Baaghi TV

Tag: انتخابات

  • آج عام انتخابات ہوں تو پی ڈی ایم اتحاد پی ٹی آئی کو شکست دے سکتا ہے، سروے

    آج عام انتخابات ہوں تو پی ڈی ایم اتحاد پی ٹی آئی کو شکست دے سکتا ہے، سروے

    لاہور:آج عام انتخابات ہوں تو پی ڈی ایم اتحاد پی ٹی آئی کو شکست دے سکتا ہے،یہ نئی ڈویلپمنٹ ایک سروے کے نتیجے میں سامنے آئی ہے ، ملک میں اگر آج عام انتخابات ہوں تو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے اتحاد کو 39 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے۔

    پاکستان میں آنے والے انتخابات کے حوالے سے نئی سروے رپورٹ نے پاکستان میں اس وقت سیاسی جماعتوں کی قوت کا ایک اندازہ کیا ہے ، یہ بات عوامی آراء جاننےکے تحقیقی ادارےانسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینیئن ریسرچ کے سروے میں سامنے آئی ہے۔

    پاکستان میں آئندہ الیکشن میں کیا صورت حال ہوگی اس کے متعلق سروے کے مطابق اگر آج عام انتخابات ہوں تو مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی ، جے یو آئی ف اور ایم کیو ایم کے اتحاد کو 39 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے۔سروے نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 29 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر آسکتی ہے۔

    دوسری طرف اسی حوالے سے دیئے گئے سروے کے مطابق انفرادی صورت میں 29 فیصد عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دینےکا کہا جب کہ پچیس فیصد نے ن لیگ کو ووٹ دینے کے ارادے کا اظہار کیا۔جبکہ دیگرجماعتیں اس سے بھی پیچھے ہیں‌

    پاکستان میں‌آئندہ ہونے والے عام انختخابات کے حوالے سے ہونے والے سروے کے دوران نو فیصد افراد نے پیپلز پارٹی کو، تین فیصد نے جے یو آئی ف کو ووٹ دینےکا کہا، جب کہ سات فیصد نےکسی کو بھی ووٹ نہ دینےکا کہا۔

  • بلوچستان بلدیاتی انتخاب جے یو آئی سب سے آگے پی ٹی آئی کا نواں نمبر

    بلوچستان بلدیاتی انتخاب جے یو آئی سب سے آگے پی ٹی آئی کا نواں نمبر

    کوئٹہ :بلوچستان بلدیاتی انتخابات: بیشتر آزاد امیدوار کامیاب، سیاسی جماعتوں میں جے یو آئی سب سے آگے،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں آزاد امیدواروں نے واضح اکثریت حاصل کرلی۔

    بلوچستان کے 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بغیر وقفے کے جاری رہی۔ووٹنگ میں شہریوں نے بھرپور دلچسپی لی اور خواتین نے بھی ووٹ کا حق استعمال کیا جبکہ ضلع تربت میں 31 فیصد ٹرن آؤٹ رہا جو پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر کے ٹرن آؤٹ کے برابر ہے۔

    اب تک کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجے کے مطابق بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں آزاد امیدواروں نے میدان مار لیا اور اب تک 1160 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔موصول ہونے والے غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے تحت سیاسی جماعتوں میں جمعیت علمائے اسلام سب سے آگے ہے اور اب تک 143 نشستوں پر کامیابی حاصل کرچکی ہے۔

    جے یو آئی نے کارپوریشن کی 12، میونسپل کمیٹیوں کی 44 اور یونین کونسلوں کی 87 نشستیں جیت لی ہیں۔

    اب کے موصول ہونے والے غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق صوبے میں حکمراں بلوچستان عوامی پارٹی 113 نشستیں حاصل کرکے دوسرے، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی 68 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔

    اب تک کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق نیشنل پارٹی نے 45 نشستیں حاصل کرلیں جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) 39 نشستوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر آ گئی۔پیپلز پارٹی نے اپ سیٹ کیا ہے اور 37 نشستوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔

    خیال رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی کوئی نشست نہیں ہے اور بلدیاتی انتخابات میں پی پی امیدواروں کی کامیابی کو اپ سیٹ قرار دیا جارہا ہے۔

    اب تک کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) بھی 27 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی جبکہ پاکستان تحریک انصاف صرف7 نشستیں حاصل کرسکی اور مسلم لیگ ن نے 14 نشستیں جیتی ہیں۔

    دوسری جانب بلدیاتی انتخابات میں نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے اور سرکاری وحمتی نتیجے کا اعلان آئندہ دنوں میں کیا جائے گا۔ کوئٹہ اور لسبیلہ میں الیکشن بعد میں ہوں گے ۔

    بلوچستان بلدیاتی انتخابات: نتائج کا سلسلہ جاری:آزاد امیدوار سب سے آگے،اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں تقریباً 10 سال کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ھوا۔ بلوچستان کے 34 میں سے 32 اضلاع میں منعقد ہونے والے ان انتخابات میں 17000 ہزار سے زاید امیدواروں نے بھرپور حصہ لیا۔

    بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں 132 خواتین جنرل نشتوں پر براہ راست انتخابی عمل میں حصہ لیا

    انتخابات میں خواتین کا اتنی بڑی تعداد میں مخصوص کی بجائے جنرل نشستوں پر انتخابی میدان میں حصہ لیا جو ایک حوصلہ افزاء عمل ہے۔ نہ صرف خواتین نے انتخابی عمل میں بطور امیدوار شرکت خاطر خواہ رہی بلکہ خواتین ووٹرز کا ٹرن آوٹ بھی کافی مثبت رہا۔

    نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی الیکٹورل پراسس میں بھرپور شرکت کی،لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے باہر آئے اور ریاست مخالف عناصر کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں کو مسترد کیا۔

    تربت ڈویژن میں 61 فیصد ٹرن آوٹ ہوا جو پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر کے برابر ہے۔ 1988 کے انتخابات کے بعد یہ سب سے زیادہ ٹرن آوٹ ھے۔

    کامیاب بلدیاتی انتخابات کا کریڈٹ بلوچستان کے بہادر عوام، انتظامیہ ، قانون نافذ کرنے والے اِداروں اور اُن سینکڑوں جوانوں کو جاتا ھے جِنھوں نے بلوچستان میں قیامِ اَمن کیلۓ اَپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

    یہ درحقیقت بلوچستان کی قومی دھارے میں آنے اور خوشحالی کا پیش خیمہ ہے اور بھارت سمیت تمام منفی قوتوں کو منہ توڑ جواب ہے۔

    مقامی نمائندوں کے انتخاب کیلئے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے، 16 ہزار سے زائد امیدواروں کے درمیان مقابلہ، میونسپل کمیٹیوں کے 651 میں سے 220 وارڈزکے نتائج موصول ہوگئے ہیں جس کے مطابق آزاد امیدوار 116 نشستیں لے کر سب سے آگے ہیں، جے یو آئی 31 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، بی اے پی 19، بی این پی 9 ، پیپلز پارٹی کی 8 سیٹیں ہیں۔

    ادھر آج بلوچستان بلدیاتی انتخابات: فائرنگ اور لڑائی، 1 شخص جاں بحق، 16 زخمی

    بلوچستان بلدیاتی انتخابات کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور لڑائی جھگڑے سے ایک شخص جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے، ڈیرہ بگٹی میں 3 راکٹ فائر کئے گئے، قلات میں پولنگ سٹیشن پر دستی بم حملے سے دو اہلکار زخمی ہوئے۔

    بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات 2022 کے لیے صوبے کے 32 اضلاع میں پولنگ ، الیکشن کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں لڑائی جھگڑے ہوئے، فائرنگ اور بم حملوں کے واقعات رپورٹ ہوئے، قلات کے علاقے منگچر جوہان کراس بازار کے قریب روڈ کنارے نصب بم دھماکے سے ایک شخص زخمی ہوا، قلات میں ہی میونسپل کمیٹی انٹر کالج پولنگ سٹیشن پر دستی بم حملہ کیا گیا جس سے ڈیوٹی پر مامور دو لیوز اہلکار زخمی ہوئے۔

    لیویز ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد دستی بم پھینک کر فرار ہو گئے، نوشکی میں یوسی 1 وارڈ نمبر 7 پدگ میں دو گروپوں میں معمولی تکرار پر فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوا، زخمی شخص ہسپتال منتقلی کے وقت زخموں کی تاب نہ لا تے ہوئے چل بسا، بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں پولنگ سٹیشن پر نامعلوم سمت سے 3 راکٹ فائر ہوئے جو پولنگ سٹیشن میں موجود لیویز چوکی کے قریب گرے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ڈیرہ بگٹی میں ضلع کوہلو یونین کونسل 6 وارڈ نمبر 2 مصری خان ماکوڑی میں لڑائی کے دوران 8 افراد زخمی ہوئے، جبکہ کوہلو میں مونسپل کمیٹی وارڈ نمبر 1 کے فیمیل پولنگ اسٹیش میں ہاتھا پائی سے 4 افراد زخمی ہوئے، لورالائی کے علاقے کلی زنگیوال پولنگ سٹیشن میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان جھگڑے سے ایک شخص زخمی ہوا۔

    مورخہ 29 مئی 2022 کو بلوچستان کے دیگر 31 اضلاع کی طرح ضلع کوہلو میں بھی بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ ضلع میں کل 103 پولنگ اسٹیشن قائم کیئے گئے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قوانین کے مطابق پولنگ کا عمل صبح 08 بجے سے لیکر شام 05 بجے تک جاری رہا۔ ضلع ہذا میں لیویز و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سکیورٹی کے فرائض سنھبالے۔ بلدیاتی الیکشن کے سلسلے میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے انچارج کیو۔ار۔ایف سبی زون کی سربراہی میں کیو۔آر۔ایف ایمرجنسی ایکشن پلان تشکیل دی گئ۔ پولنگ اسٹیشنوں میں حالات کشیدہ ہوتی ہی لیویز کیو-آر-ایف اہلکاران نے جانفشانی سے حالات کو کنٹرول کیا۔ پولنگ عمل کے دوران ماکوڑی کے پولنگ اسٹیشن میں دو گروپوں میں تصادم ہوا۔ حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے پولنگ رک گئی۔ لیویز کیو-آر-ایف نے بروقت ریکٹ کرکے پولنگ اسٹیشن سکیورٹی کا چارج اپنے ہاتھ میں لیا۔ بدامنی پھیلانے والے 4 افراد کو گرفتار کر کے پولنگ کے عمل کو دوبارہ بحال کرایا۔ میونسپل کمیٹی میں وارڈ میں چند عناصر کی جانب سے بدامنی پھیلانے کی کوشش کی گئی جس پر لیویز کیو۔آر۔ایف کے اہلکاران نے کاروائی کرتے ہو بدامنی پھیلانے والے عناصر کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کیا۔ میونسپل کمیٹی کے وارڈ میں بار بار بدامنی اور انتشار کی فضاء قائم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن لیویز کیو-آر-ایف نے پورے علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو قائم رکھنے میں اپنا مکمل کردار ادا کیا۔

    علاقے کے بی ایریا سمیت اے ایریاز میں بھی لیویز کیو۔آر۔ایف نے گراں قدر فرائض سرانجام دیئے۔ ڈپٹی کمشنر کوہلو قربان علی مگسی نے لیویز لائن میں لیویز کیو۔آر۔ایف اہلکاران سے تعریفی خطاب میں کہا کہ لیویز کیو-آر-ایف نے بلدیاتی الیکشن 2022 میں اپنے طاقت اور ہمت کو شاہین کی اڑتی ہوئی پرواز کی مانند ثابت کیا۔ علاقے میں امن کی فضاء کو قائم رکھنے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے میں جسطرح کوہلو لیویز کیو-آر-ایف نے اپنا کردار کیا ہے اسکی مثال نہیں ملتی۔ انھوں نے کہا کہ اج جسطرح سے پرامن ماحول میں بلدیاتی الیکشن ہوئے یہ لیویز کیو-آر-ایف ونگ کی ترتیب اور ڈسپلن کو ظاہر کرتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کوہلو نے بہترین کارکردگی دکھانے پر کیو-آر-ایف اہلکاران کیلئے ڈیڑھ لاکھ روپے کا اعلان اور تعریفی اسناد جاری کرنے کا بھی اعلان کیا۔

  • بلدیاتی انتخابات کوکامیابی سےکروانے پرتمام اداروں اوربلوچ عوام کا شکریہ:ترجمان بلوچستان حکومت

    بلدیاتی انتخابات کوکامیابی سےکروانے پرتمام اداروں اوربلوچ عوام کا شکریہ:ترجمان بلوچستان حکومت

    کوئٹہ: ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ نے کہا ہے کہ صوبے کے 32 اضلاع میں کل ہونے والے بلدیاتی انتخابات کامیابی کے ساتھ پُرامن حالات میں اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں اور آج کا دن بلوچستان کی تاریخ کا ایک سنہری دن ہے جس دن دہشت گردوں کے خلاف بلوچ عوام نے عزم مصمم کے ساتھ اپنا اظہارووٹ استعمال کیا

    فرح عظیم شاہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہےکہ صوبے میں الیکشن کامیابی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچا اور کوئی بڑے سانحہ کے شکار ہونے سے بچ گیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر وہ بلوچستان حکومت ، بلوچ عوام اور ان سیکورٹی اداروں کا شکریہ ادا کرتی ہیں جنہوں نے انتخابات کو پُر امن بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے

     

    b

    یاد رہےکہ کل کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ نے کہا تھا کہ صوبے کے 32 اضلاع میں کل ہونے والے بلدیاتی انتخابات کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں، یہ تاثر غلط ہے کہ انتخابات میں حکومت کسی قسم کی مداخلت کر رہی ہے۔

    کوئٹہ کے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں سیکرٹری بلدیات دوستین جمالدینی کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے فرح عظیم شاہ کا کہنا تھا کہ کوئٹہ اور لسبیلہ میں حلقہ بندیوں کا مسئلہ ہے جسے حل کر رہے ہیں۔

    انہوں نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 2013 کے بعد صوںے میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہورہے ہیں، ہماری کوشش ہے زیادہ سے زیادہ عوام اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کیلئے آزادانہ گھروں سے پولنگ اسٹیشنوں تک آئے۔

    کل ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ تمام اضلاع میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریاں مکمل کر لیں گئیں ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ ضابطہ اخلاق طے پایا گیا ہے،اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام اضلاع کے قبائلی معتبرین سےملاقاتیں بھی کی گئی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تمام پولنگ اسٹیشن پر سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل ترتیب دے دیا گیا ہے۔ فرح عظیم شاہ نے کہا کہ صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد کرائیں گے اور امیدواروں کو بھی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ داخلہ اور سی سی پی او آفس میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کنٹرول روم قائم کیا جا چکا ہے۔

    آج انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں تمام اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے آج کے انتخابات کو پُرامن طور پرانجام پانے میں بھرپورکردار ادا کیا

  • اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری

    اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کردیا،اطلاعات کے مطابق تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ 17 جولائی کو ہوگی، اسلام آباد میں ترقیاتی کاموں، تقرریوں اور تبادلوں پر پابندی عائد کردی گئی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی حاصل کرنے کیلئے پبلک نوٹس 28 مئی کو جاری کیا جائے گا، کاغذات نامزدگی 30 مئی سے 3 جون تک جمع کرائے جاسکیں گے، کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی 6 جون سے 8 جون تک کی جائے گی۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کاغذات نامزدگی کے خلاف اپیلیں 9 جون سے 11 جون تک فائل کی جائیں گی، اپیلیٹ ٹریبونل اپیلوں پر 13 جون سے 15 جون تک فیصلہ کیا جائے گا، امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست 17 جون کی جاری کی جائے گی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق امیدواروں کو انتخابی نشان 20 جون کو جاری کیے جائیں گے، بلدیاتی انتخابات کے نتائج کا اعلان 20 جولائی کو کیا جائے گا۔

    ادھر یاد رہے کہ آج الیکشن کمیشن کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے 25 منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کو ڈی سیٹ کردیا گیا۔معاملے پر محفوظ فیصلہ چیف الیکشن کمیشنر سکند سلطان راجہ کی جانب سے سنایا گیا۔

    جن 25 منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کیا گیا ان کے نام ملک غلام رسول، سعید اکبر خان، محمد اجمل، عبدالعلیم خان، نذیر احمد چوہان، محمد امین ذوالقرنین، ملک نعمان لنگڑیال، محمد سلمان اور زوار حسین وڑائچ شامل ہیں۔ دیگر ڈی سیٹ ہونے والے اراکین میں محمد طاہر، عائشہ نواز، ساجدہ یوسف، ہارون عمران گل، عظمیٰ کاردار، ملک اسد علی، اعجاز مسیح، محمد سبطین رضا، محسن عطا خان کھوسہ، میاں خالد محمود، مہر محمد اسلم اور فیصل حیات شامل ہیں۔ ان منحرف ارکان نے حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ کیلئے ووٹ دیا تھا۔

    ڈی سیٹ اراکین کے حلقے

    راجہ صغیر، پی پی 7 راولپنڈی

    ملک غلام رسول سانگھا، پی پی 83 خوشاب

    سعید اکبر نوانی، پی پی 90 بھکر

    محمد اجمل چیمہ، پی پی 97 فیصل آباد

    عبد العلیم خان، پی پی 158 لاہور

    نذیر چوہان، پی پی 167 لاہور

    امین ذوالقرنین، پی پی 170 لاہور

    ملک نعمان لنگڑیال، پی پی 202 ساہیوال

    سلمان نعیم، پی پی 217 ملتان

    زوار حسین وڑائچ، پی پی 224 لودھراں

    نذیر احمد خان، پی پی 228 لودھراں

    فدا حسین، پی پی 237 بہاولنگر

    زہرا بتول، پی پی 272 مظفر گڑھ

    لالہ طاہر، پی پی 282 لیہ

    اسد کھوکھر، پی پی 168 لاہور

    محمد سبطین رضا، پی پی 273 مظفر گڑھ

    محسن عطا خان کھوسہ، پی پی 288 ڈی جی خان

    میاں خالد محمود، پی پی 140 شیخوپورہ

    مہر محمد اسلم، پی پی 127 جھنگ

    فیصل حیات جبوانہ، پی پی 125 جھنگ

    عائشہ نواز، ڈبلیو 322 مخصوص نشست

    ساجدہ یوسف ڈبلیو 327 مخصوص نشست

    عظمیٰ کاردار ڈبلیو 311 مخصوص نشست

    ہارون عمران گل، این ایم 364 اقلیتی نشست

    اعجاز مسیح، این ایم 365 اقلیتی نشست

     

  • عوام کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جلد انتخابات ہونے جا رہے ہیں ،شیخ رشید

    عوام کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جلد انتخابات ہونے جا رہے ہیں ،شیخ رشید

    عوام کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جلد انتخابات ہونے جا رہے ہیں ،شیخ رشید
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نااہل حکومت ہم پر مسلط کردی گئی ہے

    شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے خود پر فرد جرم عائد نہیں ہونے دی،اے این ایف کیس میں ملزمان پر وکلاء نے فرد جرم عائد نہیں ہونے دی،میرا بھتیجا روز عدالت میں ذلیل و خوار ہورہا ہے، عوام کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جلد انتخابات ہورہے ہیں

    صحافی نے شیخ رشید سے سوال کیا کہ کیا آپ عمران خان کو سمجھائیں گے جلسوں میں عدالتوں پرتنقید نہ کریں ، جس پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں نے عدالت کے سامنے کوئی کمٹمنٹ نہیں کی چیف جسٹس کا پیغام ہے تو میں عمران خان تک پہنچا دوں گا،

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ 2 ووٹوں کا فرق ہے اور یہ 2 ووٹ چودھری سالک اور بشیر چیمہ کے ہیں رانا ثنا اللہ ملک میں تشویشناک صورتحال پیدا کرے گا ملک میں ہنگامہ آرائی ہو گی اور رانا ثنا اللہ معاملات خراب کرے گا۔ ہمارے اراکین کو جلد عدالتوں میں پیش کریں۔سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ ہمیں کہہ رہے ہیں گھروں سے نکال کے ماریں گے تو ابھی وہ حالات نہیں آئے ہیں یہ منہ اور مسور کی دال

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نشہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    بھکاری کا روپ دھار کی سابقہ بیوی نے سابق شوہر کے ساتھ ایسا گھناؤنا کام کر دیا کہ سن کر روح کانپ اٹھے

    برہنہ تصاویر بنا کر آٹھ سال تک خاتون کو بلیک میل کر کے زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار

  • پنجاب کے17اضلاع میں بلدیاتی انتخابات روکنے کیلئے حکم امتناع جاری ہوگیا

    پنجاب کے17اضلاع میں بلدیاتی انتخابات روکنے کیلئے حکم امتناع جاری ہوگیا

    ملتان:پنجاب کے17اضلاع میں بلدیاتی انتخابات روکنے کیلئے حکم امتناع جاری ہوگیا،اطلاعات کے مطابق پنجاب کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات روکنے کیلئے حکم امتناع جاری کردیا گیا، الیکشن آرڈیننس 2021 کیخلاف درخواست پر لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

    پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ہائیکورٹ ملتان بنچ کا بڑا فیصلہ، ہائیکورٹ کے جسٹس شان گل نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں لوکل گورنمنٹ انتخابات روکنے کا سٹے آرڈر جاری کر دیا ہے، عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے27 اپریل کو جواب طلب کر لیا۔

    عدالت میں خانیوال کے محمد اسلم کمبوہ، وہاڑی کے دلاور خان اور ساہیوال کے غلام عباس ڈوگر نے درخواست دائر کی، درخواست کونسل رانا آصف سعید کے ذریعے الیکشن آرڈیننس 2021ء کے خلاف دائر کی گئی، لوکل گورنمنٹ کے انتخابات آرڈیننس 2021 کے تحت کرائے جانے ہیں جس میں قانونی بے ضابطگیاں ہیں، آرڈیننس کی مدت ختم ہوچکی اور اسے ایکٹ کی شکل نہیں دی گئی۔

    درخواستگزار نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں توسیع کا نوٹیفیکیشن بھی غیر قانونی ہے، پہلے مرحلے میں لیبر کونسل اور ویلج کونسل کے انتخابات ہونا تھے، بعدازاں ضلع کونسل چیئرمین اور میونسپل کارپوریشن میئر کے ہونا تھے، الیکشن کا ہر اقدام غیر قانونی طور پر اٹھایا گیا، آرڈینینس میں الیکشن کی ووٹنگ بذریعہ مشین کرائی جانی تھی لیکن ایسا کوئی سسٹم موجود ہی نہیں ہے، انتخابات کو روکا جائے۔

    ایڈووکیٹ رانا آصف سعید نے کہا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں 25 اپریل تک کاغذات نامزدگی جمع ہونے تھے،27 اپریل سے 9 مئی تک سکروٹنی ہونی تھی، 9 جون کو انتحابات تھے۔

  • مولانا فضل الرحمان  نے  فوری الیکشن کا مطالبہ کر دیا

    مولانا فضل الرحمان نے فوری الیکشن کا مطالبہ کر دیا

    مولانا فضل الرحمان نے فوری الیکشن کا مطالبہ کر دیا

    پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے فوری الیکشن کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مصلحت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے قوم کو اس کی امانت واپس کرنا ہماری ذمہ داری ہے

    نجی ٹی وی کے مطابق جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اقتدارکوغیرضروری لمبا کرنا جے یو آئی (ف) کا مؤقف نہیں،نئی حکومت زیادہ سے زیادہ ایک سال کے لیے ہے، انتخابی نظام میں کوئی خامی ہے تووقتی طورپراصلاحات کی جائیں، موجودہ اسمبلیوں کافائدہ اٹھاتے ہوئے انتخابی اصلاحات کرلیں موجودہ حکومت کے اندرجے یوآئی (ف)کا اپنا مؤقف ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ قوم کو امانت واپس کردیں جس کے لیے جدوجہد کی، ‏میت پر اگر10 کروڑ لوگ بھی اکٹھے ہوجائیں دوبارہ زندہ نہیں ہوسکتی

    واضح رہے کہ پی ڈی ایم نے ملکر عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک چلائی تھی، اور اس تحریک کے بعد ہی عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی تھی جو کامیاب ہو گئی اور وزیراعظم عمران خان سابق ہو گئے، شہباز شریف انکی جگہ وزیراعظم منتخب ہو چکے ہیں، وفاقی کابینہ کا ابھی تک باقاعدہ تقرر نہیں ہو سکا، امید ہے آج وفاقی کابینہ حلف اٹھا لے گی، وفاقی کابینہ میں پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کو نمائندگی دی جا رہی ہے،

    کراچی جانے کیلئے عمران خان کو جہاز کس نے دیا؟ بحث چھڑ گئی

    این اے 33 ہنگو،ضمنی انتخابات، پولنگ جاری،سیکورٹی سخت

    پنجاب اسمبلی، ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج

    چودھری پرویز الہیٰ کو پولیس نے بلا لیا

    پرویز الہیٰ کی جانب سے حملے کے الزام کے بعد رانا مشہود بھی خاموش نہ رہ سکے

    حمزہ شہباز کی حلف برداری کی تقریب آج، کون لے گا حلف؟

    عثمان بزدار ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس پہنچ گئے

    وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹا دیا

    جب تک صدر پاکستان عہدے سے نہیں ہٹاتے میں گورنر پنجاب ہوں، عمرسرفراز چیمہ

  • آج صبح سےلاہورکےمختلف علاقوں میں بجلی پوری نہیں‌:کم وولٹیج ہیں:خیرتوہے؟:مبشرلقمان

    آج صبح سےلاہورکےمختلف علاقوں میں بجلی پوری نہیں‌:کم وولٹیج ہیں:خیرتوہے؟:مبشرلقمان

    لاہور:آج صبح سےلاہورکےمختلف علاقوں میں کم وولٹیج ہے:خیرتوہے؟رمضان المبارک میں لوگ پریشان ہیں:اطلاعات کے مطابق اس وقت لاہور کے مختلف علاقوں میں بجلی کے کم وولٹیج کی وجہ سے لوگ بہت پریشان ہیں اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس پریشانی کا سب سے زیادہ شکار روزہ دار ہیں

     

    عوام الناس کی اسی پریشانی کودیکھتے ہوئے سینئر صحافی مبشرلقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پرواپڈا والوں سے اور ان لوگوں سے جو بجلی کے معاملات کے ساتھ منسلک ہیں کہ یہ صورت حال ڈیفینس کے ایریا میں ہے یا لاہور کے دیگر علاقون میں بھی لوگ اسی مسئلے کا شکار ہیں ،

    ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ امید لیکر بیٹھے تھے کہ کہیں سے کوئی اچھا جواب مل جائے گا جس سے اس مسئلے پر قابوپانے میں آسانی رہے گی لیکن افسوس اس بات کا کہ اہل لاہورکچھ اچھے مزاجوں اور رویے کے حامل شہری ثابت نہیں ہوئے

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں نے ایک سادہ سا سوال پوچھا تھا مگرافسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہےکہ مجھے نفرت انگیز پیغامات مل رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ان میں سے کچھ روزہ دار بھی ہوں گے۔

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مجھے یہ جوابات سُن کرکچھ یہ احساس سا ہورہا ہے کہ یہ کیسے منہ پھٹ لوگ کہ جن کو پتہ ہی نہیں‌ کہ کسی کے بارے میں کس قدر محتاط زبان استعمال کرنی چاہیے ، وہ کتہے ہیں‌کہ اصل میں یہ وہ تربیت ہے جو ان کے والدین اور رہنماؤں نے ان کو دی ہے

     

     

    مبشرلقمان بڑے افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ بیوقوفوں پر افسوس ہوتا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کتنے احمق نظر آتے ہیں۔ان کا یہ رویہ ان کےلیے کس قدر نقصان دہ ہے

  • پہلےالیکشن کا مطالبہ تھا اوراب راہ فرار:آخرکیا مسئلہ ہے:عدالت

    پہلےالیکشن کا مطالبہ تھا اوراب راہ فرار:آخرکیا مسئلہ ہے:عدالت

    اسلام آباد: الیکشن میں جانے سے کسی کے حقوق کیسے متاثرہورہے ہیں، سپریم کورٹ نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ "الیکشن الیکشن” کی رٹّ لگانےوالوں کواب کوئی خطرہ ہے؟جوالیکشن سےبھاگ رہے ہیں

    سپریم کورٹ میں آئینی و سیاسی بحران ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران صدر پاکستان کے وکیل علی ظفرنے موقف اپنایا کہ آرٹیکل 69 آگ کی دیوارہے، جسے عدالت پھلانگ کربھی پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 69 اپنی جگہ لیکن جوہوا اس کی بھی کہیں مثال نہیں ملتی ‏اگراسے ہونےدیا گیا تو اس کے بہت منفی اثرات ہوسکتے ہیں بظاہرعدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے جا رہی تھی، جس پررولنگ آگئی ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ نے نئی روایت اورایک نیا رستہ کھول دیا۔

    آئینی و سیاسی بحران از خود نوٹس یں صدرمملکت کے وکیل بیرسٹرعلی ظفرنے دلائل دیے۔ ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ سے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ زیرالتواء کیس میں پارلیمںٹ تبصرہ نہیں کرتیں توعدالت بھی پارلیمانی کارروئی میں مداخلت نہیں کرسکتیں ، عدالتی ڈائریکشن دائرہ اختیارسے تجاوز ہوگا اسپیکرکو دی گئی ہدایات دراصل پارلیمنٹ کوہدایات دینا ہوگا جوغیرآئینی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ آئین کی خلاف ورزی کرے کیا تب بھی مداخلت نہیں ہوسکتی؟ وکیل نے بتایاکہ باہمی احترام سے ہی اداروں میں توازن پیدا کیا جا سکتا ہے ، اسپیکرکی رولنگ کو ہاؤس ختم کرسکتا ہے، عدالت نے جائزہ لیا تو اسپیکرکا ہرفیصلہ عدالت میں آئے گا، پارلیمان کے ایسے فیصلہ جس کےاثرات باہرہوں توجائزہ لےسکتی ہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہرشہری آئین کا پابند ہے کیا اسپیکر پابند نہیں۔ چیف جسٹس نےآرٹیکل 95 کی خلاف ورزی کا نقطہ اٹھایا۔

    علی ظفرنے کہا کہ عدالت قراردے تحریک عدم اعتماد پارلیمانی کارروائی نہیں تو ہی جائزہ لے سکتی ہے۔ جسٹس جمال نے پوچھا کہ ووٹ کم ہوں اوراسپیکرتحریک کی کامیابی کا اعلان کرے تو کیا ہوگا؟

    وکیل نے بتایا کہ عدالت پارلیمنٹ پرمانیٹرنہیں بن سکتی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رولنگ کے بعد اسمبلی تحلیل کرکے انتخابات کا اعلان کیا گیا۔

    (ن) لیگ وکیل سے پوچھیں گےعوام کے پاس جانے میں کیا مسئلہ ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ الیکشن میں جانے سے کسی کے حقوق کیسے متاثرہورہے ہیں؟

    چیف جسٹس نےکہاکہ یہ کیس ارٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہے جہاں آئین کی خلاف ورزی ہوسپریم کورٹ مداخلت کرسکتی ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا کہ کیا آئین شکنی کوبھی پارلیمانی تحفظ حاصل ہے۔ جسٹس جمال خان نے کہا کہ دلیل کے مطابق پارلیمان کی اکثریت ایک طرف اوراسپیکرکی رولنگ ایک دوسری طرف ہے کیا صدرمملکت وزیراعظم سے اسمبلی تحلیل کرنےکی وجوہات پوچھ سکتے ہیں۔

    علی ظفرنےبتایاکہ صدروزیراعظم کی سفارش کےپابند ہیں،وجوہات بتانا ضروری نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آمر کبھی الیکشن کا اعلان نہیں کرتا۔ دلائل مکمل ہونے پراسپیکرکے وکیل نعیم بخاری اور اٹارنی جنرل کل دلائل کا آغاز کریں گے۔

     

  • خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات دوسرا مرحلہ:1ہزار318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب:پی ٹی آئی سب پرسبقت لے گئی

    خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات دوسرا مرحلہ:1ہزار318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب:پی ٹی آئی سب پرسبقت لے گئی

    پشاور:خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات دوسرا مرحلہ:1ہزار318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب:پی ٹی آئی سب پرسبقت لے گئی ،اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 18 اضلاع سے مجموعی طور پر 1 ہزار 318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔

    الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا کے مطابق 31 مارچ کو ہونیوالے دوسرے مرحلے کے انتخابات 18 اضلاع میں 65 تحصیل کونسلز میں ہو رہے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 80 لاکھ 57 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    سٹی میئر اور تحصیل چیئرمین کی نشستوں کے لئے 651 امیدوار، ویلج و نیبر ہڈ کونسلوں میں جنرل نشستوں کے لئے 12 ہزار 980، خواتین کی نشستوں کے لئے 2 ہزار 668، مزدور و کسان کی نشستوں کے لئے 6 ہزار451، نوجوانوں کی نشستوں کے لئے 5 ہزار 213 اور اقلیتی نشستوں کے لئے 57 امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوگا۔

    اسی طرح اب تک ویلج و نیبرہڈ کونسلوں میں جنرل نشستوں پر مجموعی طور پر 351، خواتین کی نشستوں پر 533، مزدور و کسان کی نشستوں پر 151، نوجوانوں کی نشستوں پر 233 اور اقلیتی نشستوں پر 50 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔