Baaghi TV

Tag: ایران

  • محمد باقر قالیباف مسلسل ساتویں سال ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر منتخب

    محمد باقر قالیباف مسلسل ساتویں سال ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر منتخب

    محمد باقر قالیباف ایک بار پھر ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر منتخب ہوگئے ہیں-

    ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق محمد باقر قالیباف مسلسل ساتویں سال اس اہم عہدے کیلئے دوبارہ منتخب ہوئے ہیں قالیباف نے پارلیمانی ووٹنگ میں اکثریت حاصل کی جس کے بعد انہیں دوبارہ اسپیکر منتخب کرنے کا باضابطہ اعلان کیا گیامحمد باقر قالیباف کو ایران کی سیاست میں ایک بااثر شخصیت تصور کیا جاتا ہے اور وہ حالیہ ایران امریکا مذاکرات میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں وہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے جاری سفارتی کوششوں میں اہم مذاکرات کاروں میں شامل رہے ہیں۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق قالیباف کی دوبارہ کامیابی اس بات کا اشارہ سمجھی جا رہی ہے کہ ایرانی قیادت موجودہ سیاسی اور سفارتی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنا چاہتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی، جنگ بندی مذاکرات اور عالمی سفارت کاری اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

    واضح رہےکہ محمد باقر قالیباف اس سے قبل تہران کے میئر بھی رہ چکے ہیں اور ایرانی سیاست و سکیورٹی معاملات میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

  • ٹرمپ کی ایران مذاکرات کی آڑ میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی کوشش  ، امریکی میڈیا

    ٹرمپ کی ایران مذاکرات کی آڑ میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی کوشش ، امریکی میڈیا

    امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے بدلے کئی عرب اور مسلم ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطوں میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران ایک موقع پر خاموشی چھا گئی تو ٹرمپ نے پوچھا، ’’آپ لائن پر ہیں یا نہیں؟‘‘دوسری جانب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے پا کستان، سعودی عرب اور قطر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل کو تسلیم نہ کیا گیا تو ’’خطرناک نتائج‘‘ سامنے آسکتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران سے مذاکرات اور خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں سفارتی دباؤ میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، تاہم متعلقہ ممالک کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیاامریکی حکام کے مطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بھی اشارہ دیا کہ شاید ایران بھی مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرسکتا ہے، تاہم عرب اور مسلم رہنماؤں نے اس تجویز پر خاموشی اختیار کی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کو اس ممکنہ معاہدے میں کوئی بڑا سفارتی فائدہ دینا چاہتے ہیں، لیکن اسرائیلی حکام خود اس مجوزہ ڈیل پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ مجوزہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل منصوبے اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کی حمایت جیسے اہم معاملات کو نظر انداز کررہا ہےاسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ اگر 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کردی گئی تو ایران کو معاشی اور عسکری بحالی کا وقت مل جائے گا، جس کے بعد امریکا اور اسرائیل کے لیے دوبارہ کارروائی کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

    اسرائیلی چینل 12 کے مطابق سینئر اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ معاہدہ ’’اسرائیل کے مفاد میں نہیں‘‘ جبکہ بعض حکام نے اسے ’’خراب اور انتہائی مسئلہ خیز ڈیل‘‘ قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ان کی جانب سے طے پانے والا کوئی بھی معاہدہ “مناسب اور بہترین” ہوگا جبکہ معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو انہوں نے ’’ناکام لوگ‘‘ قرار دیا،جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ’’72 گھنٹوں میں کسی کاغذ کے ٹکڑے پر نہیں ہوسکتا-

  • امریکا ایران مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اتفاق ہوچکا ہے،اسماعیل بقائی

    امریکا ایران مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اتفاق ہوچکا ہے،اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جلد کوئی جامع معاہدہ ہوجائے گا کیونکہ موجودہ بات چیت صرف ابتدائی فریم ورک تک محدود ہے۔

    میڈیا بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اتفاق ہوچکا ہے اور دونوں فریق ایک ابتدائی فریم ورک تک پہنچ گئے ہیں، تاہم ابھی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جلد کوئی جامع معاہدہ ہوجائے گا کیونکہ موجودہ بات چیت صرف ابتدائی فریم ورک تک محدود ہے۔

    ایرانی ترجمان کے مطابق امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کا محور صرف جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے، جبکہ ایران کا جوہری پروگرام اس وقت مذاکراتی ایجنڈے میں شامل نہیں امریکا کے ساتھ ممکنہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کے انتظام یا کنٹرول سے متعلق کوئی شق شامل نہیں ہے انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے حوالے سے پاکستان کا کوئی وفد بھیجنے کا فی الحال پروگرام نہیں، تاہم پاکستان اس سفارتی عمل میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے،فریقین کے درمیان کئی اہم معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن مکمل اور حتمی معاہدے کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

    اسماعیل بقائی نےاسرائیلی بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کی موجودہ صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی جارحانہ اقدام کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  • امید ہے امریکا  ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی،وزیراعظم

    امید ہے امریکا ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی،وزیراعظم

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی-

    چین کے دارالحکومت بیجنگ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے بہت کام ہوچکا ہے اور معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی،چین کی جانب سے پیش کیا گیا چار نکاتی ایجنڈا خطے میں امن کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے اور پاکستان اس کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے حل کی حمایت کی ہے، کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ خطے کے امن اور معیشت کے لیے خطرہ بن سکتی ہےحالیہ سفارتی رابطوں میں فیلڈ مارشل نے بھی اہم کردار ادا کیا اور مختلف سطحوں پر ہونے والے رابطوں کو مؤثر بنانے میں معاونت کی،پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف آج چین کے دارالحکومت بیجنگ میں مصروف دن گزاریں گے جہاں وہ چینی صدر، وزیراعظم اور اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گےوزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران پاک چین تعلقات، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور دوطرفہ شراکت داری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا وزیراعظم کو گریٹ ہال آف دی پیپلز آمد پر گارڈ آف آنر بھی پیش کیا جائے گا جبکہ چین کے وزیراعظم اپنے پاکستانی ہم منصب کا استقبال کریں گے۔

    دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوں گے جن میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے سے متعلق امور زیر غور آئیں گے، اس موقع پر معاہدوں کے تبادلے کی تقریب بھی منعقد کی جائے گی وزیراعظم بیجنگ میں تیانمن اسکوائر جا کر عوامی ہیروز کی یادگار پر حاضری دیں گے اور پھولوں کی چادر چڑھائیں گے۔

    دورے کے دوران وزیراعظم چینی سرمایہ کاروں اور مختلف کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور جاری منصوبوں پر گفتگو متوقع ہے،وزیراعظم پاک چین سفارتی تعلقات کی75ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ خصوصی تقر یب میں بھی شرکت کریں گے، جہاں دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کیا جائے گا۔

  • امن مذاکرات:ابھی مزید کام ہونا باقی ہے لیکن مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے،مارکو روبیو

    امن مذاکرات:ابھی مزید کام ہونا باقی ہے لیکن مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے،مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حل کے لیے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق مزید خبریں آج سامنے آسکتی ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس وقت چار روزہ دورے پر بھارت میں موجود ہیں انہوں نے نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب جے شنکر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ کہ میرے خیال میں امکان موجود ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں دنیا کو اچھی خبر ملے گی، تاہم انہوں نے ممکنہ اعلان کی تفصیلات بیان نہیں کیں،امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر بات چیت جاری ہے، جس کا مقصد جنگی صورتحال کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنا ہے ابھی مزید کام ہونا باقی ہے لیکن مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کا بڑا حصہ طے پا چکا ہے اور اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے ٹرمپ کے مطابق معاہدے کی حتمی تفصیلات پر کام جاری ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں دہشت گردی کی سب سے بڑی سرپرست ریاست ایران ہے، ایران عوام کی فلاح، سڑکوں کی تعمیر اور ترقیاتی کاموں پر سرمایہ خرچ کرنے کے بجائے حزب اللہ اور حماس جیسے گروہوں کی حمایت پر وسائل خرچ کرتا ہے، ایران بین الاقوامی آ بی گزرگاہوں میں بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے اور شہری جہازوں کو یرغمال بنا رہا ہے، جس سے عالمی تجارت اور سمندری سلامتی کو خطرات لاحق ہیں،امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس حوالے سے جاری مذاکرات میں ایران کی رضامندی اور مکمل عملدرآمد ضروری ہوگا۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں جنگی صورتحال کا خاتمہ ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ کئی اہم امور پر مزید بات چیت درکار ہے۔

    برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ پیشرفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا معاہدہ ضروری ہے جو تنازع کا خاتمہ کرے اور آبنائے ہرمز میں غیر مشروط اور آزاد بحری آمد و رفت یقینی بنائے انہوں نے زور دیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جا سکتے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی امریکی صدر ٹرمپ اور دیگر علاقائی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں میں کہا کہ ترکی ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے سفار ت کاری اور مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق ترکی ایران سے متعلق کسی بھی ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد کے دوران ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

    ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے جاری مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقوں کو ایک جامع فریم ورک معاہدے تک پہنچنا چاہیے جو جنگ بندی کو مضبوط بنائے، آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ یقینی کرے اور خطے کے تمام ممالک کے سکیورٹی مفادات کا تحفظ کرے۔

    پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی علاقائی رہنماؤں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو خطے میں امن اور سفارتی حل کے مشترکہ مقصد کے مزید قریب لے جانے والا اہم قدم ہے پاکستان خطے میں پائیدار امن، باہمی احترام اور استحکام کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

    پاکستان نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی جلد اسلام آباد میں کی جا سکتی ہے، جبکہ مختلف علاقائی ممالک سفارتی رابطوں میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

  • ایران اپنے یورینیم سے دستبرداری  پر راضی ہو گیا،امریکی اخبار کا دعویٰ

    ایران اپنے یورینیم سے دستبرداری پر راضی ہو گیا،امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران نے دو امریکی حکام کے جاری مغربی ایشیائی تنازع کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ ہونے والے وسیع تر امن معاہدے کے تحت اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق اس پیش رفت کی تصدیق دو امریکی حکام نے کی ہے یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن اور تہران ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں جس کا مقصد جنگی کشیدگی ختم کرنا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، تاہم ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، البتہ امریکی حکام کے مطابق ایران اصولی طور پر اپنے اس یورینیم ذخیرے سے دستبردار ہونے پر تیار ہوگیا ہے جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس مرحلے پر دونوں ممالک کے درمیان صرف ایک وسیع فہم موجود ہے جبکہ یورینیم کو ٹھکانے لگانے کے حتمی طریقہ کار پر ابھی بات چیت ہونا باقی ہے مستقبل میں ہونے والے ایٹمی مذاکرات میں یہ طے کیا جائے گا کہ ایران یورینیم کو منتقل کرے گا، اس کی افزودگی کم کرے گا یا کسی اور طریقے سے اسے غیر مؤثر بنایا جائے گا۔

    اس پیش رفت کو مذاکرات میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہدایت دی تھی کہ یورینیم کا ذخیرہ ملک سے باہر نہ بھیجا جائے۔

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 400 کلوگرام یورینیم موجود ہے جس کی افزودگی 60 فیصد تک کی جاچکی ہے، جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب تصور کی جاتی ہے جبکہ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ اس ذخیرے کو مزید افزودہ کرکے کئی ایٹمی بموں کے لیے مواد تیار کیا جاسکتا ہے۔

    یہ معاملہ مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ بن چکا تھا ایرانی مذاکرات کار مبینہ طور پر یورینیم ذخیرے سے متعلق کسی بھی عزم کو مذاکرات کے اگلے مرحلے تک مؤخر کرنا چاہتے تھے، تاہم امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے زور دیا کہ ابتدائی معاہدے میں تہران کو کم از کم ایک ابتدائی وعدہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر مذاکرات ناکام ہوسکتے ہیں اور فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوسکتی ہیں۔

    نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی منصوبہ سازوں نے حالیہ دنوں میں ایران کے یورینیم ذخائر کو نشانہ بنانے کے مختلف آپشنز تیار کیے تھے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ذخیرہ زیادہ تر اصفہان کی زیرِ زمین جوہری تنصیب میں محفوظ ہے، جسے گزشتہ سال امریکی ٹوماہاک میزائلوں سے نشانہ بنایا جاچکا ہے زیر غور آپشنز میں بنکر شکن بموں کے استعمال کی تجویز بھی شامل تھی تاکہ زیرِ زمین ذخیرے کو مکمل طور پر تباہ کیا جاسکے۔

    رپورٹ کے مطابق ایک مرحلے پر صدر ٹرمپ نے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کمانڈو کارروائی کی منظوری دینے پر بھی غور کیا تھا تاکہ ایران کے دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے بعد یورینیم ذخیرے پر قبضہ کیا جاسکے، تاہم زیادہ خطرات کے باعث اس آپریشن کی منظوری نہیں دی گئی زیر غور ایک ممکنہ راستہ 2015 کے اس جوہری معاہدے جیسا ہے جو سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پایا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے بڑے حصے روس منتقل کردیے تھے ایک اور تجویز یورینیم کی افزودگی کی سطح کو کم کرکے اسے ہتھیاروں کے لیے ناقابلِ استعمال بنانا ہے۔

    مجوزہ معاہدے میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں میں سے اربوں ڈالر کی رہائی بھی شامل ہونے کا امکان ہے رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو سے متعلق زیادہ تر فنڈز اسی وقت جاری کیے جائیں گے جب حتمی جوہری معاہدہ مکمل ہوجائے گا، تاکہ تہران مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ رہے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے اہم نکات منظر عام پر آگئے

    امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے اہم نکات منظر عام پر آگئے

    امریکا اور ایران ایک اہم معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کو آزادانہ تیل فروخت کی اجازت دی جا سکتی ہے،تاہم خطے میں تعینات امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران خطےمیں ہی موجود رہیں گی اور صرف حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں انخلا ہوگا-

    امریکی خبر ایجنسی ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا بتانا ہےکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جائیں گے جس کی مدت 60 روز ہوگی اور اس میں توسیع بھی کی جا سکے گی معاہدے کے تحت ان 60 دنوں کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھا جائے گا اور ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹانے پر آمادہ ہوگا تاکہ جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال ہو سکے جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق مذاکرات بھی جاری رکھے جائیں گے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس کے بدلے امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کرے گا اور بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی دی جائے گی تاکہ ایران عالمی منڈی میں آزادانہ تیل فروخت کر سکے اور اس اقدام سے ایرانی معیشت کو فائدہ ہوگا تاہم عالمی تیل مارکیٹ کو بھی نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے امریکی حکام کے مطابق معاہدے کا بنیادی اصول ’کارکردگی کے بدلے ریلیف‘ ہوگا، یعنی ایران جتنی تیزی سے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹائے گا اور بحری تجارت بحال کرے گا، امریکا اسی رفتار سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کرے گا۔

    خبر ایجنسی کا ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ ایران فوری طور پر منجمد فنڈز کی بحالی اور مستقل پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں تھا تاہم امریکی مؤقف یہ ہے کہ یہ اقدامات صرف عملی رعایتوں کے بعد کیے جائیں گے مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں ایران اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا جبکہ یورینیم افزودگی پروگرام کی معطلی اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے سے متعلق مذاکرات بھی ہوں گے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق ایران نے ثالثی کرنے والے ممالک کے ذریعے امریکا کو زبانی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ یورینیم افزودگی محدود کرنے اور حساس جوہری مواد سے متعلق رعایتوں پر آمادہ ہے امریکی حکام کا بتانا ہے کہ خطے میں تعینات امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران خطےمیں ہی موجود رہیں گی اور صرف حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں انخلا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدے میں لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے خاتمے کا نکتہ بھی شامل ہے پاکستانی فریق اس معاہدے میں مرکزی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے جس کی قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں اور فیلڈ مارشل معاہدے کو حتمی شکل دلوانے کی کوششوں کے سلسلے میں جمعہ اور ہفتے کو تہران میں موجود رہےامریکی حکام کا کہنا ہےکہ وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ باقی معاملات آئندہ چند گھنٹوں میں حل ہو جائیں گے اور معاہدے کا اعلان آج اتوار کے دن کیا جا سکتا ہے۔

  • ایران امریکا ممکنہ مذاکرات: اسحاق ڈار نے اہم پیشرفت کی تصدیق کر دی

    ایران امریکا ممکنہ مذاکرات: اسحاق ڈار نے اہم پیشرفت کی تصدیق کر دی

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی قیادت میں پاکستان سمیت سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے سربراہان کے درمیان ایک تاریخی ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان میں اسحاق ڈار نے اسے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور جلد ممکنہ سفارتی حل کی جانب ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے اس حساس عمل میں وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مرکزی سفارتی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    اسحاق ڈار نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنماؤں کے ساتھ کیا جانے والا آج کا اہم ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن، استحکام اور جلد ممکنہ سفارتی حل کے ہمارے مشترکہ ہدف کی جانب ایک بڑا اور اہم قدم ہے، ان شاء اللہ۔

    اسحاق ڈار نے صدارتی سفارت کاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور مذاکرات و سفارت کاری کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کو دل سے تسلیم کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور پوری امریکی ٹیم (بشمول اسٹو وٹکوف اور جیرڈ کشنر) کی کوششوں کی بھی تعریف کی، جن کے مسلسل رابطوں نے جاری مذاکرات میں بامعنی پیش رفت حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔

    نائب وزیر اعظم نے ان امن کوششوں کو آگے بڑھانے میں ایرانی قیادت کے تعمیری کردار کا اعتراف کیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مثبت رویے کو دل سے سراہتے ہیں۔

    اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ وہ خود 28 فروری سے اس پورے سفارتی عمل کے دوران عالمی قیادت کے ساتھ مسلسل قریبی رابطے میں رہے انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور برادر علاقائی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا، جن میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی اور قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی شامل ہیں، جن کے تعمیری تعاون اور حمایت نے اس حتمی نتیجے کے حصول میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

    پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ میں خاص طور پر پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دور اندیش وژن اور امن کے لیے ان کے پختہ عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو سراہتا ہوں جنہوں نے اس انتہائی حساس اور دور رس عمل کے دوران ایک مرکزی کردار ادا کیا اور آج کی اس اہم ترین عالمی بات چیت میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی انہوں نے اس طویل کاوش میں مسلسل اور مستقل سفارتی تعاون فراہم کرنے پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ (دفتر خارجہ) کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پائیدار امن، باہمی احترام اور علاقائی استحکام کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے ان مذاکرات کے کامیاب نتائج اس امید کو تقویت دیتے ہیں کہ ایک مثبت اور پائیدار حل اب ہماری پہنچ میں ہے، ان شاء اللہ۔ ہمارے خطے اور اس سے آگے کے ممالک کی مشترکہ خوشحالی اور سلامتی کے لیے جنگ و تصادم کے مقابلے میں ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی فتح ملنی چاہیے۔

  • امریکا-ایران امن معاہدے کے  مجوزہ ڈرافٹ کو اہم شخصیات کی منظوری  مل گئی،واشنگٹن ٹائمز

    امریکا-ایران امن معاہدے کے مجوزہ ڈرافٹ کو اہم شخصیات کی منظوری مل گئی،واشنگٹن ٹائمز

    واشنگٹن ٹائمز کے مطابق امریکا اور ایران آئندہ 24 گھنٹوں میں اہم اعلان کر سکتے ہیں، امن معاہدے کے مجوزہ مسودے کی منظوری میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔

    امریکی اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تیار کیے گئے مجوزہ ڈرافٹ کو اہم شخصیات کی منظوری حاصل ہو گئی ہے، جس کے بعد معاہدے کو حتمی منظوری کے لیے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کو ارسال کر دیا گیا ہے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکا ف، جیرڈ کشنر اور ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت دیگر اہم شخصیات نے مجوزہ مسودے کی منظوری دے دی ہے۔

    واشنگٹن ٹائمز کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی اس پیشرفت کے بعد آئندہ 24 گھنٹوں میں باضابطہ اعلان متوقع ہے، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے اعلان کے بعد خطے میں مختلف محاذوں پر جاری جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، پا کستان نے اس تمام سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار نبھایا۔

    قبل ازیں امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں مجوزہ حتمی معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور یہ بھی یقینی بنائے گا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو تسلی بخش انداز میں سنبھالا جائے، میں صرف ایسے معاہدے پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں وہ سب کچھ حاصل ہو جو ہم چاہتے ہیں،تازہ تجاویزمیں آبنائے ہرمزکوکھولنا، بعض ایرانی اثاثے بحال کرنا اور مذاکرات جاری رکھنا شامل ہے۔

  • نیو یارک ٹائمز نے  فیلڈ مارشل کے دورہ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دیدیا

    نیو یارک ٹائمز نے فیلڈ مارشل کے دورہ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دیدیا

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دے دیا۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران مفاہمت کے قریب آگئے ہیں، امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہونے والی ہے، اس مفاہمت میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کلیدی کردار ادا کیا فیلڈ مارشل کا حالیہ دورہ اعلیٰ سطح کی سفارت کاری ہے۔

    امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ پورے مشرق وسطیٰ میں لوگوں نے نئی لڑائی کے امکان کے لیے کمر کس لی تھی، ایسے میں دونوں اطراف کے حکام نے کہا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ ایک معاہدے کے قریب جا رہے ہیں، ایرانی اور امریکی حکام نے کہا کہ ہفتے کے روز مکمل جنگ کی واپسی کو روکنے کی آخری سفارتی کوششوں میں پیشرفت ہوئی، کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان ایک ماہ تک جاری رہنے والی جنگ بندی میں توازن برقرار ہے۔

    امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران مفاہمت کی یادداشت کا مسودہ تیار کرنے کے آخری مرحلے میں ہیں ایک ایسا فریم ورک جس میں ممکنہ طور پر ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو آگے بڑھایا جائے گااسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم باہمی طور پر قابل قبول حل تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔