Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایرانی حملوں میں تل ابیب کے ہزار سے زائد اپارٹمنٹس  تباہ

    ایرانی حملوں میں تل ابیب کے ہزار سے زائد اپارٹمنٹس تباہ

    اسرائیلی شہر تل ابیب کے میئر رون ہلڈائی نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہر کے ایک ہزار سے زائد اپارٹمنٹس رہائش کے قابل نہیں رہے ہیں-

    تل ابیب کے میئر رون ہلڈائی نے اسرائیلی چینل 12 کو بتایا ہے کہ ایرانی حملوں کے باعث شہر کے ایک ہزار سے زیادہ اپارٹمنٹس شدید نقصان کا شکار ہو چکے ہیں اور اب ان میں رہائش ممکن نہیں رہی ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں نے شہری انفراسٹرکچر کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے بعد متعدد عمارتوں کو خالی کرایا گیا ہے۔

    اس سے قبل رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں کم از کم 26 اسرائیلی شہری ہلاک جبکہ 2600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، دوسر ی جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں اب تک 3,468 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا،ایرانی صدر

    ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا،ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی اس نے کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا-

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا ہے کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایران کو اس کے پرامن جوہری حقوق سے محروم کرنے کی بات کرے ایران کا بنیادی مؤقف خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے تحفظ پر مبنی ہےایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی اس نے کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا ہے ایران کا مؤ قف ہمیشہ دفاعی رہا ہے اور ملک اپنے دفاع کے قانونی اور جائز حق کو استعمال کر رہا ہے۔

    مسعود پزشکیان کے مطابق ایران کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ہی خطے میں کشیدگی بڑھانا چاہتا ہےدشمن اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ایران پر حملوں کے دوران انفرا اسٹرکچر، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے ایسے اقدامات انسانی اصولوں اور عالمی ضوابط کے خلاف ہیں ایران کی تہذیب کو تباہ کرنے اور اسے پتھر کے دور میں دھکیلنے جیسے بیانات دشمن کے اصل عزائم کو بے نقاب کرتے ہیں۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے،الجزیرہ

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے،الجزیرہ

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر حکام نے انتظامات تیز کر دیے ہیں سخت بیانات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے امکانات مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔

    مذاکرات سے قبل دارالحکومت میں وسیع پیمانے پر تیاریاں جاری ہیں کم از کم دو بڑے ہوٹلز، جن میں سرینا ہوٹل بھی شامل ہے جہاں اس سے قبل بھی اہم مذاکرات ہو چکے ہیں، کو مہمانوں سے خالی کروانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، جبکہ جمعہ تک کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں دی جا رہی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ امریکی فوج کے دو سی 17 گلوب ماسٹر طیاروں کی آمد کے بعد ایئرپورٹ سے ریڈ زون جانے والی سڑک کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے شہر میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک بسوں کی آمدورفت محدود کی جائے گی، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک تاحکم ثانی بند کر دی گئی ہے اس کے علاوہ پنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کو بھی پمز اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران سیکیورٹی کے لیے تقریباً 20 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں پنجاب پولیس، رینجرز، اسلام آباد پولیس اور پاک فوج کے دستے شامل ہوں گےریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں کے اطراف پرچم آویزاں کیے جا رہے ہیں اور گرین بیلٹس کو رنگ برنگے پھولوں سے سجایا جا رہا ہے ان تمام اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد میں جمعہ سے قبل اہم مذاکرات کا انعقاد متوقع ہے اور اس حوالے سے عملی اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔

  • ہر روز نہیں دیکھ سکتے کہ کوئی صدر ٹوئٹ میں  دنیا کو دھمکا رہا ہو،برازیلین صدر کی ٹرمپ پر تنقید

    ہر روز نہیں دیکھ سکتے کہ کوئی صدر ٹوئٹ میں دنیا کو دھمکا رہا ہو،برازیلین صدر کی ٹرمپ پر تنقید

    برازیل کے صدر کا کہنا ہے کہ ہر روز نہیں دیکھ سکتے کہ کوئی صدر ٹوئٹ میں جنگوں کا اعلان کر رہا ہو-

    بارسلونا میں منعقدہ ایک ترقی پسند رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےبرازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے رویے میں تبدیلی لائیں، کیونکہ ان کی ناکامی کے باعث ایران میں جنگ کو روکنے میں کامیابی نہیں ہو سکی۔

    برازیلی صدر نے ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ ہم ہر صبح یہ نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی ہر رات اس کے ساتھ سو سکتے ہیں کہ کسی صدر کا ایک ٹوئٹ دنیا کو دھمکا رہا ہو اور جنگوں کا اعلان کر رہا ہو،کوئی بھی رہنما دنیا کو جنگ کی دھمکی دینے کا حق نہیں رکھتا۔

    اس سے قبل ایک ہسپانوی اخبار ‘ایل پائس’ کو دیے گئے انٹرویو میں بھی لولا دا سلوا نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی تھی انہوں نے کہا تھا کہ عالمی رہنماؤں کو خوف کے ذریعے حکمرانی کے بجائے باہمی احترام کو فروغ دینا چاہیے ٹرمپ کو کسی ملک کو صبح اٹھ کر دھمکیاں دینے کا حق حاصل نہیں ، انہیں اس لیے منتخب نہیں کیا گیا اور نہ ہی امریکی آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔

  • ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے،امریکی صدر

    ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے،امریکی صدر

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے-

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا اشارہ دیا ہےصدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، امریکا اور ایران کے مذاکرات کار ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ملاقات کریں گے، جہاں ایک حتمی معاہدے کو شکل دی جا سکتی ہے، یہ ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کر ے گا بلکہ اسرائیل کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    امریکی صدر نے لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی کے حصے کے طور پر فوری بند ہوں، انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنا ہوں گی،اسرائیل عمارتوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا اور امریکا اس کی اجازت نہیں دے گا، ان کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ایرانی حملے کی زد میں آنے والے بھارتی بحری جہاز کے کپتان کی آڈیو وائرل

    ایرانی حملے کی زد میں آنے والے بھارتی بحری جہاز کے کپتان کی آڈیو وائرل

    خلیج عمان کے شمال میں ایرانی بحریہ کی جانب سے دو بھارتی بحری جہازوں پر براہِ راست فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی ہے-

    آڈیو میں جہاز کے کپتان کو پاسدارانِ انقلاب کی نیوی سے حملہ روکنے اور جہاز واپس موڑنے کی اجازت کے لیے منتیں کرتے سُنا جاسکتا ہے، مبینہ آڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ بھارتی خام تیل بردار جہاز ’سنمار ہیرالڈ‘ سے موصول ہوئی ہے اس آڈیو میں جہاز پر موجود ایک اہلکار کو ایرانی بحریہ سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ آپ نے ہمیں خود گزرنے کی اجازت دی تھی، میرا نام آپ کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، لیکن اب آپ ہم پر فائرنگ کر رہے ہیں، ہمیں واپس مڑنے دیں۔

    بھارتی جہاز سنمار ہیرالڈ عراق سے تقریباً بیس لاکھ بیرل خام تیل لے کر بھارت جا رہا تھا، جبکہ دوسرا جہاز ’جگ آرنَو‘ سعودی عرب سے بھارت کی جانب گامزن تھا،بھارتی بحری جہازوں پر حملوں کی خبر کے بعدبھارت کی وزارتِ خارجہ نے ایرانی سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی کو طلب کیا اور اس واقعے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    بھارتی دفترِ خارجہ نے ایرانی سفیر پر زور دیا کہ وہ بھارت کے تحفظات سے تہران کے حکام کو فوری آگاہ کریں اور بھارت جانے والے جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے عمل کو دوبارہ سہل بنائیں۔

    آبنائے ہرمز اس وقت عالمی سیاست اور جنگی صورتحال کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں سے دنیا کی کل ضرورت کا بیس فیصد خام تیل گزرتا ہےیہ بحران 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے لیکن اب بھی بہت سے بنیادی نکات پر بڑے اختلافات موجود ہیں اور ہم حتمی معاہدے سے ابھی کافی دور ہیں۔

  • جنگ دوبارہ ہوئی تو عالمی جنگ بن جائے گی،ایران کی وارننگ

    جنگ دوبارہ ہوئی تو عالمی جنگ بن جائے گی،ایران کی وارننگ

    ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی گئی تو یہ ایک بڑی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

    ایرانی فوج کے بریگیڈئیر جنرل محمد رضا نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو ختم نہیں کر سکتا،ا یران اپنی دفاعی طاقت کو مزید مضبوط کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے، اگر ایران پر مسلط جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس بار رد عمل زیادہ شدید ہوگا اور حالیہ مہینے میں تیار کیے گئے جدید میزائلوں کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔

    امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً 40 روز تک شدید کشیدگی اور جھڑپیں جاری رہیں بعد ازاں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ اس کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، جنہیں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

  • اسلام آباد میں ہزاروں اہلکار تعینات، راولپنڈی بند

    اسلام آباد میں ہزاروں اہلکار تعینات، راولپنڈی بند

    ایران امریکا مذاکرات کے تناظر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق غیرملکی وفود کی آمد کے باعث غیرمعمولی اقدامات اٹھاتے ہوئے ایک طرف اسلام آباد میں سخت حفاظتی حصار قائم کیا گیا ہے تو دوسر ی جانب راولپنڈی میں کاروباری سرگرمیاں تاحکمِ ثانی معطل کر دی گئی ہیں اسلام آباد میں آنے والے معزز مہمانوں کو سرینا ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا، جہاں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، ذرائع کے مطابق ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ تمام اہلکاروں کو اینٹی رائٹ کٹس پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی کے لیے مجموعی طور پر 18 ہزار اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں، جن میں سے 7 ہزار نفری پنجاب سے اسلام آباد پہنچ چکی ہے اسلام آباد کے ساتھ پاکستان رینجرز اور فرنٹئیر فورس بھی ڈیوٹی انجام دیں گے، جبکہ پاکستان آرمی اسلام آباد پولیس کے ساتھ مشترکہ ناکوں پر تعینات ہوگی ائیرپورٹ سے سرینا ہوٹل تک اہم عمارتوں پر رینجرز کے سنائپرز تعینات کیے جائیں گے اور روٹ کے اطراف گرین بیلٹس اور سروس روڈز کو مکمل طور پر کلیئر رکھا جائے گا۔

    سیکیورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے پنجاب پولیس کو وائرلیس سیٹس بھی فراہم کر دیے گئے ہیں، جبکہ روٹ پر بغیر سروس کارڈ کے کسی اہلکار کو داخلے کی اجاز ت نہیں ہوگی سرینا ہوٹل کے اطراف پولیس اور آرمی کی مشترکہ 24 چوکیاں قائم کی گئی ہیں جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ اسپیشل برانچ کی جانب سے بھی انٹیلیجنس معاونت فراہم کی جا رہی ہے اور شہر بھر خصوصاً روٹ ایریا میں سڑکوں کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے۔

    دوسری جانب راولپنڈی میں بھی غیرملکی وفود کی آمد کے باعث سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق تمام بازار، شاپنگ مالز، ہوٹلز، کاروباری مراکز اور پارکس آج رات 12 بجے سے تاحکمِ ثانی بند رہیں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    تعلیمی اداروں میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی سمیت تمام بوائز اور گرلز ہاسٹلز بند کر دیے گئے ہیں اور طلبہ کو گھروں کو واپس جانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

    اس سے قبل سٹی پولیس آفیسر خالد حمدانی کی زیر صدارت اجلاس میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ راولپنڈی میں 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی سخت نگرانی جاری ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

  • امریکی  کار ساز کمپنیاں بھی  اب ہتھیار بنائیں گی

    امریکی کار ساز کمپنیاں بھی اب ہتھیار بنائیں گی

    امریکا میں ایران اور یوکرین سے جاری جنگی صورتحال کے باعث اسلحہ ذخائر پر بڑھتے دباؤ کے پیش نظر حکومت نے بڑی کار ساز کمپنیوں سے مدد طلب کر لی ہے۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے معروف کمپنیوں جنرل موٹرز اور فورڈ سمیت دیگر مینوفیکچررز کے اعلیٰ عہدیداروں سے اہم ملاقاتیں کی ہیں ان ملاقاتوں میں کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ اسلحہ سازی کے شعبے میں زیادہ فعال کردار ادا کریں ٹرمپ انتظامیہ کا منصوبہ ہے کہ کار ساز کمپنیوں اور دیگر صنعتی اداروں کی پیداواری صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔

    اس حکمت عملی کو ماضی کی مثالوں، خصوصاً جنگ عظیم دوم کے دوران اپنائے گئے ماڈل سے جوڑا جا رہا ہے، جب امریکی صنعتوں نے گاڑیوں کی بجائے جنگی سازوسامان تیار کیا تھا پینٹاگون چاہتا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی فیکٹریوں، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کو استعمال کرتے ہوئے اسلحہ کی پیداوار بڑھائیں، کیونکہ موجودہ جنگوں کے باعث امریکی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے بات چیت ایران کے ساتھ کشیدگی سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی، تاہم حالیہ جنگی حالات نے اس ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جدید ترین اسلحہ کی تیاری کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کے لیے پُرعزم ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو امریکی دفاعی صنعت میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے اور نجی شعبہ مزید فعال کردار ادا کرے گا۔

  • نیتن یاہو نےٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا، کملا ہیرس

    نیتن یاہو نےٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا، کملا ہیرس

    امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا جو امریکی عوام کی خواہشات کےخلاف ہے۔

    سابق نائب امریکی صدر کملا ہیرس نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ ایک ایسی جنگ میں دھکیلے گئے جس میں امریکی عوام کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئیں ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ عوامی امنگوں کے منافی تھا اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا امریکا کو ایسے تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہیے جو براہ راست قومی مفاد سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ ایران امریکا کی 15 روزہ جنگ بندی کے صرف 3 دن باقی رہ گئے۔