Baaghi TV

Tag: ایران

  • نیو یارک ٹائمز نے  فیلڈ مارشل کے دورہ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دیدیا

    نیو یارک ٹائمز نے فیلڈ مارشل کے دورہ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دیدیا

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دے دیا۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران مفاہمت کے قریب آگئے ہیں، امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہونے والی ہے، اس مفاہمت میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کلیدی کردار ادا کیا فیلڈ مارشل کا حالیہ دورہ اعلیٰ سطح کی سفارت کاری ہے۔

    امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ پورے مشرق وسطیٰ میں لوگوں نے نئی لڑائی کے امکان کے لیے کمر کس لی تھی، ایسے میں دونوں اطراف کے حکام نے کہا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ ایک معاہدے کے قریب جا رہے ہیں، ایرانی اور امریکی حکام نے کہا کہ ہفتے کے روز مکمل جنگ کی واپسی کو روکنے کی آخری سفارتی کوششوں میں پیشرفت ہوئی، کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان ایک ماہ تک جاری رہنے والی جنگ بندی میں توازن برقرار ہے۔

    امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران مفاہمت کی یادداشت کا مسودہ تیار کرنے کے آخری مرحلے میں ہیں ایک ایسا فریم ورک جس میں ممکنہ طور پر ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو آگے بڑھایا جائے گااسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم باہمی طور پر قابل قبول حل تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

  • ایران سے ڈیل یا حملہ،ممکنہ طور پر اتوار کو فیصلہ کروں گا، ٹرمپ

    ایران سے ڈیل یا حملہ،ممکنہ طور پر اتوار کو فیصلہ کروں گا، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی تازہ پیشکش پر اپنے مذاکراتی نمائندوں سے ملاقات کریں گے اور امکان ہے کہ اتوار تک یہ فیصلہ کر لیں گے کہ جنگ دوبارہ شروع کرنی ہے یا نہیں،جبکہ انہوں نے مشرق وسطی کا نقشہ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا-

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ اس بات کے ’ففٹی ففٹی‘ امکانات ہیں کہ یا تو وہ ایک ’اچھا‘ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر ایران کو ’مکمل طور پر تباہ کر دیں گے وہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے تازہ ردعمل پر بات چیت کی جا سکے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کی بھی اس ملاقات میں شرکت متوقع ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں دو میں سے ایک چیز ہوگی، یا تو میں انہیں پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے نشانہ بناؤں گا یا ہم ایک اچھا معاہدہ کر لیں گے،کچھ لوگ معاہدہ چاہتے ہیں جبکہ کچھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے حق میں ہیں‘، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اس بات پر فکرمند ہیں کہ وہ کوئی ناموافق معاہدہ کر سکتے ہیں، وہ صرف ایسا معاہدہ قبول کریں گے جس میں یورینیم کی افزودگی اور ایران کے موجودہ یور ینیم ذخائر جیسے معاملات شامل ہوں۔

    ویب سائٹ کے مطابق ان امور کا کسی تفصیل کے ساتھ حل ہونا اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ممکن نظر نہیں آتا جس پر امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہےاس تجویز کے تحت دونوں ممالک جنگ کے خاتمے پر اتفاق کریں گے اور مزید تفصیلی مذاکرات کے لیے 30 دن کی مدت طے کریں گے۔

    دوسری جانب ٹرمپ نے مشرق وسطی کا نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا-

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر شیئر کردہ نقشے پر یونائیٹڈ اسٹیٹس آف مڈل ایسٹ لکھا، جس کے ساتھ سوالیہ نشان شامل تھا، جس نے مختلف حلقوں میں بحث کو جنم دیا،نقشے پر امریکی صدر نے ایران کو امریکی پرچم میں دکھایا ہے،یہ پوسٹ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ اور اسے علامتی سیاسی پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

  • ایرانی معاہدہ آج ہی قبول کیے جانے کی توقع ہے، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو

    ایرانی معاہدہ آج ہی قبول کیے جانے کی توقع ہے، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کردہ معاہدے کو آج ہی قبول کر سکتا ہے۔

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت کے آثار سامنے آئے ہیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ رہے ہیں، جب کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے آئندہ چند روز میں اہم اعلان کا اشارہ دیا ہے۔

    اپنے دورہ بھارت کے موقع پر نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مارکو بیورو نے کہا کہ ایران سے متعلق سفارتی کوششیں جاری ہیں اور پس پردہ مختلف سطح پر کام ہو رہا ہے یہ ممکن ہے کہ آج، کل یا پھر اگلے چند روز کے اندر ہمارے پاس اس حوالے سے کوئی بڑا اعلان کرنے کے لیے موجود ہو۔

    ایرانی وزارت خارجہ اور مذاکراتی وفد کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے لیے رابطے جاری ہیں۔

    قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دونوں ممالک کے مؤقف میں قربت آئی ہے، تاہم حتمی نتائج کے لیے آئندہ چند دن اہم ہوں گے ایران اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے پر توجہ دے رہا ہے، جب کہ مختلف معا ملات پر سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں، تاہم مذاکراتی عمل آگے بڑھ رہا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ مختصر مدت میں کسی بڑے نتیجے کی توقع نہیں کی جا سکتی کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی تاریخ طویل ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ اس تجویز کی مختلف شقوں پر فریقین نے اپنے اپنے مؤقف کا تبادلہ کیا ہے اور گزشتہ چند دنوں میں بعض نکات اور الفاظ پر اختلافات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے امریکی بحری جارحیت جسے امریکا بحری ناکا بندی قرار دیتا ہے کے خاتمے اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں پر سے پابندیوں کے خاتمے جیسے معاملات اس یادداشت کا اہم حصہ ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں، جب کہ پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ممالک بھی ثالثی کوششوں میں سرگرم ہیں۔

    واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقاتیں کیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق اعلیٰ سطح کی بیٹھک میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتِ حال، علاقائی امن اور جنگ بندی کے مسودے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ان اہم ملاقاتوں میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی آرمی چیف کے ہمراہ شریک تھے۔

  • فیلڈ مارشل کی ایران میں اہم  ملاقاتیں، امریکا اور ایران کے درمیان حتمی مفاہمت کی جانب مثبت پیشرفت

    فیلڈ مارشل کی ایران میں اہم ملاقاتیں، امریکا اور ایران کے درمیان حتمی مفاہمت کی جانب مثبت پیشرفت

    پاک افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کا ایک مختصر لیکن انتہائی نتیجہ خیز سرکاری دورہ مکمل کرلیا، اس دوران انہوں نے اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کیں، جس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان حتمی مفاہمت کی جانب مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ دورہ 8 اپریل 2026 کی امریکا ایران جنگ بندی کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں کشیدگی کم کرنے اور تعمیری رابطوں کے فروغ کے لیے جاری ثالثی کوششوں کا حصہ تھا دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے ایرانی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں انہوں نےایرانی صدر مسعود پزشکیان،اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سےملاقاتیں کیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں میں خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جاری مشاورتی عمل کو تیز کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تمام ملاقاتیں مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئیں، جنہوں نے ثالثی عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیاگزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والے تفصیلی مذاکرات کے نتیجے میں حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی قیادت نے خطے کے مسائل کے پرامن حل اور مذاکرات کے فروغ میں پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری کردار کو سراہا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران آمد پر ان کا استقبال ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سمیت اعلیٰ سول اور عسکری حکام نے کیا۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر  کی  محمد باقر قالیباف سے ملاقات

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی محمد باقر قالیباف سے ملاقات

    ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ہفتے کے روز تہران میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی جس میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات کے دوران باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے جس طرح جنگ کے میدان میں اپنا بھرپور دفاع کیا اسی طرح سفارتی محاذ پر بھی اپنے جائز حقوق کا تحفظ جاری رکھے گا ایک فوجی عام لوگوں کے مقابلے میں امن کی اہمیت کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے اور وہ کبھی بھی اپنے ملک کے وقار اور حقوق کو پامال ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا‘۔

    باقر قالیباف نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن پہلے بھی مذاکرات کے دوران ایران پر حملے کرچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی حالیہ جنگ بندی کے دوران بھی امریکا نےاپنا وعدہ توڑا اور ایران کی ناکہ بندی کی، ایران نے جنگ بندی کے عرصے میں اپنی عسکر ی صلاحیتوں کو دوبارہ مضبوط کیا ہے اور اگر امریکا نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو اسے پہلے سے زیادہ سخت ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی قیادت اور عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ایران کے بہتر مستقبل کے لیے دعاگو ہیں آپ اور میں دونوں اپنے اپنے ملک کے سپاہی ہیں اور سپاہی ہمیشہ کھری اور دو ٹوک گفتگو کرتا ہے
    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ اس نازک مرحلے پر ایران کی قیادت بصیرت رکھنے والے اور ذہین افراد کے ہاتھ میں ہے۔

    دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہا ہے کہ موجودہ سفارتی رابطوں کا مقصد جنگ بند ی کا حصول ہے، جس میں لبنان میں جاری صورت حال، امریکی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کی کشیدہ صورت حال شامل ہے ایران کو پُرامن جوہر ی توانائی کے حصول کا حق حاصل ہے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ معاہدہ قریب ہے ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات شدید نوعیت کے ہیں اور سفارت کاری وقت لیتی ہےانہوں نے قطر کے وفد کے دورہ ایران کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قطر کا وفد ایرانی وزیرِ خارجہ سے ملا ہے، تاہم اس پورے عمل میں باضابطہ ثالث صر ف پاکستان ہی ہے۔

  • امریکا ایران ثالثی: معاملات کسی مثبت انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں،خواجہ آصف

    امریکا ایران ثالثی: معاملات کسی مثبت انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں،خواجہ آصف

    سیالکوٹ:وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری ثالثی کے عمل میں بتدریج پیشرفت ہو رہی ہے اور معاملات کسی مثبت انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں،امید ہے کہ اللّٰہ کے فضل سے پاکستان سمیت پورے خطے اور دنیا میں جلد امن قائم ہوگا-

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےخواجہ آصف نے کہاکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ صورتحال ممکنہ حل کے قریب پہنچ چکی ہے،امید ہے کہ اللّٰہ کے فضل سے پاکستان سمیت پورے خطے اور دنیا میں جلد امن قائم ہوگا،موجودہ کوششوں کے ذریعے دنیا کو ایک بڑے بحران سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پاکستان کی سفارتی کاوشیں ضرور کامیاب ہوں گی۔

    دوران گفتگو وزیر دفاع نے تسلیم کیاکہ مہنگائی ایک حقیقت ہے اور محدود آمدن رکھنے والے طبقات اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں پاکستان کی معیشت بحالی کے مرحلے میں داخل ہو چکی تھی، تاہم جنگی صورتحال کے باعث معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں معاشی بحالی کا عمل نہ صرف سست پڑا ، بلکہ بعض معاملات میں الٹا اثر بھی دیکھنے میں آیا ہے، اگر خطے میں امن قائم ہو جاتا ہے تو پاکستان کے لیے معاشی بہتری کی راہ ہموار ہو جائے گی، حکومت کو اس امر کا بخوبی احساس ہے کہ عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنتا جا رہا ہے۔

  • قطر کے امیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رابطہ

    قطر کے امیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رابطہ

    ہفتے کے روز امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور حالیہ سفارتی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا دونوں رہنماؤں نے خطے میں تناؤ کم کرنے اور استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا، جب کہ اس دوران خاص طور پر پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی ثالثی پر بھی گفتگو ہوئی۔

    گفتگو میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ تنازعات کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات ناگزیر ہیں دونوں فریقوں نے سمندری راستوں کے تحفظ، اہم آبی گزرگاہوں کی سلامتی اور عالمی توانائی و سپلائی چین کے استحکام کو بھی اہم قرار دیا، امیرِ قطر نے اس موقع پر تنازعات کے پُرامن حل کے لیے قطر کے عزم کا اعادہ کیا اور سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار بھی کیا۔

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی بھرپور کوششیں جاری ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں موجود ہیں اور ان کی ایرانی اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں جب کہ میڈیا رپورٹس کے بعد ایران نے بھی قطر کے اعلیٰ سطح وفد کی تہران میں موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

    گزشتہ روز رائٹرز نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے بعد قطر کا وفد بھی جمعے کو تہران پہنچ چکا ہے، جس کے بعد قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے بھی ذرائع کے حوالے سے قطری وفد کے تہران کے دورے کی تصدیق کی تھی۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اپنے ایک بیان میں بتایا کہ قطری وفد نے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے کئی ممالک نے جنگ کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے، جس کی ہم قدر کرتے ہیں تاہم اس وقت صرف پاکستان ہی مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف سے اہم ملاقات کی ہےعرب میڈیا اور ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں تیار ہونے والے اس تاریخی معاہدے کا اعلان جلد متوقع ہے اور کامیابی کی صورت میں اسے ’اسلام آباد ڈیکلریشن‘ کا نام دیا جائے گا۔

  • ایران سے ممکنہ ڈیل:ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو

    ایران سے ممکنہ ڈیل:ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان منگل کو ایران جنگ کے معاملے پر ایک کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی-

    امریکی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے معاملے پر مختلف سوچ رکھتے ہیں، جس کے باعث گفتگو میں تناؤ پیدا ہوا یہ حالیہ دنوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی گفتگو نہیں تھی اتوار کو ہونے والی بات چیت میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا تھا کہ وہ ہفتے کے آغاز میں ایران پر نئے ہدفی حملوں کی منظوری دینے کا امکان رکھتے ہیں، بتایا گیا کہ اس مجوزہ کارروائی کو نیا نام آپریشن سلیج ہیمر دیے جانے کی تیاری بھی کی جارہی تھی۔

    تاہم ابتدائی گفتگو کے تقریباً 24 گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ منگل کو متوقع حملے روک رہے ہیں ان کے مطابق یہ فیصلہ خلیجی اتحادی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر کیا گیا امریکی اہلکار اور معاملے سے واقف ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ ان دنوں خلیجی ممالک وا ئٹ ہاؤس اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا جاسکے۔

    صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ہم ایران کے معاملے کے آخری مراحل میں ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہےیا تو معاہدہ ہوجائے گا یا پھر ہم کچھ ایسے اقدامات کریں گے جو کافی سخت ہوں گے، لیکن امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ان جاری مذاکرات سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو طویل عرصے سے تہران کے خلاف زیادہ جارحانہ حکمت عملی کے حامی رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ تاخیر صرف ایران کے مفاد میں جا رہی ہے۔

    امریکی اہلکار کے مطابق نیتن یاہو نے منگل کی گفتگو میں صدر ٹرمپ کو واضح طور پر بتایا کہ متوقع حملے موخر کرنا ایک غلطی ہے اور امریکا کو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔

    ایک اسرائیلی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی گفتگو میں نیتن یاہو نے ٹرمپ پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا اسرائیلی حکام کے مطابق اختلاف واضح تھا، کیونکہ ٹرمپ معاہدے کے امکانات دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو کسی اور سمت میں پیش رفت کی توقع کررہے تھے۔

    سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس سے اس معاملے پر مؤقف لینے کی کوشش کی گئی جبکہ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے اس کشیدہ فون کال کی خبر سب سے پہلے دی تھی اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو کے قریبی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے اسرائیلی حکومت کی اعلیٰ سطح پر ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی خواہش موجود ہے اور اس بات پر بڑھتی ہوئی مایوسی پائی جارہی ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی ایران کو سفارتی عمل کے ذریعے وقت دے رہے ہیں۔

    نیتن یاہو کی امریکی حکمت عملی، خصوصاً ٹرمپ کی جانب سے دھمکیوں کے بعد اچانک توقف اختیار کرنے پر ناراضی کوئی نئی بات نہیں امریکی حکام ماضی میں بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ ایران جنگ کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے مقاصد مکمل طور پر یکساں نہیں۔

    بدھ کو صحافیوں نے جب صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ انہوں نے گزشتہ شب نیتن یاہو سے کیا کہا تھا تو انہوں نے جواب دیا، میں وہی کروں گا جو میں چاہوں گا،ایران کے ساتھ معاملات انتہائی نازک مرحلے میں ہیں اور اگر چند روز کی سفارت کاری سے جانیں بچ سکتی ہیں تو اسے موقع دینا چاہیے۔

    ادھرایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نور نیوز کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کو کہا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے ایران کے ابتدائی 14 نکاتی متن کی بنیاد پر کئی بار پیغامات کا تبادلہ ہوچکا ہے، امریکی مؤقف موصو ل ہوچکا ہے اور ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

  • ایران مذاکرات کی کوششوں کا فوری جواب دے، تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن قائم ہوسکے،سعودی عرب

    ایران مذاکرات کی کوششوں کا فوری جواب دے، تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن قائم ہوسکے،سعودی عرب

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا فوری جواب دے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی صدر کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب سفارت کاری کو موقع دینے کے اقدام کو سراہتا ہے تاکہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے قابل قبول معاہدہ طے کیا جاسکے، سعودی عرب اس حوالے سے پاکستان کی جاری ثالثی کوششوں کو بھی انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    سعودی وزیر خارجہ کے مطابق ریاض کو امید ہے کہ ایران کشیدگی کے خطرناک نتائج سے بچنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائے گا اور جامع معاہدے کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا فوری جواب دے گا تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن قائم ہوسکے۔

    سعودی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ خلیجی ممالک کی درخواست پر ایران پر منگل کو متوقع فوجی حملہ مؤخر کردیا گیا ہے کیونکہ اب سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔

  • مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق فوجی کشیدگی دوبارہ بڑھانے کے خواہاں نہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ امریکا کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، کیونکہ واشنگٹن کے مطابق اس سے پورے خطے میں ایٹمی دوڑ شروع ہو سکتی ہے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ’بہت زیادہ پیش رفت‘ ہوئی ہے اور دونوں ممالک فوجی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز سے گریز چاہتے ہیں واشنگٹن کو یقین ہے کہ تہران معاہدہ کرنے میں سنجیدہ ہے’ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں۔

    وینس نے بتایا کہ ان کی حال ہی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی، جس میں امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے لیے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو خلیجی خطے کے دیگر ممالک بھی اپنے دفاع کے لیے ایسے ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، جس کے بعد دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔

    جے ڈی وینس کے مطابق امریکا کی کوشش ہے کہ دنیا میں جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی تعداد محدود رہے اور اسی مقصد کے تحت ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ضروری سمجھا جا رہا ہے، واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران ایک ایسے فریم ورک پر امریکا کے ساتھ تعاون کرے جس کے ذریعے مستقبل میں تہران دوبارہ اپنی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت بحال نہ کر سکے،ہم مذاکرات کے ذریعے یہی مقصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔