Baaghi TV

Tag: انتخابات

  • آج صبح سےلاہورکےمختلف علاقوں میں بجلی پوری نہیں‌:کم وولٹیج ہیں:خیرتوہے؟:مبشرلقمان

    آج صبح سےلاہورکےمختلف علاقوں میں بجلی پوری نہیں‌:کم وولٹیج ہیں:خیرتوہے؟:مبشرلقمان

    لاہور:آج صبح سےلاہورکےمختلف علاقوں میں کم وولٹیج ہے:خیرتوہے؟رمضان المبارک میں لوگ پریشان ہیں:اطلاعات کے مطابق اس وقت لاہور کے مختلف علاقوں میں بجلی کے کم وولٹیج کی وجہ سے لوگ بہت پریشان ہیں اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس پریشانی کا سب سے زیادہ شکار روزہ دار ہیں

     

    عوام الناس کی اسی پریشانی کودیکھتے ہوئے سینئر صحافی مبشرلقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پرواپڈا والوں سے اور ان لوگوں سے جو بجلی کے معاملات کے ساتھ منسلک ہیں کہ یہ صورت حال ڈیفینس کے ایریا میں ہے یا لاہور کے دیگر علاقون میں بھی لوگ اسی مسئلے کا شکار ہیں ،

    ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ امید لیکر بیٹھے تھے کہ کہیں سے کوئی اچھا جواب مل جائے گا جس سے اس مسئلے پر قابوپانے میں آسانی رہے گی لیکن افسوس اس بات کا کہ اہل لاہورکچھ اچھے مزاجوں اور رویے کے حامل شہری ثابت نہیں ہوئے

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں نے ایک سادہ سا سوال پوچھا تھا مگرافسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہےکہ مجھے نفرت انگیز پیغامات مل رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ان میں سے کچھ روزہ دار بھی ہوں گے۔

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مجھے یہ جوابات سُن کرکچھ یہ احساس سا ہورہا ہے کہ یہ کیسے منہ پھٹ لوگ کہ جن کو پتہ ہی نہیں‌ کہ کسی کے بارے میں کس قدر محتاط زبان استعمال کرنی چاہیے ، وہ کتہے ہیں‌کہ اصل میں یہ وہ تربیت ہے جو ان کے والدین اور رہنماؤں نے ان کو دی ہے

     

     

    مبشرلقمان بڑے افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ بیوقوفوں پر افسوس ہوتا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کتنے احمق نظر آتے ہیں۔ان کا یہ رویہ ان کےلیے کس قدر نقصان دہ ہے

  • پہلےالیکشن کا مطالبہ تھا اوراب راہ فرار:آخرکیا مسئلہ ہے:عدالت

    پہلےالیکشن کا مطالبہ تھا اوراب راہ فرار:آخرکیا مسئلہ ہے:عدالت

    اسلام آباد: الیکشن میں جانے سے کسی کے حقوق کیسے متاثرہورہے ہیں، سپریم کورٹ نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ "الیکشن الیکشن” کی رٹّ لگانےوالوں کواب کوئی خطرہ ہے؟جوالیکشن سےبھاگ رہے ہیں

    سپریم کورٹ میں آئینی و سیاسی بحران ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران صدر پاکستان کے وکیل علی ظفرنے موقف اپنایا کہ آرٹیکل 69 آگ کی دیوارہے، جسے عدالت پھلانگ کربھی پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 69 اپنی جگہ لیکن جوہوا اس کی بھی کہیں مثال نہیں ملتی ‏اگراسے ہونےدیا گیا تو اس کے بہت منفی اثرات ہوسکتے ہیں بظاہرعدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے جا رہی تھی، جس پررولنگ آگئی ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ نے نئی روایت اورایک نیا رستہ کھول دیا۔

    آئینی و سیاسی بحران از خود نوٹس یں صدرمملکت کے وکیل بیرسٹرعلی ظفرنے دلائل دیے۔ ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ سے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ زیرالتواء کیس میں پارلیمںٹ تبصرہ نہیں کرتیں توعدالت بھی پارلیمانی کارروئی میں مداخلت نہیں کرسکتیں ، عدالتی ڈائریکشن دائرہ اختیارسے تجاوز ہوگا اسپیکرکو دی گئی ہدایات دراصل پارلیمنٹ کوہدایات دینا ہوگا جوغیرآئینی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ آئین کی خلاف ورزی کرے کیا تب بھی مداخلت نہیں ہوسکتی؟ وکیل نے بتایاکہ باہمی احترام سے ہی اداروں میں توازن پیدا کیا جا سکتا ہے ، اسپیکرکی رولنگ کو ہاؤس ختم کرسکتا ہے، عدالت نے جائزہ لیا تو اسپیکرکا ہرفیصلہ عدالت میں آئے گا، پارلیمان کے ایسے فیصلہ جس کےاثرات باہرہوں توجائزہ لےسکتی ہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہرشہری آئین کا پابند ہے کیا اسپیکر پابند نہیں۔ چیف جسٹس نےآرٹیکل 95 کی خلاف ورزی کا نقطہ اٹھایا۔

    علی ظفرنے کہا کہ عدالت قراردے تحریک عدم اعتماد پارلیمانی کارروائی نہیں تو ہی جائزہ لے سکتی ہے۔ جسٹس جمال نے پوچھا کہ ووٹ کم ہوں اوراسپیکرتحریک کی کامیابی کا اعلان کرے تو کیا ہوگا؟

    وکیل نے بتایا کہ عدالت پارلیمنٹ پرمانیٹرنہیں بن سکتی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رولنگ کے بعد اسمبلی تحلیل کرکے انتخابات کا اعلان کیا گیا۔

    (ن) لیگ وکیل سے پوچھیں گےعوام کے پاس جانے میں کیا مسئلہ ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ الیکشن میں جانے سے کسی کے حقوق کیسے متاثرہورہے ہیں؟

    چیف جسٹس نےکہاکہ یہ کیس ارٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہے جہاں آئین کی خلاف ورزی ہوسپریم کورٹ مداخلت کرسکتی ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا کہ کیا آئین شکنی کوبھی پارلیمانی تحفظ حاصل ہے۔ جسٹس جمال خان نے کہا کہ دلیل کے مطابق پارلیمان کی اکثریت ایک طرف اوراسپیکرکی رولنگ ایک دوسری طرف ہے کیا صدرمملکت وزیراعظم سے اسمبلی تحلیل کرنےکی وجوہات پوچھ سکتے ہیں۔

    علی ظفرنےبتایاکہ صدروزیراعظم کی سفارش کےپابند ہیں،وجوہات بتانا ضروری نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آمر کبھی الیکشن کا اعلان نہیں کرتا۔ دلائل مکمل ہونے پراسپیکرکے وکیل نعیم بخاری اور اٹارنی جنرل کل دلائل کا آغاز کریں گے۔

     

  • خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات دوسرا مرحلہ:1ہزار318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب:پی ٹی آئی سب پرسبقت لے گئی

    خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات دوسرا مرحلہ:1ہزار318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب:پی ٹی آئی سب پرسبقت لے گئی

    پشاور:خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات دوسرا مرحلہ:1ہزار318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب:پی ٹی آئی سب پرسبقت لے گئی ،اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 18 اضلاع سے مجموعی طور پر 1 ہزار 318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔

    الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا کے مطابق 31 مارچ کو ہونیوالے دوسرے مرحلے کے انتخابات 18 اضلاع میں 65 تحصیل کونسلز میں ہو رہے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 80 لاکھ 57 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    سٹی میئر اور تحصیل چیئرمین کی نشستوں کے لئے 651 امیدوار، ویلج و نیبر ہڈ کونسلوں میں جنرل نشستوں کے لئے 12 ہزار 980، خواتین کی نشستوں کے لئے 2 ہزار 668، مزدور و کسان کی نشستوں کے لئے 6 ہزار451، نوجوانوں کی نشستوں کے لئے 5 ہزار 213 اور اقلیتی نشستوں کے لئے 57 امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوگا۔

    اسی طرح اب تک ویلج و نیبرہڈ کونسلوں میں جنرل نشستوں پر مجموعی طور پر 351، خواتین کی نشستوں پر 533، مزدور و کسان کی نشستوں پر 151، نوجوانوں کی نشستوں پر 233 اور اقلیتی نشستوں پر 50 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔

  • پنجاب کے وزیراعلٰی کون ہوں گے:اہم نام سامنےآگیا

    پنجاب کے وزیراعلٰی کون ہوں گے:اہم نام سامنےآگیا

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ریاست کے لوگوں کو پارٹی کی پنجاب میں زبردست جیت کی طرف مارچ کرنے پر مبارکباد دی ہے پنجاب کے لوگوں کو اس انقلاب کے لیے بہت بہت مبارک ہو۔

    ساتھ ہی یہ خبریں گردش کرنی شروع ہوگئی ہیں کہ نتائج کی بنیاد پر پنجاب کے اگلے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال ہوں گے

    کیجریوال نے پنجاب میں پارٹی کے وزیر اعلیٰ کے چہرے بھگونت مان کے ساتھ اپنی تصویر ٹویٹ کی۔پنجاب اسمبلی کے تازہ ترین رجحانات کے مطابق عآپ ریاست کی کل 117 سیٹوں میں سے 90 پر آگے ہے، جب کہ حکمراں کانگریس پارٹی ریاست میں 18 سیٹوں پر آگے ہے۔

    دریں اثنا پنجاب اسمبلی انتخابات کے رجحانات سے پرجوش عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سینیئر رہنما اور دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے جمعرات کو کہا کہ پنجاب کے عوام نےدہلی حکومت کے ’ کیجریوال ماڈل‘ کو قبول کیا ہے

    سسودیا نے پنجاب اسمبلی انتخابات کے ابتدائی رجحانات پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام نے گورننس کے ’کجریوال ماڈل‘ کوایک موقع دیا ہے انہوں نے کہا، ’آج یہ ماڈل قومی سطح پر قائم ہو چکا ہے۔ یہ عام آدمی کی جیت ہے‘۔

    پنجاب اسمبلی کے تازہ ترین رجحانات کے مطابق، عام آدمی پارٹی ریاست کی کل 117 نشستوں میں سے 87 پر سبقت قائم کیے ہوئے ہے جبکہ برسراقتدار کانگریس پارٹی ریاست میں 14 نشستوں پر آگے ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی چار، شرومنی اکالی دل نو، بہوجن سماج پارٹی دو اور ایک سیٹ پر آزاد امیدوار آگے چل رہا ہے۔

    اس بیچ پنجاب کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو نے ریاستی اسمبلی میں شاندار بھاری اکثریت حاصل کرنے پر عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کو مبارکباد دی ہے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں مسٹر سدھو نے کہا کہ عوام کی مرضی خدا کی مرضی ہے انھیں عاجزی سے عوام کا مینڈیٹ قبول ہے

    انہوں نے کہا، ’عوام کی آواز خدا کی آواز ہے پنجاب کے مینڈیٹ پر سرِ تسلیم، خَم۔ اے اے پی کو مبارکباد پنجاب اسمبلی کے تازہ ترین رجحانات کے مطابق اے اے پی ریاست کی کل 117 سیٹوں میں سے 90 پر آگے ہے، جب کہ برسراقتدار کانگریس پارٹی ریاست میں 18 سیٹوں پر سبقت قائم کیے ہوئے ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی دو، شرومنی اکالی دل چھ اور ایک اسمبلی حلقے میں آزاد امیدوار آگے ہے۔

    بھارت انتخابات: ملک کی پانچ ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ سب کی نظریں نتائج پر مرکوز ہیں۔اتر پردیش میں ایک بار پھر بی جے پی کی راہ صاف نظر آرہی ہے۔ وزیر اعظم نریندرمودی اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی جوڑی ایک بار پھر کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے۔ رجحانات بی جے پی نے 250 سیٹیں عبور کر لی ہیں، جو 202 کے اکثریتی اعداد و شمار سے بہت زیادہ ہے

    سماجوادی پارٹی کی تعداد بھی 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔ نمبر تین پارٹی بی ایس پی بھی دوہرا ہندسہ عبور نہیں کر پائی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپور سے آگے ہیں اور اکھلیش یادو کرہل سے آگے ہیں۔ لیکن، کاشی وشواناتھ سیٹ سے بی جے پی امیدوار نیل کانتھ تیواری پیچھے ہیں۔

    ان اسمبلی انتخابات کو 2024 کے عام انتخابات کا سیمی فائنل کہا جا رہا تھا اور اس لحاظ سے ریاست یو پی سب سے اہم ہے جہاں سے پارلیمان کے 80 اراکین منتخب ہو کر آتے ہیں۔ ریاست میں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ایک بار پھر سے حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں نظر آرہی ہے۔ یو پی ریاستی اسمبلی کی کل 403 سیٹیں ہیں اور اکثریت کے لیے 202 کی ضرورت ہوتی ہے۔ ووٹو کی اب تک کی گنتی کے مطابق بی جے پی کو ڈھائی سو سے زیادہ نشستوں پر سبقت حاصل ہے اور وہ واضح اکثریت کی جانب بڑھ رہی ہے۔

    ریاست میں اس کی مخالف جماعت سماج وادی پارٹی کو سو سے زیادہ سیٹوں پر سبقت حاصل ہے اور اس نے پہلے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم اب یہ بات تقریبا ًواضح ہو چکی ہے کہ ریاست کی کمان یوگی آدتیہ ناتھ کے ہاتھ میں ہی رہے گی۔ اکھیلیش یادو کی جماعت سماج وادی پارٹی اقتدار سے کافی دور ہے۔

    ایک سال سے کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے خبروں میں رہنے والا پنجاب انتخابی دہلیز کو عبور کر چکا ہے۔عام آدمی پارٹی پنجاب میں بھی دہلی کی کامیابی کو دہرا رہی ہے۔ پارٹی اکثریت کا ہندسہ بھی عبور کر چکی ہے۔ دوسرے نمبر کے لیے کانگریس اور اکالی دل کے درمیان مقابلہ ہے، لیکن دونوں مل کر بھی عآپ کے آس پاس نہیں پہنچ رہے ہیں

    ریاست پنجاب میں کانگریس پارٹی کی حکومت تھی، جسے اروندکیجریو ال کی جماعت عام آدمی پارٹی شکست فاش دیتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔ 117 رکنی اسمبلی میں عام آدمی پارٹی کو 88 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے اور وہ واضح اکثریت کی جانب رواں ہے۔ حکمراں کانگریس پارٹی کو پنجاب میں 117 میں سے صرف 15 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے اور دیگر تمام جماعتیں بہت پیچھے ہیں۔

    بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف مہم چلانے والوں کی جماعت عام آدمی پارٹی پہلی بار دہلی سے باہر کسی دوسری ریاست میں کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے اور یہ ایک طرح سے ریاست پنجاب میں ایک نیا انقلاب ہے۔ رائے دہندگان نے پنجاب میں کانگریس، اکالی دل اور بی جے پی جیسی تمام دیگر سیاسی جماعتوں کو تقریباً یکسر مسترد کر دیاہے۔

    گوا میں بی جے پی 18 سیٹوں پر آگے ہے۔ کانگریس 11 سیٹوں پر آگے ہے جبکہ ایم جی پی + 4 سیٹوں پر آگے ہے۔ عام آدمی پارٹی 2 اور دیگر 5 سیٹوں پر آگے ہے۔ سی ایم پرمود ساونت سنکلم سے 604 ووٹوں سے آگے ہیں۔ دوسرے راؤنڈ کے بعد ڈپٹی سی ایم چندرکانت کاولیکر کوئپام سیٹ سے 1422 ووٹوں سے پیچھے ہیں۔ اتراکھنڈ اور منی پور میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

    بی جے پی اب 44 سیٹوں پر آگے ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی پارٹی ریاست میں لگاتار دو بار حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہونے کے افسانے کو توڑ رہی ہے۔ ریاست میں کانگریس کی برتری اب 22 سیٹوں پر رہ گئی ہے، جب کہ دیگر چار سیٹوں پر آگے ہیں۔ AAP، جس نے پہلی بار تمام 70 سیٹوں پر مقابلہ کیا، اب کسی بھی سیٹ پر آگے نہیں ہے۔ ۔

    یہاں کی 60 سیٹوں میں سے حکمراں بی جے پی اب 25 سیٹوں پر آگے ہے، جب کہ کانگریس 11 سیٹوں پر آگے ہے۔ مقامی جماعتوں این پی پی اور این پی ایف نے کانگریس اور بی جے پی کو سخت ٹکر دی ہے جنہوں نے 2002 سے 2017 تک ریاست میں حکومت بنائی تھی۔ رجحان میں، این پی پی 12 سیٹوں پر، این پی ایف 3 سیٹوں پر اور دیگر 8 سیٹوں پر آگے ہے۔

  • الیکشن کمیشن نے وفاق سے  18 ارب 36 کروڑ 47 لاکھ روپے مانگ لیئے

    الیکشن کمیشن نے وفاق سے 18 ارب 36 کروڑ 47 لاکھ روپے مانگ لیئے

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے وفاق سے 18 ارب 36 کروڑ 47 لاکھ روپے مانگ لیئے،اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن نے پنجاب، سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے وفاقی حکومت سے 18 ارب روپے سے زائد کے فنڈز مانگ لئے۔

    تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن کو بھجوائی گئی سمری میں کہا گیا ہے کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے لئے فنڈز درکار ہیں جو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور ووٹرز فہرستوں پر نظرثانی کے لئے استعمال کیے جائیں گے۔

    سمری میں موقف اپنایا گیا کہ وزارت خزانہ نے فنڈز کی فراہمی کے لئے حامی بھری ہے، وزارت خزانہ نے فنڈز کے لئے ای سی سی اور کابینہ کی منظوری کا کہا ہے، الیکشن کمیشن کو 18 ارب 36 کروڑ 47 لاکھ روپے کے فنڈز درکار ہیں، الیکشن کمیشن کو انتخابات کی نزاکت کے تحت فوری فنڈز درکار ہیں۔

    ادھر پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا، پہلے مرحلے میں 29 مئی کو 17 اضلاع میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔

    اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں اہم اجلاس ہوا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبہ پنجاب میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات 29 مئی 2022 کو ہوں گے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق 17 اضلاع میں پہلے مرحلے میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے، ان اضلاع میں ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ، لیّہ، خانیوال، وہاڑی ، بہاولپور، ساہیوال، پاک پتن، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خوشاب، سیالکوٹ، گجرات، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، جہلم اور اٹک شامل ہیں۔

  • اپنےہی گھرمیں شکست‘فضل الرحمان پربنوں والوں نے     عدم اعتماد کردیا:11جماعتی پی ڈی ایم شکست سےدوچار

    اپنےہی گھرمیں شکست‘فضل الرحمان پربنوں والوں نے عدم اعتماد کردیا:11جماعتی پی ڈی ایم شکست سےدوچار

    ڈیرہ اسمٰعیل خان :اپنے ہی گھر میں عبرتناک شکست‘فضل الرحمان پربنوں والوں نےعدم اعتماد کردیا:11جماعتی پی ڈی ایم شکست سے دوچار ،اطلاعات ہیں کہ کے پی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں مولانا فضل الرحمن کو اپنے ہی گھر اور اپنے ہی گڑھ سے عبرتناک شکست ہوئی ہے ،

    ڈیرہ اسماعیل خان میں میئر انتخابات کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے عمرامین گنڈاپور نے 11 جماعتی پی ڈی ایم اتحاد کو عبرتناک شکست دے کر مولانا فضل الرحمن کے اپنے ہی علاقے کے لوگوں کی طرف سے عدم اعتماد کردیا ہے ہے

    ابتدائی نتائج کچھ یوں ہیں کہ ؛بنوں سے اسرار وزیر جیت گئے ،کرک سے عنایت حٹک گئے ، باجوڑ سے ڈاکٹر خلیل جیت گئے اور مولانا فضل الرحمن کے گھر اور گڑھ ڈی آئی خان سے عمر امین جیت گئے

    خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلےمرحلے کی 13 اضلاع میں ہونے والی ری پولنگ کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں سٹی میئر کی نشست پر وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کے بھائی تحریک انصاف کے امیدوار عمر امین گنڈا پور کوواضح برتری حاصل ہے۔

    ذرائع کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) میں میئر کی نشست پر ہونے والے الیکشن میںبریکنگ:- ڈی آئی خان:302 میں سے 214 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی نتیجہ آچکا ہے جس کے مطابق پی ٹی آئی کے عمر امین گنڈاپور 45 ہزار 414ووٹ لےکر آگےجبکہ جے یو آئی(ف)کے کفیل نظامی 25 ہزار 184 ووٹ لے کر پیچھے ہیں‌

     

    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے گیارہ جماعتی اتحاد کو مولانا کے آبائی شہر میں بھاری شکست ہوئی ہے پی ڈی ایم کی عدم اعتماد کی پوری داستان کو شدید جھٹکا۔
    بنوں سے اسرار وزیر، کرک سے عنایت خٹک، باجوڑ سے ڈاکٹر خلیل اور ڈی آئی خان سے عمر آمین جیت گئے۔

     

    دوسری طرف تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے ٹوئٹر بیان میں کہا ہے کہ ماضی سےسیکھتےہوئےتحریک انصاف کا بھرپورکم بیک کیا ہے سٹی میئرکےانتخابات میں واضح برتری ،ویلڈن پی ٹی آئی۔

    انہوں نے کہا کہ عمرامین گنڈاپور بہت بڑےمارجن سے میدان مارتے ہوئے، ان کوان کےگڑھ میں شکست فاش، پی ڈی ایم پاش پاش۔

    معاون خصوصی ڈاکٹر شہبازگل نے کہا کہ فضل الرحمان کو اپنےگھر کی تحصیل سےعبرتناک شکست، مولانافضل الرحمان کے گھر سے ان پر عدم اعتماد ہے۔

    وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے ٹوئٹر پر ردعمل میں لکھا کہ مولانا پر 2018 کی طرح ڈی آئی خان کے عوام نے ایک بار پھر عدم اعتماد کر دیا، عمرامین گنڈا پور نے تحصیل مئیر کا الیکشن واضح اکثریت سے جیت لیا۔

  • خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات:13 اضلاع میں ری پولنگ:ووٹوں کی گنتی شروع:پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری

    خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات:13 اضلاع میں ری پولنگ:ووٹوں کی گنتی شروع:پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری

    پشاور:پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے 13 اضلاع میں ری پولنگ ہورہی ہے جس کے لئے پولنگ کا وقت ختم ہوچکا ہے اور ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ ابھی تک ڈی آئی خان میں 302 میں سے 40 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی نتیجہ ابھی سامنے آیا ہے جس کے مطابق پی ٹی آئی کے عمر امین گنڈاپور 7 ہزار 770 ووٹ لےکر آگے جے یو آئی(ف)کے کفیل نظامی 5 ہزار 530 ووٹ لے کر پیچھے پیچھے چل رہے ہیں‌

    پشاور سمیت چارسدہ، نوشہرہ، خیبر، مہمند، مردان، کوہاٹ، کرک، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، بونیر اور باجوڑ میں مجموعی طور پر 500 سے زائد پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ لوکل باڈی الیکشن میں سات لاکھ سے زائد ووٹر حق رائے دہی استعمال کریں گے، ڈیرہ اسماعیل خان میں میئر کی نشست کا انتخاب مرکز نگاہ ہے، عمر امین گنڈاپور، فیصل کریم کنڈی اور کفیل نظامی میں کڑا مقابلہ متوقع ہے۔

    الیکشن کے دوران بعض علاقوں سے دنگا فساد کی رپورٹس بھی ملیں۔ تحصیل کرک میں دبلی لواغر اور شگی لواغر کے خواتین کے بیلٹ باکسز کو آگ لگا دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق برقع پوش نامعلوم خواتین نے ووٹ پول کے بہانے بیلٹ باکس میں آتش گیر مواد ڈال دیا جس سے بیلٹ باکس میں آگ لگ گئی، آگ لگنے کے بعد پولنگ سٹیشنز میں بھگدڑ مچ گئی، سٹاف اور خواتین پولنگ کے احاطے میں محصور ہوگئیں۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کا کنٹرول سنبھال کر حالات کو قابو کیا۔

    کندہ باجی خیل پولنگ سٹیشن پر مقامی لوگوں نے بائیکاٹ کر دیا اور تمام نشستوں پر ووٹنگ کا مطالبہ کر دیا۔ پشاور کے گل بہار قادر اباد پولنگ سٹیشن میں بھی ہنگامہ آرائی کی اطلاعات ملیں۔

    ری پولنگ میئرسٹی ، تحصیل چیئرمین، نیبرہڈ اورویلیج کونسل کی نشستوں پر ہو رہی ہے، انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ سٹیشنز پر توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی اور امیدواروں کی وفات کے باعث پولنگ روک دی گئی تھی۔

  • بلدیاتی انتخابات کے بجائےعام انتخابات دیکھ رہا ہوں :شہبازشریف نہیں نوازشریف میرا لیڈرہے:خواجہ آصف

    بلدیاتی انتخابات کے بجائےعام انتخابات دیکھ رہا ہوں :شہبازشریف نہیں نوازشریف میرا لیڈرہے:خواجہ آصف

    لاہور:بلدیاتی انتخابات کے بجائے عام انتخابات دیکھ رہا ہوں :اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے مرکزی رہنماخواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں بلدیاتی انتخابات نہیں بلکہ عام انتخابات دیکھ رہےہیں اور ساتھ ہی انہوں نے وزارت عظمیٰ کے دیگرامیدواروں کی خواہشات پرپانی پھیرتے ہوئے کہا کہ ہمارا قائد صرف نواز شریف ہے اور ہم سب اس کے ورکر ہیں۔

    خواجہ آصف نے شہبازشریف ، شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر وزارت عظمیٰ کے امیدواروں کی خواہشات پر پانی پھیرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کے علاوہ کوئی قبول نہیں

    سیالکوٹ میں ورکرز کنونشن سے خطاب میں ن لیگی رہنما کا کہنا تھا لگتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے بجائے عام انتخابات ہو جائیں گے، قائدکانعرہ ہے کہ ووٹ کوعزت دو اور اس پر عمل ہو گا۔خواجہ آصف نے کہا کہ جلد بیساکھیوں والی حکومت سے چھٹکارا مل جائےگا، 15، 20 روز میں صورت حال واضح ہو جائےگی۔

    انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین سال کی حکومتی کارکردگی عوام ہی بیان کر سکتے ہیں اور اجتماعی سوچ کبھی بھی غلط نہیں ہوتی۔لیگی رہنما نے کہا کہ ایک شخص ایسا آیاہے جو دن رات جھوٹ بولتا ہے،کل اگر پرویز الہی ڈاکو تھا تو آج وہ دوست ہے۔

    سابق وفاقی وزیر نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص کہتا ہے کہ نواز شریف باہر رہتا ہے اور اس کی دولت باہر ہے، اس کی تو اولاد مستقل باہر ہے، اپنے گریبان میں نہیں جھانکتا۔ اس کی انا قوم سے بڑی ہے، پاکستان کے عوام اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ وہ شخص کہتا تھا کہ بجلی مہنگی ہو تو حکمران چور ہوتا ہے، اس کی کابینہ کے لوگ اس پر عتراض کر رہے ہیں، کون سی عدالت میں شریف فیملی یا کسی ن لیگی قیادت پر الزامات ثابت کیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ن لیگ کی سیاست کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ہم آج بھی ملک کی بڑی جماعت ہیں۔

  • 13 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات:کل کون ہوگا کامیاب سب نے امیدیں‌ لگا لیں‌

    13 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات:کل کون ہوگا کامیاب سب نے امیدیں‌ لگا لیں‌

    پشاور: 13 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات:کل کون ہوگا کامیاب سب نے امیدیں‌ لگا لیں‌ ،اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے 13 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ری پولنگ اتوار کو ہو گی، مجموعی طور پر 500 سے زائد پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔

    پشاور سمیت چارسدہ، نوشہرہ، خیبر، مہمند، مردان، کوہاٹ، کرک، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، بونیر اور باجوڑ میں ری پولنگ ہوگی، پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا، بنوں تحصیل بکاخیل میں پولنگ کے اوقات میں تبدیلی کرتے ہوئے پولنگ صبح 30۔9 بجے سے شام 30۔5 بجے تک ہو گی۔

    صوبے کے 13 اضلاع میں ری پولنگ میئرسٹی ، تحصیل چیئرمین، نیبرہڈ اورویلیج کونسل کی نشستوں پر ہو گی، انتخابات کےپہلے مرحلے میں پولنگ سٹیشنز پرتوڑ پھوڑ،ہنگامہ آرائی اور امیدواروں کی وفات کے باعث پولنگ روک دی گئی تھی۔

    اُدھر ڈی آئی خان میں سٹی میئر کے لئے بلدیاتی انتخاب کا ٹاکرا کل ہوگا، پولنگ کے لیے مجموعی طورپر 302 پولنگ سٹیشنز اور 1039 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں، سٹی مئیر کی نشست کے لیے مجموعی طورپر 3لاکھ 44ہزارووٹر اپناحق رائے دہی کااستعمال کرینگے۔

  • پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، حلقہ بندیوں کا پہلا مرحلہ مکمل:لاہور کو”ٹوٹےٹوٹے”کردیا گیا

    لاہور:پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، حلقہ بندیوں کا پہلا مرحلہ مکمل:لاہور کو”ٹوٹےٹوٹے”کردیا گیا،اطلاعات کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں اہم پیش رفت سامنے آگئی اور صوبے سمیت لاہور میں ابتدائی طور پر حلقہ بندیوں کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے۔

    لاہور میں ابتدائی طور پر 502 نیبر ہوڈ کونسلز بنا دی گئیں، عوام الناس کی سہولت کے لیے ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشنر آفس میں حلقہ بندیوں کو آویزاں کردیا گیا، ووٹرز 11 فروری سے 25 فروری تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کرسکتے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن 22 مارچ کو حتمی لسٹ جاری کرے گا ۔

    ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق لاہور کینٹ تحصیل میں 28 نیبر ہوڈ، سٹی ڈویثرن کے لیے 183 نیبر ہوڈ، تحصیل ماڈل ٹاؤن میں 135 نیبر ہوڈ، تحصیل رائے ونڈ میں 42 جبکہ شالیمار کی حدود میں 114 نیبر ہوڈ بنائی گئی ہیں۔

    ترجمان کے مطابق پنجاب بھر کی نیبر ہوڈ اور وارڈز کا مجموعی طور تعداد کل شیئر کی جائے گئی اور قانون کے مطابق الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا پہلا مرحلہ مکمل کیا ہے۔