنجاب حماد اظہر نے کہا کہ عام انتخابات کی تیاری قبل ازوقت شروع کر دی ہے، حتمی فیصلے پارلیمانی بورڈ اور عمران خان کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پارٹی تنظیموں کو عام انتخابات کیلئے امیدواروں کو شارٹ لسٹ کرنے کا ٹاسک دے دیا ہے۔

    پنجاب اسمبلی میں سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی اسد عمر کی زیرصدارت اجلاس ہوا، اجلاس میں یاسمین راشد، حماد اظہر، اعجاز چودھری اور تنظیمی عہدیداران کی شرکت کی۔ اسد عمر نے پارٹی تنظیموں کے ساتھ امیدواروں کو شارٹ لسٹ کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عمران خان نے اگلی حکومت کےلیے بہترین حکمت اپنانے کے حوالے سے پہلے سے تیاری کا حکم بھی دے دیا ہےتاکہ جو غلطیاں پہلے سرزد ہوئی ہیں وہ دوبارہ نہ ہوں

    جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی پنجاب حماد اظہر نے کہا کہ وفا دار اور مضبوط پارٹی امیدواروں کی ابتدائی فہرستیں پیش کر دی ہیں، عام انتخابات کی تیاری قبل ازوقت شروع کر دی ہے، حتمی فیصلے پارلیمانی بورڈ اور عمران خان کریں گے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • لاہور: آصف علی زرداری کی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات

    لاہور: آصف علی زرداری کی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات

    لاہور:سابق صدر،پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما آصف علی زرداری پی ڈی ایم اجلاس کے بعد چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے

    پارٹی ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری نے مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے لاہور میں ان کے رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے۔ملاقات میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخابات کے حوالے سے معاملات بھی زیر غور آئے جبکہ ملک کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آصف زرداری نے موجودہ سیاسی صورت حال پر چوہدری شجاعت کو اعتماد میں لیا۔

    شان شاہد کی عمران خان کو ضمنی انتخابات جیتنے کی مبارکباد

    خیال رہے کہ اس سے قبل اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں نے اسمبلیوں کا وقت پورا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری ، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے شرکت کی۔

    اتحادی جماعتوں کے رہنماوں کا کہنا ہے قبل ازوقت انتخابات بہتر آپشن نہیں جبکہ پنجاب میں بھی وزارت اعلیٰ بچانے کے لیے تمام اتحادی جماعتیں کوشش کریں گے۔

    پی ٹی آئی کور کمیٹی کی وزیراعلیٰ کیلئے پرویزالٰہی کے نام کی توثیق، 14 ووٹوں کی برتری کا دعویٰ

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی رائے کا بے حد احترام ہے مگر فی الحال پارٹی میں قومی اسمبلی میں واپس آنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔شاہ محمود قریشی کاکہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ہم قومی اسمبلی آنے کو تیار نہیں کیونکہ ہمارا قومی اسمبلی واپس آنا بے معنی ہوگا۔

    وائس چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں واپسی کیلئے پارٹی سطح پر کوئی مشاورت بھی نہیں کی گئی، تحریک انصاف کا فوری نئے انتخابات کا مطالبہ برقرار ہے۔

    سابق وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے ساڑھے 3سال کی محنت سے ملکی معیشت کو مستحکم کیا تھا مگر آج ملکی معاشی صورتحال روز بہ روز بگڑتی جارہی ہے اور موجودہ حکومت ملک کو دیوالیہ ہونے کی نہج پر لے آئی۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قدر بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، صورتحال حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے، ان حالات میں ہم کیسے قومی اسمبلی واپس آئیں۔

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور حکومتی اتحاد نے قبل از وقت انتخابات نہ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اہم ترین اجلاس میں آصف زرداری، فضل الرحمان اور دیگر جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے، ضمنی الیکشن میں بد ترین صورتحال کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، شرکا کو صوبائی اسمبلی میں نمبر گیم پر بریفنگ بھی دی گئی۔

    فوری انتخابات:تحریک انصاف قومی اسمبلی میں واپس نہ آنے کے مؤقف پر قائم

    پارٹی ذرائع کے مطابق لاہور میں پی ڈی ایم اور اتحادیوں کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا، اجلاس میں پی ڈی ایم اور حکومتی اتحاد نے ملک میں قبل از وقت نہ کروانے کا متفقہ فیصلہ کیا۔

    اس حوالے سے پارٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ قبل از وقت انتخابات عمران خان کے دباؤ پر نہیں بلکہ حکومتی اتحاد کے متفقہ فیصلے کے تحت ہوں گے اور اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی۔

  • بھارت کا اگلا صدر کون ہو گا؟ ووٹنگ جاری

    بھارت کا اگلا صدر کون ہو گا؟ ووٹنگ جاری

    بھارت کے 15واں صدر کا انتخاب کرنے کے لیے پارلیمینٹ ہاوس اور مختلف ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں میں ووٹنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں اور یوگی آدتیہ ناتھ نے لکھنؤ اسمبلی میں ووٹ ڈالا۔ دوسری جانب بہار کےسیتامڑھی سے ایم ایل اے متھیلیش کمار اپنا ووٹ ڈالنے اسٹریچرپرپہنچےجبکہ بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کردیا ہے-

    ووٹوں کی گنتی اور اعلان 21 جولائی کو ہوگا، جبکہ نومنتخب صدر 25 جولائی کو حلف لیں گے صدارتی انتخاب میں تقریباً 4 ہزار سے زائد کونسل ممبران اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ آج ملک میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ ایوان کے اس اجلاس میں ہم نئے صدر اور نائب صدر کی رہنمائی حاصل کریں گے۔

    بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے کی صدر جمہوریہ امید وار دروپدی مرمو اور اپوزیشن کے یشونت سنہا کے درمیان مقابلہ ہے، دروپدی مرمو کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی ضرورت ہے، رام ناتھ کوند کی بطور صدر 24 جولائی کو مدت پوری ہورہی ہے۔

    بی جے پی نے 21 جون کو دوروپی مرمو کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا، تب این ڈی اے کے کھاتے میں 5,63,825 یا 52 فیصد ووٹ تھے۔ سنہا کے 24 اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے 4,80,748 یعنی 44 فیصد ووٹوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ 27 دنوں میں، مرمو کو فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی کیونکہ کئی غیر این ڈی اے پارٹیاں حمایت میں آئیں۔ اگر تمام 10,86,431 ووٹ ڈالے جائیں تو مرمو کو 6.67 لاکھ (61 فیصد) سے زیادہ ووٹ ملیں گے۔ سنہا کے ووٹ کم ہو کر 4.19 لاکھ رہ گئے۔ جیت کے لیے 5,40,065 ووٹ درکار ہیں۔