Baaghi TV

Tag: ایران

  • امریکا جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا،قالیباف

    امریکا جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا،قالیباف

    ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکا پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کردیا-

    محمد باقر قالیباف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا جاری رہنا اور لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکا جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا امریکا نہ صرف ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں اور ناکہ بندی کو برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ اپنے اتحادی اسرائیل کو لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھانے سے بھی نہیں روک رہا۔

    قالیباف نے اپنے پیغام میں کہا کہ بحری ناکہ بندی اور لبنان میں صہیونی حکومت کے جنگی جرائم میں اضافہ، امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی عدم پاسداری کا واضح ثبوت ہیں ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور بالآخر اس کے نتائج سامنے آتے ہیں، وقت آنے پر تمام معاملات واضح ہو جائیں گے۔

    قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران، امریکا، اسرائیل اور لبنان سے متعلق صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

  • پاسدارانِ انقلاب کا ایران پر حملوں میں استعمال ہونیوالے فضائی اڈے پر حملہ

    پاسدارانِ انقلاب کا ایران پر حملوں میں استعمال ہونیوالے فضائی اڈے پر حملہ

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایرواسپیس فورس نے ایک ایسے فضائی اڈے (ایئر بیس) کو نشانہ بنایا ہے، جسے مبینہ طور پر امریکا نے جزیرہ سیریک پر ایک ٹیلی کام ٹاور پر حملے کے لیے استعمال کیا تھا۔

    برطانوی نشریاتی ادارے رائٹرز کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے سرکاری بیان میں اس فضائی اڈے کے عین محلِ وقوع (لوکیشن) کی وضاحت نہیں کی، تاہم یہ کارروائی دونوں ممالک کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کی گئی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یہ جوابی کارروائی ہرمزگان صوبے کے جزیرہ سیریک پر امریکی حملے کے چند گھنٹوں بعد عمل میں لائی گئی اور اس آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کیا گیا پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یہ انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے کہ اگر اس قسم کی جارحیت دوبارہ دہرائی گئی تو اس کا مزید سخت جواب دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے اور کویت کی جانب سے بھی اپنی فضائی حدود میں میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

  • ایران نے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا، امریکی میڈیا

    ایران نے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا، امریکی میڈیا

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد تباہ ہونے والے اپنے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا ہے۔

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے تباہ شدہ زیرِ زمین میزائل تنصیبات تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے لیے تیزی سے کام کیا اور بھاری مشینری، بلڈوزرز اور ڈمپ ٹرکوں کی مدد سے بند سرنگوں اور راستوں کو کھول دیا امریکا اور اسرائیل نے جنگ کے دوران ایران کے زیرِ زمین میزائل اڈوں کے داخلی راستے تباہ کرکے اس کی میزائل صلاحیت محدود کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے متعدد مقامات پر بحالی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

    سی این این کے مطابق ایران نے 18 زیرِ زمین میزائل تنصیبات پر حملوں کے بعد بند ہونے والے 69 میں سے 50 سرنگی راستے دوبارہ کھول دیے ہیں، جبکہ کئی تباہ شدہ سڑکیں بھی مرمت یا دوبارہ تعمیر کر دی گئی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دوبارہ کشیدگی یا حملے شروع ہوئے تو ایران اب بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    جیمز مارٹن سینٹر فار نان پرولیفریشن اسٹڈیز سے وابستہ تجزیہ کار سیم لیئر کے مطابق ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں میزائل موجود ہیں اور جب تک لانچرز اور عملہ موجود ہے، ایران میزائل فائر کرتا رہ سکتا ہے،ایران کی زیرِ زمین تنصیبات کئی سو میٹر گہری چٹانوں کے نیچے قائم ہیں، جس کی وجہ سے انہیں مکمل طور پر تباہ کرنا آسان نہیں۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جنگ کے دوران ایران مسلسل خطرات کے باوجود سرنگوں کی کھدائی اور بحالی میں مصروف رہا، جبکہ امریکا اور اسرائیل اکثر ان مشینوں کو بھی نشانہ بناتے رہے جو ملبہ ہٹانے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کے دوران بارہا ایران کے میزائل پروگرام کو بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ایران کی میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کرنا جنگ کے اہم اہداف میں شامل بتایا تھا۔

    دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے سی این این کی رپورٹ پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ترجمان شان پارنل نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے اور وہ کسی بھی وقت کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے ماہرین کا اندازہ ہے کہ ایران کے پاس اب بھی تقریباً 1000 میزائل زیرِ زمین تنصیبات میں محفوظ موجود ہیں، جبکہ ایران کا میزائل نیٹ ورک بڑی حد تک دوبارہ فعال ہو چکا ہے۔

  • ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق سی این این کی رپورٹ فیک قرار دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹنگ مسترد کردی-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ سی این این نے ایک بار پھر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں جوہری معاملات کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہےمعاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ جوہری پروگرام سے متعلق نکات اس معاہدے کا بنیادی اور مرکزی حصہ ہیں، معاہدہ نہایت جامع اور تفصیلی ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور دیگر حساس معاملات سے متعلق مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے معاہدے کا بڑا حصہ انہی معاملات پر مشتمل ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں سی این این پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ مسلسل گمراہ کن رپورٹنگ کر رہا ہےآیا نئی انتظامیہ کے تحت سی این این اپنی ساکھ بحال کر پائے گا یا نہیں؟

    دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سفارتی رابطے جاری ہیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکرات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل کسی قسم کی قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی موجودہ صورتحال میں معاہدے کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا اور تمام فریقوں کو مذاکراتی عمل مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

  • امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اور پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے تاہم بات چیت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی قیاس آرائی کو اہمیت نہیں دینی چاہیے اور جب تک واضح نتائج سامنے نہ آئیں، اس عمل کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی،ان کے بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے کے ذرائع بدستور فعال ہیں۔

    ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ایرانی عوام کے حقوق کی مکمل ضمانت فراہم نہ کرے ایران کے لیے اصل معیار ٹھوس اور عملی نتائج کا حصول ہے اور اس وقت تک کسی معاہدے کی توثیق نہیں کی جائے گی جب تک قوم کے حقوق کے تحفظ کا مکمل یقین نہ ہو جائے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    ادھر تہران نے بامعنی مذاکرات شروع کرنے سے قبل اپنے منجمد تقریباً 12 ارب ڈالر کے اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور توانائی کی عالمی ترسیل بھی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے-

  • دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے،قالیباف

    دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے،قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کی یقینی ضمانت موجود نہ ہو۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق محمد باقر قالیباف نے یہ بیان آج صبح منعقد ہونے والے پارلیمنٹ کے ایک ورچوئل اجلاس کے دوران دیا کہا کہ دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے،ایران کے لیے واحد معیار یہ ہے کہ وہ اپنی جانب سے کسی بھی عہد و ذمہ داری کو پورا کرنے سے پہلے عملی اور ٹھوس نتائج حاصل کرے۔

    یہ بیان انہوں نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کے طور پر دوبارہ منتخب ہونے اور پارلیمانی پریزیڈیم کے ہمراہ حلف اٹھانے کے بعد دیا کہا کہ تہران صرف اسی صورت میں کسی معاہدے پر آمادہ ہوگا جب اس بات کا یقین ہو کہ ایرانی عوام کے حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں اور معاہدے کے نتائج عملی طور پر سامنے آ چکے ہیں،محض وعدوں یا یقین دہانیوں کی بنیاد پر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ طے پانے کے بہت قریب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نہ صرف ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا بلکہ کسی بھی ذریعے سے ایٹم بم حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کرے گااگر ایران کے ساتھ کوئی مؤثر اور قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ فوجی آپریشن کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

  • ٹرمپ نے ایران معاہدے کا مسودہ واپس بھیج  دیا،امریکی ویب سائٹ

    ٹرمپ نے ایران معاہدے کا مسودہ واپس بھیج دیا،امریکی ویب سائٹ

    ٹرمپ نے ایران معاہدے کا مسودہ واپس بھیج کر اہم شقوں میں بڑی تبدیلی مانگ لی ہے-

    امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے مسودے میں متعدد ترامیم شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شقوں کو مزید سخت اور واضح بنانا چاہتے ہیں۔

    عہدیدار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران معاہدے کے مسودے کا جائزہ لیا اور اس میں نظرثانی کی ہدایت جاری کی،صدر ٹرمپ خاص طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کے مستقبل، اس کے ذخائر اور ممکنہ منتقلی کے طریقہ کار سے متعلق مزید وضاحت چاہتے ہیں امریکی قیادت کا مؤقف ہےکہ ان نکات کو حتمی معاہدے میں زیادہ واضح انداز میں شامل کیا جانا چاہیےتاکہ بعد میں کسی قسم کے ابہام کی گنجائش نہ رہے۔

    امریکی عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور بحری آمد و رفت کی بحالی سے متعلق بعض شقوں کی زبان میں بھی تبدیلی چاہتے ہیں ان کا خیال ہے کہ معاہدے کی شرائط زیادہ مضبوط اور قابلِ عمل ہونی چاہئیں امریکا کی جانب سے مجوزہ ترامیم ایران کو بھجوا دی گئی ہیں اور توقع ہے کہ تہرا ن ان پر تقریباً تین دن کے اندر اپنا جواب دے گا اگر دونوں فریق متنازع نکات پر اتفاق کر لیتے ہیں تو معاہدہ ایک ہفتے یا اس سے بھی کم وقت میں طے پا سکتا ہے۔

    مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ حالیہ کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان سب سے بڑی سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، تاہم جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی سے متعلق معاملات اب بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہیں-

  • کوئی  قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ فوجی آپریشن کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے،ٹرمپ

    کوئی قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ فوجی آپریشن کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے نہ صرف جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے بلکہ کسی بھی ذریعے سے ایسے ہتھیار حاصل نہ کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کر دی ہے جسے انہوں نے جاری مذاکرات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا۔

    امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا مذاکرات کے ذریعے وہ تمام اہداف حاصل کر رہا ہے جو اس نے ایرا ن کے حوالے سے مقرر کیے تھے، وہ کسی جلد بازی میں نہیں ہیں کیونکہ جلد بازی کی صورت میں بہتر اور دیرپا معاہدہ ممکن نہیں ہو سکتا۔

    ٹرمپ کے مطابق ابتدائی طور پر ایرانی مؤقف صرف جوہری ہتھیار نہ بنانے تک محدود تھا تاہم امریکی اعتراض کے بعد اس میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ ایران کسی بھی شکل میں جوہری نوعیت کا عسکری ہتھیار خریدنے یا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، ایرانی مذاکرات کار انتہائی سخت مؤقف رکھتے ہیں اور بات چیت میں وقت لگ رہا ہے تاہم واشنگٹن اس معاملے میں جلد بازی کے بجائے پائیدار نتائج چاہتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی مؤثر اور قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ فوجی آپریشن کرنے پر مجبور ہو سکتا ہےواشنگٹن تمام ممکنہ آپشنز اپنے پاس رکھتا ہے اور موجودہ صورتحال میں تمام تر سفارتی اور تزویراتی برتری امریکا کے پاس ہے۔

    امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کی بحالی سے بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل معمول پر آ سکے گی۔

    صدر ٹرمپ نے ایران کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت انتہائی کمزور پوزیشن میں ہےایرانی فوج، بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور ان کی عسکری صلاحیتوں کو بڑی حد تک ختم کر دیا گیا ہے، بعض سابق جنگوں سے یہ سبق ملا ہے کہ کسی ملک کے تمام ریاستی ڈھانچے کو ختم کر دینا طویل المدتی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے،ماضی میں عراق میں ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار مختلف حکمت عملی اپنائی گئی تاکہ مستقبل میں خطے میں استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔

  • امریکاکا ایران جانے والے بحری جہاز پر میزائل حملہ

    امریکاکا ایران جانے والے بحری جہاز پر میزائل حملہ

    خلیج عمان اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی، امریکی فوج نے ایک تجارتی بحری جہاز کو میزائل حملے کا نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق کارروائی اس وقت کی گئی جب مذکورہ جہاز نے ایران کے خلاف نافذ کردہ بحری محاصرے کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی، گمبیا کے پرچم تلے چلنے والا تجارتی جہاز ایک ایرانی بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا جہاز کو متعدد بار متنبہ کیا گیا، تاہم اس نے اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا، جس کے بعد اسے میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیاحملے کے نتیجے میں جہاز ناکارہ ہو گیا اور ایران کی جانب اپنا سفر جاری نہ رکھ سکا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف نافذ کردہ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اب تک پانچ تجارتی جہازوں کو غیر فعال کیا جا چکا ہے، جبکہ 116 دیگر جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے تاکہ وہ ایرانی بندرگاہوں تک نہ پہنچ سکیں امریکی بحریہ اور اس کے اتحادی خطے میں بحری سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور پابندیوں یا محاصرے کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

  • آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کا بھر پور جواب دیا جائے گا، ایرانی فوج

    آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کا بھر پور جواب دیا جائے گا، ایرانی فوج

    ایرانی فوج کی اعلیٰ ترین آپریشنل کمانڈ نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت یا ایران کے نافذ کردہ سسٹم میں خلل ڈالنے کی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    ایران کے ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز‘ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں واضح کیا ہے کہ ایرانی افواج مکمل اختیارات کے ساتھ آبنائے ہرمز کا انتظام چلا رہی ہیں اس راستے سے گزرنے تمام تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز پر لازم ہے کہ وہ ایران کے متعین کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق صرف مقررہ راستہ اختیار کریں اور ٹرانزٹ کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے پیشگی اجازت کا حصول یقینی بنائیں۔

    ایرانی فوج نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں مداخلت یا نیوی گیشن میں خلل ڈالنے کے ارادے سے کی جانے والی کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے جہاز اس راستے پر محفوظ سفر نہیں کرسکیں گے۔

    واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم ترین بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر میں سمندر کے راستے سپلائی ہونے والے پیٹرولیم اور خام تیل کا تقریباً 20 سے 30 فیصد گزرتا ہے ایران نے اس گزرگاہ کو امریکا اور اس کے اُن اتحادی ممالک کے بحری جہازوں کے لیے بند کر رکھا ہے جنہوں نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی و اسرائیلی جارحیت میں حصہ لیا یا اس کی حمایت کی تھی۔

    ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں کی غیر قانونی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد اس گزرگاہ پر اپنا سخت کنٹرول نافذ کیا تھا ایرانی حکام نے اس اقدام کو امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کی شرائط کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا، جسے اب امریکا نے ختم کر دیا ہے.پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس نے جمعرات کے روز ٹریکنگ سسٹم بند کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے امریکی آئل ٹینکر کو واپس جانے پر مجبور کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    حالیہ بیان میں ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور سلامتی کو اپنی قومی سلامتی کا اہم حصہ سمجھتا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔