Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران اپنے یورینیم سے دستبرداری  پر راضی ہو گیا،امریکی اخبار کا دعویٰ

    ایران اپنے یورینیم سے دستبرداری پر راضی ہو گیا،امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران نے دو امریکی حکام کے جاری مغربی ایشیائی تنازع کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ ہونے والے وسیع تر امن معاہدے کے تحت اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق اس پیش رفت کی تصدیق دو امریکی حکام نے کی ہے یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن اور تہران ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں جس کا مقصد جنگی کشیدگی ختم کرنا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، تاہم ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، البتہ امریکی حکام کے مطابق ایران اصولی طور پر اپنے اس یورینیم ذخیرے سے دستبردار ہونے پر تیار ہوگیا ہے جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس مرحلے پر دونوں ممالک کے درمیان صرف ایک وسیع فہم موجود ہے جبکہ یورینیم کو ٹھکانے لگانے کے حتمی طریقہ کار پر ابھی بات چیت ہونا باقی ہے مستقبل میں ہونے والے ایٹمی مذاکرات میں یہ طے کیا جائے گا کہ ایران یورینیم کو منتقل کرے گا، اس کی افزودگی کم کرے گا یا کسی اور طریقے سے اسے غیر مؤثر بنایا جائے گا۔

    اس پیش رفت کو مذاکرات میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہدایت دی تھی کہ یورینیم کا ذخیرہ ملک سے باہر نہ بھیجا جائے۔

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 400 کلوگرام یورینیم موجود ہے جس کی افزودگی 60 فیصد تک کی جاچکی ہے، جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب تصور کی جاتی ہے جبکہ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ اس ذخیرے کو مزید افزودہ کرکے کئی ایٹمی بموں کے لیے مواد تیار کیا جاسکتا ہے۔

    یہ معاملہ مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ بن چکا تھا ایرانی مذاکرات کار مبینہ طور پر یورینیم ذخیرے سے متعلق کسی بھی عزم کو مذاکرات کے اگلے مرحلے تک مؤخر کرنا چاہتے تھے، تاہم امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے زور دیا کہ ابتدائی معاہدے میں تہران کو کم از کم ایک ابتدائی وعدہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر مذاکرات ناکام ہوسکتے ہیں اور فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوسکتی ہیں۔

    نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی منصوبہ سازوں نے حالیہ دنوں میں ایران کے یورینیم ذخائر کو نشانہ بنانے کے مختلف آپشنز تیار کیے تھے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ذخیرہ زیادہ تر اصفہان کی زیرِ زمین جوہری تنصیب میں محفوظ ہے، جسے گزشتہ سال امریکی ٹوماہاک میزائلوں سے نشانہ بنایا جاچکا ہے زیر غور آپشنز میں بنکر شکن بموں کے استعمال کی تجویز بھی شامل تھی تاکہ زیرِ زمین ذخیرے کو مکمل طور پر تباہ کیا جاسکے۔

    رپورٹ کے مطابق ایک مرحلے پر صدر ٹرمپ نے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کمانڈو کارروائی کی منظوری دینے پر بھی غور کیا تھا تاکہ ایران کے دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے بعد یورینیم ذخیرے پر قبضہ کیا جاسکے، تاہم زیادہ خطرات کے باعث اس آپریشن کی منظوری نہیں دی گئی زیر غور ایک ممکنہ راستہ 2015 کے اس جوہری معاہدے جیسا ہے جو سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پایا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے بڑے حصے روس منتقل کردیے تھے ایک اور تجویز یورینیم کی افزودگی کی سطح کو کم کرکے اسے ہتھیاروں کے لیے ناقابلِ استعمال بنانا ہے۔

    مجوزہ معاہدے میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں میں سے اربوں ڈالر کی رہائی بھی شامل ہونے کا امکان ہے رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو سے متعلق زیادہ تر فنڈز اسی وقت جاری کیے جائیں گے جب حتمی جوہری معاہدہ مکمل ہوجائے گا، تاکہ تہران مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ رہے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے اہم نکات منظر عام پر آگئے

    امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے اہم نکات منظر عام پر آگئے

    امریکا اور ایران ایک اہم معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کو آزادانہ تیل فروخت کی اجازت دی جا سکتی ہے،تاہم خطے میں تعینات امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران خطےمیں ہی موجود رہیں گی اور صرف حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں انخلا ہوگا-

    امریکی خبر ایجنسی ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا بتانا ہےکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جائیں گے جس کی مدت 60 روز ہوگی اور اس میں توسیع بھی کی جا سکے گی معاہدے کے تحت ان 60 دنوں کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھا جائے گا اور ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹانے پر آمادہ ہوگا تاکہ جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال ہو سکے جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق مذاکرات بھی جاری رکھے جائیں گے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس کے بدلے امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کرے گا اور بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی دی جائے گی تاکہ ایران عالمی منڈی میں آزادانہ تیل فروخت کر سکے اور اس اقدام سے ایرانی معیشت کو فائدہ ہوگا تاہم عالمی تیل مارکیٹ کو بھی نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے امریکی حکام کے مطابق معاہدے کا بنیادی اصول ’کارکردگی کے بدلے ریلیف‘ ہوگا، یعنی ایران جتنی تیزی سے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹائے گا اور بحری تجارت بحال کرے گا، امریکا اسی رفتار سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کرے گا۔

    خبر ایجنسی کا ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ ایران فوری طور پر منجمد فنڈز کی بحالی اور مستقل پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں تھا تاہم امریکی مؤقف یہ ہے کہ یہ اقدامات صرف عملی رعایتوں کے بعد کیے جائیں گے مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں ایران اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا جبکہ یورینیم افزودگی پروگرام کی معطلی اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے سے متعلق مذاکرات بھی ہوں گے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق ایران نے ثالثی کرنے والے ممالک کے ذریعے امریکا کو زبانی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ یورینیم افزودگی محدود کرنے اور حساس جوہری مواد سے متعلق رعایتوں پر آمادہ ہے امریکی حکام کا بتانا ہے کہ خطے میں تعینات امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران خطےمیں ہی موجود رہیں گی اور صرف حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں انخلا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدے میں لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے خاتمے کا نکتہ بھی شامل ہے پاکستانی فریق اس معاہدے میں مرکزی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے جس کی قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں اور فیلڈ مارشل معاہدے کو حتمی شکل دلوانے کی کوششوں کے سلسلے میں جمعہ اور ہفتے کو تہران میں موجود رہےامریکی حکام کا کہنا ہےکہ وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ باقی معاملات آئندہ چند گھنٹوں میں حل ہو جائیں گے اور معاہدے کا اعلان آج اتوار کے دن کیا جا سکتا ہے۔

  • ایران امریکا ممکنہ مذاکرات: اسحاق ڈار نے اہم پیشرفت کی تصدیق کر دی

    ایران امریکا ممکنہ مذاکرات: اسحاق ڈار نے اہم پیشرفت کی تصدیق کر دی

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی قیادت میں پاکستان سمیت سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے سربراہان کے درمیان ایک تاریخی ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان میں اسحاق ڈار نے اسے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور جلد ممکنہ سفارتی حل کی جانب ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے اس حساس عمل میں وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مرکزی سفارتی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    اسحاق ڈار نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنماؤں کے ساتھ کیا جانے والا آج کا اہم ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن، استحکام اور جلد ممکنہ سفارتی حل کے ہمارے مشترکہ ہدف کی جانب ایک بڑا اور اہم قدم ہے، ان شاء اللہ۔

    اسحاق ڈار نے صدارتی سفارت کاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور مذاکرات و سفارت کاری کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کو دل سے تسلیم کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور پوری امریکی ٹیم (بشمول اسٹو وٹکوف اور جیرڈ کشنر) کی کوششوں کی بھی تعریف کی، جن کے مسلسل رابطوں نے جاری مذاکرات میں بامعنی پیش رفت حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔

    نائب وزیر اعظم نے ان امن کوششوں کو آگے بڑھانے میں ایرانی قیادت کے تعمیری کردار کا اعتراف کیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مثبت رویے کو دل سے سراہتے ہیں۔

    اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ وہ خود 28 فروری سے اس پورے سفارتی عمل کے دوران عالمی قیادت کے ساتھ مسلسل قریبی رابطے میں رہے انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور برادر علاقائی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا، جن میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی اور قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی شامل ہیں، جن کے تعمیری تعاون اور حمایت نے اس حتمی نتیجے کے حصول میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

    پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ میں خاص طور پر پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دور اندیش وژن اور امن کے لیے ان کے پختہ عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو سراہتا ہوں جنہوں نے اس انتہائی حساس اور دور رس عمل کے دوران ایک مرکزی کردار ادا کیا اور آج کی اس اہم ترین عالمی بات چیت میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی انہوں نے اس طویل کاوش میں مسلسل اور مستقل سفارتی تعاون فراہم کرنے پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ (دفتر خارجہ) کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پائیدار امن، باہمی احترام اور علاقائی استحکام کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے ان مذاکرات کے کامیاب نتائج اس امید کو تقویت دیتے ہیں کہ ایک مثبت اور پائیدار حل اب ہماری پہنچ میں ہے، ان شاء اللہ۔ ہمارے خطے اور اس سے آگے کے ممالک کی مشترکہ خوشحالی اور سلامتی کے لیے جنگ و تصادم کے مقابلے میں ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی فتح ملنی چاہیے۔

  • امریکا-ایران امن معاہدے کے  مجوزہ ڈرافٹ کو اہم شخصیات کی منظوری  مل گئی،واشنگٹن ٹائمز

    امریکا-ایران امن معاہدے کے مجوزہ ڈرافٹ کو اہم شخصیات کی منظوری مل گئی،واشنگٹن ٹائمز

    واشنگٹن ٹائمز کے مطابق امریکا اور ایران آئندہ 24 گھنٹوں میں اہم اعلان کر سکتے ہیں، امن معاہدے کے مجوزہ مسودے کی منظوری میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔

    امریکی اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تیار کیے گئے مجوزہ ڈرافٹ کو اہم شخصیات کی منظوری حاصل ہو گئی ہے، جس کے بعد معاہدے کو حتمی منظوری کے لیے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کو ارسال کر دیا گیا ہے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکا ف، جیرڈ کشنر اور ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت دیگر اہم شخصیات نے مجوزہ مسودے کی منظوری دے دی ہے۔

    واشنگٹن ٹائمز کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی اس پیشرفت کے بعد آئندہ 24 گھنٹوں میں باضابطہ اعلان متوقع ہے، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے اعلان کے بعد خطے میں مختلف محاذوں پر جاری جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، پا کستان نے اس تمام سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار نبھایا۔

    قبل ازیں امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں مجوزہ حتمی معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور یہ بھی یقینی بنائے گا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو تسلی بخش انداز میں سنبھالا جائے، میں صرف ایسے معاہدے پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں وہ سب کچھ حاصل ہو جو ہم چاہتے ہیں،تازہ تجاویزمیں آبنائے ہرمزکوکھولنا، بعض ایرانی اثاثے بحال کرنا اور مذاکرات جاری رکھنا شامل ہے۔

  • نیو یارک ٹائمز نے  فیلڈ مارشل کے دورہ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دیدیا

    نیو یارک ٹائمز نے فیلڈ مارشل کے دورہ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دیدیا

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دے دیا۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران مفاہمت کے قریب آگئے ہیں، امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہونے والی ہے، اس مفاہمت میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کلیدی کردار ادا کیا فیلڈ مارشل کا حالیہ دورہ اعلیٰ سطح کی سفارت کاری ہے۔

    امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ پورے مشرق وسطیٰ میں لوگوں نے نئی لڑائی کے امکان کے لیے کمر کس لی تھی، ایسے میں دونوں اطراف کے حکام نے کہا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ ایک معاہدے کے قریب جا رہے ہیں، ایرانی اور امریکی حکام نے کہا کہ ہفتے کے روز مکمل جنگ کی واپسی کو روکنے کی آخری سفارتی کوششوں میں پیشرفت ہوئی، کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان ایک ماہ تک جاری رہنے والی جنگ بندی میں توازن برقرار ہے۔

    امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران مفاہمت کی یادداشت کا مسودہ تیار کرنے کے آخری مرحلے میں ہیں ایک ایسا فریم ورک جس میں ممکنہ طور پر ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو آگے بڑھایا جائے گااسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم باہمی طور پر قابل قبول حل تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

  • ایران سے ڈیل یا حملہ،ممکنہ طور پر اتوار کو فیصلہ کروں گا، ٹرمپ

    ایران سے ڈیل یا حملہ،ممکنہ طور پر اتوار کو فیصلہ کروں گا، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی تازہ پیشکش پر اپنے مذاکراتی نمائندوں سے ملاقات کریں گے اور امکان ہے کہ اتوار تک یہ فیصلہ کر لیں گے کہ جنگ دوبارہ شروع کرنی ہے یا نہیں،جبکہ انہوں نے مشرق وسطی کا نقشہ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا-

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ اس بات کے ’ففٹی ففٹی‘ امکانات ہیں کہ یا تو وہ ایک ’اچھا‘ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر ایران کو ’مکمل طور پر تباہ کر دیں گے وہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے تازہ ردعمل پر بات چیت کی جا سکے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کی بھی اس ملاقات میں شرکت متوقع ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں دو میں سے ایک چیز ہوگی، یا تو میں انہیں پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے نشانہ بناؤں گا یا ہم ایک اچھا معاہدہ کر لیں گے،کچھ لوگ معاہدہ چاہتے ہیں جبکہ کچھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے حق میں ہیں‘، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اس بات پر فکرمند ہیں کہ وہ کوئی ناموافق معاہدہ کر سکتے ہیں، وہ صرف ایسا معاہدہ قبول کریں گے جس میں یورینیم کی افزودگی اور ایران کے موجودہ یور ینیم ذخائر جیسے معاملات شامل ہوں۔

    ویب سائٹ کے مطابق ان امور کا کسی تفصیل کے ساتھ حل ہونا اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ممکن نظر نہیں آتا جس پر امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہےاس تجویز کے تحت دونوں ممالک جنگ کے خاتمے پر اتفاق کریں گے اور مزید تفصیلی مذاکرات کے لیے 30 دن کی مدت طے کریں گے۔

    دوسری جانب ٹرمپ نے مشرق وسطی کا نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا-

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر شیئر کردہ نقشے پر یونائیٹڈ اسٹیٹس آف مڈل ایسٹ لکھا، جس کے ساتھ سوالیہ نشان شامل تھا، جس نے مختلف حلقوں میں بحث کو جنم دیا،نقشے پر امریکی صدر نے ایران کو امریکی پرچم میں دکھایا ہے،یہ پوسٹ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ اور اسے علامتی سیاسی پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

  • ایرانی معاہدہ آج ہی قبول کیے جانے کی توقع ہے، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو

    ایرانی معاہدہ آج ہی قبول کیے جانے کی توقع ہے، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کردہ معاہدے کو آج ہی قبول کر سکتا ہے۔

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت کے آثار سامنے آئے ہیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ رہے ہیں، جب کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے آئندہ چند روز میں اہم اعلان کا اشارہ دیا ہے۔

    اپنے دورہ بھارت کے موقع پر نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مارکو بیورو نے کہا کہ ایران سے متعلق سفارتی کوششیں جاری ہیں اور پس پردہ مختلف سطح پر کام ہو رہا ہے یہ ممکن ہے کہ آج، کل یا پھر اگلے چند روز کے اندر ہمارے پاس اس حوالے سے کوئی بڑا اعلان کرنے کے لیے موجود ہو۔

    ایرانی وزارت خارجہ اور مذاکراتی وفد کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے لیے رابطے جاری ہیں۔

    قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دونوں ممالک کے مؤقف میں قربت آئی ہے، تاہم حتمی نتائج کے لیے آئندہ چند دن اہم ہوں گے ایران اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے پر توجہ دے رہا ہے، جب کہ مختلف معا ملات پر سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں، تاہم مذاکراتی عمل آگے بڑھ رہا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ مختصر مدت میں کسی بڑے نتیجے کی توقع نہیں کی جا سکتی کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی تاریخ طویل ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ اس تجویز کی مختلف شقوں پر فریقین نے اپنے اپنے مؤقف کا تبادلہ کیا ہے اور گزشتہ چند دنوں میں بعض نکات اور الفاظ پر اختلافات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے امریکی بحری جارحیت جسے امریکا بحری ناکا بندی قرار دیتا ہے کے خاتمے اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں پر سے پابندیوں کے خاتمے جیسے معاملات اس یادداشت کا اہم حصہ ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں، جب کہ پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ممالک بھی ثالثی کوششوں میں سرگرم ہیں۔

    واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقاتیں کیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق اعلیٰ سطح کی بیٹھک میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتِ حال، علاقائی امن اور جنگ بندی کے مسودے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ان اہم ملاقاتوں میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی آرمی چیف کے ہمراہ شریک تھے۔

  • فیلڈ مارشل کی ایران میں اہم  ملاقاتیں، امریکا اور ایران کے درمیان حتمی مفاہمت کی جانب مثبت پیشرفت

    فیلڈ مارشل کی ایران میں اہم ملاقاتیں، امریکا اور ایران کے درمیان حتمی مفاہمت کی جانب مثبت پیشرفت

    پاک افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کا ایک مختصر لیکن انتہائی نتیجہ خیز سرکاری دورہ مکمل کرلیا، اس دوران انہوں نے اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کیں، جس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان حتمی مفاہمت کی جانب مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ دورہ 8 اپریل 2026 کی امریکا ایران جنگ بندی کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں کشیدگی کم کرنے اور تعمیری رابطوں کے فروغ کے لیے جاری ثالثی کوششوں کا حصہ تھا دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے ایرانی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں انہوں نےایرانی صدر مسعود پزشکیان،اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سےملاقاتیں کیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں میں خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جاری مشاورتی عمل کو تیز کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تمام ملاقاتیں مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئیں، جنہوں نے ثالثی عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیاگزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والے تفصیلی مذاکرات کے نتیجے میں حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی قیادت نے خطے کے مسائل کے پرامن حل اور مذاکرات کے فروغ میں پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری کردار کو سراہا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران آمد پر ان کا استقبال ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سمیت اعلیٰ سول اور عسکری حکام نے کیا۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر  کی  محمد باقر قالیباف سے ملاقات

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی محمد باقر قالیباف سے ملاقات

    ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ہفتے کے روز تہران میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی جس میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات کے دوران باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے جس طرح جنگ کے میدان میں اپنا بھرپور دفاع کیا اسی طرح سفارتی محاذ پر بھی اپنے جائز حقوق کا تحفظ جاری رکھے گا ایک فوجی عام لوگوں کے مقابلے میں امن کی اہمیت کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے اور وہ کبھی بھی اپنے ملک کے وقار اور حقوق کو پامال ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا‘۔

    باقر قالیباف نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن پہلے بھی مذاکرات کے دوران ایران پر حملے کرچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی حالیہ جنگ بندی کے دوران بھی امریکا نےاپنا وعدہ توڑا اور ایران کی ناکہ بندی کی، ایران نے جنگ بندی کے عرصے میں اپنی عسکر ی صلاحیتوں کو دوبارہ مضبوط کیا ہے اور اگر امریکا نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو اسے پہلے سے زیادہ سخت ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی قیادت اور عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ایران کے بہتر مستقبل کے لیے دعاگو ہیں آپ اور میں دونوں اپنے اپنے ملک کے سپاہی ہیں اور سپاہی ہمیشہ کھری اور دو ٹوک گفتگو کرتا ہے
    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ اس نازک مرحلے پر ایران کی قیادت بصیرت رکھنے والے اور ذہین افراد کے ہاتھ میں ہے۔

    دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہا ہے کہ موجودہ سفارتی رابطوں کا مقصد جنگ بند ی کا حصول ہے، جس میں لبنان میں جاری صورت حال، امریکی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کی کشیدہ صورت حال شامل ہے ایران کو پُرامن جوہر ی توانائی کے حصول کا حق حاصل ہے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ معاہدہ قریب ہے ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات شدید نوعیت کے ہیں اور سفارت کاری وقت لیتی ہےانہوں نے قطر کے وفد کے دورہ ایران کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قطر کا وفد ایرانی وزیرِ خارجہ سے ملا ہے، تاہم اس پورے عمل میں باضابطہ ثالث صر ف پاکستان ہی ہے۔

  • امریکا ایران ثالثی: معاملات کسی مثبت انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں،خواجہ آصف

    امریکا ایران ثالثی: معاملات کسی مثبت انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں،خواجہ آصف

    سیالکوٹ:وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری ثالثی کے عمل میں بتدریج پیشرفت ہو رہی ہے اور معاملات کسی مثبت انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں،امید ہے کہ اللّٰہ کے فضل سے پاکستان سمیت پورے خطے اور دنیا میں جلد امن قائم ہوگا-

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےخواجہ آصف نے کہاکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ صورتحال ممکنہ حل کے قریب پہنچ چکی ہے،امید ہے کہ اللّٰہ کے فضل سے پاکستان سمیت پورے خطے اور دنیا میں جلد امن قائم ہوگا،موجودہ کوششوں کے ذریعے دنیا کو ایک بڑے بحران سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پاکستان کی سفارتی کاوشیں ضرور کامیاب ہوں گی۔

    دوران گفتگو وزیر دفاع نے تسلیم کیاکہ مہنگائی ایک حقیقت ہے اور محدود آمدن رکھنے والے طبقات اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں پاکستان کی معیشت بحالی کے مرحلے میں داخل ہو چکی تھی، تاہم جنگی صورتحال کے باعث معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں معاشی بحالی کا عمل نہ صرف سست پڑا ، بلکہ بعض معاملات میں الٹا اثر بھی دیکھنے میں آیا ہے، اگر خطے میں امن قائم ہو جاتا ہے تو پاکستان کے لیے معاشی بہتری کی راہ ہموار ہو جائے گی، حکومت کو اس امر کا بخوبی احساس ہے کہ عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنتا جا رہا ہے۔